Surah Al-Mursalat
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۷۷ – سُوْرَۃُ وَالْمُرْسَلٰتِ
فہرستِ مضامین
سُوْرَۃُ وَالْمُرْسَلٰتِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
شانِ نزول: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِیْ غَارٍ اِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلٰتِ فَتَلَقَّيْنَاهَا مِنْ فِيْهِ وَاِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا اِذْ خَرَجَتْ حَيَّةٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَیْکُمُ اقْتُلُوْهَا فَابْتَدَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا قَالَ فَقَالَ وَ وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيْتُمْ شَرَّهَا
(صحیح بخاری کتاب التفسير باب تفسير سورة المرسلت جزء ۶ صفحہ ۲۰۴ حديث : ۴۹۳۱ / ۴۶۴۷، وصحیح مسلم کتاب قتل الحيات جزء ۲ صفحہ ۲۹۵ حديث : ۵۸۳۵ / ۲۲۳۴)
اس حال میں کہ ہم ایک غار میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ تھے سورۂ والمرسلات آپؐ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر نازل ہوئی۔ ہم نے آپؐ کے منھ سے سن کر اسے سیکھا۔ ابھی آپؐ کا منھ اس کی قرأت سے تروتازہ تھا کہ اتنے میں ایک سانپ نکلا، آپؐ نے فرمایا اسے قتل کر دو۔ ہم لوگ اسے قتل کرنے کے لیے دوڑے۔ اس لیے ہم نے سبقت کی (یعنی ہمارے مارنے سے پہلے وہ بل میں گھس گیا) آپؐ نے فرمایا وہ تمھاری بُرائی سے بچالیا گیا تم اس کی بُرائی سے بچالیے گئے۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۱ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۲ وَ النّٰشِرٰتِ نَشْرًا۳ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۴ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًا۵ عُذْرًا اَوْ نُذْرًا۶ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌ۷ فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ۸ وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ۹ وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ۱۰ وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ۱۱ لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ۱۲ لِیَوْمِ الْفَصْلِ۱۳ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِ۱۴ وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُڪَذِّبِیْنَ۱۵
ترجمہ : نرم رفتار ہواؤں کی قسم۱ تیز و تند ہواؤں کی قسم۲ (بادلوں کو) پھیلا دینے والی ہواؤں کی قسم۳ (بادلوں کو ایک دوسرے سے) علیٰحدہ کر دینے والی ہواؤں کی قسم۴ ذِکر اِلقا کرنے والے فرشتوں کی قسم۵ (وہ ذِکر جو) عذر رفع کرتا ہے یا (لوگوں کو بداعمالی کے بُرے انجام سے) ڈراتا ہے۶ جس (قیامت) کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ ضرور واقع ہو گی۷ (اور اس وقت واقع ہو گی) جب ستارے ماند پڑ جائیں گے۸ جب آسمان پھٹ جائے گا۹ جب پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۱۰ جب رسولوں کو وقتِ مقرّرہ پر جمع کیا جائے گا۱۱ (اور اے رسول، آپ کو معلوم ہے) ان واقعات کو کس دن کےلیے مؤخّر کیا گیا ہے؟۱۲ فیصلے کے دن کےلیے۱۳ اور آپ کو معلوم ہے فیصلے کا دن کیا ہے۱۴ (وہ ایسا دن ہے کہ) اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۱۵
معانی و مصادر: (مُرْسَلٰتٌ) اَرْسَلَ، يُرْسِلُ، اِرْسَالٌ (باب افعال) بھیجنا۔ (مُرْسَلٰتٌ = فرشتے ، ہوائیں)
(عُرُفٌ) عَرَفَ، يَعْرِفُ، عِرْفَةٌ و عِرْفَانٌ و مَعْرِفَةٌ (ض) پہچانا، اقرار کرنا۔ (عُرُفٌ= اچّھا، موج، آگے پیچھے چلنا)
(عَصْفٌ) عَصَفَ، يَعْصِفُ، عَصْفٌ و عُصُوْفٌ (ض) ہوا تیز ہونا۔ (عَصْفٌ=عَاصِفَةٌ کی جمع ، آندھیاں)
(نَشْرٌ) نَشَرَ، یَنْشِرُ، نَشْرٌ (ض) پھیلانا ، پھاڑ دینا۔
( فَرْقٌ) فَرَقَ، يَفْرِقُ، يَفْرُقُ، فَرْقٌ (ن ، ض) مانگ نکالنا، پھاڑ دینا، جدا کرنا۔
(مُلْقِيٰتٌ) اَلْقٰى، يُلْقِىْ، اَلْقَاءٌ (باب افعال) ڈالنا- (مُلقِيٰتٌ=مُلَقِيَةٌ کی جمع ، ڈالنے والیاں)
(عُذْرٌ) عَذَرَ، يَعْذِرُ، عُذْرٌ و عُذُرٌ و مَعْذِرَةٌ و عُذْرٰی (ض) معذرت کرنا۔
(نُذُرٌ) اَنْذَرَ، يَنْذِرُ، اِنْذَارٌ (باب افعال) ڈرانا۔(نُذَرٌ=غیر قیاسی مصدر ہے)
(طُمِسَتْ) طَمَسَ، يَطْمِسُ، طَمْسٌ (ض) مٹانا ، ہلاک کر دینا۔
(فُرِجَتْ) فَرَجَ، يَفْرِجُ، فَرْجٌ (ض) کھولنا ، وسیع کرنا ہے)
(نُسِفَتْ) نَسَفَ، يَنْسِفُ، نَسْفٌ (ض) ریزہ ریزہ کرنا، جڑ سے اکھاڑ دینا، اکھاڑ کر پھینک دینا۔
(اُقِّتَتْ) وَقَّتَ، يُوَقِّتُ، تَوْقِیْتٌ (باب تفعیل) وقت مقرّر کرنا۔ (وُقِّتَتْ میں واؤ کو الف سے بدل کر اُقِّتَتْ بنایا گیا ہے۔
