Surah Al-Fajr



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۸۹ – سُوْرَۃُ وَالفَجْرِ –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَ الْفَجْرِ۝۱ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ۝۲ وَ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ۝۳ وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِ۝۴ هَلْ فِیْ ذٰلِڪَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ۝۵ اَلَمْ تَرَ ڪَیْفَ فَعَلَ رَبُّڪَ بِعَادٍ۝۶ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۝۷ اَلَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۝۸ وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۝۹ وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۝۱۰ اَلَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۝۱۱ فَاَڪْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۝۱۲ فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ۝۱۳ اِنَّ رَبَّڪَ لَبِالْمِرْصَادِ۝۱۴

<

ترجمہ: فجر کی قسم۝۱ دس۱۰ راتوں کی قسم۝۲ جفت اور طاق کی قسم۝۳ رات کی قسم جب جانے لگے۝۴ کیا ان قسموں میں اہلِ عقل کےلیے (کوئی اہمیت) نہیں؟ (یقینًا ہے، تو پھر سن لو کہ مخالفینِ رسول ضرور تباہ و برباد ہوں گے)۝۵ (اے رسول) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے ربّ نے (قومِ) عاد کے ساتھ کیا کیا۝۶ جو اِرَم (کے رہنے والے) اور (بڑے بڑے) ستونوں والے تھے۝۷ (یعنی وہ) جن کے مثل (دنیا کے) شہروں میں کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی۝۸ اور (اے رسول، کیا آپ نے) ثمود (کو نہیں دیکھا) جو وادی میں پتّھر تراشا کرتے تھے۝۹ اور (کیا آپ نے) میخوں والے فرعون کو (نہیں دیکھا)۝۱۰ جنھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا۝۱۱ اور ان میں بڑی کثرت کے ساتھ فساد مچایا کرتے تھے۝۱۲ تو آپ کے ربّ نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۝۱۳ بےشک آپ کا ربّ (ان کی) گھات میں تھا۝۱۴

<

معانی و مصادر: (شَفْعٌ) شَفَعَ، يَشْفَعُ، شَفْع ٌ(ف) جوڑا کر دینا، حق شفعہ دینا۔
(وَتْرٌ) وَتَرَ، يَتِرُ، وَتْرٌ و وَتِرَةٌ (ض) طاق بنا دینا۔ (وَتْرٌ= وِتْرٌ= فرد)
(يَسْرِىْ) سَرٰى، يَسْرِىْ، سُرًى و سَرْيَةٌ و سُرْيَةٌ و سِرَايَةً و سَرْيَانٌ (ض) رات کو جانا۔
(حِجْرٌ) حَجَرَ، يَحْجُرُ، حَجْرٌ و حَجْرَانٌ (ن) روکنا، حرام کرنا۔(حِجْرٌ=عقل، گود، حرام، گھوڑی)
(اِرَمٌ) اِرَمٌ=
پتّھر جو رہنمائی کے لیے گاڑ دیا جائے۔
(عِمَادٌ) عَمَدَ، يَعْمِدُ، عَمْدٌ (ض) قصد کرنا، چھت کے نیچے ستون لگانا۔ (عِمَادٌ=ستون، عَمْدٌ اور عُمُوْدٌ اس کی جمع ہیں)
(جَابُوْا) جَابَ، يَجُوْبُ، جَوْبٌ و تَجْوَابٌ (ن) پتّھر پھاڑنا، پتّھر تراشنا، قطع کرنا، عیب لگانا۔
(صَخْرٌ) صَخْرٌ=پتّھر ، صَخْرَۃٌ کی جمع۔
(اَوْتَادٌُ) اَوْتَادٌُ=وَتَدٌ کی جمع میخیں۔
(سَوْطٌ) سَاطَ، يَسُوْطُ، سَوْطٌ (ن) کوڑا مارنا، خلط ملط کر دینا لڑائی میں حاضر ہونا، پلٹ دینا۔
(مِرْصَادٌ) رَصَدَ، يَرْصُدُ، رَصْدٌ و رَصَدٌ (ن) گھات میں بیٹھنا۔ (مِرْصَادٌ=گھات میں بیٹھنے کی جگہ)

