بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رمضان مبارک


صفحہ۔۱
بسم الله الرّحمٰن الرّحيم
اظہارِعجز
تمام تعریفیں اللہ ربُّ العالمین کے لیے سزا وار ہیں جو ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک ہے، اور لاتعداد درود و سلام ہوں خاتم النبیین محمّد مصطفٰی صلّی اللہ علیہ وسلّم پر جو دینِ اسلام کا تنہا ماخذ اور نبی معصوم ہیں۔
جماعت المسلمین شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے شائع کردہ کتابیں، کتابچے اور اسلام کی دعوت پر مشتمل تحریرات، صرف قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوش نودی کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ جب کوئی بھی شخص اپنے الفاظ میں دین بیان کرتا ہے تو درحقیقت وہ شریعتِ الہٰیّہ کے عربی متن سے اخذ کردہ وہ معنٰی بیان کرتا ہے جو اس نے سمجھا ہو۔ البتّہ کسی بھی شخص سے دلیل کی بنیاد پر اختلاف ممکن ہے۔ کیوں کہ کسی بھی شخص کا فہم پیغمبر کی سطح پر نہیں ہوتا، لہٰذا اس سے غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔
الغرض بشری تقاضوں کی ہمیشہ رعایت رکھتے ہوئے ہم اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کیوں کہ عجز و غلطی سے مبرّا صرف اللہ ربّ العزّت کی ذات با برکات ہے۔ جب کہ ہم غلطی سے مبرّا نہیں ہیں ہم سے کسی خطا یا سہو کا ہو جانا یا احتیاط کے باوجود کتابت یا دورانِ تصحیح، غلطی رہ جانا عین ممکن ہے، البتّہ جب کبھی کرّۂ ارض کا کوئی بھی شخص ہماری غلطی کی نشان دہی کرے گا، تو ہم اس کے نہایت ممنون ہوں گے۔ کیوں کہ ہم ہر آن اپنے ربّ سے توبہ کرنے اور ہر لحظہ اُس کی جانب رجوع کرنے کے لیے بمشیتِ الہٰی اپنے آپ کو تیّار رکھتے ہیں۔
”اے ہمارے ربّ! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دِلوں میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے بغض پیدا نہ کر، اے ہمارے ربّ، تو بہت شفقت کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے“۔ ( الحشر- ۱۰)
آمين يا ذالجلال والاكرام۔
شعبہ نشر و اشاعت
جماعت المسلمین
صفحہ۔۲
بسم الله الرّحمٰن الرّحيم
رمضان مبارک
حمد و ثناء، عظمت و جلالت، بزرگی و کبریّائی، شہنشاهِ عالمین اللہ تعالیٰ کے لیے ہی سزاوار ہے، جس نے رمضان مبارک میں نماز اور زكوٰة کے بعد روزؔے جیسی تیسری عظیم عبادت فرض کی۔ جو یقینًا شکر گزاری کا حقیقی اظہار ہے۔
لاتعداد درود و سلام ہوں خاتم الانبیّا و الرّسل، صاحبِ حوضِ کوثر، شافع المذنبین احمد مجتبیٰ محمّد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلّم پر جنہوں نے ہمیں روزے کے متعلّق مسائل اور فضائل سے آشنا کیا، تاکہ ہم روزے کو ڈھال بناتے ہوئے بُرائی، بے حیائی اور جہالت سے بچ سکیں۔
عربی زبان میں ” صوم “ رک جانے، ترک کر دینے کے معنی میں مستعمل ہے جس کی جمع ”صیام “ ہے البتّہ اصطلاحِ شرع میں یہ لفظ خاص حدود و قیود کے ساتھ کھانے پینے اور جماع سے رک جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، البتّہ اردو زبان میں اس کو ” روزہ “ کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا بندہ، اُس کی رضا و خوش نودی کے خاطر بعض چیزوں کو اپنے اوپر کچھ وقت کے لیے حرام قرار دے کر، اپنے آپ کو مجسّم اطاعت کرتے ہوئے اپنی زبانِ سے یہ اقرار کرتا ہے، کہ اس کے لیے سب سے اہم اُس خالقِ حقیقی کا حکم ہے، لہٰذا بندہ ہونے کی حیثیت سے وہ بے چوں و چرا اُس کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔ روزوں کے مسائل کے علاوہ، اس کی اسی حقیقت کی یہاں وضاحت مقصود ہے، تاکہ عبادت کے ظاہری ڈھانچے کے علاوہ اس کی اصل رُوح کو آشکار کیا جا سکے۔
اللہ کا ہر ایک مسلؔم رمضان کے آنے سے پہلے ہی رمضان کا استقبال کرنے کے لیے اس کا منتظر رہتا ہے، وہ رجب اور شعبان کا ایک ایک دن گن گن کر گزارتا ہے۔ رمضان مبارک کا چاند نظر آ جانے سے اس کی تو عید ہو جاتی ہے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس مادّی دنیا میں فصلوں کے لیے خاص موسم بنائے ہیں، جب کسان ان اوقات اور مہینوں کا خیال رکھتے ہوئے بیج بوتا ہے تو فصل پروان چڑھتی ہے، بصُورتِ دیگر وہ نقصان اٹھاتا ہے، بالکل اسی طرح رُوحانی تسکین کے بعض دینی امور کی انجام دہی کے لیے بھی ہمارے ربّ کی جانب سے خاص موسم، ایّام اور اوقات مقرّر کیے گئے ہیں، جس کے باعث ہمیں
صفحہ۔۳
مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں اور ان اوقات اور ایّام سے صرفِ نظر کرنا ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
مثلاً: جس طرح جمعہ کی ادائے گی کے لیے ایک خاص دن مقرّر ہے، حج کے لیے مخصوص مہینہ اور خاص ایّام منتخب ہیں، وقوفِ عرفہ کا دن متعیّن ہے۔
بالکل اسی طرح روزوں کے لیے بھی ہمارے مالک نے ہمیں نزولِ قرآن مجید کا خاص مہینہ ”رمضان مبارک“ بطورِ تحفہ عطا کیا ہے ۔
:اللہ تعالیٰ کا فرمانِ ذیشان ہے
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَ الْفُرْقَانِ،فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ،وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ،یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِڪُمُ الْعُسْرَ،وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُڪَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰی مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۱۸۵(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۸۵)
رمضان ہی کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، (وہ قرآن عزیز) جس میں (تمام) لوگوں کے لیے رہنمائی ہے اور جس میں ہدایت اور حقّ و باطل میں امتیاز (پیدا) کرنے کے واضح دلائل ہیں لہٰذا جو شخص اس مہینے کو پائے اسے اس مہینے کے روزے رکھنے چاہییں اور جو مریض ہو یا مسافر ہو تو دوسرے ایّام میں (روزے رکھ کر ماہِ رمضان کی) گنتی پوری کر لینی چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت تم کو بخشی ہے اس پر تمھیں اللہ کی بڑائی بیان کرنی چاہیے تاکہ اس طرح تم (اللہ تعالیٰ کا) شکر ادا کرسکو ۱۸۵
اے ایمان والو! رمضان مبارک، اللہ تبارک و تعالیٰ سے قریب ہونے، اُس کا شکر بجا لانے، اپنا احتساب کرنے اور تزکیہ نفس کا مہینہ ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام ہے، جب کہ اللہ عزّوجلّ کے بندوں کی جانب سے روزہ رکھنا بندگی کےعملی اعتراف کا نام ہے۔ روزے کی پُرمشقّت تربیّت، دِلوں میں نرمی، جگر گدازی، شکستگی پیدا کرتی ہے، تاکہ ایمانی کیفیات کے احساس و جذبۂ شکر سے اس کا دِل اللہ تعالیٰ کے خوف سے دہل جائے۔
نفسیاتی اعتبار سے جب کوئی بندہ، عجز و انکساری کی اس حالت میں ہو، تو اپنے ربّ کی عبادت
صفحہ۔۴
سے اس کے اندر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجا لانے کا ایسا جذبہ پیدا ہوتا ہے، کہ جس میں اس کے دِل کی دھڑکنیں بھی شامل ہو جاتی ہیں، اللہ عزّوجلّ کے خوف سے اس کے بدن میں کپکپی پیدا ہوتی ہے، اور اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کو بیان کرتے ہوئے اپنے وجود کو بالکل عاجز یعنی چھوٹا تصوّر کرتا ہے۔
الغرض، ہدایت ربّانی کا حصول! ذِکر و فکر کی شعوری خلوت اختیار کرنے، اللہ کے سامنے گڑگڑانے، ہر آن اپنے ربّ کو یاد کرنے سے ہی ممکن ہے، لہٰذا اس مقدّس مہینے میں سوشل میڈیا کے ہنگاموں، ٹی وی پروگرامز کے شور و غل، بلا مقصد انٹرنیٹ پر سرفنگ یا چیٹنگ، فیس بک پر تضیع اوقات، واٹس ایپ کے بے ہنگم پیغامات اور ویڈیوز سے، اللہ کے لیے اپنے آپ کو دور رکھیں۔
