Surah Al-Insan



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۷۶ – سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ/ الدَّهْرِ

فہرستِ مضامین

انسان کی پیدائش

نذر کے متعلّق جملہ مسائل

اللہ تعالیٰ کی قدرت

<

سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ/ الدَّهْرِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَڪُنْ شَیْـًٔا مَّذْكُوْرًا۝۱ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ،نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۝۲ اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاڪِرًا وَّ اِمَّا ڪَفُوْرًا۝۳ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْڪٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا۝۴ اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا۝۵ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا۝۶ یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا۝۷ وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا۝۸ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا۝۹ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا۝۱۰ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِڪَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًا۝۱۱ وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًا۝۱۲ مُتَّكِــِٕیْنَ فِیْهَا عَلَی الْاَرَآىِٕڪِ،لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًا۝۱۳ وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا۝۱۴ وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَڪْوَابٍ ڪَانَتْ قَوَارِیْرَاۡ۝۱۵ قَوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا۝۱۶ وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًا۝۱۷ عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیْلًا۝۱۸ وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ،اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا۝۱۹ وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا۝۲۰ عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ،وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ،وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا۝۲۱ اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۝۲۲

<

ترجمہ: کیا زمانے میں انسان پر ایسا وقت نہیں آیا جب کہ وہ کوئی چیز نہیں تھا کہ اس کا ذِکر کیا جاتا۝۱ (پھر) ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا، (پھر) ہم اس کی جانچ پڑتال کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا (انسان) بنا دیا۝۲ پھر ہم نے اسے سیدھا راستہ بتا دیا (پھر اسے اختیار دیا کہ وہ) چاہے تو شکر گزار بن جائے یا ناشکرا بن جائے۝۳ ہم نے کافروں کےلیے زنجیریں، طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیّار کر رکھی ہے۝۴ بےشک (آخرت میں) نیک لوگ گلاسوں میں (ایسی شراب) پِییں گے جس میں کافور کی آمیزش ہو گی۝۵ (وہ) ایک چشمہ ہو گا جس میں اللہ کے بندے (شراب) پیتے رہیں گے (اور) اس کی نہریں نکال لیا کریں گے۝۶ (یہ اللہ کے بندے وہ ہوں گے جو) اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن کی بُرائی (بڑے وسیع پیمانے میں ہر طرف) پھیلی ہوئی ہو گی۝۷ اور جو کھانے کی خواہش رکھتے ہوئے (اپنا) کھانا مسکین کو، یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے ہیں۝۸ (اور کھانا کھلاتے وقت ان سے کہتے ہیں کہ) ہم تمھیں صرف اللہ کی رضا کےلیے کھلاتے ہیں تم سے ہم نہ کسی بدلے کے طلب گار ہیں اور نہ کسی شکریہ کے۝۹ ہمیں تو اپنے ربّ سے اس دن کا ڈر ہے جو دن چہرے بگاڑ دے گا اور جو بڑا سخت (پریشان کُن) ہو گا۝۱۰ تو اللہ ان کو اس دن کی بُرائی سے بچا لے گا اور تر و تازگی اور سُرور سے ان کو بہرہ ور کرے گا۝۱۱ اور (دنیا میں) وہ جو صبر کرتے رہے اس کے بدلے میں انھیں جنّت اور ریشمی کپڑے عطا فرمائے گا۝۱۲ وہ اس (جنّت) میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، وہاں انھیں نہ گرمی محسوس ہو گی اور نہ سردی۝۱۳ جنّت (کے درختوں) کے سائے ان پر جُھک رہے ہوں گے اور اس کے (پھلوں کے) خوشے لٹک رہے ہوں گے۝۱۴ ان پر چاندی کے برتنوں اور شیشے کے گلاسوں کا دَور چل رہا ہو گا۝۱۵ وہ شیشہ چاندی کا بنا ہوا ہو گا (فرشتوں نے ان گلاسوں کو) ایک مقرّرہ اندازے کے مطابق ڈھالا ہو گا۝۱۶ وہاں جنّتی ایسے جام بھی پِییں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہو گی۝۱۷ (سونٹھ کے پانی کا) جنّت میں ایک چشمہ ہو گا جس کا نام سلسبیل ہو گا۝۱۸ ان کے اِردگرد لڑکے پھرتے ہوں گے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے، (اے رسول) جب آپ انھیں دیکھیں گے تو یہ خیال کریں گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۝۱۹ اور جب آپ (جنّت کو) دیکھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ (ایک بہت بڑی) نعمت اور ایک (بہت) بڑی سلطنت ہے۝۲۰ ان (کے جسم) پر سبز ریشمی (لباس) اور زربفت کے کپڑے ہوں گے، ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا ربّ انھیں پاکیزہ شراب پلائے گا۝۲۱ (ان سے کہا جائے گا) یہ تمھارا بدلہ ہے، تمھارے عمل (اللہ کے ہاں) مقبول ہوئے ۝۲۲

<

معانی و مصادر: (دَهْرٌ) دَهَرَ، يَدْهَرُ، دَهْرٌ (ف) زمانہ کا طویل ہونا۔(دَهْرٌ= زمانہ، ابتدائے عالم سے اس کے اختتام تک کا زمانہ)
(اَمْشَاجٌ) مَشَجَ، يَمْشُجُ، مَشْجٌ (ن) مختلط کرنا ، ملا دینا۔
(اَمَشَاجٌ=مَشَجٌ و مَشِيْجٌ و مَشْجٌ و مِشْجٌ کی جمع مختلط ، دوسری چیز کے ساتھ ملایا ہوا)
(نَبْتَلِىْ) اِبْتَلٰى، يَبْتَلٰى، اِبْتِلَاءٌ (باب افتعال) جانچ پڑتال کرنا، پہچانا۔
(سَلٰسِلُ) سَلْسَلَ، يُسَلْسِلُ، سَلْسَلَةٌ (باب فَعَلَلْةٌ، رباعی مجرد) ایک چیز کو دوسری چیز سے ملانا۔ (سَلٰسِلُ=سِلْسِلَةٌ کی جمع ، زنجیریں)
(اَغْلٰـلٌ) غَلَّ، يَغُلُّ، غَلٌّ (ن) داخل کرنا، طوق پہننا، طوق پہنانا۔ (اَغْلٰـلٌ = غُلٌ کی جمع طوق، ہتھکڑیاں)
(مِزَاجٌ) مَزَجَ، يَمْزُجُ، مَزْجٌ و مِزَاجٌ (ن) ملانا۔ ( مِزَاجٌ = ملونی، ملاوٹ، طبیعت)
(مُسْتَطِيْرٌا) اِسْتَطَارَ، يَسْتَطِيْرُ، اِسْتِطَارَةٌ (باب استفعال) پھیلنا۔ (مُسْتَطِيْرٌا= پھیلنے والا) (حروف اصلی ط، ی ، ر)
(تَفْجِيْرٌا) فَجَّرَ، يُفَجِّرُ، تَفْجِيْرٌ (باب تفعیل) بہانا، فجور کی طرف نسبت کرنا۔
(عَبُوْسٌ) عَبَسَ، يَعْبِسُ، عَبْسٌ و عُبُوْسٌ (ض) تیوری چڑھانا۔(عَبُوْسٌ =بہت زیادہ تیوری چڑھانے والا)
(قَمْطَرِيْرٌا) اِقْمَطَرَّ، يَقْمَطِرُّ، اِقْمِطْرَارٌ (باب افعِلّال، رباعی مزید فیہ)
(وَقٰی) وَقٰی، يَقِىْ، وِقَايَةٌ و وَقْیٌ (ض)
بچانا ۔
(نَضَرَةٌ) نَضَرَ، يَنْضُرُ، نَضْرٌ و نَضَرٌ و نَضْرَةٌ و نُضُوْرٌ (ن) تروتازہ ہونا۔
(مُتَّكِئِيْنَ) اِتَّـکَاَ، يَتَّكِئُی، اِتِّكَاءٌ (باب افتعال) تکیہ لگانا (حروف اصلی و، ك،ء)
(زَمْهَرِيْرٌا) اِزْمَهَرَّ، يَزْمَهِرُّ، اِزْمِهْرَارٌ (باب افعال، رباعی مزید فیہ) سرد ہونا۔ (زَمْهَرِيْرٌا=سرد)
(ذُلِّلَتْ) ذَلَّلَ، يُذَلِّلُ، تَذْلِيْلٌ (باب تفعیل) ذلیل کرنا ، پست کرنا۔
(دَانِيَةٌ) دَنَا، يَدْنُوْ، دُنُوٌّ (ن) قریب ہونا۔ (دَانِيَةٌ=قریب ہونے والی)
(اَکْوَابٌ) اَکْوَابٌ=كُوْبٌ کی جمع ، آبخورے ، گلاس۔
(قَوَارِيْرُ) قَرَّ، يَقِرُّ، قُرَّةٌ و قَرَّةٌ و قُرُوْرَةٌ (ض و س) خوشی کی وجہ سے آنکھیں ٹھنڈی ہونا۔
(قَوَارِيْرُ = قَارُوْرَةٌ کی جمع ، جام شراب)
(زَنْجَبِيْلٌ) زَنْجَبِيْلٌ= سونٹھ۔
(سَلْسَبِيْلٌ) سَلْسَبِيْلٌ=نرم، آسانی سے ملنے والا میٹھا پانی، جنّت میں ایک چشمہ کا نام۔
(مَنْثُوْرٌ) نَثَرَ، يَنْثُرُ، نَثْرٌ و نِثَارٌ (ن و ض) بکھیرنا، نثار کرنا۔
(لُؤْلُؤٌ) لُؤْلُؤٌ=موتی۔
(سُنْدُسٌ) سُنْدُسٌ =ایک ریشمی کپڑا۔
(حُضْرٌ) حُضْرٌ=سبز ، ہرا ۔
(اِسْتَبْرَقٌ) اِسْتَبْرَقٌ=زربفت ۔
(حُلُّوْا) حَلّٰى، يُحَلِّیْ، تَحْلِيَةٌ (باب تفعیل) زیور پہنانا۔
(اَسَاوِرُ) اَسَاوِرُ=سِوَارٌ کی جمع۔ کنگن۔

