Surah Al – Maarij
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۷۰ سُوْرَۃُ سَاَلَ سَآ ئِلٌ/مَعَارِج
فہرستِ مضامین
۷۰۔ سُوْرَۃُ سَاَلَ سَآ ئِلٌ/مَعَارِج
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِـعٍ۱ لِلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌ۲ مِنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِ۳ تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍ۴ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا۵ اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًا۶ وَ نَرٰىهُ قَرِیْبًا۷ یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ ڪَالْمُهْلِ۸ وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ ڪَالْعِهْنِ۹ وَ لَا یَسْـَٔلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۱۰ یُبَصَّرُوْنَهُمْ، یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِىِٕذٍۭ بِبَنِیْهِ۱۱ وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِ۱۲ وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْهِ۱۳ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا،ثُمَّ یُنْجِیْهِ۱۴ ڪَلَّا،اِنَّهَا لَظٰی۱۵ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰی۱۶ تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰی۱۷ وَ جَمَعَ فَاَوْعٰی۱۸
ترجمہ: ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واقع ہوکر رہے گا ۱ کافروں سے اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں ۲ (وہ عذاب) اللہ جو (آسمان کی) سیڑھیوں کا مالک ہے کی طرف سے (نازل ہو گا)۳ جس طرف فرشتے اور روح (الامین) چڑھتے ہیں (وہ عذاب) اس دن (نازل ہو گا) جس دن کی مقدار پچاس ہزار سال (کے برابر) ہو گی ۴ تو (اے رسول) آپ خوب صُورتی کے ساتھ صبر کرتے رہیے ۵ وہ دن ان کی نظر میں (بہت) دور ہے ۶ اور ہمیں قریب نظر آرہا ہے ۷ جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو جائے گا ۸ اور پہاڑ اُون کی طرح ہو جائیں گے ۹ (اس دن) کوئی دوست کسی دوست کا پُرسانِ حال نہ ہو گا ۱۰ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے اس دن مجرم یہ چاہے گا کہ کاش!! وہ اس دن کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلیے اپنے بیٹوں کو ۱۱ اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو دے دے ۱۲ اور اپنے خاندان کو جو اسے (دنیا میں) پناہ دیا کرتا تھا (فدیے میں) دے دے ۱۳ بلکہ رُوئے زمین پر جتنے آدمی ہیں سب کو (فدیے میں) دے دے اور اپنے آپ کو (عذاب سے) بچالے ۱۴ لیکن ایسا ہو گا نہیں، وہ (دوزخ جس میں اسے ڈالا جائے گا) شعلہ مارنے والی آگ ہے ۱۵ وہ سَر کی کھال تک ادھیڑ دے گی ۱۶ وہ ان لوگوں کو بلائے گی جنھوں نے (دنیا میں حق سے) پیٹھ موڑلی تھی اور (اس سے) رُوگردانی کر کے چلے جاتے تھے ۱۷ جنھوں نے (مال خوب) جمع کیا تھا (اور) پھر (اس کو) محفوظ کر لیا تھا (اللہ تعالیٰ کے راستے میں اسے خرچ نہیں کرتے تھے)۱۸
معانی ومصادر: (سَاَلَ)(سَائِلٌ) سَاَلَ،يَسْئَلُ، سُؤالٌ و سَالَةٌ و مَسْاَلَةً تَسْاٰلٌ(ف) دریافت کرنا ۔
(مَعَارِجُ) (تَعْرُجُ) عَرَجَ، يَعْرُجُ، عُرُوجٌ و مَعْرَجٌ (ن) چڑھنا (مَعَارِجُ = مِعْرَاجً کی جمع ، سیڑھیاں)۔
(جَمِيلٌ) جَمُلَ، يَجْمُلُ، جَمَالٌ) خوب صُورت ہونا۔
(مُھْلٌ) مُهْلٌ=پگھلا ہوا تانبا۔
(عِھْنٌ) عِھْنٌ = اُون
(يُبَصَّرُوْنَ) بَصَّرَ، يُبَصِّرُ ، تَبْصِیرٌ (باب تَفْعيل) پہچاننا۔
(یَفْتَدِىْ) اِفْتَدٰى، یَفْتَدِی، اِفْتِدَاءٌ (باب افتعال) فدیہ دینا۔
(فَصِیْلَۃٌ) فَصِيْلَۃٌ =قبيلہ
(تُئْوِیْ) اٰوٰی، یُئْوِیْ، اِیْوَاءٌ (باب افعال) پناہ دینا۔
(يُنْجِیْ) اَنْجَا، يُنْجِیْ، اِنْجَاءٌ (باب افعال) نجات دیتا۔
(لَظٰی) لَظِیَ، یَلْظٰی ، لَظًی (س) شعلہ مارنا۔ (لَظٰی= آگ ، شعلہ)
(نَزّٰاعَةٌ) نَزَعَ، يَنْزِعُ، نَزْعٌ (ض) کهینچ لینا، معزول کرنا۔
(شَوٰی) شَوٰی ، یَشْوِیْ ، شَیٌّ (ض) بھوننا (شَوٰی = سرکی کھال)۔
(اَوْعٰی) اَوْعٰی، یُوْعِیْ، اِیْعَاءٌ (باب افعال) حفظ کرنا، جمع کرنا۔
تفسیر: رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم بار بار قیامت کے عذاب سے ڈراتے تھے لیکن کفّارِ مکّہ کسی طرح قیامت کے وقوع کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قیامت کا عقیدہ بالکل لغو ہے، قیامت کوئی چیز نہیں۔ آیات زیرِ تفسیر کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ کفّارِ مکّہ میں سے کسی شخص نے مذاقًا اور تکذیبًا قیامت کے عذاب کا مطالبہ کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ) ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واقع ہوکر رہے گا (لِلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌ)کافروں سے اس کو دور کرنے والا کوئی نہیں (کافر اس عذاب میں مبتلا ہو کر رہیں گے اس سے بچ نہیں سکتے) (مِنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِ)(وہ عذاب) اللہ جو (آسمان کی) سیڑھیوں کا مالک ہے کی طرف سے (نازل ہو گا) (تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ)جس طرف فرشتے اور روح (الامین) چڑھتے ہیں (فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍ(وہ عذاب) اس دن (نازل ہوگا) جس دن کی مقدار پچاس۵۰ ہزار سال (کے برابر) ہوگی۔
