Surah Abasa



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۸۰ – سُوْرَۃُ عَبَسَ –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی۝۱ اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى۝۲ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤی۝۳ اَوْ یَذَّڪَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّڪْرٰى۝۴ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى۝۵ فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰى۝۶ وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰى۝۷ وَ اَمَّا مَنْ جَآءَڪَ یَسْعٰى۝۸ وَ هُوَ یَخْشٰى۝۹ فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى۝۱۰ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْڪِرَةٌ۝۱۱ فَمَنْ شَآءَ ذَڪَرَهٗ۝۱۲ فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ۝۱۳ مَرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ۝۱۴ بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍ۝۱۵ ڪِرَامٍۭ بَرَرَةٍ۝۱۶

<

ترجمہ: (متکبّر کافر نے) تیوری چڑھائی پھر وہ منھ موڑ کر چلا گیا۝۱ جب ان کے پاس ایک نابینا آیا۝۲ (اور اے رسول) آپ کو تو معلوم نہیں شاید یہ نابینا پاکیزگی حاصل کرتا۝۳ یا نصیحت حاصل کرتا تو نصیحت اسے فائدہ دیتی۝۴ لیکن جس شخص نے لاپرواہی برتی۝۵ اس کی طرف آپ نے توجّہ کی۝۶ حالاں کہ اگر وہ پاکیزگی حاصل نہ بھی کرے تو آپ پر کوئی الزام نہیں۝۷ اور جوشخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا۝۸ اور وہ اللہ سے ڈرتا (بھی) ہے۝۹ تو اس کی طرف (لاعلمی کی وجہ سے) آپ نے توجّہ نہیں کی۝۱۰ (بہر حال ایسا) ہرگز نہیں (ہو سکتا کہ کسی متکبّر کی خاطر کسی غریب مسلم کی طرف توجّہ نہ کی جائے) یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۝۱۱ تو جو چاہے اسے یاد کرے (اور اس سے فائدہ اٹھائے، فائدہ اٹھانے کےلیے کسی کی کوئی شرط نہیں مانی جائے گی)۝۱۲ یہ (قرآن) بڑے عزّت والے اوراق میں لکھا ہوا ہے۝۱۳ ان اوراق کو بلندی دی گئی ہے اور وہ (نہایت) پاکیزہ ہیں۝۱۴ وہ (ایسے) لکھنے والوں کے ہاتھ میں (رہتے) ہیں۝۱۵ جو (بڑے) باعزّت اور (بہت) نیک ہیں۝۱۶

<

معانی و مصادر: (عَبَسَ) عَبَسَ، يَعْبِسُ، عَبْسٌ، عُبُوْسٌ (ض) تیوری چڑھانا۔
(تَوَلّٰی) تَوَلّٰی، يَتَوَلّٰی، تَوَلِّیْ (باب تفعل) اعراض کرنا اور چھوڑ دینا۔
(یَزَّ کّٰی) اَزَّ کّٰی، یَزَّکِّیْ، اِزَّ کُّیٌ (باب افعل) پاک ہونا۔
(يَذَّكُرُ) اِذَّ كَّرَ، يَذَّكَّرُ، اِذَّ كُّرٌ (باب افعل) نصیحت حاصل کرنا۔
(تَلَھّٰى) تَلَھّٰى، يَتَلَھّٰى، تَلَھِّیْ (باب تفعل) تغافل برتنا۔
(تَصَدّٰى) تَصَدّٰى، يَتَصَدّٰی، تَصَدِّى (باب تفعل) توجہ کرنا، صدائے بازگشت کی طرح پیچھے پڑنا۔
(سَفَرَةٌ) سَفَرَ، يَسْفُرُ، سَفْرٌ (ن) لکھنا۔ (سَفَرَةٌ= سَافِرٌ کی جمع ، لکھنے والے)۔
(کِرَامٌ) كَرُمَ ، يَكْرُمُ ، كَرَمٌ و كَرَمَةٌ و كَرَامَةٌ (ك) باعزّت ہونا۔(کِرَامٌ =کَرِیْمٌ کی جمع، باعزّت لوگ)
(بَرَرَةٌ) بَرَّ، يَبُرُّ، بِرٌّ و مَبَرَّةٌ (ن) نیکی کرنا۔ (بَرَرَةٌ = بَارٌّ کی جمع، نیک لوگ)

<

شان نزول: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جَآءَ ابْنُ اَمِّ مَكْتُوْمِ اِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَيُكَلِّمُ اُبَیَّ ابْنَ خَلَفٍ فَاَعْرَضَ عَنْهُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَبَسَ وَتَوَلّٰى۔
(مسند ابو یعلی جزء ۵ صفحہ ۴۳۲، حديث : ۳۱۱۱ / ۳۱۲۳ سندہ صحیح)
(حضرت) ابن مکتوم رضی اللہ عنہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس آئے ۔ آپؐ اس وقت ابی بن خلف سے بات کر رہے تھے۔ ابی نے ابن ام مکتومؓ کی طرف سے منھ موڑا (تیوری چڑھائی اور منھ موڑ کر چل دیا) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے عَبَسَ وَتَوَلّٰى کے الفاظ نازل فرمائے (یعنی اے رسول) اس نے تیوری چڑھائی، پیٹھ موڑی اور (آپؐ کو چھوڑ کر) چلا گیا۔
تفسیر: رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کفّارِ مکّہ کے ایک سردار ابی بن خلف کو تبلیغ کر رہے تھے۔ اسی اثنا میں
