صبح کے وقت پڑھنے کی دعائیں
صبح کے وقت پڑھنے کی دعائیں
اَصْبَحْنَـا وَ اَصْبَحَ الْـمُلْكُ لِلّٰہِ وَالْحَـمْدُ لِلّٰہِ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْـكُ وَلَـہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، اَللّٰھُمَّ اِ نِّیْ اَسْئَلُكَ مِنْ خَـیْرِ ھٰـذَا الْیَـوْمِ وَخَـیْرِمَـافِـیْـہِ وَاَعُوْذُبِكَ مِنْ شَـرِّہٖ وَشَرِّمَا فِیْہِ اَللّٰھُمَّ اِنِّـیْ اَعُوْذُبِكَ مِـنَ الْـکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَسُوْٓءِ الْـکِبَرِ وَفِتْنَۃِ الـدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔
ہم نے اور پورے ملک نے اللہ کے لیے صبح کی، اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے۔ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ اکیلے کے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اُسی کی بادشاہت ہے اور اُسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ میں تجھ سے اس دن کی اور جو کچھ اس دن میں ہے اس کی خیر طلب کرتا ہوں۔ اور میں اس دن کے اور جو کچھ اس دن میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ میں تھک کر بیٹھ جانے، بڑھاپے بڑی عمر کی بُرائی، دنیا کے فتنے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔
(صحیح مسلم حديث : ۶۹۰۸ / ۲۷۲۳، و حديث : ۶۹۰۹ / ۲۷۲۳)
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُكَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِ ك َ وَ وَعْدِكَ مَااسْتَطَعْتُ، اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَاصَنَعْتُ، اَبُوْٓءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ وَاَبُوْٓءُ لَكَ بِذَ نْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ
اے اللہ تو میرا ربّ ہے، نہیں کوئی الٰہ سوائے تیرے، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں۔ میں تیرے عہد اور وعدے پر جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے قائم ہوں، جو عمل میں نے کیے ان کی بُرائی سے میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں تیری اس نعمت کا جو تو نے مجھے عطا کی ہے اقرار کرتا ہوں اور میں تیری بارگاہ میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، تو مجھے معاف فرما کیوں کہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کر سکتا۔
{جو شخص اس پر یقین رکھتے ہوئے دن کے وقت اسےپڑھے اور شام سے پہلے مر جائے تو وہ جنّتی ہے۔} (صحیح بخاری حديث : ۶۳۰۶ / ۵۹۴۷)
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِ یْكَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
نہیں کوئی الٰہ سوائے اللہ اکیلے کے، اُس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اور تعریف اُسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
[نوٹ: ۔ جو شخص دن میں سو۱۰۰ مرتبہ اسے پڑھ لے، اس کو دس۱۰ غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، سو۱۰۰ نیکیاں لکھی جائیں گی، سو۱۰۰ خطائیں معاف کر دی جائیں گی اور وہ شام تک شیطان سےمحفوظ رہے گا](صحیحین، صحيح بخارى حديث : ۶۴۰۳ / ۶۰۴۰، وصحيح مسلم ۶۸۴۲ / ۲۶۹۱)
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ
(سو۱۰۰ مرتبہ)
جو شخص اسے سو۱۰۰ مرتبہ پڑھ لے اس کے گناہ دور کر دیے جاتے ہیں اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں
(صحیح بخاری حديث : ۶۴۰۵ / ۶۰۴۲ وصحیح مسلم ۶۸۴۲ / ۲۶۹۱)
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَخَلْقِہٖ وَرِضَانَفْسِہٖ وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہٖ
(تین۳ مرتبہ)
اللہ پاک ہے، اور وہ اپنی حمد کے ساتھ (تمام عیوب سے منزّہ ہے) اُس کے لیے حمد ہے اُس کی مخلوق کی گنتی کے برابر، اُس کی ذات کی مرضی کے مطابق، اُس کے عرش کے وزن کے برابر اور اُس کے کلمات کی روشنائی یا شمار کے برابر۔
(جو شخص تین۳ مرتبہ ان کلمات کو پڑھ لے تو یہ صبح کی نماز سے اشراق تک مسلسل ذِکر کرنے سے زیادہ وزنی ہوں گے ) {صحیح مسلم حديث : ۶۹۱۳ / ۲۷۲۶}
یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِیْثُ وَ اَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہٗ وَلَا تَکِلْنِیْٓ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ أَبَدًا۔
اے زندہ، اے قائم رہنے والے، میں تیری رحمت کے وسیلے سے فریاد کرتا ہوں۔ میرے تمام حالات کی اصلاح فرما دے اور پلک جھپکنے کے برابر وقفے میں بھی مجھے نفس کے حوالے نہ فرما۔
(رواہ ابن السنی فی عمل الیوم و اللیلتہ، حديث : ۴۸، والأسماء والصفات البیہقی حديث : ۲۱۳ و النسائی فی الکبرٰی حديث : ۱۰۳۳۰ و سندہٗ صحیح۔ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی حدیث حديث : ۲۹۴۲ / ۳۰۹۵ / ۲۲۷)
