تاریخِ مسلکِ اہلِحدیث پر ایک نظر



(صفحہ 1)

بسم الله الرّحمٰن الرّحیم
تاریخِ مسلکِ اہلِحدیث پر ایک نظر

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهٖ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ۔اللہ ربُّ العالمین نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے دینِ حق نازل فرمایا اور اپنے آخری نبی حضرت محمّد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ذریعے اس دین کو کامل و اکمل بنا دیا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا،(سُوْرَۃُ الْمَآئِدَۃِ: ۵، آیت : ۳ )

آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلؔام کو بطور دین پسند کر لیا، اس اعلانِ ربّانی کے بعد یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ دینِ اسلؔام اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ اب اس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ہمیں دین میں اتّحاد قائم رکھنے اور انتشار و افتراق سے اجتناب کی بار بار تاکید فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا،(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۰۳)

اللہ کی رسّی کو سب مل کر (اجتماعیّت کی صُورت میں) مضبوطی سے تھام لو اور فرقے فرقے نہ بنو،

مذکورہ بالا واضح ہدایت کے باوجود امّت مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئی، اور ہر گروہ اپنے آپ کو حق پر اور دوسروں کو باطل پر سمجھنے لگا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ۝۵۳

(صفحہ 2)

 
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنَ: ۲۳، آیت : ۵۳)

ہر گروہ اسی میں مگن ہے جو اس کے پاس (موجود) ہے۔ یہ حقیقت نظر انداز کر دی گئی کہ یہ دین اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہدایت ہے جسے محمّد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر مکمّل کر دیا گیا۔ لہٰذا دین کے نام پر جو بھی دعویٰ کیا جائے، اس کی بنیاد کتاب اللہ اور سنّتِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم سے واضح و صریح دلیل پر ہونی چاہیے، ورنہ وہ دعویٰ محض گمان ہے۔ اسی افتراق کے نتیجے میں ایک گروہ ایسا بھی وجود میں آیا جو اپنے آپ کو ”اہلِحدیث“ کہلواتا ہے اور اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ براہِ راست قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہے۔ تاہم جب ان سے یہ دریافت کیا جائے کہ ”اہلِحدیث“ کے نام اور اس کے مسلکی وجود کا ثبوت قرآن و سنّت سے پیش کریں، تو ان کے پاس کوئی صریح دلیل موجود نہیں ہوتی۔ ان کے اکابر کی تصانیف میں بھی اس نام اور اس مسلک کا ثبوت کہیں نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرہویں صدّی ہجری سے قبل اس مسلک کا کوئی وجود ہی نہیں پایا جاتا۔ زیرِ نظر کتاب میں ہم نے اسی گروہ کی اپنی کتب اور ان کے اکابر کی تصریحات کی روشنی میں یہ واضح کیا ہے کہ ”مسلکِ اہلِحدیث“ دراصل ایک نَو ایجاد فرقہ ہے، جس کا نہ قرونِ ثلاثہ (یعنی صحابہؓ تابعینؒ اور تبع تابعینؒ) سے کوئی تعلّق ہے اور نہ ہی یہ ابتدائی اسلامی ادوار میں کہیں پایا جاتا ہے۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہر شخص اپنے لیے وہ راستہ اختیار کرے جو اللہ کا عطا کردہ ہے وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں کل قیامت کے دن اپنے ایسے عمل کی وجہ سے ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے جسے ہم نے دین سمجھتے ہوئے اپنایا تھا۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اور پوری امّت کو فرقہ واریت کی لعنت سے محفوظ فرمائے اور ہمیں دینِ اسلؔام کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

(صفحہ 3)

کیا فرقہ اہلِحدیث ابتدائے اسلؔام سے ہے؟

مسلکِ اہلِحدیث کے علما اکثر یہ کہتے نظر آئیں گے کہ مسلکِ اہلِحدیث ہمیشہ سے ہے۔ اور ہر دور میں موجود رہے گا۔ چنانچہ اہلِحدیث کے معتبر عالم حافظ زبیر علی زئی صاحب (جنھیں اہلِحدیث محدّثِ عصر بھی کہتے ہیں) نے مسلکِ اہلِحدیث کو دورِقدیم سے ثابت کرنے کے لیے تقریباً ۱۶۰ صفحات کی کتاب لکھ ڈالی۔ لیکن اقوال الرّجال کے علاوہ نہ ہی کوئی آیت پیش کر سکے اور نہ ہی کوئی حدیث۔ فیا للعجب۔ اسی کتاب کی “تقدیم” اہلِحدیث عالِم حافظ ندیم ظہیر صاحب نے تحریر کی ہے وہ لکھتے ہیں۔

“طائفہ منصورہ، فرقہ ناجیہ اور اہلِ حقّ کا صفاتی نام اہلِحدیث ہے۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جو ہر دور میں موجود رہے اور قیامت تک موجود رہیں گے۔“(اہلِحدیث ایک صفاتی نام صفحہ ۵)

مولوی ثناء اللہ امرتسری اپنی کتاب “فتاویٰ ثنائیہ جلد ۱ صفحہ ۳۵۲” میں دعویٰ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”چار۴ مذہب چوتھی صدّی میں پیدا ہوئے ان سب سے پہلے اہلِحدیث تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہلِحدیث مذہب پرانا ہے“۔

حالاں کہ یہ دعویٰ سوائے دفعُ الوقتی کے اور کچھ بھی نہیں اگر ان کا یہ دعویٰ سچّا ہے کہ یہ مذہب سب سے پرانا ہے اور یہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے تو پھر بتائیں کہ کعبۃ اللہ میں چار۴ صدّیوں سے بھی زائد عرصے تک ایک مصلّے کے بجائے چار۴ مصلّے قائم رہے ہیں۔(حقیقۃ الفقّہ صفحہ ۸۶، تجلّیات صفدر جلد ۲ صفحہ ۳۲، تاریخ اسلام از اکبر شاہ جلد ۲ صفحہ ۷۴۵)تو ان کا پانچواں۵ مصلّیٰ کہاں تھا۔ اگر مسلکِ اہلِحدیث اس وقت بھی موجود تھا تو کیا ان کا فرض نہیں تھا کہ یہ ایک ابراہیمی مصلّے کو قائم رکھتے؟ اور باقی چاروں مصلّے قائم نہ ہونے دیتے؟ لیکن ایسا نہ ہوا کیوں کہ اس وقت ان کے مسلک کا کوئی وجود نہیں تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے مسلکِ اہلِحدیث انّیسویں صدّی ہی کا ایجاد کردہ مسلک ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے

(صفحہ 4)

پاس اپنے مسلک کے حق میں نہ ہی کوئی آیت ہے اور نہ ہی کوئی حدیث۔
اہلِحدیث عالِم ابو انس یحیٰی گوندلوی لکھتے ہیں:۔
”اس طوفان سے صرف ایک ہی جماعت جسے طائفہ منصورہ (اہلِحدیث) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے محفوظ رہی“
(کتاب: حدیث اور اہلِ تقلید صفحہ ۱۹)نمونے کے طور پر چند اقتباسات نقل کیے ہیں۔ ان دعوؤں کے بطُلان کے لیے اگرچہ کعبے میں ان کے مصلّے کا نہ ہونا ہی کافی ہے لیکن پھر بھی تفصیلی وضاحت ان ہی کی کتب سے آپ کے سامنے رکھتے ہیں تا کہ حقیقت آشکار ہو جائے۔

اہلِحدیث کون؟

ابتدا میں وہ لوگ جو تدوینِ حدیث کے ساتھ روایتاً اور درایتاً منسلک تھے انھیں ہی اہلِ الحدیث یا محدّث کہا جاتا تھا۔ یہ کوئی مسلک یا کوئی مذہبی فرقہ نہیں تھا۔ چنانچہ محدّث کی تعریف مختلف کتب اصولِ حدیث میں کچھ اس طرح درج ہے۔

ا – تدريب الراوي في شرح تقريب النووى مؤلّف جلال الدّین سیوطی (المتوفی ۹۱۱ھ) محدّث کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
ا۔ تاج بن یونس نے الشرح التعجیز میں لکھا ہے: “جب محدّث کی بات کی جائے تو (محدّث وہ کہلائے گا) جو حدیث کے اثبات کے طرق اور اس کے رجال کی عدالت (اور جرح) کا علم رکھتا ہو۔

۲۔ علّامہ سیوطی نے حافظ ابو شامہ کا قول بھی نقل کیا ہے۔ جس کا مفہوم ہے کہ محدّث اور حافظ کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جنھوں نے احادیث کو حفظ کیا اور رجال کی معرفت حاصل کی ، حدیث کی صحت و سُقم کو مہمیز کیا، اخذ احادیث اور جمع احادیث کے لیے سفر کیا۔

 

۳۔ زَرکشی فرماتے ہیں :۔

(صفحہ 5)

فقہا کے نزدیک ”محدّث“ کا لقب اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو حدیث کے متن کو یاد رکھتا ہوں اور اس کے راویوں کی عدالت اور جرح (ضعف و عیب) سے واقف ہو نہ کہ اس پر کہ جو صرف حدیث سننے پر اکتفا کرتا ہو۔