(عَبَسَ وَتَوَلّٰى، اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى) (ایک غریب اور) نابینا (مسلم) رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس (دین سیکھنے کے لیے) حاضر ہوئے۔ ابی بن خلف نے تیوری چڑھائی اور پیٹھ موڑ کر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو چھوڑ کر چلا گیا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ابی کو پھر مخاطب کیا لیکن وہ کب مانے والا تھا نہیں لوٹا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤی) (اے رسول! اس کے جانے کا غم نہ کیجیے، وہ تو نہیں مانے گا) آپ کو علم نہیں شاید یہ نابینا پاکیزگی حاصل کرے (اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى) یا نصیحت حاصل کرے تو نصیحت اس کو فائدہ پہنچائے (اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى، فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰى) لیکن وہ شخص جو (دین سے) لاپرواہ ہے آپ نے تو (اس کے پیٹھ موڑنے کے بعد بھی صدائے بازگشت کی طرح) اس کی طرف توجہ دی (آپؐ اس کی فکر نہ کریں) (وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰ) (اگر وہ ایمان نہیں لاتا) اور پاکیزگی حاصل نہیں کرتا تو آپ پر (اس کی) کوئی ذِمّہ داری نہیں (وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰى،وَ هُوَ یَخْشٰى،فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى) لیکن جو شخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور وہ اللہ سے ڈرتا بھی ہے (تو اس بے ایمان شخص کے ایمان لانے کی توقع میں) آپ نے اس کی طرف توجہ نہیں کی (کَلَّا) (ایسا) ہرگز نہیں (ہو سکتا کہ کسی کافر متکبّر شخص کی خاطر کسی غریب مسلم کی طرف توجہ نہیں کی جائے)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم بڑے شدّ و مد سے تبلیغ کرتے تھے۔ آپ کو اپنے فرض کی ادائے گی کا بڑا خیال تھا۔ اللہ تعالیٰ کا کلمہ سر بلند کرنے کی کوشش میں آپ بےحد مصروف رہا کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ لَڪَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا۝۷
(سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّلِ: ۷۳، آیت : ۷)
(اے رسول) دن کے وقت تو آپ بڑی بڑی دیر تک دوسرے کاموں میں مصروف رہا کریں گے۔
ایک طرف تو آپ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی پسند میں گم تھے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے بندوں کے غم میں گھلے جا رہے تھے۔ آپؐ کی خواہش تھی کہ تمام انسان ایمان لے آئیں اور عذابِ الہٰی سے بچ جائیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤی اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا۝۶
(سُوْرَۃُ الْکَـھْـفِ: ۱۸، آیت : ۶)
(اے رسول) اگر یہ لوگ اس کلام پر ایمان نہیں لاتے تو آپ ان کے پیچھے رنج کرتے کرتے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دیں گے (اے رسول، آپ کو رنج کرنے کی ضرورت نہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُڪَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ،
(سُوْرَۃُ فَاطِرٍ : ۳۵، آیت : ۸) تو (اے رسول) ان پر افسوس کرتے کرتے کہیں آپ کی جان پر نہ بن جائے،
معاشرہ میں عموماً بڑے لوگوں کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خواہش تھی کہ کسی طرح بڑے لوگ ایمان لے آئیں تو غریب لوگوں کا ایمان لانا آسان ہو جائے۔ بڑے لوگ عموماً دین کی طرف توجہ نہیں کرتے، دینی محافل میں آکر بیٹھنے کو کسرِ شان سمجھتے ہیں، حق کی مخالفت میں سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔ رؤسائے قریش کا بھی یہ ہی حال تھا۔ وہ خود ہی محافل میں شرکت نہیں کرتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی شرکت سے روکتے تھے۔ غربا کے ایمان کے سلسلے میں وہ سدِّ راہ بنے ہوئے تھے۔ ایسے حالات میں اگر بڑے لوگ دینی محفل میں آکر بیٹھ جائیں تو ان کو تبلیغ کرنے کا ایک سنہری موقع حاصل ہوجاتا ہے۔
شانِ نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش کا ایک بڑا رئیس رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی باتیں سن رہا تھا۔ ایسے حالات میں بڑی توقع تھی کہ وہ ایمان لے آئے گا اور اس کو دیکھ کر کچھ غریب لوگ بھی ایمان لے آئیں گے۔
اللہ تعالیٰ کے کلمے کی سر بلندی اور اس کے بندوں کی عذابِ الہٰی سے نجات کی خواہش یہ ایسا حسین جذبہ تھا کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ابن امّ مکتوم کی طرف توجہ نہیں کی۔ آپؐ برابر اپنے فرضِ منصبی کی ادائے گی میں ہمّہ تن مصروف رہے اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس سنہری موقع کو ضائع کرنا نہ چاہا۔