(اُجِّلَتْ) اَجَّلَ، يُؤَجِّلُ، تَاْجِيْلٌ (باب تفعیل) وقت مقرّر کرنا، تاخیر کرنا۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا) نرم رفتار ہواؤں کی قسم (فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا) تیز تند ہواؤں کی قسم (وَالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا) (بادلوں کو) پھیلا دینے والی ہواؤں کی قسم (فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا) (بادلوں کو ایک دوسرے سے) علیٰحدہ کرنے والی ہواؤں کی قسم (فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًا) پھر ذِکر القا کرنے والے فرشتوں کی قسم (عُذْرًا اَوْ نُذْرًا) (وہ ذِکر جو) عذر رفع کرتا ہے یا (لوگوں کو بد اعمالی کے بُرے انجام سے) ڈراتا ہے (اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌ) جس (قیامت کا) ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور واقع ہوگی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ۱ لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ۲
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۱تا۲)
(اے لوگو) جب واقع ہونے والی (یعنی قیامت) واقع ہو گی۔(اور) اس کے واقع ہونے میں جھوٹ کو کوئی دخل نہیں (وہ ایک حقیقت ہے، ضرور واقع ہو کر رہے گی)۔
آگے فرمایا(فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ) (قیامت اس وقت آئے گی) جب ستارے ماند پڑ جائیں گے(وَاِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ)جب آسمان پھٹ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْشَقَّتْ/ انشقاق: ۸۴، آیت : ۱)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ/ انفطار:۸۲، آیت:۱)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
آسمان پھٹ جائے گا ، اس میں بہت سے دروازے ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا۱۸
وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَڪَانَتْ اَبْوَابًا۱۹
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ/ النباء: ۷۸، آیت : ۱۸تا۱۹)
(یہ وہ دن ہو گا) جس دن صُور پھونکا جائے گا تو لوگ فوج در فوج آموجود ہوں گے۔ آسمان کھول دیا جائے گا تو (اس کے کئی) دروازے ہو جائیں گے۔
آسمان پھٹ کر بہت نازک ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىِٕذٍ وَّاهِیَةٌ۱۶
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۱۶)
آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن وہ بہت ہی کمزور ہو گا۔
آگے فرمایا (وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ) جب پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا۱۰۵
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۵)
اور (اے رسول، لوگ) آپ سے پہاڑوں کے متعلّق سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ میرا ربّ ان کو چُورا چُورا کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ۳ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا۴ وَ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۵ فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا۶
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۳تا۶)
(تو) وہ (بعض لوگوں کو) پست کرے گی (اور بعض لوگوں کو) بلند کرے گی۔ (اور اے لوگو) جب (قیامت آئے گی تو) زمین بہت زور سے ہلائی جائے گی۔ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ (اور) غبار کی طرح اڑیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ۱۳ وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً۱۴ فَیَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ۱۵
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۱۳ تا ۱۵)
پھر جب صُور میں پھونک ماری جائے گی۔ اور زمین کو اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا اور ان کو ایک ہی بار میں (توڑ پھوڑ کر) برابر کر دیا جائے گا۔ تو اس دن قیامت واقع ہو گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا۱۴
(سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّلِ: ۷۳، آیت : ۱۴)
جس دن زمین اور پہاڑ لرزیں گے اور پہاڑ بُھر بُھرے ٹِیلے بن جائیں گے۔
پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اس طرح اڑیں گے جس طرح دھنکی ہوئی اُون اڑتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ تَڪُوْنُ الْجِبَالُ ڪَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ۵
(سُوْرَۃُ اَلْقَارِعَۃُ: ۱۰۱، آیت : ۵)
اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اُون۔
آگے فرمایا (وَاِذَاالرُّسُلُ اُقِّتَتْ)اور جب رسولوں کو وقتِ مقرّرہ پرجمع کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ،قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا،اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۱۰۹
(سُوْرَۃُ الْمَآئِدَۃِ: ۵، آیت: ۱۰۹)
(اور اس دن کو یاد کرو) جس دن اللہ (تمام) رسولوں کو جمع کرے گا، پھر ان سے فرمائے گا “تمھیں (تمھاری قوم کی طرف سے) کیا جواب ملا تھا ” رسول جواب دیں گے “ہمیں کچھ نہیں معلوم (کہ ہمارے بعد کیا کیا ہوتا رہا) غیب کی باتوں کا جاننے والا تو صرف تو ہی ہے”۔
قیامت کے روز تمام رسولؑ جمع کیے جائیں گے اور صرف رسولؑ ہی نہیں بلکہ تمام لوگ جمع کیے جائیں گے، پھر حساب و کتاب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ذٰلِڪَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ،لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ۱۰۳
