suْraha Walshamْsi Wazohahahaa
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۹۱ – سُوْرَۃُ وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا –
فہرستِ مضامین
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۱ وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۲ وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۳ وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۴ وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۵ وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۶ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۷ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۸ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۹ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا۱۰
ترجمہ: سورج اور اس کی روشنی کی قسم۱ چاند کی قسم جب وہ سورج کا پیچھا کرے۲ دن کی قسم جب وہ سورج کو ظاہر کرے۳ رات کی قسم جب وہ سورج کو ڈھانک دے۴ آسمان کی قسم اور (اُس ذات کی قسم) جس نے اسے بنایا۵ زمین کی قسم اور (اُس ذات کی قسم) جس نے اسے بچھایا۶ نفس کی قسم اور (اُس ذات کی قسم) جس نے اسے ٹھیک بنایا۷ پھر اسے بدعملی اور پرہیز گاری دونوں چیزیں سمجھا دیں۸ وہ شخص یقینًا کامیاب ہو گا جس نے نفس کو پاک کیا۹ اور وہ شخص یقینًا نامراد ہو گا جس نے اسے خاک میں ملا دیا۱۰
معانی و مصادر: (ضَحٰى) ضَحٰى، يَضْحُوْ، ضَحْوٌ، ضُحُوٌّ و ضُحِیٌّ (ن) ظاہر ہونا ، دھوپ میں آنا ، دھوپ لگنا۔ (ضُحٰی=روشنی ، دھوپ)
(تَلىٰ) تَلَا، يَتْلُوْ، تُلُوٌّ (ن) پیچھے جانا ۔
(جَلّٰى) جَلّٰى، يُجَلِّیْ، تَجْلِيَةٌ (باب تفعیل) کھول دینا ۔
(يَغْشٰى) غَشِیَ، يَغْشٰی، غَشَاوَةٌ (س) ڈھانکنا۔
(بَنٰی) بَنٰى، يَبْنِیْ، بَنْىٌ و بِنْیٌ وَ بِنَاءٌ وبُنْيَانٌ وَبَنْيَةٌ وبِنَايَةٌ (ض) بنانا ۔
(طَحٰى) طَحَا، يَطْحٰى، طَحْوٌ (ف) پھیلانا ، بچھانا، پھیل جانا ۔
(فُجُوْرٌ) فَجَرَ، يَفْجُرُ، فَجَرٌ و فُجُوْرٌ (ن) جھوٹ بولنا، زنا کرنا گناہ کرنا۔
(خَابَ) خَابَ، يَخِيْبُ، خَيْبَةٌ (ض) ناکام ہونا۔
(دَسّٰى) دَسّٰى، يُدَسِّىْ، تَدْسِيَةٌ (باب تفعیل) مٹی میں چھپا دینا ، گاڑ دینا۔
تفسیر: اللہ تعالی فرماتا ہے (وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا) سورج اور اس کی روشنی کی قسم (وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا) چاند کی قسم جب وہ سورج کا پیچھا کرے (وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا)[ دن کی قسم جب وہ سورج کو ظاہر کرے (وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا) رات کی قسم جب وہ سورج کو ڈھانک لے (وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا) آسمان کی قسم اور (اس ذات کی قسم) جس نے اسے بنایا (وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا) زمین کی قسم اور (اس ذات کی قسم) جس نے اسے بچھایا (وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا) نفس کی قسم اور (اس ذات کی قسم) جس نے اسے ٹھیک بنایا (فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا) پھر اسے بدعملی اور پرہیز گاری (دونوں چیزیں) سمجھا دیں ( یعنی اللہ تعالیٰ نے نیک اور بد دونوں راستے بتا دیے اور سمجھا دیا کہ نیک راستہ کے اختیار کرنے کے کیا فوائد ہیں اور بُرا راستہ اختیار کرنے کے کیا نقصانات ہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاڪِرًا وَّ اِمَّا ڪَفُوْرًا۳
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ/الدھر: ۷۶، آیت : ۳)
پھر ہم نے اسے سیدھا راستہ بتا دیا (پھر اسے اختیار دیا کہ وہ) چاہے تو شکر گزار بن جائے یا ناشکرا بن جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِ۱۰
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ/البَلَدِ: ۹۰، آیت : ۱۰)
اور کیا ہم نے اس کو (اچّھے اور بُرے) دونوں راستے نہیں بتائے۔
آگے بطور جواب قسم کے فرمایا (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا) وہ شخص یقینًا کامیاب ہو گا جس نے نفس کو پاک کیا (وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا) اور وہ شخص یقیناً نامراد ہوگا جس نے اسے خاک میں ملا دیا (یعنی جس نے نفس کی پاکیزگی کے لیے عمل کیا وہ تو کامیاب ہوگا، جنّت میں جائے گا اور جس نے نفس کی بربادی کا سامان کیا اور بُرے عمل کیے وہ ناکام و نامراد ہوگا اور دوزخ میں جائے گا۔
عمل
اے ایمان والو! نیک عمل کر کے اپنے نفس کو پاک بنائے ، بُرے عمل سے بچیے۔
ترجمہ: قومِ ثمود نے اپنی سرکشی میں (مست ہو کر اپنے رسول کو) جھٹلایا۱۱ جب ان میں وہ شخص جو سب سے بُرا بدبخت تھا (اونٹنی کو مارنے کےلیے) اٹھا۱۲ تو اللہ کے رسول نے ان سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی (کو ہاتھ نہ لگانا) اس کے پانی پینے (کا خیال رکھنا)۱۳ لیکن انھوں نے رسول کو جھٹلایا اور اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں تو ان کے ربّ نے ان پر ان کے گناہ کے سبب عذاب نازل کیا اور ان سب کو تہس نہس کر دیا۱۴ اور اللہ ان کے بدلہ لینے سے نہیں ڈرتا۱۵
معانی و مصادر: (طَغْوٰى) طَغَا، يَطْغُوْ، طَغْوٌ و طُغْوٌ و طُغْوَانٌ (ن) طَغٰى، يَطْغِى، طَغْىٌ و طُغْيَانٌ(ض) طَغِىَ، يَطْغٰى، طَغْىٌ و طُغْيَانٌ (س)سرکشی کرنا۔(طَغْوٰی= سرکشی)
(اِنْبَعَثَ) اِنْبَعَثَ ، يَنْبَعِثُ، اِنْبِعَاثٌ (باب انفعال) اٹھنا، اٹھانا، کھڑا ہونا۔
