Surah Al-Muddathir
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۷۴ – سُوْرَۃُ الْمُدَّثِّرِ
فہرستِ مضامین
۷۴۔ سُوْرَۃُ الْمُدَّثِّرِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ۱ قُمْ فَاَنْذِرْ۲ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۳ وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۴ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۵ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۶ وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْ۷
ترجمہ: اے کپڑے اوڑھنے والے۱ اُٹھیے اور (لوگوں کو بداعمالی کے انجام سے) ڈرایے۲ اپنے ربّ کی بڑائی بیان کیجیے۳ اپنے کپڑوں کو پاک رکھیے۴ ناپاکی سے دور رہیے۵ اور (کسی پر اس لیے) احسان نہ کیجیے کہ (بدلے میں اس سے) زیادہ کی طلب ہو۶ اور اپنے ربّ (کی رضا جوئی) کےلیے (ہر قسم کے مصائب پر) صبر کرتے رہیے۷
معانی و مصادر: (اَلْمُدَّثِّرُ) اِدَّثَّرَ، يَدَّثَّرُ، اِدَّثُّرٌ ( باب افعل ) کپڑا اوڑھنا۔
(رُجْزٌ) رُجْزٌ= عذاب، بت پرستی ، گندگی۔
شانِ نزول : حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهٖ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِی النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرٰى رُؤْيًا اِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ اِلَيْهِ الْخَلَاءُ وَكَانَ يَخْلُوْ بِغَارِ حِرَآءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيْهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِیَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ اَنْ يَنْزِعَ اِلٰى اَهْلِهٖ وَيَتَزَوَّدُ لِذٰلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ اِلٰى خَدِيْجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتّٰى جَآءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِی غَارِ حِرَآءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اِقْرَأْ قَالَ مَا اَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَاَخَذَلِی فَغَطَّنِی حَتّٰى بَلَغَ مِنِّی الْجَهْدُ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ اِقْرَأْ فَقُلْتُ مَا اَنَا بِقَارِئٍ فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِيَةَ حَتّٰى بَلَغَ مِنِّی الْجَهْدَ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ اِقْرَأْ فَقُلْتُ مَا اَنَا بِقَارِئٍ فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِیْ الثَّالِثَةَ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ خَلَقَ الاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْاَ ڪْرَمُ فَرَجَعَ بِهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهٗ فَدَخَلَ خَدِيْجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ فَقَالَ زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْهُ حَتّٰى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِیْجَةَ وَاَخْبَرَهَا الْخَبَرَ لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰى نَفْسِیْ فَقَالَتْ خَدِیْجَةُ كَلَّا وَاللهِ مَا يُخْزِيَكَ اللهُ اَبَدًا اِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلٰى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِهٖ خَدِیْجَةُ حَتّٰى اَتَتْ بِهٖ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ اَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ابْنَ عَمِّ خَدِیْجَةَ وَكَانَ امْرَاءً تَنَصَّرَ فِی الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعِبْرَانِیَّ فَيَكْتُبُ مِنَ الْاِنْجِیْلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَآءَ اللهُ اَنْ يَّكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ فَقَالَتْ لَهٗ خَدِیْجَةُ يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعَ مِنِ ابْنِ اَخِیْكَ فَقَالَ لَهٗ وَرَقَةُ يَا ابْنَ اَخِیْ مَاذَا تَرٰى فَاَخْبَرَهٗ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَاٰى فَقَالَ لَهٗ وَرَقَةُ هٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ نَزَّلَ اللهُ عَلٰى مُوْسٰى يَا لَيْتَنِیْ فِيْهَا جَذَعًا لَيْتَنِیْ اَكُوْنُ حَيًّا اِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوَمُخْرِجِیَّ هُمْ قَالَ نَعَمْ لَمْ يَاْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهٖۤ اِلَّا عُوْدِیَ وَاِنْ يُّدْرِكْنِیْ يَوْمُكَ اَنْصُرْكَ نَصْرًا مُّؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ اَنْ تُوُفِّیَ وَفَتَرَ الْوَحْیُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَّاَخْبَرَنِیْ اَبُوْ سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْاَنْصَارِیَّ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْیِ فَقَالَ فِیْ حَدِيْثِهٖ بَيْنَا اَنَا اَمْشِیْ اِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَآءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِیْ فَاِذَا الْمَلَكُ الَّذِیْ جَآءَنِیْ بِحِرَآءٍ جَالِسٌ عَلٰى كُرْسِیٍّ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِیْ فَاَنْزَلَ اللهُ تَعَالٰى: یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ۱ قُمْ فَاَنْذِرْ۲ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۳ وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۴ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۵ فَحَمِیْ الْوَحْیُ وَتَتَابَعَ۔
(صحیح بخاری کتاب الوحی باب كيف كان بداء الوحى الى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جزء اوّل صفحہ – ۳ و ۴، حديث : 3 و حديث : ۴ ، وكتاب التفسير كتاب التفسير سورة اقراء جزء ۶ صفحہ ۲۱۴ حديث : ۴۹۵۳ / ۴۶۷۰ و حديث : ۴۹۵۴ / ۴۶۷۱، و صحیح مسلم کتاب الایمان باب بداء الوحى الى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جزء اوّل صفحہ ۷۸ تا ۸۰ حديث : ۴۰۳ / ۱۶۰ و حديث : ۴۰۶ / ۱۶۱)
وحی کے سلسلے میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے لیے جس چیز سے ابتدا ہوئی وہ اچّھے خواب تھے۔ آپؐ جو خواب بھی دیکھتے تھے وہ صبح کی روشنی کے مثل واقع ہو جاتا تھا۔ پھر آپؐ تنہائی پسند کرنے لگے۔ آپؐ غارِحرا میں چلے جاتے تھے اور وہاں کئی کئی رات عبادت کرتے تھے اس سے پہلے کہ آپؐ اپنی بیوی کے پاس آکر وہاں رہنے کے لیے مزید کھانا لے جاتے۔ پھر آپؐ خدیجہؓ کے پاس آتے اور اتنا ہی کھانا پھر لے جاتے یہاں تک کہ حق آ گیا۔ آپؐ اس وقت غارِحرا ہی میں تھے۔ آپؐ کے پاس فرشتہ آیا۔ اس نے کہا پڑھیے۔ آپؐ نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہو۔ اس نے مجھے پکڑا اور (خوب) بھینچا یہاں تک کہ مجھے قوّت محسوس ہوئی۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھیے میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے پھر مجھے پکڑا اور (خوب) بھینچا یہاں تک کہ مجھے قوّت محسوس ہوئی۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھیے میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے پھر تیسری مرتبہ مجھے پکڑا اور (خوب) بھینچا یہاں تک کہ مجھے قوّت محسوس ہوئی۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ۱ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۲ اِقْرَاْ وَ رَبُّڪَ الْاَڪْرَمُ۳ رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم ان آیات کے ساتھ (گھر) لوٹے، آپؐ کا دِل دھڑک رہا تھا۔ آپؐ خدیجہؓ کے پاس پہنچے تو آپؐ نے فرمایا مجھے کمبل اوڑھادو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ گھر والوں نے کمبل اوڑھا دیا۔ جب خوف چلا گیا تو آپؐ نے خدیجہؓ کو ساری خبرسنائی اور فرمایا مجھے اپنی جان کا خوف ہے (حضرت) خدیجہؓ نے عرض کیا ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم اللہ آپؐ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپؐ رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں ، معاشرہ پر جو لوگ بار ہیں ان کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نادار کے لیے آپؐ کماتے ہیں، مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں،حق کے کاموں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں، پھر حضرت خدیجہؓ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو لے کر اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزیٰ کے پاس گئیں۔ ورقہ ایامِ جاہلیّت میں عیسائی ہو گئے تھے۔ عبرانی زبان میں کتابیں لکھا کرتے تھے۔ انجیل کا ترجمہ بھی عبرانی زبان میں کیا تھا۔ بہت بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے ان سے کہا اے چچا کے بیٹے! ذرا اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے کہا اے بھیجتے تم نے کیا دیکھا ہے؟ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جو کچھ دیکھا تھا بیان کیا۔ ورقہ نے کہا یہ تو وہی فرشتہ ہے جو اللہ نے موسیٰ (علیہ الصّلوۃ والسّلام) پر نازل فرمایا تھا۔ اے کاش میں جوان ہوتا۔ اے کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جس وقت آپؐ کی قوم آپؐ کو نکالے گی۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے پوچھا کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا ہاں ہر اس شخص سے جو ایسی چیز لے کر آیا جیسی چیز آپؐ لے کر آئے ہیں دشمنی کی گئی اور اگر مجھے آپؐ کا وہ زمانہ نصیب ہوا تو میں بہت زوردار طریقے سے آپؐ کی مدد کروں گا۔ پھر حضرت ورقہ زیادہ عرصہ تک زندہ نہیں رہے اور ان کی وفات ہو گئی۔ وحی کچھ عرصے کے لیے رک گئی۔ وحی کے رک جانے سے آپؐ رنجیدہ رہنے لگے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا اس حالت میں کہ میں چلا جارہا تھا میں نے آسمان کی طرف سے آنے والی ایک آواز سنی۔ آپؐ نے نظر اوپر کی تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی فرشتہ جو آپؐ کے پاس حرا میں آیا تھا زمین اور آسمان کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں ان کو دیکھ کر ڈر گیا۔ پھر میں گھر چلا گیا۔ میں نے کہا مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اے کمبل اوڑھنے والے، اٹھیے اور (لوگوں کو) ڈرایے، اپنے ربّ کی بڑائی بیان کیجیے، اپنے کپڑے پاک رکھئیے اور گندگی سے دور رہیے پھر وحی کی آمد گرما گرم ہوگئی اور لگا تار آنے لگے۔
تفسیر: شانِ نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے سورۂ اقراء نازل ہوئی۔ سورۂ اقراء میں صرف پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ سورۂ اقراء کے بعد آیات زیرِ تفسیر نازل ہوئیں۔ آیات زیرِ تفسیر میں لوگوں کو ڈرانے اور اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کرنے اور چند دوسری باتوں کا حکم دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ) اے کپڑا اوڑھنے والے (قُمْ فَاَنْذِرْ)اٹھیے اور (لوگوں کو بد اعمالی کے انجام سے) ڈرایے۔ (وَرَبَّكَ فَکَبِّرْ) اپنے ربّ کی بڑائی بیان کیجیے (وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ)اپنے کپڑوں کو پاک رکھئیے(وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ) ناپاکی سے دور رہے(وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ) اور (کسی پر اس لیے) احسان نہ کیجیے کہ (بدلے میں اس سے) زیادہ کی طلب ہو (وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْ) اور اپنے ربّ (کی رضا جوئی) کے لیے (ہر قسم کے مصائب پر) صبر کرتے رہیے۔
آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر مسلم کو چاہیے کہ اسلام کی تبلیغ کرتا رہے، اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور بزرگی بیان کرتا رہے، کپڑوں کو پاک و صاف رکھے، لوگوں کی بے لوث دینی و دنیوی خدمت کرے اور تمام مصائب پر صبر کرے۔
عمل
اے ایمان والو! لوگوں کو شرک، کفر اور بد اعمالی کے انجام سے ڈرایے، اپنے ربّ کی بڑائی بیان کرتے رہیے، اپنے کپڑوں کو پاک وصاف رکھئیے، گندگی سے دور رہے، لوگوں کے ساتھ احسان تو کیجیے لیکن اس امید کے ساتھ نہیں کہ بدلے میں وہ آپ پر اس سے زیادہ احسان کریں، بغیر لالچ و طمع کے لوگوں کی خدمت کرتے رہیے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کے راستے میں تبلیغ کرنے سے تکالیف پہنچیں تو صبر کیجیے، بے صبری کا اظہار نہ کیجیے۔
ترجمہ: جب صُور پھونکا جائے گا۸ تو وہ دن (بڑا) سخت ہو گا۹ (اور) کافروں پر تو وہ (قطعًا) آسان نہیں ہو گا۱۰
معانی و مصادر: (نُقِرَ) نَقَرَ، يَنْقُرُ، نَقْرٌ (ن) مارنا، پھونکنا، سوارخ کرنا۔
(نَاقُوْرٍ= صُور، نرسنگھا)
(عَسِيْرٌ) عَسِرَ، يَعْسَرُ، عُسْرٌ و عُسُرٌ و عَسَرٌ (س) عَسُرَ، يَعْسُرُ، عُسْرٌ و عُسَارَةٌ (ك) مشکل ہونا۔
(يَسِيْرٌ) يَسُرَ، يَیْسُرُ، يُسْرٌ (ك) يَسِرَ، یَيْسَرُ، يَسَرٌ (س) آسان ہونا۔
تفسیر: قیامت کا حال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (فَاِذَانُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ) جب صُور پھونکا جائے گا (فَذٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَّوْمٌ عَسِيرٌ)تو وہ دن (بڑا) سخت ہوگا (عَلَى الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ)(اور) کافروں پر تو وہ (قطعًا) آسان نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ،ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰی فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ۶۸
(سُوْرَۃُ الزُّمَرِ : ۳۹، آیت : ۶۸)
اور (اے رسول، جب) صُور پھونکا جائے گا تو آسمانوں میں اور زمین میں جتنے بھی ہیں سب پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے گا (کہ بےہوش نہ ہو) پھر (جب) دوبارہ صُور پھونکا جائے گا تو سب ایک دم (قبروں سے نکل) کھڑے ہوں گے (اورحیران ہو کر ادھر اُدھر) دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَوْلُهُ الْحَقُّ،وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ،عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ،وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ۷۳
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۷۳)
اُس کی بات سچّی ہے جس دن صُور پھونکا جائے گا اس دن اُسی کی حکمرانی ہو گی وہ پوشیدہ اور ظاہر (ہر چیز) کا جاننے والا ہے اور حکمت والا ہے اور (ہر چیز سے) باخبر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًا۹۹ وَ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَىِٕذٍ لِّلْڪٰفِرِیْنَ عَرْضَا۱۰۰ (سُوْرَۃُ الْکَـھْـفِ: ۱۸، آیت : ۹۹تا ۱۰۰)
اور (جب) صُور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو (میدانِ محشر میں) جمع کریں گے۔ اس روز ہم دوزخ کو کافروں کے سامنے لے آئیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىِٕذٍ زُرْقًا۱۰۲
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۲)
جس دن صُور پھونکا جائے گا (تو) ہم اس دن گناہ گاروں کو جمع کریں گے، ان کی آنکھیں نیلی، نیلی ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىِٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ۱۰۱ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕڪَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۱۰۲ وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕڪَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ۱۰۳ تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ۱۰۴
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۱۰۱تا ۱۰۴)
پھر جب صُور پھونکا جائے گا تو لوگ آپس میں نہ رشتوں کا لحاظ کریں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کے پرسانِ حال ہوں گے۔ (اس دن) تو (بس) جن کی تولیں بھاری ہوں گی وہی فلاح پائیں گے۔ اور جن کی تولیں ہلکی ہوں گی یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے خود اپنا نقصان کیا (اور اب وہ) ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی اور وہ اس آگ میں (ایسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے) چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ،وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ۸۷
(سُوْرَۃُ النَّمْلِ : ۲۷، آیت : ۸۷)
اور (اے رسول) جس دن صُور پھونکا جائے گا تو اس دن آسمانوں میں اور زمین میں جتنے بھی لوگ ہیں سب گھبرا جائیں گے سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے پھر وہ سب اللہ کے پاس عاجزانہ حالت میں حاضر ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ۵۱ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا،هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ۵۲ اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۵۳
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت : ۵۱ تا۵۳)