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۱۰۳)
(اور یومِ آخرت) وہ دن ہے کہ جس دن سب لوگ جمع کیے جائیں گے اور یہ ہی وہ دن ہے جس دن سب لوگ (اللہ تعالیٰ کے سامنے) حاضر کیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَ۴۹ لَمَجْمُوْعُوْنَ، اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۵۰
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۴۹تا۵۰)
(اے رسول) آپ کہہ دیجیے بےشک اگلے اور پچھلے سب۔ ایک مقرّرہ دن مقرّرہ وقت پر جمع کیے جائیں گے۔
آگے فرمایا (اَیِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ)(اور اے رسول آپ کو) معلوم ہے کہ ان واقعات کو) کس دن کے لیے موخّر کیا گیا ہے (لِيَوْمِ الْفَصْلِ) فیصلے کے دن کے لیے (موخّر کیا گیا ہے۔ اس دن ہی لوگ جمع کیے جائیں گے، حساب و کتاب ہوگا اور تمام لوگوں کے لیے جنّت یا دوزخ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس دن سے پہلے یہ واقعات ظاہر نہیں ہوں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ۱۰۴
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۱۰۴)
(اس دن کے آنے کا ایک وقت مقرّر ہے) اور ہم اس مقرّرہ وقت تک کےلیے ہی اس دن کو مؤ خّر کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ،وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَڪٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ۱۱۰
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۰اا)
(قیامت کے دن کے حساب و کتاب کی) بات پہلے سے نہ (طے کی گئی) ہوتی تو ان کے درمیان (دنیا ہی میں) فیصلہ کر دیا جاتا (قیامت کا آنا یقینی ہے) لیکن یہ لوگ (پھر بھی) اس کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ،
(سُوْرَۃُ الشُّوْرٰی : ۴۲، آیت : ۱۴)
اگر آپ کے ربّ کے فیصلے کا پہلے سے وقت مقرّر نہ ہوتا تو ان (لوگوں) کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہو گیا ہوتا،
آگے فرمایا (وَمَاۤ اَدْرٰكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ) اور (اے رسول) آپ کو معلوم ہے فےصل کا دن کیا ہے (وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ) اس دن (رسولوں اور قیامت کو) جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے (یعنی فیصلہ کا دن وہ دن ہے کہ اس دن کافروں کی بڑی خرابی ہے، ان کے لیے جہنّم کا فیصلہ کیا جائے گا)۔
آیات زیرِ تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے پانچ۵ قسمیں کھا کر فرمایا کہ قیامت ضرور واقع ہوکر رہے گی۔ قیامت کے دن تمام رسولوں (بلکہ تمام انسانوں اور جنّات) کو جمع کیا جائے گا اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ فیصلے میں تاخیر اس لیے ہو رہی ہے کہ فیصلے کا پہلے سے ایک دن مقرّر ہے۔ اسی دن فیصلہ ہوگا اور جھٹلانے والوں کو سزادی جائے گی۔
عمل
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے۔ قیامت ضرور آکر رہے گی۔ اس دن فیصلہ ہوگا کہ کون ہدایت یاب تھا اور کون گمراہ تھا۔ اس دن گمراہوں کے لیے بڑی مصیبت ہے۔
ترجمہ: کیا ہم نے اگلے لوگوں کو (جنھوں نے جھٹلایا تھا) ہلاک نہیں کیا۱۶ پھر (ہم ان) پچھلوں کو ان ہی کے پیچھے روانہ کر دیں گے۱۷ مجرمین کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۱۸ اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۱۹
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِيْنَ) کیا ہم نے اگلوں کو (جنھوں نے جھٹلایا تھا) ہلاک نہیں کیا (ہم یقیناً ہلاک کر چکے ہیں)(ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِيْنَ) پھر (اسی طرح ہم ان) پچھلوں کو انھی کے پیچھے روانہ کر دیں گے (یعنی ان کو بھی اسی طرح ہلاک کر دیں گے)(کَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ) مجرمین کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں (یعنی عذاب بھیج کر انھیں ہلاک کر ڈالتے ہیں) (وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍلِّلْمُكَذِبِيْنَ) (یہ تو دنیا کا عذاب ہوا رہی قیامت تو) اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی ہی) خرابی ہے (قیامت کے دن کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہوگا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ،وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ۳۴
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۳۴)
ان کےلیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے (اور آخرت کی زندگی میں بھی عذاب ہے) اور آخرت کا عذاب (دنیا کے عذاب سے) زیادہ دردناک ہے (وہاں) ان کےلیے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔
ان آیات میں کفّارِ مکّہ کو ایک قسم کی تنبیہ ہے۔ اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو ان کو بھی اسی طرح سے ہلاک کر دیا جائے گا جس طرح گزشتہ امّتوں کو تکذیبِ رسل کی سزا میں ہلاک کر دیا گیا۔
عمل
اے لوگو! کفر ، شرک اور تمام گناہوں سے توبہ کیجیے کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو جائے۔
