Surah Al-JIN
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۷۲ -سُوْرَۃُ الْجِنِّ
فہرستِ مضامین
۷۲- سُوْرَۃُ الْجِنِّ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا۱ یَهْدِیْۤ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ،وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا۲ وَ اَنَّهٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًا۳ وَ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَی اللّٰهِ شَطَطًا۴ وَ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا۵ وَ اَنَّهٗ ڪَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا۶ وَ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا ڪَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًا۷ وَ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًا۸ وَ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ،فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا۹ وَ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا۱۰ وَ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ،ڪُنَّا طَرَآىِٕقَ قِدَدًا۱۱ وَ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًا۱۲ وَ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤی اٰمَنَّا بِهٖ،فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًا۱۳ وَ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ،فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓىِٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۱۴ وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَڪَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا۱۵
ترجمہ: (اے رسول) آپ کہہ دیجیے میری طرف وحی آئی ہے کہ جنّوں کی ایک جماعت نے (اس قرآن کو) سنا تو کہنے لگے ہم نے قرآن سنا (جو بڑا ہی) عجیب (ہے)۱ وہ رُشد و ہدایت کا راستہ بتاتا ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور (اب) ہم اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۲ ہمارے ربّ کی شان (بہت) بلند و بالا ہے، اُس نے نہ تو کسی کو (اپنی) بیوی بنایا اور نہ کسی کو بیٹا (یا بیٹی) بنایا۳ البتّہ ہم میں بعض بے وقوف ایسے ہیں جو اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا حق سے دور کا بھی واسطہ نہیں۴ اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ انسان اور جنّ کوئی بھی اللہ کی طرف غلط بات کو منسوب نہیں کرے گا (لیکن ہمارا یہ خیال غلط نکلا)۵ اور انسانوں میں سے بعض انسان، جنّات میں سے بعض جنّات کی پناہ طلب کیا کرتے تھے تو (اس عمل سے) انسانوں نے جنّات کی بداعمالی میں اور اضافہ کر دیا تھا۶ اور جس طرح تمھارا خیال تھا کہ اللہ کسی کو رسول بناکر مبعوث نہیں کرے گا انسانوں کا بھی یہ ہی خیال تھا (لیکن جنّ و اِنس کا یہ خیال غلط نکلا، اللہ نے ایک رسول مبعوث کر دیا)۷ اور (اس بات کی قوی دلیل ہے) یہ کہ جب ہم نے بالائی فضاؤں تک پہنچنا چاہا تو ہم نے اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا۸ اور ہم بالائی فضاؤں میں بہت سے مقامات پر خبریں سننے کےلیے بیٹھا کرتے تھے لیکن اب اگر کوئی جنّ خبریں سننا چاہتا ہے تو وہ اپنے لیے انگارے کو گھات میں بیٹھا ہوا پاتا ہے۹ ہمیں نہیں معلوم کہ (اس سے) زمین والوں کے حق میں کوئی بُرائی مقصود ہے یا ان کے ربّ کو انھیں ہدایت دینا مقصود ہے۱۰ ہم میں سے بعض تو نیک ہیں اوربعض اور طرح کے ہیں، (مزید برآں) ہم فرقے فرقے ہو کر (مختلف) مذاہب پر (عمل پیرا) ہیں۱۱ اور (اب) ہمیں یقین آ گیا ہے کہ ہم اس سرزمین پر اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور نہ (کہیں) بھاگ کر اُس کو عاجز کر سکتے ہیں۱۲ ہم نے ہدایت (کی بات) سنی ہم اُس پر ایمان لے آئے اور جوشخص اپنے ربّ پر ایمان لے آئے پھر اسے نہ (کسی قسم کے) نقصان کا ڈر ہے اور نہ (کسی قسم کی) زیادتی کا خوف۱۳ ہم میں بعض مسلم ہیں اور بعض راہِ راست سے بھٹکے ہوئے، تو جو لوگ اسلام لے آئے تو یہ ہی لوگ ہیں جنھوں نے (راہِ) ہدایت کا قصد کیا (اور اس کو پا لیا)۱۴ اور جو لوگ راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں وہ دوزخ کا ایندھن بن گئے۱۵
معانی ومصادر: (نَفَرٌ) نَفَرٌ= تین۳ سے دس۱۰ تک کی جماعت ۔
(رُشْدٌ) رَشَدَ، يَرْشُدُ، رَشْدٌ و رَشَادٌ (ن) ہدایت یاب ہونا ۔
(شَطَطًا) شَطَّ ، يَشِطٌّ ، شَطَطٌ (ض) زیادتی کرنا ، حق سے دور ہونا۔
(رَهَقٌ) رَهِقَ، يَرْهَقُ، رَهَقٌ (س) پہنچنا، بے وقوف ہونا ، ظلم کرنا، بُرا عمل کرنا۔ (رَهَقٌ = گناہ ، جہالت)
(لَمَسْنَا) لَمَسَ، يَلْمُسُ، لَمْسٌ (ض و ن) چھونا ، طلب کرنا۔
(مُلِئَتْ) مَلَأَ ، يَمْلَأُ ، مَلْأٌ و مَلَأَ ةٌ و مِلَأَ ةٌ (ف) بھرنا ۔
(حَرَسٌ) حَرَسَ، يَحْرُسُ، حَرْسٌ (ن ، ض) حفاظت کرنا۔ (حَرَسٌ = حَارِسٌ کی جمع، چوکیدار)
(شُهُبٌ) شُهُبٌ= شِهَابٌ کی جمع، چنگاریاں، انگارے۔
(رَصَدٌا) رَصَدَ، يَرْصُدُ، رَصْدٌ و رَصَدٌ (ن) گھات میں بیٹھنا، نگرانی کرنا۔ (رَصَدٌ = نگران، یہ لفظ واحد جمع، مذِکر و مونث کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے اگرچہ اس کی جمع اَرْصَادٌ بھی آتی ہے)۔
(رَشَدٌ) رَشِدَ، يَرْشَدُ، رَشَدٌ (س) ہدایت یاب ہونا ۔
(طَرَآئِقِ) طَرَآئِقِ = طَرِيْقَةٌ کی جمع، حالتیں ، سیرتیں)
(قِدَدٌ) قَدَّ، يُقُدُّ، قَدٌّ (ن) چیرنا ، جڑ سے کاٹنا۔(قِدَدٌ: قِدَّۃٌ کی جمع ٹکڑے، فرقے)
(هَرَبٌ) هَرَبَ، يَهْرُبُ، هَرَبٌ و هُرُوْبٌ و مَهْرَبٌ و هَرَبَانٌ (ن) بھا گنا ۔
(بَخْسٌ) بَخَسَ، يَبْخُسُ، بَخْسٌ (ن) کم کرنا۔
(قَاسِطُوْنَ) قَسَطَ، يَقْسِطُ، قَسْطٌ و قُسُوْطٌ (ض) ظلم کرنا اور حق سے ہٹ جانا۔(قَاسِطٌ= ظلم کرنے والا، نا انصافی کرنے والا، راہِ حق سے ہٹ جانے والا)