<

تفسیر: بعض انسان یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کیا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں یہ ممکن ہی نہیں کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں تو انھیں دوبارہ پیدا کیا جاسکے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ،قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ۝۷۸
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت : ۷۸)
(انسان) ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے، کہتا ہے جب ہڈّیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو انھیں کون زندہ کرے گا۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اس تعجب کا جواب کئی مقامات پر دیا ہے۔ آیات زیرِ تفسیر میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے تعجب کا جواب دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
(هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَّذْ كُوْرًا) کیا زمانے میں انسان پر ایسا وقت نہیں آیا جب کہ وہ کوئی چیز نہیں تھا کہ جس کا ذِکر کیا جاتا (پیدائش سے پہلے انسان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا تو اس کا ذِکر کون کرتا یعنی پیدائش سے پہلے انسان پر ایسا وقت آچکا ہے کہ اس کا کہیں ذِکر وفکر ہی نہیں تھا، وہ کوئی چیز ہی نہیں تھا کہ اس کا کوئی ذِکر کرتا۔ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا تو کیا وہ اب دوبارہ اسے پیدا نہیں کر سکتا جب کہ اس کا وجود بھی موجود ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا۝۶۶ اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَڪُ شَیْـًٔا۔
(سُوْرَۃ ُ مَرْیَمِ : ۱۹، آیت : ۶۶تا۶۷)
اور (اے رسول) انسان کہتا ہے کیا جب میں مر جاؤں گا تو (دوبارہ) زندہ کر کے (زمین سے) نکالا جاؤں گا۔ کیا انسان کو یہ یاد نہیں؟ کہ (ایک مرتبہ) ہم پہلے بھی تو اس کو پیدا کر چکے ہیں جب کہ وہ کوئی چیز بھی نہیں تھا۔
کیا جو اللہ عدم سے وجود میں لاسکتا ہے وہ اس وجود کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ہے، اُسے ہر قسم کی قدرت حاصل ہے۔
آگے فرمایا
(اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ) ہم نے انسان کو (مرد اور عورت کے) مخلوط نطفے سے پیدا کیا (وہ نطفہ پیدائش کے مختلف مراحل سے گزرتا رہا)۔ (نَبْتَلِیْهِ) ہم اس کی جانچ پڑتال کرتے رہے (اس کی دیکھ بھال کرتے رہے اور اس کی پیدائش کے مراحل کو ایک طے شدہ نظام کے مطابق آگے بڑھاتے رہے) (فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًا بَصِيْرًا) بالآخرہم نے اس (مخلوط نطفے) کو (مختلف مراحل سے گزار کر) سننے والا اور دیکھنے والا (انسان) بنا دیا ( کیا انسان غور نہیں کرتا کہ اس کی پیدائش مزید کتنی پیچیدہ ادوار و منازل سے گزری ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے۔ کیا جو اللہ تعالیٰ اتنا پیچیدہ کام کر سکتا ہے وہ محض کُنْ سے انسان کو دوبارہ وجود نہیں بخش سکتا)۔ آگے فرمایا (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاڪِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا)(جب ہم نے سننے والا اور دیکھنے والا انسان بنا دیا تو) ہم نے اسے سیدھا راستہ بھی بتا دیا (پھر اسے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو) شکر گزار بندہ بن جائے (اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر کامیابی حاصل کرے) یا (اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کو چھوڑ کر شیطان کا راستہ اختیار کرلے اور) ناشکرا بن جائے (اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے احسان کی ناقدری کرے اور اپنی آخرت خراب کرلے)۔
یہ اللہ تعالیٰ کا زبردست احسان ہے کہ جب وہ انسان کو پیدا کرتا ہے تو اسے اچّھا راستہ بھی بتا دیتا ہے اور بُرا راستہ بھی بتا دیتا ہے یعنی اسے اتنی عقل اور سمجھ بوجھ دیتا ہے کہ وہ اچّھے اور بُرے راستے میں تمیز کر سکے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِ۝۱۰
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ/البَلَدِ: ۹۰، آیت : ۱۰)
اور کیا ہم نے اس کو (اچّھے اور بُرے) دونوں راستے نہیں بتائے۔
یین نہیں بلکہ انسان کو یاد دلانے اور خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے انبیاء علیہم الصّلوۃ والسّلام کا سلسلہ زریں قائم کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ،وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا۝۱۶۵
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۱۶۵)
(تمام) رسولوں کو (اللہ نے) خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا تھا تاکہ رسولوں کے (بھیجنے کے) بعد لوگوں کےلیے اللہ پر کوئی حجّت باقی نہ رہے، اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذِمّہ داری پوری کر دی اور انسان کو غلط راستے سے بچانے کا پورا اہتمام کیا۔ اب بھی اگر کوئی شخص غلط راستہ اختیار کرتا ہے اور کافر بن جاتا ہے تو اپنی ناکامی اور عذابِ الہٰی میں اپنے گرفتار ہونے کا وہ خود ذِمّہ دار ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلّق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
(اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَلٰسِلَاْؔ وَاَغْلٰـلًا وَّسَعِيْرًا)
ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں، طوق اور دھکتی ہوئی آگ تیّار کر رکھی ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ۝۳۰ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُ۝۳۱ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُڪُوْهُ۝۳۲ اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِ۝۳۳
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۳۰تا ۳۳)
(اللہ حکم دے گا) اسے پکڑلو اور اس کے (گلے میں) طوق پہنادو۔ پھر اس کو دوزخ میں داخل کر دو۔ پھر ایک زنجیر سے جس کی لمبائی ستّر۷۰ ہاتھ ہے اس کو جکڑ دو۔ یہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ،اَنّٰی یُصْرَفُوْنَ۝۶۹ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا، فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۝۷۰ اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ،یُسْحَبُوْنَ۝۷۱ فِی الْحَمِیْمِ،ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ۝۷۲
(سُوْرَۃُ حٰـمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۶۹تا۷۲)
(اے رسول) کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو اللہ کی آیتوں (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں، یہ بھٹک کر کہاں جارہے ہیں؟۔ جن لوگوں نے کتاب (اللہ) کو جھٹلایا اور اس چیز کو جھٹلایا جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا انھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا (کہ اس کے جھٹلانے کا انجام کیا ہوتا ہے)۔ جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی اور جب وہ گھسیٹے جائیں گے۔ (یعنی جب وہ) گرم پانی میں (گھسیٹے جائیں گے) پھر آگ میں جھونکے جائیں گے۔
کافروں کا انجام بتانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومنین کا انجام بتایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
(اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا) بے شک نیک لوگ (جنّت میں جائیں گے اور وہاں وہ) گلاسوں میں (ایسی شراب) پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی(عَيْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ يُفَجِرُوْ نَهَا تَفْجِيْرًا) ایک چشمہ ہو گا جس میں سے اللہ کے بندے (شراب) پیتے رہیں گے (اور) اس کی نہریں بھی نکال لیا کریں گے (يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِيْرًا) (یہ اللہ کے بندے وہ ہوں گے جو) اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن کی بُرائی (بڑے وسیع پیمانے پر ہر طرف) پھیلی ہوئی ہوگی۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر کا پورا کرنا اللہ تعالیٰ کو بڑا محبوب ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نذر پوری کرنے کے فعل کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے:
ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۝۲۹
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۲۹)
پھر(قربانی کرنے کے بعد حاجیوں کو چاہیے کہ) نہا دھوکر اپنا میل کچیل دور کریں، اپنی نذروں کو پورا کریں اور بیتِ قدیم (یعنی کعبہ) کا طواف کریں۔
نذر کا پورا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :
خَيْرُكُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ قَالَ عِمْرَانُ لَا اَدْرِىْ ذَكَرَ ثِنْتَيْنِ اَوْ ثَلٰـثًا بَعْدَ قَرْنِهٖ ثُمَّ يَجِیْءُ قَوْمٌ يَنْذُرُوْنَ وَلَا يَفُوْنَ وَيَخُوْنُوْنَ وَلَا يُؤْتَمَنُوْنَ وَيَشْهَدُوْنَ وَلَا یُسْتَشْھَدُوْنَ وَيَظْهَرُ فِيْهِمُ السِّمَنُ
(صحیح بخاری کتاب الایمان والنذور باب اثم من لا يفی بالنذر جزء ۸ صفحہ ۱۷۶ حديث : ۶۶۹۵ / ۶۳۱۷، وصحيح مسلم حديث : ۶۴۷۵ / ۲۵۳۵)
تم میں سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں (یعنی صحابؓہ) پھر جو ان کے قریب ہیں (یعنی تابعینؒ) پھر جو ان کے قریب ہیں (یعنی تبع تابعینؒ) (حدیث کے راوی حضرت) عمران ؓ کہتے ہیں مجھے یاد نہیں رہا آپؐ نے اپنے زمانہ کے بعد ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ دو۲ بار فرمایا تھا یا تین۳ بار۔ پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو نذریں مانگیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے، خیانت کریں گے، امانت دار نہیں ہوں گے اور بغیر گواہی طلب کیے گواہی دیں گے۔ ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔

نذر کے متعلّق جُملہ مسَائِل

نذر کے متعلّق مندرجہ ذیل مسائل گزر چکے ہیں :
۝۱ نذر کو پورا کرناضروری ہے۔
۝۲نذر کو پورا نہ کرنا گناہ ہے۔
۝۳اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ کسی کی نذر کرے اور نہ کسی کی نذر مانے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ،
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۷۳)
بے شک اللہ نے تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر غیر اللہ کا نام لیا جائے حرام کر دی ہے،
۝۴ ایسے کام کی نذر مانے جس کے کرنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہو، ایسے کام کی نذر نہ مانے جس کے کرنے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو یعنی جائز کام کی نذر مانے، ناجائز کام کی نذر نہ مانے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ نَّذَرَ اَنْ يُّطِيْعَ اللهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَّذَرَ اَنْ يَّعْصِيَهٗ فَلَا يَعْصِهٖ
(صحیح بخاری کتاب الایمان والنذور باب النذر فيما لا يملك وفى معصية جزء۸ صفحه ۱۷۷ حديث : ۶۷۰۰ / ۶۳۲۲)
جو شخص اللہ کی اطاعت (یعنی نیک کام) کی نذر مانے وہ اللہ کی اطاعت کرے (یعنی نذرکو پورا کرے) اور جو شخص اللہ کی نافرمانی (گناہ) کی نذر مانے وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے (یعنی ایسی نذر کو پورا نہ کرے)۔
۝۵ ایسی چیز کی نذر نہ مانے جس چیز کا نذر کرنے والا مالک نہ ہو اگر مان لے تو پورا نہ کرے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيْمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ
(صحيح مسلم كتاب النذر باب لا وفاء النذر فی معصية الله جزء ۲ صفحہ ۱۸ حديث : ۴۲۴۵ / ۱۶۴۱)
گناہ کے کام میں نذر کا پورا کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز کی نذر کا پورا کرنا جائز ہے جس چیز کا نذر کرنے والا مالک نہ ہو۔
۝۶ اگر حالت کفر میں نذرمانی ہو تو اسلام قبول کرنے کے بعد اسے پورا کرے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
يَا رَسُولَ اللهِ اِنِّیْ نَذَرْتُ فِی الْجَاهِلِيَّةِ اَنْ اَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ اَوْفِ بِنَذْرِكَ۔
(صحیح بخاری کتاب الايمان والنذور باب اذا نذر او حلف ان لا يكلم انسانا جزء ۸ صفحہ ۱۷۷ حديث : ۶۶۹۷ / ۶۳۱۹، و صحیح مسلم کتاب الایمان باب نذر الكافر وما يفعل فيه اذا اسلم جزء۲ صفحہ ۲۶ حديث : ۴۲۹۲ / ۱۶۵۶)
اے اللہ کے رسولؐ میں نے جاہلیّت کے زمانہ میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا اپنی نذر کو پورا کرو۔
۝۷ مالی نذر نہ مانی جائے، اگر مان لے تو پورا کرے۔
عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:
نَهٰى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ اِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيئًا وَ لٰكِنَّهٗ يُسْتَخْرَجُ بِهٖ مِنَ الْبَخِيْلِ
(صحيح بخاری کتاب الايمان والنذور باب الوفاء بالنذر جزء ۸ صفحہ ۱۷۶ حديث : ۶۶۹۳ / ۶۳۱۵ و صحیح مسلم کتاب التذر باب النهي عن النذر وأنه لا يرد شيئا جزء۲ صفحہ ۱۷ حديث : ۴۲۴۲ / ۱۶۴۰)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے نذر مانے سے منع فرمایا اور کہا کہ نذر سے کچھ نہیں ہوتا جو کچھ تقدیر میں ہوتا ہے نذر اسے پھیر نہیں سکتی ، صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے بخیل (کے مال میں) سے (کچھ روپیہ ) نکل جاتا ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَا تَنْذُرُوْا فَاِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِیْ مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا وَ اِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهٖ مِنَ الْبَخِيْلِ
(صحیح مسلم كتاب النذر باب التي عن النذر جزء ۲ صفحہ ۱۷ حديث : ۴۲۴۱ / ۱۶۴۰، وصحيح بخارى حديث : ۶۶۰۸ / ۶۲۳۴)
(مالی) نذر نہ مانا کرو اس لیے کہ نذر تقدیر کی کسی چیز کو ٹال نہیں سکتی، اتنا ضرور ہوتا ہے کہ (اس بہانے سے) بخیل کا کچھ مال (اللہ کی راہ میں) خرچ ہوجاتا ہے۔
بظاہر اس حدیث سے مالی نذر مانے کی حرمت ثابت ہوتی ہے لیکن
(اِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهٖ مِنَ الْبَخِيْلِ)قرینہ صارفہ ہے جو اس کو حرمت کے دائرے سے نکال دیتا ہے۔
۝۸ایسی نذر نہ مانے جس سے اپنی ذات کو تکلیف دینا لازم آئے اگر مان لے تو اسے پورا نہ کرے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
بَيْنَا النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ اِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَآئِمٍ فَسَاَلَ عَنْهُ فَقَالُوْا اَبُو اِسْرَآئِيْلَ نَذَرَ اَنْ يَّقُوْمَ وَلَا يَقْعُدَ وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ وَيَصُوْمَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ فَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهٗ
(صحيح بخاری کتاب الایمان والنذور باب النذر فيما لا يملك جزء ۸ صفحه ۱۷۸ حديث : ۶۷۰۴ / ۶۳۲۶)
اس حالت میں کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم خطبہ دے رہے تھے آپؐ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ (دھوپ میں) کھڑا ہوا ہے۔ آپؐ نے اس کا حال پوچھا۔ لوگوں نے کہا یہ شخص ابو اسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے گا، نہ بیٹھے گا نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا (نہ کھائے گا نہ پیے گا بلکہ) روزہ رکھے گا۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم فرمایا اس سے کہو کہ بات کرے، سایہ میں بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاٰى شَيْخًايُّهَادٰى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالَ مَا بَالُ هٰذا قَالُوْا نَذَرَ اَنْ يَمْشِیْ قَالَ اِنَّ اللهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهٗ لَغَنِىٌّ اَمَرَهٗ اَنْ يَّرْكَبَ
(صحیح بخارى كتاب الحج باب من نذر المثى الى الكعبة جزء ۳ صفحه ۲۵ حديث : ۱۸۶۵ / ۱۷۶۶، و صحیح مسلم کتاب النذر باب من نذر ان يمشى الى الكعبة جزء ۲ صفحہ ۱۹ حديث : ۴۲۴۷ / ۱۶۴۲)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دونوں بیٹوں کے سہارے چلا جارہا تھا۔ آپؐ پوچھا اس کا کیا حال ہے! لوگوں نے عرض کیا اس نے پیدِل کعبہ کو جانے کی نذر مانی ہے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کو اس بات کی حاجت نہیں کہ یہ اپنے آپ کو تکلیف دے۔ آپؐ نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو جائے۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نَذَرَتْ اُخْتِىْ اَنْ تَمْشِیَ اِلٰى بَيْتِ اللهِ وَ اَمَرَتْنِیْ اَنْ اَسْتَفْتِىَ لَهَا النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُهٗ فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِتَمْشِ وَلِتَرْكَبْ
(صحیح بخارى كتاب الحج باب من نذر المشى الى الكعبة جزء ۳ صفحه ۲۵ حديث : ۱۸۶۶ / ۱۷۶۷ وصحیح مسلم كتاب النذر باب من نذر ان يمشى الى الكعبة جلد۲ صفحہ ۱۹ حديث : ۴۲۵۰ / ۱۶۴۴)