مزید برآں ممکن ہے آپؐ نے یہ سوچا ہو کہ جو شخص دوزخ سے نجات حاصل کرنے کا سامان کر چکا اس کے لیے مزید کوشش کرنے سے یہ بہتر ہے کہ اس شخص کے لیے کوشش کی جائے جو دوزخ کی طرف چلا جا رہا ہو۔ انسانی ہمدردی کے حسین جذبے سے اس کو دوزخ سے بچایا جائے۔ اسی لیے آپؐ اسی کی طرف متوجّہ رہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے قلب مبارک میں کتنے قیمتی جذبات تھے یا ہوں گے کہ ان جذبات کی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے۔ آپؐ کو نہیں معلوم کہ ایسے قیمتی موقع پر بھی ایک مسلم کی طرف بے توجّہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر چیز نہیں۔
(وَمَا یُدْ رِیْكَ) میں اسی علم کی نفی ہے۔ علم کی نفی اس لیے تھی کہ اس واقعے تک اس سلسلے میں کوئی ہدایت نازل نہیں ہوئی تھی اور نہ آپؐ کو علم غیب ہی تھا کہ آپؐ کو خود بخود اس چیز کا علم ہو جاتا۔ آپؐ کو جو علم تھا وہ یہ ہی تھا کہ تبلیغ اللہ تعالی کو بہت پسند ہے اور آپؐ کے فرائضِ منصبی میں سے ہے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے قلب مبارک میں جو حسین و جمیل جذ بہ تھا اس جذبے کی خوبی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو پسند نہیں کیا کہ کفّار کے ایک رئیس کو جو تبلیغ کی جا رہی تھی اس تبلیغ کو اس کے اسلام قبول کرنے کی خوشنما خواہش اور امید میں کسی مسلم پر ترجیح دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو زیادہ پسند کیا کہ مسلم کی رعایت کی جائے، اس کو اہمیّت دی جائے خواہ کافروں کو نا گوار ہی کیوں نہ گزرے۔ مسلم کو نظر انداز نہ کیا جائے خواہ کفّار ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلم اداس ہو جائے اور اسے صدمہ پہنچے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اپنے علم کی بنیاد پر دین کی خاطر جس چیز کو اچّھا سمجھا اسے اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر جو کچھ اچّھا سمجھا اس کی نصیحت کر دی۔ اور وہ بھی حکایتًا کی صراحتًا کوئی حکم نہیں دیا۔ اس چیز کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہوسکتا ہے کہ کون نصیحت حاصل کرے گا اور کون نہیں کرے گا۔ جو ترکِ اولیٰ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے ہوا وہ علم غیب نہ ہونے کی وجہ سے ہوا۔ علم حاصل ہونے سے پہلے جو ترک اوّل یا کوتاہی ہو جائے وہ قابلِ گرفت نہیں ہوتی یہ ہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے پیارے انداز میں بہتر کام یعنی اپنی پسند کی نشاندہی کر دی۔
اللہ تعالیٰ کی فہمائش کا منشا یہ تھا کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اس شخص کی فکر نہ کریں جو لاپرواہی برتتا ہے بلکہ اس شخص کا خیال رکھیں جو تیزی کے ساتھ آکر ہدایتِ مزید کا طلب گار ہوکر سوال کرتا ہے۔ کس خوبی سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو نصیحت کی۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جو مظاہرہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی خوش نودی اور اللہ کے دین کی سر بلندی کے جذبے سے سرشار ہو کر کیا۔ کسی ایک کام کا بہتر ہونا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ آپؐ نے جو کچھ کیا وہ بُرا تھا۔ بات صرف اتنی سی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک محبوب کام کے مقابلے میں زیادہ محبوب کام کی ہدایت کی اور بس۔ محبوب کام کے مقابلے میں محبوب تر کام کو اختیار کرنے کی ہدایت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا
(كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ) (رؤسا کی یہ خواہش کہ غربا کو دور کر دیا جائے) ہرگز نہیں (مانی جاسکتی) یہ تو ایک نصیحت ہے (فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗ) تو جو چاہے (اپنی اصلاح کے لیے) اسے یاد کرے (اور جو چاہے اسے بھلا دے اور جو شخص اس کو بھلا دے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ قرآن مجید کی عزّت و عظمت میں کوئی فرق نہیں آئے گا) (فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ) وہ تو بڑے عزّت والے اوراق میں (لکھا ہوا) ہے (مَرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ) جن کو بلندی دی گئی ہے اور جو (نہایت) پاکیزہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌ۝۴۱
(سُوْرَۃُ حٰمٓ السَّجْدَۃِ : ۴۱، آیت : ۴۱)
بےشک یہ کتاب تو بڑی باعزّت کتاب ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ۝۷۵ وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ۝۷۶ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌ۝۷۷ فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ۝۷۸
