ہمارا حاکم صرف ایک یعنی اللہ تعالیٰ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہَمارا حَاکم صرف ایک
یعنی اللہ تعالیٰ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ہَمارا حَاکم صرف ایک یعنی اللہ تعالیٰ
حاکم سے مراد وہ حاکم ہے جس کی حکومت ازلی و ابدی ہو، جس کی اطاعت غیر محدود و غیر مشروط ہو، جو قانون ساز ہو، جس کا قانون کامل اور غیر متبدّل ہو، اطاعت کرانا جس کا حق ہو۔
اللہ تعالیٰ نے جنّ و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، جیسا کہ ارشادِ گرامی ہے:
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۵۶
(سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰتِ : ۵۱، آیت:۵۶)
میں نے جنّ و انس کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔۵۶
یہاں عبادت سے نماز، روزہ، ذِکر یا وظیفہ مراد لیا جائے تو بڑی مشکل پیش آئے گی اس لیے کہ پھر پوری زندگی میں ان اعمال کے علاوہ دوسرے اعمال کا کرنا مقصدِ تخلیق کے منافی ہوگا، نہ کاروبار رہے گا، نہ کھانا پینا اور نہ شادی بیاہ۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ نسلِ انسانی ختم ہوجائے گی، نہ زندگی ہو گی نہ عبادت، مقصدِ تخلیق پورا نہیں ہوگا۔
نماز، روزہ وغیرہ عبادت تو ضرور ہیں لیکن ہر حالت میں نہیں۔ مثلاً:
اگر کوئی شخص مغرب کی تین۳ رکعت کے بجائے چار۴ رکعت پڑھے تو وہ لغوی اعتبار سے تو عابد ہوگا لیکن شرعی اعتبار سے وہ اللہ تعالیٰ کا باغی قرار پائے گا۔اس کی نماز عبادت نہیں رہے گی بلکہ بغاوت میں شمار ہوگی۔ مقصدِ تخلیق فوت ہوجائے گا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے نوافل پڑھتا ہے تو وہ عابد تو ضرور ہوگا لیکن شرعاً وہ اللہ تعالیٰ کا باغی کہلائے گا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص عید کے دن روزہ رکھے تو اس کا وہ روزہ عبادت نہیں ہوگا۔ اس روزے کو ثواب یا عبادت سمجھنے والا نہ صرف گناہ گار ہوگا بلکہ کافر ہو جائے گا۔
اس قسم کی سینکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ غور کیجیے آخر یہ عبادتیں بغاوت میں کیوں شمار ہو رہی ہیں۔ اگر آپ ذرا بھی غور کریں گے تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ کیوں کہ یہ عبادتیں اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی مقرّرہ حدود کے اندر رہ کر نہیں کی جا رہی ہیں اس لیے عبادتیں نہیں رہیں۔ ان عبادتوں میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے اُس کی اطاعت سے انحراف ہوتا ہے لہٰذا انھیں شرعاً عبادت نہیں کہا جا سکتا۔
مندرجہ بالا وضاحت سے یہ نتیجہ نکلا کہ عبادت دراصل اطاعت کا نام ہے۔ مندرجہ ذیل آیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ،
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت : ۶۰)
شیطان کی عبادت نہ کرو،
غور فرمایے کیا کوئی شخص شیطان کو سجدہ کرتا ہے۔ اس کے نام کی قربانی کرتاہے، اس کے نام کا وظیفہ پڑھتا ہے یا اس کے نام پر خیرات کرتا ہے، ہرگز نہیں، تو پھر آخر شیطان کی عبادت سے کیا مراد ہے، ظاہر ہے کہ شیطان کی عبادت سے شیطان کی اطاعت مراد ہے۔ شیطان کی اطاعت کر کے ہی لوگ کفر و شرک، فسق و فجور، عصیان و طغیان میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور صراطِ مستقیم سے بھٹک جاتے ہیں۔اسی لیے اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
وَ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ،هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۶۱
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت : ۶۱)
میری عبادت کرو، یہ ہی صراط مستقیم ہے ۶۱
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی عبادت کے مقابلے میں اپنی عبادت کا ذِکر فرمایا ، کیوں کہ شیطان کی عبادت شیطان کی اطاعت ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کی عبادت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔
مندرجہ بالا آیات و مباحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی اطاعت کے لیے پیدا کیا ہے لہٰذا اطاعت صرف اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔ جب تک اُس کی اجازت نہ ہو کسی دوسرے کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، اگر اُس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کی اطاعت کی جائے تو یہ شرک فی الاطاعت یعنی شرک فی العبادت ہوگا اور اس شرک سے بڑا اور کون سا شرک ہوگا کہ جس شرک سے مقصدِ حیات ہی تہہ و بالا ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا،
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۳۴)
تمھارا حاکم صرف ایک ہے لہٰذا صرف اُسی کی اطاعت کرو
اسی اطاعت کا دوسرا نام اسلاؔم ہے، اسلاؔم کے معنی ہیں “اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری” لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرتا ہے وہ مسلؔم ہے، جو اطاعتِ الٰہی سے منھ موڑتا ہے وہ غیرمسلؔم ہے۔ اس نے مقصدِ حیات کو پسِ پشت ڈال دیا، وہ باغی ہے کہ اپنے خالق کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کرتا۔