(تَحَرَّوْا) تَحَرّٰى، يَتَحَرّٰى، تَحَرِّىْ (باب تفعل) قصد کرنا، ظنّ سے صحیح بات تک پہنچنا۔
(حَطَبٌ) حَطَبَ، يَحْطِبُ، حَطْبٌ (ض) لکڑی جمع کرنا۔ (حَطَبٌ = ایندھن)
شانِ نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
اِنْطَلَقَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِیْ طَآئِفَةٍ مِنْ اَصْحَابِهٖ عَامِدِيْنَ اِلٰى سُوْقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيْلَ بَيْنَ الشَّيَاطِيْنِ وَ بَيْنَ خَبَرِ السَّمَآءِ وَاُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِيْنُ اِلٰى قَوْمِهِمْ فَقَالُوْا مَالَڪُمْ فَقَالُوْا حِيْلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَآءِ وَاُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ قَالُوْا مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَآءِ اِلَّا شَیْءٌ حَدَثٌ فَاضْرِبُوْا مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا فَانْظُرُوْا مَا هٰذَا الَّذِیْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَآءِ فَانْصَرَفَ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ تَوَجَّهُوْا نَحْرَ تِهَامَةَ اِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدِيْنَ اِلٰى سُوْقِ عُكَاظٍ وَّ هُوَ يُصَلِّیْ بِاَصْحَابِهٖ صَلٰوةَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوْا لَهُ فَقَالُوْا هٰذَا وَاللهِ الَّذِیَ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَيرِ السَّمَآءِ فَهُنَالِكَ حِيْنَ رَجَعُوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ قَالُوْا يَا قَوْمَنَا اِنَّا سَمِعْنَا قُرُاٰنًاعَجَبًا يَّهْدِىْ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبَّنَا اَحَدًا فَاَنْزَلَ اللهُ عَلَى نَبِيِّهٖ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ اُوْحِىَ اِلَىَّ
(صحیح بخارى كتاب الصلوۃ باب الجهر بقراءة صلاة الفجر جزء اوّل صفحہ ۱۹۵، حديث : ۷۷۳ / ۷۳۹) وصحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب الجهر بالقراءة فى الصبح جزء اوّل صفحہ ۱۸۹، حديث : ۱۰۶ / ۴۴۹)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ سوق عكاظ جانے کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ (یہ وہ زمانہ تھا کہ) شیاطین اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور جب وہ خبریں سننے کے لیے اوپر جاتے تھے تو ان پر انگارے پھینکے جاتے تھے۔ (ایک دن ایسا ہوا کہ جب وہ خبریں سننے کے لیے گئے اور خبریں سن نہ سکے ) تو لوٹ کر اپنی قوم کے پاس آئے تو قوم کے لوگوں نے کہا : کیا خبر لائے۔ انھوں نے جواب دیا ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی ہے۔ ہم پر انگارے پھینکے جاتے ہیں۔ قوم کے لوگوں نے کہا تمھارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان جو چیز حائل ہوئی ہے وہ (ضرور) کوئی نئی چیز ہے تو تم زمین کے مشارق اور مغارب کا سفر کرو اور دیکھو کہ (آخر) وہ کیا چیز ہے جو تمھارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے۔ تو جو لوگ تہامہ کی طرف روانہ ہوئے وہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس پہنچ گئے۔ آپؐ اس وقت نخلہ میں تھے اور وہ سب سوق عکاظ کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب ان جنّات نے قرآن سنا تو اسے غور سے سننے لگے۔ پھر انھوں نے (آپس میں کہا) اللہ کی قسم جو چیز تمھارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے وہ یہ ہی ہے۔ پھر وہاں سے جب وہ اپنی قوم کے پاس پہنچے تو انھوں نے اپنی قوم سے کہا اے ہماری قوم! ہم نے قرآن سنا (جو بڑا ہی عجیب ہے) ہے۔ وہ ہدایت کا راستہ بتاتا ہے۔ ہم اس پر ایمان لائے اور (اب) ہرگز شرک نہیں کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم پر یہ آیتیں نازل فرمائیں: قُلْ اُوْحِیَ اِلَىَّ
تفسیر : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (قُلْ اُوْ حِیَ اِلَىَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًّا عَجَبًا) (اے رسول!) آپ کہہ دیجیے میری طرف وحی آئی ہے کہ جنّات کی ایک جماعت نے (اس قرآن کو) سنا تو کہنے لگے ہم نے قرآن سنا (جو بڑا ہی) عجیب (ہے) (يَهْدِىْۤ اِلَى الرُّشْدِفَاٰ مَنَّا بِهٖ، وَلَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا) وہ رشد و ہدایت کا راستہ بتاتا ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور (اب) ہم اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے (وَاَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّلَا وَلَدًا) ہمارے ربّ کی شان (بہت) بلند و بالا ہے، اس نے نہ تو کسی کو اپنی بیوی بنایا اور نہ کسی کو بیٹا (یا بیٹی) بنایا (وَاَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُ سَفِيْهُنَا عَلَى اللهِ شَطَطًا) البتّہ ہم میں بعض بے وقوف ایسے ہیں جو اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہیں جن کا حق سے دور کا بھی واسطہ نہیں (وَاَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللهِ كَذِبًا) اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ انسان اور جن کوئی بھی اللہ کی طرف غلط بات کو منسوب نہیں کرے گا (لیکن ہمارا یہ خیال غلط نکلا) (وَ اَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا) اور انسانوں میں سے بعض انسان جنّات میں سے بعض جنّات کی پناہ طلب کیا کرتے تھے تو (اس عمل سے) انسانوں نے جنّات کی بد اعمالی میں اور اضافہ کر دیا تھا (وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے، مغرور