(سُقْیٰی) سَقٰى ، يَسْقِىْ، سَقْیٌ (ض) پلانا(سُقْیٰی=پلانا، پانی طلب کرنا)
(عَقَرُوْا) عَقَرَ، يَعْقِرُ، عَقْرٌ (ض) تلوار سے ٹانگیں کاٹ دینا، بانجھ ہونا۔
(دَمْدَمَ) دَمْدَمَ ، يُدَ مْدِمُ ، دَمْدَمَةٌ (باب فعلَلَۃ) ہلاک کرنا، زمین کے برابر کر دینا۔
(عُقْبٰى) عَقَبَ، يَعْقِبُ، عَقْبٌ و عُقُوْبٌ و عَاقِبَةٌ (ض و ن) پیچھے جانا، جانشین ہونا، (عُقْبٰی=انجام، آخرت)
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَاۤ) ثمود نے اپنی سرکشی میں (مست ہو کر اپنے رسول کو) جھٹلایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ڪَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ۲۳ فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ،اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ۲۴ ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ۲۵
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۲۳ تا ۲۵)
(قومِ) ثمود نے بھی (اپنے) ڈرانے والوں کو جھٹلایا۔ کہنے لگے کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک آدمی کی پیروی کریں، اگر ہم ایسا کریں (تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) ہم یقینًا گمراہی اور جنون میں (مبتلا) ہو گئے۔ کیا ہم لوگوں میں بس یہ ہی ایک رہ گئے تھے کہ ان پر نصیحت نازل کی گئی (نہیں، بات یہ نہیں ہے) بلکہ یہ جھوٹے اور شیخی خورے ہیں۔
آگے فرمایا (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا) جب (قوم کے لوگوں نے اپنے ایک رفیق سے اونٹنی کو مارنے کے لیے کہا تو) ان میں سے جو سب سے بُرا بدبخت تھا (اونٹنی کو مارنے پر) آمادہ ہو گیا۔ (فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَا) تو ان سے اللہ کے رسول نے کہا (یہ) اللہ کی اونٹنی (ہے اس کو بُرے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا) اور اس کے پانی پلانے ( کا خیال رکھنا، اس پر پانی بند نہ کرنا ورنہ تم عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۱۵۵ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۱۵۶
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۱۵۵ تا ۱۵۶)
صالح نے کہا یہ اونٹنی (معجزہ) ہے، (ایک مقرّرہ دن) اس کے پانی پینے کی باری ہو گی اور ایک مقرّرہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہو گی۔ اور (دیکھو) اس کو (کسی قسم کی) تکلیف نہ پہنچانا ورنہ بڑے دن کے عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَڪُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْڪُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَڪُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ۶۴
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۶۴)
اور اے میری قوم ، یہ اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے (میری صداقت کی) ایک نشانی ہے، اس کو (آزاد) چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں (جہاں سے چاہے) کھائے اور (دیکھو) اس کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا ورنہ تم بہت جلد کسی عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے۔
آگے فرمایا (فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا،فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا) لیکن انھوں نے (اللہ کے) رسول کو جھٹلایا (ان کا کہنا نہیں مانا) اور اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں (ٹانگیں کاٹنے والا اگرچہ ایک شخص تھا لیکن کیوں کہ پوری قوم نے اسے اکسایا تھا لہٰذا پوری قوم اس کے اس کام میں حکماً شریک تھی) پھر ان کے ربّ نے ان پر ان کے گناہ کے سبب عذاب نازل کیا اور ان سب تہس نہس کر دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ۳۱
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۳۱)
ہم نے ان پر ایک زور دار آواز بھیجی تو وہ ایسے ہو گئے جیسے کسی باڑ والے کی روندی ہوئی باڑ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ۶۷ ڪَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا،اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ،اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۶۸
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۶۷ تا ۶۸)
اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت آواز نے پکڑ لیا پھر ان لوگوں نے ایسی حالت میں صبح کی کہ وہ سب اپنے اپنے گھروں میں گرے ہوئے (مُردہ) پڑے تھے۔ (پھر وہ اس طرح نیست و نابود ہو گئے) گویا وہ کبھی ان (گھروں) میں رہے ہی نہ تھے، خبردار ہو جاؤ ثمود نے اپنے ربّ کے ساتھ کفر کیا، خبردار ہو جاؤ ثمود کو (رحمت سے) دور کر دیا گیا۔
آگے فرمایا (وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا) اور اللہ ان کے بدلہ لینے سے نہیں ڈرتا (اللہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے، اُسے اپنے کام کے بُرے انجام کا اندیشہ نہیں ہوتا، اُس کے تمام کاموں کا انجام اچّھا ہی ہوتا ہے، اُس کا ہر کام ضرورت، حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتا ہے۔ وہ نہیں ڈرتا کہ جس قوم کو میں عذاب سے نیست و نابود کر رہا ہوں یہ مجھ سے بدلہ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے بدلہ کون لے سکتا ہے۔ اُس کے سامنے سب عاجز اور بےبس ہیں)۔