۲۔تیسیر مصطلح الحدیث مؤلّف ڈاکٹر محمود الطحان:
”محدّث اس شخص (اور عالم ) کو کہتے ہیں جو (ہر وقت) علمِ حدیث کی روایت اور درایت میں مشغول رہتا ہو اور وہ روایات اور راویوں کے احوال کے بڑے حصّے سے باخبر ہو“۔(تیسیر مصطلحالحدیث مترجم کتاب صفحہ نمبر ۳۳) ۔من اطيب المنح فی علم المصطلح (سوالاً جواباً) مؤلّف ابو محمّد عبد الغفار بن عبد الخالق (متعلّم مدینہ یونیورسٹی)

۳۔”المحدّث وہ ہے جو روایت اور درایت کے اعتبار سے علمِ حدیث کے ساتھ مشغول ہو اور بہت سی روایات اور ان کے راویوں پر اطلاع رکھتا ہو“۔
تذكرة الحفاظ علّامہ ذهبي المحدّث: جیسے ابن سیّد النّاس نے کہا۔ (محدّث وہ ہے) جو حدیث کے ساتھ روایتاً اور در ایتاً مشغول ہو ،  روایات کو جمع کرے۔ اپنے دور کے کثیر راویوں اور روایات کے متعلّق مطلع ہو۔ اور اس سلسلے میں ممتاز ہو جائے یہاں تک کہ اس کی تحریر پہچانی جا سکے اور اس کا ضبط (لوگوں میں) مشہور و معروف ہو جائے۔
(تذکرة الحفاظ جلد ا صفحہ ۳ ، تدريب الراوي في شرح تقريب -النووى صفحہ اا ، النكت على مقدمة ابن صلاح للزركشى جلد ا صفحہ ۵۳)

مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں یہ واضح ہو گیا کہ محدّث یا اہلِ الحدیث ان کو کہا جاتا ہے۔

(صفحہ 6)

جنھوں نے احادیث کو سند کے ساتھ جمع کیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے ملکوں ملکوں سفر کیے ۔ سند کی جانچ پڑتال کی ۔ راویوں کے صحت و ضعف اور حفظ ، ضبط ، عدالت وغیرہ کی پہچان کے لیے محنتِ شاقہ کی۔ اہلِحدیث سے موجودہ دور کا کوئی فرقہ مراد نہیں ۔ محدّثین ان الفاظ (محدّث ، اہلِ الحديث ، اصحابِ الحدیث، اہل العلم) کو ایک ہی طبقہ (یعنی محدّثین) کے لیے مترادفات کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔ ان محدّثین کی محنت سے ہر حدیث سند کے ساتھ آج ہمارے پاس کتابوں کی شکل میں موجود ہے۔ ان کے بعد کئی محقّقین گزرے جنھوں نے ان کی کتب سے احادیث نقل کیں ۔ ان پر صحت وضعف کا حکم بھی لگایا اور رجال کی جرح و تعدیل سب کچھ ان ہی سے نقل کیا۔ گویا اب محدّث کی اصطلاحی شرح پر کوئی بھی پورا نہیں اتر سکتا۔

ایک اعتراض اور اس کا جواب : مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک کتابچے میں لکھا کہ ”محدّثین تو گزر گئے اب تو وہ لوگ رہ گئے ہیں جو ان کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں“ (الجماعۃ القدیمہ صفحہ ۲۹)

اس پر تبصرہ کرنے والے صاحب لکھتے ہیں ”مسعود صاحب پر ایک نئی وحی نازل ہوئی“۔(ا) اہلِحدیث ایک صفاتی نام صفحہ ۲۲)

ایک اور صاحب کچھ یوں تبصرہ کرتے ہیں :۔ ”گویا موصوف کے کہنے کا مطلب ہے جس طرح محمّد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر نبوّت کا سلسلہ ختم ہوا ہے اسی طرح محدّثین کا سلسلہ بھی کسی خاص محدّث پرختم ہو چکا ہے۔“(اہلِحدیث ایک صفاتی نام صفحه ۲۳ بحوالہ خلاصہ الفرقته الجديده صفحه ۵۵)

جواب : یہ تو ثابت کیا جا چکا ہے کہ محدّث کسے کہا جاتا تھا اور ماہرین فنِ حدیث نے محدّث کی کیا تعریف کی ہے۔ اب اس تعریف پر کوئی پورا نہیں اتر سکتا۔ یہ تبصرہ کرنے والے دراصل مشہور

(صفحہ 7)

اہلِحدیث عالم ابو جابر عبد اللہ دامانوی ہیں ۔ اور اس کو تائید کے طور پر پیش کرنے والے (محدّثِ عصر کہلانے والے) حافظ زبیر علی زئی صاحب ہیں۔ لیکن معلوم نہیں کہ کسی بنیاد پر انھوں نے محدّث اور نبوّت کو ہم پلہ مانتے ہوئے نبوّت کے خاتمے کی طرح کی دلیل کا مطالبہ کر دیا۔ حالاں کہ مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا انھوں نے تو محدّثین کی اصطلاحی تعریف کی روشنی میں بالکل صحیح فرمایا کہ ”محدّثین تو گزر گئے“ کیوں کہ اب کسی کا اس اصطلاح پر پورا اترنا تقریباً ناممکن ہے۔ حیرت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے احادیث بھی ان ہی محدّثین سے نقل کیں اور رجال پر بحث بھی ان ہی سے نقل کی صحت وضعف کا حکم بھی ان ہی کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق لگایا اور پھر بھی خود کو محدّث کہلواتے ہیں۔ جیسے صحابہؓ کی اصطلاح کا مصداق مخصوص طبقہ ہے تابعینؒ کی اصطلاح کا مصداق بھی مخصوص طبقہ ہے تبع تابعینؒ کی اصطلاح کا مصداق بھی مخصوص طبقہ ہے اسی طرح محدّثین کی اصطلاح کا مصداق بھی مخصوص طبقہ ہی ہے۔ جس طرح باقی اصطلاحات کے مصداق کے اختتام کے لیے نبوّت کی طرح دلیل کی ضرورت نہیں اسی طرح محدّثین کے گزر جانے اور اب محدّث کے مصداق نہ بننے پر بھی دلیل کا مطالبہ بے مقصد ہے۔ وہ ہی اہلِ الحدیث تھے اور وہ ہی محدّثین ہیں ۔ اہلِحدیث نام کے ثبوت پر جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ درحقیقت لفظ اہلِ الحدیث محدّثین کے لیے مستعمل ہے۔

اسی بات کو ان کے اپنے عالم کی زبانی بیان کر دیتے ہیں۔ ابراہیم سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں۔
بعض جگہ تو ان کا ذِکر اہلِحدیث سے ہوا بعض جگہ اصحابِ حدیث سے اور بعض جگہ اہلِ اثر کے نام سے بعض جگہ محدّثین کے نام سے ۔
(تاریخ الحدیث از ابراهیم سیالکوئی صفحہ ۱۵۵)

مشہور اہلِحدیث عالم زبیر علی زئی صاحب نے الفرقتہ الجدیدہ نامی کتاب کے مقدمے میں

(صفحہ 8)

لکھا ہے ”محدّثین کی جماعت کو اہلِحدیث کہا جاتا ہے جس طرح مفسّرین کی جماعت کو اہلِ التفسیر اور مورّخین کی جماعت کو اہلِ التاريخ کہا جاتا ہے ۔(الفرقة الجديدة ص ہے ، اہلِ حدیث ایک صفاتی نام ص ۵۷)

مزید یہ کہ علی زئی صاحب نے چار دلائل پیش کئے اور تیسری دلیل میں لکھتے ہیں ” آج تک کسی مسلم عالم نے اس بات کا انکار نہیں کیا ہے کہ ” اہلِحدیث سے مراد محدّثین کی جماعت ہے“(الفرقة الجديدة ص ہے ، اہلِ حدیث ایک صفاتی نام ص ۵۸)

غور کیجیے کہ ان کے بقول کسی عالم نے بھی اس بات کا انکار نہیں کیا کہ اہلِحدیث سے مراد محدّثین کی جماعت ہے اس کے باوجود بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں اور اسی لقب کو اپنے فرقہ وارانہ نام کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ گویا اپنے ہی قول کے مطابق اجماع کے خلاف چل رہے۔ ہیں۔(اجماع زبیر علی زئی صاحب کے نزدیک حجّت ہے ملاحظہ کیجیے ان کی کتاب ” اہلِحدیث ایک صفاتی نام صفحه ۴۳)

یہاں چھوٹی سی مثال پیش کرتا چلوں کہ اس مسلک کے بڑوں نے اس مسلک کے لیے کیا کیا۔ گل کھلائے ہیں اس کی صرف ایک جھلک ملاحظہ کیجیے۔ ابراہیم سیالکوٹی صاحب نے اپنی کتاب تاریخ الحديث صفحہ ۱۵۰ پر ایک عربی شعر نقل کیا ہے

اهل الحديث هم اهل النبي     وان لم يصحبوا نفسه انفاسه صحبوا

اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں: ”یعنی صرف اہلِحدیث ہی آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اہل ہیں اگرچہ انھوں نے آپ کی ذات کی صحبت نہیں پائی لیکن آپ کو ان کے انفاس (کلمات) طیّبہ یعنی احادیث مطّہرہ کی صحبت تو ضرور ہے۔“ غور طلب امر یہ ہے کہ ایک ہی جملے میں دو۲ ایک جیسے مرکّب استعمال ہوئے ہیں لیکن اہلِحدیث مرکّب کو بعینہ برقرار رکھا اور اہل النّبی کا ترجمہ ”آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اہل“ کے الفاظ