ترجمہ : (اے لوگو) کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟۲۰ پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ مقام میں (نہیں) رکھا؟۲۱ وقت کے ایک مقرّرہ اندازے تک۲۲ وہ اندازہ بھی ہم ہی نے مقرّر کیا تو (دیکھو) ہم کتنا اچّھا اندازہ کرنے والے ہیں۲۳ اس دن (یعنی قیامت کے روز) جھٹلانے والوں کےلیے (بڑی) خرابی ہے۲۴
معانی و مصادر: (مَّهِيْنٌ) مَهُنَ، يَنْهُنُ، مَهَانَةٌ (ك) حقیر ہونا۔ (مهِيْنٌ =حقیر) ۔
(قَرَارٌ) قَرَّ، يَقَرُّ، يَقِرُّ، قَرَارٌ و قَرُوْرٌ و قَرٌّ و تَقْرَارٌ(ف و ض) ثابت ہونا، ثابت رہنا۔ (قَرَارٌ= رہنے کی جگہ)
(مَكِيْنٌ) مَكُنَ، يَمْكُنُ، مَكَانَةٌ (ك) بلند مرتبہ ہونا۔ (مَكِيْنٌ =بلند مرتبہ والا)
(قَدَرٌ) قَدَرَ، يَقْدِرُ، قَدْرٌ (ض) تدبیر کرنا ، اندازہ مقرّر کرنا ، مقدرت ہونا۔
تفسیر: قیامت کے دلائل دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اَلَمْ نَخْلُقُكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍ) (اے لوگو) کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ (فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ) پھر ہم نے اس کو محفوظ مقام (یعنی رحم مادر) میں (نہیں) رکھا؟ (اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ) وقت کے ایک مقرّرہ اندازے تک(فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ) وہ اندازہ بھی ہم ہی نے مقرّر کیا تو (دیکھو) ہم کتنا اچّھا اندازہ کرنے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان آیات میں اپنی قدرت کی کاریگری کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرا رہا ہے۔ یہ اُس کی کاریگری ہے کہ انسان کو ایک قطرہ سے پیدا کرتا ہے، پیدا کرنے سے پہلے اس قطرہ کو ایک مقرّرہ وقت کے لیے رحمِ مادر میں رکھتا ہے، پھر اسے زندگی بخشتا ہے اور رحمِ مادر سے باہر نکالتا ہے۔ انسان کی پیدائش مختلف مراحل سے گزرتی ہے اور ہر مرحلہ کے لیے اللہ تعالیٰ ایک وقت مقرّر کرتا ہے۔ ان تمام اوقاتِ کار کا تقرّر اور اندازہ اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے اور کتنے اچّھے پیمانہ پر ان اوقات اور اندازوں کا تقرّر کرتا ہے کہ عقل حیران ہوتی ہے۔ جو اللہ انسان کی پیدائش ان محیّر العقول طریقوں سے کرتا ہے کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً وہ قادر ہے (وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّ بِيْنَ) (پھر بھی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور اسے جھٹلاتے ہیں تو ایسے) جھٹلانے والوں کے لیے اس دن (یعنی قیامت کے روز بڑی) خرابی ہے۔
عمل
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے، جس اللہ نے آپ کو ایک قطرہ ناچیز سے پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ آپ کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے۔
ترجمہ : کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا۲۵ زندوں (کےلیے بھی) اور مُردوں (کےلیے بھی)۲۶ اور ہم ہی نے اس میں اونچے اونچے پہاڑ بنائے اور تم کو میٹھا پانی پلایا۲۷ اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۲۸ (اس دن جھٹلانے والوں سے کہا جائے گا) اس دوزخ کی طرف چلو جس (دوزخ) کو تم جھٹلایا کرتے تھے۲۹ (یعنی) تین۳ شاخوں والے سایہ کی طرف چلو۳۰ (جو حقیقت میں) نہ تو سایہ ہو گا اور نہ شعلے سے بچانے میں کارآمد ہو گا۳۱ اس سے (اتنی بڑی بڑی) چنگاریاں اڑیں گی جیسے محل ۳۲گویا کہ وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں۳۳ اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۳۴ یہ وہ وقت ہو گا کہ لوگ بات نہیں کر سکیں گے۳۵ اور نہ انھیں اجازت دی جائے گی کہ عذر پیش کریں۳۶ اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۳۷ (اس دن ان سے کہا جائے گا) یہ فیصلے کا دن ہے، (آج) ہم نے تم کو اور (تم سے) پہلے کے لوگوں کو جمع کیا ہے۳۸ تو اگر تم سے میرے خلاف کوئی تدبیر ہوسکتی ہے تو کرو۳۹ اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۴۰
معانی و مصادر:(كِفَاتًا) كَفَتَ، يَكْفِتْ، كِفْتٌ و كِفَاتٌ (ض) سمیٹنا، جمع کر کے قبضے میں لینا۔(كِفَاتًا= سمیٹنے کی جگہ جمع کرنے کی جگہ)
(شٰمِخٰتٌ) شَمَخَ، يَشْمَخُ، شَمْخٌ، شُمُوْخٌ (ف) بلند ہونا۔(شَامِخٌ= بلند، اونچا)
(فُرَاتٌ) فَرُتَ، يَفْرُتُ، فُرُوْتَۃٌ (ک) میٹھا ہونا۔ (فُرَاتٌ = میٹھا)
(اِنْطَلِقُوْا) اِنْطَلَقَ، يَنْطَلِقُ، اِنْطَلَاقٌ (باب افعال) جانا۔
(ظِلٌّ) (ظَلِيْلٌ) ظَلَّ، يَظَلُّ، ظَلَالَةٌ (ف) سایہ دار ہونا (ظِلٌّ=سایہ) (ظَلِيْلٌ=سایہ دار)
(شُعَبٌ) شَعَبَ، يَشْعَبُ، شَعْبٌ (ف) جمع کرنا متفرق کرنا متفرق ہونا۔ (شُعَبٌ= شُعْبَۃٌ کی جمع، فرقے، شاخیں)
(لَهَبٌ) لَهِبَ، يَلْهَبُ، لَهْبٌ و لَهَبٌ و لَہِیْبٌ و لُهَابٌ و لَهَبَانُ (س) بھڑکنا (لَهَبٌ=شعلہ)۔
(شَرَرٌ) شَرَرٌ= چنگاری
(جِمٰلٰتٌ) جِمٰلٰتٌ = جَمَلٌ کی جمع۔ جِمَالٌ، اونٹ۔
(صُفْرٌ) صُفْرٌ= زرد
(کَیْدٌ) (کِیْدُوْا) كَادَ، يَكِيْدُ، کَیْدٌ (ض) خفیہ تدبیر کرنا۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا)کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا(اَحْيَآءً وَّ اَمْوَاتًا) زندوں (کے لیے بھی) اور مُردوں (کے لیے بھی)۔