اور متکبّر ہو گئے تھے) (وَاَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ يَّبْعَثَ اللهُ اَحَدًا) اور (اے جنّو) جس طرح تمھارا خیال تھا کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر مبعوث نہیں کرے گا انسانوں کا بھی یہ ہی خیال تھا (لیکن جنّ و انس کا یہ خیال غلط نکلا، اللہ نے ایک رسول کو مبعوث کر دیا) (وَاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَّ شُهُبًا) اور (اس کی ایک قوی دلیل یہ ہے کہ جب) ہم نے بالائی فضاؤں تک پہنچنا چاہا تو ہم نے اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا (وَاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ، فَمَنْ يَّسْتَمِـعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَا بًارَّصَدًا)اور ہم بالائی فضاؤں میں بہت سے مقامات پر خبریں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے لیکن اب اگر کوئی جنّ خبریں سننا چاہتا ہے تو وہ اپنے لیے انگارے کو گھات میں بیٹھا ہوا پاتا ہے۔
جنّات بادلوں تک پہنچ جایا کرتے تھے اور فرشتوں کی باہمی گفتگو سن لیا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ الْمَلٰٓئِكَةَ تَنْزِلُ فِی الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ فَتَذْكُرُ الْاَمْرَ قُضِیَ فِی السَّمَآءِ فَتَسْتَرِقُ الشَّيٰطِيْنُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُهٗ فَتُوْحِيْهِ اِلَى الْكُهَّانِ فَيَكُذِبُوْنَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ
(صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب ذكر الملئكة جزء ۴صفحہ ۱۳۵، حديث : ۳۲۱۰ / ۳۰۳۸ ، و صحيح مسلم حديث : ۵۸۱۶ / ۲۲۲۸)
بے شک فرشتے عَنان یعنی بادل میں اترتے ہیں اور اس بات کا چرچا کرتے ہیں جس بات کا فیصلہ آسمان میں (اس وقت) ہو چکا ہوتا ہے۔ شیاطین کوئی بات اُچک لے جانے کے لیے کان لگاتے ہیں اور اسے سن لیتے ہیں پھر وہ بات چپکے سے جا کر کاہنوں کو بتا دیتے ہیں پھر کا ہن اپنی طرف سے اس میں سو۱۰۰ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
آگے فرمایا (وَاَنَّا لَا نَدْ رِیْۤ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا) (جنّات نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا) ہمیں نہیں معلوم کہ (اس سے) زمین والوں کے حق میں کوئی بُرائی مقصود ہے یا ان کے ربّ کو انھیں ہدایت دینا مقصود ہے (وَاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّادُوْنَ ذٰلِكَ، كُنَّا طَرَآ ئِقَ قِدَدًا) ہم میں سے بعض تو نیک ہیں اور بعض اور طرح کے ہیں مزید برآں ہم فرقہ فرقہ ہو کر (مختلف) مذاہب پر (عمل پیرا) ہیں (یہ ہم میں بڑی خرابی ہے) (وَاَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُعْجِزَ اللهَ فِی الْاَرْضِ وَلَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًا) اور (اب) ہمیں یقین آ گیا ہے کہ ہم اس سرزمین پر اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور نہ (کہیں) بھاگ کر اُس کو عاجز کر سکتے ہیں (وَاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ، فَمَنْ يُّؤْمِنْ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًاوَّلَا رَهَقًا) ہم نے ہدایت (کی بات) سنی، ہم اُس پر ایمان لائے اور جو شخص بھی اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تو پھر اسے نہ ( کسی قسم کے) نقصان کا ڈر ہے اور نہ (کسی قسم کی) زیادتی کا خوف (ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہو گا) (وَانَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقَاسِطُوْنَ، فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا) ہم میں بعض مسلم ہیں اور بعض راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں تو جو لوگ اسلام قبول کر لیں تو یہ ہی لوگ ہیں جنھوں نے (راہ) ہدایت کا قصد کیا (اور اس کو پالیا) (وَاَمَّا الْقَاسِطُوْنَ فَکَانُوْ الِجَهَنَّمَ حَطَبًا) اور جو لوگ راہِ حق سے ہٹے ہوئے ہیں (انھوں نے اسلام کا راستہ نہیں پایا اور ) وہ دوزخ کا ایندھن بن گئے۔
عمل
اے لوگو! جنّات نے قرآن مجید سنا، ان کے دِل نرم ہو گئے، انھوں نے اپنی غلطیاں تسلیم کیں اور ایمان لے آئے، آپ بھی قرآن مجید کو سن کر دِل کو نرم کر لیجیے اور ایمان لے آیے۔
اے لوگو! شرک نہ کیجیے، اللہ تعالیٰ کی بیوی یا اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا بٹی نہ بنایے۔ اسلؔام قبول کر کے دوزخ سے بچنے کی کوشش کیجیے۔
ترجمہ: اور (اے رسول، لوگوں سے کہہ دیجیے) یہ کہ اگر وہ ملّت (اسلام) پر جمے رہتے تو ہم ان کو فراوانی کے ساتھ پانی سے سیراب کرتے۱۶ تاکہ اس (نعمت) کے ذریعے ان کی آزمائش کریں (لیکن انھوں نے تو اللہ کی بھیجی ہوئی نصیحت ہی سے منھ موڑ لیا تو وہ بارانِ رحمت سے کیسے بہرہ ور ہوتے) اور جوشخص اپنے ربّ کی نصیحت سے منھ موڑ لے تو وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا۱۷ اور (اے لوگو) مساجد تو اللہ کےلیے ہیں لہٰذا (ان میں) اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۱۸ (لیکن اے رسول، یہ لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارنا نہیں چھوڑتے) بلکہ یہ (تو یہاں تک کر گزرتے ہیں کہ) جب اللہ کا بندہ (رسول) اللہ کو پکارنے کےلیے کھڑا ہوتا ہے تو جمع ہو کر اس پر ٹھٹّھے لگاتے ہیں۱۹ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے میں تو اپنے ربّ کو پکارتا ہوں اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۲۰ آپ (یہ بھی) کہہ دیجیے کہ میں تمھارے نقصان اور نفع کا مالک نہیں ہوں۲۱ اور (اے رسول، یہ بھی) کہہ دیجیے کہ (اگر میں شرک کروں تو) مجھے اللہ سے کوئی بچا