(صفحہ 9)

میں کیا۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس اپنے مسلکی نام کے دلائل کتنے مضبوط ہو سکتے ہیں۔ بہر حال یہ ایک مختصر سی جھلک ہے۔ ورنہ اس سلسلے میں بہت کچھ پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں ان لوگوں کے لیے ایک سوال بھی ہے۔ کہ جب آپ سے سوال کیا جائے ۔ کہ اہلِحدیث نام کا ثبوت پیش کریں تو بے دھڑک محدّثین کے وہ اقوال جن میں انھوں نے لفظ ”اهل الحدیث“ استعمال کیا تھا۔ پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب کہ ان کے لیے محدّثین نے لفظ ”اہلِ اثر اصحابِ الحدیث، محدّثین اور اہل علم“ کا استعمال بھی کیا ہے۔ (جیسا کہ ثابت کیا جا چکا ہے) تو آپ نے ان سب الفاظ کو اپنا مسلکی نام کیوں نہ بنایا ؟ الغرض ابتدا اسلام میں مسلکِ اہلِحدیث نام کا کوئی وجود نہیں تھا یہ مسلک با قاعدہ طور پر برِّصغیر ہی کی سرزمین پر وجود میں آیا اور یہیں نشو نما پائی۔

اہلِحدیث عالِم مولوی محمّد شاہجہان پوری اپنی کتاب ”الارشاد فی سبیل الرشاد“ کی ابتدا ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں:۔
کچھ عرصے سے ہندوستان میں ایک ایسے غیر مانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آرہے ہیں، جس سے لوگ بالکل نا آشنا ہیں، پچھلے زمانے میں شاذ و نادر اس خیال کے لوگ کہیں ہوں تو ہوں مگر اس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے۔ بلکہ ان کا نام ابھی تھوڑے ہی دنوں سے سنا ہے۔ اپنے آپ کو وہ اہلِحدیث یا محمّدی یا موحّد کہتے ہیں۔ مگر مخالف فریق میں ان کا نام غیر مقلّد یا وہابی یا لا مذہب لیا جاتا ہے۔ (صفحہ ۱۳)

یہ امر قابلِ ذِکر ہے کہ ان کی وفات ۱۹۲۰ عیسوی کی ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کہ یہ نام تقریباً اٹھارویں صدّی کے نصف یا آخر میں رواج پایا۔ یہ انکشاف اس امر کی روشن دلیل ہے۔ کہ مذہبِ اہلِحدیث کا پہلے کوئی مستقل وجود نہیں تھا بعد ازاں مختلف پہچانوں (موحّد ، محمّدی،

(صفحہ 10)

اہلِحدیث) کے ساتھ منظر عام پر آیا۔

مسلکِ اہلِحدیث کی ابتدا اور اہلِحدیث نام کا با قاعدہ استعمال:

مسلکِ اہلِحدیث کی ابتدا کیسے ہوئی اکابرین علمائے اہلِحدیث خود اپنے قلم سے نقل کر گئے ہیں۔ چنانچہ تراجم علمائے اہلِ حدیث ہند نامی کتاب جس کے مؤلّف : ابو یحیٰی امام خاں نوشہری ہیں کی جلد اوّل کے پیش لفظ میں لکھا۔ ہے۔
اس تحریک کے بانیوں میں شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی سرِفہرست ہیں جنھوں نے رموز و اسرارِ شریعت کے سلسلے میں گراں قدر تصانیف امّت کو عطا کی جن کے ذریعے جہالت کے پردے چھٹنے لگے ۔
(تراجم علمائے اہلِ حدیث ہند صفحہ ۳)

اسی طرح کا اظہار یحیٰی گوندلوی صاحب نے اپنی کتاب عقیدۂ اہلِحدیث میں کیا ہے۔ تقلیدی عروج کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:۔
مغلیہ دور کی آخری دہائی میں اللہ نے امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی کو پیدا کیا ۔ جنھوں نے حدیثِ رسولؐ کی اشاعت پر کمر باندھی اور تقلید و جمود کے خلاف جہاد کیا ۔
(عقیدۂ اہلِحدیث مؤلّف محمّد یحیٰی گوندلوی صفحه ۱۳)

شاہ ولی اللہ صاحب مسلکِ اہلِحدیث اور مسلکِ حنفی کے درمیان متنازع شخصیت ہیں۔ اہلِ حدیث انھیں اپنی تحریک کا بانی سمجھتے ہیں اور حنفی انھیں اپنا عالم مانتے ہیں ۔ البتّہ ان کی تحریک کسی نام سے نہیں تھی بلکہ تقلیدِ شخصی کے جمود کو توڑنے کی تحریک تھی ۔ جیسا کہ ان کی کتب سے ظاہر ہوتا ہے۔ کتاب تراجم علمائے اہلِحدیث ہند کے مقدمہ میں سیّد سلیمان ندوی صاحب تحریر کرتے ہیں: ” اہلِحدیث کے نام سے ملک میں اس وقت بھی جو تحریک جاری ہے حقیقت کی رُو سے وہ قدم نہیں صرف نقشِ قدم ہے۔ مولانا اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ جس تحریک کو لے کر اٹھے وہ فقہ کے چند

(صفحہ 11)

نئے مسائل نہ تھے بلکہ امامتِ کبریٰ، توحیدِ خالص اور اتّباع نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بنیادی تعلیمات تھیں۔“
(تراجم علمائے اہلِحدیث ہند صفحہ ۳۵)

معلوم یہ ہوا کہ پہلے یہ تحریک اہلِحدیث نام سے نہیں تھی بلکہ چند فقہی مسائل کے اختلاف پر اور تقلید کے خلاف چلائی گئی تھی۔ اور رفتہ رفتہ فقہی اختلافات بڑھتے گئے ۔ کتاب ” مولانا عبد الوہاب دہلوی اور ان کا خاندان میں بعض مسائل کا تذکرہ کیا ہے جو ان کے دور میں ختم ہوئے ان مسائل میں جمعہ کی دو۲ اذانیں ، خطبہ سامعین کی زبان میں دینا، عید کی نماز۶ تکبیرات کے ساتھ ادا کرنا، عورتوں کی عید گاہ میں حاضری وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ۔ (مولانا عبد الوہاب دہلوی اور ان کا خاندان مؤلّف محمّد رمضان یوسف سلفی صفحه ۷۲)

جیسا کہ الارشاد کی عبارت سے ثابت کیا جا چکا ہے کہ ان میں کوئی خود کو موحّد کہتا تھا کوئی توحیدی ، کوئی محمّدی اور کوئی اہلِحدیث کہتا تھا۔ ان کا آپس میں کسی ایک نام پر اتّفاق نہیں تھا ۔ البتّہ مخالفین انھیں وہابی اور غیر مقلّد کہنے پر متّفق تھے۔ چنانچہ انگریز سرکار کے زمانے میں موجودہ مذہبِ اہلِحدیث کی کوئی مستقل شناخت قائم نہ تھی لہٰذا انھیں سرکاری سطح پر وہابی کہا جانے لگا۔ چونکہ ”وہابی نام مخالفین کی جانب سے دیا گیا تھا اس لیے اہلِحدیث عالم محمّد حسین بٹالوی صاحب نے انگریز سرکار کو خط لکھا جس میں وہابی نام کو ختم کر کے اہلِحدیث نام سرکاری طور پر الاٹ کرنے کی تجویز دی۔ اس سلسلے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔اشاعت السنّة نمبر ۹ جلد ۸ میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس کا سرورق عنوان یہ تھا۔ اہلِحدیث کو وہابی کہنے پر اعتراض(اشاعت السنّۃ جلد ۹ صفحه ۱۹۷)
مزید لکھتے ہیں۔
لفظ وہابی ایسے دو۲ بُرے معنوں میں مستعمل ہے جن سے گروہ اہلِحدیث کی برات ثابت

(صفحہ 12)

ہے۔“
آگے لکھتے ہیں۔
اپنی مہربان گورنمنٹ اور خواصِ ملک سے وہ اصرار کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس لفظ سے اس گروہ کو مخاطب نہ کیا کریں ۔
(حوالہ مذکور )جس مضمون کا انھوں نے تذکرہ کیا ان کے بقول اسی مضمون کی انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی پنجاب گورنمنٹ کو پیش کی گئی اور ساتھ یہ درخواست کی گئی کہ حکومت اس مضمون کی طرف توجہ فرمائے۔ اور گورنمنٹ ہند کو بھی اسی کی طرف توجہ دلائیں ۔(حوالہ مذکور صفحہ ۱۹۹)بالآخر ۱۹ جنوری ۱۸۸۷ء کو وہابی نام کی منسوخی کا حکم نافذ کیا گیا(حوالہ مذکور صفحہ ۱۹۷)لیکن اس کے بعد بھی موصوف کو ایک پریشانی لاحق ہوئی کہ کہیں وہابی نام کی منسوخی کے بعد غیر مقلّد نام سے مخاطب نہ کیا جائے۔ لہٰذا مولوی محمّد حسین بٹالوی صاحب نے بطور وکیل اہلِحدیث ایک استشہاد جاری کی جس کا مضمون یہ تھا