اور (اے رسول، پھر) جب صُور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ قبروں سے نکل کر (فورًا) اپنے ربّ کی طرف تیزی کے ساتھ چل کھڑے ہوں گے۔ (اور ایک دوسرے سے) کہیں گے ہائے ہماری خرابی ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اُٹھا کھڑا کیا، یہ تو وہی (قیامت) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسول سچ کہتے تھے۔ (اور اے رسول) وہ تو بس ایک زور دار آواز ہو گی کہ (اس کے سنتے ہی) سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ۱۳ وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً۱۴ فَیَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ۱۵
(سُوْرَۃُ الْاَحْقَافِ: ۴۶، آیت : ۱۳تا۱۵)
پھر جب صُور میں پھونک ماری جائے گی۔ اور زمین کو اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا اور ان کو ایک ہی بار میں (توڑ پھوڑ کر) برابر کر دیا جائے گا۔ تو اس دن قیامت واقع ہو گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا۱۸ وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَڪَانَتْ اَبْوَابًا۱۹ وَ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا۲۰ اِنَّ جَهَنَّمَ ڪَانَتْ مِرْصَادًا۲۱ لِلطَّاغِیْنَ مَاٰبًا۲۲ لٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًا۲۳
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ: ۷۸، آیت : ۱۸تا۲۳)
(یہ وہ دن ہو گا) جس دن صُور پھونکا جائے گا تو لوگ فوج در فوج آموجود ہوں گے۔ آسمان کھول دیا جائے گا تو (اس کے کئی) دروازے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو جائیں گے۔ بےشک دوزخ (سرکشوں کی) گھات میں ہے۔ سرکشوں کا ٹھکانا وہی ہے۔ اس میں وہ سالہا سال تک رہیں گے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جَآءَ اَعْرَابِیُّ اِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا الصُّوْرُ قَالَ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيْهِ (رواه الترمذی و صححه فِی ابواب صفة القيمة باب ما جاء فى الصور جزء ۲ صفحه ۱۷۲ حديث : ۲۴۳۰ / ۲۵۹۹ ، ومسند احمد حديث : ۶۵۰۷ / ۶۲۱۸ / ۱۳۰۶1)، ومستدرك حاكم حديث : ۳۸۷۰ / ۳۹۱۲)
ایک دیہاتی نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس آیا۔ اس نے کہا صُور کیا چیز ہے؟ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا نرسنگھا۔ اس میں پھونک ماری جائے گی۔
الغرض قیامت کے دن صُور پھونکا جائے گا تو وہ دن کافروں پر بڑا سخت ہوگا۔ مندرجہ بالا آیات میں جن عذابات کا ذِکر ہے وہ گویا لفظ ”عَسِیْر“کی تفسیر ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْءٍ نُّكُرٍ۶ خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۷ مُهْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ،یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۸
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۶تا ۸)
تو (اے رسول) آپ ان سے رُوگردانی کریں (قیامت کے دن ان کو اس کا مزا معلوم ہو جائے گا) جس دن ایک پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔ (اس دن لوگوں کی) آنکھیں نیچی ہوں گی (وہ اپنی اپنی) قبروں سے اس طرح نکل پڑیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈّیاں ہیں۔ وہ پکارنے والے کی طرف تیزی کے ساتھ بھاگ رہے ہوں گے اور کافر یہ کہتے جا رہے ہوں گے یہ دن (بڑا) سخت ہے۔
عمل
اے لوگو! اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم اور قیامت کے دن پر ایمان لایے۔
ایمان نہ لانے والوں کے لیے قیامت کا دن بہت سخت ہو گا۔
ترجمہ: (اور اے رسول) مجھے اور جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا ہے اس کو چھوڑ دیجیے (میں اس کو دیکھ لوں گا)۱۱ میں نے اس کو بہت سا مال دیا۱۲ حاضر رہنے والے بیٹے (دیے)۱۳ اور (ہرقسم کا) سامان (عیش) اس کو فراہم کیا۱۴ پھر بھی اس کی خواہش ہے کہ میں اسے اور دوں۱۵ ہرگز (ایسا) نہیں (ہو گا) وہ تو ہماری آیتوں کا دشمن ہے۱۶ میں عنقریب اسے ایک دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کےلیے مجبور کردوں گا۱۷ (اس لیے کہ) اس نے (قرآن مجید میں) غور و فکر کیا تو (اس کے متعلّق بڑا غلط) فیصلہ کیا۱۸ یہ (عنقریب) ہلاک کیا جائے گا، اس نے کیسا (غلط) فیصلہ کیا۱۹ پھر (سن لو) یہ ہلاک کیا جائے گا، اس نے کیسا (غلط) فیصلہ کیا۲۰ اس نے (محض دکھانے کےلیے قرآن مجید میں) پھر غور کیا۲۱ پھر تیوری چڑھائی اور منھ بگاڑ لیا۲۲ پھر اس نے پیٹھ پھیر لی اور تکبّر کیا۲۳ پھر کہا یہ کچھ نہیں بس ایک جادو ہے جو (اگلوں سے) منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۲۴ یہ تو بس ایک انسان کا کلام ہے۲۵ تو (اے رسول) میں اسے عنقریب دوزخ میں داخل کروں گا۲۶ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ دوزخ کیا ہے۲۷ وہ (ایک آگ ہے جو) نہ (کھال) باقی رکھے گی اور نہ (بغیر جلائے) چھوڑے گی۲۸ (وہ آگ انسانوں کی) کھالوں کو جھلس ڈالے گی۲۹ اس پر انّیس۱۹ (فرشتے) نگراں ہیں۳۰ اور (اے لوگو) ہم نے دوزخ کی نگرانی کےلیے کسی کو مقرّر نہیں کیا سوائے فرشتوں کے اور فرشتوں کی گنتی کو ہم نے کافروں کےلیے ذریعۂ آزمائش بنایا ہے (اور اس کا یہ فائدہ بھی ہے) کہ اہلِ کتاب کو یقین آجائے (کہ قرآن مجید حق ہے، ان کی کتاب کی تصدیق کرتا ہے اور ان کی کتاب قرآن مجید کی تصدیق کرتی ہے) اور یہ کہ (اہلِ کتاب کی تصدیق سے) ایمان والوں کا ایمان اور زور دار ہو جائے اور اہلِ کتاب (قرآن کے حق ہونے میں) شک نہ کریں اور نہ ایمان والے شک کریں اور یہ کہ جن لوگوں کے دِلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے اور وہ لوگ جو کافر ہیں یہ کہیں کہ ایسی باتوں کے بیان کرنے سے اللہ کا کیا مقصد ہے، اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت پر چلا کر منزلِ مقصود پر پہنچا دیتا ہے (اور اے رسول، کافر یہ خیال نہ کریں کہ آپ کے ربّ کے پاس بس انیس۱۹ ہی فرشتے ہیں، نہیں) آپ کے ربّ کے لشکروں کو اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور (اے رسول) یہ (دوزخ کا ذِکر) تو بس انسانوں کےلیے نصیحت (کے طور پر) ہے (تاکہ وہ دوزخ کا ذِکر سن کر کفر اور اعمالِ بد سے باز آجائیں)۳۱ (اے لوگو، کیا تم سمجھتے ہو کہ دوزخ کوئی معمولی چیز ہے) ہرگز نہیں، قسم چاند کی۳۲ اور قسم رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے۳۳ اور قسم صبح کی جب وہ روشن ہو جائے۳۴ وہ (دوزخ تو) بڑی (آفتوں) میں سے ایک (بہت) بڑی (آفت) ہے۳۵ وہ انسان کو خوف دلانے والی (چیز) ہے۳۶ اس (انسان) کےلیے جو تم میں سے (اُس سے ڈر کر آگے بڑھنا) چاہے تو آگے بڑھ جائے (اور حق کو قبول کرے) اور اس (انسان) کےلیے بھی جو تم میں سے (پیچھے) رہنا چاہے تو پیچھے رہ جائے (اور حق کا انکار کر دے)۳۷
معانی و مصادر: (وَحِيْدٌ) وَحَدَ، يَحِدُ، وَحْدٌ و وَحْدَةٌ و حِدَةٌ و وُحُوْدٌ (ض) اکیلا ہونا۔ (وَحِيْدٌ= اکیلا)
(مَمْدُوْدٌ) مَدَّ، يَمُدُّ، مَدٌّ (ن) کھینچنا، بچھانا، زیادہ کرنا۔ (مَمْدُوْدٌ = بہت زیادہ کیا ہوا، بچھایا ہوا)
(شُهُوْدٌ) شَهِدَ، يَشْهَدُ، شُهُوْدٌ (س) حاضر ہونا، دیکھنا مطلع ہونا، پانا (شُهُوْدٌ = شَاھِدٌ کی جمع ، حاضر، موجود، گواہ)
(مَهَّدْتُّ) مَهَّدَ، يُمَهِّدُ، تَمْهِيْدٌ (باب تفعیل) بچھانا، اصلاح کر دینا، مہیا کر دینا۔
(عَنِيْدٌ) عَنَدَ، يَعْنُدُ، عُنُوْدٌ ( ن، ض، س، ك) راہ حق سے ہٹ جانا، جان بوجھ کر حق کی مخالفت کرنا۔
(اُرْهِقُ) اَرْهَقَ، يُرْهِقُ، اِرْهَاقٌ (باب افعال) ایسی بات کا مکلف کرنا جو نہ ہو سکے، پانا۔
(صَعُوْدٌ) صَعِدَ، يَصْعَدُ، صُعُودٌ وصَعَدٌ وصُعُدٌ (س) چڑھنا۔ (صَعُوْدٌ= مشقّت، دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنا)
(فَكَّرَ) فَكَّرَ، يُفَكِّرُ، تَفْكِيْرٌ (باب تفعیل) غور و فکر کرنا۔
(قَدَّرَ) قَدَّرَ، يُقَدِّرُ، تَقْدِيْرٌ (باب تفعیل) قادر بنانا، فیصلہ کرنا کسی خاص مقدار میں بنانا، اندازہ کرنا۔
(نَظَرَ) نَظَرَ، يَنْظُرُ، نَظُرٌ و مَنْظَرٌ و مَنْظَرَةٌ و تَنْظَارٌ و نَظَرَانٌ (ن ، س) دیکھنا، تدبر اور غور و فکر کرنا، فیصلہ کرنا۔
(عَبَسَ) عَبَسَ، يَعْبِسُ، عَبْسٌ و عُبُوْسٌ (ض) تیوری چڑھانا۔
(بَسَرَ) بَسَرَ، يَبْسُرٌ، بَسْرٌ و بُسُورٌ (ن) تیوری چڑھانا، منھ بنانا۔
(يُؤْثَرُ) اَثَرَ، يَاْثُرُ، اَثَرٌ و اۤثَارَةٌ و اُثَرَةٌ (ن ، ض) نقل کرنا۔
(اُصَلِی) اَصْلٰى، يُصْلِی، اِصْلَاءٌ (باب افعال) داخل کرنا۔
(تُبْقِىْ) اَبْقٰى، يُبْقِىْ، اِبْقَاءٌ (باب افعال) باقی رکھنا۔
(لَوَّاحَةٌ) لَاحَ، يَلُوْحُ، لَوْحٌ (ن) متغیر کرنا۔
(بَشَرٌ) بَشَرَ، يَبْشُرُ، بَشْرٌ (ن) کھال ادھیڑنا۔ (بَشَرٌ = بَشَرَۃٌ کی جمع، جلدیں)
(يَرْتَابُ) اِرْتَابَ، يَرْتَابُ، اِرْتِیَابٌ (باب افتعال) شک کرنا۔
(اَسْفَرَ) اَسْفَرَ، يُسْفِرُ، اِسْفَارٌ (باب افعال) کھولنا، روشن ہونا، حسین ہونا۔