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ الْفَجْرِ) فجر کی قسم۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ۝۱۸
(سُوْرَۃُ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ: ۸۱، آیت : ۱۸)
صبح کی قسم جب وہ روشن ہو جائے۔
آگے فرمایا
(وَ لَیَالٍ عَشْرٍ) اور دس۱۰ راتوں کی قسم (وَ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ) جفت کی قسم اور طاق کی قسم (وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِ) اور رات کی قسم جب جانے لگے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ۝۱۷
(سُوْرَۃُ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ: ۸۱، آیت : ۱۷)
رات کی قسم جب وہ جانے لگے۔
آیات زیرِ تفسیر میں جواب قسم مذکور نہیں لیکن آگے مختلف قوموں پر جو عذاب نازل ہوتے رہے ان کا بیان ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جواب قسم یہ ہے کہ اگر کفّار جھٹلاتے رہے تو ایک نہ ایک دن عذاب آکر رہے گا۔
آگے فرمایا
(هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ) کیا اہلِ عقل کے نزدیک ان قسموں کی کوئی اہمیّت نہیں (کیوں نہیں یہ بڑی بھاری قسمیں ہیں اور ان بھاری قسموں کے کھانے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ عذاب آکر رہے گا) (اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ) (اے رسول) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے ربّ نے عاد کے ساتھ کیا کیا (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ) جو ارم (کے رہنے والے) اور (بڑے بڑے) ستونوں والے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
كَذَّبَتْ عَادُ ِ۟الْمُرْسَلِیْنَ۝۱۲۳ اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ۝۱۲۴ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۝۱۲۵ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ۝۱۲۶ وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ،اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۝۱۲۷ اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ۝۱۲۸ وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ۝۱۲۹
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۱۲۳تا ۱۲۹)
(قومِ) عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ جب ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں؟۔ بےشک میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو ربُّ العالمین کے ذمّے ہے۔ (یہ) کیا تم ہر اونچی جگہ یادگار تعمیر کرتے ہو، (پھر وہاں) کھیل تماشے کرتے ہو۔ اور (بڑے بڑے) مضبوط محل اور قلعے بناتے ہو، شاید تم ہمیشہ (دنیا میں) رہو گے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قومِ عاد کے لوگ بڑی بڑی اونچی اور مضبوط عمارتیں بناتے تھے جن میں بڑے بڑے ستون ہوتے تھے۔
آگے فرمایا
(اَلَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ) جن کے مثل (روئے زمین کے تمام) شہروں میں کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی (یعنی قومِ عاد بڑی مضبوط، طویل القامت اور طاقتور قوم تھی۔ ایسی قوم دنیا میں کبھی پیدا نہیں کی گئی)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰی قُوَّتِڪُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ۝۵۲
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۵۲)
اور اے میری قوم، اپنے ربّ سے معافی مانگو پھر اُس سے توبہ کرو (کہ تم آئندہ اُس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کرو گے اگر تم ایسا کرو گے تو) اللہ تم پر موسلادھار بارش برسائے گا، تمھاری قوّت میں اضافے پر اضافہ فرمائے گا اور (اے میری قوم میری بات مان لو) مجرم بن کر (حق سے) منھ نہ موڑو۔
قومِ عاد میں قوّت پہلے ہی سے موجود تھی۔ ہود علیہ الصّلوۃ والسّلام فرماتے ہیں اگر تم ایمان لے آئے تو تمھاری قوّت میں اللہ تعالیٰ اور اضافہ فرمادے گا۔ ان کی قوّت کا ذِکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً،فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۶۹
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۶۹)
(اللہ کی نعمت کو) یاد کرو کہ اُس نے قومِ نوح کے بعد تمھیں خلیفہ بنایا اور (جسمانی) ساخت کے لحاظ سے تم کو ان کے مقابلے میں طاقت اور قد و قامت زیادہ عطا فرمایا، اللہ کی (ان) نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پا سکو۔
الغرض قوّت اور جسم کے لحاظ سے قومِ عاد بے نظیر قوم تھی لیکن وہ بھی اپنے کو عذابِ الہٰی سے نہ بچا سکے تو کفّارِ مکّہ کی کیا حقیقت ہے۔
آگے فرمایا
(وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ) اور (اے رسول! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے ربّ نے) قومِ ثمود کے ساتھ کیا کیا جو وادی میں پتّھر تراشا کرتے تھے (اور پتّھر تراش کر مکانات تعمیر کرتے تھے) اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَ۝۱۴۹
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۱۴۹)
اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر خوشی خوشی (اپنے لیے) گھر بناتے ہو (گویا تمھیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے حالاں کہ ایسا نہیں ہو گا)۔
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اذْڪُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَڪُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا،
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۷۴)
اور (اللہ کی نعمت کو) یاد کرو کہ جب اس نے (قومِ) عاد کے بعد تمھیں خلیفہ بنایا اور تمھیں زمین پر آباد کیا، تم میدانوں میں محل تعمیر کرتے ہو اور (پہاڑوں پر) پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو،