کفّار بار بار عذاب کے لیے جلدی کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ،
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۴۷)
اور (اے رسول) یہ لوگ آپ سے عذاب کےلیے جلدی کر رہے ہیں (عذاب یقینًا وعدے کے مطابق آئے گا) اور (بےشک) اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ،وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ، وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ۵۳ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ،وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ۵۴ یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۵۵
(سُوْرَۃُ الْعَنْکَبُوْتِ: ۲۹، آیت: ۵۳ تا ۵۵)
اور (اے رسول) یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں، اگر (عذاب کا) وقت مقرّر نہ ہوتا تو ان پر (کبھی کا) عذاب آگیا ہوتا اور (اے رسول) وہ عذاب تو ان پر (اس طرح) ناگہانی طور پر واقع ہو گا کہ انھیں خبر بھی نیںا ہو گی۔ اور (اے رسول) یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں (تو کیا یہ عذاب سے بچ کر کہیں چلے جائیں گے، کہیں نہیں جا سکتے) دوزخ کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے۔(ایک دن آنے والا ہے) جس دن عذاب ان کو اوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور ان کے پیروں کے نیچے سے بھی ڈھانک لے گا اور اللہ (ان سے) فرمائے گا جو عمل تم کر رہے تھے ان کا مزا چکھو۔
آیات زیرِ تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے کفّار کے سوال کا جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ آخر یہ کیوں اس عذاب کی جلدی کر رہے ہیں جس عذاب کو کافروں سے دفع کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ انھیں تو اس عذاب سے ڈرنا چاہیے نہ کہ اس کا مطالبہ کرنا۔ اس عذاب کا ایک دن مقرّر ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔ اس دن سے پہلے وہ عذاب نہیں آسکتا۔ اس دن کا طول پچاس۵۰ ہزار سال ہوگا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ، لَا يُؤَدِّی مِنْها حَقَّها، اِلَّا اِذَا كَانَ يَوْمُ القِيٰمَةِ صُفِّحَتْ لَهٗ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَاُحْمِیَ عَلَيْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوٰى بِهَا جَنْبُهٗ وَجَبِيْنُهٗ وظَهْرُهٗ، كُلَّمَا بَرَدَتْ اُعِيْدَتْ لَهٗ، فیْ يَوْمٍ ڪَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ، حتّٰى يُقْضٰى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرٰى سَبِيْلَهٗ؛ اِمَّا اِلَى الْجَنَّةِ، وَاِمَّا اِلَى النَّارِ.
(صحيح مسلم، كتاب الزكٰوة، باب اثم مانع الزكٰوة، جزء اول صفحہ ۳۹۳ ، حديث : ۲۲۹۰ / ۹۸۷)
نہ کوئی سونے والا اور نہ کوئی چاندی والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا (ایسا نہیں کہ عذاب سے بچ جائے) مگر یہ کہ قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی پھر ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پیٹھ کو داغا جائے گا۔ جب وہ تختیاں ٹھنڈی ہوں گی تو انھیں پھر گرم کیا جائے گا۔ اس دن جس دن کی مقدار پچاس۵۰ ہزار سال ہے ( یہ ہی ہوتا رہے گا) یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا پھر جس کو جنّت میں جانا ہے وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا اور جس کو دوزخ میں جانا ہے وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا۔
آگے فرمایا(فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا)(اے رسول! قیامت کا مطالبہ کر کے یہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں، آپ ان کے مذاق سے آرزردہ نہ ہوں بلکہ) خوب صُورتی کے ساتھ صبر کرتے رہیں(اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًا) وہ دن ان کی نظر میں (بہت) دور ہے (وَ نَرٰىهُ قَرِیْبًا) اور ہمیں قریب نظر آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت بہت قریب ہے اگرچہ انسانوں کو بہت دور معلوم ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ۱
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ا )
قیامت قریب آگئی اور (اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ) چاند شق ہو گیا (جو قُربِ قیامت کی نشانی ہے)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ۱
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ا)
لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ پہنچا ہے لیکن وہ پھر بھی غفلت میں (پڑے ہوئے دینِ حق سے) رُوگردانی کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ۵۷
(سُوْرَۃُ النَّجْمِ : ۵۳، آیت : ۵۷)
وہ آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
بُعِثْتُ اَنَا وَ السَّاعَةَ كَھَاتَیْنِ
( صحیح بخاری کتاب الرقاق باب قول النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بعثت انا والساعۃ کھاتین جزء ۸ صحفہ ۱۳۲ ، حديث : ۶۵۰۵ / ۶۱۴۰ و صحيح مسلم حديث : ۷۴۰۸ / ۲۹۵۱)
میں اور قیامت (اس طرح ساتھ ساتھ اور قریب قریب) بھیجے گئے ہیں جس طرح یہ دو۲ انگلیاں (شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی)۔