(كُبَرٌ) كَبُرَ، يَكْبُرُ، كِبَرٌ و كُبْرٌ و کُبَارَةٌ (ك) بڑا ہونا۔ (کُبَرٌ = کُبْرٰی کی جمع جو اَڪْبَرُ کا مونث ہے، زیادہ بڑی چیزیں)
تفسیر: آیات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص نے قرآن مجید کے متعلّق گستاخانہ کلمات کہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تنبیہ کے لیے یہ آیات نازل فرما ئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا) (اے رسول) مجھے اور اس شخص کو جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا ہے چھوڑ دیجیے (میں اسے دیکھ لوں گا) (وَجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا) میں نے اس کو بہت سامان دیا (وَبَنِيْنَ شُهُوْدًا) اور حاضر رہنے والے بیٹے دیے (وَمَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِيْدًا) اور (ہر قسم کا) سامان (عیش و راحت) اس کو فراہم کیا (وہ جب پیدا ہوا اکیلا تھا، نہ اس کے پاس مال و دولت تھی اور نہ حاضر رہنے والے بیٹے اور نہ اس کے پاس اسباب عیش و راحت تھے، یہ سب کچھ میں نے اس کو دیا لیکن وہ ناشکری کرتا ہے، میرے کلام کے ساتھ گستاخی کرتا ہے) (ثُمَّ يَطْمَعُ اَنْ اَزِيْدَ) پھر بھی اس کی خواہش ہے کہ اسے اور دوں (یعنی قیامت کے دن بھی اسے اپنی نعمتوں سے مالا مال کر دوں) (كَلَّا، اِنَّهُ كَانَ لِاٰ يٰتِنَا عَنِيْدًا) ہرگز (ایسا) نہیں (ہوگا) وہ تو ہماری آیتوں کا دشمن ہے (سَاُرْ هِقُهٗ صَعُوْدًا)(قیامت کے روز) میں اسے ایک دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کے لیے مجبور کروں گا (اِنَّهٗ فَكَّرَ وَقَدَّرَ) (اس لیے کہ) اس نے (قرآن مجید میں) غور و فکر کیا تو (اس کے متعلّق بڑا غلط) فیصلہ کیا (فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ) یہ (عنقریب) ہلاک کیا جائے گا، اس نے کیسا (غلط) فیصلہ کیا (ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ) (اے لوگو!) پھر (سن لو) یہ ہلاک کیا جائے گا، اس نے کیسا (غلط) فیصلہ کیا (ثُمَّ نَظَرَ) اس نے (محض لوگوں کو دکھانے کے لیے قرآن مجید میں) پھر غور کیا (ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَ) پھر تیوری چڑھائی اور منھ بنایا (تا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ قرآن مجید واقعی اچّھی چیز نہیں) (ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ) پھر اس نے پیٹھ پھیری اور تکبّر کیا (پیٹھ پھیر کر نفرت کا اظہار کیا اور اس کو قبول نہ کر کے اپنی بڑائی کا اظہار کیا) (فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ) پھر کہا یہ کچھ نہیں بس جادو ہے جو (اگلوں سے) منتقل ہوتا چلا آرہا ہے (اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ) یہ تو بس ایک انسان کا کلام ہے (اللہ کا کلام نہیں) (سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ) (تو اے لوگو) میں عنقریب اسے دوزخ میں داخل کروں گا (وَمَاۤ اَدْرٰـكَ مَا سَقَرُ) اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ وہ دوزخ کیا ہے (لَا تُبْقِىْ وَلَا تَذَرُ) نہ (کھال) باقی رکھے گی اور نہ (بغیر جلائے) چھوڑے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا،كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ،اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا۵۶
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۵۶)
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم عنقریب ان کو دوزخ میں داخل کریں گے (پھر) جب کبھی ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم (جلی ہوئی کھال کو) دوسری کھال سے بدل دیں گے تاکہ وہ (مسلسل) عذاب کا مزا چکھتے رہیں، بےشک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔
آگے فرمایا (لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ) وہ (آگ انسان کی) کھالوں کو جھلس ڈالے گی (عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ) اس پر انیس (فرشتے نگران) ہیں (وَمَا جَعَلْنَا ۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً) اور (اے لوگو) ہم نے دوزخ کی نگرانی کے لیے کسی کو مقرّر نہیں کیا سوائے فرشتوں کے (وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّ تَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَيَزْدَا دَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِيْمَانًا) اور فرشتوں کی گتیْ کو ہم نے کافروں کے لیے ذریعۂ آزمائش بنایا ہے (اور اس کا یہ فائدہ بھی ہے) کہ اہلِ کتاب کو یقین آجائے (کہ قرآن مجید حق ہے، ان کی کتاب کی تصدیق کرتا ہے اور دوزخ کے فرشتوں کی وہی تعداد بتاتا ہے جو توریت میں بیان ہوئی ہے) اور یہ کہ (اہلِ کتاب کی اور توریت کی تصدیق سے) ایمان والوں کا ایمان اور زیادہ ہو جائے (ان کے یقین میں اور اضافہ ہو جائے کہ قرآن مجید واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے) (وَّ لَا يَرْتَابَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ) او (توریت کی مطابقت اور تائید سے) اہلِ کتاب بھی اور ایمان والے بھی (قرآن مجید کے حق ہونے میں) شک شبہ نہ کریں (فرشتوں کی گنتی مقرّر کرنا، پھر اس کو تو رات میں بیان کرنا اور اس کے بعد قرآن مجید میں اسی تعداد کو بیان کرنا قرآن مجید کی تصدیق کا ایک ذریعہ بنا۔ فرشتوں کی تعداد مقرّر کرنے اور اس کو بیان کرنے میں اللہ تعالیٰ کی یہی مصلحت تھی، کافر اس مصلحت کو سمجھ نہ سکے اور لگے طرح طرح کے اعتراض کرنے)۔
آگے فرمایا (وَ لِيَقُوْلَ الَّذِيْنَ فِیْ قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللهُ بِهٰذَا مَثَلًا) (ہم نے فرشتوں کی تعداد کو کافروں کے لیے ذریعۂ آزمائش بنایا ہے) اور (وہ اس طرح) کہ جن کے دِلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے (یعنی منافقین) اور وہ لوگ جو کافر ہیں یہ کہیں کہ ایسی باتوں کے بیان کرنے سے اللہ کا کیا مقصد ہے (وہ اللہ کی مصلحت اور مقصد کو سمجھ نہیں سکیں گے اور بلا وجہ کے اعتراضات کریں گے حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ اس پر ایمان لاتے اور مصلحت اور مقصد کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ اعتراض کر کے گمراہی کا راستہ اختیار کیا) (كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللهُ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ) اس طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت پر چلا کر منزلِ مقصود پر پہنچا دیتا ہے۔
کافروں نے اور منافقوں نے اعتراض کیا اور ایمان نہیں لائے لہٰذا گمراہ ہوئے ایمان والوں نے اعتراض نہیں کیا بلکہ ایمان لے آئے لہٰذا ہدایت یاب ہوئے۔ کافر اور منافق آزمائش میں کامیاب نہیں ہوئے جب کہ ایمان والے آزمائش میں کامیاب ہوئے۔ دوزخ کے فرشتوں کے ذِکر اور ان کی گنتی مقرّر کرنے سے اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ تھا کہ ایمان والوں اور کفر کرنے والوں میں امتیاز پیدا ہو جائے اس قسم کی آزمائش اور امتحان اللہ تعالیٰ کرتا رہتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا،فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ،وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ڪَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا،یُضِلُّ بِهٖ ڪَثِیْرًا،وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا،وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ۲۶
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۶)
بےشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ مچّھر کی مثال بیان کرے یا اس سے بڑی کسی چیز کی مثال بیان کرے، جو لوگ مومن ہیں وہ تو جان لیتے ہیں کہ وہ ان کے ربّ کی طرف سے حق ہے اور جو کافر ہیں وہ (اعتراضًا) کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے، ایسی مثال سے اللہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو راہِ راست بتا کر منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا ہے اور اللہ ایسی مثال سے ان ہی کو گمراہ کرتا ہے جو فاسق ہوتے ہیں۔