أَصْبَحْنَا عَلٰی فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ وَعَلٰی کَلِمَۃِ الْاِ خْلَاصِ وَعَلٰی دِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی مِلَّۃِ أَبِیْنَا إِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَّ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔
ہم نے صبح کی فطرتِ اسلام پر، کلمۂ توحید پر، ہمارے نبی محمّد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) کے دین پر اور ہمارے باپ ابراہیم کی مِلّت پر جو صرف اللہ اکیلے کی طرف رجوع کرنے والے مسلم تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔
یہ دعا پڑھنا سنّت ہے۔
(رواہ احمد حديث : ۱۵۴۳۷ / ۱۴۸۲۳ / ۱۵۳۶۳ / ۵۵۰۰، و حديث : ۲۱۴۶۲ / ۲۰۲۲۳ / ۲۱۱۴۴، والطبرانی حديث : ۲۹۴، وعمل اليوم والليلة لابن السنی حديث : ۳۴، و سندہٗ صحیح۔ بلوغ الامانی جزء۱۴ صفحہ۲۳۸)
اَللّٰھُمَّ إِنِّـیْٓ أَسْأَ لُكَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔اَللّٰھُمَّ إِنِّـیْٓ أَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ وَدُنْیَایَ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ۔ اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِیْ وَاٰمِنْ رَوْعَاتِیْ اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْم بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَّمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ وَأَعُوْذُ بِعَظْمَتِكَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ۔
اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ میرے عیوب کو چھپا لے اور میری گھبراہٹوں سے مجھے امن دے۔ اے اللہ، میرے آگے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں تیری عظمت کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ اپنے نیچے سے دھنسا دیا جاؤں۔
اس دعا کا پڑھنا سنّت ہے۔
(رواہُ احمد حديث : ۴۷۸۵ / ۴۵۵۴ / ۵۵۰۶، و ابوداؤد حديث : ۵۰۷۴، والنسائی حديث : ۳۵۷ / ۵۶۶ و سندہٗ صحیح۔ بلوغ الامانی جزء ۱۴ صفحہ۲۴۰۔ وسنن ابن ماجه حديث : ۳۸۷۱)
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّ بِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا۔
(تین۳ مرتبہ)
میں اللہ تعالےٰ کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمّد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) کے نبی ہونے سے راضی ہوں۔
جوشخص صبح و شام تین۳ مرتبہ مندرجہ بالا دعا کو پڑھ لے تو اللہ تعالےٰ پر حق ہے کہ اسے قیامت کے دن راضی کرے۔
(رواہ احمد حديث : ۲۳۴۹۹ / ۲۲۰۳۶ / ۲۳۱۱۱ / ۵۴۹۸ و الطبرانی حديث : ۹۲۱ و سندہٗ صحیح وروی نحوہ ابوداؤد حديث : ۵۰۷۲ و الترمذی حديث : ۳۳۸۹ / ۳۶۸۶ و النسائی حديث : ۱۰۳۲۴۔ بلوغ الامانی جزء ۱۴ صفحہ ۲۳۷)
بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔
( تین۳ مرتبہ )
اللہ کے نام کے ساتھ، جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
جو شخص صبح کے وقت مندرجہ بالا دعا کو تین۳ مرتبہ پڑھ لے تو وہ انشآءاللہ شام تک بلائے ناگہانی سےمحفوظ رہے گا۔(رواہُ ابوداؤد حديث : ۵۰۸۸، واحمد حديث : ۵۲۸ / ۴۹۷ / ۵۵۰۳ و النسائی حديث : ۹ / ۱۵ و الترمذی حديث : ۳۳۸۸ / ۳۶۸۵ و سندہٗ صحیح۔ بلوغ الامانی جزء ۱۴ صفحہ ۲۳۹، وسنن ابن ماجه حديث : ۳۸۶۹)
اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَ ۃِ اَنْتَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ وَّمَلِیْکُہٗ اَشْھَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَ مِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہٖ وَاَنْ اَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِیْ سُوْءً ا اَوْ اَجُرَّہٗ اِلٰی مُسْلِمٍ
اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے، تو ہی ہر چیز کا ربّ اور بادشاہ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے اکیلے کے سوا کوئی الٰہ نہیں، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمّد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ میں اپنے نفس اور شیطان کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور اس کے شرک (میں مبتلا کرنے) سے (تیری پناہ طلب کرتا ہوں) اور اس سے بھی پناہ طلب کرتا ہوں کہ اپنے نفس پر کوئی بُرائی کروں یا اس کو کسی مسلِم کی طرف منسوب کروں۔
({ ترمذی،الادب المفرد حديث : ۳۵۲۹ / ۳۸۴۰، دارمی ،ابن حبان اور وعمل اليوم والليلة للنسائي حديث : ۶ / ۱۱، میں ”شَرِّ الشَّیْطَانِ“ سے پہلے”مِنْ“نہیں ہے) (احمد و ابوداؤد و عمل الیوم واللیتہ النسائی و الترمذی۔ سندہٗ صحیح۔ بلوغ الامانی جزء ۱۴ صفحہ ۲۳۳)}