تمام حیوان زمین پر زندگی گزارتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی زمین ہی کی مٹی میں مل جاتے ہیں۔ زندوں اور مُردوں سب کے لیے زمین ہی ٹھکانا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُڪُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰی۵۵
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۵۵)
(اے لوگو) ہم نے تم کو زمین ہی سے پیدا کیا ہے، زمین ہی میں تم کو لوٹا دیں گے اور پھر زمین ہی سے تم کو (زندہ کر کے) دوبارہ نکالیں گے۔
آگے فرمایا(وَجَعَلْنَا فِيْهَارَ وَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّاَسْقَيْنٰكُمْ مَّاءً فُرَاتًا) اور ہم ہی نے اس (زمین) میں اونچے اونچے پہاڑ بنائے اور (ہم ہی نے) تم کو میٹھا پانی پلایا(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ) (یہ سب کچھ ہم کر رہے ہیں تو کیا ہم یہ نہیں کر سکتے کہ تم سب کو دوبارہ پیدا کر دیں۔ یقیناً ہم کر سکتے ہیں پھر بھی جو لوگ قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور اسے جھٹلاتے ہیں تو) اس دن (قیامت) کو جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے (اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ) (اس دن کی تشریح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دن ان سے کہا جائے گا) اس دوزخ کی طرف چلو جس (دوزخ) کو تم جھٹلایا کرتے تھے (اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِىْ ثَلٰثِ شُعَبٍ) یعنی تین۳ شاخوں والے سایے کی طرف چلو (لَا ظَلِيْلٍ وَّلَا يُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِ) (جو کہ حقیقت میں) نہ تو سایہ دار ہو گا اور نہ شعلۂ (نار) سے بچانے میں کارآمد ہوگا (اِنَّهَا تَرْمِىْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ) اس سے (اتنی بڑی بڑی) چنگاریاں اڑیں گی جیسے محل(کَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ) (ایسا معلوم ہوگا) گویا وہ چنگاریاں زردرنگ کے اونٹ ہیں(وَيْلٌ یَّوْ مَئِذٍ الِّلْمُكَذِّبِيْنَ) اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے (هٰذَايَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ) یہ وہ وقت ہوگا کہ (اس وقت لوگ) بات نہیں کر سکیں گے (وَلَا يُؤْ ذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ) اور نہ انھیں اجازت دی جائے گی کہ (اپنے) عذر پیش کریں۔
قیامت کا دن مختلف اوقات اور مختلف حالات پر مشتمل ہوگا کبھی انسان بات نہیں کر سکے گا اور کبھی وہ اپنے بچاؤ کے لیے حجّت قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ آیت زیر تفسیر میں قیامت کے ایک خاص وقت کا بیان ہے کہ اس وقت کوئی بات نہیں کر سکے گا۔اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا۳۷
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ: ۷۸، آیت : ۳۷)
جو آسمانوں کا، زمین کا اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں ان سب کا ربّ ہے (اور جو) بے حد مہربان ہے، (اس دن) لوگ اُس سے بات نہیں کر سکیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا بات کرنے کی اجازت دے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ،فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ۱۰۵
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ: اا، آیت : ۱۰۵)
جس دن قیامت واقع ہو گی تو اس دن کوئی شخص بغیر اللہ کی اجازت کے بول بھی نہ سکے گا، (اس دن جمع ہونے والوں میں) بعض بدبخت ہوں گے اور بعض نیک بخت۔
جب بات کرنے کی اجازت ملے گی تو ہر شخص اپنے کو عذاب سے بچانے کے لیے حجتیں پیش کرے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰی كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۱۱۱
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۱۱۱)
اس دن ہر شخص اپنی ذات کی طرف سے جھگڑنے کےلیے آئے گا اور (اہلِ محشر میں سے) ہر شخص کو جو کچھ اس نے (دنیا میں) کیا ہے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر (کسی قسم کا) ظلم نہیں کیا جائے گا۔
آگے فرمایا (وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ) اس دن (قیامت کو) جھٹلانے والو کی (بڑی) خرابی ہے(هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنٰكُمْ وَالْاَ وَّلِيْنَ) (اس دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا) یہ فیصلہ کا دن ہے۔ آج ہم نے تم کو اور (تم سے) پہلے کے ( تمام) لوگوں کو جمع کیا ہے (اے مجرمو! آج میں تمھیں سخت عذاب میں مبتلا کروں گا) (فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيْدُوْنِ) تو اگر تم سے میرے خلاف کوئی تدبیر ہوسکتی ہے تو کرو (وہ کوئی تدبیر نہیں کر سکیں گے، اس دن وہ تکذیبِ قیامت کی سزا کا مزا چکھیں گے الغرض(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّ بِيْنَ) اس دن (قیامت کو) جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۔
عمل