آگے فرمایا (وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ) اور (اے رسول! کافر یہ خیال نہ کریں کہ آپ کے ربّ کے پاس بس انّیس۱۹ ہی فرشتے ہیں نہیں آپ کے ربّ کے پاس تو بے شمار لشکر ہیں البتّہ) آپ کے ربّ کے لشکروں کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا (وَمَا هِیْ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ) اور (اے رسول) یہ (دوزخ کا ذِکر) تو بس انسانوں کے لیے نصیحت (کے طور پر) ہے (تا کہ وہ دوزخ کا ذِکر سن کر کفر اور اعمال بد سے باز آجائیں)(كَلَّا وَالْقَمَرِ) اے لوگو! کیا تم سمجھتے ہو کہ دوزخ معمولی چیز ہے) ہرگز نہیں (وہ معمولی چیز نہیں) قسم چاند کی (وَالَّيْلِ اِذْ اَدْبَرَ) اور قسم رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (وَالصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَ) اور قسم صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِ) وہ (دوزخ تو) بڑی (آفتوں) میں سے ایک (بہت) بڑی (آفت) ہے (نَذِيْرًا لِّلْبَشَرِ) وہ انسان کو خوف دلانے والی (چیز) ہے (لِمَنْ شَآءَ مِنْکُمْ اَنْ يَّتَقَدَّمَ اَوْ يَتَاَ خَّرَ) اس انسان کے لیے جو تم میں سے (اس سے ڈر کر آگے بڑھنا) چاہے تو آگے بڑھ جائے (اور حق کو قبول کرے) اور اس انسان کے لیے بھی جو تم میں سے (پیچھے رہنا) چاہے تو پیچھے رہ جائے (اور حق کا انکار کر دے)۔
غرض یہ کہ دوزخ کا ذِکر نیک اور بد سب کو ڈراتا ہے۔ نیک لوگ اس سے ڈر کر اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور بُرے لوگ نہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور نہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
عمل
اے لوگو! قیامت پر اور دوزخ کے عذاب پر ایمان لایے۔ بُرائیوں سے دور رہیے اور نیکیوں کی طرف سبقت کیجیے۔
ترجمہ : (قیامت کے دن) ہرشخص اپنے اعمال کی وجہ سے گروی ہو گا۳۸ مگر ہاں داہنی طرف والے (نیک لوگ گرفتار نہیں ہوں گے)۳۹ وہ تو جنّتوں میں (عیش و راحت سے ہوں گے اور) سوال کر رہے ہوں گے۴۰ (یعنی) مجرمین سے (سوال کر رہے ہوں گے)۴۱ (بتاؤ) تمھیں دوزخ میں کس چیز نے داخل کیا۴۲ وہ جواب دیں گے ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۴۳ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۴۴ (اور دین کی مخالفت میں) بال کی کھال نکالنے والوں کے ساتھ بال کی کھال نکالا کرتے تھے۴۵ اور سزا اور جزا کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے۴۶ (اور ہماری یہ ہی حالت رہی) یہاں تک کہ ہمیں موت آئی۴۷ تو (اے لوگو) ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش کوئی فائدہ نہیں دے گی۴۸ (ان چیزوں کے ذِکر سے کافروں کو نصیحت حاصل ہو جانی چاہیے تھی مگر) انھیں کیا ہو گیا ہے کہ نصیحت سے رُوگردانی کر رہے ہیں۴۹ گویا کہ وہ گدھے ہیں کہ بِدک رہے ہیں۵۰ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) شیر سے (ڈر کر) بھاگ رہے ہیں۵۱ (وہ نہیں چاہتے کہ قرآن پر ایمان لائیں) بلکہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہے کہ اسے (براہِ راست اللہ کی طرف سے) کھلے ہوئے صحیفے ملیں۵۲ (ایسا تو) ہرگز نہیں (ہو سکتا، یہ قرآن کا انکار کسی اور وجہ سے نہیں کرتے) بلکہ (ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ) یہ لوگ آخرت سے نہیں ڈرتے۵۳ (ان کی خواہش) ہرگز نہیں (پوری ہو گی، انھیں اسی کتاب یعنی قرآن مجید پر ایمان لانا ہو گا) یہ (سراسر) نصیحت (کی کتاب) ہے۵۴ تو (اب) جو (شخص نصیحت حاصل کرنا) چاہے وہ اسی سے نصیحت حاصل کر لے۵۵ اور (یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ) وہ (اس کتاب پر کبھی) غور و فکر نہیں کریں گے، مگر یہ کہ اللہ چاہے، وہ ڈر والا ہے (اُس سے ڈرنا ہی چاہیے) وہ مغفرت والا ہے (اُس سے مغفرت کی امید رکھنی چاہیے)۵۶
معانی و مصادر: (رَهِيْنَةٌ) رَهَنَ، يَرْهَنُ، رَهْنٌ (ف) گروی رکھنا۔(رَهِيْنَةٌ=ماخوذ، گروی)
(سَلَكَ) سَلَكَ، يَسْلُكُ، سَلْكٌ و سُلُوْكٌ (ن ) چلنا، پرودینا، داخل ہونا ، داخل کرنا۔
(سَقَرَ) سَقَرَ، يَسْقُرُ، سَقْرٌ (ن) جھلسنا۔ (سَقَرٌ = دوزخ)
(حُمُرٌ) حُمُرٌ = حِمَارٌ کی جمع، گدھے۔
(مُسْتَنْفِرَةٌ) اِسْتَنْفَرَ، يَسْتَنْفِرُ، اِسْتِنْفَارٌ (باب استفعال) نفرت ہونا، بد کنا۔
(فَرَّتْ) فَرَّ، يَفِرُّ، فَرٌّ و فِرَارٌ و مَفَرٌّ و مَفِرٌّ (ض) بھاگنا۔
(قَسْوَرَۃٌ) قَسْوَرَةٌ = شير
(مُنَشَّرَةٌ) نَشَّرَ، يُنَشِّرُ، تَنْشِيْرٌ (باب تفعیل) پھیلا دینا، بچھا دینا۔
تفسیر : قیامت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ) (قیامت کے دن) ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے گروی ہو گا۔
جب کوئی شخص کسی سے قرض لیتا ہے تو بطور ضمانت کے اپنی کوئی چیز قرض دینے والے کے پاس رکھوادیتا ہے۔ اس فعل کوگروی رکھنا کہتے ہیں۔ جو چیز گروی رکھی جاتی ہے وہ قرض لینے والے کو واپس نہیں ملتی جب تک وہ اپنا قرض نہ ادا کرے۔ اسی طرح ہر انسان اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گروی ہو گا اور اس وقت تک نجات نہیں پائے گا جب تک وہ ان نیک اعمال کو ادانہ کرے جو اس کے ذِمّے واجب الادا تھے (اِلَّا ۤاَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ) مگر ہاں داہنے ہاتھ والے (یعنی نیک عمل والے گروی نہیں ہوں گے اس لیے کہ ان کے ذِمّے جو نیک اعمال واجب الادا تھے وہ انھوں نے دنیا ہی میں ادا کر دیے یعنی نیک عمل والے عذابِ الہٰی میں گرفتار نہیں ہوں گے برخلاف اس کے بُرے عمل والے گروی و گرفتار ہوں گے۔ انھوں نے نیک عمل کر کے اپنی نجات کا سامان نہیں کیا لہٰذا اب عذاب سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے)۔
داہنے ہاتھ والوں کو جو انعام و اکرام ملے گا اس کا ذِکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ عزّوجل ذوالجلال والاکرام فرماتا ہے:
وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ،مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ۲۷ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۲۸ وَ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۲۹ وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۳۰ وَ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ۳۱ وَ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ۳۲ لَا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍ۳۳ وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ۳۴ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءً۳۵ فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا۳۶ عُرُبًا اَتْرَابًا۳۷ لِاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ ۳۸ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ۳۹ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۴۰
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۲۷تا ۴۰)
اور داہنے ہاتھ والے، کیا کہنے داہنے ہاتھ والوں کے۔ (وہاں) وہ بغیر کانٹے والی بیریوں میں۔ تہہ بہ تہہ کیلوں (میں)۔ لمبے لمبے سایوں (میں)۔ پانی کے جھرنوں (میں)۔ کثیر میووں (میں)۔ (جو) نہ (کبھی) منقطع ہوں گے اور نہ ان سے (کبھی) روکا جائے گا۔ اونچے اونچے فرشوں (میں عیش کر رہے ہوں گے)۔ (ان چیزوں کے علاوہ انھیں حوریں بھی ملیں گی) ہم نے ان کو پیدا کیا۔ پھر ان کو کنواری بنایا۔ (مزید برآں ہم نے ان کو) پیاری پیاری اور ہم عمر بنایا۔ داہنے ہاتھ والوں کےلیے۔ (ان میں) ایک بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے (ہو گی)۔ اور ایک بہت بڑی جماعت بعد والوں میں سے (ہو گی)۔
آگے فرمایا (فِیْ جَنّٰتٍ، يَتَسَآءَلُوْنَ) (سیدھے ہاتھ والے) جنّتوں میں (شاداں و فرحاں ہوں گے اور) سوال کر رہے ہوں گے (عَنِ الْمُجْرِ مِيْنَ) (یعنی) مجرمین سے (سوال کر رہے ہوں گے) (مَا سَلَكَـکُمْ فِیْ سَقَرَ)(بتاؤ) تمھیں دوزخ میں کس چیز نے داخل کیا۔ (قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ) وہ جواب دیں گے ہم نماز نہیں پڑھتے تھے (وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَ) مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے (وَكُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِيْنَ) اور دین (کی مخالفت میں) بال کی کھال نکالنے والوں کے ساتھ بال کی کھال نکالا کرتے تھے (وَكُنَّا نُكَذِبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ) اور سزا اور جزا کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے (حَتّٰى اَتٰنَا الْيَقِيْنُ) (اور ہماری یہی حالت رہی) یہاں تک کہ ہمیں موت آئی۔
یقین سے مراد موت ہے اس لیے کہ اس سے زیادہ یقینی چیز کوئی نہیں۔ انھی معنوں میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اعْبُدْ رَبَّڪَ حَتّٰی یَاْتِیَڪَ الْیَقِیْنُ۹۹
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵، آیت : ۹۹)
اور اس وقت تک اپنے ربّ کی عبادت کرتے رہیے جب تک آپ کو موت نہ آئے۔
مندرجہ ذیل حدیث میں بھی یہ لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