جولوگ ہماری درخواست مندرجہ نمبر ۹ جلد ۸ سے متّفق ہیں اور اپنا مذہبی خطاب ”اہلِحدیث“ پسند کرتے ہیں۔ اور بجائے اہلِحدیث ” وہابی یا غیر مقلّد کہلانے کو بُرا جانتے ہیں“۔ وہ اس مضمون کی ایک سطر اس استشہاد پر تحریر کر کے اس پر اپنا دستخط ثبت کریں۔(حوالہ مذکور صفحہ ۱۹۹)

قارئین ان اقتباسات کے بعد یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ محمّد حسین بٹالوی صاحب نے اپنے فرقے کا نام باقاعدہ طور پر انگریز حکومت سے الاٹ کروایا۔ یہ الاٹ کرنا ہی در حقیقت زمانہ حال میں رجسٹریشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی ایک اور گواہی موصوف ہی کہ قلم سے ملاحظہ فرمائیں۔ لکھتے ہیں۔
رہا یہ امر کہ گورنمنٹ نے اس فرقہ کا خطاب ” اہلِحدیث کیوں مقرّر کیا ۔“

(اشاعت السنّۃ جلد ۹ ۔

(صفحہ 13)

 

اشاعت نمبر ۷ صفحه ۲۰۰)

موصوف کا یہ جملہ اس بات کو واضح کر دیتا ہے۔ کہ اہلِحدیث نام انگریز حکومت نے سرکاری طور پر مقرّر کیا۔
اگر آج کے اہلِحدیث یہ دعویٰ کریں کہ انگریز حکومت کی سرکاری الاٹمنٹ سے پہلے بھی لوگ اپنے آپ کو اہلِحدیث کہتے تھے ، تو عرض ہے کہ ایسے دلائل آپ کے لیے کوئی وزن نہیں رکھتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بتائی ہوئی اصل اجتماعیّت جماعت مسلمین ہے، اور صحیح احادیث ( بخاری ۷۰۸۴ مسلم ۴۸۷۴ کے مطابق مومن و مسلم پر اس جماعت سے وابستہ رہنالازمی ہے۔ مزید یہ کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فرمان کے تحت مومن و مسلم جماعت المسلمین کے ساتھ وابستگی میں خیانت نہیں کر سکتا۔
( مستدرک حاکم : حدیث ۲۹۴)

اس کے باوجود آپ جماعت المسلمین کی رجسٹریشن کو اعتراض کا نشانہ بناتے ہیں، بلکہ محض سرکاری رجسٹریشن کی بنیاد پر نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی زبان اقدس سے عطا ہونے والے مرکّب ”جماعت المسلمین“ کو باطل قرار دیتے ہیں۔ اگر یہ ہی اصول معیار ہے، تو پھر انصاف اور غیرت کا تقاضا ہے کہ ”اہلِحدیث“ نام کو بدرجہ اولیٰ باطل قرار دیا جائے، کیوں کہ یہ نام قرآن وحدیث سے ثابت شدہ بھی نہیں ہے۔ اور انگریز (طاغوتی) حکومت کا الاٹ کردہ اور رجسٹرڈ شدہ بھی ہے۔ بلکہ آپ کی اپنی مصدّقہ کتابوں کے مطابق یہ نام انگریز حکومت کے باضابطہ عمل اور سر پرستی کے ساتھ وجود میں آیا تھا۔

مسلکِ اہلِحدیث میں تنظیم سازی:

جیسا کہ گزشتہ صفحات میں یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ ابتدائے اسلؔام میں ”اہلِحدیث“ کوئی باقاعدہ مذہب نہیں تھا۔ اسی طرح انگریز سرکار سے الاٹمنٹ سے قبل مذہب کے ساتھ ساتھ ان کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ بھی نہیں تھا۔ جیسے یہ مذہب برِّصغیر میں بنا ایسے ہی اس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی برِّصغیر ہی میں

(صفحہ 14)

بنا۔ چنانچہ اہلِحدیث عالم عبد المجید سوہدروی صاحب اپنی کتاب سیرت ثنائی میں عنوان قائم کرتے ہیں جماعتی خدمات اس عنوان کے تحت رقم طراز ہیں:۔
”ہندوستان میں اگر چہ توحید و سنّت کی تبلیغ اور قرآن کی اشاعت کا پرچم لہرایا جا چکا تھا۔“ (صفحہ ۳۰۰) اس اقتباس سے یہ بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ ”مسلکِ اہلِحدیث“ کو (برِّصغیر پاک و ہند) میں قائم ہوئے زیادہ طویل عرصہ نہیں ہوا تھا۔
مزید لکھتے ہیں:
لیکن ہنوز جماعت اہلِحدیث کی باقاعدہ تشکیل عمل میں نہ آئی تھی ۔ طول و عرض ملک میں اہلِحدیث موجود ضرور تھے اور ان کی تعداد بھی خاصی تھی ۔ مگر جماعتی رنگ میں ان کا وجو د ابھی ظاہر نہیں۔ ہوا تھا۔ نہ کوئی تنظیم تھی نہ کوئی ڈھانچہ
(حوالہ مذکور صفحہ ۳۰۰ ،۳۰۱)

عبد المجید سوہدروی صاحب کی اس تحریر کے بعد عوام اہلِحدیث کو سمجھنا چاہیے کہ ”مسلکِ اہلِحدیث“ اور جماعت اہلِحدیث کے ہمیشہ سے ہونے اور ہمیشہ رہنے کے دعوؤں میں ذرّہ برابر بھی سچّائی نہیں۔
اس کے بعد سوہدروی صاحب ایک نیا عنوان قائم کرتے ہیں ”قیام انجمن ہائے اہلِحدیث“ اس کے تحت لکھتے ہیں:۔
آپ ( یعنی ثناء اللہ امرتسری صاحب) نے انجمن ہائے اہلِحدیث کو بھی مقدّم سمجھا۔ چنانچہ آپ نے سب سے اوّل امرتسر میں اس کی داغ بیل ڈالی اور اپنے اخبار میں اس کی تحریک کا سلسلہ جاری کیا۔ موحدّین کو جماعت کے نظام استحکام پر توجہ دلائی۔ جماعتی خوبیوں سے ان کو آگاہ کیا۔
(حوالہ مذکور صفحہ ۳۰۱)

مزید لکھتے ہیں:۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کی تحریک سے ملک کے طول و عرض میں اہلِحدیث

(صفحہ 15)

انجمنیں قائم ہونے لگیں (حوالہ مذکور)

یہاں تک تو ان کی تحریک کی جھلک تھی جس کی بنیاد پر مذہبِ اہلِحدیث کی چھوٹی چھوٹی انجمنیں وجود میں آئیں۔ یاد رہے یہ سب اٹھارویں صدّی کے اواخر یا انّیسویں صدّی کے اوائل میں ہوا اس سے پہلے اس مسلک کا کوئی جماعتی وجود نہیں تھا۔
اس کے بعد ایک جماعت بننے کے لیے تگ و دو شروع کی گئی۔ چنانچہ عبدالمجید صاحب تحریر کرتے ہیں:۔
مولانا مغفور نے جمعیت اور انجمنوں کے قیام ہی کو کافی نہیں سمجھا۔ آپ کی دوربین نگاہ اس سے بھی بلند تھی۔ اور آپ چاہتے تھے کہ جماعت اہلِحدیث آسمانِ رفعت پر پرواز کرے۔
(حوالہ مذکور صفحہ ۳۰۶)

مزید لکھتے ہیں:۔ بالآخر ماہ دسمبر میں ۱۹۰۶ء میں بمقام آرہ اہلِ حدیث کا جلسہ منعقد ہوا۔ اور اسی جلسہ میں اکابر علمائے جماعت کی موجودگی میں اہلِحدیث کانفرس کی تشکیل عمل میں لائی گئی ۔(حواله مذکور صفحه ۳۰۶)

اس کا نفرس کے صدر حافظ عبداللہ غاز بیپوری منتخب ہوئے اور ثناء اللہ امرتسری ناظم اعلیٰ مقرّر ہوئے۔ اور صدر دفتر دہلی میں بنایا گیا۔ مزید یہ فیصلہ کیا گیا کہ مولوی عبد العزیز رحیم آبادی کی سرکردگی میں ایک وفد بغرض تنظیم جماعت دورہ کرے گی۔(حوالہ مذکور صفحہ ۳۱۰)

ان تمام اقتباسات کے مطالعے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ برِّصغیر میں اہلِحدیث“ کا انفرادی و اجتماعی سلسلہ اٹھارویں اور انّیسویں صدّی کے دوران شروع ہوا۔ اس سے قبل اس ”مذہب“ کا کوئی مستقل وجود نہیں ملتا۔ یہ دعویٰ کسی خارجی اعتراض پر مبنی نہیں بلکہ خود ”اہلِحدیث“ کے اکابر کی تحریرات کی روشنی میں ثابت کیا گیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ قلم میرا ہے مگر دلائل اور زبان ان کے اپنے اکابر کی ہے، تو یہ بات بے جا نہ ہوگی ۔

(صفحہ 16)