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن آپ قیامت کو جھٹلانے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیے جائیں۔
ترجمہ: متّقی سایوں اور چشموں میں (لطف اندوز) ہوں گے۴۱ جو میوے وہ چاہیں گے (انھیں دیے جائیں گے)۴۲ (پھر ان سے کہا جائے گا) جو عمل تم (دنیا میں) کرتے رہے تھے ان کے بدلے بے مشقّت کھاؤ اور پیو۴۳ نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۴۴ اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۴۵ (اے جھٹلانے والو) تم (دنیا میں) تھوڑا سا کھالو اور فائدہ اٹھالو (قیامت کے دن تمھارے لیے کچھ نہیں اس لیے کہ) تم مجرم ہو۴۶ اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے ۴۷ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے سامنے) جُھک جاؤ تو جُھکتے نہیں۴۸ اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۴۹تو (اے رسول) اس کے بعد یہ اور کون سی بات پر ایمان لائیں گے ۵۰
معانی و مصادر: (هَنِيْٓـئًا) هَنُؤَ، يَهْنُؤُ، هَنَاءَةٌ و هَنَأَةٌ (ک) بے مشقّت کے مہیا ہونا۔ (هَنِيْیءٌ = بے مشقّت ملنے والی چیز)
تفسیر: اوپر کی آیات میں ان لوگوں کے انجام کا ذِکر تھا جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ ان آیات میں ان لوگوں کے اجر و ثواب کا ذِکر ہے جو متّقی ہیں اور نیکیاں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ) متّقی سایوں اور چشموں میں (جنّت کی زندگی سے لطف اندوز) ہوں گے (وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَ)جو میوے وہ چاہیں گے (انھیں دیے جائیں گے) (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْٓـئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُوْنَ)(پھر ان سے کہا جائے گا) جو عمل تم (دنیا میں) کرتے تھے ان کے بدلے میں بے مشقّت کھاؤ اور پیو۔
بیٹھنے کے لیے سایہ دار مقامات ہوں گے، پینے کے لیے چشمے ہوں گے اور کھانے کے لیے پھل اور میوے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ۱۵ اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ،اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَ۱۶
(سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰتِ : ۵۱، آیت : ۱۵تا۱۶)
بےشک متّقی باغوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے۔ اور جو کچھ ان کا ربّ انھیں دے گا وہ اسے لے رہے ہوں گے، اس سے پہلے (دنیا میں) وہ (بہت) نیکیاں کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍ۱۷ فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ،وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ۱۸ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــًٔۢا بِمَا ڪُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۱۹ مُتَّكِـِٕیْنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ،وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ۲۰
(سُوْرَۃُ الطُّوْرِ: ۵۲، آیت : ۱۷تا۲۰)
متّقی لوگ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔ جو کچھ ان کے ربّ نے انیںم دیا ہو گا اس میں وہ خوش ہوں گے، ان کے ربّ نے انیںگ دوزخ کے عذاب سے بچا لیا ہو گا۔ (ان سے کہا جائے گا) جو عمل تم (دنیا میں) کرتے تھے ان کے صلے میں مزے سے کھاتے پیتے رہو۔ وہ صف بصف بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے، بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا نکاح کر دیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ،فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ،وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ،وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ،وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی،وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ ڪُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ،
(سُوْرَۃُ مُحَمَّدِ : ۴۷، آیت : ۱۵)
جنّت جس کا وعدہ متّقیوں سے کیا گیا ہے اس کی صِفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جن میں کبھی بو نہیں آئے گی، دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزا نہیں بدلے گا، شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کےلیے بڑی لذّت (بخش) ہوں گی اور صاف و شفّاف شہد کی نہریں ہیں، مزید برآں ان کےلیے اس میں ہر قسم کے پھل بھی ہوں گے اور ان کے ربّ کی مغفرت بھی ہو گی،
اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ،مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ۲۷ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۲۸ وَ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۲۹ وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۳۰ وَ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ۳۱ وَ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ۳۲ لَا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍ۳۳ وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ۳۴
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۲۷ تا ۳۴ )