آگے فرمایا(یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِ) (وہ عذاب جس کے جلد بھیجنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس دن واقع ہوگا) جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو جائے گا۔ (وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ) اور پہاڑ اُون کی طرح ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ تَڪُوْنُ الْجِبَالُ ڪَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ۵
(سُوْرَۃُ اَلْقَارِعَۃُ: ۱۰۱، آیت : ۵)
اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اُون۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا۱۰۵ فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا۱۰۶
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۵ تا ۱۰۶)
اور (اے رسول، لوگ) آپ سے پہاڑوں کے متعلّق سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ میرا ربّ ان کو چُورا چُورا کر دے گا۔ پھر ان کو ہموار چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ۱۰
(سُوْرَۃُ وَالْمُرْسَلٰتِ: ۷۷، آیت : ۱۰)
جب پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔
آگے فرمایا (وَ لَا یَسْـَٔلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا) (اس دن) کوئی دوست کسی دوست کا پرسانِ حال نہیں ہوگا(یُبَصَّرُوْنَهُمْ، یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِىِٕذٍۭ بِبَنِیْهِ) حالاں کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ اس دن مجرم یہ چاہے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنے بیٹوں کو (وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِ) اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو دے دے۔ (وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْهِ) اور اپنے خاندان کو جو اسے (دنیا میں) پناہ دیا کرتا تھا (فدیے میں) دے دے (وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا، ثُمَّ یُنْجِیْهِ) (حتٰی کہ) رُوئے زمین پر جتنے آدمی ہیں سب کو (فدیے میں) دے دے اور اپنے آپ کو (عذاب سے) بچالے (كَلَّا، اِنَّهَا لَظٰی) لیکن ایسا ہو گا نہیں (اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا (وہ دوزخ کیا ہے) شعلہ مارنے والی آگ ہے (نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰی) وہ سر کی کھال تک ادھیڑ دے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۳ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ۴
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۱۰۳ تا ۱۰۴)
اور جن کی تولیں ہلکی ہوں گی یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے خود اپنا نقصان کیا (اور اب وہ) ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی اور وہ اس آگ میں (ایسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے) چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔
آگے فرمایا(تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰی) وہ ان لوگوں کو بلائے گی جنھوں نے (دنیا میں حق سے) پیٹھ موڑ لی تھی اور (اس سے) رُوگردانی کر کے چلے جاتے تھے (وَ جَمَعَ فَاَوْعٰی) جنھوں نے (مال خوب) جمع کیا تھا اور اسے محفوظ کر کے رکھ چھوڑا تھا (اللہ کے راستے میں اسے خرچ نہیں کرتے تھے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ۱ اَلَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗ۲ یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ۳ كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ۴ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ۵ نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ۶ اَلَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَةِ۷ اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ۸ فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۹
(سُوْرَۃُ وَیْلٌ لِّکُلِّ : ۱۰۴، آیت : ۱ تا ۹)
ہر غیبت کرنے والے اور منھ دَر منھ عیب نکالنے والے کی (بڑی) خرابی ہے۔ جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گنتا رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے حیاتِ جاودانی بخشے گا۔ ہرگز نہیں، وہ ضرور حطمہ میں پھینکا جائے گا۔ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ حطمہ کیا چیز ہے۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دِلوں تک کی خبر لے گی۔ وہ ان پر بند کر دی جائے گی۔ لمبے لمبے ستونوں میں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلْهٰىڪُمُ التَّڪَاثُرُ۱ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۲ ڪَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۳ ثُمَّ ڪَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۴ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۵ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ۶ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ۷ ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۸
(سُوْرَۃُ اَلْھٰکُمُ التَّڪَاثُـرُ: ۱۰۲، آیت : ۱ تا ۸)