میری بہن نے یہ نذر مانی کہ بیت اللہ تک پیدِل جائے گی، اس نے مجھ سے کہا کہ تم نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم سے یہ مسئلہ پوچھو۔ میں آیا اور آپؐ سے دریافت کیا۔ آپؐ نے فرمایا وہ پیدِل بھی چلے اور سوار بھی ہو جائے۔
۝۹اگر نذر توڑے تو اس کا کفّارہ ادا کرے نذر توڑنے کا کفّارہ وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفّارہ ہے یعنی دس۱۰ مساکین کو اوسط درجہ کا کھانا کھلائے یا دس۱۰ مساکین کو کپڑے پہنائے یا ایک غلام آزاد کرے۔ اگر ان کاموں کی قدرت نہ ہو تو تین۳ روزے رکھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِيْنِ
(صحیح مسلم كتاب النذر باب فِی كفارة النذر جزء ۲ صفحہ ۱۹ حديث : ۴۲۵۳ / ۱۶۴۵)
نذر (توڑنے کا) کفّارہ وہی ہے جو قسم توڑنے کا (کفّارہ) ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَا یُؤَاخِذُڪُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُڪُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ، فَڪَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰڪِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ ڪِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ،فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ،ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ،
(سُوْرَۃُ الْمَآئِدَۃِ: ۵، آیت : ۸۹)
(اے ایمان والو) اللہ تمھاری لغو قسموں (کے توڑنے) پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں کرے گا لیکن ان قسموں (کے توڑنے) پر (ضرور) تم سے مواخذہ کرے گا جن قسموں کو تم نے پختہ کیا ہو، (ایسی) قسموں (کے توڑنے) کا کفّارہ دس۱۰ مسکینوں کو اوسط درجے کا ایسا کھانا کھلانا ہے جو (عمومًا) تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو یا انھیں کپڑے پہنانا ہے یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس شخص کو یہ چیزیں میسّر نہ ہوں تو وہ تین۳ روزے رکھے، یہ تمھاری قسموں کا کفّارہ ہے جب کہ تم (پختہ) قسم کھا لو،
۝۱۰اگر نذر کسی گناہ کے کام کی مانی ہو تو اس نذر کوضرور توڑ دے اور اس کا کفّارہ ادا کرے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَا نَذَرَفِیْ مَعْصِيَةِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ وَكَفَّارَتُهٗ كَفَّارَةُ يَمِيْنِ
(رواه احمد حديث : ۲۶۶۲۶ / ۲۴۹۴۶ / ۲۶۰۹۸ / ۵۳۶۵، عن عائشه الصديقة الطاهرة المطهرة وسندہ صحیح ۔ بلوغ الامانی جزء ۱۴ صفحہ ۱۸۷۔ وسنن ترمذى حديث : ۱۵۲۵ / ۱۶۰۴، وسنن الكبرىٰ للبيهقى حديث : ۲۰۰۶۸ / ۲۰۰۶۲)
اللہ عزوجل کی نافرمانی کی کوئی نذر پوری نہ کی جائے۔ (اس کو توڑ دیا جائے) توڑنے کا کفّارہ وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفّارہ ہے۔
۝۱۱ اگر بیت المقدّس میں نماز پڑھنے کی نذر مانے تو مسجد الحرام میں نماز پڑھ لے، نذر پوری ہو جائے گی۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
اَنَّ رَجُلًا قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اِنّي نَذَرْتُ لِلّٰهِ اِنْ فَتَحَ اللهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ اَنْ اُصَلِّی فِیْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ صَالِ فَهُنَا ثُمَّ اَمَا دَ عَلَيْهِ قَالَ صَلِّ هٰهُنَا ثُمَّ اَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ شَاْنُكَ اِذًا
(ابوداؤ د كتاب الايمان والنذور باب من نذر ان یصلی فی بیت المقدّس جزء ۲ صفحہ ۱۱۲ وسندہ صحیح، التعلیقات جزء۲ صفحہ ۱۰۲۵ حديث : ۳۴۴۰، وسنن دارمى حديث : ۲۳۸۴ / ۲۲۳۴ / ۲۳۷۶ / ۲۲۶۳، ومعرفة السنن والآثار البيهقى حديث : ۱۹۷۰۷) ایک شخص نے فتح (مکّہ) کے دن کھڑے ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اللہ (جل جلالہ) کے لیے نذر مانی ہے کہ اگر مکّہ پر اللہ تعالیٰ آپؐ کو فتح دے گا تو میں بیت المقدّس میں دو۲ رکعت نماز پڑھوں گا۔ آپؐ نے فرمایا اس جگہ پڑھ لو (یعنی مسجد الحرام میں پڑھ لو) اس نے دوبارہ پوچھا آپؐ نے فرمایا یہیں پڑھ لو۔ اس نے تیسری مرتبہ پوچھا تو آپؐ نے فرمایا تو پھر تم جانو۔
۝۱۲ اگر کوئی شخص اپنی نذر کو اپنی زندگی میں پورا نہ کر سکے تو اس کے ورثاء کو چاہیے کہ اس کی نذر کو پورا کریں۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
اَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْاَنْصَارِىَّ اسْتَفْتٰىَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِىْ نَذْرٍ كَانَ عَلٰى اُمِّهٖ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ اَنْ تَقْضِيَهُ فَافْتَاهُ اَنْ يَّقْضِيَهُ عَنْهَا
(صحیح بخاری کتاب الایمان و نذور باب من مات و عليه نذر جزء ۸ صفحہ ۱۷۷ حديث : ۶۶۹۸ / ۶۳۲۰، وصحيح مسلم حديث : ۴۲۳۵ / ۱۶۳۸)
سعد بن عبادہ انصاریؓ نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم سے پوچھا میری والدہ پر ایک نذر تھی جس کو ادا کرنے سے پہلے وہ فوت ہو گئیں۔ آپؐ نے فرمایا تم ان کی طرف سے اس نذر کو پورا کرو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
اَتٰى رَجُلٌ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهٗ اِنَّ أُخْتِىْ نَذَرَتْ اَنْ تَحُجَّ وَاِنَّهَا مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ اَكُنْتَ قَاضِيَهٗ قَالَ نَعَمْ فَاقْضِ اللّٰهَ فَهُوَ اَحَقُّ بِالْقَضَآءَ
(صحیح بخاری کتاب الايمان والنذور باب من مات و علیه نذار جزء ۸ صفحہ ۱۸۷ حديث : ۶۶۹۹ / ۶۳۲۱)
ایک شخص نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس آیا کہنے لگا میری بہن نے حج کی نذر مانی تھی لیکن وہ (حج کرنے سے پہلے ) مرگئی، آپؐ نے فرمایا اگر اس پر کچھ قرضہ ہوتا تو تم ادا کرتے (یا نہیں)؟ اس شخص نے کہا جی ہاں ادا کرتا۔ آپؐ نے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اس لیے کہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔
نیک لوگوں کی صفات کا بیان جاری رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
(وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِیْرًا) اور جو کھانے کی خواہش رکھتے ہوئے (اپنا) کھانا مسکین کو یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے ہیں (اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوْرًا) (اور کھانا کھلاتے وقت ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں تم سے ہم نہ کسی بدلے کے طلب گار ہیں اور نہ کسی شکریہ کے (اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبَّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْرًا) ہمیں تو اپنے ربّ سے اس دن کا ڈر ہے جو دن (لوگوں کے) چہرے بگاڑ دے گا اور جو بڑا سخت (اور پریشان کن) ہوگا (ہم اس لیے کھانا کھلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس دن ہم سے خوش ہو، ہم پر رحم فرمائے اور ہمیں جنّت میں داخل کر دے)۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَآءُ جَمِيْعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالَ يَا عَآئِشَةُ الْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یَّنْظُرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ۔
(صحیح مسلم كتاب الجنة باب فناء الدنيا جزء ۲ صفحہ ۵۴۰ حديث : ۷۱۹۸ / ۲۸۵۹، وصحيح بخارى حديث : ۶۵۲۷ / ۶۱۶۲)
میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے سنا آپؐ فرماتے تھے قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنے کے جمع کیے جائیں گے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مرد اور عورت ایک ساتھ ہوں گے تو ایک دوسرے کو دیکھے گا۔ آپؐ نے فرمایا اے عائشہ (اس دن) ایسی مصیبت (طاری) ہوگی کہ کوئی کسی کو نہ دیکھے گا۔
حدیث گویا قمطریر کی تفسیر ہے اور قیامت کی ہولنا کی کی ایک تصویر ہے۔
آگے فرمایا
(فَوَقٰهُمُ اللهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقّٰهُمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًا) اللہ ان کو (ان کے ان نیک اعمال کے صلے میں) اس دن کی بُرائی سے بچالے گا اور تر و تازگی اور سرور سے ان کو بہرہ ور کرے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ۝۲۲ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ۝۲۳
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۲۲تا ۲۳)
اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ ہوں گے. وہ اپنے ربّ کو دیکھ رہے ہوں گے.
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