اور داہنے ہاتھ والے، کیا کہنے داہنے ہاتھ والوں کے۔ (وہاں) وہ بغیر کانٹے والی بیریوں میں۔ تہہ بہ تہہ کیلوں (میں)۔ لمبے لمبے سایوں (میں)۔ پانی کے جھرنوں (میں)۔ کثیر میووں (میں)۔ (جو) نہ (کبھی) منقطع ہوں گے اور نہ ان سے (کبھی) روکا جائے گا۔ اونچے اونچے فرشوں (میں عیش کر رہے ہوں گے)۔
آگے فرمایا(اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِيْنَ) نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں (قیامت کے دن نیکی کرنے والوں کے لیے اجر و ثواب، راحت و آرام اور ہر قسم کی نعمتیں ہوں گی)(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ) (اور) جھٹلانے الوں کی اس دن (بڑی) خرابی ہے (كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ) (اے جھٹلانے والو) تم (دنیا میں) تھوڑا سا کھالو اور فائدہ اٹھا لو! (قیامت کے دن تمھارے لیے کچھ نہیں ہو گا اس لیے کہ) تم مجرم ہو (تم نے قیامت کے دن کو جھٹلایا ہے تو) (وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ الِّلْمُكَذِبِيْنَ) اس دن (قیامت کو) جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۱۸۵
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۸۵)
اور (اچّھی طرح ذہن نشین کرلو کہ) دنیا کی زندگی تو دھوکے کا چند روزہ سامان ہے (اس کی خاطر آخرت کو نہ بگاڑو)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ،وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی،وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا۷۷
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۷۷)
(اے رسول) کہہ دیجیے دنیا کا مال و متاع بہت تھوڑا ہے اور آخرت کا فائدہ اس شخص کےلیے جو متّقی ہو بہت (زیادہ اور بہت) بہتر ہے اور (وہاں) کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں ہو گا (ہر ایک کو اس کے اعمال کی مناسبت سے سزا و جزا ملے گی)۔
آگے فرمایا(وَ اِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوْالَا يَرْكَعُوْنَ) اور جب ان (قیامت کے جھٹلانے والوں) سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے سامنے) جھک جاؤ تو جھکتے نہیں (وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ) اس دن (قیامت کے) جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۔ (فَبِاَیِِّ حَدِيْثٍ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ) تو (اے رسول) اس کے بعد یہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے (اللہ تعالیٰ کے کلام سے بہتر تو کوئی اور کلام نہیں، جب یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو سن کر ایمان لائیں گے۔ کیا اس سے بہتر کوئی کلام ہے۔ ہرگز نہیں۔ ظاہر ہے کہ جب بہترین و بے مثال کلام کو سن کر یہ ایمان نہیں لا رہے تو اب ان سے ایمان لانے کی توقع رکھنا فضول ہے۔
عمل
اے ایمان والو! نیک عمل کیجیے۔
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے۔
قرآن مجید پر ایمان لایے، نماز پڑھا کیجیے۔
آندھی کے جملہ مسائِل
اس سورت کے شروع میں تیز و تند ہواؤں یعنی آندھیوں کا ذِکر ہے لہٰذا ذیل میں ہم آندھی کے جملہ مسائل درج کرتے ہیں:
۱
جب آندھی آتی دیکھائی دے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَتِ الرِّيْحُ الشَّدِيْدَةُ اِذَا هَبَّتْ عُرِفَ ذٰلِكَ فِیْ وَجْهِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(صحیح بخاری کتاب الاستسقاء باب اذا هبت الريح جزء ۲ صفحہ ۴۰ حديث : ۱۰۳۴ / ۹۸۷، و روی مسلم نحوه عن عائشة الصدقه فى كتاب صلاة الاستسقاء باب التعوذ عند روية الريح جزء اوّل صفحہ ۳۵۶ حديث : ۲۰۸۴ / ۸۹۹)
جب زور کی آندھی چلتی تو نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے چہرۂ مبارک پر (ڈر کے آثار) محسوس ہوتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا حَتّٰى اَرٰى مِنْهُ لَهَوَاتِهٖ اِنَّمَا كَانَ يَتَـبَّسَمُ قَالَتْ وَكَانَ اِذَا رَاٰى غَيْمًا اَوْ رِيْحًا عُرِفَ فِیْ وَجْهِهٖ قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَ وُالْغَيْمَ فَرِحُوْا رَجَآءَ اَنْ يَّكُوْنَ فِيْهِ الْمَطَرُ وَاَرَاكَ اِذَا رَاَيْتَهٗ عُرِفَ فِیْ وَجْهِكَ الْكِرَاهِيَةُ فَقَالَ يَا عَآئِشَةُ مَا يُؤْمِنِّىْ اَنْ يَكُوْنَ فِيْهِ عَذَابٌ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيْحٍ وَقَدْ رَاٰى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرْنَا ۔
(صحیح بخاری کتاب التفسير باب تفسير سورة الاحقاف جزء ۶ صفحہ ۱۶۷ حديث : ۴۸۲۸ و ۴۸۲۹ / ۴۵۵۱ صحیح مسلم کتاب صلاة الاستسقاء باب التعوذ عند روية الريح والغيم جزء اوّل صفحه ۳۵۷ حديث : ۲۰۸۶ / ۸۹۹)
میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو کبھی (اتنا) ہنستے نہیں دیکھا کہ میں آپؐ کا کوّا دیکھتی۔ آپؐ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔ جب آپؐ ابر یا آندھی دیکھتے تو آپؐ کے چہرے پر فکر محسوس ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے اللہ کے رسول! لوگ تو جب ابر دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش ہوگی۔ اور آپؐ کے چہرے پر جہاں ابر آیا پریشانی معلوم ہوتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے آپؐ نے فرمایا اے عائشہ! وجہ اس کی یہ ہے کہ اگر اس میں عذاب ہو تو کون سی چیز مجھے امن دے گی۔ ایک قوم پر آندھی کا عذاب آیا تھا (یعنی عاد کی قوم پر) انھوں نے عذاب (کا ابر) دیکھا تو کہنے لگے۔ یہ تو ابر ہے، ہم پر برسے گا۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَآءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهٗ
(صحیح مسلم كتاب صلاة الاستسقاء باب التعوذ عند رؤية الريح جزء اوّل صفحه ۳۵۶ حديث : ۲۰۸۵ / ۸۹۹)
جب ابر آسمان پر چھا جاتا تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے چہرہ کی رنگت بدل جاتی تھی۔
۲
جب آندھی چلی جائے اور بارش ہونے لگے تو خوشی محسوس کرے (کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب نہیں بھیجا)۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
فَاِذَا مَطَرَتْ سُرَّابِهٖ وَذَهَبَ عَنْہُ ذٰلِكَ
(صحیح مسلم كتاب لصلواة الاستسقاء باب التعوذ عند روية الريح جزء اوّل صفحہ ۳۵۶ حديث : ۲۰۸۴ / ۸۹۹)
جب بارش ہونے لگتی تو آپؐ کی پریشانی ختم ہو جاتی۔
۳
جب آندھی چلے تو یہ دعا پڑھے۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ خَيْرَهَا وَ خَيْرَ مَا فِيْهَا وَ خَيْرَ مَا اُرْسِلَتْ بِهٖ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَ شَرِّمَا فِيْهَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِهٖ۔
ترجمہ: ”اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں آندھی کی بھلائی کا، اس بھلائی کا جو اس آندھی میں ہے اور اس بھلائی کا جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اور (اے اللہ) میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس آندھی کی بُرائی سے اس بُرائی سے جو اس آندھی میں ہے اور اس بُرائی سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔
حضرت عائشہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا عَصَفَتِ الرِّيْحُ قَالَ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ خَيْرَهَا وَ خَيْرَ مَا فِيْهَا وَ خَيْرَ مَا اُرْسِلَتْ بِهٖ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَ شَرِّمَا فِيْهَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِهٖ
(صحیح مسلم كتاب صلوة الاستسقاء باب التعوذ عند روؤية الريح جزء اوّل صفحہ ۳۵۶ حديث : ۲۰۸۵ / ۸۹۹)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عادت مبارک تھی کہ جب آندھی آتی تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ خَيْرَهَا وَ خَيْرَ مَا فِيْهَا وَ خَيْرَ مَا اُرْسِلَتْ بِهٖ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَ شَرِّمَا فِيْهَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِهٖ۔
۴
آندھی کو بُرا نہ کہے، نہ اس پر لعنت بھیجے کیوں کہ وہ رحمت بھی لے کر آتی ہے اور عذاب بھی اور وہ مامور من اللہ ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص کسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے تو اگر وہ چیز لعنت کی مستحق نہ ہو تو لعنت، لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
اِنَّ رَجُلًا نَازَ عَنْهُ الرِّيْحُ رِدَاءَهٗ عَلٰى عَهْدِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَنَهَا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْعَنْهَا فَاِنَّهَا مَا مُوْرَةٌ وَاِنَّهٗ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهٗ بِاَهْلِ رَجَعَتِ الَّعْنَةُ عَلَيْهِ
(ابوداؤد کتاب الادب باب فِی اللعن جزء ۲ صفحہ ۳۲۴ حديث : ۴۹۰۸، وسندہ صحیح مرعاۃ جلد ۳ صفحہ ۴۰۳ حديث : ۱۵۳۰، وسن ترمذى حديث : ۱۹۷۸ / ۲۰۹۳، والمعجم الصغير للطبراني حديث : ۷۲۲ / ۹۵۷)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے زمانہ مبارک میں آندھی نے ایک شخص کی چادر کھینچ لی۔ اس نے آندھی پر لعنت کی۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کر اس لیے کہ وہ تو مامور من اللہ ہوتی ہے اور جو شخص کسی چیز پر لعنت کرے تو اگر وہ چیز لعنت کی مستحق نہ ہو تو لعنت، لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَلرِّيْحُ مِنْ رَوْحِ اللهِ تَاْتِیْ بِالرَّحْمَةِ وَتَاْتِیْ بِالْعَذَابِ فَاِذَا رَاَيْتُمُوْهَا فَلَا تَسُبُّوْهَا وَسَلُوا اللهَ خَيْرَهَا وَاسْتَعِيْذُوْا بِاللهِ مِنْ شَرِّهَا
(ابوداو و كتاب الادب باب ما يقول اذهاجت الريم جزء ۲ صفحہ ۳۴۸،حديث : ۵۰۹۷ سندہ صحیح، مرعاة جلد ۳ صفحہ ۴۰۳ حديث : ۱۵۲۹، ومستدرك حاكم حديث : ۷۷۶۹ / ۷۹۶۲، وصحيح ابن حبّان حديث : ۵۷۳۲ / ۵۷۰۲ / ۲۰۴۱)
ہوا اللہ کی رحمت ہے۔ وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے (عذاب سے ظالموں کو ہلاک کرتی ہے جو مظلوموں کی راحت کا سبب ہوتا ہے) جب تم ہوا کو دیکھا کرو تو اسے بُرا نہ کہا کرو بلکہ للہ کی خیر طلب کیا کرو اور اس کی بُرائی سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