مال میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی حِرص نے تمھیں (اللہ کے احکام سے) غافل کر دیا۔ (اور تم اسی غفلت میں رہے) یہاں تک کہ قبروں میں جا پہنچے۔ (تمھاری یہ غفلت) ہرگز (تمھارے لیے فائدہ مند) نہیں (ہو گی) عنقریب تمھیں (اس غفلت کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔ پھر (سن لو تمھاری یہ غفلت) ہرگز (تمھارے لیے فائدہ مند) نہیں (ہو گی) تمھیں عنقریب (اس غفلت کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔ (تمھاری خوش فہمیاں) ہرگز (تمھارے کام) نہیں (آئیں گی) اگر تمھیں اس کا یقینی علم ہوتا (تو تم کبھی غفلت نہ برتتے)۔ تم (اپنی غفلت کی سزا میں) ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔ پھر (سن لو) تم ضرور اسے دیکھو گے (تمھارا وہ دیکھنا) یقینی دیکھنا (ہو گا، کسی قسم کا شبہ نہیں ہو گا)۔ پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا! (کہ تم نے کہاں تک ان کا شکر ادا کیا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَنْ ڪَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ۱۵ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ،وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا ڪَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۱۶
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۱۵ تا ۱۶)
(اور اگر تم دنیا کی خاطر اسلام قبول کرنے کےلیے تیّار نہ ہو تو اس بات کو اچّھی طرح سمجھ لو کہ) جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوتے ہیں تو ہم ان کو ان کے اعمال کا صلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیتے ہیں، ان کے صلے میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جاتی۔ (لیکن) ایسے لوگوں کےلیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں، جو عمل انھوں نے دنیا میں کیے تھے سب رائے گاں ہو گئے اور جو کچھ وہ (دنیا میں) کرتے رہے تھے سب باطل(و بےسود)تھا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
تَعِسُ عَبْدُ الدِّيْنَارِ وَالدِّرْھَمِ وَ الْقَطِيْفَةِ وَالْخَمِيْصَةِ اِنْ اُعْطِیَ رَضِیَ وَاِنْ لَّمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ۔
(صحیح بخاری کتاب الرقاق باب ما يتقى من فتنۃ المال جزء ۸ صفحہ ۱۱۵ ، حديث : ۶۴۳۵ / ۶۰۷۱))
دینار، درہم قطیفہ اور خمیصہ (چادروں) کا بندہ برباد ہو گیا۔ اگر اسے یہ (چیزیں) دی جائیں تو راضی رہتا ہے اور اگر نہ دی جائیں تو ناراض ہو جاتا ہے۔
عمل
اے لوگو! اس دن سے ڈریے جس دن کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، اس دن ہر شخص یہ چاہے گا کہ کسی طرح وہ بچ جائے خواہ اس کو اپنے چھٹکارے کے لیے اپنے بیٹے، بیوی، بھائی، خاندان جو مصیبت کے وقت اس کی حمایت کرتا تھا بلکہ تمام دنیا کے لوگ فدیہ میں کیوں نہ دینے پڑ جائیں۔
ترجمہ:۔ بےشک انسان بڑا ہی بے صبرا پیدا کیا گیا ہے ۱۹ جب اسے کوئی بُرائی پہنچتی ہے تو واویلا کرنے لگتا ہے ۲۰ اور جب کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے ۲۱ مگر (ہاں) نمازی (ایسے نہیں ہوتے)۲۲ جو اپنی نماز کو ہمیشہ بِلاناغہ ادا کرتے ہیں ۲۳ جن کے مالوں میں (ایک) حصّہ مقرّر ہے ۲۴ مانگنے والے کےلیے اور اس کےلیے جو (مانگتا نہیں اور) کما بھی نہیں سکتا ۲۵ جو روزِ جزا کی تصدیق کرتے ہیں ۲۶ جو اپنے ربّ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں ۲۷ بےشک ان کے ربّ کا عذاب ایسی چیز نہیں جس سے بے خوف ہوا جائے ۲۸ جو (تمام عورتوں سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۲۹ مگر ہاں اپنی بیویوں اور اپنی لونڈیوں سے (حفاظت نہ کرنے میں) ان پر کوئی ملامت نہیں ۳۰ پھر جوشخص ان کے علاوہ (کسی اور عورت کا) طلب گار ہو تو ایسے ہی لوگ حد سے نکل جانے والے ہیں ۳۱ جو اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں ۳۲ جو اپنی گواہیوں پر (سچّائی کے ساتھ) قائم رہتے ہیں۳۳ اور جو اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں ۳۴ یہ ہی (وہ) لوگ ہیں جو جنّتوں میں (عزّت و) اکرام کے ساتھ ہوں گے ۳۵
معانی ومصادر: (ھَلُوعٌ) ھَلِعَ، يَھْلَعُ، ھَلَعٌ (س) واویلا کرنا ،بے صبری کرنا۔ (ھَلُوْعٌ =بہت واویلا کرنے والا)
(جَزُوْعٌ) جَزِعَ، يَجْزَعُ، جَزْ عٌ و جُزُوْعٌ (س) بے صبری کرنا۔ (جُزُوْعٌ = بہت بےصبری کرنے والا)
(مَنُوعٌ) مَنَعَ، يَمْنَعُ، مَنْعٌ (ف) روکنا (مَنُوعٌ = بہت روکنے والا)
(دَآئِمُوْنَ) دَامَ ، يَدُوْمُ و يَدَامُ، دَوْمٌ و دَوَا مٌ و دَ یْمُومَۃٌ (ن، ف) ہمیشہ رہنا۔ (دَائِمٌ= ہمیشہ رہنے والا)
(مَأْمُوْنٌ) اَمِنَ ، يَأْمَنٌ ، اَمْنٌ و اَمَنٌ و اَمَانٌ و اَمَنَۃٌ (س) محفوظ ہونا۔
(رَاعُوْنَ) رَعٰی، يَرْعٰى، رَعْیٌ و رِعَایَۃٌ و مَرْعً (ف) چرانا ، نگرانی کرنا۔(رَاعُوْنَ =رَاعٍ کی جمع ، نگران)
(عَادُوْنَ) عَدَا، يَعْدُوْ، عَدُوٌ و عُدْوَانٌ (ن) حد سے بڑھ جانا۔
(اٰمَنٰتٌ) اَمُنَ، يَأْمُنُ، اَمَانَةٌ (ك) امانت دار ہونا۔
تفسیر :۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا) بے شک انسان بڑا ہی بےصبرا پیدا کیا گیا ہے (یعنی انسان کی خلقت میں بے صبری بہت ہے) (اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا) جب اسے کوئی بُرائی پہنچتی ہے تو واویلا کرنے لگتا ہے اپنے نقصان اور مصیبت پر صبر نہیں کرتا بلکہ بے صبری کے ساتھ چیخ و پکار، شکوے شکایت کرنے لگتا ہے۔