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۷۵ تا ۷۸)
(اور اے لوگو) میں تاروں کی منزلوں کی قسم کھاتا ہوں۔ اور اگر تم سمجھو تو یہ (بہت) بڑی قسم ہے۔ بےشک قرآن بہت باعزّت کتاب ہے۔ پوشیدہ کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (مکتوب ہے)۔
آگے فرمایا (بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍ) (قرآن مجید کے اوراق ایسے) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں (رہتے) ہیں جو (كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ) (بڑے) باعزت اور (بہت) نیک ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۝۷۹
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۷۹)
اس کو صرف پاک لوگ ہاتھ لگاتے ہیں۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی عظمت کو بیان کیا ہے۔ منشائے الہٰی یہ ہے کہ اس عظمت کے باوجود اگر کوئی شخص اس سے تغافل برتتا ہے تو وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لکھنے والوں کی بھی تعریف کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ باعزّت اور بڑے نیک لوگ ہیں یعنی صحابہ کرامؓ میں سے جو لوگ وحی کی کتابت کرتے تھے وہ بڑے نیک اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے باعزّت ہیں۔
عمل
اے ایمان والو! اگر کوئی مسلم جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور جس کو آخرت کی فکر ہو دینی معلومات کے لیے آپ کے پاس آئے تو آپ اس کی طرف توجّہ دیں اور اس شخص کو نصیحت کرنا چھوڑ دیں جو دین و ایمان سے لا پرواہ ہو۔ جس شخص کو دین کی کوئی پرواہ نہیں اس کی خاطر کسی مسلم سے بے رخی نہ برتیں۔
اے ایمان والو! قرآن مجید کی تعظیم کیا کیجیے۔ اس کو کسی بلند مقام پر عزّت و احترام کے ساتھ رکھا کیجیے۔
اے ایمان والو! قرآن مجید کی نصیحتوں کو ہر وقت یاد رکھئیے اور ان پر عمل کیا کیجیے۔

<
قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَڪْفَرَهٗ۝۱۷ مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ۝۱۸ مِنْ نُّطْفَةٍ،خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗ۝۱۹ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗ۝۲۰ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ۝۲۱ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗ۝۲۲ كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ۝۲۳ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤ۝۲۴ اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا۝۲۵ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۝۲۶ فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّا۝۲۷ وَ عِنَبًا وَّ قَضْبًا۝۲۸ وَ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًا۝۲۹ وَ حَدَآىِٕقَ غُلْبًا۝۳۰ وَ فَاكِهَةً وَّ اَبًّا۝۳۱ مَتَاعًا لَّڪُمْ وَ لِاَنْعَامِڪُمْ۝۳۲ فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ۝۳۳ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِ۝۳۴ وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِ۝۳۵ وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِ۝۳۶ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِ۝۳۷ وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ مُّسْفِرَةٌ۝۳۸ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ۝۳۹ وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌ۝۴۰ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ۝۴۱ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۝۴۲
<

ترجمہ: انسان برباد ہو گیا، وہ کفر میں کس قدر شدید ہے۝۱۷ (اللہ نے) اسے کس چیز سے بنایا؟۝۱۸ نطفے سے، اللہ نے اس کی تخلیق کی پھر اس کا اندازہ مقرّر کیا۝۱۹ پھر (بطنِ مادر سے باہر نکلنے کا) راستہ اس پر آسان کر دیا۝۲۰ پھر اسے موت دی اور قبر میں دفن کیا۝۲۱ پھر جب چاہے گا اسے (دوبارہ) زندہ کرے گا۝۲۲ (وہ) ہرگز (فلاح) نہیں (پا سکتا، اس لیے کہ) جوحکم اس کو دیا گیا تھا وہ اس نے پورا نہیں کیا۝۲۳ انسان کو چاہیے کہ (ذرا) اپنے کھانے کی طرف نظر کرے۝۲۴ ہم نے پانی برسایا۝۲۵ پھر ہم نے زمین کو پھاڑا۝۲۶ پھر ہم نے اس میں غلّہ اگایا۝۲۷ انگور اور سبزیاں (اگائیں)۝۲۸ زیتون اور کھجوریں (اگائیں)۝۲۹ گھنے باغ۝۳۰ میوہ (اگایا) اور چارہ (اگایا)۝۳۱ (یہ سب کچھ) تمھارے اور تمھارے جانوروں کےلیے (پیدا کیا)۝۳۲ تو جب شور مچانے والی آئے گی۝۳۳ اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۝۳۴ اپنی ماں اور اپنے باپ سے (بھاگے گا)۝۳۵ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (بھاگے گا)۝۳۶ ہرشخص کی اس دن ایسی حالت ہو گی کہ وہ حالت اسے (سب سے) بے نیاز کر دے گی۝۳۷ بہت سے چہرے اس دن چمک رہے ہوں گے۝۳۸ خنداں و شاداں ہوں گے۝۳۹ بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۝۴۰ ان پر سیاہی چھا رہی ہو گی۝۴۱ یہ (چہرے) کافر وں، بدکار وں کے ہوں گے۝۴۲