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں
قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، افْترَضَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيْهِ اَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَیُغْلَقُ فِيْهِ اَبْوَابُ الْجَحِيْمِ، وَتُغَلُّ فِيْهِ الشَّيَاطِيْنُ فِيْهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ اَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا، فَقَدْ حُرِمَ۔(أخرجه النسائي ۲۱۰۶، وأحمد ۷۱۴۸واللفظ له و إسناده حسن)
یقینًا تم پر با برکت ماہِ رمضان آن پہنچا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس (مہینے) کے روزے فرض کر دیے ہیں اس (ماہِ مقدّس) میں جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنّم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور (سرکش) شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے البتّہ جو شخص اس (میں عبادت کرنے) سے محروم کر دیا گیا یقینًا وہ ناکام و نامراد رہا۔
اے ایمان والو! ایک مرتبہ پھر اپنی باکمال رحمتوں، بھرپور برکتوں، نہایت شان و جمال کے ساتھ ماہِ رمضان مبارک ہم پر سایہ فگن ہے۔ اس ماہ کا ہر روز روزِ سعید جب کہ ہر شب شبِ مبارکہ ہے۔
یہ مہینہ ذِمّہ دارانہ زندگی گزارنے کی سالانہ تربیّت، خود انضباطی یعنی سلفو ڈسپلن کا مہینہ ہے۔ یہ ماہِ شکر و صبر، موت سے پہلے موت کی فکر کو برانگیختہ کرنے اور اللہ کی جانب سے اپنے بندے کو شفقت سے پکارنے کا مہینہ ہے۔
صفحہ۔۵
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں
اِذَا كَانَ اَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِيْنُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَ فُتِّحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَ يُنَادِیْ مُنَادٍ يَا بَاغِیَ الْخَيْرِ اَقْبِلْ وَيَا بَاغِیَ الشَّرِّ اَقْصِرْ وَلِهِْٰر عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ وَذٰلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ ۔ (أخرجه الترمذی ۶۸۲، وابن ماجه ۱۶۴۲ سنده حسنٗ)
جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش شیاطین اور جنّوں کو قید کر دیا جاتا ہے جہنّم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا جب کہ جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی بند نہیں رہتا اور ایک پکارنے والا یہ اعلان کرتا ہے کہ اے خیر کے متلاشی آگے بڑھ اور اے شر کے متلاشی اب تو باز آجا اور اللہ تعالیٰ جہنّم سے (رمضان کے ہر روز) بہت (سے لوگوں) کو آزاد کر دیتا ہے اور ہر رات یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
بندۂ مومن کی اپنے پروردگار کی بندگی کی، دیوانہ وار جستجو و طلب اس کی زندگی کی اصل بھوک و پیاس ہے۔ اللہ عزّوجلّ کی خوش نودی ہی حقیقی اعتبار سے دِلوں کے لیے سیری اور رگوں کے لیے تری کا باعث ہے۔ یہ ماہِ مقدّس اپنی ذات کے بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے جینے کے عزم، اختیار کے باوجود بے اختیاری، باخوراک زندگی کے بعد بےخوراکی کے تجربے، صبر و برداشت کی تربیّت، عجز و انکساری اختیار کرنے کے حصول کا مہینہ ہے۔
الغرض اللہ ربّ العزّت کے منتخب بندوں کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے کہ وہ اپنے مالک کی اطاعت و رضاجوئی کی خاطر اپنے جسم کی جائز خواہشات اور ضروری مطالبات ترک کر کے گواہی دیں، کہ صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ان کا پروردگار، خالق، مالک، مقصود و مطلوب ہے۔
صفحہ۔۶
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں
الصَّـلَـوَاتُ الـخَــمْسُ، وَالْجُمْعَةُ اِلَى الْــجُـمْعَةِ، وَرَمَـضَـانُ اِلٰى رَمَـضَـانَ، مُـكَـفِّـرَاتٌ مَـا بَيْنَهُنَّ اِذَا اجْـتَـنَـبَ الْـكَـبَائِـرَ. (صحيح مسلم: ۲۳۳)
پانچ۵ نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ، ایک رمضان سے دوسرا رمضان، درمیانی زمانے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں بشرط یہ کہ کبیرہ گناہ نہ کیے ہوں۔
گناہِ کبیرہ کا اِرتکاب اور اس پر سرکشی اللہ تعالیٰ سے بے خوفی کی واضح دلیل ہے اس کے برعکس عبادت انتہائی خشوع، خضوع اور عاجزی پیدا کرتی ہے لہٰذا رمضان مبارک کی عبادات کے بعد کیفیات سے بھری ہوئی خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیجیے اور اپنے گناہوں پر صدقِ دِل سے توبہ کر کے اپنے ربّ کو منا لیجیے کیوں کہ وہ آپ کے بہت قریب ہے اور اسی بات کو واضح کرنے کے لیے سورة البقرة میں رمضان اور روزے کے دوران ذِکر اللہ تعالیٰ نے یقین دہانی کرائی۔
:ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ
وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ،اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ،فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ۱۸۶۸ (سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۸۶)
اور (اے رسول) جب میرے بندے آپ سے میرے متعلّق سوال کریں (کہ میں دور ہوں یا نزدیک) تو کہہ دیجیے: کہ میں نزدیک ہوں، جب دعا کرنے والا مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں، لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ (جس طرح میں ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں) وہ میرے احکام کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ انھیں (دعا کی قبولیّت کے ساتھ) ہدایت بھی مل جائے ۱۸۶
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں
فِتْنَةُ الـــرَّجُـــلِ فِیْ اَهْــلِهٖ وَمَــالِهٖ،ونَفْسِهٖ ووَلَدِهٖ، وَجــَـارِهٖ؛ يُكَـفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلاةُ وَالصَّدَقَةُ، وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ۔ (صحيح مسلم: ۱۴۴)
آدمی کی آزمائش اس کی بیوی، اس کے مال، اس کے نفس، اس کی اولاد، اور پڑوسی میں ہے البتّہ نماز، روزہ اور صدقہ معروف کام کا حکم دینا اور بُرے کام سے روکنا اس (کی کوتاہیوں اور غلطیوں) کا کفّارہ بن جاتے ہیں۔
صفحہ۔۷
مومن“ کے لیے آزمائش ایک ربّانی تجربہ ہے، وہ اس کی حسّاسیّت میں اضافے کا موجب ہے، لہٰذا اس دوران، ذِکر، دعا اور دیگرعبادات کرتے ہوئے جو الفاظ اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں۔ وہ محض رٹے رٹائے الفاظ کی تکرار نہیں ہوتی، بلکہ وہ جملے اعلیٰ تخلیقی نوعیّت کی دعا کا باعث بن جاتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ کو خود سننا محبوب ہوتا ہے۔
الغرض اسلامی عبادات آدمی کے لیے رُوحانی غسل کا کام کرتی ہیں جو اسے بے اعترافی سے اعتراف، احسان فراموشی سے احسان مندی کا سبق پڑھاتے ہوئے بار بار دھو کر پاک و صاف کر دیتی ہیں یہاں تک کہ وہ جنّت کا مستحق قرار پاتا ہے۔
:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَاڪُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّڪُمْ تَتَّقُوْنَ۱۸۳۸۵(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۸۵)
اے ایمان والو! تم پر (ماہِ رمضان) کے روزے فرض کیے جاتے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم (روزوں کے ذریعے) متّقی بن جاؤ ۱۸۳