رسول اللہ صلّی علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ يَّسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللهُ وَمَنْ يَّسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ وَ مَنْ يَّتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللهُ وَمَا اُعْطِىَ اَحَدٌ عَطَآءً خَیْرًاوَّاَوْسَعْ مِنَ الصَّبْرِ
(صحيح بخارى كتاب الزكوة باب الاستعفاف عن المسئلۃ جزء ۲ صفحہ ۱۵۱، حديث : ۱۴۶۹ / ۱۴۰۰ ، صحیح مسلم كتاب الزكوة باب فضل الصبر التعفف والصبرجزء اوّل صفحه ۴۲۰، حديث : ۲۴۲۴ / ۱۰۵۳)
جو شخص سوال سے بچے گا اللہ اسے سوال سے بچائے گا، جو شخص بے نیازی چاہے گا اللہ اسے غنی کر دے گا اور جو شخص صبرکرے گا اللہ اسے صابر بنادے گا اور کوئی شخص بھی صبر سے بہتر اور وسیع تر کوئی چیز نہیں دیا گیا۔
آگے فرمایا (وَ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا) جب اسے دولت ملتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے (اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا)۔
رسول اللہ صلّی علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَا مِنْ يَوْمٍ يُّصْبِحُ الْعِبَادُ فِيْهِ اِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ اَحَدُھُمَا اَللّٰهُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَّيَقُوْلُ الْاٰخَرُ اَللّٰهُمَّ اَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا
(صحیح بخاری کتاب الزكوة باب قول الله تعالى فاما من إعطٰی و التقٰى جزء ۲ صفحہ ۱۴۲ ، حديث : ۱۴۴۲ / ۱۳۷۴ ، مسلم كتاب الزكوة باب فِی المنفق والممسمک جزء اوّل صفحہ۴۰۴، حديث : ۲۳۳۶ / ۱۰۱۰)
ہر روز جب بندے صبح کرتے ہیں تو دو۲ فرشتے اترتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ خرچ کرنے والے کو اور دے، دوسرا کہتا ہے: اے اللہ ہاتھ روکنے والے (کے مال) کو برباد کر دے۔
آگے فرمایا (اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ) مگر (ہاں) نمازی ( ایسا نہیں کرتے یعنی نہ بے صبری کرتے ہیں اور نہ شکوے شکایت کرتے ہیں اور نہ دولت کے مل جانے پر بخل کرتے ہیں۔ نمازیوں میں یہ بُری صفات نہیں ہوتیں) (اَلَّذِیْنَ هُمْ عَلٰی صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ) (لیکن اس سے مراد ہر نمازی نہیں بلکہ صرف وہ نماز مراد ہیں) جو اپنی نماز کو ہمیشہ بلا ناغہ ادا کرتے ہیں (وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ) جن کے مالوں میں ایک حصّہ مقرّر ہوتا ہے (لِلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ) مانگنے والے کے لیے اور اس کے لیے بھی جو (مانگتا بھی نہیں اور) کما بھی نہیں سکتا۔
رسول اللہ صلّی علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْاَرْضِ فَسَمِــعَ صَوْتًا فِیْ سَحَابَةٍ اَسْقِ حَدِيْقَةَ فُلَانٍ فَتَنَحّٰى ذٰلِكَ السَّحَابِ فَاَفْرَغْ مَآءَ ہٗ فِیْ حَرَّةٍ فَاِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذٰلِكَ الْمَاءَ كُلَّهٗ فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ فَاِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِیْ حَدِیْقَۃِ یُحوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ فَقَالَ لَہٗ يَا عَبْدَاللهِ مَا اسْمُكَ قَالَ فُلَانٌ لِلْاِسْمِ الَّذِیْ سَمِـعَ فِى السَّحَابَةِ فَقَالَ لَہٗ يَا عَبْدَاللهِ لِمَ تَسْاَ لُنِیْ عَنِ اسْمِیْ فَقَالَ اِنِّی سَمِعْتُ صَوْتًا فِی السَّحَابِ الَّذِىْ ھٰذَا مَاؤُهٗ يَقُوْلُ اسْقِ حَدِيْقَةَ فُلَانٍ لِاِسْمِكَ فَمَا تَـصْنَعُ فَیْھَا قَالَ اَمَّا اِذْ قُلْتَ ھٰذَا فَاِنِّی اَنَّظُرُ اِلٰى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہٖ وَ اٰكُلُ اَنَا وَ عِيَالَى ثُلُثًا وَاَرْدُّ فِیْھَا ثُلُثَهٗ۔
(صحیح مسلم کتاب الزھد باب الصدقة فِی المساکین جزء ۲ فِی صفحہ۵۹۲، حديث : ۷۴۷۳ / ۲۹۸۴)
اس حال میں کہ ایک شخص جنگل میں چلا جارہا تھا اس نے بادل سے ایک آواز سنی (وہ آواز یہ تھی) فلاں شخص کے باغ کو پانی پلا۔ وہ بادل ایک طرف ہٹ گیا پھر اس نے ایک سنگستان میں اپنا پانی برسایا۔ ایک نالی نے تمام نالیوں کا پورا پانی لے لیا۔ اس شخص نے پانی کا پیچھا کیا تو اس نے دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا اپنے باغ میں اپنے پھاوڑے سے پانی کو موڑ رہا ہے۔ اس نے باغ والے آدمی سے کہا: اے اللہ کے بندے! تمھارا نام کیا ہے۔ اس نے کہا فلاں یعنی اس نے وہ ہی نام بتایا جو اس شخص نے بادل سے آنے والی آواز سے سنا تھا۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے بندے تم نے میرا نام کیوں پوچھا ہے؟ اس نے کہا: اس بادل سے جس بادل کا یہ پانی ہے، میں نے ایک آواز سنی۔ وہ کہہ رہا تھا فلاں شخص کے باغ کو سیراب کر یعنی اس نے تمھارا نام لیا تو بتاؤ تم اس باغ کے معاملے میں کیا کرتے ہو۔ اس نے کہا جب تم نے یہ بات پوچھی ہے (تو سنو) میں اس کی پیداوار کو غور سے دیکھتا ہوں۔ تہائی صدقہ کر دیتا ہوں تہائی میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور تہائی اسی میں لوٹا دیتاہوں (یعنی تہائی بھر بودیتا ہوں)۔