مزید برآں اہلِحدیث کانفرنس کے قیام کے کچھ ہی عرصے بعد آل انڈیا اہلِحدیث کا نفرنس بھی وجود میں آگئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوالات بھی اٹھنے لگے کہ جو حضرات ہمیشہ فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کرتے رہے، وہ ہی خود ایک نیا فرقہ تشکیل دینے پر کیوں آمادہ ہوئے؟

عبد المجید صاحب اس سوال پر ایک عنوان ایک سوال کا جواب دے کر لکھتے ہیں: ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مولانا فرقہ بندی کے خلاف تھے افتراقِ امّت سے بیزار تھے۔ اور ملّت کے تشتّت و انتشار کو وحدتِ اسلام کے لیے زہرِ ہلاہل سمجھتے تھے۔ تو پھر آپ نے اہلِحدیث کی انجمنِ جمعیت یا کانفرنس الگ کیوں بنالی۔ جو اسلامی انجمنیں اور مسلم ادارے اس وقت مصروفِ کار تھے، ان ہی کے ساتھ الحاق کیوں نہ کیا ۔(حوالہ مذکور صفحہ ۳۱۳)

اس کے بعد جواب میں لکھتے ہیں: ”جواباً عرض ہے کہ مولا نا محترم نے کوئی نیا فرقہ نہیں بنایا۔ نہ کسی نئے گروہ کی بنیاد رکھی ۔ آپ محض عامل بالحدیث تھے۔ اور حسبِ ارشادِ نبوّی اور حسبِ آثارِ صحابہ کرامؓ آپ تعامل بالحدیث ہی کو صحیح اسلام سمجھتے تھے۔ اس لیے آپ دوسری انجمنوں میں شامل نہ ہو سکے۔ نیز چونکہ ہر انجمن کسی نہ کسی خاص نظریہ، کسی نہ کسی خاص عقیدہ کے مسلمانوں سے مختص ہو چکی تھی۔ اس لیے آپ کو اپنے نظریہ توحید کے ماتحت الگ جماعت بنانی پڑی۔“(حوالہ مذکور صفی ۳۱۳)

یہ ہے ان لوگوں کا حال جو ہمیشہ سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ ان ہی کے متاخرین علما ”سیّد مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ“ کو جماعت المسلمین نہ ہونے کی صُورت میں جنگل میں جا کر جڑیں چبانے کے مشورے دیتے رہے۔ اگر خود ان کے اکابر و اصاغر نے اسی مشورے کو حِرزِجاں بنالیا ہوتا تو دنیا میں نیا فرقہ دیکھنے کو نہ ملتا۔ ان کے ابتدائی ادوار میں جو سوال ان سے ہوتا تھا۔ اس کا جواب قرآن و حدیث سے تو نہ دے سکے لیکن جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت المسلمین کا احیاء ہوا اور یہ عملی طور پر منظر عام پر آئی تو وہ ہی سوال انھوں نے جماعت المسلمین کے اراکین کے سامنے دہرانا شروع کر دیا۔ تاہم یہاں

(صفحہ 17)

ان کو شکست اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے کہ جماعت المسلمین کے ” بنانے“ کا سوال تو اس وقت بنتا جب اس کا سرے سے وجود ہی نہ ہوتا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جماعت المسلمین کا وجود تو قرونِ اولیٰ میں موجود تھا۔ جب جماعت المسلمین کی موجودگی، اس کی فکری اساس اور اس سے وابستگی پر دلائل قرآن وسنّت اور تاریخ کے اوراق سے واضح طور پر ملتے ہیں تو پھر اس اعتراض کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔ یوں یہ بات خود بخود ثابت ہو جاتی ہے کہ نیا فرقہ بنانے کی نفی کرنے والے اور بظاہر فرقہ واریت کی مخالفت کرنے والے خود ایک ایسا نیا فرقہ بنا بیٹھے جس کا وجود قرونِ اولیٰ تو کیا کسی دور میں بھی موجود نہیں تھا۔

اب ان کا وہ جواب بھی پیش نظر ہے جو انھوں نے لوگوں کے استفسار پر دیا تھا ۔ لکھتے ہیں:۔
جب آپ جمعیت و کانفرنس کی تاسیس میں منہمک تھے تو اسی قسم کا استفسار اس وقت بھی بعض حضرات نے کیا تھا ۔ آپ نے جواب میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی کا یہ قول پیش كيا گیا۔

وكان من خبر الخاصة انه كال من اهل الحديث منهم يشغلون بالحديث . يخلص اليهم من احاديث النّبی صلّى الله عليه وسلّم و آثار الصحابة مالا يحتاجون معه الى شئى آخر في المسئلة( حواله مذکور صفحه ۳۱۳)جس کا ترجمہ کچھ اس طرح کیا گیا ہے:۔ ”خاص طبقہ جو ”جماعت اہلِحدیث“ کے نام سے موسوم تھی۔ وہ شب و روز خدمتِ حدیث میں مصروف رہتی تھی ۔۔۔الخ“ اس کی تفصیل سیرت ثنائی کے صفحہ ۳۱۳ پر موجود ہے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ وہ ہی لوگ ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اہلِ حدیث اس لیے ہیں۔ کیوں کہ ہم قرآن وحدیث کو حجّت سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود اپنے عمل پر قرآن وحدیث سے دلیل دینے کے بجائے بارہویں صدّی کے ایک عالم کا قول پیش کیا گیا ۔ مزید یہ کہ شاہ ولی اللہ کے قول میں لفظ

(صفحہ 18)

جماعت اہلِحدیث سرے سے موجود ہی نہیں بلکہ انھوں نے تو محدّثین کا تعریفی کلمات کے ساتھ تذکرہ کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ترجمہ میں خود سے اضافہ کیا گیا۔ اس بات کا تو پہلے بھی تذکرہ کیا جا چکا ہے کہ اہلِحدیث نام کا ثبوت دینے کے لیے ان کے علما نے کئی کتب لکھی ہیں لیکن کسی ایک کتاب میں بھی قرآنی آیت یا حدیث نہیں پیش کر سکے محض اقوالِ محدّثین کو غلط مفہوم پہنا کر پیش کیا۔ گیا ہے۔ جس سے ان کے دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے۔

یہ سوال مذہبِ اہلِحدیث کے لیے دردِ سر رہا ۔ سوہدروی صاحب کے بقول ثناء اللہ صاحب لوگوں کو اس جواب سے مطمئن نہ کر سکے تو ابن ماجہ کی حدیث الا واياكم ومحدثات | الامور … الخ سنائی۔ اور کہا ”حضور سرورِ کائنات صلّی اللہ علیہ وسلّم قریباً ہر خطبہ میں یہ بلیغ الفاظ فرمایا کرتے اور امّت کو شرک و بدعت سے روکتے اور فرماتے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کے احکام اور میری سنّت کے خلاف عمل کرے گا ۔ وہ ہم سے نہ ہو گا اور وہ جماعت المسلمین سے خارج ہو جائے گا۔“(سیرت ثنائی صفحه ۳۱۴)

المسلم قارئین کرام ملاحظہ فرمایے کہ مسلکِ اہلِحدیث کو جماعتی نظم میں ڈھالنے والی شخصیت نے بھی جماعت بنانے کی دلیل دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں جماعت المسلمین سے خروج والی حدیث پیش کی۔ لیکن مذہبِ اہلِحدیث پر کوئی حدیث نہ پیش کر سکے۔ باالفاظ دیگر ثناء اللہ صاحب کو بھی معلوم تھا کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بتائی گئی اجتماعیّت درحقیقت جماعت المسلمین ہی ہے۔ بقول سوہدروی صاحب کے جب ایک حنفی عالم نے کسی عوامی اجتماع میں پھوٹ ڈالنا چاہی تو امرتسری صاحب نے اسے حدیث سنائى: من أتاكم وامركم جميع على رجل واحد يريد ان يشق . عصاكم او يفرق جماعتكم فاقتلوه(صحيح مسلم حدیث ۴۷۹۸) (سیرت ثنائی صفحه ۲۹۱)

ثناء اللہ امرتسری کیوں کہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے مذہبِ اہلِحدیث کی جماعتی تشکیل کے

(صفحہ 19)

لیے عملی کردار ادا کیا لہٰذا ان ہی کی زبانی جانتے ہیں کہ ان کے اس جماعتی نظم کے قیام کی کیا وجہ تھی۔
سوہدروی صاحب کتاب سیرت ثنائی صفحہ ۲۱۵ پر جماعت اہلِحدیث کی تشکیل و تاسیس کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔

درحقیقت اس جمعیت و کانفرنس کی تاسیس و تشکیل آپ اس لیے عمل میں لائے۔ کہ جماعت میں علما و فضلا کا ایک ایسا گروہ بن جائے جو ملک میں برق رفتاری سے تبلیغی فرائض ادا کرے۔(حوالہ مذکور)

معلوم یہ ہوا کہ امرتسری صاحب کا بھی اصل مقصد یہ نہ تھا کہ وہ عام عوام کو جماعت اہلِحدیث کا حصّہ بنائیں بلکہ انھوں نے علما اور فضلا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے ایک تنظیمی شکل متعارف کرائی ۔ معلوم ہوا بعد کے لوگوں نے اس جماعتی نظم کو عوام وخواص کے لیے یکساں اہمیت دی۔

اہلِحدیث کے جماعتی ڈھانچے کی تقسیم در تقسیم:

اب تک یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اہلِحدیث کوئی قدیم فرقہ نہیں، بلکہ اٹھارویں صدّی کا نومولود فرقہ ہے، اور اس نام کی سرکاری منظوری براہِ راست انگریز حکومت سے حاصل ہوئی ۔ اور یہ بھی ثابت کیا گیا اس فرقے کی جماعتی تشکیل بھی ۱۹۰۲ء میں ہوئی ۔ اس نام کی الاٹمنٹ کی خوشی میں مسلکِ اہلِحدیث کے عوام نے انگریز حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ جس کا ذِکر مولوی محمّد حسین بٹالوی صاحب نے اشاعت السنہ میں با قاعدہ اخباروں کے حوالوں کے ساتھ جلد ۹ میں نقل کیا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ گروہ محض چوتھائی صدّی (پچیس۲۵ برس) بھی اپنا یک جماعتی وجود برقرار نہ رکھ سکا کچھ ہی عرصے بعد ان کے اندرونی اختلافات نے ایک نئے فرقے کو جنم دیا جس کا نام

(صفحہ 20)

”غرباء اہلِحدیث“ رکھا گیا ۔ دلیل کے لیے ہم ان ہی کے گھر سے گواہی پیش کر دیتے ہیں۔ بقول شاعر آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی اہلِحدیث عالم مدیر مجلّہ محدّث ڈاکٹر حافظ حسن مدنی صاحب اپنے مجلّے میں تحریر کرتے ہیں۔

ان کا اختلاف (یعنی اہلِحدیث کی تنظیم سازی کے دوران ان کا اختلاف) اس امر پر ہوا کہ ایسی جماعت امامتِ کبریٰ (خلافت) کے اختیارات کی حامل ہوگی یا چھوٹے نظم (امامتِ صغریٰ) کی طرح ہوگی ۔ اوّل الذِّکر گروہ نے امامتِ کبریٰ کے تصوّر سے جماعت غرباء اہلِحدیث بنائی جب کہ محدّث روپڑی کا تصوّر امامتِ صغریٰ کا تھا اس لیے شرعی نظم کے مطابق ۱۹۳۲ء میں دو۲ تنظیم اہلِحدیث معرضِ وجود میں آئی۔[/ref](ماہنامہ محدّث اکتوبر ۲۰۲۱ صفحه ۸۵)[/ref]

نوٹ: اس عبارت میں بریکٹ کے اندر جلّی حروف میں درج الفاظ دراصل اس عبارت کے نہیں، بلکہ اس سے قبل آنے والے چند جملوں سے ماخوذ ہیں۔

وضاحت: حافظ حسن مدنی کے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”جماعت غرباء اہلِحدیث“ ۱۹۰۶ء کے بعد بنائی گئی۔ لیکن غرباء ہی کے ایک عالِم محمّد رمضان سلفی صاحب نے اپنی کتاب (چار اللہ کے ولی صفحہ ۲۶)پر لکھا ہے:۔ ۱۳۱۳ھ کو جماعت غرباء اہلِحدیث کا قیام عمل میں لایا گیا۔

نوٹ: ۱۳۱۳ھ کے مطابق عیسوی سال تقریباً ۱۸۹۵ بنتا ہے۔

یہ ان کے جماعت سازی کے رجحان اور تقسیم پسندی کی ابتدائی جھلک ہے، جو اسلام کے نام پر وجود پانے والی خود ساختہ جماعت کے حقیقی حال کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ بٹوارہ وقتی نہ تھا، بلکہ مسلسل بڑھتا گیا اور اس کے اثرات دور تک پھیلتے چلے گئے چنانچہ مزید لکھتے ہیں:۔ مولانا داؤد غزنوی جو خلافتِ عثمانیہ کی حمایت میں برِّصغیر میں سرگرم رہے، انھوں نے مسلم لیگ کے بجائے بظاہر مسلکی تنظیم جمعیت اہلِحدیث کے نام سے بنائی۔[/ref](ماہنامہ محدّث لاہور اکتوبر[/ref]

(صفحہ 21)

۲۰۲۱ صفحه ۸۵)
پھر مزید تقسیم کا اظہار ان الفاظ کے ساتھ کیا۔
جمعیتِ اہلِحدیث پہلے تو اہلِحدیث مبلّغین کے ذریعے مسلک کی تبلیغ و دعوت کا کام بھی کرتی تھی لیکن ۱۹۷۰ء کے بعد جب تمام مسالک اپنی اپنی تنظیموں کے ذریعے ملکی سیاست میں آگئے تو اصل مسئلہ اقتدار بن گیا۔ سیاسی پارٹیاں جس طرح اقتدار کے لیے ”میکیا ولی سیاست“ کرتی ہیں وہ ہی جوڑ توڑ مسلکی جماعتوں میں بھی در آیا ۔ مقلّدین کے ہاں تو شخصیت پرستی کی وجہ سے زیادہ حصّے بخرے نہیں ہوئے لیکن عوام اہلِحدیث غیر مقلّد ہونے کی بنا پر کسی نظمِ اجتماعی کے بھی پابند نہیں ہوتے ۔
(ماہنامہ محدّث لاہور اکتوبر ۲۰۲۱ صفحہ ۸۵)

(یعنی ڈاکٹر صاحب کے بقول کیوں کہ غیر مقلّد شخصیت پرستی کو اہمیّت نہیں دیتے اس لیے مقلّدین کی نسبت غیر مقلّدین اس سیاسی جوڑ توڑ میں زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔
نوٹ: نیکولو میکاولی ایک سیاسی مفکّر تھے۔ میکیاولی سیاست کے مرکّب سے غالباً ان ہی کی طرف اشارہ کیا ہے۔

یہ مسلکِ اہلِحدیث کے علما کا اپنا اعتراف ہے کہ مسلکِ اہلِحدیث میں قرآن وحدیث کے نام پر کیا کیا گل کھلائے جا رہے ہیں۔

یاد رہے ثناء اللہ امرتسری صاحب کی اہلِحدیث کانفرس کچھ عرصہ غیر فعال بھی رہی۔ غالباً اس کی وجہ ثناء اللہ امرتسری اور غزنوی خاندان کا آپس کے اختلاف ہو۔ اس اختلاف کا تذکرہ سیرت ثنائی میں بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر محمّد حسن مدنی صاحب نے اپنے اس رسالے میں بھی اس نزاع کا تذکرہ کیا۔ ہے۔ بہر حال جب ۱۹۳۲ء میں تنظیم اہلِحدیث معرضِ وجود میں آئی تو امرتسری صاحب کی آل انڈیا اہلِحدیث کا نفرنس دوبارہ بحال ہو گئی۔( مجلّہ محدّث لاہور اکتوبر ۲۰۲۱ صفحه ۸۵)

یہ ان کا ابتدائی حال تھا کہ مسلکِ اہلِحدیث کا ابتدائی تنظیمی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو

(صفحہ 22)

گیا۔ اور اس مسلک کا بنے والا دوسرا گروہ غرباء اہلِحدیث کے نام سے الگ ہوا۔

اہلِحدیث علما نے اپنی تنظیمی ڈھانچے کی بنیاد ان احادیث پر رکھی جن میں لفظ الجماعۃ آیا ہے۔ مگر جب عبد الوہاب دہلوی صاحب نے غرباء اہلِ حدیث کے نام سے علیٰحدہ جماعت قائم کی تو دیگر اہلِحدیث علما نے انھیں مسلکِ اہلِحدیث سے خارج قرار دیا۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ ابو یحیٰی امام خان نوشہروی نے اپنی کتاب تراجم علما حدیث ہند میں اہلِ حدیث علما کا تذکرہ تو کیا، لیکن عبد الوہاب دہلوی صاحب کو اس میں شامل نہ کیا۔ اسی طرح مولوی محمّد جونا گڑھی نے ظلِّ محمّدی عرف امامتِ محمّدی) کے نام سے ایک کتاب لکھی، جس کی اصل وجہ صرف غرباء اہلِحدیث کا وجود میں آنا تھا۔ جس کا اظہار انھوں نے کتابچے کے شروع میں کیا۔ اسی کتاب میں عبدالوہاب دہلوی صاحب پر کفر و شرک کا فتویٰ بھی عائد کیا گیا، اور اس سلسلے میں فتوے دینے والے علما کی تعداد صراحت کے ساتھ اکسٹھ۶۱ درج کی گئی ہے۔ جن میں عبد الرحمن مبارکپوری، ثناء اللہ امرتسری، داؤد غزنوی وغیرہ شامل ہیں۔(ملاحظہ ہو : کتاب ظلِّ محمّدی ، مؤلّف : مولوی محمّد جونا گڑھی صفحات ۲۷، ۲۸، ۲۹)۔

اس بات کا تذکرہ اہلِحدیث عالم محمّد رمضان یوسف سلفی نے اپنی کتاب ”مولانا عبدالوہاب دہلوی اور ان کا خاندان میں بھی کیا ہے۔ لکھتے ہیں: ” جماعت غرباء کے قیام پر بہت سے علما نے مخالفت کی“ (صفحہ ۷۷)مزید لکھتے ہیں: ”ہمعصر علما نے کفر کے فتوے لگائے۔“ (صفحہ ۷۷ )