نہیں سکے گا اور مجھے اُس کے علاوہ کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۲۲ (میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا اور نہ مجھے کہنے کا اختیار ہے) مگر ہاں میں اللہ کی طرف سے (اُس کے احکام کی) تبلیغ (کر رہا ہوں) اور اُس کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور (سن لو کہ) جوشخص اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کےلیے دوزخ کی آگ ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۲۳ (اور اے رسول، یہ لوگ اپنی تعداد اور اپنے مددگار پر ناز کرتے ہیں تو انھیں ناز کر لینے دیجیے) یہاں تک (کہ وہ وقت آجائے) جب یہ (اپنی آنکھوں سے وہ چیز) دیکھ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے پھر (اس وقت) انھیں معلوم ہو گا کہ مددگاروں کے لحاظ سے کون کمزور ہے اور تعداد کے لحاظ سے کون کم ہے۲۴ (اور اے رسول، ان سے) کہہ دیجیے کہ میں نہیں جانتا کہ جس (عذاب) کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا ربّ اس کی میعاد کو (اور دراز) کرنے والا ہے۲۵ غیب کا جاننے والا وہ ہی ہے اور وہ اپنا غیب کسی پر ظاہر بھی نہیں کرتا۲۶ مگر ہاں صرف اپنے برگزیدہ رسول پر ظاہر کرتا ہے (اور جب وہ ایسا کرتا ہے) تو وہ اس رسول کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرّر کر دیتا ہے۲۷ تاکہ وہ دیکھ لے کہ رسولوں نے اپنے ربّ کے پیغامات کو (بے کم و کاست) پہنچا دیا ہے اور (ویسے تو) اللہ (ہر اس چیز کا) جو ان کے پاس ہوتی ہے احاطہ کر لیتا ہے اور ہر ایک چیز کی تعداد کو وہ گِن لیتا ہے (لہٰذا وہ ضائع نہیں ہو سکتی) ۲۸
معانی ومصادر: (غَدَقٌ) غَدِقَ، يَغْدَقُ، غَدَقٌ (س) زیادہ ہونا ۔
(يَسْلُكُ) سَلَكَ، يَسْلُكُ، سَلْكٌ و سُلُوْكٌ (ن) داخل ہونا، داخل کرنا، پرونا، راستہ پر چلنا۔
(صَعَدٌ) صَعِدَ، يَصْعَدُ، صُعُودٌ و صَعَدٌ وصُعُدٌ (س) چڑھنا، چڑھانا۔ (صَعَدٌ= سخت)۔
(لِبَدٌ) لَبَدَ، يَلْبُدُ، لُبُوْدٌ (ن) چمٹنا، رہنا، اٹھانا۔ (لِبَدٌ = لِبْدَۃٌ کی جمع = تہ بہ تہ جمی ہوئی اُون)
(مُلْتَحَدٌ) اِلْتَحْدَ، يَلْتَحِدُ، اِلْتِحَادٌ (باب افتعال) مائل ہونا، پناہ لینا۔ (مُنتَحَدًا=مائل ہونے کی جگہ، پناہ گاہ)
(يُجِيْرُ) اَجَارَ، يُجِيْرُ، اِجَارَةٌ (باب افعال) بچانا۔ (حروف اصلی:ج و ر)
(اَمَدٌ) اَمَدٌ = غایت، انتہا۔
نوٹ:” لِيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا “ میں اَنْ درحقیقت اَنَّ کا مخفف ہے۔
تفسیر : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِيْقَةِ لَاَ سْقَيْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًا) اور (اے رسول، لوگوں سے کہہ دیجیے) یہ کہ اگر وہ ملّت (اسلام) پر جمے رہتے تو ہم ان کو فراوانی کے ساتھ پانی سے سیراب کرتے۔
حضرت نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے اپنی قوم سے اسی قسم کی بات کہی تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا۱۱
(سُوْرَۃُ نُوْ حٍ : ۷۱، آیت : اا)
(اگر تم ایمان لے آئے تو) وہ تم پر موسلادھار بارش برسائے گا۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے کفّارِ مکّہ کو ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہوئے اسی قسم کی خوش خبری سنائی تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤی اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ،
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۹۶)
اور (اے رسول) اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے،
اہلِ کتاب کو ترغیبِ اسلام دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَڪُلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ،
(سُوْرَۃُ الْمَآئِدَۃِ: ۵، آیت : ۶۶)
اور اگر وہ توریت اور انجیل اور اس کتاب (کی تعلیمات) پر جو ان کے ربّ کی طرف سے ان کی طرف نازل کی گئی ہے قائم ہو جاتے تو ان کو ان کے اوپر سے رزق ملتا اوران کے پیروں کے نیچے سے بھی رزق ملتا،
آگے فرمایا (لِنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ، وَمَنْ يُّعْرِضُ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا)تاکہ اس کے ذریعے (یعنی پانی کی فراوانی اور اسبابِ معیشت کی ارزانی کے ذریعے) ہم ان کی آزمائش کریں (کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں، توحید پر قائم رہتے ہیں یا نہیں، اپنے ربّ کو یاد کرتے ہیں یا نہیں اس کی نصیحت پر چلتے ہیں یا نہیں) اور جو شخص اپنے ربّ کی نصیحت سے منھ موڑلے تو اس کا ربّ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا۔
الغرض اللہ تعالیٰ نعمتیں عطا فرما کر بھی آزمائش کرتا ہے اور مصیبت میں مبتلا کر کے بھی آزمائش کرتا ہے۔ نعمت عطا فرما کر اللہ تعالیٰ نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ ڪَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ،اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَ۱۷ وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ۱۸ فَطَافَ عَلَیْهَا طَآىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآىِٕمُوْنَ۱۹ فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِ۲۰
(سُوْرَۃُ نٓ/القلم: ۶۸، آیت : ۱۷ تا ۲۰)
(اور اے رسول) ہم نے کفّارِ مکّہ کی اسی طرح آزمائش کی ہے جس طرح ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انھوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا ہم صبح ہوتے ہوتے ضرور اس (کے تمام پھلوں) کو توڑ لیں گے۔ انھوں نے انشاء اللہ نہیں کہا!۔ (نتیجہ یہ ہوا کہ) ابھی وہ سو ہی رہے تھے کہ آپ کے ربّ کی طرف سے ایک بلائے ناگہانی نے اس میں چکّر لگایا۔ اور وہ باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً،وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ۳۵