آگے فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ) اور جو روزِ جزا (یعنی قیامت کے دن) کی تصدیق کرتے ہیں (یعنی قیامت پر ایمان لاتے ہیں) (وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ) جو اپنے ربّ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں (اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ) بے شک ان کے ربّ کا عذاب ایسی چیز نہیں جس سے بے خوف ہوا جائے (وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ) جو (تمام عورتوں سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں (اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ) مگر ہاں اپنی بیویوں اور اپنی لونڈیوں سے (حفاظت نہ کرنے میں) ان پر کوئی ملامت نہیں (فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ) البتّہ جو شخص ان کے علاوہ (کسی اور عورت کا) طلب گار ہو تو ایسے ہی لوگ حد سے نکل جانے والے ہیں (وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ) جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں (نہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور نہ عہد کی خلاف ورزی کرتے ہیں) (وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ) جو اپنی شہادتوں پر (سچائی کے ساتھ) قائم رہتے ہیں (کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے) (وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰی صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ) جو اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں ( یعنی ہر نماز کو یکے بعد دیگرے بلا ناغہ ادا کرتے ہیں) (اُولٰٓىِٕكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ) یہ ہی (وہ) لوگ ہیں جو جنّتوں میں (عزّت و) اکرام کے ساتھ رہیں گے۔
مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ نمازیوں میں مندرجہ ذیل صفات ہونی چاہئیں۔
۱ نمازوں کی محافظت کرنا وقت پر بلا ناغہ نماز ادا کرنا۔
۲ اپنے مالوں میں سائل اور نادار کے لیے رقم مختص کرنا۔
۳ قیامت پر ایمان لانا۔
۴ عذابِ الہٰی سے ڈرتے رہنا۔
۵ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنا ، زنا سے بچنا۔
۶ امانتوں کی حفاظت کرنا، امانت میں خیانت نہ کرنا۔
۷ اپنے عہد پر قائم رہنا ،عہد کی خلاف ورزی نہ کرنا اور
۸ سچّی گواہی دینا اور اس پر قائم رہنا۔
جن نمازیوں میں مندرجہ بالا صفات ہوں وہ درحقیقت نمازی ہیں۔ ایسے نمازی بے صبرے نہیں ہوتے، مصیبت و تنگ دستی میں واویلا اور شکوے شکایت نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے میں بخل نہیں کرتے۔
عمل
اے ایمان والو! نمازوں کی پابندی سے وقت پر بلا ناغہ ادا کرتے رہیے۔ سائل اور نادار کی مالی امداد کرتے رہیے۔
اے ایمان والو! قیامت پر پختہ یقین رکھیے۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے رہیے۔
اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیجیے۔
امانتوں میں خیانت نہ کیجیے۔
عہد کی خلاف ورزی نہ کیجیے اور ہمیشہ سچّی گواہی دیجیے۔ : امانت کے متعلّق سورۂ نساء کی آیت ۵۸ کی تفسیر، عہد کے متعلّق سورۂ بقرہ کی آیت ۱۷۷ کی تفسیر اور گواہی کے متعلّق سورۂ طلاق کی آیت ۱ تا ۴ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
ترجمہ: تو (اے رسول) ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ کی طرف تیزی سے بڑھے چلے آتے ہیں ۳۶ ٹولیاں بنا بناکر دائیں طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی ۳۷ کیا ان میں ہرشخص امید رکھتا ہے کہ اسے نعمتوں کی جنّت میں یوں ہی داخل کر دیا جائے گا ۳۸ ہرگز نہیں، ہم نے انھیں ایسی (حقیر) چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ بھی بخوبی جانتے ہیں (ایسی صُورت میں حسب نسب پر فخر کیسا؟) ۳۹ مشارق اور مغارب کے ربّ کی قسم ہم قادر ہیں ۴۰ کہ ان کے بدلے میں ان سے بہتر لوگ لے آئیں، (ہم کو کوئی عاجز نہیں کر سکتا) اور نہ ہم عاجز ہونے والے ہیں ۴۱ تو (اے رسول) انھیں چھوڑ دیجیے کہ بے ہودہ مشاغل میں منہمک رہیں اور کھیلتے رہیں، یہاں تک کہ یہ اس دن سے ملاقات کریں جس دن کا وعدہ ان سے کیا جارہا ہے ۴۲ جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح تیزی کے ساتھ دوڑ رہے ہوں گے گویا کہ وہ کسی (پالے کے) پتّھر کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں ۴۳ ان کی آنکھیں جُھکی ہوئی ہوں گی، ذِلّت ان پر چھا رہی ہو گی، یہ ہی وہ دن ہو گا جس (دن) کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے ۴۴
معانی ومصادر:(مُهْطِعِيْنَ) اَھْطَعَ، يُھْطِعُ، اِھْطَاعٌ (باب افعال) تیزی سے بھاگنا۔
(عِزِيْنٌ) عَزِیْنَ = عِزَۃٌ کی جمع، جماعتیں، ٹولیاں۔
(نَعِیْمٌ) نَعَمَ، يَنْعَمُ، نَعْمَةٌ و مَنْعَمٌ (ف)خوش حال ہونا۔(نَعِیْمٌ =خوش حالی ، مال)۔
(اَجْدَاثٌ) اَجْدَاثٌ = جَدَثٌ کی جمع ، قبریں۔
(سِرَاعًا) سَرُعَ، يَسْرُعُ، سَرْعَةٌ و سَرَعٌ و سَرْعٌ و سَرَاعَۃٌ (ك و س) جلدی کرنا۔(سِرَاعٌ= سَرِیْعَۃٌ کی جمع، جلدی کرنے والیاں)۔
(نُصُبٌ) نَصَبَ، يَنْصِبُ، نَصْبٌ (ض و ن) کھڑا کرنا ، تکلیف پہنچانا ، گاڑنا۔ (نُصُبٌ=غیر اللہ کے آسانے ، گڑا ہوا پتّھر ، بت)۔