<

معانی و مصادر: (اَكْفَرَ) اَكْفَرَ، يُكْفِرُ، اِکْفَارٌ (باب افعال) کسی کو کفر کی طرف نسبت دینا، ایمان و اطاعت کے بعد کفر اور نافرمانی سے چمٹ جانا۔ (مَا اَ كْفَرَہٗ) یہ تجبر کا صیغہ ہے۔ اس کے معنی ہیں وہ کفر میں کتنا شدید ہے)۔
(يَسَّرَ) يَسَّرَ ، يُیَسِّرُ ، تَيْسِيْرٌ (باب تفعیل) آسان کرنا۔
(اَنْشَرَ) اَنْشَرَ، يُنْشِرُ، اِنْشَارٌ (باب افعال) زندہ کرنا۔
(صَبَبْنَا) صَبَّ، يَصُبُّ، صَبٌّ (ن) برسانا ، ڈالنا۔
(حَبًّا) حَبًّا = دانہ غلہ۔
(قَضْبٌ) قَضَبَ، يَقْضِبُ ، قَضْبٌ (ض) سبزی کاٹنا۔ (قَضْبٌ=قَضِیْبٌ کی جمع سبزیاں)
(غُلْبٌ) غَلِبَ، يَغْلَبُ، غَلَبٌ (س) گردن کا موٹا ہونا ۔ (غُلْبٌ=اَغْلَبُ اور غَلْبَاءُ کی جمع ، بہت درخت والا)
(اَبٌ) اَبٌ=گھاس۔
(صَآخَّةٌ) صَخَّ، يَصُخُّ، صَخٌ و صَخِيْخٌ (ن) سخت آواز کرنا (صَآخَّةٌ=شدید آواز جو بہرا کر دے)
(شَأْنٌ) شَأَنَ، يَشْأَنُ، شَأْنٌ (ف) قصد کرنا ، حال ہونا۔ (شَأْنٌ=[/arb][urdu]حکم، کام، حال)
(مُسْفِرَةٌ) اَسْفَرَ، يُسْفِرُ، اِسْفَارٌ (باب افعال) کھولنا، روشن کرنا، چمکنا۔ (مُسْفِرَةٌ=روشن)
(مُسْتَبْشِرَةٌ) اِسْتَبْشَرَ، يَسْتَبْشِرُ، اِسْتِبْشَارٌ (باب استفعال) خوش ہونا۔
(غَبَرَةٌ) غَبَرَ، يَغْبُرُ، غُبُوْرٌ (ن) غبار پہنچنا ٹھہرنا، گرد آلود ہونا، گزرنا۔ (غَبَرَةٌ=غبار)
(تَرْهَقُ) رَهِقَ ، يَرْهَقُ ، رَهَقٌ (س) ہلکا ہونا، ظلم کرنا، قریب ہونا ، چھانا۔
(قَتَرَةٌ) قَتَرَ، يَقْتُرُ، قَتْرٌ و قُتُوْرٌ (ن و ض) رزق تنگ کرنا، ملانا (قَتَرَةٌ=غبار، سیاہی)
(كَفَرَةٌ) كَفَرَ، يَكْفُرُ، كُفْرٌ و كَفْرٌ و كُفُوْرٌ وكُفْرَانٌ (ن) ڈھاکنا، چھپانا، کفر کرنا۔ (كَفَرَةٌ=کَافِرٌ کی جمع)
(فَجَرَۃٌ) فَجَرَ، يَفْجُرُ،فُجُوْرٌ (ن) جھوٹ بولنا، زنا کرنا گناہ کرنا۔(فَجَرَۃٌ=فَاجِرٌ کی جمع)

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗ) انسان برباد ہو گیا وہ کفر میں کتنا شدید ہے (مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ) (اللہ نے) اسے کس چیز سے بنایا (مِنْ نُّطْفَةٍ، خَلَقَهٗ فَقَدَّرَہٗ) نطفے سے (جو بہت ہی حقیر چیز ہے) اللہ نے اس کو بنایا (ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗ) پھر اس ( کی ہر چیز اور ہر کام) کا ایک اندازہ مقرّر کیا (یعنی رزق ، زندگی وغیرہ کا ایک اندازہ مقرّر کیا) (ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ) پھر اسے موت دی اور قبر میں دفن کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُڪُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰی۝۵۵
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۵۵)
(اے لوگو) ہم نے تم کو زمین ہی سے پیدا کیا ہے، زمین ہی میں تم کو لوٹا دیں گے اور پھر زمین ہی سے تم کو (زندہ کر کے) دوبارہ نکالیں گے۔
آیت زیر تفسیر اور مندرجہ بالا آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ زمین میں دفن کراتا ہے۔ دفن کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا اس لیے کہ
۱۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین میں دفن کیا جاتا ہے۔
۲۔ فاعل حقیقی وہ ہی ہے، اگر چہ وہ تمام کام انسانوں ہی سے کراتا ہے۔ مثلاً
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلرَّحْمٰنُ۝۱ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۝۲
(سُوْرَۃُ الرَّحْمٰنِ : ۵۵، آیت : ۱ تا ۲)
رحمٰن (ہی ہے)۔ (جس نے) قرآن کی تعلیم دی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۝۴ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۝۵
(سُوْرَۃُ اِقْرَاْبِاسْمِ رَبِّـكَ الَّذِیْ خَلَقَ: ۹۶، آیت : ۴ تا ۵)
(وہ ہی ہے) جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔ (اور) انسانوں کو وہ باتیں سکھائیں جن کو وہ نہیں جانتا تھا۔