يَبْقٰى رَجُلٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَهُوَ اٰخِرُ اَهْلِ النَّارِ دُخُوْلًا الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهٖ قِبَلَ النَّارِ فَيَقُوْلُ يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِیْ عَنِ النَّارِ قَدُ قَشَبَنِىْ رِيْحُهَا وَاَحْرَقَنِىْ ذَكَآءُهَا فَيَقُوْلُ هَلْ عَسَيْتَ اِنْ فُعِلَ ذٰلِكَ بِكَ اَنْ تَسْاَلَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَيَقُوْلُ لَا وَعِزَّتِكَ فَيُعْطِى اللهَ عَزَّوَجَلَّ مَا يَشَآءُ مِنْ عَهْدٍ وَّ مِيْثَاقٍ فَيَصْرِفُ اللهُ وَجْهَهٗ عَنِ النَّارِ فَاِذَا اَقْبَلَ بِهٖ عَلَى الْجَنَّةِ رَاٰى بَهْجَتَهَا سَكَتَ مَا شَآءَ اللهُ اَنْ يَّسْكُتَ ثُمَّ قَالَ يَا رَبِّ قَدِّ مْنِىْ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللّٰہ لَهٗ اَلَيْسَ قَدْ اَعْطَيْتَ الْعُهُوْدَ وَالْمِيْثَاقَ اَنْ لَّا تَسَاَلَ غَيْرَ الَّذِیْ ڪُنْتَ سَاَلْتَ فَيَقُوْلُ يَا رَبِّ لَاۤ اَكُوْنُ اَشْقٰى خَلْقِكَ فَيَقُوْلُ فَمَا عَسِيْتَ اِنْ اُعْطِيْتَ ذٰلِكَ اَنْ لَّا تَسَالَ غَيْرَهٗ فَيَقُوْلُ لَا وَعِزَّتِكَ لَا اَسْئَالُكَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَيُعْطَىْ رَبَّهٗ مَا شَآءَ مِنْ عَهْدِ وَمِيْثَاقٍ فَيُقَدِّمُهٗ اِلٰى بَابِ الْجَنَّةِ فَاِذَا بَلَغَ بَابَھَا فَرَاٰی زَهْرَتَهَا وَمَا فِيْهَا مِنَ النَّضْرَةِ وَالسُّرُوْرِ فَيَسْكُتُ مَاشَآءَ اللّٰہُ اَنْ يَّسْكُتَ فَيَقُوْلُ يَا رَبِّ اَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ فَيَقُوْلُ اللهُ عَزّوَجَلَّ وَیَحَكَ یَا ابْنَ اٰدَمَ مَا اَغْدَرَكَ اَلَيْسَ قَدْ اَعْطَيْتَ الْعُهُوْدَ وَ الْمِيْثَاقَ اَنْ لَّا تَسَاَلَ غَيْرَ الَّذِیْ اُعْطِيْتَ فَيَقُوْلُ يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِیْ اَشْقٰى خَلْقِكَ فَيَضْحَكُ اللهِ مِنْهُ ثُمَّ يَاْذَنُ لَهٗ فِیْ دَخُوْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُوْلُ تَمَنَّ فَيَتَمَنٰى حَتّٰى اِذَا انْقَطَعَ اُمْنِيَّتُهٗ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا اَقْبَلَ يُذَكِّرُهٗ رَبُّهٗ حَتّٰى اِذَا انْتَهَتْ بِهٖ الْاَمَانِیُّ قَالَ اللّٰہُ لَكَ ذٰلِكَ وَ مِثْلُهٗ مَعَهٗ
(صحیح بخاری کتاب الصلوة باب فضل السجود جز اوّل صفحہ ۲۰۴ حديث : ۸۰۶ / ۷۷۳، وصحيح مسلم حديث : ۴۵۱ / ۱۸۲)
(جو لوگ صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے وہ جہنّم سے نکال لیے جائیں گے اور جنّت میں داخل کر دیے جائیں) ایک شخص بہشت اور دوزخ کے بیچ میں رہ جائے گا، وہ سب دوزخیوں کے بعد بہشت میں جائے گا۔ اس کا منھ دوزخ کی طرف ہو گا، وہ عرض کرے گا میرے مالک میرا منھ دوزخ کی طرف سے پھیر دے کیوں کہ اس کی لپٹ نے میری حالت خراب کردی ہے اور اس کا شعلہ مجھے جلائے دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچّھا اگر میں ایسا کردوں تو پھر تو تو کوئی درخواست نہیں کرے گا۔ وہ عرض کرے گا: تیری بزرگی کی قسم (ہرگز) نہیں۔ پھر وہ عہد و پیمان کرے گا جیسے عہد و پیمان اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا منھ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا۔ جب وہ بہشت کی طرف منھ کرے گا تو وہاں کی بہار (تر و تازگی) دیکھ کر جتنی دیر، اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا خاموش رہے گا۔ پھر عرض کرے گا اے میرے ربّ! مجھ کو بہشت کے دروازے تک پہنچادے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے تو عہد و پیمان کیا تھا کہ تو اور کوئی درخواست نہیں کرے گا۔ وہ عرض کرے گا اے میرے ربّ! میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بد بخت ہونا نہیں (چاہتا) ارشاد ہوگا: اگر میں یہ درخواست تیری پوری کر دوں تو پھر تو اور کوئی درخواست تو نہیں کرے گا۔ وہ عرض کرے گا (ہرگز نہیں، تیری بزرگی کی قسم میں اب کچھ نہیں مانگوں گا پھر جو اللہ کو منظور ہو گا وہ عہد و پیمان کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو بہشت کے دروازے پر پہنچا دے گا۔ جب بہشت کے دروازے پر پہنچے گا تو وہاں کی بہار (رونق) تر و تازگی، فرحت دیکھ کر جتنی دیر اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا وہ خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا اے میرے ربّ! مجھ کو بہشت میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا آدم کے بیٹے! تجھ پر افسوس تو کیال بدعہد ہے۔ کیا تو نے عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ اب تو کوئی اور چیز نہیں مانگے گا۔ وہ عرض کرے گا (بے شک عہد و پیمان کیا تھا) لیکن اے میرے ربّ! مجھ کو اپنی ساری مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ بنا۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ہنسے گا اور اس کو بہشت میں جانے کی اجازت دے دے گا اور فرمائے گا آرزو کر۔ جب اس کی سب آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو ارشاد ہو گا: یہ بھی تو مانگ، یہ بھی تو مانگ، اللہ تعالیٰ خود اس کو یاد دِلائے گا۔ جب اس کی سب آرزوئیں پوری ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب چیزیں تجھ کو دیں اور اتنی ہی اور ۔
جنّت کی تر و تازگی، رونق اور بہار جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے وہ گویا
نَضْرَةً وَسُرُوْرًا کی تفسیر ہے۔
آگے فرمایا
(وَجَزٰـهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّحَرِيْرًا) اور (دنیا میں) جو صبر وہ کرتے رہے (اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر جمے رہے) اس کے بدلے میں اللہ انھیں جنّت اور ریشمی کپڑے عطا فرمائے گا (مُتَّكِئِيْنَ فِيْهَا عَلَى الْاَرَ آئِكِ لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسَاوَّ لَا زَمْهَرِيْرًا) وہ اس (جنّت) میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے، وہاں انھیں نہ گرمی محسوس ہوگی اور نہ سروی(وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰـلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا) جنّت (کے درختوں) کے سائے ان پر جھک رہے ہوں گے اور اس کے (پھلوں کے) خوشے لٹک رہے ہوں گے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ فِی الْجَنَّةِ لَشَجَرَةٌ يَسِيْرُا الرَّاكِبُ فِیْ ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ
(صحيح بخارى كتاب بدء الخلق باب ما جاء فى صفة الجنة جزء ۴ صفحہ ۱۴۴ حديث : ۳۲۵۲ / ۳۰۸۰، وصحيح مسلم حديث :۷۱۳۶ /۲۸۲۶)
جنّت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو۱۰۰ برس تک چلتا رہے گا۔
آگے فرمایا
(وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَ اَکْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيْرَا۠) ان پر چاندی کے برتنوں اور شیشے کے گلاسوں کا دور چل رہا ہو گا(قَوَارِيْرَا۠ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا) وہ شیشہ (ایسا نہیں ہو گا جیسا دنیا میں ہوتا ہے بلکہ وہ) چاندی کا بنا ہوا (صاف شفاف) ہوگا (فرشتوں نے ان برتنوں اور گلاسوں کو) ایک خاص اندازے پر ڈھالا ہوگا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلٰى صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّذِيْنَ عَلٰى اِثْرِهِمْ كَاَشَدَّ كَوْكَبٍ اِضَاءَةً، قُلُوبُهُمْ عَلٰى قَلْبٍ رَجُلٍ وَاحِدٍ، لَا اخْتَلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ لِكُلِّ امْرِیءٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا يُرٰى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَّرَآءِ لَحْمِهَا مِنَ الْحُسْنِ، يُسَبِّحُوْنَ اللهَ بُڪْرَةً وَّعَشِيًّا لَايَسْقَمُوْنَ وَلَا يَمْتَخِطُوْنَ وَلَا يَبْصُقُوْنَ، اٰنِيَتُهُمُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ وَاَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَقُوْدُ مَجَا مِرِهِمِ الْاَ لُوَّةُ
(صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب ما جاء فى صفة الجنة جزء ۴ صفحہ ۱۴۳ حديث : ۳۲۴۶ / ۳۰۷۴، وصحيح مسلم حديث: ۷۱۴۹ /۲۸۳۴، وحديث : ۷۱۵۱ / ۲۸۳۴)
پہلے گروہ کے لوگ جو جنّت میں جائیں گے وہ چودہویں رات کے چاند کی طرح (چمک رہے) ہوں گے۔ ان کے بعد جو لوگ جائیں گے وہ بہت چمک دار ستارے کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ ان کے دِل ایک ہی آدمی کے دِل کی طرح ہوں گے۔ ان میں نہ کوئی اختلاف ہوگا اور نہ بعض۔ ان میں ہر ایک کو دو۲ بیویاں ملیں گی۔ حسن کی وجہ سے ان کی پنڈلی کا مغز گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا۔ وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کریں گے۔ نہ بیمار ہوں گے، نہ ناک سنکیں گے اور نہ تھوکیں گے۔ ان کے برتن سونے اور چاندی کے ہوں گے، کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن اگر کی لکڑی ہوگی۔
یہ حدیث گویا
(باٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ) کی تفسیر ہے۔
آگے فرمایا
(وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا) وہاں جنّتی ایسے جام بھی پئیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی(عَيْنًا فِيْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِيْلًا) (سونٹھ کے پانی کا) جنّت میں ایک چشمہ ہو گا جس کا نام سلسبیل ہو گاوَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا) ان کے اردگردِ لڑکے پھرتے ہوں گے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے، (اے رسول) جب آپؐ انھیں دیکھیں گے تو یہ خیال کریں گے کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں (یعنی ان کی خوب صُورتی ، چمک و دمک اور آب و تاب کو دیکھ کر آپؐ یہ خیال کریں گے کہ یہ موتی ہیں)۔
ا
وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ۝۲۴
(سُوْرَۃُ الطُّوْرِ: ۵۲، آیت : ۲۴)