اسلاؔم ہی وہ ضابطۂ حیات ہے کہ جس کے مطابق ہرشخص کو اپنی زندگی گزارنی چاہیے اگر زندگی کے تمام کاروبار میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت جلوہ گر ہو تو وہ تمام کاروبار عبادت ہوگا۔ نماز اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ادا کی گئی تو نماز عبادت ہے۔ روزہ اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رکھا گیا تو روزہ عبادت ہے۔ تجارت اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کی گئی تو وہ تجارت عبادت ہے۔ اسی طرح زندگی کے تمام کام چلنا پھرنا، سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، شادی بیاہ، لین دین، طلاق و عتاق، جنگ و جدال، بغض و عناد، محبّت و مواسات وغیرہ اگر اللہ تعالیٰ جلّ جلالہُ کے احکام کے مطابق کیے جارہے ہیں تو وہ سب عبادت ہیں، اس طرح تمام زندگی عبادت بن جائے گی اور مقصدِتخلیق بھی پورا ہوجائے گا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:۔
اِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِیْ بِهَا وَجْهَ اللهِ اِلَّا اُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتّٰى مَا تَجْعَلُ فِیْ فِیْ امْرَاَتِكَ،
(صحیح بخاری کتاب ایمان،حدیث نمبر: ۵۶)
تم جو خرچ بھی اللہ کو خوش کرنے کے لیے کرو گے اس پر تمھیں ضرور ثواب دیا جائے گا یہاں تک کہ اس لقمے پر بھی تمھیں ثواب دیا جائے گا جو تم اپنی بیوی کے منھ میں دو گے۔
اللہ تعالیٰ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے قانون پرعمل کرنے سے ہوتی ہے، اس قانون کا بنانے والا خود اللہ تعالیٰ ہے جیسا کہ ارشادِ گرامی ہے:۔
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ ۔
(سُوْرَۃُ الشُّوْرٰی : ۴۲، آیت : ۱۳)
اللہ نے تمھارے لیے دینی قوانین بنائے۔
قانون سازی میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں، یہ قانون خالص اللہ تعالیٰ کا ہے، جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے:
اَ لَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ،
(سُوْرَۃُ الزُّمَرِ : ۳۹، آیت : ۳)
خبردار ہوجاؤ، دین خالص اللہ کے لیے ہے۔
لہٰذا اس دین میں کسی کی شرکت نہیں، کسی دوسرے کو قانون ساز سمجھنا، اس کے بنائے ہوئے ضابطوں کو دین میں شامل کرنا، اس کے اجتہاد، قیاس اور فتوے کو دینی درجہ دینا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔
ارشادِ باری ہے:۔
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ،
(سُوْرَۃُ الشُّوْرٰی : ۴۲، آیت : ۲۱)
کیا انھوں نے (اللہ کے) شریک بنا رکھے ہیں جو ان کے لیے دینی قوانین بنا تے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
وَ لَا یُشْرِڪُ فِیْ حُڪْمِهٖۤ اَحَدًا۲۶
(سُوْرَۃُ الْکَھْـفِ: ۱۸، آیت : ۲۶)
اللہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۲۶
اللہ تعالیٰ بلاشرکتِ غیرے اکیلا حاکم ہے۔ اُس کے احکام میں کوئی اُس کا شریک نہیں۔
ارشادِ باری ہے:
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ،اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ،
(سُوْرَۃُ یُوْسُفْ : ۱۲، آیت : ۴۰)
حکم کسی کا نہ مانا جائے، سوائے اللہ کے، اللہ نے حکم دے دیا ہے کہ عبادت (یعنی اطاعت) کسی کی نہ کی جائے سوائے اُس کے۔
حلال و حرام کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اللہ جلّ جلالہُ فرماتا ہے:
وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰهِ الْكَذِبَ،
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۱۱۶)
اپنی زبانوں سے یوں ہی جھوٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے (کہ بغیر اُس کے حکم کے تم خود حلال و حرام کا فیصلہ کرکے اسے اللہ کی طرف منسوب کردو)۔
الغرض علما کے فتووں سے نہ کوئی چیز حلال ہوسکتی ہے اور نہ کوئی چیز حرام ہوسکتی ہے۔ حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ حلال کہے۔ حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ حرام کہے۔
قاضی کے فیصلے سے بھی نہ کوئی چیز حلال ہوسکتی ہے اور نہ کوئی چیز حرام ہوسکتی ہے۔ قاضی کا فیصلہ، فیصلہ تو ہو سکتا ہے، قانون نہیں بن سکتا، اگر وہ فیصلہ صحیح ہے تو فبہا اگر صحیح نہیں تو مسترد کردیا جائے گا۔ اگر وہ غلطی سے نافذ ہو بھی گیا تو اس کا نفاذ عا رضی ہوگا وہ قاضی خود بھی اسی قسم کے دوسرے مقدمے میں اپنے گزشتہ فیصلے کے خلاف فیصلہ کرسکتا ہے۔ دوسرا قاضی بھی اس کے فیصلے کے خلاف فیصلہ کرسکتا ہے۔ قاضی کے فیصلے کو ابدی قانون کی حیثیت حاصل نہیں ہوگی، ابدی قانون صرف اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قانون ہے۔ جو اس قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ مسلؔم ہے، جو اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ مسلؔم نہیں، اللہ تعالی فرماتا ہے۔
وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ۴۴