(يُوْفِضُوْنَ) اَوْفَضَ، يُوْفِضُ، اِيْفَاضٌ (باب افعال) دوڑنا، جلدی کرنا۔
(ترْھَقُ) رَھِقَ، يَرْھَقُ ، رَھَقٌ (س) پہنچنا۔
(ذِلَّۃٌ) ذَلَّ، يَذِلُّ، ذُلٌّ و ذِلَّةٌ وَ ذَلَالَۃٌ و مَذَلَّۃٌ (ض) ذلیل ہونا۔
(يُوْعَدُوْنَ) اَوْ عَدَ، يُوْعِدُ، اِیْعَادٌ (باب افعال) وعدہ کرنا۔
تفسیر : قرآن مجید کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ کفّار رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا مذاق اڑانے کے لیے آپؐ کے پاس ٹولیاں بنا بنا کر آتے تھے۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ شرافت نسب کی وجہ سے ضرور جنّت میں جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَ) (اے رسول) ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ آپؐ کی طرف تیزی سے دوڑتے ہوئے آتے ہیں (عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ) ٹولیاں بنا بنا کر داہنی طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی (اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍ) کیا ان میں سے ہر شخص یہ امید رکھتا ہے کہ اسے نعمت کی جنّت میں داخل کر دیا جائے گا (كَلَّا، اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ) ہرگز (ایسا) نہیں (ہوگا) ہم نے انھیں ایسی (حقیر) چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ (بخوبی) جانتے ہیں (ایسی صُورت میں حسب و نسب پر فخر کیسا، حسب و نسب کی وجہ سے کوئی جنّت میں داخل نہیں ہو گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍ۲۰ فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّڪِیْنٍ۲۱ اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ۲۲
(سُوْرَۃُ وَالْمُرْسَلٰتِ: ۷۷، آیت : ۲۰ تا ۲۳)
(اے لوگو) کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟۔ پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ مقام میں (نہیں) رکھا؟۔ وقت کے ایک مقرّرہ اندازے تک۔ وہ اندازہ بھی ہم ہی نے مقرّر کیا تو (دیکھو) ہم کتنا اچّھا اندازہ کرنے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ۵ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ۶ یَخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِ۷
(سُوْرَۃُ وَالسَّمَآءِوَالطَّارِقِ: ۸۶، آیت : ۵ تا ۷)
انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اُچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ جو پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىِٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ۱۰۱
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳،آیت: ۱۰۱)
پھر جب صُور پھونکا جائے گا تو لوگ آپس میں نہ رشتوں کا لحاظ کریں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کے پرسانِ حال ہوں گے۔
آگے فرمایا (فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ) مشارق اور مغارب کے قسم ہم یقینًا قادر ہیں (عَلٰۤی اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ، وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ) کہ ان کے بدلے ان سے بہتر لوگ لے آئیں (ہم کو کوئی عاجز نہیں کر سکتا) اور نہ ہم عاجز ہونے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یُّحْیِےَالْمَوْتٰی، بَلٰۤی اِنَّهٗ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۳
(سُوْرَۃُ الْاَحْقَافِ: ۴۶، آیت : ۳۳)
کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو زندہ کر دے، کیوں نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ، بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۱۵
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۱۵)
اور (اے لوگو) کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں (نہیں ہم تو نہیں تھکے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ) یہ لوگ بلا وجہ ازسرِنو پیدا ہونے کے سلسلے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ،بَلٰی،وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ۸۱اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۸۲
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت:۸۱ تا ۸۲)
کیا جس (اللہ) نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں کہ انسانوں (کی پہلی پیدائش) کے مثل (دوبارہ) پیدا کر دے، کیوں نہیں ؟ وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔ جب وہ کسی چیز (کو پیدا کرنے) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام تو بس اتنا ہوتا ہے کہ اس چیز سے کہتا ہے “ہو جا ” تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ۳ بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ۴
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۳ تا ۴)
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈّیوں کو جمع نہیں کر سکتے۔ کیوں نہیں (ہم جمع کر سکتے ہیں) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور ٹھیک کر دیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَڪُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ۶۰ عَلٰۤی اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۶۱ وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰی فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ۶۲