ان کے غلام ان کے پاس آتے جاتے رہیں گے (وہ اتنے حسین ہوں گے) گویا وہ چُھپائے ہوئے (آب دار) موتی ہیں.
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ.
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ / اِذَاوَقَعَتِ: ۵۶، آیت : ۱۷)
ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہنے والے لڑکے ان کے پاس آتے جاتے رہیں گے۔
آگے فرمایا
(وَاِذَا رَاَيْتَ ثُمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًاوَّ مُلْكًا كَبِيْرًا) اور (اے رسول) جب آپ (جنّت کو) دیکھیں گے تو آپ دیکھیں گے (کہ وہ ایک بہت بڑی) نعمت اور ایک (بہت ہی) بڑی سلطنت ہے (عٰلِیَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ) ان کے جسم پر سبز ریشمی (لباس) اور زربفت کے کپڑے ہوں گے (وَحُلُّوْاۤ اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ وَسَقٰهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا) ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا ربّ انھیں پاکیزہ شراب پلائے گا(اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّكَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا) (پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا) یہ تمھارے لیے (تمھارے نیک عملوں کا) بدلہ ہے تمھارے عمل (اللہ تعالیٰ کے ہاں) مقبول ہوئے (اور تمھاری کوشش کی قدر دانی کی گئی)۔
عمل
اے ایمان والو! اپنی نذروں کو پورا کیا کیجیے، قیامت سے ڈرتے رہا کیجیے ،مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلایا کیجیے اور ان پر کسی قسم کا احسان نہ رکھا کیجیے، نہ ان سے کسی قسم کے صلے کے طلب گار رہیے محض اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے انھیں کھانا کھلایا کیجیے، احکامِ الہٰی پر جمے رہیے اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے کوشش کرتے رہیے۔ جنّت کی جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں ان کے حصول کے لیے کوشش کیجیے۔

