Surah Al-Muzammil
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۷۳ – سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّلِ
فہرستِ مضامین
۷۳۔ سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّلِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ۱ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا۲ نِصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًا۳ اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا۴ اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا۵ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًا۶ اِنَّ لَڪَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا۷ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّڪَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًا۸ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا۹ وَ اصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا۱۰ وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا۱۱ اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًا۱۲ وَ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًا۱۳ یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا۱۴
ترجمہ: اے کپڑا اوڑھنے والے۱ رات کو قیام کیا کیجیے مگر (ساری رات نہیں) تھوڑی رات۲ (یعنی) آدھی رات یا اس سے کچھ کم ۳یا اس سے کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کیجیے۴ ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری حکم اِلقا کرنے والے ہیں۵ بےشک رات کا جاگنا (نفس کو) شدّت کے ساتھ پامال کرنے اور بات کو استوار رکھنے کا باعث ہوتا ہے۶ دن کے وقت تو آپ بڑی بڑی دیر تک دوسرے کاموں میں مصروف رہا کریں گے۷ (لہٰذا رات کے وقت) اپنے ربّ کے نام کا وِرد کیا کیجیے اور سب کو چھوڑ کر اُس کی طرف متوجّہ ہو جایا کیجیے۸ وہ ہی مشرق کا بھی ربّ ہے اور مغرب کا بھی، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں لہٰذا اُسی کو اپنا کارساز سمجھیے۹ اور جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں (اور آئندہ کہیں گے) اس پر صبر کیجیے اور بَحسن و خوبی ان سے کنارہ کشی اختیار کیجیے۱۰ اور (اے رسول) مجھے اور ان جھٹلانے والے خوش حال لوگوں کو چھوڑ دیجیے (میں ان کو سمجھ لوں گا ہاں، آپ ان کے متعلّق جلدی نہ کیجیے) بلکہ انھیں تھوڑی سی مُہلت دیجیے۱۱ ہمارے پاس (ان کو پہنانے کےلیے) بیٹریاں (بھی ہیں) اور جلانے کےلیے دوزخ (بھی) ہے۱۲اور (ان کےلیے) حلق میں پھنسنے والا کھانا بھی ہے (غرض یہ کہ ان کےلیے) دردناک عذاب (تیّار) ہے۱۳ (یہ سزائیں ان کو اس دن ملیں گی) جس دن زمین اور پہاڑ لرزیں گے اور پہاڑ بُھر بُھرے ٹِیلے بن جائیں گے (یعنی یہ سزائیں ان کو قیامت کے دن ملیں گی) ۱۴
معانی ومصادر: ( مُزَّمِّلٌ) اِزَّ مَّلَ، يَزَّمَّلُ، اِزَّ مُّلٌُ(باب اِفَّعُّل) کپڑا اوڑھنا۔
(نَاشِئَةٌ) نَاشِئَةٌ = سوکر جا گنا۔
(وَطْأٌ) وَطِئَ، يَطَأُ، وَطْأٌ (س) پامال کرنا ، روند نا ۔
(اَقْوَمٌ) قَامَ، يَقُوْمُ، قَوْمٌ وقَوْمَةٌ و قِيَامٌ و قَامَةٌ (ن) کھڑا ہونا، معتدِل ہونا ثابت ہونا۔(قَيِّمٌ= سیدھا ۔ اَقْوَمُ= زیاده سیدها)
(سَبْحٌ) سَبَحَ، يَسْبَحُ، سَبْحٌ (ف) معاش میں تصرف کرنا، سیر میں دور نکل جانا، تیرنا، زیادہ کرنا۔
(تَبَتَّلُ) تَبَتَّلَ، يَتَبَتَّلُ، تَبَتَّلُ، تَبَتُّلٌ (باب تفعّل) سب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا۔
(تَبْتِيْلٌ) بَتَّلَ، يُبَتِّلُ، تَبْتِيْلٌ (باب تفعیل) سب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا۔
(نَعْمَةٌ) نَعَمَ، يَنْعَمُ، يَنْعُمُ، نَعْمَةٌ (ف ، ن) خوش حال ہونا ۔
(مَهِّلْ) مَهَّلَ، يُمَهِّلُ، تَمْهِيْلٌ (باب تفعیل) مُہلت دینا، نرمی کرنا۔
(اَنْكَالٌ) نَكَلَ، يَنْكُلُ، نَكْلَةٌ (ن) کسی کے ساتھ ایسا کام کرنا جو دوسرے کو ڈرا دے۔ (اَنْکَالٌ=نِکْلٌ کی جمع،بیڑیاں)
(غُصَّةٌ) غَصَّ، يَغَصُّ، غَصَصٌ (ف ، ن) حلق میں پھنس جانا اور سانس رک جانا۔
(غُصَّةٌ= وہ چیز جو حلق میں پھنس جائے)
(مَهِيْلٌ) هَالَ، يَهِيْلُ، هَيْلٌ (ض) مٹی ڈالنا۔(مَهِيْلٌ = بُھر بُھرا)
(كَثِيْبٌ) كَثِيْبٌ= ریت کا ٹیلہ۔
تفسیر : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (يٰۤـاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ) اے کپڑا اوڑھنے والے (قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا) رات کو قیام کیا کیجیے مگر (ساری رات نہیں) تھوڑی رات(نِصْفَہٗۤ اَوِانْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا) (یعنی) آدھی رات یا اس سے کچھ کم (اَوْزِدْ عَلَيْهِ) یا (آدھی رات سے) کچھ زیادہ۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علہ وسلّم کو قیام الیل کا حکم دے کر آپؐ پر قیام الیل کو فرض کر دیا۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّڪَ،عَسٰۤی اَنْ یَّبْعَثَڪَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۷۹
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت : ۷۹)
اور (اے رسول) رات کے وقت بھی کچھ دیر کےلیے نماز کے ساتھ شب بیداری کیا کیجیے، یہ (نماز) آپ کےلیے زائد ہے، ہو سکتا ہے کہ آپ کا ربّ آپ کو مقامِ محمود میں کھڑا کرے۔
الغرض آیات زیرِ تفسیر اور مندرجہ بالا آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر قیام الیل کو فرض کیا تھا لیکن مومنین بھی آپؐ کی اتباع میں قیام اللیل کیا کرتے تھے جیسا کہ اسی سُورت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ،
(سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّلِ: ۷۳، آیت : ۲۰)
اور آپ کے ساتھیوں کی ایک جماعت بھی (قیام کرتی ہے)
آیات زیرِ تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر ساری رات قیام کرنا فرض نہیں کیا بلکہ آدھی رات یا آدھی رات سے کچھ زیادہ یا کچھ کم قیام کرنا فرض کیا۔
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اِنْ كَانَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُوْمُ لِيُصَلِّیَ حَتّٰى تَرِمَ قَدَمَاهُ اَوْ سَاقَاه ُ
(صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب قیام النبي صلی اللہ علیہ و سلم حتی ترم قدماه جزء ۲ صفحہ ۶۳ حديث : ۱۱۳۰ / ۱۰۷۸، و صحيح مسلم حديث : ۷۱۲۴ / ۲۸۱۹ و حديث : ۷۱۲۵ / ۲۸۱۹)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم (رات کو) نماز کے لیے اس قدر (لمبا) قیام کرتے کہ آپ کے دونوں پیر یا دونوں پنڈلیاں سوج جاتی تھیں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :
اَحَبُّ الصَّلٰوةِ اِلَى اللهِ صَلٰوةُ دَاوٗدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ اَحَبُّ الصِّيَامِ الَى اللهِ صِيَامُ دَاوٗدَ وَكَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ ثُلُثَهٗ وَيَنَامُ سُدُسَهٗ وَيَصُوْمُ يَوْمًا وَ يُفْطِرُ يَوْمًا
(صحیح بخارى كتاب الصلواة باب من نام عند السحر جزء ۲ صفحہ ۶۳، حديث : ۱۱۳۱ / ۱۰۷۹ ، و صحيح مسلم حديث : ۲۷۳۹ / ۱۱۵۹)
اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نماز داؤد علیہ السّلام کی نماز ہے اور سب سے زیادہ محبوب روزے داؤد (علیہ السّلام) کے روزے ہیں۔ وہ آدھی رات سوتے اور تہائی رات نماز پڑھتے اور (پھر) رات کا چھٹا حصّہ سوتے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔
اگرچہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رات کو لمبا قیام کرتے تھے لیکن ساری رات قیام نہیں کرتے تھے بلکہ آپؐ سوتے بھی تھے اور قیام بھی کرتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتّٰى نَظُنَّ اَن لَّا يَصُوْمَ مِنْهُ وَيَصُوْمُ حَتّٰى نَظُنَّ اَنْ لَّا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا وَ كَانَ لَا تَشَآءُ اَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا اِلَّا رَاَيْتَهٗ وَلَا نَائِمًا اِلَّا رَاَيْتَهٗ
(صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب قیام النبي صلی اللہ علیہ وسلم باللیل و نومه جزء۲ صفحه ۶۵ ، حديث : ۱۱۴۱ / ۱۰۹۰، و صحيح مسلم حديث : ۲۷۲۱ / ۱۱۵۶)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کسی مہینے میں افطار کرتے رہتے یہاں تک کہ ہم سمجھتے کہ اس مہینے میں آپؐ روزہ نہیں رکھیں گے اور کسی مہینے میں روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم خیال کرتے کہ (اب) آپؐ اس مہینہ میں افطار نہیں کریں گے اور اگر تم رات کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے اور اگر آپ کوسوتا ہوا دیکھنا چاہتے تو سوتا ہوا دیکھ لیتے ( یعنی آپ نماز بھی پڑھتے تھے اور سوتے بھی تھے)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حکم بھی یہ ہی دیا ہے کہ ساری رات قیام نہ کیا جائے۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قَالَ لِیَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلَمْ اُخْبَرْ اَنَّكَ تَقُوْمُ اللَّيْلَ وَ تَصُوْمُ النَّهَارَ قُلْتُ اِنِّیْ اَفْعَلُ ذٰلِكَ قَالَ فَاِنَّكَ اِذَا فَعَلْتَ ذٰلِكَ ھَجَمَتْ عَيْنُكَ وَ نَفِهَتْ نَفْسُكَ وَاِنَّ لِنَفْسِكَ حَقٌّ وَلِاَهْلِكَ حَقٌّ فَهُمْ وَ اَفْطِرْ وَقُمْ وَ نَمْ ۔
(صحیح بخاری کتاب الصلواۃ باب جزء ۲ صفحہ ۶۸ حديث : ۱۱۵۳/ ۱۱۰۲ ، وصحيح مسلم حديث : ۲۷۳۸ / ۱۱۵۹)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مجھ سے فرمایا: کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی کہ تم (ساری) رات نماز پڑھتے ہو اور (ہر) روز روزہ رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا (جی ہاں) میں ایسا کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: اگر تم ایسا کرو گے تو تمھاری آنکھیں دھنس جائیں گی اور تمھارا نفس تھک جائے گا (پھر تم سے کچھ نہیں ہو سکے گا) بے شک تمھارے نفس کا بھی (تم پر) حق ہے، تمھاری بیوی کا بھی (تم پر) حق ہے لہٰذا روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور سویا بھی کرو۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاِذَا حَبْلٌ مَّبْدُوْدٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هٰذَا الْحَبْلُ قَالُوْا ھٰذَا حَبْلٌ لِّزَیْنَبَ فَاِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حُلُّوْهُ لِيُصَلِّ اَحَدُڪُمْ نَشَاطَہٗ فَاِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ
(صحیح بخاری کتاب الصلٰوۃ باب ما يكره من التشديد فِی العبادة جزء ۲ صفحہ ۶۷ صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب امر من نعس فِی صلواته جزء ۱ صفحہ ۳۱۵ حديث : ۱۱۵۰/ ۱۰۹۹، و صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب امر من نعس فی صلوٰته، ۱ / ۳۱۵، حديث : ۱۸۳۱ / ۷۸۴)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم (مسجد میں) داخل ہوئے تو دیکھا دو۲ ستونوں کے درمیان ایک رسّی لثکی ہوئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ رسّی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ زینب کی رسّی ہے۔ وہ جب (نماز پڑھتے پڑھتے) نیند کی وجہ سے سُست ہونے لگتیں ہیں تو اس سے لٹک جاتی ہیں۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا نہیں اسے کھول دو۔ تم میں سے ہر شخص اس وقت تک نماز پڑھے جب تک نشاط باقی رہے اور جب سُست ہو جائے تو بیٹھ جائے (نماز نہ پڑھے)۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَتْ عِنْدِیْ اِمْرَاَةٌ مِنْ بَنِیْۤ اَسَدٍ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هٰذِهٖ قُلْتُ فَلَانَةُ لَا تَنَامُ بِاللَّيْلِ فَذُكِرَ مِنْ صَلَاتِهَا فَقَالَ مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيْقُوْنَ مِنَ الْاَعْمَالِ فَاِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتّٰى تَمَلُّوْا
(صحیح بخاری کتاب الصلوة باب ما يكره من التشديد فِی العبادة جزء۲ صفحه ۶۷ و صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب امر من نعس فِی صلواته جزء ۱ صفحہ ۳۱۵ حديث : ۱۱۵۱ / ۱۱۰۰۰، و صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب امر من نعس فی صلاته، جزء ۱ صفحہ ۳۱۵، حديث : ۱۸۳۴ / ۷۸۵)
میرے پاس (قبیلہ) بنو اسد کی ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم میرے مکان میں داخل ہوئے۔ آپؐ نے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے کہا فلاں عورت ہے۔ پھر اس کی نماز کا ذِکر آیا تو کہا رات کو (بالکل) نہیں سوتی۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ اتنا ہی عمل کر جتنی تم میں طاقت ہے اس لیے کہ اللہ تو نہیں تھکے گا تم ہی تھک جاؤ گے (اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکے گا تم ہی عبادت کرتے کرتے تھک جاؤ گے اور پھر عبادت چھوڑ بیٹھو گے)۔
ابو جحیفہؒ فرماتے ہیں:
اِلَى النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَ اَبِی الدَّردَآءِ فَزَارَ سَلْمَانُ اَبَا الدَّرَدَآءِ فَرَاٰى اُمَّ الدَّرْدَآءِ مُتَبَذِّلَةً فَقَالَ لَهَا مَا شَاْنُكِ قَالَتْ اَخُوْكَ اَبُو الدَّرْدَآءِ لَيْسَ لَهٗ حَاجَةٌ فِی الدُّنْيَا فَجَاءَ اَبُوالدَّرْدَآءِ فَصَنَعَ لَهٗ طَعَامًا فَقَالَ كُلْ قَالَ فَاِنِّیْ صَائِمٌ قَالَ مَا اَنَا بِاَ كِلٍ حَتّٰى تَاْكُلَ قَالَ فَاَ كَلَ فَلَمَّا ڪَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ اَبُوالدَّرْدَآءِ يَقُوْمُ قَالَ نَمْ فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ فَقَالَ نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ اٰخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ قُمِ الْاٰنَ فَصَلَّيَا فَقَالَ لَهٗ سَلْمَانُ اِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِا َهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَاَعْطِ كُلَّ ذِىْ حَقٍّ حَقَّهٗ فَاَتَى النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ سَلْمَانُ ۔
(صحیح بخاری کتاب الصوم باب من اقسم على اخيه ليفطر فِی التطوع جزء ۳ صفحہ ۴۹ حديث : ۱۹۶۸ / ۱۸۶۷)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے سلمان اور ابو الدرداء میں بھائی چارہ کرایا تھا۔ (ایک دن) سلمان ابوالدرداء کے ہاں گئے۔ انھوں نے امّ الدرداء کو پرانے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا۔ کہنے لگے : یہ تمھاری کیا حالت ہے؟ امّ الدرداء نے کہا: تمھارے بھائی ابو الدرداء کو دنیا میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ پھر ابوالدرداء بھی (وہاں) آگئے۔ انھوں نے ان کے لیے کھانا تیّار کرایا۔ جب کھانا تیّار ہو گیا تو سلمان نے ابوالدرداء سے کہا: تم بھی کھاؤ۔ ابوالدرداء نے کہا میں روزے سے ہوں۔ سلمان نے کہا میں نہیں کھاؤں گا جب تک تم نہ کھاؤ۔ الغرض انھوں نے بھی کھانا کھایا۔ پھر جب رات ہوئی تو ابو الدرداء نماز کے لیے کھڑے ہونے لگے تو سلمان نے کہا سو جاؤ۔ وہ پھر سو گئے۔ پھر جب رات آخر ہوئی تو سلمان نے کہا اب اٹھو۔ پھر دونوں نے نماز پڑھی۔ سلمان نے ابوالدرداء سے کہا تمھارے ربّ کا بھی تم پر حق ہے، تمھارے نفس کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے لہٰذا ہر حق دار کو اس کا حق دو۔ پھر ابوالدرداء نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس گئے تو آپؐ سے اس بات کا ذِکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا سلمان نے سچ کہا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جَاءَ ثَلٰـثَةُ رَهْطٍ اِلٰى بُيُوْتِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْاَلُوْنَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اُخْبِرُوْا كَاَنَّهُمْ تَقَآلُّوْهَا، فَقَالُوْا وَاَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَحَدُهُمْ اَمَّا اَنَا فَاِنِّیْ اُصَلِّی اللَّيْلَ اَبَدًا وَّقَالَ اٰخَرُ اَنَا اَصُوْمُ الدَّهْرَ وَلَا اُفْطِرُ وَقَالَ اٰخَرُ اَنَا اَعْتَزِلُ النِّسَآءَ فَلَا اَتَزَوَّجُ اَبَدًا فَجَاءَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا اَمَا وَاللهِ اِنَّیْ لَاَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَاَتْقَاكُمْ لَهٗ لٰڪِنِّیْ اَصُوْمُ وَ َفْطِرُ وَاَصَلِّی وَاَرْقُدُ وَ اَتَزَوَّجُ النِّسَآءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَيْسَ مِنّىْ۔
(صحیح بخارى كتاب النكاح باب فِی النكام جزء ۷ صفحہ ۲ حديث : ۵۰۶۳ / ۴۷۷۶ ، و صحیح مسلم کتاب النکاح جزء اوّل صفحہ ۵۸۴ حديث : ۳۴۰۳ / ۱۴۰۱)
تین۳ آدمی نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے۔ انھوں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عبادت کے متعلّق پوچھا۔ جب انھیں (نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عبادت کے متعلّق) خبر دی گئی تو انھوں نے اس کو کم سمجھا۔ کہنے لگے کہاں ہم اور کہاں نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم (کیا مقابلہ) ان کو تو اللہ نے اگلے پچھلے ہر ایسے کام سے محفوظ کر دیا ہے جس کا انجام بُرا ہو۔ ان میں سے ایک نے کہا میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا میں ہمیشہ پورے سال روزے رکھوں گا کبھی افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا میں عورتوں سے علیٰحدہ رہوں گا۔ کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ اتنے میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم تشریف لے آئے۔ آپؐ نے فرمایا تم ہی ہو جنھوں نے ایسا ایسا کہا تھا۔ سنو میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہو اور تم سب سے زیادہ مجھے (اس کے مواخذے کا) ڈر ہے لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں نکاح بھی کرتا ہوں تو جو شخص میری سنّت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلّق نہیں)۔
آگے فرمایا (وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا)اور (اے رسول) قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کیجیے۔ اس کی تعمیل میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم بہت ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرماتے تھے۔
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِیْ سُبْحَتِهٖ قَاعِدًا حَتّٰى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهٖ بِعَامٍ فَكَانَ يُصَلِّیْ فِیْ سُبْحَتِهٖ قَاعِدًا وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسُّوْرَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتّٰى تَكُوْنَ اَطْوَلَ مِنْ اَطْوَلَ مِنْهَا
(صحیح مسلم كتاب الصلوة باب جواز النافلة قائما و قاعدا جزء اوّل صفحه ۲۹۵، حديث : ۱۷۱۲ / ۷۳۳)
میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا یہاں تک کہ وفات کے ایک سال پہلے کا زمانہ آیا تو اس زمانہ میں آپؐ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے لگے۔ آپؐ جب کبھی کوئی سورت تلاوت کرتے تو اس کو اس قدر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے کہ بڑی سے بڑی سورت سے وہ سورت بڑی ہو جاتی تھی۔
یعلی بن مملک کہتے ہیں:
اَنَّهُ سَاَلَ اَمَّ سَلْمَةَ زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَأَةِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلٰوتِهٖ فَقَالَتْ مَالَكُمْ وَصَلٰوتِهٖ وَكَانَ يُصَلِّیْ ثُمَّ يَنَامُ قَدَرَ مَا صَلّٰى ثُمَّ يُصَلِّیْ قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلّٰى حَتّٰى يُصْبِـحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَآءَتَهٗ فَاِذَا هِیَ تَنْعَتُ قِرَأَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا
(رواه الترندی و صححه فى ابواب فضائل القرآن باب ما جاء كيف كانت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم ،جلد ۲ صفحه ۳۱۳ حديث : ۲۹۲۳ / ۳۱۵۰، وسنن ابوداؤد حديث : ۱۴۶۶، ومستدرك حاكم حديث : ۱۱۶۵ / ۱۱۷۸)
میں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی زوجہ مطہّرہ حضرت امِّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی قرأت کے متعلّق سوال کیا انھوں نے فرمایا تمھیں کیا ہو گیا ہے آپؐ کی نماز کے متعلّق کیا پوچھتے ہو (کیا تم ایسا کر سکتے ہو، ہر گز نہیں) آپؐ نماز پڑھتے پھر اتنی دیر کے لیے جتنی دیر آپؐ نے نماز پڑھی تھی سو جاتے پھر اتنی دیر نماز پڑھتے جتنی دیر آپؐ سوتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی پھر انھوں نے آپؐ کی قرأت کی کیفیت بیان کی۔ انھوں نے بیان کیا کہ آپؐ کی قرأت بڑی واضح ہوتی تھی، ایک ایک حرف (واضح ہوتاتھا)۔
حضرت امِّ سلمہ زوجہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَطِّـعُ قِرَاءَتَهٗ (وَفِی رِوَايَةٍ اِن دَاؤدَ يُقَطِّـعُ قِرَأَتَهٗ اٰيَةً اٰيَةً) يَقْرَأُ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ثُمَّ يَقِفُ ثُمَّ يَقْرَأُ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ثُمَّ يَقِفُ
(رواه الترندى فى ابواب القراءة جزء ۲ صفحہ ۳۱۴ حديث : ۲۹۲۷ / ۳۱۵۴ ، و ابو داؤد فی كتاب الحروب جزء ۲ صفحہ ۲۰۰ حديث : ۴۰۰۱)، والحاكم فِی كتاب التفسير فى ابواب القراءة النبى صلی اللہ علیہ وسلم جزء ۲ صفحہ ۲۳۱ حديث : ۲۹۰۹ / ۲۹۴۵، و سندہ صحیح ، مرعاة جزء ۴ صفحہ ۳۷۲، حديث : ۲۲۲۷، و دار قطنی جزء اوّل صفحہ ۱۱۸، حديث : ۱۱۷۷ / ۱۱۹۱)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم قرأت کو قطع کیا کرتے تھے (یعنی) ہر آیت پر رک جایا کرتے تھے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ پڑھتے پھر ٹھہر جاتے پھر اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھتے پھر ٹھہر جاتے۔
قتادہ کہتے ہیں:
سُئِلَ اَنَسٌ كَيْفَ كَانَتْ قِرَأَةُ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَتْ مَدًّا، ثُمَّ قَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرّحِیْمِ يَمُدُّ بِـبِسْمِ اللهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمٰنِ وَيَمُدُّ بِالرَّحِيْمِ.