پتّھروں یا پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات تعمیر کرنا اس میں ان کی قوّت کی طرف اشارہ ہے اور کفّارِ مکّہ کو ایک قسم کی تنبیہ ہے کہ جب اتنی قوّت والی قوم کو ہم نے نیست و نابود کر دیا تو تمھاری کیا ہستی ہے۔ اگر تم ایمان نہیں لائے تو تم کو بھی اسی طرح ہلاک کر دیا جائے گا۔
آگے فرمایا
(وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ)[ اور (اے رسول! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے ربّ نے) میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا کیا (اَلَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ) (قومِ عاد، قومِ ثمود اور قومِ فرعون یہ وہ قومیں تھیں) جنھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا (احکامِ الہٰی سے سرتابی کرتے تھے اور کمزوروں پر ظلم کرتے تھے (فَاَکْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ) اور ان (شہروں) میں کثرت سے فساد مچایا کرتے تھے۔
قومِ عاد کے متعلّق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ۝۱۳۰
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۱۳۰)
اور جب کسی کو پکڑتے ہو تو جبر و تشدّد کے ساتھ پکڑتے ہو۔
قومِ ثمود کے متعلّق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ۝۷۴
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۷۴)
اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو (اس کا شکر ادا کرو) اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔
قومِ فرعون کے متعلّق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَڪَ وَ اٰلِهَتَكَ،قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ، وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ۝۱۲۷
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۱۲۷)
قومِ فرعون کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو موسیٰ اور ان کی قوم کو (اسی حالت میں) چھوڑ دے گا کہ وہ ملک میں فساد مچاتے پھریں اور (موسیٰ) تجھ سے اور تیرے معبودوں سے کنارہ کش ہو جائے، فرعون نے کہا ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور ہم بےشک ان پر غالب ہیں (وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۝۱۳ وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا،فَانْظُرْ كَیْفَ ڪَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۝۱۴
(سُوْرَۃُ النَّمْلِ : ۲۷، آیت : ۱۳ تا ۱۴)
پھر جب (موسیٰ ان کے پاس پہنچے اور) آنکھیں کھول دینے والی ہماری نشانیاں ان کے پاس آئیں تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے۔ انھوں نے ہٹ دھرمی اور تکبّر سے ان کا انکار کیا حالاں کہ ان کے دِلوں کو ان کے متعلّق یقین ہو گیا تھا (کہ وہ واقعی معجزے ہیں، جادو نہیں ہیں) تو (اے رسول) آپ دیکھ لیں کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
الغرض یہ تینوں قومیں جن کا ذِکر ان آیات میں ہے بڑی زبردست قومیں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو ان کی قوّت اور حشمت ان کے کچھ کام نہ آئی
(فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ) (اے رسول) آپ کے ربّ نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا (اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ) بے شک آپ کا ربّ (ان کی) گھات میں تھا (وقتِ مقرّرہ پر عذاب بھیج کر ان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا)۔ ان آیات میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں وقتِ مقرّرہ پر عذاب آئے گا اور انھیں ہلاک کر دے گا اور کفّار کو ڈرایا گیا ہے کہ اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو وہ دن دور نہیں کہ جس طرح ان قوموں کو ہلاک کیا گیا انھیں بھی اسی طرح ہلاک کر دیا جائے گا۔
مذکورہ بالا تینوں قوموں پر جو عذاب نازل ہوا اس کا ذِکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ڪَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ۝۴ فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ۝۵ وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍ۝۶ سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ، حُسُوْمًا،فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰی، كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍ۝۷ فَهَلْ تَرٰی لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ۝۸ وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِ۝۹ فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً۝۱۰
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۴ تا ۱۰)
(یہ لوگ قیامت کو جھٹلا رہے ہیں تو کیا ہوا، ان سے پہلے) ثمود اور عاد نے بھی اس کھڑکھڑانے والی (قیامت) کو جھٹلایا تھا۔ تو ثمود تو بجلی کی کڑک سے ہلاک کر دیے گئے۔ اور عاد کو انتہائی تیز آندھی سے ہلاک کیا گیا۔ اللہ نے اس (آندھی) کو سات۷ منحوس راتیں اور آٹھ۸ منحوس دن ان پر مسخّر کر دیا تھا تو (اے رسول، اگر) آپ (عذاب کے بعد) ان لوگوں کو دیکھتے (تو یہ دیکھتے کہ) وہ (اس طرح زمین پر) پڑے ہوئے ہیں گویا کہ وہ کھجور کے گرے ہوئے تنے ہیں۔ تو کیا آپ ان میں سے کسی کو باقی (بچاہوا) دیکھتے ہیں۔ اور (اے لوگو) فرعون نے، اس سے پہلے کی (متعدّد) قوموں نے اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے گناہ کیا۔ انھوں نے اپنے ربّ کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو بڑی سخت سزا میں پکڑ لیا۔
عمل
اے لوگو! ایمان لایے، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کا اہتمام کیجیے۔