حضرت امِّ علاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَطْعُوْنٍ طَارَ لَهُمْ فِی السُّكْنٰى حِيْنَ اقْتَرَعَتِ الْاَنْصَارُ عَلٰى سُكْنَى الْمَهَاجِرِيْنَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ فَاشْتَکٰى عُثْمَانُ عِنْدَنَا فَمَرَّضْتُهٗ حَتّٰى تُوُفِّىَ وَجَعَلْنَاهُ فِیْ اَثْوَابِهٖ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِیُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ اَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِیْ عَلَيْكَ لَقَدْ اَكْرَمَكَ اللهُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَایُدْ رِيْكِ اَنَّ اللهَ اَكْرَمَهٗ ، قَالَتْ قُلْتُ لَا اَدْرِىْ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِیْ يَا رَسُولَ اللهِ فَمَنْ قَالَ اَمَّا هُوَ فَقَدْ جَآءَهٗ وَاللهِ الْيَقِيْنُ وَ اللهِ اِنِّیْ لَاَ رْجُوْلَهُ الْخَيْرَ وَمَا اَدْرِیْ وَاللهِ وَاَنَا رَسُوْلُ اللهِ مَا يُفْعَلُ بِهٖ قَالَتْ فَوَاللهِ لَا اُزَکّىْ اَحَدًا بَعْدَهٗ قَالَتْ فَاَحْزَنَنِىْ ذٰلِكَ فَنِمْتُ فَرِیْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ مَطْعُوْنِ عَيْنًا تَجْرِىْ فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ ذٰلِكَ عَمَلُهٗ ۔
(صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب مقدم النبي صلى الله علیه و سلم و اصحابه المدينة جزء۵ صفحه ۸۵ حديث : ۳۹۲۹ / َ۳۷۱۴)
جب انصار نے مہاجرین کی رہائش کے لیے قرعہ اندازی کی تو عثمان بن مظعونؓ کی رہائش ہمارے حصّے میں آئی۔ عثمانؓ ہمارے ہاں آکر بیمار ہو گئے۔ میں نے ان کی تیمارداری کی یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے ان کو کفن پہنا دیا پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم تشریف لائے میں نے کہا: اے ابو السائبؓ اللہ کی تم پر رحمت ہو، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو عزّت دی۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا تمھیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے ان کو عزّت بخشی۔ میں نے کہا مجھے نہیں معلوم۔ اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان اگر اللہ ان کو عزّت نہیں دے گا تو پھر کس کو دے گا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا موت تو ان کو یقینًا آچکی ہے اللہ کی قسم میں ان کے لیے بھلائی کی امید رکھتا ہوں لیکن میں اگرچہ اللہ کا رسول ہوں، نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا میں نے کہا اللہ کی قسم اب میں کسی کی پاکی بیان نہیں کروں گی مگر اس بات نے مجھے فکر مند بہت کر دیا۔ میں سو گئی تو میں نے خواب میں عثمان بن مظعونؓ کا چشمہ دیکھا جو بہ رہا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس گئی۔ میں نے آپؐ کو خواب کی خبر دی۔ آپؐ نے فرمایا یہ ان کا عمل ہے۔
آیات زیرِ تیرہ میں ان چار۴ باتوں کا ذِکر ہے جو دوزخ میں داخل ہونے کا سبب بنیں گی اور وہ یہ ہیں :
۱ نماز نہ پڑھنا۔
نماز ایک بہت ہی اہم فریضہ ہے۔ یہ اسلام کے پانچ۵ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰى خَمْسٍ، شَهَادَةِ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ، وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيْتَاءِ الزَّكٰوةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ
(صحیح بخاری کتاب الایمان باب دعاء کم ایمانکم جزء اوّل صفحہ ۹ حديث : ۸ ، و صیح مسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی الاسلام علی خمس جزء اوّل صفحہ ۲۷ حديث : ۱۱۳ / ۱۶)
اسلام کی بنیاد پانچ۵ چیزوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ (۱)اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں اور محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم اللہ کے رسول ہیں، (۲)نماز قائم کرنا، (۳)زکوٰۃ دینا، (۴)حج کرنا اور (۵)رمضان کے روزے رکھنا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْا اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَيُقِيْمُو الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوا الزَّڪٰوةَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّى دِمَآءَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى الله
(صحیح بخاری کتاب الایمان باب فان تابوا و اقاموا الصلوة واتوا الزكوة فخلوا سبيلهم جزء اوّل صفحه ۱۳ حديث : ۲۵، و صحیح مسلم کتاب الايمان باب الامر بقتال الناس حتى يقولوا لا اله الا الله محمد رسول اللہ جزء اوّل صفحہ ۳۰ حديث : ۱۲۹ / ۲۲)
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، پھر جب وہ ایسا کریں تو ان کے خون اور ان کے مال مجھ سے محفوظ ہو گئے مگر اسلام کا حق (ضرور لیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ کے ذِمّے ہو گا۔
نماز کا چھوڑ نا کفر اور شرک ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلٰوةِ
(صحيح مسلم كتاب الإيمان باب بیان اطلاق اسم الكفر على من ترك الصلوة جزء اوّل صفحه ۴۹ حديث : ۲۴۶ / ۸۲)
(مومن) آدمی اور شرک اور کفر کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے (یعنی نماز چھوڑنا شرک اور کفر ہے)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَلْعَهْدُ الَّذِیْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلٰوةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ
(رواہ الترمذی و صححہ فی کتاب الایمان باب ماجاء فی ترك الصلوة جلد ۲ صفحه ۳۳۱ حديث : ۲۶۲۱ / ۲۸۰۹ ، وسنن نسائى حديث : ۴۶۴ / ۴۶۳ ، وسنن ابن ماجه حديث : ۱۰۷۹)
ہم میں اور ان (کفّار) کے درمیان نماز (کا فرق) ہے لہٰذا جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْكِ اِلَّا تَرَكَ الصَّلٰوةِ فَاِذَا تَرَكَهَا فَقَدْ اَشْرَكَ
(ابن ماجه كتاب الصلوة باب ما جاء فمن ترك الصلواة جزء اوّل صفحہ ۳۳۴، حديث : ۱۰۸۰ ، سندہ صحیح صحیح الجامع الصغير للالبانی جلد ۲ صفحہ ۹۵ حديث : ۵۳۸۸ ، وسنن دارمی حديث : ۱۲۶۹ / ۱۲۰۵ / ۱۲۶۷ / ۱۲۰۸)، وتعظيم قدر الصلاة المروزي حديث : ۸۹۸)
(مومن) بندے اور شرک میں کوئی فرق نہیں سوائے نماز چھوڑنے کے تو جب بندے نے نماز چھوڑ دی تو اس نے شرک کیا ہے۔
۲ دوسری چیز جو دوزخ میں جانے کا سبب بنے گی وہ ”مسکین کو کھانا نہ کھلانا“ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا۵ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا۶ یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا۷ وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا۸ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا۹ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا۱۰ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِڪَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًا۱۱
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ: ۷۶، آیت : ۵ تا اا)
بےشک (آخرت میں) نیک لوگ گلاسوں میں (ایسی شراب) پِییں گے جس میں کافور کی آمیزش ہو گی۔ (وہ) ایک چشمہ ہو گا جس میں سے اللہ کے بندے (شراب) پیتے رہیں گے (اور) اس کی نہریں نکال لیا کریں گے۔ (یہ اللہ کے بندے وہ ہوں گے جو) اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن کی بُرائی (بڑے وسیع پیمانے میں ہر طرف) پھیلی ہوئی ہو گی۔ اور جو کھانے کی خواہش رکھتے ہوئے (اپنا) کھانا مسکین کو، یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے ہیں۔ (اور کھانا کھلاتے وقت ان سے کہتے ہیں کہ) ہم تمھیں صرف اللہ کی رضا کےلیے کھلاتے ہیں تم سے ہم نہ کسی بدلے کے طلب گار ہیں اور نہ کسی شکریہ کے۔ ہمیں تو اپنے ربّ سے اس دن کا ڈر ہے جو دن چہرے بگاڑ دے گا اور جو بڑا سخت (پریشان کُن) ہو گا۔ تو اللہ ان کو اس دن کی بُرائی سے بچا لے گا اور تر و تازگی اور سُرور سے ان کو بہرہ ور کرے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ۱۱ وَ مَاۤ اَدْرٰىڪَ مَا الْعَقَبَةُ۱۲ فَكُّ رَقَبَةٍ۱۳ اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍ۱۴ یَتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ۱۵ اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ۱۶
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ: ۹۰، آیت : اا تا ۱۶)
لیکن وہ گھاٹی سے ہو کر نہ نکلا۔ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ گھاٹی کیا ہے۔ (گھاٹی یہ ہے) غلام کا آزاد کرانا۔ یا بھوک کے دن کھانا کھلانا۔ رشتے دار یتیم کو۔ یا خاک نشین محتاج کو۔
حضرت عبد اللہ بن عمَرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَىُّ الْاِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامِ وَ تَقْرَءُ السَّلَامَ عَلٰى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَّمْ تَعْرِفُ