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۶۰تا ۶۲)
ہم نے تم (لوگوں) میں موت کو مقدّر کر دیا ہے اور ہم عاجز نہیں۔ کہ تمھارے مثل تمھاری جگہ اور لوگ لے آئیں اور تم کو ایسی شکل میں پیدا کر دیں جس سے تم (قطعًا) ناواقف ہو۔ اور (اے کافرو) پہلی پیدائش کا تو تمھیں علم ہے پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے (کہ دوسری پیدائش کو بھی مان لو)۔
موسم کے ساتھ سورج ، چاند وغیرہ کے طلوع و غروب ہونے کی جگہیں بدلتی رہتی ہیں۔ اس لحاظ سے سورج، چاند وغیرہ کے ہر روز ایک نئی مشرق اور ایک نئی مغرب ہوتی ہے۔ سال پورا ہونے کے بعد از سرِنو طلوع و غروب ہونے کی جگہوں کا وہ ہی دور دوبارہ شروع ہو جاتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشارق اور مغارب جمع کے صیغے استعمال کیے۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے مشارق اور مغارب کی قسم کھا کر فرمایا کہ وہ کفّارِ مکّہ سے بہتر مخلوق پیدا کرنے پر قادر ہے لہٰذا پیدائش کے لحاظ سے فخر و غرور کرنا لغو و لایعنی ہے۔ جس ذلیل چیز سے یہ پیدا کیے گئے ہیں اس ذلیل چیز سے تمام انسان پیدا ہوئے ہیں تو پھر فخر کس بات پر اور محض پیدائش کی بنیاد پر جنّت کی آرزو رکھنا کس دلیل سے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو عزّت ایمان سے ملتی ہے نہ کہ خاندانی شرافت سے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ
(سُوْرَۃُ اِذَا جَآءَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ: ۳ ۶، آیت : ۸)
عزّت تو اللہ کی ہے، اُس کے رسول کی ہے اور مومنین کی ہے۔
آگے فرمایا(فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ)
تو (اے رسول) انھیں چھوڑ دیجیے کہ بے ہوده مشاغل میں منہمک رہیں اور کھیلتے رہیں یہاں تک کہ یہ اس دن سے ملاقات کریں جس دن کا وعدہ ان سے کیا جا رہاہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَوَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۱۱اَلَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَ۱۲
(سُوْرَۃُ الطُّوْرِ: ۵۲، آیت : اا تا ۱۲)
تو اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۔(یعنی) ان لوگوں کی جو (محض اعتراض کرنے کےلیے) غور و فکر میں کھیلتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا۔
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۷۰)
(اے رسول) جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے اور جن کو دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا ہے ایسے لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دیجیے۔
آگے فرمایا(یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ) جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح تیزی کے ساتھ دوڑ رہے ہوں گے گویا وہ کسی (پالے کے) پتّھر کی طرف دوڑتے ہوئے چلے جارہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ،یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْءٍ نُّكُرٍ۶ خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۷ مُهْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ،یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۸
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۶ تا ۸)
تو (اے رسول) آپ ان سے رُوگردانی کریں (قیامت کے دن ان کو اس کا مزا معلوم ہو جائے گا) جس دن ایک پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔(اس دن لوگوں کی) آنکھیں نیچی ہوں گی (وہ اپنی اپنی) قبروں سے اس طرح نکل پڑیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈّیاں ہیں۔ وہ پکارنے والے کی طرف تیزی کے ساتھ بھاگ رہے ہوں گے اور کافر یہ کہتے جا رہے ہوں گے یہ دن (بڑا) سخت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا، ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ۴۴
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۴۴)
جس دن زمین ان (کی لاشوں) پر سے پھٹ جائے گی (اور) وہ (قبروں سے نکل کر) تیزی کے ساتھ (میدانِ محشر میں جمع ہو جائیں گے) یہ جمع کر لینا ہمارے لیے آسان ہے۔
آگے فرمایا (خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ، ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ) ( قیامت کے دن جب یہ کفّار قبروں سے نکلیں گے تو) ان کی نظریں نیچی ہوں گی ذِلّت ان پر چھا رہی ہوگی، یہ ہی وہ دن ہو گا جس دن کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔
دنیا میں یہ کفّار اپنے حسب، نصب اور مال و دولت پر فخر کرتے ہیں اور ان چیزوں کو باعزّت سمجھتے ہیں لیکن یہ چیزیں حقیقی عزّت کا باعث نہیں، قیامت کے دن ان کی یہ عزّت خاک میں مل جائے گی، یہ لوگ ذِلّت سے دو۲ چار۴ ہوں گے۔ اس دن عزّت اسے ملے گی جو مومن ہوگا۔ کفّار کو چاہیے کہ وہ فانی اور غیر حقیقی عزّت پر فخر نہ کریں بلکہ ایمان لاکر دائی اور حقیقی عزّت کو حاصل کریں۔
عمل
اے لوگو! دنیا کی فانی شرافت پر فخر نہ کیجیے۔ ایمان لا کر دائمی، اُخروی اور حقیقی شرافت و عزّت کو حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