(سُوْرَۃُ الْمَآئِدَۃِ: ۵، آیت : ۴۴)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، ایسے لوگ کافر ہیں۴
صرف اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کی پیروی کرنی چاہیے، یہ ہی اصلِِ توحید ہے، دوسری چیزوں کی پیروی حرام ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔
اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّڪُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ،
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ:۷، آیت:۳)
اس قانون کی پیروی کرو جو تمھارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ کسی ولی کی پیروی نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ کا قانون ہی ہر معاملے میں آخری سند ہے، کسی دوسرے کے فتوے یا رائے کو آخری سند قرار دینا شرک ہے۔ اہلِ کتاب بھی اہلِ اسلاؔم کے اس عقیدے سے متّفق تھے۔ اس اشتراکِ عقیدہ کی بنیاد پر ہی اللہ تعالیٰ نے انیں دعوتِ اسلاؔم دیتے ہوئے فرمایا:
قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَڪُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْـًٔا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ،
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۶۴)
اے اہلِ کتاب ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے (جسے ہم بھی مانتے ہیں اور تم بھی مانتے ہو) وہ یہ کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اُس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو اپنا ربّ بنائیں۔
اس اشتراک فی العقیدہ کے باوجود وہ عملاً شرک میں مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو اپنا ربّ نہ بنانے کے عقیدے کے باوجود اپنے علما اور مشائخ کو اپنا ربّ بنائے ہوئے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔
اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ،وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا،لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ،سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۳۱
(سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ : ۹، آیت : ۳۱)
انھوں نے اپنے علما اور مشائخ کو اللہ کے علاوہ اپنا ربّ بنا رکھا ہے اور عیسیٰ ابنِ مریم کو بھی، حالاں کہ انھیں تو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک الٰہ کی عبادت کریں (یعنی ایک حاکم کی اطاعت کریں) حاکم کوئی نہیں سوائے اللہ کے (لیکن وہ اس توحید پر قائم نہیں رہے، انھوں نے علما اور مشائخ کو حاکم بنا کر شرک کیا) اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ ۳۱
خلاصہ یہ ہوا کہ حاکم صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ آخری سند صرف اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ دوسرے کو اطاعت کا مستحق سمجھنا، اس کی رائے اور فتوے کو آخری سند قرار دینا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ یہ شرک فی العبادت ہے، اسے شرک فی الاطاعت بھی کہہ سکتے ہیں اور شرک فی الحکم اور شرک فی التّشریع بھی کہہ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہی حاکمِ حقیقی ہے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت دائمی اور ابدی ہے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت مستقل، غیر مشروط اور لامحدود ہے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت زمان و مکاں کے ساتھ مقیّد نہیں، اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت سے دنیا و آخرت میں فلاح ہے۔
کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہی اصل اطاعت کا مستحق ہے لہٰذا کسی دوسرے کی اطاعت صرف اس حالت میں ضروری ہے جب اس کی اطاعت کا حکم اللہ تعالیٰ خود دے دے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کی بجا آوری کے لیے اپنے رسولوں کی اطاعت کو فرض قرار دیا لہٰذا رسولوں کی اطاعت بحکمِ الٰہی فرض ہے۔
”جماعت المسلمین“ کی ”دعوت“ یہ ہی ہے کہ ہم سب مل کر اللہ اکیلے کو حاکم مانیں۔ حاکمیّت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے تسلیم کریں، صرف اللہ تعالیٰ کے منزّل کردہ قانون پر چلیں، اللہ تعالیٰ کا قانون صرف قرآن و حدیث میں محفوظ ہے، قرآن و حدیث ہی منزّل من اللہ ہیں، ان ہی دو۲ چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل کیا تھا، ان ہی دو۲ چیزوں کو ہم واجب التّعمیل سمجھیں، فرقہ وارانہ مذاہب کو بالائے طاق رکھ دیں، فرقہ بندی کو ختم کردیں، اللہ تعالیٰ ایک ہے، اُس کو ایک حاکم مان کر ایک ہو جائیں۔
”جماعت المسلمین کی دعوت کو قبول فرمایے اور اس کے ساتھ تعاون فرمایے۔“
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
تَلْزَمُ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاِمَامَھُمْ۔
رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
جماعت المسلمین اور اس کے امام کو لازم پکڑنا۔
(صحیح بخاری وصحیح مسلم)
مرکز : مسجدالمسلمین، کھوکھراپار ۲,۱/۲ ملیرٹاؤن، کراچی۔