(صحیح بخاری کتاب الایمان باب اطعام الطعام من الاسلام جزء اوّل صفحه ۱۰حديث : ۱۲، و صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان تفاضل الاسلام وای اموره افضل جزء اوّل صفحه ۳۷ حديث : ۱۶۰ / ۳۹)
ایک شخص نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے دریافت کیا، کونسا اسلام اچّھا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اچّھا اسلام یہ ہے کہ تم کھانا کھلاؤ اور جس کو جانتے ہو اور جس کو نہ جانتے ہو سلام کرو۔
غرض یہ کہ مسکین کو کھانا کھلانا بہت بڑی نیکی ہے اور کھانا نہ کھلانا بہت بڑی بدبختی ہے۔مسکین کون ہے اس سلسلے میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَيْسَ الْمِسْكِيْنُ الَّذِیْ تَرُدُّهُ الْاُڪْلَةُ وَ الْاُ كْلَـتَانِ وَلٰكِنِ الْمِسْكِيْنُ الَّذِیْ لَيْسَ لَهٗ غِنًى وَ يَسْتَحْيِیْ اَوْلَا يَسْاَلُ النَّاسَ اِلْحَافًا۔
(صحیح بخارى كتاب الزكوة باب قول الله تعالى لا يسئلون الناس الحافا جزء ۲ صفحہ ۱۵۳ حديث : ۱۴۷۶ / ۱۴۰۶ وصحیح مسلم کتاب الزكوة باب المسكين الذى لا يجد غنى جزء اوّل صفحہ ۴۱۴ حديث : ۲۳۹۴ / ۱۰۳۹ واللفظ البخاری)
مسکین وہ نہیں جس کو ایک نوالہ یا دو۲ نوالے لوٹا دیں بلکہ مسکین وہ ہے جس کو فارغ البالی میسّر نہیں تاہم وہ (سوال کرتے ہوئے) شرماتا ہے یا (اگر وہ سوال کرتا ہے تو) چمٹ کر سوال نہیں کرتا۔
۳ تیسری چیز جو دوزخ میں جانے کا سبب بنے گی وہ بال کی کھال نکالنا اور اسلامی احکام پر طرح طرح کے اعتراض کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَوَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۱۱ اَلَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَ۱۲
(سُوْرَۃُ الطُّوْرِ: ۵۲، آیت : اا تا ۱۲)
تو اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۔ (یعنی) ان لوگوں کی جو (محض اعتراض کرنے کےلیے) غور و فکر میں کھیلتے رہتے ہیں۔
۴ چوتھی چیز جو دوزخ میں جانے کا سبب بنے گی روز قیامت کا انکار کرنا ہے۔
قیامت پر ایمان لانا بنیادی عقیدوں میں سے ہے۔ قیامت پر ایمان نہ لانے والا مسلم نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُڪَذِّبِیْنَ۱۰اَلَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۱۱ وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ۱۲اِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۱۳
(سُوْرَۃُ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ: ۸۳، آیت : ۱۰تا ۱۳)
اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۔ (یعنی ان لوگوں کی) جو روزِ جزا کو جھٹلاتے ہیں۔ اور اس کو وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے بڑھ جانے والا گناہ گار ہوتا ہے۔ جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ۵وَ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۶
(سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰتِ : ۵۱، آیت : ۵ تا ۶)
جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ (بالکل) سچ ہے۔ حساب و کتاب ضرور ہو کر رہے گا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ النَّبِیُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارِزًا يَوْمًا لِلنَّاسِ فَاَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا الْاِيْمَانُ قَالَ الْاِيْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَ مَلٰئِكَتِهٖ وَبِلِقَآئِهٖ وَرُسُلِهٖ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ
(صحیح بخاری کتاب الایمان باب سوال جبرئیل النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن الایمان جزء اوّل صفحه ۱۹حديث : ۵۰، وصحیح مسلم کتاب الایمان باب الایمان ما هو و بیان خصاله جزء اوّل صفحه ۲۳ حديث : ۹۷/ ۹)
ایک دن رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم لوگوں کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی اثنا میں ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے سوال کیا ایمان کیا ہے؟ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی ملاقات پر، اس کے رسولوں پر اور دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان لاؤ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ اِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيْدُ بَيَاضِ الْثِيَابِ شَدِيْدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لَا يُرٰى عَلَيْهِ اَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهٗ مِنَّا اَحَدٌ حَتّٰى جَلَسَ اِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ اِلٰى رُكْبَتَيْهِ وَوَضْيَعَ كَفَّيْهِ عَلٰى فَخِذَيْهِ وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْاِسْلَامُ اَنْ تَشْهَدَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَ تُقِيْمَ الصَّلٰوةَ وَتُؤْتِی الزَّكٰوةَ وَ تَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَعَجِبْنَا لَهٗ يَسْأَ لَهٗ وَيُصَدِّقُهٗ قَالَ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِيْمَانِ قَالَ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَ مَلٰٓئِكَتِہٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَ شَرِهٖ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاَحْسَانِ قَالَ اَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ فَاِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهٗ يَرَاكَ قَالَ فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَةِ قَالَ مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ قَالَ فَاخْبِرُنِیْ عَنْ اَمَا رَتِهَا قَالَ اَنْ تَلِدَ الْاَمَةُ رَبَّتَهَا وَ اَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاءَلُوْنَ فِی الْبُنْيَانِ قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِیْ يَا عُمَرُ اَتَدْرِىْ مَنِ السَّائِلُ قُلْتُ اَللهُ وَرَسُوْلُهٗ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّهٗ جِبْرِيْلُ اَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَڪُمْ
(صحیح مسلم کتاب الایمان جزء اوّل صفحه ۲۲ حديث : ۹۳/ ۸)، وصحيح بخارى حديث :۵۰)
ایک دن ہم رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی اثنا میں ایک شخص ہمارے پاس آیا۔ اس کے کپڑے سفید جھک تھے، اس کے بال سیاہ فام تھے، اس پر سفر کا کوئی اثر نظر نہیں آتا تھا اور ہم میں سے کوئی اسے نہیں پہچانتا تھا۔ وہ آکر نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے گھٹنے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے گھٹنوں سے ملا دیے اور اپنی ہتھیلیاں اپنی رانوں پر رکھ لیں۔ اس نے کہا اے محمّد مجھے اسلام کے متعلّق بتائیے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی شہادت دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ محدّا اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔ اس نے کہا آپؐ نے سچ فرمایا۔ ہمیں اس کی اس بات سے تعجّب ہوا کہ سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا مجھے ایمان کے متعلّق بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا (ایمان یہ ہے) کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یومِ آخر پر ایمان لاؤ اور تقدیر کی بھلائی اور بُرائی پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا آپؐ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے کہا مجھے احسان کے متعلّق بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا (احسان یہ ہے کہ) تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پھر اگر (تم) یہ (کیفیت) پیدا نہ کر سکو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو (یہ کیفیت تو پیدا کرو کہ) وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا مجھے قیامت کی خبر دیجیے (کہ وہ کب آئے گی) آپؐ نے فرمایا جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ اس بات کو نہیں جانتا۔ اس نے کہا کہ اس کی نشانیاں بتائیے آپؐ نے فرمایا (اس کی نشانیاں یہ ہیں) کہ لونڈی اپنے مالک کو جنے (یعنی لونڈی زادے اقتدار کے مالک ہو جائیں) اور تم دیکھو کہ ننگے پَیر پھرنے والے، ننگے بدن رہنے والے، مفلوک الحال بکریوں کے چرواہے (اپنی) عمارتوں پر فخر کریں گے۔ پھر وہ شخص چلا گیا اور کچھ دن گزر گئے تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مجھ سے پوچھا اے عمر! کیا تمھیں معلوم ہے کہ وہ سائل کون تھا۔ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا وہ جبریلؑ تھے۔ تمھارے پاس اس لیے آئے تھے کہ تم کو تمھارا دین سکھائے۔