ابتدائی دور میں اپنی مذہبی تفریق کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا لیکن تقسیم در تقسیم کے نتیجے میں وہ موقف رفتہ رفتہ ترک کر دیا گیا۔ آج اگر ان کی مسلکی تقسیم کی جانب توجہ دلائی جائے تو بس یہ ہی کہا جاتا ہے کہ: ”عقیدہ صحیح ہونا چاہیے، باقی یہ فرقے نہیں بلکہ ذیلی تنظیمیں ہیں“۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ: ”ہر تنظیم کا اپنا علیٰحدہ امیر الگ تنظیمی ڈھانچہ اور جدا گانہ دائرہ کار ہے، حتّٰی کہ تعلیمی ادارے اور مدارس بھی اپنی اپنی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔“

(صفحہ 23)

مسلکِ اہلِحدیث کی موجودہ رجسٹرڈ تنظیمیں:

اب تک یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ: ”اہلِحدیث کس طرح ایک مذہب کی صُورت میں ابھرا، کس مرحلے پر اہلِحدیث نام اختیار کیا گیا، اور بعد ازاں کس طرح ابتدائی تنظیم سازی کے بعد دھڑے بندی اور تقسیم در تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ تمام حقائق ان ہی کے اپنے بیانات کی روشنی میں قارئین کے سامنے رکھے جاچکے ہیں۔ اب اہلِحدیث کے ان فرقوں کی تفصیل بھی پیش کی جاتی ہے جو باقاعدہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں، تاکہ قاری خود فیصلہ کر سکے کہ جماعت المسلمین کی رجسٹریشن پر اعتراض کرنے والے کس قدر مضبوط یا کمزور جواز پر کھڑے ہیں“۔ واضح رہے حکومتِ پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی بھی مذہبی تنظیم، مدرسہ یا مسجد کا حکومتِ پاکستان کے تحت رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ غیر رجسٹرڈ تنظیموں پر وقتاً فوقتاً پابندیوں کی خبریں زیر گردش رہتی ہیں۔ اور قانون رجسٹریشن میں حسبِ ضرورت ترامیم بھی کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ کچھ عرصہ قبل مدارس کی رجسٹریشن کے نئے قانون پر حکومت اور مذہبی علما کے درمیان تنازع چلتا رہا۔ الغرض کسی بھی ملک میں کوئی ایسی تنظیم چلنے کی اجازت نہیں دی جاتی جو ملکی قوانین کے مطابق رجسٹرڈ نہ ہو۔

مسلکِ اہلِحدیث کے کچھ دھڑوں کا ذِکر گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے اب ہم یہاں ان موجودہ تنظیموں کا نام بھی آپ کے سامنے پیش کر دیتے ہیں جنھیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحت رجسٹرڈ کروایا گیا ہے اور باقاعدہ جمہوری طرزِ حکومت کو اپنانے کے لیے الیکشن میں حصّہ لیا جاتا ہے جب کہ پہلے اس مسلک میں جمہوریت کو شرک کہا جاتا تھا۔
ان تظیمی دھڑوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
۝۱ جماعتِ اہلِحدیث پاکستان (روپڑی گروپ) امیر حافظ عبدالغفار روپڑی

(صفحہ 24)

۝۲ جمعیتِ اہلِحدیث پاکستان (الہی ظہیر ) امیر علّامہ ابتسام الہی ظہیر
۝۳ مرکزی جماعتِ اہلِحدیث (زبیر گروپ) امیر حافظ زبیر احمد ظہیر
۝۴ مرکزی جمعیتِ اہلِحدیث (لکھوی گروپ) امیر (معین الدّین لکھوی کی وفات کے بعد امیر کون ہے اس کے متعلّق صحیح معلومات نہیں مل سکیں البتّہ الیکشن کمیشن کے ۲۰۱۳ کے ریکارڈ کے مطابق معین الدّین لکھوی امیر ہیں)
۝۵مرکزی جمعیت اہلِحدیث (ساجد میر گروپ) امیر پروفیسر ساجد میر
۝۶اللہ اکبر تحریک بانی میاں احسان باری) امیر سیف اللہ خالد ہے۔
۝۷ ملّی مسلم لیگ (جماعۃ الدّعوہ کی سیاسی جماعت) (۱۳ جون ۲۰۱۸ کو ایک خبر نشر ہوئی جس کا متن تھا۔ پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حافظ محمّد سعید کی تنظیم جماعۃ الدّعوہ کے سیاسی ونگ ملّی مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ مزید خبر یہ بھی چھپی کہ اس جماعت کے درجنوں حمایت یافتہ امیدواران آزاد حیثیت یا پھر کئی سال پہلے رجسٹرڈ ہونے والی جماعت اللہ اکبر تحریک کے نام سے انتخابات میں حصّہ لیں گے۔ (یہ خبر وائس آف امریکہ کی آفیشل ویب سائیٹ پر آج بھی موجود ہے)

واضح رہے کہ ڈاکٹر حسن مدنی صاحب نے اپنی تحریر میں جمعیت کے پانچ۵ دھڑوں کا ذِکر کیا۔ ہے۔ اور لکھتے ہیں: ”جمعیت اہلِحدیث سیاسی پارٹی کے طور پر الیکشن کمیشن میں باضابطہ رجسٹرڈ ہے“۔(محدّث میگزین اکتوبر ۲۰۲۱ صفحه ۸۷)

یہ امر محتاجِ وضاحت نہیں کہ پاکستان میں موجود تمام رجسٹرڈ ناموں کا ریکارڈ بذاتِ خود الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ یہ ہی نہیں بلکہ عملاً ملک کی ہر مسجد اور ہر مدرسہ بشمول مسلکِ اہلِحدیث کے مساجد و مدارس کے حکومتی قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ حتٰی کہ وفاق المدارس

(صفحہ 25)

السّلفیہ، جس کے تحت مسلکِ اہلِحدیث کے دینی مدارس منتظم ومربوط طریقے سے چل رہے ہیں، وہ بھی باضابطہ طور پر حکومتِ پاکستان کے قوانین کے مطابق رجسٹرڈ ہیں۔ یہاں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ جو حضرات دوسروں کو محض “رجسٹرڈ” کہہ کر طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں، وہ خود اپنے پورے تعلیمی نظام کو بھی رجسٹریشن کے بغیر جاری رکھنے کے مجاز نہیں۔ قارئینِ کرام یہ مسلکِ اہلِحدیث کی کل حقیقت ہے۔ یہ فرقہ جس کی تاریخ دو۲ صدّیوں تک بھی نہیں پہنچتی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ فرقہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس مسلک کا پہلا گروہ یعنی غرباء اہلِحدیث جس پر ماضی میں اکابرین اہلِحدیث نے کفر و شرک کے فتوے لگائے اور اہلِحدیث مسلک سے خارج سمجھا گیا۔ اب اس کو اختلاف رائے کا نام دے کر اہلِحدیث کی ذیلی تنظیم کہا جاتا ہے۔

اہلِحديث عالم محمّد داؤد راشد صاحب لکھتے ہیں:۔
مؤلّف تحفہ اہلِحدیث نے دِل کی بھڑاس نکالنے کے لیے اہلِحدیث کی ذیلی تنظیموں کو بھی نشانہ بنایا کہ ان میں غرباء اہلِحدیث ، امراء اہلِحدیث (جھوٹے پر اللہ کی لعنت) مسلمین الحديث الشکر طیبہ سلفی اہلِحدیث ، اثری اہلِحدیث ہیں جن میں متعدّد اختلافات ہیں۔
(تحفہ حنفیہ بجواب تحفہ اہلِحدیث صفحه ۳۵۲)

قارئین یہ وہ لوگ ہیں جو جماعت المسلمین پر اور سیّد مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر تکفیر کے الزامات لگاتے۔ تھکتے نہیں بلکہ ان کی جانب سے جماعت المسلمین کے خلاف جو بھی کتاب لکھی جاتی ہے۔ اس میں مسلؔمین کو تکفیری کہہ کر مخاطب کرتے ہیں لیکن جب اپنی باری آتی ہے تو انھیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ یہیں سے اندازہ لگا لیجیے ایک ہی گروہ جسے مسلکِ اہلِحدیث کے اکابرین نے کافر و مشرک قرار دیا۔ اور اسی گروہ کو مسلکِ اہلِحدیث کی ذیلی تنظیم بھی قرار دیا۔ اب معلوم نہیں کہ ان کے اکابر نے کفر و شرک

(صفحہ 26)

کے فتوے لگا کر صحیح کیا یا انھوں نے اپنی ذیلی تنظیم قرار دے کر اور اسی گروہ کا دفاع کر کے صحیح کیا۔؟ لیکن واضح کافر قرار دینے والوں کو تکفیری کیوں نہیں کہا؟ کیا صرف اس لیے کیوں کہ انھیں یہ اکابر مانتے ہیں ۔؟؟
اس کے ساتھ ایک بات اور بھی عرض کرتا چلوں کہ حدیث کے مطابق جب کسی کو کافر کہا جائے تو دونوں میں سے کوئی ایک کافر ہو جائے گا۔
(صحیح مسلم، حدیث ۲۱۶)