الغرض روزہ ہر دور میں شریعتِ الہٰی میں شامل رہا ہے لہٰذا روزہ رکھنا اپنے آپ کو شان دار تاریخی تسلسل سے جوڑنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزے دار کے لیے یہ بات نہایت فرحت بخش ہے کہ وہ جو عمل کر رہا ہے وہ روزِ اوّل سے اللہ والوں میں جاری و ساری ہے۔ صوم، شکر اور تقوے کی تربیّت دیتا ہے۔ تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرنا ایک مستقل اصول ہے، اور روزہ اس اصول کا ایک سبق ہے، البتّہ جو روزہ، اللہ کے مسلم میں، اللہ تعالیٰ کا حقیقی ڈر و تقویٰ پیدا کر دے، تو یقینًا یہی روزہ بارگاہِ الہٰی میں مطلوب ہے۔
عام حالات میں پانی اور کھانے جیسی عظیم نعمتوں کا احساس نہیں ہوتا، البتّہ پورا دن، بھوک و پیاس میں گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے مستفید ہونا، ربُّ العالمین کے شکر کا بے پناہ جذبہ ابھارتا ہے، نتیجتًا: روزے دار میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ جس کے باعث وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں سے بچنے کا عہد کرتے ہوئے اس کے احکامات کو بجا لانے کا عزمِ صمیم کرتا ہے۔
صفحہ۔۸
روزے میں کھانے پینے، اور جبلّی تقاضوں سے امتناع، درحقیقت اللہ عزّوجلّ کو اپنے اوپر ہر لحظہ و آن نگراں جاننے اور ماننے کی ایک مشق ہے۔ جس کی وجہ سے آدمی، اپنے نفس کو محکوم کرکے، اس پر بادشاہت کرنے جیسے عمل سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ حیوانی جبلّتوں کو مغلوب کر کے، اسے اپنے آپ پر قابو پانے کی صلاحیّت کا علم ہوجاتا ہے۔ جو ہر موقعے پر اس کے لیے ایک مؤثّر ہتھیار ثابت ہوتی ہے۔ جو حلال کھانا چھوڑ دے بھلا وہ کیسے دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھا سکتا ہے۔ جو پاکیزہ مشروبات سے رک جائے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی کی آبرو کو تار تار کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ جو خود اپنی جائز جسمانی خواہشات سے باز آ جائے، وہ کیوں کر کسی کی عفّت و عِصمت کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
الغرض، روزے کی صُورت میں چند چیزوں کا چھوڑنا، ایمان والے کے لیے ربّ کی نافرمانی کو ترک کرنے، اور اپنے مالک کی ناپسندیدگی سے بچنے کی جہدِ مسلسل میں کامیابی کا ضامن ثابت ہوتا ہے۔ جس کے باعث اس کے لیے نا ختم ہونے والی نعمتوں اور ابدی حیاتِ طیبّہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھول دیا جائے گا۔
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ
قالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهٗ اِلَّا الصِّيَامَ،فَاِ نَّهٗ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِهٖ، وَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَاِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ اَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئذٍ وَ لَا يَسْخَبْ،فَاِنْ سَابَّهٗ اَحَدٌ، اَوْ قَا تَلَهٗ، فَلْيَقُلْ: اِنِّی امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بيَدِهٖ، لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مِنْ رِيْحِ الْمِسْكِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: اِذَا اَفْطَرَ فَرِحَ بفِطْرِهٖ، وَاِذَا لَقِیَ رَبَّهٗ فَرِحَ بِصَوْمِهٖ.( أخرجه البخاري ۱۹۰۴، ومسلم ۱۱۵۱)
اللہ عزّوجلّ فرماتا ہے: کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزوں کے اس لیے کہ وہ یقینًا میرے لیے ہیں لہٰذا میں ہی (خاص طور پر) ان کی جزا دوں گا (بُرائیوں سے بچانے کے باعث) روزے ڈھال ہیں لہٰذا اگر کسی دن تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بے حیائی کی باتیں نہ کرے اور چیخنے چلّانے سے بھی اجتناب کرے پھر اگر کوئی اسے بُرا بھلا کہے یا اس سے لڑے، جھگڑے تو (نہ تو وہ بُرا بھلا کہے اور نہ لڑائی، جھگڑا کرے بلکہ) اس سے کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمّد کی جان ہے روزے دار کے منھ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُشک کی خوش بو سے زیادہ پسندیدہ ہے اور روزے دار کے لیے دو۲ خوشیاں ہیں جس کے باعث اسے خوشی میسّر آتی ہے ایک اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے تو روزہ کھولنا (اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا) اس کے لیے باعث مسرّت ہوتا ہے اور جب وہ اپنے ربّ سے ملاقات کرے گا تو وہ اپنے روزوں (کے اجر و انعام) کے باعث شاداں و فرحاں ہو گا۔
صفحہ۔۹
>بھوک نقاہت، پیاس کی شدّت، طبیعت میں تیزی، چڑچڑاہٹ کے باعث، بعض لوگ روزے سے حصولِ تقویٰ کے بجائے اسے بھڑکانے کا موجب قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنی بیویوں سے بد مزاجی کرتے ہیں، بچّوں پر خفا ہوتے ہیں، زیر دست کام کرنے والوں کو ذرا ذرا سی بات پر جھڑ کتے ہیں، ملازمین سے دشنام طرازی کرتے ہیں اور پڑوسیوں، دکان داروں سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بعض موقعوں پر، وہ اپنے آپ سے کمزور کو مارنے پیٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اس کے بعد اپنے آپ کو یہ سمجھا کر تسلّی دے دیتے ہیں، کہ روزے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
ہمارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اس کا حل یہ بتایا تھا، کہ روزے کو اشتعال کا بہانہ بنانے کے بجائے اسے ” ڈھال “ کے طور پر استعمال کرے۔ جہاں کہیں اشتعال کی وجہ سے غیر معمولی حالات کا سامنا ہو، تو فورًا اس بات کو یاد کرے اور بیان کرے، کہ میرے بھائی ” میں روزے سے ہوں“
لہٰذا ہر روزے دار، غصّے اور اشتعال کے موقع پر یاد دہانی کا، یہی طریقہ اختیار کر لے، تو وہ آخرکار اپنے نفس کو قابو کرنے میں کامیابی حاصل کر لے گا۔ شیطان کے مقابلے میں فتح کا یہ احساس اس کے لیے برتری اور اطمینان کا باعث ہو گا۔ روزے کا یہ سبق، اس کے لیے ہمیشہ کی یاد دہانی اور اصلاح کا پیش خیمہ ثابت ہو گا، نتیجتًا: وہ بے موقع غصّہ کرنے اور بے وقت اشتعال میں آنے سے باز رہے گا۔
غیر شریفانہ اقوال و افعال سے پرہیز ہی درحقیقت، روزے کی اصل رُوح ہے۔ صبر و تحمّل کی اس زندگی کو خود اپنے ارادے سے اختیار کرنے کا نام ہی ”صوم“ ہے۔ جہاں لوگ بحالتِ مجبوری برداشت کر رہے ہوتے ہیں، وہاں روزے دار، اپنے پورے اختیار کے ساتھ اس پسندیدہ طرزِ زندگی کو اپنانے کے لیے باقاعدہ مشقوں میں مصروفِ عمل ہوتا ہے۔ جن چیزوں کو لوگ دباؤ میں آکر چھوڑتے ہیں، ان ہی چیزوں کو یہ اللہ کا منتخب بندہ اصول کی خاطر خیر باد کہہ دیتا ہے۔ جس صابرانہ روش کو لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لیے اختیار کرتے ہیں، اس صبر و استقامت کو یہ اللہ کا محبوب، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنا لیتا ہے۔
صفحہ۔۱۰
الغرض، روزہ کوئی بے رُوح رسم نہیں، بلکہ ایک زندہ تربیّت ہے، جس کا تعلّق ایمان والوں کی پوری زندگی سے جڑا ہوا ہے۔
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ
مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْـعَمَلَ بِهٖ،فَـلَيْسَ لِلّٰهِ حَـــاجَـــةٌ فِیْ اَنْ يَدَعَ طَعَامَهٗ وشَرَابَهٗ.(صحيح البخاري: ۱۹۰۳)
جوشخص غلط گوئی اور غلط کاری نہ چھوڑے تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