دوزخیوں کے جواب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِيْنَ) تو (اے لوگو) ان (دوزخیوں) کو سفارش کرنے والوں کی سفارش کوئی فائدہ نہیں دے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ،وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۲۵۴
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۵۴)
اے ایمان والو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس دن نہ خرید و فروخت ہو گی، نہ دوستی (کام آئے گی) اور نہ سفارش (کا کسی کو اختیار ہو گا) ہمارے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے رہو اور کافر ہی (درحقیقت) ظالم ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا۱۰۹
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۹)
اس دن (کسی کی) سفارش نفع نہیں دے گی سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جس کو رحمٰن نے اجازت دے دی ہو اور جس کی بات کو وہ پسند کرے۔
الغرض مجرموں کے لیے کوئی سفارش کر نہیں سکتا جب تک اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت نہ دے اور اللہ تعالیٰ اسی شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کو وہ بخشاا چاہے گا اور جس کو وہ بخشاا نہیں چاہے گا اس کے لیے اجازت نہیں دے گا۔ اگر بالفرض محال سفارش کرنے والوں کو سفارش کی اجازت بھی مل جائے تب بھی ان کی سفارش سے ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا جن کو اللہ تعالیٰ بخشا نہیں چاہے گا۔
آگے فرمایا (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ) (دوزخیوں کے بیانات اور سفارش کا قبول نہ ہونا یہ ایسی باتیں ہیں کہ مجرمین کو ان سے نصیحت حاصل ہو جانی چاہیے تھی لیکن) انھیں کیا ہو گیا ہے کہ نصیحت سے رُوگردانی کر رہے ہیں (كَانَهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ) گویا کہ وہ گدھے ہیں کہ بدک رہے ہیں (فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ) (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) شیر سے (ڈر کر) بھاگ رہے ہیں (یعنی جس طرح گدھے شیر سے ڈر کر بھاگتے ہیں اسی طرح مجرمین اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر بھاگتے ہیں ایسی صُورت میں انھیں نصیحت کیسے حاصل ہو سکتی ہے اور وہ کس طرح اپنی بُرائیوں سے تو بہ کر سکتے ہیں۔ نصیحت تو انھیں حاصل ہوتی ہے جو سنیں اور سمجھیں، جو نہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں وہ کیسے نصیحت حاصل کر سکتے ہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۲۷ لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَ۲۸
(سُوْرَۃُ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ: ۸۱، آیت : ۲۷ تا ۲۸)
یہ (قرآن) تو تمام (اقوام) عالم کےلیے نصیحت ہے۔ (مگر مفید) اس کےلیے ہے جو سیدھے راستے پر چلنا چاہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ،اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا،وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَی الْهُدٰی فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا۵۷[
(سُوْرَۃُ الْکَـھْـفِ: ۱۸، آیت : ۵۷)
اور اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جس کو اس کے ربّ کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس سے منھ پھیر لیتا ہے اور جو اعمال اس نے آگے بھیج دیے ہیں ان کو بھول جاتا ہے (بات یہ ہے کہ) ہم نے ان کے دِلوں پر پردے ڈال دیے ہیں تاکہ وہ حق کو سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ (ڈال دیا ہے تاکہ سن نہ سکیں) اور (اے رسول) اگر اس حالت میں آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو یہ کبھی ہدایت کی طرف نہ آئیں گے۔
کیوں کہ کافروں کے دِلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں لہٰذا یہ حق بات کو سننا ہی نہیں چاہتے بلکہ اگر سن بھی لیں تو فوراً نفرت کے ساتھ بھاگ جاتے ہیں۔
آگے فرمایا (بَلْ يُرِيْدُ ڪُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً) (وہ نہیں چاہتے کہ قرآن مجید پر ایمان لائیں) بلکہ ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ اسے (براہِ راست اللہ کی طرف سے) کھلے ہوئے صحیفے ملیں (لیکن یہ تو ہو نہیں سکتا۔ ہر شخص کو نہ کتاب مل سکتی ہے اور نہ نبوّت مل سکتی ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ،اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ،سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ۱۲۴
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۱۲۴)
اور جب ان کے پاس کوئی آیت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں بھی وہی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے (اور) یہ بات تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کس کو عطا فرمائے جو لوگ گناہ کر رہے ہیں ان کو عنقریب اللہ کے ہاں ذِلّت نصیب ہو گی اور (اسلام کے خلاف) جو تدبیریں یہ کر رہے ہیں اس کی وجہ سے ان کو (بہت) سخت عذاب دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ نَرٰی رَبَّنَا،لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا۲۱
(سُوْرَۃ ُالْفُرْقَانِ: ۲۵، آیت : ۲۱)
اور (اےرسول) جو لوگ ہم سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل ہوتے (اگر ہم پرفرشتے نازل ہوتے تو ہم ایمان لے آتے) یا ہم اپنے ربّ کو دیکھتے (اگر ایسا ہوتا تو بھی ہم ایمان لے آتے)، ان کے دِلوں میں تکبّر ہے اور یہ سرکشی میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔
آگے فرمایا (كَلَّا، بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ) (ایسا تو) ہرگز نہیں ہو سکتا ( کہ ان میں سے ہر ایک کو کتاب دی جائے۔ یہ قرآن مجید کا انکار کسی اور وجہ سے نہیں کرتے) بلکہ (ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ) یہ لوگ آخرت سے نہیں ڈرتے (آخرت کا ڈر پیدا ہو جائے تو ان کا یہ تکبّر اور ان کا حق سے رُوگردانی سب ختم ہو جائے) (كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْکِرَةٌ) (ان کی یہ خواہش کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب دی جائے) ہرگز (پوری) نہیں (ہوگی، انھیں اسی کتاب یعنی قرآن مجید پر ایمان لانا ہوگا) یہ (سراسر) نصیحت (کی کتاب) ہے (فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗ) تو (اب) جو (شخص نصیحت حاصل کرنا) چاہے وہ اسی سے نصیحت حاصل کرے (کوئی دوسری کتاب اب قطعًا نہیں آئے گی) (وَمَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللهُ، هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ) (لیکن) یہ لوگ کبھی اس (کتاب پر) غور و فکر نہیں کریں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے (یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے قوانین ہدایت کے مطابق اللہ سے ڈر کر قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنا چاہیں گے انھیں نصیحت حاصل ہو جائے گی اور وہ ہدایت یاب ہو جائیں گے) وہ ڈر والا ہے (اُس سے ڈرنا ہی چاہیے) وہ مغفرت والا ہے (اُس سے مغفرت کی امید رکھنی چاہیے)۔
جو شخص اللہ سے ڈرے اور یہ امید رکھے کہ اگر اس نے توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے گا تو ایسا شخص ہدایت یاب ہو سکتا ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا تو اس کےلیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو ڈرتا ہے وہی معافی طلب کرتا ہے اور جو معافی طلب کرتا ہے وہی ہدایت حاصل کرتا ہے۔
عمل
اے لوگو! ایمان لایے اور نیک عمل کیجیے تا کہ آپ قیامت کے عذاب سے بچ جائیں۔
اے ایمان والو! نماز باقاعدگی کے ساتھ بلا ناغہ پڑھتے رہیے، مسکین کو کھانا کھلایے، اللہ تعالیٰ کی باتوں پر نکتہ چینی کی نیّت سے غور و خوض نہ کیجیے اور قیامت کے دن کو نہ جھٹلائے بلکہ اس پر پختگی کے ساتھ ایمان لایے۔
اے ایمان والو! قیامت کے دن کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی لہٰذا اس دھوکے میں نہ رہیے کہ کوئی بزرگ سفارش کر کے آپ کو عذاب الہٰی سے بچالے گا۔
اے لوگو! رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر ایمان لایے۔ یہ مطالبہ نہ کیجیے کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرداً فرداً کوئی کتاب نازل کی جائے۔ یہ مطالبہ لغو اور لا یعنی ہے۔
اے لوگو! اللہ تعالی سے ڈریئے۔ اللہ تعالی ہی حق دار ہے کہ اُس سے ڈرا جائے اور اُس سے مغفرت کی امید رکھیے وہ بڑی مغفرت والا ہے۔