(صحیح بخاری کتاب فضائل القران باب قد القراءة جزء ۶صفحہ ۲۴۱، حديث : ۵۰۴۶ / ۴۷۵۹)
(حضرت) انس سے پوچھا کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی قرأت کیسی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آپؐ کی قرأت دراز ہوتی تھی (آپؐ کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے) پھر انھوں نے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھی تو بِسْمِ اللهِ کو کھینچا،رَحْمٰنِ کو کھینچا اور رَحِیْمِ کو کھینچا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم حروف کو ان کے مخارج سے نکلنے کے لیے زبان کو پھراتے تھے۔
عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رَاَيْتُ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلٰى نَاقَتِهٖ اَوْ جَمَلِهٖ وَهِيَ تَسِيْرُبِهٖ وَهُوَ يَقْرَأُ سُوْرَةَ الْفَتْحِ اَوْ مِنْ سُوْرَةِ الْفَتْحِ قِرْاَءۃً لَيِّنَةً يَقْرَأُ وَ هُوَيُرَّجِّـعُ
(صحیح بخارى كتاب فضائل القرآن باب الترجيع جزء ۶ صفحہ ۲۴۱، حديث : ۵۰۴۷ / ۴۷۶۰، وصحيح مسلم حديث : ۱۸۵۴ / ۷۹۴)
میں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو قرأت کرتے ہوئے دیکھا۔ آپؐ اونٹنی پر سوار تھے اور وہ آپِؐ کو لیے چلی جارہی تھی۔ آپؐ سورۂ فتح پڑھ رہے تھے۔ آپؐ کی قرأت (بڑی) نرم تھی۔ آپؐ پڑھ رہے تھے اور (زبان کو) پھرا رہے تھے۔
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ عَلٰى نَاقَهٍ لَهٗ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ اَوْ مِنْ سُوْرَةِ الْفَتْحِ قَالَ فَرَجَّعَ فِيْهَا قَالَ ثُمَّ قَرَأَ مُعَاوِيَةُ يَحْکِیْ قِرَأَةَ بْنِ مُغَفَّلٍ وَقَالَ لَوْلَا اَنْ يَجْتَمِـعَ النَّاسُ عَلَيْكُمْ لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ ابْنُ مُغَفَّلِ يَحْکِی النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ كَيْفَ كَانَ تَرْجِيْعُهٗ قَالَ اۤ اۤ اۤ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ ۔
(صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن باب ذكر النبي صلى الله علیه و سلم و روايته عن ربه جزء ۹ صفحه ۱۹۲، حديث : ۷۵۴۰ / ۷۱۰۲، و صحيح مسلم حديث : ۱۸۵۳ / ۷۹۴)
میں نے فتح مکّہ کے روز رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو دیکھا۔ آپؐ اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور سورۂ فتح پڑھ رہے تھے اور (زبان کو) پھرا رہے تھے۔ پھر معاویہ نے (جنھوں نے یہ حدیث عبد اللہ بن مغفلؓ سے سنی تھی) عبد اللہ بن مغفلؓ کی قرأت کی کیفیت بیان کی اور کہا کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ تمھارے اوپر چھا جائیں گے تو میں آواز کوحلق میں گھما کر اسی طرح قرأت کرتا جس طرح ابن مغفلؓ نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی قرأت کی کیفیت بیان کرتے وقت آواز کو حلق میں پھرایا تھا۔ معاویہ کے شاگرد نے معاویہ سے پوچھا کہ ان کے آواز کو حلق میں پھرانے کی کیا کیفیت تھی۔ معاویہ نے کہا تین۳ مرتبہ آ آ آ (یعنی تین۳ الف کے برابر کھینچتے تھے)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم خوش الحانی سے تلاوت کرتے تھے،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا اَذِنَ اللهُ لِشَیْءٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْاٰنِ يَجْهَرُبِهٖ
(صحيح بخاری کتاب فضائل القرآن باب قول النبي صلى الله عليه وسلم الماھر بالقراٰن مع الكرام البررة جزء ۹ صفحه۱۹۳)(حديث : ۷۵۴۴ / ۷۱۰۵)، و صحيح مسلم حديث : ۱۸۴۷ / ۷۹۲)
میں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم سے سنا آپؐ فرماتے تھے اللہ کسی چیز کو اتنے (غور سے) نہیں سنتا جتنا (غور سے) کہ نبیؓ کی قرأت کو سنتا ہے جب وہ خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے قرآن (مجید) کی تلاوت کرے۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِی الْعِشَاءِ وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ فَمَا سَمِعْتُ اَحَدًا اَحْسَنَ صَوْتًا اَوْ قِرَاءَةً مِنْهُ۔
(صحیح بخارى كتاب الصلوة باب قول النبي صلى الله عليه وسلم الماهر بالقرآن مع الكرام البررة جزء۹ صفحه ۱۹۴)(حديث : ۷۵۴۶ / ۷۱۰۷)، وصحيح مسلم حديث : ۱۰۳۹ / ۴۶۴)
میں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو عشاء کی نماز میں (وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ) پڑھتے ہوئے سنا۔ میں نے آپؐ سے زیادہ اچّھی آواز کسی کی نہیں سنی۔
ہر آیت پر۔ وقف کرنا، کھینچ کھینچ کر۔ پڑھنا، زبان کو الفاظ کی صحیح ادائے گی کے۔ لیے پھرانا، ایک ایک۔ حرف کو واضح کرنا اور خوش۔ الحانی سے پڑھنا یہ سب باتیں ترتیل پر دلالت کرتی ہیں گویا ترتیل سے پڑھنے کے لیے ان پانچوں باتوں کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔
آگے فرمایا (اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا) ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری حکم القا کرنے والے ہیں (اس بھاری حکم کی ادائے گی کے لیے رات کو جاگنے سے بڑی مدد ملے گی) (اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاءًوَّ اَقْوَمُ قِيْلًا) رات کا جا گنا (نفس کو) شدّت کے ساتھ پامال کرنے اور بات کو استوار رکھنے کا باعث ہوتا ہے (اعتدال سے زیادہ آرام طلبی کی خواہش ختم ہو جاتی ہے اور قرأت اور دعا میں بڑی یکسوئی، سکون اور حضورِ قلب ہوتا ہے، سنّاٹے کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی طرف پوری توجہ ہوتی ہے) (اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا) دن کے وقت تو آپ بڑی بڑی دیر تک (وعظ و نصیحت اور) دیگر کاموں میں مصروف رہیں گے (دن کے وقت تو آپ کو اتنا وقت ہی کہاں ملے گا کہ آپ یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے لولگا سکیں اور دِل جمعی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کر سکیں) (وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا) (لھٰذا رات کے وقت) اپنے ربّ کے نام کا ورد کیا کیجیے اور سب کو چھوڑ کر اُسی (اکیلے) کی طرف متوجّہ ہوایا کیجیے۔
بھاری حکم سے مراد وعظ و نصیحت اور تبلیغ ہے اور یہ یقیناً بڑا ہی مشکل کام ہے۔ اس کام میں بڑی بڑی مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں ، طرح طرح کی دِل آزار باتیں سننی پڑتی ہیں، کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ کہتا ہے مثلاً کوئی دیوانہ کہتا ہے، کوئی مکار کہتا ہے، کوئی تکلیف پہنچاتا ہے اور کوئی گلا گھونٹتا ہے۔ تبلیغ بڑے عزم و حوصلہ اور صبر و استقامت کا کام ہے۔ تبلیغ پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ خاردار اور ناہموار سنگ لاخ جنگل ہے جس میں سے گزرنا ہر کَس و ناکَس کا کام نہیں ہے۔ رات کا اٹھنا تکلیف برداشت کرنے کا عادی بناتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا اور پھر شدّت کے ساتھ تبلیغ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔
آگے فرمایا(رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذُهُ وَكِيْلًا) (رات کو اٹھ کر اپنے ربّ کا ذِکر کیا کیجیے) وہ ہی مشرق کا بھی ربّ ہے اور مغرب کا بھی، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں (کوئی کارساز نہیں) لہٰذا اُسی کو اپنا کارساز سمجھیے (وہ ہی مشکل کشا ہے، اُسی سے فریاد کیجیے، اُسی سے مدد مانگیے) (وَاصْبِرُ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَاهْجُرْ هُمْ هَجْرًا جَمِيْلًا) اور جو کچھ یہ آپ کے متعلّق کہتے ہیں (اور آئندہ کہیں گے) اس پر صبر کیجیے اور بحسن و خوبی ان سے کنارہ کشی اختیار کیجیے۔
صبر و استقامت بڑی اہم اور ضروری چیز ہے اور نماز صبر و استقامت کی تربیّت کے لیے بڑا اہم ذریعہ ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آیات زیرِ تفسیر میں رات کو نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ صبر واستقامت کی تلقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرض نمازیں پڑھنے کا حکم دیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّڪَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ۳۹وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ۴۰
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۳۹ تا۴۰)
تو (اے رسول) جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اس پر آپ صبر کیجیے اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے ربّ کی تعریف کے ساتھ تسبیح پڑھا کیجیے۔ اور رات میں بھی کچھ دیر اُس کی تسبیح پڑھا کیجیے اور نماز کے بعد بھی
الغرض فرض نماز ہو یا تہجد کی نماز دونوں صبر کی تربیّت دیتی ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ صبر بھی کرتا رہے اور نماز بھی پڑھتا رہے تاکہ صبر کی قوّت میں برابر اضافہ ہوتا رہے۔
نماز صرف صبر ہی کی تربیّت نہیں دیتی بلکہ سکونِ قلب بھی پیدا کرتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کے ذریعے مدد حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ،وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ۴۵ اَلَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۴۶
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۴۵ تا ۴۶)
اور (ہر مشکل اور ہر صدمے کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کیا کرو اور بےشک نماز کا ادا کرنا بڑا مشکل کام ہے، لیکن ان لوگوں کےلیے کچھ بھی مشکل نہیں جو عاجزی کرتے ہیں۔ (یعنی وہ لوگ) جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ یقینًا اپنے ربّ سے ملاقات کرنے والے ہیں اور اُس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ،اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ۱۵۳