<
فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ،فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِ۝۱۵ وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ،فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِ۝۱۶ كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ۝۱۷ وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ۝۱۸ وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا۝۱۹ وَ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۝۲۰ ڪَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا۝۲۱ وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا۝۲۲ وَ جِایْٓءَ یَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ،یَوْمَىِٕذٍ یَّتَذَڪَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰی لَهُ الذِّڪْرٰی۝۲۳ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ۝۲۴ فَیَوْمَىِٕذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ۝۲۵ وَ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌ۝۲۶ یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۝۲۷ اِرْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً۝۲۸ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ۝۲۹ وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۝۳۰
<

ترجمہ: تو (اے رسول) انسان (کی بھی عجیب حالت ہے کہ) جب اس کا ربّ اسے آزماتا ہے، عزّت بخشتا ہے اور نعمت سے سرفراز فرماتا ہے تو کہتا ہے میرے ربّ نے مجھے عزّت بخشی۝۱۵ اور جب اسے آزماتا ہے اور اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے میرے ربّ نے مجھے ذلیل کر دیا۝۱۶ (اللہ بلا وجہ) ہرگز (ایسا) نہیں (کرتا) بلکہ (ایسا اسی وقت کرتا ہے جب) تم یتیم کی عزّت نہیں کرتے۝۱۷ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۝۱۸ میراث کے مال کو سمیٹ کر (ناجائز طریقے سے) کھا جاتے ہو۝۱۹ اور مال سے بہت ہی محبّت کرتے ہو۝۲۰ (قیامت کے متعلّق کافروں کا خیال) ہرگز (صحیح) نہیں (وہ آئے گی اور ضرور آئے گی) جب زمین ہموار کر دی جائے گی۝۲۱ آپ کا ربّ آئے گا اور فرشتے بھی صف بہ صف آئیں گے۝۲۲ اس دن جہنّم کو بھی لایا جائے گا تو اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اس دن نصیحت کہاں (فائدہ دے گی)۝۲۳ انسان کہے گا کاش! میں نے اپنی (اس) زندگی کےلیے کچھ آگے بھیجا ہوتا۝۲۴ تو اس دن (اللہ ان کو ایسا عذاب دے گا کہ) اس جیسا عذاب کسی نے نہ دیا ہو گا۝۲۵ اور (ایسا جکڑے گا کہ) کسی نے ایسا نہ جکڑا ہو گا۝۲۶ (اور جو سعیدِ روح ہو گی اس سے کہا جائے گا) اے اطمینان والی روح۝۲۷ اپنے ربّ کی طرف چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۝۲۸ تو میرے (نیک) بندوں میں شامل ہو جا ۝۲۹ اور میری جنّت میں داخل ہو جا ۝۳۰