<
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْڪَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًا۝۲۳ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ ڪَفُوْرًا۝۲۴ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا۝۲۵ وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا۝۲۶ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا۝۲۷ نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ،وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا۝۲۸ اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ، فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّهٖ سَبِیْلًا۝۲۹ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ، اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۝۳۰ یُدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ،وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۝۳۱
<

ترجمہ: (اے رسول) ہم نے قرآن کو آپ پر نازل کیا ہے۝۲۳ لہٰذا آپ اپنے ربّ کے حکم پر جمے رہیے اور ان میں سے کسی گناہ گار یا ناشکرے کا کہنا نہ مانیے۝۲۴ صبح و شام اپنے ربّ کے نام کا ذِکر کرتے رہیے۝۲۵ اور رات کو بھی بڑی دیر تک سجدے کیا کیجیے اور تسبیح پڑھتے رہا کیجیے۝۲۶ یہ (کافر تو) دنیا سے محبّت کرتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو انوتں نے پسِ پشت ڈال رکھا ہے۝۲۷ ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور (ہم ہی نے) ان کے جوڑوں کو مضبوط بنایا ہے اور ہم جب چاہیں ان کے بدلے میں ان ہی جیسے (اور آدمی) پیدا کر دیں۝۲۸ یہ ایک نصیحت ہے تو جس کا جِی چاہے اپنے ربّ کی طرف پہنچنے کا راستہ اختیار کرے (اور جس کا جِی چاہے نہ کرے)۝۲۹ اور (اے لوگو) تمھارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا مگر یہ کہ اللہ چاہے بےشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۝۳۰ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے (اللہ ظالموں کو رحمت میں داخل نہیں کرتا) ظالموں کےلیے (تو) اُس نے دردناک عذاب تیّار کر رکھا ہے۝۳۱