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۵۳)
اے ایمان والو، صبر اور نماز کے ذریعے (اللہ سے) مدد طلب کیا کرو، بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اگرچہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے (يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَانْذِرْ) (اے مدثر! کھڑے ہوجایے اور ڈرایے) کے حکم کی تعمیل میں تبلیغ تو شروع کر دی تھی لیکن عام اور کھلّم کھلّا تبلیغ کا حکم جس کو آیات زیرِ تفسیر میں قولِ ثقیل کہا گیا ہے نازل نہیں ہوا تھا تا ہم اس خفیہ تبلیغ کے دوران بھی کفّار نے دِل آزار باتیں کہنی شروع کر دی تھیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو صبر کی تلقین کی۔
بالآخر اپنے مناسب وقت پر قولِ ثقیل یعنی عام اور کھلّم کھلّا تالیف کاحکم نازل ہوا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِڪِیْنَ۹۴
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵، آیت : ۹۴)
(اے رسول) جو حکم آپ کو دیا گیا ہے آپ اس کو (علَی الاعلان) بیان کر دیجیے اور مشرکین سے اعراض کیجیے۔
اس آیت(وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ) مشرکین سے روگردانی کیجیے۔ میں گویا (وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيْلًا) (یعنی بحسن و خوبی ان سے کنارہ کشی اختیار کیجیے) کی تفسیر ہے۔
خفیہ تبلیغ کے دوران بھی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو جھٹلایا گیا تھا لیکن عام تبلیغ کے دوران شدّت کے ساتھ جھٹلانے کا امکان تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مزید صبر و استقامت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا (وَ ذَرْنِیْ وَالْمُكَذِّبِيْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِيْلًا) اور (اے رسول) مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے (میں ان کو سمجھ لوں گا لیکن آپ اس سلسلے میں جلدی نہ کیجیے بلکہ) انھیں تھوڑی سی مُہلت دیجیے (ہو سکتا ہے کہ مُہلت کے زمانہ میں یہ ایمان قبول کر لیں۔ اگر مُہلت کے زمانے میں بھی انھوں نے ایمان قبول نہیں کیا تو پھر) (اِنَّ لَدَيْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًا)ہمارے پاس (ان کو پہنانے کے لیے) بیڑیاں بھی ہیں (جلانے کے لیے) آتشِ سوزاں بھی ہے۔(وَطَعَامًا ذَا غَصَّةٍ وَعَذَابًا اَلِيْمًا)اور (کھانے کے لیے) حلق میں پھنس جانے والا کھانا بھی ہے (غرض یہ کہ ان کے لیے) دردناک عذاب (تیّار) ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ،سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ۴۴ وَ اُمْلِیْ لَهُمْ،اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ۴۵
(سُوْرَۃُ نٓ/القلم: ۶۸، آیت : ۴۴تا ۴۵)
(اے رسول) مجھے اور جو لوگ اس کلام کو جھٹلا رہے ہیں انھیں چھوڑ دیجیے، ہم ان کو بتدریج اس طرح (عذاب کے) قریب کر دیں گے کہ انھیں خبر بھی نہیں ہو گی۔ اور (اے رسول) میں (تو فِی الحال) انھیں ڈھیل دے رہا ہوں، میری تدبیر بڑی مضبوط ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَ۹۵ اَلَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ،فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۹۶ وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ۹۷ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ۹۸ وَ اعْبُدْ رَبَّڪَ حَتّٰی یَاْتِیَڪَ الْیَقِیْنُ۹۹
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵، آیت : ۹۵ تا۹۹)
ہم ان مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں آپ کےلیے کافی ہیں (آپ ان کی پرواہ نہ کریں) ۔ جو لوگ اللہ کے ساتھ دوسرا الٰہ بنا تے ہیں انھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا (کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے)۔ اور (اے رسول) ہمیں معلوم ہے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں اس سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے (آپ آزُردہ ہوتے ہیں)۔ (لیکن آپ کو آزُردہ ہونے کی ضرورت نہیں) آپ تو (دِل جمعی کے ساتھ) اپنے ربّ کی تعریف کے ساتھ تسبیح پڑھتے رہا کیجیے، سجدہ کرنے والوں میں شامل رہیے۔ اور اس وقت تک اپنے ربّ کی عبادت کرتے رہیے جب تک آپ کو موت نہ آئے۔
آگے فرمایا(يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا) (یہ سزائیں ان کو اس دن ملیں گی) جس دن زمین اور پہاڑ لرزیں گے اور پہاڑ بُھر بُھرے ٹیلے بن جائیں گے (یعنی جب قیامت آئے گی)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ۱۳ وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً۱۴ فَیَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ۱۵
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۱۳ تا۱۵)
پھر جب صُور میں پھونک ماری جائے گی۔ اور زمین کو اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا اور ان کو ایک ہی بار میں (توڑ پھوڑ کر) برابر کر دیا جائے گا۔ تو اس دن قیامت واقع ہو گی۔
آیات زیرِ تفسیر عام اور علی الاعلان تبلیغ کی گویا تمہید ہیں۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو پہلے سے بتلایا جا رہا ہے کہ عنقریب آپؐ پر ایک بھاری ذِمّہ داری ڈالی جائے گی۔ آپؐ اس کے لیے پہلے سے تیّار رہیں اور نا گہانی طور پر ذِمّہ داری ڈالنے سے فطرۃً جو بوجھ محسوس ہوتا ہے وہ بوجھ محسوس نہ کریں۔
جنگِ احزاب کے سلسلے میں اس کی ایک مثال ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے اس جنگ کی خبر دے دی تھی لہٰذا جب وہ جنگ واقع ہوئی تو صحابہ کرامؓ بالکل نہیں گھبرائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ،قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ، وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًا۲۲
(سُوْرَۃُ الْاَحْزَابِ : ۳۳، آیت : ۲۲)
اور جب مومنین نے (کافروں کی) فوجوں کو دیکھا تو کہنے لگے یہ تو وہ ہی ہے جس کے متعلّق اللہ اور اُس کے رسول نے ہمیں پہلے ہی خبر دے دی تھی اور اللہ اور اُس کے رسول نے سچ کہا تھا، اس (منظر کو دیکھ کر وہ ڈگمگائے نہیں بلکہ اس) سے ان کے ایمان اور اطاعت میں اور زیادتی ہو گئی۔
علی الاعلان تبلیغ کے حکم سے پہلے آیات زیرِ تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کوصبر کی تلقین کی اور نمازِ تہجد کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کفّار کو عذاب تو ہو گا لیکن قیامت کے دن لہٰذا قیامت سے پہلے عذاب کے لیے جلدی نہ کریں۔
عمل
اے ایمان والو! قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھا کیجیے۔
ترجمہ: (اے کفّار) جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا اسی طرح ہم نے تمھاری طرف (بھی) ایک رسول بھیج دیا ہے جو (قیامت کے دن) تم پر گواہ ہوں گے۱۵ فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سخت گرفت میں لے لیا۱۶ تو (اے کفّار بتاؤ) اگر تم کفر کرتے رہے تو اس دن (کے عذاب سے) کیسے بچو گے جو (دن) بچّوں کو بوڑھا کر دے گا۱۷ اس دن آسمان پھٹ جائے گا، یہ اللہ کا وعدہ ہے، جو پورا ہو کر رہے گا۱۸ (اور) یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے، تو جوشخص چاہے (اس پرعمل کر کے) اپنے ربّ تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرے۱۹</p<
معانی و مصادر : (وَبِيْلٌ) وَبُلَ، يَوْبُلُ، وَبَلٌ و وَبَالٌ و وَبُوْلٌ (ك) سخت ہونا ، (وَبِیْلٌ = سخت)
(شِيْبٌ) شَابَ، يَشِيْبُ، شَيْبَةٌ و شَيْبٌ ومَشِيْبٌ (ض) بال سفید ہونا۔ (شِیْبٌ = اَشْیَبُ کی جمع، سفید سروالے)
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا،شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا) (اے لوگو) جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا اسی طرح ہم نے تمھاری طرف (بھی) ایک رسول بھیج دیا ہے جو (قیامت کے دن) تم پر گواہ ہوں گے۔
فرعون کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصّلوۃ والسّلام کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰی۱۵ اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی۱۶ اِذْهَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰی۱۷ فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤی اَنْ تَزَكّٰی۱۸ وَ اَهْدِیَكَ اِلٰی رَبِّكَ فَتَخْشٰی۱۹
(سُوْرَۃُ النّٰزِعٰتِ: ۷۹، آیت : ۱۵ تا ۱۹)
(اور اے رسول) کیا موسیٰ کا قصّہ آپ کو (نہیں) پہنچا۔ جب ان کے ربّ نے ان کو ایک مقدّس وادی (یعنی) طویٰ میں پکارا۔ (اور کہا اے موسیٰ) فرعون کے پاس جاؤ، اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے۔ (اس سے) کہو کیا تو چاہتا ہے کہ (کفر کی گندگی سے) پاک ہو جائے۔ اور (کیا) میں تجھے تیرے ربّ کی طرف (جانے والا) راستہ نہ بتاؤں، (ہو سکتا ہے کہ) پھر تو (اپنے ربّ سے) ڈرنے لگے۔
رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم قیامت کے دن مومنین پر گواہ ہوں گے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْاشْهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَھيْدًا ،
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۴۳)
(اے ایمان والو، جس طرح ہم نے تم کو ہدایت دے کر تم پر احسان کیا) اسی طرح (تم پر ہم نے یہ بھی احسان کیا کہ) تم کو معتدل امّت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے ،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ،هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ،مِلَّةَ اَبِیْڪُمْ اِبْرٰهِیْمَ،هُوَ سَمّٰىڪُمُ الْمُسْلِمِیْنَ، مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَی النَّاسِ، فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ،هُوَ مَوْلٰىكُمْ، فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۷۸