<

معانی و مصادر: (اِبْتَلىٰ) اِبْتَلىٰ، يَبْتَلِیْ، اِبْتِلٓاءٌ (باب افتعال) آزمائش کرنا۔
(نَعَّمَ) نَعَّمَ، يُنْعِّمُ، تَنْعِيْمُ (باب تفعیل) خوش حال بنانا۔
(اَھَانَ) اَھَانَ، يُهِیْنُ، اِهَانَةٌ (باب افعال) تو ہین کرنا۔
(تَحٰٓضُّوْنَ) تَحَاضَّ، يَتَحَاضُّ، تَحَاضٌّ (باب تفاعل) ترغیب دینا۔
(تُرَاثٌ) وَرِثَ، يَرِثْ، وِرْثٌ و اِرْثٌ و اِرْثَةٌ و رِثَةٌ و تُرَاثٌ (ح) وارث ہونا۔
(لَمٌّ) لَمَّ ، يَلُمُّ ، لَمٌّ (ن) جمع کرنا اور ملا دینا۔
(جَمٌّ) جَمَّ، يَجُمُّ، جَمٌّ (ن) زیادہ ہونا، کثرت سے جمع ہونا۔ (جَمٌّ= بڑی تعداد یا مقدار)
(دَكٌ) دَكَّ، يَدُكُّ، دَكٌ (ن) گرا کر زمین کے برابر کر دینا۔
(يُوْثِقُ) اَوْثَقَ، يُوْثِقُ، اِیْثَاقٌ (باب افعال) رسی سے باندھنا۔ (وَثَاقٌ=وِثَاقٌ=جس چیز سے باندھا جائے)
(رَاضِيَةً) (مَرْضِيَّةٌ) رَضِی ، يَرْضٰى، رِضًى و رُضًى و رِضْوَانٌ و رُضْوَانٌ و مَرْضَاةٌ (س) راضی ہونا (مَرْضِيَّةً=راضی کی گئی، پسندیدہ)