<

معانی و مصادر:(اٰثِمٌ) اَثِمَ، يَأْثَمُ، اِثْمٌ و اَثْمٌ وَ اَثَامٌ و مَأْثَمٌ (س) گناہ کرنا۔ (اٰثِمٌ= گناہ کرنے والا)۔
(بُکْرَۃٌ) بَکَرَ، یَبْکُرُ، بُكُوْرٌ (ن) صبح کو آنا، آگے آنا، صبح کے وقت کوئی کام کرنا۔ (بُکْرَۃٌ =صبح)
(اَصِيْلٌ) اَصِيْلٌ= شام۔
(اَسْرٌ) اَسَرَ، یَاْسِرُ، اَسْرٌ و اِسَارَةٌ (ض) بیڑی میں جکڑ نا۔(اَسْرٌ= پیوند، رسّی، قیدی، جوڑ)
(اَعَدَّ) اَعَدَّ، يُعدُّ، اِعْدَادٌ (باب افعال) تیّار کرنا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے( اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا) (اے رسول) ہم نے قرآن کو آپ پر نازل کیا ہے(فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ کَفُوْرًا) لہٰذا آپ اپنے ربّ کے حکم پر جمے رہیے اور ان میں سے کسی گناہ گار یا ناشکرے کا کہنا نہ مانیے (جو قرآن مجید نازل کرنے والا ہے حکم اُسی کا چلے گا۔ اُس کے حکم کے خلاف کسی کی بات نہ مانیے) (وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا) اور (اے رسول) صبح و شام اپنے ربّ کے نام کا ذِکر کرتے رہیے، (وَ مِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا)اور رات کو بھی بڑی دیر تک اُس کے سامنے سجدہ کیا کیجیے اور تسبیح پڑھتے رہا کیجیے (یعنی رات کے وقت نماز پڑھتے رہا کیجیے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہا کیجیے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ۝۴۰
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۴۰)
اور رات میں بھی کچھ دیر اُس کی تسبیح پڑھا کیجیے اور نماز کے بعد بھی۔
آگے فرمایا
(اِنَّ هٰۤؤُلَاۤءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيْلًا) یہ (کافر) تو (بس) دنیا سے محبّت کرتے ہیں (قیامت کے) بھاری دن کو انھوں نے پسِ پشت ڈال رکھا ہے (اس لیے ان کو آخرت کی فکر نہیں ہے، پس دنیا طلبی میں گرفتار ہیں لیکن یہ دنیا ان کے کام نہیں آئے گی اور وہ شدید نقصان میں مبتلا ہوں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ۝۱۵ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ،وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا ڪَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۝۱۶
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۱۵ تا ۱۶)
(اور اگر تم دنیا کی خاطر اسلام قبول کرنے کےلیے تیّار نہ ہو تو اس بات کو اچّھی طرح سمجھ لو کہ) جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوتے ہیں تو ہم ان کو ان کے اعمال کا صلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیتے ہیں، ان کے صلے میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جاتی۔ (لیکن) ایسے لوگوں کےلیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں، جو عمل انھوں نے دنیا میں کیے تھے سب رائے گاں ہو گئے اور جو کچھ وہ (دنیا میں) کرتے رہے تھے سب باطل (و بے سود) تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ۝۱ اَلَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗ۝۲ یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ۝۳ كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ۝۴
(سُوْرَۃُ وَیْلٌ لِّکُلِّ : ۱۰۴، آیت : ۱تا۴)
ہر غیبت کرنے والے اور منھ دَر منھ عیب نکالنے والے کی (بڑی) خرابی ہے۔ جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گنتا رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے حیاتِ جاودانی بخشے گا۔ ہرگز نہیں، وہ ضرور حطمہ(یعنی دوزخ) میں پھینکا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰی۝۱۱
(سُوْرَۃُ وَالَّیْلِ اِذا یَغْشٰی: ۹۲، آیت : اا)
اور جب وہ (دوزخ میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا۝۱۶ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی۝۱۷
(سُوْرَۃُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّـكَ الْاَ عْلٰی: ۸۷، آیت : ۱۶تا۱۷)
(اے لوگو، تم آخرت کی زندگی کو ترجیح نہیں دیتے) بلکہ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔
قیامت کو بھاری دن اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بہت ہولناک دن ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّڪُمْ،اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ۝۱ یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَی النَّاسَ سُكٰرٰی وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰی وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ۝۲
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۱تا ۲)
اے لوگو! اپنے ربّ سے ڈرو، قیامت کا زلزلہ (بہت) بڑی چیز ہے۔ (اے رسول) جس دن آپ اسے دیکھیں گے (تو آپ دیکھیں گے کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے شیر خوار (بچّے) کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ (نشے میں) مدہوش ہیں حالانکہ وہ (نشے میں) مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب (اتنا) سخت ہو گا (کہ اس کو دیکھ کر وہ مدہوش ہو جائیں گے)۔
آگے فرمایا
(نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِيْلًا) ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور (ہم ہی نے) ان کے جوڑوں کو مضبوط بنایا ہے اور ہم جب چاہیں ان کے بدلے میں ان ہی جیسے (اور آدمی) پیدا کر دیں۔
کافر قیامت پر ایمان نہیں لاتے۔ وہ دوبارہ زندہ ہونے کو بعید از عقل سمجھتے ہیں۔ وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور اس کے جوڑوں کو (جو بظاہر بڑے نازک معلوم ہوتے ہیں) مضبوط بنایا، کیا وہ ان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا اور زندہ کرنا تو کجا وہ تو ان جیسے دوسرے آدمی بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اُسے ہر قسم کی قدرت حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ،وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰی ذٰلِڪَ قَدِیْرًا۝۱۳۳
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۱۳۳)
اے لوگو، (اُس کو قدرت ہے کہ) اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور دوسرے لوگوں کو پیدا کر دے اور (یہ ہی کیا) اللہ تو ہر کام پر قادر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ،اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ۝۱۹ وَ مَا ذٰلِڪَ عَلَی اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ۝۲۰
(سُوْرَۃُ اِبْرَاھِیْمَ: ۱۴، آیت : ۱۹ تا ۲۰)
(اے رسول) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا (ان کا پیدا کرنا بے مقصد نہیں ہے، تو کیا جو اللہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کر سکتا ہے وہ یہ نہیں کر سکتا کہ) اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور کوئی نئی مخلوق پیدا کر دے۔ اور یہ چیز اللہ کےلیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔
آگے فرمایا (اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا)[/arb][urdu] یہ ایک نصیحت ہے تو اب جس کا جی چاہے اپنے ربّ کی طرف پہنچنے کا راستہ اختیار کرے (اور جس کا جی چاہے اختیار نہ کرے)۔
اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں سے آگاہ کر دیا، ہر قسم کی نصیحت بھی کر دی پھر بھی اگر کوئی شخص نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو وہ خود اپنی تباہی کا ذِمّہ دار ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاڪِرًا وَّ اِمَّا ڪَفُوْرًا۝۳
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ/ الدَّهْرِ: ۷۶، آیت : ۳)
پھر ہم نے اسے سیدھا راستہ بتا دیا (پھر اسے اختیار دیا کہ وہ) چاہے تو شکر گزار بن جائے یا ناشکرا بن جائے۔
آگے فرمایا
(وَمَا تَشَآءُونَ اِلَّا اَنْ یَّشَآءَ اللهُ اِنَّ اللهَ، كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا) اور (اے لوگو) تمھارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا مگر یہ کہ اللہ چاہے (جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے) بے شک اللہ جانےک والا ہے، حکمت والا ہے (وہ ہر چیز کی مصلحت و حکمت کو خوب جانتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے اپنی مصلحت و حکمت کے مطابق ہی کرتا ہے۔ انسان کو اس کی حکمت اورمصلحت کا کیا علم)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۝۲۹
(سُوْرَۃُ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ/تکویر: ۸۱، آیت : ۲۹)
اور (اے لوگو) تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو اللہ ربُّ العالمین چاہے۔
حضرت قتیلہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اَنَّ يَهُوْدِيًّا اَتَى النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنَّكُمْ تُنَدِّرُوْنَ وَ اِنَّكُمْ تُشْرِكُوْنَ تَقُوْلُوْنَ مَا شَآءَ اللّٰہُ وَ شِئْتَ وَ تَقُوْلُوْنَ وَالْكَعْبَةِ فَاَمَرَهُمُ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَرَادُوْا اَنْ يَحْلِفُوْا اَنْ يَّقُوْلُوْا وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ وَيَقُوْلُ اَحَدٌ مَا شَآءَ اللهُ ثُمَّ شِئْتَ
(نسائی کتاب الایمان والنذور باب الحلف بالكعبة جزء۲ صفحہ ۱۲۴ حديث : ۳۸۰۴ / ۳۷۷۳ وسندہ صحیح، نیل الاوطار جزء ۸ صفحه ۱۸۹ حديث : ۳۸۲۰، ومسند احمد حديث : ۲۷۶۳۳ / ۲۵۸۸۹ / ۲۷۰۹۳ / ۵۳۰۱، ومستدرك حاكم حديث : ۷۸۱۵ / ۸۰۰۹)
ایک یہودی نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس آیا اور کہنے لگا تم اللہ کا شریک بناتے ہو اور تم اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہو۔ تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور آپؐ چاہیں (یہ تو آپؐ کو اللہ کا شریک بنانا ہے) اور تم کہتے ہو: کعبہ کی قسم (یہ اللہ کے ساتھ شرک ہے) رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے (اسی وقت) ایمان والوں کو حکم دیا کہ جب وہ قسم کھایا کریں تو اس طرح کہا کریں: کعبہ کے ربّ کی قسم اور ہر شخص کو چاہیے کہ اس طرح کہا کرے: جو اللہ چاہے پھر آپؐ چاہیں (یعنی جب تک اللہ نہ چاہے کسی کے چاہنے سے کچھ نہیں ہو سکتا)۔
آگے فرمایا
(يُدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ، وَالظّٰلِمِيْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا) وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے (یعنی جو شخص قوانینِ مغفرت کے لحاظ سے رحمت کا مستحق ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ رحمت میں داخل کر لیتا ہے)۔ البتّہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو رحمت میں داخل نہیں کرتا ظالموں کے لیے(تو) اللہ نے دردناک عذاب تیّار کر رکھا ہے۔
عمل
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے حکم پر جمے رہیے، پنج۵ وقتہ نمازیں پڑھتے رہیے، آخرت کی فکر کیجیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے صراطِ مستقیم پر چلتے رہیے۔

سورۂ”ہل اتٰی”/” دہر” کی فضیلت
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اس سورت کو جمعہ کے دن صبح کی نماز کی دوسری رکعت میں تلاوت کیا کرتے تھے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِی الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمْعَةِ بِالٓمّٓ تَنْزِيْلُ فِی الرَّكْعَةِ الْاَوْلٰى وَفِی الثَّانِيَةِ هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْ كُوْرًا
(صحیح مسلم کتاب الجمعة باب ما يقر أفِی يوم الجمعه جزء اوّل صفحہ ۳۴۸ حديث : ۲۰۳۵ / ۸۸۰، وروى البخاری نحوه فى كتاب الجمعة باب ما يقرء فى صلوۃ الفجريوم الجمعة جزء ۲ صفحہ ۵ حديث : ۸۹۱ / ۸۵۱)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں الٓمّٓ تَنْزِيْلُ اور دوسری رکعت میں هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْ كُوْرًا پڑھا کرتے تھے۔

<

Share This Surah, Choose Your Platform!