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۳۵)
اور (اے لوگو، دنیا کی زندگی میں تو) ہم بُرائی اور بھلائی سے تمھاری آزمائش کرتے رہتے ہیں (بُرائی اور بھلائی کو معیارِ حق نہ سمجھیں) اور تم کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے (پھر وہاں ہم تم کو بتائیں گے کہ کون حق پر تھا اور کون نا حق پر)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا، مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِڪَ،وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ۱۶۸
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۱۶۸)
اور (اے رسول) ہم نے بنی اسرائیل کی (مختلف) جماعتیں بناکر انھیں زمین میں منتشر کر دیا، ان میں سے بعض صالح تھے اور بعض فاسق، (پھر) ہم (وقتًا فوقتًا) خوش حالیوں اور بدحالیوں سے فاسقین کی آزمائش کرتے رہے تاکہ وہ (فِسق و فُجور سے) باز آجائیں۔
الغرض اللہ تعالیٰ نعمتوں اور بلاؤں کے ذریعے آزمائش کرتا ہے۔
نعمت دے کر وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگ اس کے احکام پر چلتے ہیں یا نہیں، شرک اور ناشکری تو نہیں کرتے۔ بلا میں مبتلا کر کے اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ کون صبر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں یا اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کرتے ہیں۔ نعمت تو نتجو ہے ہی، بلا بھی نعمت ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ بندے کو جھنجھوڑتا ہے تا کہ وہ نیکی کی طرف مائل ہو جائے بد بخت ہیں وہ جو ان دونوں نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور عذابِ الہٰی کو دعوت دیتے ہیں۔
آگے فرمایا (وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللهِ اَحَدًا) کفّارِ مکّہ کو ایمان کی ترغیب دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پھر نصیحت کی کہ شرک سے باز آجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور (اے لوگو) مسجدیں تو اللہ کی (عبادت) کے لیے ہیں لہٰذا (مسجد میں جا کر صرف اللہ کی عبادت کیا کرو اور اے لوگو پکارنا بھی عبادت ہے لہٰذا) اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارا بھی نہ کیاکرو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ،
(سُوْرَۃُ یُوْنُسَ : ۱۰، آیت : ۱۰۶)
اور (اے رسول) اللہ کے علاوہ کسی ہستی کو نہ پکارنا جو نہ آپ کونفع دے سکے اور نہ نقصان، اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ بھی ظالموں میں شامل ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ، وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ ڪَفَّیْهِ اِلَی الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ،وَ مَا دُعَآءُ الْڪٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۱۴
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۱۴)
[حق تو یہ ہے کہ (مصیبت میں صرف) اُسی کو پکارا جائے، اللہ کے علاوہ جن لوگوں کو یہ کافر پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ نہیں سنتے (ان کی مثال ایسی ہے) جیسے کوئی شخص پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلائے تاکہ (محض ایسا کرنے سے) پانی اس کے منھ تک پہنچ جائے لیکن پانی اس کے منھ تک (ہرگز) نہیں پہنچ سکتا (جس طرح پانی کی طرف ہاتھ پھیلانا بےکار ہے، اسی طرح) کافروں کا (اللہ کے علاوہ دوسروں کو) پکارنا بے کار ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْـًٔا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ۲۰ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ، وَمَا یَشْعُرُوْنَ، اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۲۱
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۲۰تا۲۱)
اور (اے رسول) جن لوگوں کو یہ (کافر) اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں وہ تو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ وہ مُردہ ہیں، زندہ نہیں ہیں، انھیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے (تو پھر وہ کیا کسی کی فریاد کو پہنچ سکتے ہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ۔
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۶۲)
اور یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور جس ہستی کو یہ لوگ اللہ کے علاوہ (مدد کےلیے) پکارتے ہیں وہ باطل ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ، اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ، وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْـًٔا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ، ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ ۷۳ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ، اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۷۴
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۷۳ تا ۷۴)
اے لوگو، ایک مثال بیان کی جاتی ہے، اسے غور سے سنو بےشک جن لوگوں کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ تو ایک مکّھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ (اس کام کےلیے) وہ سب جمع ہی (کیوں نہ) ہو جائیں اور اگر ان سے مکّھی کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اس سے اس چیز کو چُھڑا نہیں سکتے، طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں (جو پکار رہے ہیں وہ بھی بے بس اور جن کو پکارا جا رہا ہے وہ بھی بے بس، کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں، قدرت تو بس اللہ کو حاصل ہے)۔ (لیکن) انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اُس کی قدر کرنے کا حق ہے، بےشک اللہ ہی قوی ہے اور (وہ ہی) غالب ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ،لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ،فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ، اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْڪٰفِرُوْنَ۱۱۷
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۱۱۷)
اور (اے لوگو) جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو پکارے جس کےلیے اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو اس کا حساب اس کے ربّ کے ہاں ہی ہو گا، بےشک کافر فلاح نہیں پا سکتے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَ۲۱۳
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۲۱۳)
(اے رسول) آپ اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نہ پکاریں ورنہ آپ کو بھی سزا بھگتنی ہو گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ،لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ،كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ،
(سُوْرَۃُ الْقَصَصِ : ۲۸، آیت : ۸۸)
اور (اے رسول) اللہ کے ساتھ اور کسی (خود ساختہ) الٰہ کو نہ پکار یے، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اُس کے چہرہ کے،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ،لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ۲۲
(سُوْرَۃُ سَبَـاٍ : ۳۴، آیت : ۲۲)
(اے رسول) آپ (مشرکین سے) کہہ دیجیے کہ اللہ کے علاوہ جن (کے مشکل کشا ہونے) کا تمھیں دعویٰ ہے انھیں (مشکل کشائی کےلیے) پکارو (وہ تمھای مشکل کشائی نہیں کر سکیں گے) وہ نہ تو آسمانوں میں ذرّہ برابر چیز کے مالک ہیں اور نہ زمین میں ذرّہ برابر چیز کے مالک ہیں اور نہ ان (کی پیدائش اور انتظام) میں اللہ کے ساتھ ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ذٰلِڪُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ،وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ۱۳اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ،وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ،
(سُوْرَۃُ فَاطِرٍ : ۳۵، آیت : ۱۳تا۱۴)
یہ ہی اللہ تمھارا ربّ ہے، بادشاہت اُسی کی ہے اور (اے لوگو) جن جن کو تم اللہ کے علاوہ (مدد کےلیے) پکارتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سن سکتے اور اگر سن بھی لیں تو تمھاری دعا کو قبول نہیں کر سکتے،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ۔
(سُوْرَۃُ الْاَحْقَافِ: ۴۶، آیت : ۵)
اور (اے رسول) اس سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی مراد کو پورا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو ان کی پکار سے بھی غافل ہیں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَلدُّعَآءُ هُوَ الْعِبَادَةُ
پکارنا بھی عبادت ہے
پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی:-
قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَڪُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيْنَ ۔
(رواه الترمذي وصححه فِی ابواب الدعوات باب ماجاء فِی فضل الدعاء جلد۲ صفحہ ۴۷۶ ، (حديث : ۳۳۷۲ / ۳۶۶۸ ، وسنن ابوداؤد حديث : ۱۴۷۹ ، ومسند احمد حديث : ۱۸۵۷۶ / ۱۷۶۶۴ / ۱۸۳۸۶ / ۵۵۸۶ )
تمھارا ربّ فرماتا ہے مجھے پکارو میں تمھاری مراد پوری کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت (یعنی مجھے پکارنے) سے تکبّر کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنّم میں داخل ہوں گے۔
الغرض پکارنا عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ کے لیے ہے۔
آگے فرمایا(وَاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا)(اے رسول، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو پکارنا نہیں چھوڑتے ان کو تو صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا بھی ناگوار گذرتا ہے) اور جب اللہ کا بندہ (رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم) اللہ کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو یہ اس پر ٹھٹھے لگاتے ہیں (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عنقریب اس پر چڑھ دوڑیں گے اور اس کو اذیّت پہنچائیں گے) (قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَلَاۤ اُشْرِكْ بِہٖ اَحَدًا)(اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف اپنے ربّ کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا (تمھارے ناگوار گزرنے کی میں پرواہ نہیں کرتا) (قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا) (اور اسے رسول) آپ (یہ بھی) کہہ دیجیے کہ میں تمھارے نقصان اور نفع کا مالک نہیں ہوں (نفع و نقصان کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے) (قُلْ اِنِّیْ لَنْ يُّجِيْرَنِیْ مِنَ اللهِ اَحَدٌ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا)(اور اے رسول) آپ (یہ بھی) کہ دیجیے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکاروں تو مجھے اللہ (کے عذاب) سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور نہ مجھے اللہ کے علاوہ کہیں جائے پناہ ملے گی (اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللهِ وَرِسٰلٰتِهٖ، وَمَنْ يَّعْصِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا) (میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا) میں تو بس اللہ کی طرف سے (اس کے احکام کی) تبلیغ ( کر رہا