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ،فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِ) تو (اے رسول) انسان (کی بھی عجیب حالت ہے کہ) جب اس کا ربّ اسے آزماتا ہے، عزّت بخشتا ہے اور نعمت سے سرفراز فرماتا ہے تو کہتا ہے میرے ربّ نے مجھے عزّت بخشی (وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ،فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِ) اور جب اسے آزماتا ہے اور اس پر اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے میرے ربّ نے مجھے ذلیل کر دیا (كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ) (اللہ بلاوجہ) ہرگز (ایسا) نہیں کرتا بلکہ (ایسا اس وقت ہوتاہے جب) تم یتیم کی عزّت نہیں کرتے(وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ) مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے (وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا) میراث کے مال کو سمیٹ کر (ناجائز طور پر) کھا جاتے ہو (وَ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا) اور مال سے بہت ہی محبّت کرتے ہو (جائز ناجائز کی مطلق پرواہ نہیں کرتے، ہر وقت مال کی محبّت اور اس کی افزائش میں گرفتار رہتے ہو۔ یہ ہیں تمھاری بداعمالیاں جن کی وجہ سے رزق تنگ ہو جاتا ہے۔ رزق کی تنگی کا سب۔ تم خود ہوتے ہو اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلا وجہ منسوب کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نعمت سے سرفراز کر کے اس کی نعمت کو اس وقت تک نہیں چھینتا جب تک وہ ایسی بات نہ کرے جس کی سزا میں اس سے وہ نعمت چھین لی جائے۔ جب تک کوئی شخص صالح اعمال کرتا ہو اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمت نہیں چھینتا لیکن جب وہ اپنی حالت بدل دیتا ہے اور صالح اعمال کے بجائے بُرے اعمال کرنے لگتا ہے تو مصیبت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ،وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۝۵۳
(سُوْرَۃُ الْاَنْفَالِ: ۸، آیت : ۵۳)
یہ (سزا ان کو اس لیے دی گئی تھی) کہ (انھوں نے اللہ کی نعمتوں کا حق ادا نہیں کیا تھا اور) اللہ تو کسی قوم کو نعمتوں سے مالا مال کر کے ان نعمتوں کو اس وقت تک (مصائب و آلام سے) نہیں بدلتا جب تک وہ خود ہی اپنی (مومنانہ) حالت کو (کفر سے) نہ بدل دیں اور (اے مشرکین اچّھی طرح خبردار ہو جاؤ) کہ بےشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے (وہ تمھاری حرکتوں سے اچّھی طرح واقف ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ،وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ،وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ۝۱۱
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۱۱)
بےشک اللہ کسی قوم کی خوش حالی کو جو اسے (اللہ کی طرف سے) ملی ہے اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دے (جس حالت کے انعام میں وہ خوش حالی عطا کی گئی تھی) اور جب اللہ کسی قوم کو مصیبت میں مبتلا کرنا چاہے تو پھر وہ مصیبت ٹل نہیں سکتی اور نہ اللہ کے علاوہ کوئی ان لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔
آگے فرمایا
(کَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا) (قیامت کے متعلّق کافروں کا خیال) ہرگز (صحیح) نہیں (وہ آئے گی اور ضرور آئے گی وہ اس وقت آئے گی) جب زمین ہموار کر دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ۝۳
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْشَقَّتْ: ۸۴، آیت : ۳)
جب زمین کھینچی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا۝۱۰۵ فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا۝۱۰۶ لَا تَرٰی فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا۝۱۰۷
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۵ تا ۱۰۷)
اور (اے رسول، لوگ) آپ سے پہاڑوں کے متعلّق سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ میرا ربّ ان کو چُورا چُورا کر دے گا۔ پھر ان کو ہموار چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا۔ (اے رسول) آپ کو اس (میدان) میں نہ تو کوئی موڑ نظر آئے گا اور نہ کوئی ٹیلا۔
(وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) اور (اے رسول جب ) آپ کا ربّ آئے گا اور فرشتے صف بصف آئیں گے (وَ جِایْٓءَ یَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ،یَوْمَىِٕذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰی لَهُ الذِّکْرٰی) اور دوزخ کو بھی لایا جائے گا تو اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اس دن نصیحت کہاں (فائدہ دے گی)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰی۝۳۴ یَوْمَ یَتَذَڪَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی۝۳۵ وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی۝۳۶
(سُوْرَۃُ النّٰزِعٰتِ: ۷۹، آیت : ۳۴تا۳۶)
پھر جب وہ بڑی آفت آئے گی۔ اس دن انسان کو (اپنے) اعمال یاد آئیں گے۔ اور (اس دن) دوزخ ہر دیکھنے والے کے سامنے لائی جائے گی۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَسَيُكَلِّمُهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَهٗ تَرْجُمَانٌ ثُمَّ يَنْظُرُ فَلَا يَرٰى شَيْئًا قُدَّامَهٗ ثُمَّ يَنْظُرُ بَيْنَ یَدَیْهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ وَفِیْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ فَيَنْظُرُ اَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرٰى اِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ اَشْاَمَ مِنْهُ فَلَا يَرٰى اِلَّا مَا قَدَّمَ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ اَنْ يَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ۔
(صحیح بخارى كتاب الرقاق باب من نوقش الحساب عذب جزء ۸ صفحہ ۱۴۰، حديث : ۶۵۳۹ / ۶۱۷۴ و روی مسلم نحوه فِی صحيحه فِی كتاب الزكوة باب الحث على الصدقة جزء اوّل صفحہ ۴۰۶، حديث : ۲۳۴۸ / ۱۰۱۶)