قرآن مجید اور تمام علوم و فنون کی تعلیم انسان دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کاموں کے فعل کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ اسی طرح تدفین کا کام انجام تو انسان دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے (فاعل حقیقی ہونے کی وجہ سے) اس فعل کو اپنی طرف منسوب کر لیا۔
انسان کی پیدائش کا ذِکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ۝۱۲ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّڪِیْنٍ۝۱۳ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا،ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ،فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ۝۱۴ ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَ۝۱۵
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۱۲ تا ۱۵)
اور (اے رسول) ہم نے انسان کو مٹّی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس کو نطفے کی شکل میں ایک محفوظ مقام میں رکھا۔ پھر نطفہ کا لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی، پھر بوٹی کی ہڈّیاں بنائیں، پھر ہڈّیوں پر گوشت چڑھایا، پھر ہم نے اس کو (بالکل ہی) دوسری مخلوق کی شکل میں بنا دیا، (واقعی) اللہ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے (بہت) بابرکت ہے۔ پھر اس (پیدائش) کے بعد تم ضرور (ایک دن) مرنے والے ہو۔
آگے فرمایا
(ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗ) پھر جب چاہے گا اسے (دوبارہ) زندہ کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کے مختلف ادوار کا ذِکر کیا اس ذِکر سے اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ جب یہ سب کام میں کرتا ہوں تو میرے لیے کیا مشکل ہے کہ میں انسان کو دوبارہ پیدا نہ کر سکوں۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین سے ثابت کر دیا کہ انسان دوبارہ زندہ ہوں گے اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ وہ قادر ہے، وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
آگے فرمایا
(كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ) (انسان) ہرگز (فلاح) نہیں (پاسکتا، اس لیے کہ) جو حکم اس کو دیا گیا تھا وہ اس نے پورا نہیں کیا (فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤ) اسے چاہیے کہ ذرا اپنے کھانے کی طرف نظر کرے (اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا) پانی ہم نے برسایا (ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا) پھر زمین کو ہم نے پھاڑا ( یعنی دانہ زمین کو پھاڑ کر باہر نکلا) (فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّا) پھر اس میں غلہ ہم نے اگایا (وَ عِنَبًا وَّ قَضْبًا) انگور اور سبزیاں ہم نے (ہم نے اگائیں) (وَ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًا) زیتون اور کھجوریں (ہم نے اگائیں) (وَ حَدَآىِٕقَ غُلْبًا) گھنے باغ (ہم نے پیدا کیے) (وَفَاكِهَةً وَّ اَبًّا) میوہ اور چارہ (ہم نے پیدا کیا) (مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ) (میوہ) تمھارے فائدے کے لیے اور (چارہ) تمھارے جانوروں کے فائدے کے لیے (جب یہ سب کچھ ہم انجام دے رہے ہیں تو یہ کیا انسان کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتے۔ یقیناً ہم انسان کو دوبارہ پیدا کر سکتے ہیں)۔
انسان کی پیدائش اور اس کی تمام ضروریات کی چیزوں کو پیدا کرنے کا ذِکر کر کے اللہ تعالیٰ نے انسان کی دوبارہ پیدائش پر دلیل قائم کی۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ۝۵۷ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ۝۵۸ ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ۝۵۹ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَڪُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ۝۶۰ عَلٰۤی اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۶۱ وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰی فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ۝۶۲ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ۝۶۳ ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ۝۶۴ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَڪَّهُوْنَ۝۶۵ اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ۝۶۶ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ۝۶۷ اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ۝۶۸ ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ۝۶۹ لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ۝۷۰ اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ۝۷۱ ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِـُٔوْنَ۝۷۲ نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ۝۷۳