کسی شخص یا گروہ کا کسی دوسرے شخص یا گروہ کے متعلّق، قصدًا حقیقت کے خلاف قول و فعل اور رویّہ، جھوٹ کہلاتا ہے جو صداقت کی ضد ہے۔ البتّہ صِدق (یعنی سچّائی) قول و فعل اور ارادے، تینوں کی مطابقت کے لیے کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے مومن بندے کے منھ سے کوئی بھی بات صداقت کے خلاف ادا نہ ہو، اس کے قول و فعل میں کوئی تضاد بھی نہ ہو، اور وہ اپنی ہر بات کو نباہ دے، تو یہی درحقیقت زبان اور عمل کی سچّائی ہے، جس کے ساتھ نیّت اور ارادے کی سچّائی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے۔
جس طرح دِل سے ایمان کی تصدیق کے بغیر، محض زبان سے کلمے کی ادائےگی بے فائدہ عمل ہے، بالکل اسی طرح اپنی اصل رُوح کے بغیر روزہ رکھنا اور اس جیسی تمام عبادات ادا کرنا حقیقی فائدہ نہیں دے سکتیں، محض بھوکا اور پیاسا رہنا روزہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اور اس کا ڈر دِلوں میں پیدا کرنا مقصود ہے۔
جب بعض لوگوں کا روزہ ان کے لیے کھانے پینے اور دیگر مشاغل سے رکاوٹ کا باعث بنتا ہے، تو وہ ان محرومیوں کا مداوا کرنے کے لیے، تاش، لیڈو اور کیرم کھیلنے، ناول، افسانے اور ڈائجسٹ پڑھنے، نغمے، غزلیں اور قوّالیاں سننے، ڈرامے، ویڈیوز اور فلمیں دیکھنے جیسی دِل چسپیاں ڈھونڈ لیتے ہیں، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو دوستوں میں کہیں بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگتے ہیں۔ بھوک میں غیبت کرکے
صفحہ۔۱۱
خالی پیٹ اپنے بھائیوں کا گوشت کھانے میں انھیں بڑی لذّت ملتی ہے۔ دروغ گوئی، طعن و طنز، تعیب و تنقیص، اور ایک دوسرے کی ہجّو کے ساتھ ہی مؤذّن کی اذان سن کر عارضی طور پر، کچھ وقت کے لیے یعنی نماز کے اختتام تک پرہیز شروع کر دیتے ہیں۔
آدمی کے اندر ناپسندیدہ نفسیاتی جذبات بالعموم پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلًا: حسد، غصّہ، نفرت، بغض، غرور و تکبرّ، خود غرضی، مفاد پرستی وغیرہ، بعض موقعوں پر یہ جذبات ابھرتے ہیں اور آدمی کو اپنی طرف کھینچ کر لے جانا چاہتے ہیں، اس وقت ضرورت ہوتی ہے، کہ ایمان والا اسی پرہیز گاری کے اصول پر عمل کرے، جس کی تربیّت ایک انتہائی شان دار اضافی کورس کے ذریعے سے اسے رمضان کے مہینے میں دی گئی تھی۔
اللہ کے بندو ! ان قبیح افعال سے بہتر ہے، کہ آدمی خاموشی کو روزے کا ادب سمجھتے ہوئے اناپ شناپ، الٹی سیدھی لایعنی گفتگو سے محتاط رہے، نیز جھوٹ، غیبت اور بہتان کے معاملے میں تو کوئی لفظ بھی، اپنے منھ سے نہ نکالے۔
لہٰذا یاد رکھیے!! روزے میں کھانے پینے کا علامتی ترک، اس بات کا سبق ہے، کہ آدمی ہر قسم کے جھوٹ، ظلم، ناانصافی اور بُرائی کو چھوڑ دے، وہ کرپشن، بھتّہ خوری، رشوت، تاوان، زمینوں پر ناجائز تسلّط، دہشت گردی اور قتل و غارت گری سے اجتناب کرتے ہوئے، اپنے تمام معاملات میں اخلاقی پابندی کا طریقہ اختیار کرے، کیوں کہ یہ اخلاقی مطالبات بھی عبادات جتنے ہی اہم ہیں، بالخصوص روزے جیسی عظیم عبادت کا مقصد ہی لوگوں کو ان اخلاقی مطالبات کی انجام دہی کے لیے تیّار کرنا ہے، بصُورتِ دیگر جس معاشرے میں مذکورہ قبیح عادات جڑ پکڑ لیں تو یاد رکھیں: کہ اس معاشرے کے لوگ کتنے ہی روزے رکھ لیں، اللہ کے ہاں ان کا کوئی روزہ قبول نہیں ہو گا۔ بلکہ وہ بروزِ قیامت ان کے منھ پر مار دیا جائے گا۔ کیوں کہ مستقل فِسق و فجور میں مبتلا سرکش شخص سچّا روزے دار ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس قسم کا روزہ ایسا ہی ہے۔ کہ کسی نے اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں سے روزہ رکھا، جب کہ اُس کی حرام کی ہوئی چیزوں سے اسے افطار کر لیا ہو۔
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں
رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهٗ مِنْ صِيَامِهٖ اِلَّا الْجُوْعُ، وَ رُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهٗ مِنْ قِيَامِهٖ اِلَّا السَّهَرُ۔(أخرجه النسائي في السنن الكبرى،۳۲۴۹، وابن ماجه ،۱۶۹ واللفظ لهما، وأحمد ،۹۶۸۳، سنده حسن)
بہت سے روزے دار (اپنے روزوں سے) بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتے اور بہت سے (راتوں کو جاگ کر) قیام کرنے والوں کو تھکان کے سوا کچھ میسّر نہیں آتا۔
صفحہ۔۱۲
بعض لوگوں نے رمضان کو خوب کمانے، خوب کھانے، مزا اڑانے، بہار لوٹنے، لذّتوں اور چٹخاروں کا مہینہ بنا لیا ہے۔ روزے کی حالت میں بھوک اور پیاس سے جو خلا پیٹ میں ہوتا ہے، بس ان کے زیادہ تر اوقات اس منصوبہ بندی میں گزرتے ہیں، کہ کن کن نعمتوں سے اس خلا کو پُر کیا جائے۔ افطار پارٹیوں میں انواع و اقسام کے کھانوں سے نفس کی تربیّت کے بجائے محض اس کی پرورش پر توجّہ مرکوز رہتی ہے۔ ذِکر و اذکار کے بجائے زیادہ تر وقت افطار کی تیّاریوں میں صرف کردیا جاتا ہے۔
لہٰذا اپنے آپ میں، کام کرنے کی صلاحیّت باقی رکھنے کے لیے کھانا پینا چاہیے البتّہ اسے جینے کا مقصد ہرگز نہیں بنانا چاہیے۔ گھر والوں کی جانب سے دسترخوان پر بغیر کسی خاص اہتمام کے جو کچھ مل جائے اسی پر اکتفا کرتے ہوئے صبر و شکر کے ساتھ، پسند نہ ہوتے ہوئے بھی گزارا کر لینا چاہیے، اس بات پر ناراض نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اگر اللہ ربُّ العزّت نے آپ کو صاحبِ ثروت بنایا ہے تو اپنے نفس کو پالنے، فربہ کرنے کے بجائے، غریبوں، محتاجوں کی مدد کیجیے اور ان کے کھانے پینے پر خرچ کیجیے، تاکہ آپ صحیح معنوں میں روزے کی برکتوں اور رحمتوں سے مستفید ہو سکیں۔
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ
الصِّيامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ للعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُوْلُ الصِّيَامُ اَیْ ربِّ مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهْوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِیْ فِيْهِ وَيَقُوْلُ الْقُرْآنُ مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِیْ فِيْهِ قَالَ فَيُشَفَّعَانِ(أخرجه أحمد ۶۶۲۷۶واللفظ له، والطبراني ۷۲/۱۴, ۱۴۶۷۲، والحاكم ۲۰۳۶إسناده صحيح )
روزے اور قرآن (عزیز) بروزِ قیامت بندے کے لیے سفارش کریں گے۔ روزے کہیں گے، اے میرے ربّ! میں نے اسے دن میں کھانے اور خواہشات سے باز رکھا لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن (مجید) کہے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے دور رکھا تو لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ پھر ان دونوں کی سفارش (بارگاہِ الہٰی میں) قبول کر لی جائے گی ۔
اے ایمان والو: روزوں اور قرآن مجید کا بہت گہرا تعلّق ہے، لہٰذا رمضان مبارک کے اوقات و ایّام بہت قیمتی ہیں نہ جانے آئندہ سال زندگی ساتھ دے یا نہ دے، لہٰذا اللہ کے لیے ان کی قدر کیجیے، فرصت اور صحّت کو غنیمت جانتے ہوئے نزولِ قرآن مجید کے اس مقدّس مہینے میں، اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کیجیے، اس پر غور و خوض میں وقت لگایے اور کتابُ اللہ کے مطابق اپنی پوری زندگی ڈھال لیجیے ۔
صفحہ۔۱۳
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے
مَنْ اَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَیْءٍ مِنَ الْاَشْيَاءِ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، دُعِیَ مِنْ اَبْوَابِ، يَعْنِیْ الجَنَّةَ، يَا عَبْدَ اللّٰهِ هٰذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصَّلاةِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّلاةِ، ومَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الْجِهَادِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، ومَنَ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، ومَنَ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصِّيَامِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ، وَبَابِ الرَّيَّانِ، فَقالَ اَبُوْبَكْرٍ: مَا عَلٰى هٰذَا الَّذِیْ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْاَبْوَابِ مِنْ ضَرُوْرَةٍ، وَقَالَ: هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا اَحَدٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قالَ: نَعَمْ، وأَرْجُوْ اَنْ تَكُوْنَ مِنْمَْد يَا اَبَا بَكْرٍ.۔(أخرجه البخاري ۳۶۶۶ واللفظ له، ومسلم ۱۰۲۷)
جو شخص جوڑا جوڑا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتا ہے اسے جنّت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا، اے اللہ کے بندے یہ (دروازہ) بہتر ہے (خوش آمدید: غرض یہ کہ) نمازی کو نماز کے دروازے سے، مجاہد کو جہاد کےدروازےسے، صدقہ دینے والے کو صدقے کے دروازے سے، اور روزہ دار کو ریّان کے دروازے سے بلایا جا جائے گا۔ ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کہ اے اللہ کے رسول ہر دروازے سے بلانے کی کوئی خاص ضرورت تو نہیں پھر کیا کوئی ایسا شخص ہے جو تمام دروازوں سے بلایا جائے گا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: اے ابوبکر “ہاں“ اور میں امید کرتا ہوں ان میں سے “تم“ بھی ہو گے۔
اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ شان دار استقبال ان بندوں کو میسّر آئے گا جو جوڑا جوڑا نیکیاں کریں، بھلائی کے ہر پہلو کو ڈھونڈ کر بجا لانے کے لیے پیش پیش رہیں۔ نماز پر مداومت، زكوٰة کی ادائےگی، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جدّوجہد، صدقہ و خیرات، روزے، تلاوتِ قرآن مجید کے ساتھ، سچّائی، دیانت داری، صبر و تحمّل، بردباری، عہد کی پابندی، عدل و انصاف، عفو و درگزر، فواحش سے اجتناب، منکرات سے گریز، اور حق پر استقامت جیسے اوصافِ حمیدہ نہ ہوں، تو تقویٰ و پرہیز گاری کی معنویت معدوم ہو کر رہ جاتی ہے، جو در حقیقت تمام عبادات کی اصل یعنی رُوح ہے۔ قرآن مجید کا حقیقی فیض، اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کے لیے خاص ہے جن کے اندر تقویٰ کی رُوح ہو، اور روزے کی عبادت اس تقویٰ کی تربیّت کا نہایت اہم ذریعہ ہے۔
صفحہ۔۱۴
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے
مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُوْمُ يَوْمًا فِیْ سَبيْلِ اللهِ، اِلَّا بَاعَدَ اللّٰهُ، بِذٰلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِيْنَ خَرِيْفًا.(أخرجه البخاري ۲۸۴۰,مختصراً، ومسلم ۱۱۵۳واللفظ له)
کوئی بندہ ایسا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں (یعنی اللہ کی رضا جوئی کے لیے) ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعالیٰ اس دن (کے روزے کی برکت سے) اس کے چہرے کو آگ سے ستّر سال (کی مسافت کے فاصلے کے برابر) دور کر دیتا ہے۔
محض اللہ کے لیے ضروری چیزیں یعنی کھانے پینے کو چھوڑ دینا نہایت قابلِ آفرین ہے۔ یہ مشقّت طلب عبادت رمضان میں اس لیے فرض کی گئی ہے، تاکہ ہم معمول کے حالات میں یہ سمجھ سکیں، کہ ہمارے ربّ نے ہمیں کس قدر آسان زندگی سے نوازا ہے۔ کھانے پینے سے روک دینا، بظاہر قابلِ فہم نہیں البتّہ یہ انتہائی چیزیں ہیں، جس سے کسی شخص کو روکا جائے، دراصل اس بات سے روزے دار کو یہ سبق دینا مقصود ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے تمہیں روکا ہے، ان سے تمہیں ہر صُورت میں باز آ جانا چاہیے، چاہے اس فہرست میں تمہاری انتہائی ضروری چیزیں ہی شامل کیوں نہ کر دی جائیں، خواہ یہ امر تمہارے ذوق و شوق اور عادتوں پر کتنا ہی گراں کیوں نہ گزرے۔
بعض لوگوں کا حال یہ ہے، کہ وہ روزہ محض اپنے معاشرتی تمدّن اور رسم و رواج کے زیر اثر آنے کے باعث رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں، یعنی روزہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے گھر والوں، دوست احباب، اور ملنے جلنے والوں کی ملامت سے بچنے کے لیے رکھتے ہیں، اور بسا اوقات اپنی دِین داری کا بھرم رکھنے کے لیے یہ مشقّت اٹھاتے ہیں، غرض یہ کہ روزے کی یہ عظیم عبادت ریا کاری کے باعث برباد کر بیٹھتے ہیں۔
صفحہ۔۱۵
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ اِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ۔(أخرجه البخاري ۲۰۱۴، ومسلم ۷۶۰)
جس شخص نے ماہِ رمضان کے روزے ایمان جانتے اور نیکی سمجھتے ہوئے رکھے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جس شخص نے شبِ قدر میں قیام ایمان جانتے اور نیکی سمجھتے ہوئے کیا اس کے بھی گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے
مَن قَامَ رَمَضَانَ اِيْمَانًا واحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ. ( أخرجه البخاري ۳۷، ومسلم ۷۵۹)
نیکی سمجھتے ہوئے رکھے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جس شخص نے شبِ قدر میں قیام ایمان جانتے اور نیکی سمجھتے ہوئے کیا اس کے بھی گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔
نیکی سمجھتے ہوئے رمضان مبارک کے روزے رکھنا، اس کی راتوں میں اللہ کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ کھڑے ہونا اور قیامِ شبِ قدر اور دیگر اعمالِ صالحہ کو دِل کی سچّائی، زبان کی گواہی کے ساتھ انجام دینا، عبدیّت کے احساس کو بیدار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہے، کہ وہ اس کے باعث اپنے بندے کی لغزشوں سے صرفِ نظر کرتا اور اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اس کے برعکس کسی شخص میں عبادتِ مزید کا جذبہ نہ پایا جائے تو سمجھ لینا چاہیے، کہ اس نے ابھی تک عبادتِ الہٰی کا ذائقہ چکھا ہی نہیں ہے۔
لہٰذا، جو عمل بھی آپ کریں خالص اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کے لیے کریں، اپنے آپ پر بھی واضح کرتے رہیں۔ کہ یہ عمل ہم اللہ تعالیٰ کے لیے کر رہے ہیں، کیوں کہ اعمال کی قبولیّت کا انحصار نیّتوں پر ہے۔ ریا کاری شرک ہے اور دکھاوا کرنے والوں کا انجام آخرت میں بہت ہی ہولناک ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:کہ اللہ تعالیٰٰ کا ارشاد ہے؛
قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى: اَنَا اَغْنَى الشُّرَكَاءَ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا اُشْرَكَ فِيْهِ مَعِی غَيْرِی، تَرَكْتُهُ وشِرْكَهُ.(صحيح مسلم: ۲۹۸۵)
میں تمام شرکاء سے زیادہ شرک سے بےپرواہ ہوں، جو شخص بھی ایسا عمل کرے جس میں میرے علاوہ کسی اور کو شریک کرے تو میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔
البتّہ، صوم و صلوٰة کا معاملہ ہو یا تلاوتِ قرآن مجید کا، میدانِ کار زار ہو یا تعلیم و تعلّم، مرحلہ شہادت ہو یا شعبۂ انفاق، اپنے ظاہر و باطن کو یکساں رکھیے۔ نمود و نمائش سے اجتناب کیجیے اور ہمیشہ یاد رکھیے! کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اس شخص کے ہی حصّے میں آئے گی جو اپنے داخلی ارادے اور احساس کے ساتھ محض اللہ تعالیٰ کے لیے سرگرم عمل ہے۔
صفحہ۔۱۶
ریا کاری کے احساس کو ختم کرنے کا بہترین حل، نفلی روزوں میں مضمر ہے لہٰذا فرض روزوں کے علاوہ نفل روزے رکھنے کا بھی اہتمام کیجیے۔
:عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أجْوَدُ مَا يَكُوْنُ فِیْ رَمَضَانَ حِيْنَ يَلْقاهُ جِبْرِيْلُ، وَكَانَ يَلْقاهُ فِیْ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ القُرْآنَ، فَلَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيْحِ المُرْسَلَةِ. (صحيح البخاري: ۶،صحيح مسلم: ۲۳۰۸)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں تو آپ نہایت سخاوت کیا کرتے جس وقت جبریل (علیہ السّلام) آپ سے ملاقات کرتے اور جبریل (علیہ السّلام) تو رمضان کی ہر رات آپ سے ملاقات کیا کرتے اور قرآن مجید کا باہم درس و تدریس کیا کرتے البتّہ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وسلّم) بھلائی کے تمام معاملات میں تیز و تند آندھی سے بھی زیادہ سخی ہو جایا کرتے تھے۔
محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم کی زندگی اہلِ اسلام کے لیے بہترین نمونہ ہے لہٰذا ہمیں آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی زندگی سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا مال اس لیے نہیں کہ ہم اس کے ذریعے سے اپنی بے جا خواہشات کی تکمیل کریں بلکہ خدمتِ انسانیّت اس کا بہترین مصرف ہے۔ ہمیں مال ذاتی آرزوئیں پوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ بھلائی کمانے کے لیے مہیّا کیا گیا ہے۔
اسلام میں ایک ذِمّہ داری ہمیں اللہ کی نسبت سے تفویض کی گئی ہے، جب کہ دوسری ہمیں اللہ کے بندوں کی نسبت سے عائد کی گئی ہے۔ اللہ عزّوجلّ کی نسبت سے ہماری ذِمّہ داری یہ ہے، کہ ہم اُس کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اُس کے عبادت گزار بندے بن جائیں، جب کہ اللہ کے بندوں کی نسبت سے ہماری ذِمّہ داری یہ ہے، کہ ہم انسانیّت کے خیر خواہ بنیں اور ہر موقعے پر ان کے کام آئیں۔
بعض لوگ اس خام خیالی میں ہیں، کہ ہماری جان اور مال کے استعمال کا مصرف محض ہم اور ہمارے بیوی بچّے ہیں، اور وہ اپنا سرمایہ ذاتی حوصلوں کی تسکین اور تمنّاؤں کی بجا آوری میں لٹا کر
صفحہ۔۱۷
:خوش ہوتے ہیں، جب کہ اس کائنات کے پروردگار کا فرمان ہے
یَسْـَٔلُوْنَڪَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ،قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ،وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۲۱۵(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۱۵)
(اے رسول) لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کے راستے میں) کس طرح خرچ کریں، آپ کہہ دیجیے: کہ جو مال بھی تم خرچ کرنا چاہو تو (اسے اچّھی طرح سمجھ لو کہ) اس کے (اصل) مستحق (تمھارے) والدین (تمھارے) قریبی رشتہ دار، یتیم بچّے، مساکین اور مسافر ہیں اور (یہ بات بھی اچّھی طرح ذہن نشین کر لو کہ) تم جو نیکی بھی کرو گے اللہ کو اس کا علم ہو گا (وہ اللہ سے پوشیدہ نہیں رہے گی، لہٰذا ضائع بھی نہیں ہو گی) ۲۱۵
اے لوگو! ماہِ رمضان ہمدردی اور ایثار کا مہینہ ہے، لہٰذا اپنے والدین سے شفقت، مہربانی اور حسنِ سلوک سے پیش آئیں، انھیں نہایت محبّت سے خصوصی تحائف پیش کیجیے۔ دادا دادی، نانا، نانی کو بھی نظر انداز نہ کیجیے۔ اور رشتے داروں، یتیموں، محتاجوں، اور مسافروں پر خرچ کیجیے البتّہ اپنے آپ پر بلا ضرورت خرچ کرنا اور غیروں پر خرچ کرنا، ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہے، اس میں اتنا ہی فرق ہے جتنا دنیا کی ظاہری نظر آنے والی اور آخرت کی نہ نظر آنے والی نعمتوں کے درمیان ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں! کہ بسا اوقات جو چیز ہمارے لیے بظاہر ناپسندیدہ ہو وہی اللہ کی نظر میں بھلائی ہوتی ہے، کیوں کہ وہ ہماری ہمیشہ کی زندگی میں ہمیں فائدہ پہنچائے گی نیز کبھی اس کا بھی امکان ہے، کہ ہمارے لیے جو چیز پسندیدہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بُرائی ہو، کیوں کہ اس کا فائدہ اسی فانی دنیا میں ہے، جب کہ ہمیں اس سے آخرت میں کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔
صفحہ۔۱۸
:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : (آمِيْنَ آمِيْنَ آمِيْنَ) قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ اِنَّكَ حِيْنَ صِعِدْتَ الْمِنْبَرَ قُلْتَ : آمِيْنَ آمِيْنَ آمِيْنَ قَالَ : ( اِنَّ جِبْرِيْلَ اَتَانِیْ فَقَالَ : مَنْ اَدْرَكَ شَهْرَ رَمَضَانَ وَلَمْ يُغْفَرْ لَهٗ فَدَخَلَ النَّارَ فَاَبْعَدَهُ اللهُ قُلْ : آمِيْنَ فَقُلْتُ : آمِيْنَ وَمَنْ اَدْرَكَ اَبْوَيْهِ اَوْ اَحَدَهُمَا فَلَمْ يَبَرَّهُمَا فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَاَبْعَدَهُ اللهُ قُلْ : آمِيْنَ فَقُلْتُ : آمِيْنَ وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهٗ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَمَاتَ فَدَخَل النَّارَ فَاَبْعَدَهُ اللهُ قُلْ : آمِيْنَ فَقُلْتُ : آمِيْنَ۔(صحيح ابن حبان: ۹۰۷ سنده حسن)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ نے (تین۳ مرتبہ) آمین، آمین، آمین کہا، (آپ سے) استفسار کیا گیا: کہ اے اللہ کے رسول جب منبر پر چڑھے تو آپ نے (تین۳ مرتبہ) آمین، آمین، آمین کہا! آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: کہ جبریل میرے پاس آئے تو انھوں نے کہا: کہ جس نے ماہِ رمضان پانے کے باوجود اس کی بخشش نہیں ہوئی تو وہ جہنّم واصل ہوا، اللہ اسے (اپنی رحمت سے) دور کردے۔ جبریل نے کہا: آپ آمین کہہ دیجیے: میں نے کہا: آمین۔ پھر جبریل نے کہا: اور جس شخص نے اپنے والدین یا دونوں میں سے کسی کو پانے کے باوجود ان کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کیا پھر وہ اسی حالت میں مر گیا تو وہ واصلِ جہنّم ہے، اللہ اسے (اپنی رحمت سے) دور کر دے۔ جبریل نے کہا: آپ آمین کہہ دیجیے: میں نے کہا آمین۔ جبریل نے کہا: اور جس شخص کے سامنے آپ کا ذِکر کیا جائے اور آپ پر درود نہ پڑھے اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو وہ واصلِ جہنّم ہے، اللہ اسے (اپنی رحمت سے) دور کر دے۔ جبریل نے کہا: آپ آمین کہہ دیجیے: میں نے کہا: آمین۔
:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَنْ اَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ: اُمُّكَ، ثُمَّ اُمُّكَ، ثُمَّ اُمُّكَ، ثُمَّ اَبُوْكَ، ثُمَّ اَدْنَاكَ اَدْنَاكَ.(صحيح مسلم: ۲۵۴۸) ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول میرے حسنِ سلوک کا کون سب سے زیادہ حق دار ہے؟ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: کہ تمھاری ماں، پھر تمھاری ماں، پھر تمھاری ماں، پھر تمھارا باپ، پھر جو (رشتے میں) سب سے زیادہ قریب ہوں، (پھر جو) سب سے زیادہ قریب ہوں۔
اے لوگو! اپنے قریبی رشتے داروں یعنی اپنے ماں، باپ، بیوی، بچّوں، بھائی، بہنوں، اور چچا، پھوپھی، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، اور خالہ، ماموں، کا بھی خیال رکھیں۔
صفحہ۔۱۹
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْـًٔا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ،وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ،اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَا۳۶(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۳۶)
اور (اے ایمان والو) اللہ کی عبادت کرو اور اُس کے ساتھ ذرا سا بھی شرک نہ کرو، والدین، رشتہ دار، یتیم، مساکین، رشتہ دار پڑوسی، اجنبی پڑوسی، ہم نشین، مسافر اور لونڈی، غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، بےشک اللہ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو متکبّر اور اترانے والا ہو ۳۶