قیامت کے دن تم میں سے ہر شخص سے اللہ بات کرے گا۔ اللہ کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ پھر وہ آگے دیکھے گا تو اسے کچھ نظر نہیں آئے گا پھر وہ اپنی سیدھی طرف دیکھے گا تو اسے سوائے اعمال کے اور کچھ نظر نہیں آئے گا، پھر وہ اپنی الٹی طرف دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے اعمال کے اور کچھ نظر آئے گا پھر وہ سامنے دیکھے گا تو آگ اس کا استقبال کرے گی تو تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ دوزخ سے بچے خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی (اللہ کے راستے میں دے کر) سہی۔
(نوٹ: خط کشیدہ عبارت صرف صحیح مسلم میں ہے)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
يُؤْتٰی بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَكٍ يَجْرُّوْنَهَا
(صحیح مسلم كتاب الجنة باب فِی شدة نار جهنم جزء ۲ صفحه ۵۳۵، حديث : ۷۱۶۴ / ۲۸۴۲)
اس دن جہنّم کولایا جائے گا۔ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی۔ ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو دوزخ کو کھینچ رہے ہوں گے۔
آگے فرمایا
(یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ) انسان کہے گا کاش میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا (یعنی کاش میں نے دنیا کی زندگی میں نیک عمل کیے ہوتے) (فَیَوْمَىِٕذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ) پھر اس دن (الله ان کو ایسا عذاب دے گا کہ) اس جیسا عذاب کسی نے نہ دیا ہوگا (وَ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌ) اور (ایسا جکڑے گا کہ) کسی نے ایسا نہ جکڑا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ۝۲۴
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْشَقَّتْ: ۸۴، آیت : ۲۴)
تو (اے رسول) آپ انھیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ،وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۝۴
(سُوْرۃُ الْحَشْرِ : ۵۹، آیت : ۴)
(یہ عذاب ان کو اس لیے ہو گا) کہ وہ اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور جو شخص بھی اللہ کی مخالفت کرے تو بےشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ۝۳۰ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُ۝۳۱ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُڪُوْهُ۝۳۲ اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِ۝۳۳ وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ۝۳۴ فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌ۝۳۵ وَ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ۝۳۶ لَا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَ۝۳۷
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۳۰تا۳۷)
(وہ یہ باتیں کہہ ہی رہا ہو گا کہ اللہ حکم دے گا) اسے پکڑلو اور اس کے (گلے میں) طوق پہنادو پھر اس کو دوزخ میں داخل کردو۔ پھر ایک زنجیر سے جس کی لمبائی ستّر۷۰ ہاتھ ہے اس کو جکڑ دو۔ یہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ تو آج اس کا یہاں نہ کوئی دوست ہے۔ اور نہ (اس کےلیے یہاں) کوئی کھانا ہے سوائے دھووَنْ کے۔ جس کو گناہ گاروں کے علاوہ کوئی نہیں کھائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا ڪُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ،اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ،وَ اُولٰٓىِٕڪَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ،وَ اُولٰٓىِٕڪَ اَصْحٰبُ النَّارِ،هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۝۵
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۵)
اور (اے رسول) اگر آپ کو (کسی بات پر) تعجّب ہو تو ان کے اس قول پر واقعی تعجّب ہونا چاہیے (جب وہ یہ کہتے ہیں کہ) کیا جب ہم (مرکر) مٹّی ہو جائیں گے تو ہم (پھر) ازسرِنو پیدا ہوں گے، یہ ہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے ربّ (کی قدرت) کا انکار کیا، یہ ہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں (قیامت کے دن) طوق ڈالے جائیں گے اور یہ ہی لوگ دوزخی ہیں (اور) یہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ ڪَفَرُوْا،هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۝۳۳
(سُوْرَۃُ سَبَـاٍ : ۳۴، آیت : ۳۳)
اور (اے رسول، پھر اس وقت) ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، جو عمل وہ (دنیا میں) کرتے رہے تھے بس ان ہی کا بدلہ انھیں ملے گا (اور کسی پر ظلم نہیں ہو گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْڪٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا۝۴
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ: ۷۶، آیت : ۴)
ہم نے کافروں کےلیے زنجیریں، طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیّار کر رکھی ہے۔
آگے فرمایا
(یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ) (اور جو سعید روح ہوگی اس سے کہا جائے گا) اے اطمینان والی روح (اِرْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً) اپنے ربّ کی طرف چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی (فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ) تو میرے (نیک) بندوں میں شامل ہو جا (وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ) اور میری جنّت میں داخل ہو جا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ،وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِیْقًا۝۶۹ ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ،وَ كَفٰی بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۝۷۰
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۶۹ تا ۷۰)
اور جو شخص بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو ایسے لوگوں کو (بروزِ قیامت) ان لوگوں کی رفاقت نصیب ہو گی جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیا، صدّیقین، شہدا اور صالحین کی اور ان لوگوں کی رفاقت کتنی اچّھی رفاقت ہے۔ یہ فضل ہے جو اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے اور (وہ ہی خوب جانتا ہے کہ اپنا فضل کس کو عطا کرے اور یہ بھی حقیق
ت ہے کہ اس بات کو) جاننے کےلیے اللہ ہی کافی ہے۔
عمل
اے ایمان والو! یتیم کی عزّت کیا کیجیے، اس کو ذلیل نہ سمجھا کیجیے،مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیا کیجیے۔ ناجائز طریقے سے کسی کا مال نہ کھایا کیجیے، مال سے بہت زیادہ محبّت نہ کیجیے، آخرت کے لیے نیک عمل کیجیے۔



<

Share This Surah, Choose Your Platform!