Dawat e Islah
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دعوتِ اصلاح
”فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ“
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۵۹)
”پھراگر کسی معاملے میں تمھارا اختلاف ہو جائے تو اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس معاملے کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ“
اے لوگو! اللہ تعالیٰ کی کتاب آپ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دین قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے اندر مکمل ہو چکا ہے اور قرآن و حدیث کا علم صحیح طور پر محفوظ ہوکر آپ تک پہنچ چکا ہے لہٰذا آپ قیامت کے دن کے فیصلے کا انتظار نہ کیجیے ۔ قرآن مجید اور صحیح احادیث سے اپنے اختلافات کا فیصلہ کر لیجیے۔ قرآن مجید اور صحیح احادیث کی موجودگی میں اختلافات پر جمے رہنا ایمان کی نشانی نہیں سر جوڑ کر بیٹھیے۔ خلوص اور تقوے کے ساتھ اپنے اختلافات کو قرآن مجید اور حدیث صحیح پر پیش کیجیے ۔ پھر قرآن مجید اور حدیث صحیح سے جو بات حق ثابت ہو اسے تسلیم کیجیے۔ آپ کے اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ آپ ایک راستے پر آجائیں گے، فرقوں کا وجود ختم ہوجائے گا، اتّفاق و اتّحاد کی وہ مسرّت بخش ہوائیں چلیں گی جو نہ صرف آپ کو فائدہ پہنچائیں گی بلکہ دنیا کی تمام اقوام کے لیے رشد و ہدایت کا موجب ہوں گی۔ آپ کے اختلافات اور فرقہ بندیوں نے تبلیغ کا راستہ روک دیا ہے۔ فرقوں کا وجود اسلاؔم کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیتا۔ ہر فرقہ اپنے آپ کو اسلاؔم کا دعویدار کہتا ہے۔ ایسی صُورت میں اسلاؔم کی طرف مائل ہونے والا کدھر جائے۔ وہ کون سے فرقے وارانہ مذہب کو قبول کرے کہ اسے صحیح اسلاؔم مل جائے وہ یہ دیکھ کر کہ اسلاؔم کئی ہیں حیران ہو جاتا ہے اور پھر اسلاؔم کی طرف رُخ نہیں کرتا ۔
اے لوگو! اسے اپنے فرقے وارانہ مذاہب سے روشناس نہ کرایے۔ اسے قرآن مجید اور صحیح حدیث کی دعوت دیجیے اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ خود اس پر عمل کریں اگر آپ ایسا نہ کریں تو یہ قول و فعل میں تضاد ہوگا۔ اٹھیے اور اپنے فرقوں اور فرقہ وارانہ مذاہب کو ختم کر دیجیے۔ اسلؔام پر عمل کیجیے۔ اسلؔام قرآن و حدیث کے اندر ہے نہ کہ باہر۔ آپ سے میدانِ محشر میں قرآن مجید اور حدیث صحیح کے متعلّق سوال ہوگا۔ آپ سے یہ سوال نہیں ہو گا کہ آپ نے فلاں فرقے کے مذہب پر یا مسئلے پر عمل کیوں نہیں کیا۔ آپ قرآن مجید اور صحیح حدیث پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر ان ہی پر عمل کیجیے۔ ایسے مذاہب کو کیوں مانتے ہیں جن کے نتیجے میں ایک اسلؔام کے کئی اسلؔام بن جاتے ہیں۔ فرقہ وارانہ مذاہب کے ساتھ فرقہ وارانہ نام خودبخود ختم ہو جائیں گے اور پھر آپ کا نام صرف ایک ہوگا اور وہ وہی ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے رکھا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔
”هُوَ سَمّٰكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ“
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۷۸)
”اللہ نے تمہارا نام مسلؔمین رکھا ہے۔“
ہمارا بادشاہ، ہمارا حاکم، ہمارا قانون ساز، ہمارا شارع صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ہمارے امام، امام الانبیا محمّد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم ہیں۔ ان ہی کو اللہ تعالیٰ نے ہمارا امام بنایا تھا۔ ان ہی کی اطاعت اور پیروی کو ہم پر واجب کیا تھا۔ دوسرے امام واجبُ الاحترام تو ضرور ہیں لیکن واجب الاتّباع نہیں ہیں۔ ان کی اطاعت اور پیروی کا ہمیں حکم نہیں ملا۔ نہ ان کی اطاعت اور پیروی کے متعلّق ہم سے قبر میں سوال ہوگا اور نہ محشر میں سوال ہوگا۔ ہمارا دین صرف اسلؔام ہے۔ بس اسی کو اختیار کیجیے۔ ہمارا نام صرف مسلؔم ہے بس اسی نام سے اپنے آپ کو متعارف کرایے۔ یہ ہی نسخہ ہے جس پر عمل کرنے سے ہم ایک ہوسکتے ہیں۔ دیکھیے آپس کے اختلافات کا فیصلہ یہاں کتابِ الٰہی سے کر لینا اچّھا ہے۔ اس کو میدانِ محشر کےلیے اٹھا کر نہ رکھیے۔ وہاں کا فیصلہ تو کافروں کے لیے ہی رہنے دیجیے۔ قرآن مجید اور فرامینِ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے مطالعے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان والوں کو یہیں ہدایت مِل جاتی ہے۔ ان کے اختلافات کا فیصلہ یہیں ہو جاتا ہے۔ آپ کے اختلافات کا فیصلہ یہاں نہیں ہورہا تو پھر سوچیے کہ آپ کیا ہیں؟