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۷۸)
اور (اے ایمان والو) اللہ کے راستے میں کوشش کرتے رہو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے، اُس نے تم کو منتخب کر لیا ہے اور تمھارے دین میں تم پر کوئی سختی نہیں کی ہے، (اُس نے تمھارے لیے وہ ہی دین پسند کیا ہے جو) تمھارے باپ ابراہیم کا دین (تھا، اور اے ایمان والو) اُسی نے تمھارا نام مسلم رکھا، (اس کتاب سے) پہلے بھی اور اس (کتاب) میں بھی تاکہ یہ رسول تمھارے اوپر گواہ ہوں اور تم (تمام) لوگوں کے اوپر گواہ ہو، تو (اے ایمان والو) نماز کو قائم کرو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ (کی رسّی) کو مضبوطی سے پکڑے رہو، وہ ہی تمھارا کارساز ہے اور مددگار تو (دیکھو) کتنا اچّھا کارساز ہے اور کتنا اچّھا مددگار۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا۴۵ وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا۴۶
(سُوْرَۃُ الْاَحْزَابِ : ۳۳، آیت : ۴۵تا۴۶)
اے نبی ہم نے آپ کو گواہ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔ اور (ہم نے آپ کو) اپنے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ (بناکر بھیجا ہے)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
يُدْعٰى نُوْحٌ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَيَقُوْلُ لَبَّيْكَ وَ سَعْدَيْكَ يَا رَبِّ، فَيَقُوْلُ هَلْ بَلَغْتَ؟ فَيَقُوْلُ نَعَمْ فَيُقَالُ لِأُمَّتِهٖ هَلْ بَلَغَڪُمْ، فَيَقُوْلُوْنَ مَا اَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ، فَيَقُوْلُ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُوْلُ مُحَمَّدٌ وَ أُمَّتُهٗ فَتَشْهَدُوْنَ اَنَّهٗ قَدْ بَلَّغَ، وَيَڪُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا
(صحیح بخارى كتاب التفسير باب قوله وكذلك جعلنكم امة وسطا جزء ۶ صفحه ۲۶، حديث : ۴۴۸۷ / ۴۲۱۷)
نوح کو قیامت کے دن بلایا جائے گا۔ وہ کہیں گے: اے میرے ربّ میں حاضر ہوں اور سعادت حاصل کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم نے تبلیغ کی تھی۔ وہ عرض کریں گے ہاں۔ پھر ان کی امّت سے پوچھا جائے گا کیا انھوں نے تم کو تبلیغ کی تھی۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: (اے نوح) تمھارا گواہ کون ہے۔ وہ عرض کریں گے محّمد اور ان کی امّت پھر تم گواہی دو گے کہ انھوں نے یقینًا تبلیغ کی تھی اور رسول (یعنی میں) تمھاری گواہی کی گواہی دوں گا (یعنی تمھاری تصدیق کروں گا)۔
آگے فرمایا (فَعَصٰی فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا) فرعون نے رسول کی نافرمانی کی (ان پر ایمان نہیں لایا) تو ہم نے اس کو سخت گرفت میں لے لیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ،فَانْظُرْ ڪَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ۴۰
(سُوْرَۃُ الْقَصَصِ : ۲۸، آیت : ۴۰)
پھر ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا پھر ہم نے ان کو سمندر میں پھینک دیا تو (اے رسول) آپ دیکھ لیں کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰی مُوْسٰۤی، اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا، لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰی۷۷ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْ۷۸
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۷۷ تا ۷۸)
اور (اے رسول، پھر) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو ساتھ لے کر راتوں رات یہاں سے چلے جاؤ اور ان کےلیے سمندر میں خشک راستہ بنا دو پھر نہ تو تمھیں (فرعون کے) پکڑنے کا خوف ہو گا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر۔ (الغرض جب موسیٰ مومنین کو لے کر وہاں سے چل دیے) تو فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ ان کا تعاقّب کیا پھر سمندر کی جس چیز نے انھیں ڈھانک لیا ڈھانک لیا (یعنی سمندر کی لہروں نے انھیں ڈبو دیا)۔
اللہ تعالیٰ نے فرعون کی تباہی اور عذابِ الٰہی میں مبتلا ہونے کا ذِکر کفّارِ مکّہ کو عبرت کے لیے سنایا۔ کفّارِ مکّہ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ جس طرح فرعون ایمان نہ لا کر عذابِ الٰہی میں گرفتار ہوا اور قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا ہو گا اسی طرح اگر تم ایمان نہ لائے اور تکذیب کرتے رہے تو تم بھی قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے (فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا)تو (اے کفّار بتاؤ) اگر تم کفر کرتے رہے تو اس دن (کے عذاب سے) کیسے بچو گے جو دن بچّوں کو بوڑھا کر دے گا (قیامت کی ہولنا کی کو دیکھ کر خوف و دہشت سے بچّے بوڑھے ہو جائیں گے) قیامت کی ہولنا کی کا ذِکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّڪُمْ،اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ۱ یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَی النَّاسَ سُكٰرٰی وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰی وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ۲
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۱ تا ۲)
اے لوگو! اپنے ربّ سے ڈرو، قیامت کا زلزلہ (بہت) بڑی چیز ہے۔ (اے رسول) جس دن آپ اسے دیکھیں گے (تو آپ دیکھیں گے کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے شیر خوار (بچّے) کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ (نشے میں) مدہوش ہیں حالاں کہ وہ (نشے میں) مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب (اتنا) سخت ہو گا (کہ اس کو دیکھ کر وہ مدہوش ہو جائیں گے)۔
آگے فرمایا(اَلسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ) اس دن آسمان پھٹ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۱)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْشَقَّتْ: ۸۴، آیت : ۱)
جب آسمان شق ہو جائے گا۔
آگے فرمایا (كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا) یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا (اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ،فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّهٖ سَبِیْلًا) اور (اے لوگو) یہ قرآن تو ایک نصیحت ہے تو جو شخص چاہے اپنے ربّ تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرے (یعنی اس پر عمل کرے اللہ تعالیٰ کو راضی کرلے اور اس کی جنّت میں داخل ہو جائے)۔
عمل
اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمّد صلّی اللہ وعلیہ وسلّم کو بھیج دیا ہے۔ ان پر ایمان لائے اور دوزخ کے عذاب سے بچنے کا سامان کیجیے۔
اے لوگو! قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نصیحت ہے۔ اس پر ایمان لایے اور اس پر عمل کیجیے۔ یہ ہی سیدھا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنّت تک پہنچاتا ہے۔
ترجمہ : (اور اے رسول) آپ کے ربّ کو معلوم ہے کہ (کبھی) آپ تقر یبًا دو۲ تہائی رات، (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کرتے ہیں اور آپ کے ساتھیوں کی ایک جماعت بھی (قیام کرتی ہے) رات اور دن کا اندازہ تو اللہ ہی مقرّر کرتا ہے، اُس کو معلوم ہے کہ تم اس کو نباہ نہیں سکو گے لہٰذا وہ تم پر مہربانی فرماتا ہے، تو (اب) قرآن سے جتنا آسانی سے پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو، اُس کو معلوم ہے کہ تم میں سے بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض اللہ کا فضل (یعنی روزی) تلاش کرنے کےلیے زمین میں سفر بھی کریں گے اور بعض اللہ کے راستے میں جنگ بھی کریں گے (تو رات کے وقت اتنا طویل قیام ان کےلیے بہت دشوار ہو گا، ان وجوہ کی بنا پر اللہ تم پر آسانی فرماتا ہے) تو (اب) قرآن میں سے جتنا آسانی سے پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو، نماز قائم رکھو، زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو قرضِ حسنہ دیتے رہو اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے پہلے سے بھیج دو گے اس کو اللہ کے ہاں پالو گے (وہ ضائع نہیں ہو گی، بلکہ) وہ (وہاں تمھارے حق میں) بہتر ہو گی اور ثواب کے لحاظ سے بھی (بہت) بڑی ہو گی اور (اے ایمان والو) اللہ سے معافی مانگتے رہا کرو بےشک اللہ بڑا بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۲۰
معانی و مصادر: (تُحْصُوا) اَحْصٰى، يُحْصِىْ، اَحْصَاءٌ (باب افعال) گننا ، ضبط کرنا۔
شان ِنزول: حضرت سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا سے کہا:
اَنْبِئِيْنِی عَنْ قِيَامِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ اَلَسْتَ تَقْرَأُ يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟ قُلْتُ بَلٰى قَالَتْ اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِیْ اَوَّلِ هٰذِهِ السُّوْرَةِ فَقَامَ نَبِیُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهٗ حَوْلًا وَ اَمْسَكَ اللهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَىْ عَشَرَ شَهْرً فِی السَّمَاءِ حَتّٰى اَنْزَلَ اللهُ فِیْ اٰخِرِ هٰذِهِ السُّوْرَةِ التَّخْفِيْفَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيْضَةٍ
(صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب جامع صلواة الليل و من نام عنها او مرض جزء اوّل صفحه ۲۹۹، حديث : ۱۷۳۹ / ۷۴۶)