[(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۵۷ تا ۷۳)
(اے کافرو) ہم تمھیں (پہلی بار) پیدا کر چکے ہیں تو تم (ہمارے دوبارہ پیدا کرنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے؟۔ بتاؤ جس (نطفے) کو تم ٹپکاتے ہو۔ کیا اس (سے انسان) کو تم بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں۔ ہم نے تم (لوگوں) میں موت کو مقدّر کر دیا ہے اور ہم عاجز نہیں۔ کہ تمھارے مثل تمھاری جگہ اور لوگ لے آئیں اور تم کو ایسی شکل میں پیدا کر دیں جس سے تم (قطعًا) ناواقف ہو۔ اور (اے کافرو) پہلی پیدائش کا تو تمھیں علم ہے پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے (کہ دوسری پیدائش کو بھی مان لو)۔ (اچّھا) بتاؤ جو (بیج) تم بوتے ہو۔ اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے چُورا چُورا کر دیں اور تم تعجّب میں (اسے دیکھتے) رہ جاؤ۔ (کہو ہائے افسوس) ہم تو نقصان میں آگئے۔ بلکہ ہم تو (بالکل ہی) محروم ہو گئے۔ (اچّھا) بتاؤ جو پانی تم پیتے ہو۔ اسے بادل سے تم نازل کرتے ہو یا ہم نازل کرتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری کر دیں تو پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے۔ (اچّھا) بتاؤ جو آگ تم سُلگاتے ہو۔ کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم نے پیدا کیا ہے۔ ہم نے اس درخت کو نصیحت (کا باعث) اور مسافروں کے فائدے کےلیے بنایا ہے۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے دلائل سے ثابت کر دیا کہ انسان دوبارہ پیدا ہو گا، قیامت ضرور آئے گی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال سنایا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
(فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّة) تو جب وہ شور مچانے والی آئے گی (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِ) اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا (وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِ) اپنی ماں (سے) اور اپنے باپ (سے بھاگے گا) (وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِ) اپنی بیوی (سے) اور اپنے بیٹوں (سے بھاگے گا۔ کوئی کسی کا پرسانِ حال نہ ہوگا، ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی، ہر شخص یہ چاہے گا کہ کسی طرح میں بچ جاؤں)۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ ڪَالْمُهْلِ۝۸ وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ ڪَالْعِهْنِ۝۹ وَ لَا یَسْـَٔلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۝۱۰ یُبَصَّرُوْنَهُمْ، یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِىِٕذٍۭ بِبَنِیْهِ۝۱۱ وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِ۝۱۲ وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْهِ۝۱۳ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا، ثُمَّ یُنْجِیْهِ۝۱۴
(سُوْرَۃُ سَاَلَ سَآئِلٌ : ۷۰، آیت : ۸ تا ۱۴)
جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو جائے گا۔ اور پہاڑ اُون کی طرح ہو جائیں گے۔ (اس دن) کوئی دوست کسی دوست کا پُرسانِ حال نہ ہو گا۔ حالاں کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے اس دن مجرم یہ چاہے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلیے اپنے بیٹوں کو۔ اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو دے دے۔ اور اپنے خاندان کو جو اسے (دنیا میں) پناہ دیا کرتا تھا (فدیے میں) دے دے۔ بلکہ رُوئے زمین پر جتنے آدمی ہیں سب کو (فدیے میں) دے دے اور اپنے آپ کو (عذاب سے) بچالے۔
قیامت جب آئے گی تو بڑا شور وغل ہوگا۔ نظامِ عالَم درہم برہم ہو جائے گا۔ آسمان پھٹ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ۝۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۱)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
پہاڑ اڑیں گے اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے زمین ہموار کر دی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً۝۱۴
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۱۴)