ہوں) اور اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور (اے لوگو، الہِ کا یہ پیغام بھی سن لو کہ) جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرےگا تو اس کے لیے آگ ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہے گا (حَتّٰی اِذَارَ اَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا) (اور اے رسول، یہ لوگ اپنی تعداد اور اپنے مددگاروں پر تازہ کرتے ہیں تو انھیں ناز کر لینے دیجیے) یہاں تک کہ (وہ وقت آجائے) جب یہ (اپنی آنکھوں سے وہ چیز) دیکھ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے پھر (اس وقت) انھیں معلوم ہو جائے گا کہ مددگاروں کے لحاظ سے کون کمزور ہے اور تعداد کے لحاظ سے کون کم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ۴۴ سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۴۵ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰی وَ اَمَرُّ۴۶ اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ۴۷ یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْهِهِمْ،ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۴۸
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۴۴ تا۴۸)
(اور اے رسول) کیا یہ کہتے ہیں کہ ہم غالب آنے والی (مضبوط) جماعت ہیں۔ عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ (لوگ) پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ (اور یہ سزا تو کچھ بھی) نہیں (اصلی سزا تو انھیں) قیامت (کے دن ملے گی جس) کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور قیامت (کا دن) زیادہ سخت اور زیادہ کڑوا ہے۔ بےشک گناہ گار لوگ گمراہی اور جنون میں مبتلا ہیں۔ اس (قیامت کے) دن یہ لوگ اپنے مونہوں کے بَل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) اب آگ کا مزا چکھو۔
آگے فرمایا(قُلْ اِنْ اَدْرِىْۤ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا) (اے رسول! یہ پوچھتے ہیں عذاب کب آئے گا، قیامت کب آئے گی) آپ کہہ دیجیے میں نہیں جانتا کہ جس (عذاب) کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا ربّ اس کو (ایک خاص وقت تک کے لیے) موخّر کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا۴۲ فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا۴۳ اِلٰی رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا۴۴ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَا۴۵
(سُوْرَۃُ النّٰزِعٰتِ: ۷۹، آیت : ۴۲ تا۴۵)
(اے رسول) کافر آپ سے قیامت کےمتعلّق پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقع ہو گی۔ تو اس کا (وقت) بتانے کے سلسلے میں آپ کس خیال میں ہیں۔ اس کا علم تو آپ کے ربّ ہی پر منتہی ہوتا ہے۔ آپ (کی ذِمّہ داری تو بس اتنی ہے کہ آپ) اس شخص کو ڈرا دیں جو قیامت سے ڈرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۴۸ قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ،لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ،اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ۴۹ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىڪُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ۵۰ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ،آٰلْـٰٔنَ وَ قَدْ ڪُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۵۱ ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ،هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا ڪُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۵۲ وَ یَسْتَنْۢبِـُٔوْنَڪَ اَحَقٌّ هُوَ،قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ،وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۵۳وَ لَوْ اَنَّ لِڪُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ،وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ،وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۵۴ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ،اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَڪْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۵۵
(سُوْرَۃُ یُوْنُسَ : ۱۰، آیت : ۴۸ تا۵۵)
اور (اے رسول) کافر (آپ سے) پوچھتے ہیں کہ اگر تم سچّے ہو تو بتاؤ کہ یہ عذاب کا وعدہ کب (پورا) ہو گا۔ آپ کہہ دیجیے (کہ یہ چیز میرے اختیار میں نہیں) مجھے تو اپنے نفع، نقصان کا بھی اختیار نہیں مگر جو اللہ چاہے، ہر امّت کےلیے ایک وقتِ مقرّر ہے، جب ان کا وقتِ مقرّرہ آجاتا ہے تو پھر وہ ایک گھڑی کےلیے بھی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ (اے رسول) آپ (ان سے) پوچھیے بتاؤ اگر اللہ کا عذاب رات کو یا دن کو (کسی وقت بھی) تم پر (ناگہانی طور پر) واقع ہو جائے (تو کیا تم اپنا بچاؤ کر سکو گے) یہ گناہ گار (ہرگز بچاؤ نہیں کر سکیں گے تو آخر یہ پھر) کس چیز کی جلدی مچا رہے ہیں، (اس چیز کی جس سے بچنا ان کے اختیار میں نہیں ہو گا)۔ (اے رسول، آپ ان سے) پوچھیے کیا جب وہ عذاب واقع ہو جائے گا تو پھر اس وقت ایمان لاؤ گے، (اس وقت تو تم سے کہا جائے گا) کیا اب (ایمان لاتے ہو اور اس عذاب سے بچنا چاہتے ہو) اس عذاب کی تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ پھر جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان سے کہا جائے گا (اب) دائمی عذاب کا مزا چکھو، یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم (دنیا میں) کرتے رہے تھے۔ اور (اے رسول) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ (قیامت کے واقع ہونے کی خبر بالکل) سچ ہے، آپ کہہ دیجیے میرے ربّ کی قسم یہ (بالکل) سچ ہے (ایسا ہوکر رہے گا اور تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے)۔ اور (اے رسول، اس دن یہ کیفیّت ہو گی کہ) اگر کسی ظالم شخص کے پاس رُوئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو وہ انھیں اپنے آپ کو (دوزخ سے) بچانے کےلیے دے ڈالے گا اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (نادم ہوں گے اور اپنی) ندامت کو چُھپائیں گے، پھر ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہو گا۔ خبردار ہو جاؤ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے (سب) اللہ کا ہے (اور اس بات سے بھی) خبردار ہو جاؤ کہ اللہ کا وعدہ یقینًا سچ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا،قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ،لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُو،ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ،لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً،یَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا،قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَڪْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۱۸۷قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ، وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ، وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ، اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۱۸۸
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۱۸۷ تا ۱۸۸)
(اور اے رسول) یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب واقع ہو گی، آپ کہہ دیجیے اس کا علم تو میرے ربّ کو ہے، وہ ہی اس کو اس کے وقت (مقرّرہ) پر ظاہر کرے گا، (اے لوگو) وہ آسمانوں میں اور زمین میں ایک بڑی بھاری (آفت) ہو گی جو اچانک تم پر واقع ہو جائے گی (اور اے رسول) یہ لوگ (وقوعِ قیامت کے متعلّق) آپ سے اس طرح سوال کرتے ہیں گویا کہ آپ اس سے بخوبی واقف ہیں، آپ کہہ دیجیے اس کا علم تو (صرف) اللہ کو ہے لیکن (بات یہ ہے کہ) اکثر لوگ (اتنی سی بات بھی) نہیں جانتے۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے میں تو اپنے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے اور (نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں) اگر میں غیب (کی باتیں) جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں جمع کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی بُرائی نہ پہنچتی، میں تو بس (سرکشوں کو) ڈرانے والا اور ایمان والوں کو خوش خبری سنانے والا ہوں۔
آگے فرمایا(عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا) (میرا ربّ ہی) عالم الغیب ہے (لہٰذا وہ ہی جانتا ہے کہ عذاب کب آئے گا ) وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر بھی نہیں کرتا(اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ) (اگر کرتا بھی ہے تو) بس کسی برگزیدہ رسول پر ظاہر کرتا ہے۔ (لیکن اُس نے غیب کی یہ بات کہ قیامت کب آئے گی مجھے نہیں بتائی لہٰذا میں اس کے وقت سے واقف نہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ، وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ، وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ،اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ
(سُوْرَۃ ُلُقْمٰنَ: ۳۱، آیت : ۳۴)
قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے، پانی وہ ہی برساتا ہے (اور پانی برسنے کے وقت کوبھی وہ ہی جانتا ہے) وہ ہی جانتا ہے کہ (مادہ کے) رحموں میں کیا ہے (نر یا مادہ) کسی شخص کو نہیں معلوم کہ وہ کل کیا کرنے والا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی، بےشک اللہ ہی (ان باتوں کا) جاننے والا اور (ہر بات سے) باخبر ہے۔
الغرض قیامت کے وقوع کا وقت اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتایا لہٰذا قیامت کے وقوع کا علم کسی کو نہیں(فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا)(اور جب اللہ تعالیٰ غیب کی کوئی بات اپنے برگزیدہ رسولوں کو بتاتا ہے تو) وہ ان رسولوں کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرّر کر دیتا ہے (جو شیاطین کو رسولوں کے قریب نہیں آنے دیتے اور اس غیب کو شیطان کی ملاوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں)(لِيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا) تا کہ اللہ یہ دیکھ لے کہ رسولوں نے اپنے ربّ کے پیغامات کو (بے کم و کاست) پہنچا دیا (یا نہیں) اور (ویسے تو) اللہ (تمام چیزوں کا) جو ان رسولوں کے پاس ہوتی ہیں احاطہ کیے ہوئے ہوتا ہے (وہ نہ اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر ہوتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ انھیں غیر محفوظ ہونے دیتا ہے، ان کی ہر طرح کی نگرانی کرتا ہے۔ تا کہ اللہ تعالیٰ کا دین اس کے بندوں تک ایسی حالت میں پہنچ جائے کہ وہ یقینی اور محفوظ ہو اور یہ ہی نہیں) اللہ نے تو ہر چیز کی تعداد کو گن رکھا ہے (لہٰذا وحی تو وحی کوئی معمولی چیز بھی ضائع نہیں ہو سکتی)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّڪْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۹
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵، آیت : ۹)
(اور اے رسول) یہ نصیحت ہم ہی نے نازل کی ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
عمل
اے ایمان والو! اسلؔام پر استقامت کے ساتھ جمے رہیے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو نہ پکاریے کسی قسم کا شرک نہ کیجیے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نافرمانی نہ کیجیے۔