اہلِحدیث حضرات سے گزارش ہے کہ اب یہ وضاحت بھی پیش کر دیں کہ کافر قرار دینے کے بعد کافر کسے سمجھا جائے گا۔ جن کو کہا گیا یا جنھوں نے کہا ؟ کیوں کہ کہنے والے بھی متاخرین کے نزدیک اہلِحدیث ہیں اور جن کو کہا گیا وہ بھی۔ اکابرین کے اس نظریہ کی واضح الفاظ میں تردید نہ کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ آج کے اہلِحدیث بھی اسی موقف پر قائم ہیں۔ جس کا اظہار کبھی تحریراً اور کبھی تقریراً کرتے بھی رہتے ہیں۔
نوٹ : سیّد مسعود احمد رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند سیّد سلیمان صاحب نے اپنی کتاب للمتّقین اماما میں ”تکفیری کون ہے؟“ کے عنوان کے تحت مختلف فرقوں کی ایک دوسرے کی تکفیر کے ثبوت پیش کیے ہیں۔ تفصیل کے لیے مذکورہ کتاب کے صفحہ ۲۰۱ تا ۲۰۶ ملاحظہ فرمائیں۔

مختلف خطّے مختلف نام :

اب تک کی تمام بحث در اصل اہلِ حدیث کے نام کے حوالے سے تھی، کیوں کہ برِّصغیر میں اس نام کی بڑے زور و شور سے تبلیغ کی گئی اور اسی کے ثبوت پر مسلک مذکور کی جانب سے متعدّد کتابیں بھی تحریر کی گئیں اور مختلف مناظرے کیے گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مذہب کا یہ نام برِّصغیر تک ہی محدود رہا۔ جس طرح انسان کی جغرافیائی نسبت کے ساتھ اس کی پہچان بدلتی ہے، اسی طرح جغرافیائی تبدیلی نے ان کے مذہبی نام کو بھی بدل ڈالا ۔ چنانچہ سری لنکا میں انھیں توحیدی کہا جاتا ہے، سوڈان

(صفحہ 27)

میں انصار السنّة والمحمّدیہ کے نام سے جانا جاتا ہے، افغانستان میں جماعت الدّعوة الى القرآن والسنّة کے عنوان سے موجود ہیں، مصر میں الجماعۃ الاسلامیہ کے نام سے اور بلاد عرب میں سلفی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہ تمام نام اور ان کے علاوہ دیگر ممالک میں استعمال کیے جانے والے ناموں کی فہرست اہلِحدیث عالم قاضی محمّد اسلم سیف نے اپنی کتاب ”تحریک اہلِحدیث تاریخ کے آئینہ میں مختلف ملکوں کے ناموں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔کتاب کا بیسواں باب بعنوان ” عالمِ اسلام میں تحریکِ اہلِ حدیث کے اثرات صفحہ ۶۳۵ تا ۶۶۰“

یوں جس ایک نام کو ثابت کرنے کے لیے سینکڑوں صفحات سیاہ کیے گئے حتّٰی کہ تابعینؒ، تبع تابعینؒ بلکہ صحابہؓ تک کو اہلِحدیث قرار دینے کی جسارت کی گئی، وہ ہی نام مختلف خطّوں میں باقی نہ رہ سکا۔ یہ کس قدر بے بسی اور بے ثباتی کا منظر ہے کہ اللہ کے عطا کردہ نام کو ترک کر کے خود ساختہ نام اختیار کرنے کا نتیجہ اس قدر بھیانک نکلا کہ ہر خطّے میں الگ الگ نام اپنانے پڑے۔ اور جیسا کہ برِّصغیر میں اس نام کو ثابت کرنے کے لیے صحابہ کرامؓ تک کو اہلِ حدیث کہا گیا ، اگر واقعی اس نام میں کوئی حقیقی استحکام ہوتا تو مختلف خطّوں میں اس کی یکساں شناخت ضرور قائم رکھی جاتی ۔ مگر یہ کبھی ممکن نہ ہو سکا، اور نہ ہی آئندہ ہو سکے گا۔

یہ ہے مسلکِ اہلِحدیث کی اصل حقیقت جو آپ کے سامنے آچکی ہے۔ الغرض ، مسلکِ اہلِ حدیث کے تمام دعوے حقیقت کا بوجھ نہ اٹھا سکے اور زمین بوس ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ مسلکِ اہلِحدیث ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گا محض ایک لفظی فریب ہے جسے گزشتہ صفحات میں دلائل کے ساتھ باطل ثابت کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح یہ دعویٰ کہ اہلِحدیث ہی مسلک حق ہے بھی تاریخ کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا، کیوں کہ اس مسلک کی عمر دو۲ صدّیوں تک بھی نہیں پہنچتی۔ مزید یہ کہ ان کا یہ کہنا کہ یہ مسلک رجسٹرڈ نہیں ، دلائل کی روشنی میں بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے۔ لہٰذا وہ

(صفحہ 28)

حضرات جو اب تک ان دعوؤں کو حقیقت سمجھتے تھے، ان سے گزارش ہے کہ ان تحریری شواہد کے بعد اس دھوکے سے نکلیں اور حقیقی دین کی طرف رجوع کریں۔ یعنی وہ دین جو صرف قرآن مجید اور صحیح احادیث پر قائم ہے۔

قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ:
۱ ۔ اللہ نے اپنے ماننے والوں کے لیے دینِ اسلام کا انتخاب کیا ہے۔(سورہ مائدہ آیت ۳)

۲- دینِ اسلام کے ماننے والوں کا نام اللہ نے “مسلؔم” رکھا ہے۔(سورۂ حج ۷۸)
اور اسی نام سے متعارف کرانے حکم دیا ہے۔
(فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۝۶۴) (سوره آل عمران آیت ۶۴) ، (وَ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۝۳۳) (سورۂ حٰم السجده آیت ۳۳)

۳- رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اس امّت کی فرقوں میں بٹ جانے کی پیشن گوئی فرمائی ہے۔ کہ امّت ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی بہتّر۷۲ جہنّم میں جائیں گے اور ایک جنّت میں جائے گا۔(ابوداؤد حدیث ۴۵۹۷ ابن ماجہ حدیث ۳۹۹۲ ، مسند احمد حدیث ۱۶۹۷۹، سنده صحیح)

۴۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جنّت میں جانے والے گروہ کو ”الجماعۃ“ کہا۔(ابوداؤد حدیث ۴۵۹۷ ، ابن ماجہ حدیث ۳۹۹۲، مسند احمد حدیث ۱۶۹۷۹، سندہ صحیح)

۵۔ ”الجماعۃ“ سے مراد جماعة المسلمین ہے۔
(سنن نسائی ۴۰۲۱ سندہ صحیح الجماعة کے الفاظ استعمال ہوئے۔ ہیں، یہ ہی حدیث مصنف ابن ابی شیبہ نمبر ۲۷۹۰۴ میں ہے اور الجماعہ کی جگہ جماعت المسلمین کے الفاظ آئے ہیں۔)

۶۔ صحابہؓ کی جماعت کو بھی جماعت المسلمین کہا جاتا تھا۔(صحیح بخاری حدیث ۹۸۱،۳۵۱)

۷- جماعت المسلمین سے وابستگی اور فرقوں سے علیٰحدگی ضروری ہے یہ ہی حکمِ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم ہے۔ (صحیح بخاری ج ۳۶۰۶، ۷۰۸۴، صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۷، ابن ماجہ حدیث ۳۹۷۹)

(صفحہ 29)

۸۔ جماعت المسلمین کے علاوہ سب فرقے ہیں اور فرمانِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے مطابق فرقوں میں کسی صُورت شامل نہیں ہوا جا سکتا۔(صحیح بخاری حدیث ۳۶۰۶، ۷۰۸۴، صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۷، ابن ماجہ حدیث (۳۹۷۹)

۹- الجماعة (یعنی جماعت المسلمین) سے بالشت بھر دوری اسلؔام کے پٹّے کو گلے سے اتار پھینکنے کے مترادف ہے۔(ابوداؤد ۴۷۵۸ سندہ صحیح)

اور الجماعت سے علیٰحدگی کی صُورت میں موت جاہلیّت کی موت ہوگی۔(صحیح مسلم ۱۸۴۸)

۱۰ – جماعت المسلمین سے علیٰحدگی ایمان میں خیانت کے مترادف ہے۔(مستدرک حاکم حدیث، ۲۹۴،۲۹۵ صححه ووافقه الذهبي)

(درج کردہ حدیث نمبر میں اوّل الذِّکر میں ”الجماعۃ“ اور ثانی الذِّکر میں ”جماعۃ المسلمین“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں) ان تمام دلائل کے بعد ہم آپ سے عاجزانہ ملتمس ہیں کہ اپنی آخرت سنوارنے اور ”و واحد في الجنّة“ کا مصداق بننے کے لیے تمام فرقوں سے علیٰحدہ ہو کر جماعت المسلمین میں شامل ہو جائیے۔ کامیابی اسی میں ہے۔ یہ کسی عام انسان کے اقوال نہیں بلکہ محمّد الرّسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فرامینِ ذیشان ہیں جنھیں کوئی ایمان والا ردّ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما کر خاتمہ اس حال میں کرے کہ ہم اللہ ہی کے مسلؔم ہوں ۔
فقط
عبد الوحيد
مظفر آباد آزاد کشمیر
۲۸ رجب ۱۴۴۶ھ

Share This Surah, Choose Your Platform!