مجھے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے قیام (اللیل) کی کیفیت بتایے۔ انھوں نے فرمایا کیا تم نے يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟ نہیں پڑھی؟ میں نے کہا کیوں نہیں (پڑھی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہؓ نے) فرمایا اللہ عزّ وجلّ نے اس سورت کی ابتدا میں قیام اللیل کو فرض کیا۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم اور آپؐ کے اصحابؓ ایک سال تک قیام کرتے رہے۔ (اس عرصے میں) اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر کو بارہ۱۲ مہینے تک آسمان میں روکے رکھا۔ پھر اللہ نے اس سورت کی آخر آیات نازل کر کے تخفیف کردی تو پھر قیام الیل فرض ہونے کے بعد نفل رہ گیا۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ) (اور اے رسول) آپ کے ربّ کو معلوم ہے کہ (کبھی) آپ تقریباً دو تہائی رات (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کرتے ہیں اور آپ کے ساتھیوں کی ایک جماعت بھی (آپ کے ساتھ قیام کرتی ہے) (وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ،) رات اور دن کا اندازہ تو اللہ ہی مقرّر کرتا ہے (کبھی رات بڑی ہوتی ہے اور کبھی دن بڑا ہوتا ہے، کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں۔ جب رات بڑی ہوتی ہے تو قیام بھی بڑا ہو جاتا ہے اور لمبا قیام کسی حد تک ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، اس میں مشقّت زیادہ ہوتی ہے اور جب رات چھوٹی ہوتی ہے تو رات کو قیام کرنے سے نیند پوری نہیں ہوتی اور یہ بھی ایک قسم کی تکلیف ہے۔ الغرض رات بڑی ہو یا چھوٹی قیام الیل ایک مشکل کام ہے تم چاہو کہ اپنی سہولت کے لیے رات اور دن کا اندازہ خود مقرّر کرلو تو یہ تم کرنہیں سکتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے)۔ (عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ)اللہ کو معلوم ہے کہ تم اس کو نباہ نہیں سکو گے(فَتَابَ عَلَیْكُمْ) لہٰذا وہ تم پر مہربانی فرماتا ہے (فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ) تو (اب اے ایمان والو) قرآن میں سے جتنا آسانی سے پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو (یعنی لمبا قیام نہ کیا کرو، بڑی دیر تک نماز نہ پڑھتے رہا کرو۔ لمبا قیام اور بڑی دیر تک نماز پڑھتے رہنا یہ دونوں کام تم سے نبھ نہیں سکیں گے) (عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰی) اللہ کو معلوم ہے کہ تم میں سے بعض بیمار بھی ہوں گے (وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ) بعض اللہ کا فضل (یعنی روزی) تلاش کرنے کے لیے زمین میں سفر کریں گے (وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ) اور بعض اللہ کے راستے میں جنگ بھی کریں گے (تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رات کی نماز طویل ہو اور بیمار بھی اسے ادا کر سکے، تاجر سفر میں اور اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والے میدان جنگ میں بھی اسے ادا کر سکیں۔ ان سب کے لیے طویل قیام بہت مشکل ہوگا)(فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ) لہٰذا قرآن میں سے جتنا آسانی سے پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو۔
ابتدائے سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام الیل صرف رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر فرض کیا گیا تھا۔ مسلمین پر براہِ راست فرض نہیں کیا گیا تھا لیکن کیوں کہ اتباعِ رسول فرض ہے لہٰذا بالواسطہ قیام الیل مسلمین پر بھی فرض ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رات کو قیام کرتے تھے لہٰذا سنّت کی پیروی میں مسلمین پر بھی قیام اللیل کی ادائے گی لازم ہوگئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمین کے حال پر رحم فرمایا اور اس کی فرضیت کو بڑی حد تک ساقط کر دیا۔ اگر طویل قیام اللیل فرض نہ ہوتا بلکہ شروع ہی سے نفل ہوتا تو پھر ان الفاظ کی کیا ضرورت تھی کہ اب جتنا آسانی سے پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو۔ یہ الفاظ بتارہے ہیں کہ جو چیز پہلے فرض تھی اب اسے نفل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سنّت کی ادائے گی فرض ہوتی ہے سوائے اس صُورت کے کہ کوئی قرینہ صارفہ موجود ہو جو اس کی فرضیت کو ساقط کر دے۔ اب طویل قیام اللیل فرض اس لیے نہیں کہ قرینہ صارفہ موجود ہے اور وہ یہ حکم ہے (فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ) جتنا آسانی سے پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو۔ مندرجہ ذیل حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ رات کو جتنی رکعتیں چاہے پڑھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
صَلٰوةُ اللَّيْلِ مَثْنٰى مَثْنٰى فَاِذَا اَرَدْتَّ اَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ رَكْعَةً تُؤْتِرُلَكَ مَا صَلَّيْتَ
(صحیح بخارى كتاب الصلوة باب ما جاء فى الوتر جزء ۲ صفحہ ۳۰)
رات کی نماز دو۲ دورکعت پڑھا کرو پھر جب تم نماز سے فارغ ہونا چاہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لیا کرو۔ یہ ایک رکعت جتنی نماز تم پڑھ چکے ہوا سے وتر بنادے گی۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قیام اللیل کی رکعتیں طاق ہونی چاہئیں۔ ہر دو۲ رکعت پر سلام پھیرا جائے اور آخر میں ایک وتر ادا کیا جائے۔ قیام اللیل میں کم سے کم ایک رکعت بھی پڑھی جا سکتی ہے یعنی صرف وتر پڑھ لینا کافی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّیْ وَاَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلٰى فِرَاشِهٖ فَاِذَا اَرَادَ اَنْ يُوْتِرَ اَيْقَظَنِىْ فَاَوْتَرْتُ
(صحیح بخارى كتاب الصلوة باب ايقاظ النبي صلى الله عليه وسلم بالوتر جلد ۲ صفحہ ۳۱ و صحیح مسلم کتاب الصلوة باب الاعتراض بين يدى المصلى جزء اوّل صفحه ۲۰۹)
رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم (رات کو) نماز پڑھتے رہتے تھے اور اس میں آپ کے سامنے آپ کے بستر پر سوتی رہتی تھی۔ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے جگا دیتے۔ میں بھی وتر پڑھ لیا کرتی تھی۔
آگے فرمایا (وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) اور (اے ایمان والو) نماز کو قائم رکھو (یعنی نماز پنج گانہ پابندی سے پڑھتے رہو) زکوۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو قرضِ حسنہ دیتے رہو (یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں برضا و رغبت خرچ کرتے رہو)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ، وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌ۱۷
(سُوْرَۃُ التَّغَابُنِ : ۶۴، آیت : ۱۷)
(اے ایمان والو) اگر تم اللہ کو قرضِ حسنہ دو گے تو اللہ اس کو تمھارے لیے کئی گنا کر دے گا اور تمھاری مغفرت فرمائے گا اور اللہ بڑا قدردان اور بُردبار ہے۔
آگے فرمایا (وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا) اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے پہلے سے بھیج دو گے اس کو اللہ کے ہاں پالو گے (وہ ضائع نہیں ہوگی بلکہ) وہ (وہاں تمھارے حق میں) بہتر ہوگی اور اجر (و ثواب) کے لحاظ سے بھی (بہت) بڑی ہوگی (وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ،اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) اور (اے ایمان والو) اللہ سے (اپنی خطاؤں کی) معافی مانگتے رہا کرو، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔
عمل
اے ایمان والو! رات کو جتنا بھی ہو سکے قیام کیا کیجیے۔ اگر آپ زیادہ قیام نہ کر سکیں تو ایک رکعت ہی پڑھ لیا کیجیے۔
اے ایمان والو! پانچوں وقت کی نماز پابندی سے پڑھا کیجیے، زکوٰۃ پابندی سے ادا کرتے رہیے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے برضا و رغبت اپنا مال خرچ کرتے رہیے۔
اے ایمان والو! اپنی خطاؤں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہا کیجیے۔ آپ معافی طلب کریں گے تو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا وہ بڑا غفور اور رحیم ہے۔
قیام اللیل کے مسائل
قیام اللیل کے سلسلے میں مندرجہ ذیل مسائل گزر چکے ہیں :
۱ قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے، گھاس نہ کاٹے۔
۲ رات کی نماز جتنی آسانی سے پڑھی جاسکے پڑھ لے۔ اگر صرف ایک رکعت ہی پڑھ لے تو بھی کافی ہے۔
۳ رات کی نماز دو۲ دو۲ رکعت پڑھی جائے یعنی ہر دو۲ رکعت پر سلام پھیرا جائے اور ایک رکعت وتر پڑھا جائے۔
اب ہم قیام اللل۔ کے بقیہ مسائل بیان کرتے ہیں:۴ جب تہجد کے لیے اٹھے تو بیٹھنے کے بعد آسمان کی طرف نظر کر کے سورۂ آل عمران کی آیات اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ سے آخر سورت تک تلاوت کرے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
بِتُّ عِنْدَ خَالَتِى مَيْمُوْنَةَ فَتَحَدَّثَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ اَهْلِهٖ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْاٰخَرُ قَعَدَ فَنَظَرَ اِلَى السَّمَآءِ فَقَالَ اِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِاُولِی الْاَلْبَابِ وَفِیْ رِوَايَةٍ ثُمَّ قَرَأَ اَلْاٰيٰتِ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ اٰلِ عِمْرَانَ حَتّٰى خَتَمَ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّاۤ وَاسْتَنَّ فَصَلّٰى اِحْدٰى عَشْرَةَ رَكَعَةً ثُمَّ اَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَٰى الصُّبْحَ
(صحیح بخارى كتاب التفسير سورة ال عمران جزء ۶ صفحہ ۵۱ حديث : ۴۵۶۹ / ۴۲۹۳، ، وصحيح مسلم حديث : ۵۹۶ / ۲۵۶ و حديث : ۱۷۹۲ / ۷۶۳)