انفاق کی فطری ترتیب یہی ہے، کہ پہلے اپنے قریبی ضرورت مند رشتے داروں سے ابتدا کی جائے۔ پڑوسی رشتے داروں کی ضروریات کا بھی خیال رکھیں۔ یتیموں اور مساکین پر خرچ کرنا بھی نیک عمل ہے۔ جو مسافر کسی بھی بستی میں پہنچ جائے، وہ بھی ضرورت مند ہونے کی صُورت میں مدد کا مستحق ہے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا۸(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ: ۷۶، آیت : ۸)
اور جو کھانے کی خواہش رکھتے ہوئے (اپنا) کھانا مسکین کو، یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے ہیں ۸
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ۱۱ وَ مَاۤ اَدْرٰىڪَ مَا الْعَقَبَةُ۱۲ فَكُّ رَقَبَةٍ۱۳ اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍ۱۴ یَتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ۱۵ اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ۱۶ (سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ/البَلَدِ: ۹۰، آیت : ۱۱تا۱۶)
اور جو کھانے کی خواہش رکھتے ہوئے (اپنا) کھانالیکن وہ گھاٹی سے ہو کر نہ نکلا ۱۱ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ گھاٹی کیا ہے ۱۲ (گھاٹی یہ ہے) غلام کو آزاد کرانا ۱۳ یا بھوک کے دن کھانا کھلانا ۱۴ رشتہ دار یتیم کو ۱۵ یا خاک نشین محتاج کو ۱۶
صفحہ۔۲۰
:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ،فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِ۱۶ كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ۱۷ وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ۱۸ (سُوْرَۃُ وَالفَجْرِ: ۸۹، آیت : ۱۶ تا ۱۸)
اور جب اسے آزماتا ہے اور اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے میرے ربّ نے مجھے ذلیل کر دیا ۱۶ (اللہ بلا وجہ) ہرگز (ایسا) نہیں (کرتا) بلکہ (ایسا اسی وقت کرتا ہے جب) تم یتیم کی عزّت نہیں کرتے ۱۷ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے ۱۸
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں
اَنَـا وَكَافِــلُ الـْـيَـتِـيْمِ فِی الْـجَـنَّةِ هٰكَــذَا وَقالَ: بِإِصْبَـعَيْهِ السَّبَّابَةِ. وَالوُسْطٰى (صحيح البخاري : ۶۰۰۵)
میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنّت میں اس طرح ہوں گے، آپ نے اپنی دو۲ انگلیوں یعنی انگشتِ شہادت اور بیچ کی انگلی کو ملا کر بتایا۔
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں
لَيْسَ الْمِسْكِيْنُ الَّذِیْ يَطُوْفُ عَلَى النَّاسِ تَــرُدُّهُ الــلُّــقْــمَــةُ وَالـلُّقْمَتَانِ،وَالـتَّمْرَةُوَالـتَّمْرَتَانِ، ولَكِنِ الْمِسْكِيْنُ الَّذِیْ لَا يَجِدُ غِـنًى يُــغْــنِـيْهِ، وَلَا يُـفْـطَـنُ بِهٖ، فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُوْمُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ۔ (صحيح البخاري: ۱۴۷۹)
مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کے ہاں چکّر کاٹتا ہے اور ایک لقمہ یا دو۲ لقمے اور ایک کھجور یا دو۲ کھجور لے کر واپس چلا جاتا ہے بلکہ مسکین تو وہ ہے جو اتنا مال نہیں پاتا جو اسے مستغنی کر دے نہ کسی کو اس کا حال معلوم ہوتا ہے کہ اسے صدقہ دے دے اور نہ وہ کھڑے ہو کر لوگوں سے سوال کرتا ہے۔
صفحہ۔۲۱
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں
اِنَّ هٰـذَا الْـمَــالَ خَـضِـرَةٌ حُـلْوَةٌ، فَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا اَعْطَى مِنْهُ الْـمِسْكِيْنَ وَالـيَتِـيْمَ وَابْـنَ السَّبِيْلِ۔ (صحيح البخاري: ۱۴۶۵)
یہ مال ایک میٹھی سبزی ہے تو اس مسلم کا مال (کتنا) اچّھا ہے جس مال میں سے وہ مسکین کو بھی دیتا ہے یتیم کو بھی دیتا ہے اور مسافر کو بھی دیتا ہے۔
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں
مَـنْ كَانَ يُـؤْمِـنُ بِـاللّٰـهِ وَالْـيَـوْمِ الْاۤخِرِ فَلْيُحْسِنْ اِلى جَارِهِ، (أخرجه البخاري: ۶۰۱۹ ومسلم: ۴۸)
جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم ابوذر رضی اللہ عنہ سے :فرماتے ہیں
يَـا اَبَــا ذَرٍّ: اِذَا طَـبَـخْـتَ مَـرَقَــةً، فاَ كْثِرْ مَـاءَهَا، وتَـعَاهَدْ جِيْرَانَكَ. (صحيح مسلم: ۲۶۲۵)
اے ابو ذر، جب تم سالن پکاؤ تو اس میں شوربا زیادہ کر دیا کرو اور اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھا کرو۔
اے لوگو! آسمانوں و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے، انسان کے پاس بھی جو کچھ ہے وہ اُسی کی دین ہے، سب کچھ اللہ کا ہونا اس بات کا متقاضی ہے، کہ انسان اپنے آپ کو اُسی ذاتِ باری تعالیٰ کے سپرد کر دے، اور اُسی کا ہو جائے، لہٰذا اللہ تعالیٰ سے محبّت اور اُس کے بندوں سے ہمدردی کا تعلّق رکھتے ہوئے اس بات کا عملی مظاہرہ کرے، کہ سب کچھ ربّ العزّت کا دیا ہوا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ جہاں ایک طریقے سے خدمتِ انسانیّت ہے، وہاں دوسرے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔
:رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے
الرَّاحِمُوْنَ يَرْحُـمُهُمُ الرَّحْمٰنُ ارْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِی السَّمَآءِ۔ (أخرجه أبو داود ۴۹۴۱والترمذي ۱۹۲۴وأحمد ۶۴۹۴بإسناد حسن)
رحم کرنے والوں پر رحمان رحم کرے گا، تم لوگ زمین والوں پررحم کرو،آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
صفحہ۔۲۲
“الرّ حمٰن“ جو سراسر رحمت ہے اور “الرّ حيم“ جس کی شفقت ابدی ہے، اُس کی بارگاہ میں اپنے آپ کو رحمت کا مستحق بنانا، زمین والوں پر رحم کرنے کی صُورت میں ہی ممکن ہے اور اصولِ زندگی بھی درحقیقت نظامِ رحم پر قائم ہے ۔
ہمیشہ یاد رکھیں: کہ ہم جس نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے امّتی ہیں، وہ “رحمت لّلعالمين“ یعنی تمام جہانوں کے لیے باعثِ رحمت ہیں، لہٰذا ہمیں زمین والوں کے ساتھ رحم دِلی کا سلوک کرنا چاہیے، یہ برتاؤ ہماری رُوحانی تسکین کا باعث بنے گا۔
:عائشہ صدّیقہ طاہرہ مطّہرہ عفیفہ امّ المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
كَانَ رَسُـوْلُ اللهِ صَـلَّى اللهُ عَـلَيْهِ وَسَـلَّمَ يَـجْـتَـهِـدُ فِی الْــعَـشْرِ الْاَوَاخِرِ، مَا لَا يَجْتَهِدُ فِیْ غَيْرِهٖ۔ (صحيح مسلم: ۱۱۷۵)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم (رمضان مبارک کے) آخری عشرے میں جس قدر محنت (شاقّہ سے عبادت) کیا کرتے اس طرح کی (ریاضت) آپ اس کےعلاوہ نہیں کیا کرتے تھے۔
احمد مجتبیٰ محمّد مصطفٰی صلّی اللہ علیہ وسلّم کا آخری عشرے میں اس قدر محنت، ذِکرِ الہٰی میں مشغولیّت، اعمالِ صالحہ کی کثرت کرنا ان تمام ایّام میں اہلِ اسلام کو خیر و بھلائی میں آگے بڑھنے، تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول رہنے، عبادات کے لیے کمربستہ ہونے اور انفاق فی سبیل اللہ کی غیر معمولی رغبت پیدا کرتے ہیں ۔
جب آدمی کسی دوسرے کے لیے اپنے محبّت بھرے اعلیٰ جذبات رکھتا ہے، تو وہ فرض سے آگے بڑھ کر اس کے ساتھ کچھ احسان کرنے کی طلب رکھتا ہے، بالکل اسی طرح بندے کا یہ احساس انتہائی شدّت سے اپنے ربّ کے بارے میں بھی اُبھر آتا ہے، وہ چاہتا ہے، کہ فرض کے علاوہ کچھ مزید نوافل ادا کر کے اپنے پروردگار کے مقرّب بندوں میں شامل ہو جائے۔
مومنین کی ماں عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا:
كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَقُوْلُ: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ. (صحيح البخاري: ۲۰۲۰)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رمضان کے آخری عشرے میں (مسجد میں) فروکش ہو جایا کرتے تھے اور آپ فرماتے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
صفحہ۔۲۳
اعتکاف در حقیقت روزے کا منتہائے کمال ہے۔ یہ اعمالِ صالحہ کو خلوت میں انجام دینے کی اور زیادہ بہترین صُورت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے کسی بندے کو اُس کی بندگی کی یہ توفیق مل جاتی ہے، تو وہ کھانا پینا چھوڑنے کے ساتھ ایک قدم مزید آگے بڑھ کر دنیا سے الگ ہونے، اپنوں سے رابطہ منقطع کرنے اور اللہ کے لیے اُس کے گھر میں گوشہ نشینی اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اور بغیر کسی ناگزیر ضرورت کے مسجد سے باہر بھی نہیں نکلتا، وہ روزے کی پابند زندگی پر مزید پابندیوں کا اضافہ کرتا ہے۔ اپنا گھر، گھر والوں، رشتہ داروں، دوست احباب اور کاروبار حتّٰی کہ اپنی جسمانی خواہشات سمیت دنیا کی تمام ترغیبات چھوڑتے ہوئے سب سے کٹ کر اللہ کا ہو جاتا ہے۔ اس کی صبح و شام نہایت یکسوئی سے اللہ کی یاد اور اہتمام کے ساتھ، اُس کی کتابِ ہدایت کی تلاوت، اس کو بھرپور توجّہ سے سمجھ کر پڑھنے، نماز و نوافل کی ادائےگی میں گزرنے لگتی ہیں۔
اعتکاف سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر اس قدر احسانات ہیں کہ ساری زندگی اسی طرح گزار دی جائے تو بھی اُس کا حق ادا نہ ہو، مگر اُس کی نوازش ہے، کہ اُس نے اس عبادت کو ہم پر فرض نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں اس کے کرنے پر مجبور کیا۔ ہمارا ربّ تو بس ہم سے یہی چاہتا ہے کہ تم میری تمام نعمتوں سے فیض یاب ہو، لیکن مجھے مت بھولو۔ شادی بیاہ کرو، بیوی بچّوں کی خوشیاں سمیٹو، تجارت یا ملازمت کے ذریعے رزقِ حلال کماؤ، دنیا کی زیب و زینت سے بقدرِ ضرورت محظوظ ہو، مگر یہ نعمتیں مہیّا کرنے والے کو یاد رکھو، کیوں کہ تم لوٹ کر اُسی کے پاس جاؤ گے، ایسا نہ ہو کہ اُس ربّ کو بھول جانے کے باعث بروزِ قیامت سوائے ندامت و پشیمانی کے کچھ ہاتھ نہ آئے۔
:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
حٰمٓ۱ وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۲ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا ڪُنَّا مُنْذِرِیْنَ۳ فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍ۴ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا،اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ۵ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّڪَ،اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۶
حٰمٓ ۱ روشن کتاب کی قسم ۲ ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اتارا ہے (تاکہ ہم اس کے ذریعے لوگوں کو بداعمالی کے انجام سے ڈرائیں) بےشک ہم (پہلے بھی) ڈراتے رہے ہیں ۳ اسی رات کو (نظامِ کائنات کے سلسلے میں) تمام حکمت والے کاموں کا فیصلہ ہوتا ہے ۴ (اسی طرح اس رات کو ہم نے) اپنے پاس سے (یہ) حکم (یعنی قرآن نازل فرمایا ہے اور) بےشک (اسی مقصد یعنی ڈرانے ہی کےلیے) ہم رسولوں کو بھیجتے رہے ہیں ۵ (اے رسول، اس کتاب کا نزول) آپ کے ربّ کی طرف سے (دنیا والوں پر ایک بڑی) رحمت ہے، بےشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے ۶
صفحہ۔۲۴
اے لوگو! اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے، لہٰذا شبِ قدر کی اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کو خوب یاد کیجیے ۔
:امّ المومنین عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
قُلتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، اَرَاَيْتَ اِنْ عَلِمْتُ اَیُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؛ مَا اَقُوْلُ فِيْهَا؟ قَالَ: قُوْلِیْ: اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّیْ۔ (أخرجه الترمذي ۳۵۱۳، والنسائي في السنن الكبرى ۷۷۱۲، وابن ماجه ۳۸۵۰، وأحمد ۲۵۳۸۴بإسناد صحيح.)
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (صلّی اللہ علیہ وسلّم) آپ مجھے بتا دیں کہ اگر میں شبِ قدر سے واقف ہو جاؤں تو کون سے کلمات ادا کروں؟ آپ نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّیْ۔اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا مجھے معاف فرما دے ۔
اپنی حاجات کے لیے اپنے ربّ کو پکارنا، اپنی بندگی کے اظہار کے لیے اللہ عزّوجلّ سے دعا کرنا بذات خود ایک عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ زندہ و جاوید ایک وجود ہے، وہ دیکھنے والا، سننے والا اور پوری قوّت رکھنے والا ہے، کہ جو چاہے کرے اپنے پروردگار سے متعلّق یہی یقین، دعا کا جذبہ ابھارتا ہے، تاکہ بندہ اللہ کو پکارتے ہوئے اپنی معافی اور اپنے آپ کو معاف کرنے کا مطالبہ اُس کے سامنے پورے قلبی تعلّق کے ساتھ رکھ دے، یقینًا وہ سننے والا اور بہت معاف کرنے والا ہے۔
صفحہ۔۲۴
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ۱وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ۲لَیْلَةُ الْقَدْرِ،خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ۳ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ،مِنْ ڪُلِّ اَمْرٍ۴سَلٰمٌ،هِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۵ (سُوْرَۃُ اِنَّـا ٓ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ: ۹۷، آیت : ۱تا۵)
ہم نے اس (قرآن) کو عظمت والی رات میں اتارا ۱ اور آپ کو کیا معلوم کہ عظمت والی رات کیا ہے ۲ عظمت والی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے ۳ اس رات کو فرشتے اور روح (الامین) اپنے ربّ کے حکم سے (اپنے ربّ کے) تمام احکام (کو سرانجام دینے) کےلیے نازل ہوتے ہیں ۴ وہ (رات) سلامتی (کی رات) ہے، (اس کی سلامتی اور خیر و برکت) طلوع فجر تک (باقی رہتی ہے) ۵
رمضان مبارک کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیّت یہ بھی ہے، کہ اس میں شبِ قدر جیسی عظیم رات ہے جس کی فضیلت یہ ہے، کہ اس کی ایک رات ایسی ہے جس میں عبادت کرنا ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے، اور جس میں فرشتوں کے ہمراہ روحُ الامین بھی زمین پر آ پہنچتے ہیں، نتیجتًا یہاں ایک خاص رُوح پرور سما بندھ جاتا ہے، جس کے باعث غیر معمولی ایمان افروز کیفیات پیدا ہوتی ہیں، لہٰذا عبادات مناجات کی قدر و قیمت بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا ایمان والوں کو رمضان کے آخری عشرے کی پانچ۵ طاق راتوں میں، جاگ کر شبِ قدر کو پانے کی تڑپ اور اجر و ثواب کے حصول کی لگن ہوتی ہے، کیوں کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے اور وہ اس کی قدر کرتے ہیں۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا، اِنَّڪَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ۔(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۲۷)
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
تَلْزَمُ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاِمَامَھُمْ۔
رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے :فرمایا
جماعت المسلمین اور اس کے امام کو لازم پکڑنا۔
(صحیح بخاری وصحیح مسلم)
مرکز : جماعت المسلمین گیلان آباد، کھوکھراپار ۲,۱/۲ کراچی۔