اور زمین کو اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا اور ان کو ایک ہی بار میں (توڑ پھوڑ کر) برابر کر دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا۝۱۰۵ فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا۝۱۰۶ لَا تَرٰی فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا۝۱۰۷
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۵تا ۱۰۷)
اور (اے رسول، لوگ) آپ سے پہاڑوں کے متعلّق سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ میرا ربّ ان کو چُورا چُورا کر دے گا۔ پھر ان کو ہموار چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا۔ (اے رسول) آپ کو اس (میدان) میں نہ تو کوئی موڑ نظر آئے گا اور نہ کوئی ٹیلا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا۝۲۱
(سُوْرَۃُ وَالفَجْرِ: ۸۹، آیت : ۲۱)
جب زمین ہموار کر دی جائے گی۔
زمین میں زلزلہ آئے گا ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا۝۱۴
(سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّلِ: ۷۳، آیت : ۱۴)
جس دن زمین اور پہاڑ لرزیں گے اور پہاڑ بُھر بُھرے ٹِیلے بن جائیں گے۔
صُور پھونکا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ۝۸ فَذٰلِڪَ یَوْمَىِٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌ۝۹
(سُوْرَۃُ الْمُدَّثِّرِ: ۷۴، آیت : ۸تا۹)
جب صُور پھونکا جائے گا۔ تو وہ دن (بڑا) سخت ہو گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلْقَارِعَةُ۝۱ مَا الْقَارِعَةُ۝۲
[(سُوْرَۃُ اَلْقَارِعَۃُ: ۱۰۱، آیت : ۱ تا۲)
کھٹکھٹانے والی۔ کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی۔
آگے فرمایا
(لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِ) ہر شخص کی اس دن ایسی حالت ہوگی کہ اسے (سب سے) بے نیاز کر دے گی۔ (ہر شخص اپنی فکر میں مشغول ہو گا کسی دوسرے کا خیال کرنا تو کجا اسے اپنی نجات کے لیے بطور فدیہ چاہے گا (وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ مُّسْفِرَةٌ) بہت سے چہرے اس دن چمک رہے ہوں گے (ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ) خنداں اور شاداں ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ۝۸
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ: ۸۸، آیت : ۸)
بہت سے (آدمیوں کے) چہرے اس دن (نعمتوں میں) شاداں و فرحاں ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ۝۲۲ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ۝۲۳
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۲ ۲تا۲۳)
اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ ہوں گے۔ وہ اپنے ربّ کو دیکھ رہے ہوں گے۔
آگے فرمایا
(وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌ) بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے(تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ) ان پر سیاہی چھا رہی ہوگی (اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ) یہ (چہرے) کافر اور بدکار (لوگوں کے) ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ۝۲ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ۝۳ تَصْلٰی نَارًا حَامِیَةً۝۴
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ: ۸۸، آیت : ۲تا۴)
اس دن بہت سے (آدمیوں کے) چہرے جُھکے ہوئے ہوں گے۔ وہ عمل کرنے والے (اور عمل کرتے کرتے) تھک جانے والے ہوں گے۔ (تاہم) دھکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍۭ بَاسِرَةٌ۝۲۴ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ۝۲۵
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۲۴تا ۲۵)
اور بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان پر کوئی بڑی آفت آنے والی ہے جو ان کی کمر توڑ دے گی۔
عمل
اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کیا، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرکشی نہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلی بار پیدا کیا ہے وہ ہی آپ کو دوبارہ پیدا کرے گا لہٰذا دوبارہ پیدا کیے جانے پر ایمان لایے۔
اے لوگو! قیامت بڑی ہولناک آفت ہے، وہ جب آئے گی تو نظامِ کائنات درہم برہم ہو جائے گا، بڑا شور و غل ہوگا۔ آپ اُس سے ڈریے اور نیک عمل کیجیے تا کہ اس دن آپ شاداں و فرحاں ہوں۔ بُرے کاموں سے بچیے اس لیے کہ بُرے کام کرنے والے قیامت کے روز بڑے ذلیل و خوار ہوں گے، ان کے چہرے غبار آلود ہوں گے، چہروں پر سیاہی چھا رہی ہو گی۔

<

Share This Surah, Choose Your Platform!