میں ایک رات اپنی خالہ میمونہؓ کے ہاں رہا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اپنی بیوی سے کچھ دیر باتیں کیں پھر سو گئے۔ جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپؐ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ آپؐ نے آسمان کی طرف نرل کی اور سورۂ آل عمران کی آخری دس۱۰ آیتیں تلاوت کیں۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور وضو کیا، مسواک کی پھر گیارہ۱۱ رکعت پڑھیں۔ پھر بلال نے اذان دی۔ آپ ؐ نے دو۲ رکعت پڑھیں پھر آپؐ (گھر سے) باہر نکلے اور صبح کی نماز پڑھی۔
۵ قیام الیل، قیام رمضان یا تہجد کی عموماً گیارہ۱۱ رکعت پڑھے۔ ہر دو۲ رکعت پر سلام پھیرے اور ایک رکعت وتر پڑھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيْدُ فِی رَمَضَانَ وَلَا فِیْ غَيْرِهٖ عَلٰى اِحْدٰى عَشْرَةَ رَكَعَةً
(صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب قيام النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالليل فِی رمضان وغيره جزء ۲ صفحہ ۶۶ ، حديث : ۱۱۴۷ / ۱۰۹۶ ، وصحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب صلوة الليل وعدد ركعات النبی صلی اللہ علیہ و سلم فى الليل جزء اوّل صفحہ ۲۹۶ حديث : ۱۷۲۳ / ۷۳۸)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ (عمومًا) گیارہ۱۱ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّیْ فِيْمَا بَيْنَ اَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلٰوةِ الْعِشَاءِ (وَهِیَ الَّتِیْ يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ) اِلٰى اَلْفَجْرِ اِحْدٰى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوْتِرَ بِوَاحِدَةٍ
(صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب صلاة الليل جزء اوّل ۲۹۶ حديث : ۱۷۱۸ / ۷۳۶ ، وصحيح بخارى حديث : ۹۹۴ / ۹۴۹)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ۱۱ رکعت پڑھتے تھے۔ ہر دو۲ رکعت پر سلام پھیر تے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔
۶ قیام اللیل کی تیرہ۱۳ رکعت بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كَانَ صَلٰوةُ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلٰثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يَعْنِیْ بِاللَّيْلِ
(صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب كيف كان صلوة النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و كم كان النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يصلى من الليل جزء ۲ صفحہ ۶۴ حديث : ۱۱۳۸ / ۱۰۸۷ وروى مسلم نحوه فى كتاب الصلوة باب الدعاء فِی صلوة الليل جزء اوّل صفحہ ۳۰۸ حديث : ۱۸۰۳ / ۷۶۴)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رات کو (کبھی کبھی) تیرہ۱۳ رکعت بھی پڑھتے تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ اَوْتَرَ
(صحیح بخاری کتاب الصلوة باب ما جاء فى الوتر جزء ۲ صفحہ ۳۰ حديث : ۹۹۲ / ۹۴۷)
(میں ایک رات رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ہاں سویا) آپؐ نے دو۲ رکعت پڑھیں، پھر دو۲ رکعت پڑھیں، پھر دو۲ رکعت پڑھیں، پھر دو۲ رکعت پڑھیں، پھر دو۲ رکعت پڑھیں، پھر دو۲ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا۔
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
لَاَرْ مُقَنَّ صَلٰوةَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ طَوِيْلَتَيْنِ طَوِيْلَتَيْنِ طَوِيْلَتَيْنِ ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُوْنَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُوْنَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُوْنَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُوْنَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ اَوْ تَرَ فَذٰلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةً رَكْعَةً
(صحيح مسلم كتاب الصلوة باب الدعاء فی الصلوة الليل جزء اوّل صفحہ ۳۱۰ حديث : ۱۸۰۴ / ۷۶۵)
(میں نے ارادہ کیا کہ)
ایک رات ضرور رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نماز کو (غور سے) دیکھوں گا۔ (الغرض میں نے دیکھا کہ) آپؐ نے دو۲ ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر دو۲ بڑی لمبی رکعتیں پڑھیں، پھر دو۲ رکعتیں پڑھیں جو ان سے پہلے کی دو۲ رکعتوں سے چھوٹی تھیں، پھر دو۲ رکعتیں پڑھیں اور وہ ان سے پہلے کی دو۲ رکعتوں سے چھوٹی تھیں پھر دو۲ رکعتیں پڑھیں اور وہ ان سے پہلے کی دو۲ رکعتوں سے چھوٹی تھیں، پھر دو۲ رکعتیں پڑھیں اور وہ ان سے پہلے کی دو۲ رکعتوں سے چھوٹی تھیں، پھر وتر پڑھا۔ یہ کل تیرہ۱۳ رکعتیں تھیں۔
۷ قیام اللیل کی رکعات گیارہ۱۱ سے کم بھی پڑھی جا سکتی ہیں (حتٰی کہ ایک بھی پڑھی جاسکتی ہے جیسا کہ اوپر گزرا)۔
حضرت مسروق ؒ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی رات کی نماز کے متعلّق پوچھا تو انھوں نے فرمایا:
سَبْعٌ وَتِسْعٌ وَ اِحْدَى عَشْرَةَ سِوَى رَكْعَتِی الْفَجْرِ
(صحیح بخاری کتاب الصلواۃ باب كيف صلوة النبي صَلى الله علیہ وسلم جزء۲ صفحہ۶۴ حديث : ۱۱۳۹ / ۱۰۸۸)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فجر کی دو۲ سنّت کے علاوہ رات کو سات۷ رکعتیں بھی پڑھیں ہیں، نو۹ بھی پڑھی ہیں اور گیارہ۱۱ رکعت بھی پڑھی ہیں۔
۸ رمضان میں رات کی نماز جماعت سے بھی پڑھی جاسکتی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ فرماتی ہیں:
اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى ذَاتَ لَيْلَةٍ فِی الْمَسْجِدِ فَصَلّٰى بِصَلٰوتِهٖ نَاسٌ ثُمَّ صَلّٰى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوْا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ اَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجُ اِلَيْهِمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَاَيْتُ الَّذِیْ صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِىْ مِنَ الْخُرُوْجِ اِلَيْكُمْ اِلَّا اَنِّیْ خَشِيْتُ اَنْ يُّفْرَضَ عَلَيْكُمْ وَ ذٰلِكَ فِیْ رَمَضَانَ
(صحیح بخاری كتاب الصلوۃ باب تحريض النبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ على الصلوة الليل جلد ۲ صفحہ ۶۳ حديث : ۱۱۲۹ / ۱۰۷۷ و صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب الترغیب فی قیام رمضان جزء اوّل صفحہ ۳۰۵ (حديث : ۱۷۸۳ / ۷۶۱)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی۔ آپؐ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی نماز پڑھی پھر اگلی رات کو آپؐ نے پھر نماز پڑھی، اس رات کو آدمی بہت کثرت سے شریک ہوئے پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ پھر جمع ہوئے لیکن رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم باہر تشریف نہیں لائے جب صبح ہوئی تو آپؐ نے فرمایا جو کچھ تم نے (رات کو کیا) میں نے اسے دیکھ لیا تھا لیکن مجھے تمھاری طرف آنے سے کسی اور چیز نے باز نہیں رکھا سوائے اس کے کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے۔ یہ رمضان کا واقعہ ہے۔
۹ جب قیام اللیل شروع کرے تو پہلے دو۲ ہلکی رکعتیں پڑھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهٗ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ ۔
(صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب الدعاء فِی صلواة الليل جزء اوّل صفحه ۳۱۰ حديث : ۱۸۰۷/ ۷۶۸)
جب تم میں سے کوئی شخص رات کی نماز پڑھے تو اپنی نماز کی ابتدا دو۲ ہلکی رکعتوں سے کرے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِيُصَلِّیْ اَفْتَتَحَ صَلٰوتَهٗ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ
(صحیح مسلم كتاب الصلواة باب الداء فى صلٰوة الليل جزء اوّل صفحہ ۳۱۰ حديث : ۱۸۰۶/ ۷۶۷)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تو اپنی نماز کی ابتدا دو۲ ہلکی رکعتوں سے کرتے۔
۱۰ دو۲ ہلکی رکعتوں کے بعد دو۲ طویل رکعتیں پڑھے پھر ان سے دو۲ ہلکی، پھر ان سے دو۲ ہلکی پھر ان سے دو۲ ہلکی اسی طرح ہر دو۲ رکعت اپنے ماقبل دو۲ رکعت سے ہلکی ہوں پھر وتر پڑھے۔
اس سلسلے میں حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ کی روایت گزر چکی ہے۔
۱۱ وتر بالکل آخر میں پڑھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِجْعَلُوْا اٰخِرَ صَلٰوتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا
(صحیح بخاری کتاب الصلواۃ باب ماجاء فی الوتر جزء ۲ صفحہ ۳۱ حديث : ۹۹۸ / ۹۵۳ وصحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب صلوة الليل مثنی مثنی جزء اوّل صفحہ ۳۰۲ حديث : ۱۷۵۵ / ۷۵۱)
رات کو اپنی نماز کا آخر وتر کو بناؤ۔
۱۲ رات کی نماز اس وقت تک پڑھے جب تک نشاط باقی رہے، جب اونگھ آجائے اور نشاط باقی نہ رہے تو سو جائے اور اس وقت تک سوتا رہے جب تک نیند کا غلبہ ختم نہ ہو جائے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لِيُصَلِّ اَحَدُكُمْ نَشَاطَهٗ فَاِذَا اَفَتَرَ فَلْيَقْعُدْ
(صحیح بخاری کتاب الصلوة باب ما يكره من التشديد فِی العبادة جزء۲ صفحہ ۶۷ (حديث : ۱۱۵۰ / ۱۰۹۹، صحیح مسلم کتاب الصلواۃ باب امر من نعس جزء اوّل صفحہ ۳۱۵ حديث : ۱۸۳۱ / ۷۸۴)
تم میں کوئی شخص اس وقت تک نماز پڑھے جب تک نشاط (چتیہ وخوشی) باقی رہے۔ جب ستئ ہو جائے تو (نماز چھوڑ کر) بیٹھ جائے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِذَا نَعَسَ اَحَدُكُمْ فِی الصَّلٰوةِ فَلْيَرْ قُدْ حَتّٰى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَاِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَا صَلّٰى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهٗ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهٗ ۔
(صحیح مسلم کتاب الصلوة باب امر من نعس فِی صلواۃ جزء اوّل صفحہ ۳۱۵ حديث : ۱۸۳۵ / ۷۸۶ ، وصحيح بخارى حديث : ۲۱۲ / ۲۰۹)
جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں اونگھے تو اسے چاہیے کہ سو جائے (اور اس وقت تک سوتا رہے) جب تک نیند نہ چلی جائے اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور وہ اونگھ رہا ہوتو ہوسکتا ہے کہ استغفار کرنے کی بجائے اپنے لیے بددعا کر بیٹھے۔
۱۳ قرأت نہ بہت بلند آواز سے کرے اور نہ بالکل خفیہ آواز سے۔ اگر کچھ آیتیں کسی سورت کی اور کچھ آیتیں کسی اور سورت کی پڑھے تو بھی جائز ہے۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً فَاِذَا بِاَبِیْ بَكْرٍ يُصَلِّیْ يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهٖ قَالَ وَ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ وَهُوَ يُصَلِّیْ رَافِعًا صَوْتَهٗ قَالَ فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا اَبَابَكَرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَاَنْتَ تُصَلِّیْ تَخْفِضُ صَوْتَكَ قَالَ قَدْ اَسْمَعْتُ مَنْ نَّاجَيْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ وَقَالَ لِعُمَرَ مَرَرْتُ بِكَ وَانْتَ تُصَلِّیْ رَافِعًا صَوْتَكَ قَالَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَوْقِظُ الْوَسْنَانَ وَاَطْرُدُ الشَّيْطَانَ (زَادَ الْحَسَنُ فِیْ حَدِيثِهٖ) فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا اَبَابَكْرٍ اِرْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا وَقَالَ لِعُمَرَ اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا۔ وَفِیْ رِوَايَةٍ عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَابِلَالُ وَ اَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّوْرَةِ وَمِنْ هَذِهِ السُّوْرَةِ قَالَ كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُهُ اللهُ بَعْضَهٗ اِلٰى بَعْضٍ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّكُمْ قَدْ اَصَابَ
(ابوداؤد كتاب الصلوة باب فِی رفع الصوت بالقراءة فِی صلوة الليل جزء اوّل صفحہ ۱۹۵ حديث : ۱۳۲۹، ۱۳۳۰ وسندہ صحیح التعلیقات جزء اوّل صفحہ ۳۷۸ حديث : ۱۲۰۴ وسنن ترمذى حديث : ۴۴۷ / ۴۵۰ ، ومستدرك حاكم (حديث : ۱۱۶۸ / ۱۱۸۱)
ایک رات کو رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم باہر نکلے تو آپؐ نے دیکھا کہ ابوبکر نماز پڑھے رہے ہیں اور اپنی آواز کو پست کر رکھا ہے پھر آپؐ عمر بن خطاب کے پاس سے گزرے۔ وہ بھی نماز پڑھ رہے تھے ان کی آواز (بہت) بلند تھی۔ جب دونوں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپؐ نے فرمایا اے ابوبکر میں تمھارے پاس سے گزرا تم پست آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ (حضرت) ابوبکر نے کہا اے اللہ کے رسول! میں جس سے سرگوشی کر رہا تھا اسے سنا رہا تھا۔ پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے (حضرت) عمر سے فرمایا میں تمھارے پاس سے گزرا اور تم (بہت) بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ (حضرت) عمر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگاتا ہوں اور شیطان کو بھگا تا ہوں۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا اے ابوبکر تم اپنی آواز کو کچھ بلند کرو اور حضرت عمر سے فرمایا تم اپنی آواز کو ذرا پست کرو (اور ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ) آپؐ نے (حضرت) بلال سے کہا اے بلال میں نے تم کو کچھ اس سورت میں سے اور کچھ اس سورت میں سے پڑھتے ہوئے سنا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پاکیزہ کلام ہے۔ اللہ (تعالیٰ) اس کے بعض حصّہ کو بعض کی طرف جمع کرے گا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا تم نے ٹھیک (سوچا) تھا۔
۱۴ قیام اللیل کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ آدھی رات تک سوئے پھر اٹھ کر تہائی رات قیام کرے پھر رات کا چھٹا حصّہ سو جائے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَحَبُّ الصَّلٰوةِ اِلَى اللهِ صَلٰوةُ دَاوٗدَ وَ اَحَبُّ الصِّيَامِ اِلَى اللهِ صِيَامُ دَاوٗدَ وَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ ثُلُثَهٗ وَيَنَامُ سُدُ سَهٗ وَيَصُوْمُ يَوْمًا وَ يُفْطِرُ يَوْمًا
(صحیح بخارى كتاب الصلواة باب من نام عند السحر جزء ۲ صفحہ ۶۳ حديث : ۱۱۳۱ / ۱۰۷۹ و صحیح مسلم کتاب الصوم باب النهي عن صوم الدهر جزء اوّل صفحہ ۴۷۱ حديث : ۲۷۳۹ / ۱۱۵۹)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نماز داؤد (علیہ الصّلوٰۃ والسّلام) کی نماز ہے اور سب سے زیادہ محبوب روزے داؤد (علیہ الصّلوٰۃ والسّلام) کے روزے ہیں۔ داؤد (علیہ الصّلوٰۃ والسّلام) آدھی رات سوتے، تہائی رات نماز پڑھتے پھر رات کا چھٹا حصّہ سوتے اور وہؑ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔
۱۵ وتر یا تجدص اگر شروع رات میں یا آدھی رات کے وقت پڑھ لے تو یہ بھی جائز ہے۔ آخر رات میں افضل ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كُلَّ اللَّيْلِ اَوْ تَرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَهٰى وتَرَهٗ اِلَى السَّحْرِ
(صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب ساعات الوتر جزء ۲ صفحہ ۳۱ حديث : ۹۹۶ / ۹۵۱ صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب صلوة الليل جزء اوّل صفحہ ۲۹۸ حديث : ۱۷۳۷ / ۷۴۵)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے رات کے ہر حصّہ میں وتر پڑھا ہے البتّہ آپؐ کی وتر کی انتہا صبح تک پہنچ گئی۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ خَافَ لَا يَقُوْمُ مِنْ اٰخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوْتِرْ اَوَّلَهٗ وَمَنْ طَبِـعَ اَنْ يَقُومَ اٰخِرَہٗ فَلْيُوْتِرَاٰخِرَ اللَّيْلِ فَاِنَّ صَلٰوةَ اٰخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُوْدَةٌ وَ ذٰلِكَ اَفْضَلُ
(صحیح مسلم كتاب الصلوة باب من خاف ان لا يقوم من اخر الليل فليوتر اوله جزء اوّل صفحه ۳۰۳ حديث : ۱۷۶۶ / ۷۵۵)
جو اس بات سے ڈرے کہ آخر رات کو نہیں اٹھ سکے گا تو وہ اوّل رات ہی وتر پڑھ لے اور جو شخص یہ چاہے کہ آخر رات میں نماز پڑھے تو وہ آخر رات میں وتر پڑھے اس لیے کہ رات کے آخر میں نماز پڑھنا مشہود ہوتا ہے (یعنی اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں) اور یہ افضل ہے۔
۱۶ اگر تجدل یا تہجد کی کچھ رکعتیں نیند کی وجہ سے رہ جائیں تو فجر اور ظہر کے درمیان پورا کرے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهٖ اَوْ عَنْ شَیْءٍ مِنْهُ فَقَرَاَہٗ فِيْمَا بَيْنَ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ صَلٰوةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهٗ كَاَنَّمَا قَرَاَهٗ مِنَ اللَّيْلِ۔
(صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب جامع صلوۃ اللیل جزء اوّل صفحہ ۳۰۰ (حديث : ۱۷۴۵ / ۷۴۷)
جو شخص اپنا وظیفہ یا اس کا کوئی حصّہ بغیر پڑھے سو جائے پھر نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان پڑھ لے تو ایسا ہے گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔
۱۷ وتر کا وقت نماز عشا کے بعد سے طلوع صبح صادق تک رہتا ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ زَادَكُمْ صَلٰوةً، صَلُّوْهَا فِيْمَا بَيْنَ صَلٰوةِ الْعِشَاءِ اِلٰى صَلٰوةِ الصُّبْحِ اَلْوِتْرُ اَلْوِتْرُ
(رواه احمد عن ابی بصره حديث : ۲۷۷۷۱ / ۲۶۰۱۴ / ۲۷۲۲۹ / ۲۱۷۹ و سنده صحیح، بلوغ جزء اوّل صفحه ۲۸۰ والمعجم الكبير للطبراني حديث : ۲۱۲۴ / ۲۱۶۷ وشرح معانى الآثار طحاوى حديث : ۲۴۳۶ / ۲۳۲۷ / ۲۴۹۹)
اللہ عزوجل نے تمھارے لیے ایک نماز زیادہ کر دی ہے۔ اسے نماز عشا اور نماز فجر کے درمیان پڑھ لیا کرو (وہ) وتر ہے (وہ) وتر ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَوْ تِرُوْا قَبْلَ اَنْ تُصْبِحُوْا
(صحیح مسلم كتاب الصلوة باب صلوة الليل مثنى مثنى جزء اوّل صفحہ ۳۰۳ حديث : ۱۷۶۴ / ۷۵۴)
اور صبح (صادق) ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔
۱۸ وتر کی رکعت میں رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اهْدِنِیْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِیْ فِيْمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِى فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِیْ فِيْمَا اَعْطَيْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَاِنَّكَ تَقْضِیْ وَلَا يُقْضٰى عَلَيْكَ اِنَّهٗ لَا يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَ تَعَالَيْتَ۔
ترجمہ : اے اللہ مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے ہدایت دی، مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت دی، مجھ کو دوست بنا ان لوگوں میں جن کو تو نے دوست بنایا، جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما اور مجھے اس چیز کی بُرائی سے بچا جو تو نے مقدّر کر دی ہے، اس لیے کہ تو حکم کرتا ہے تجھ پر کوئی حکم نہیں چلا سکتا، جس کو تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزّت نہیں پاسکتا۔ اے ہمارے ربّ تو بابرکت ہے، بلند و بالا ہے۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
عَلَّمَنِیْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ اَقُوْلُهُنَّ فِی الْوِتْرِ اَللّٰهُمَّ اهْدِنِىْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِیْ فِيْمَنْ عَافَيْتَ وَ تَوَلَّنِیْ فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِیْ فِيْمَا اَعْطَيْتَ وَقِنِىْ شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَاِنَّكَ تَقْضِیْ وَلَا يُقْضٰى عَلَيْكَ اِنَّهٗ لَا يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَ تَعَالَيْتَ۔
(ابو داؤد كتاب الصلوة باب القنوت فِی الوتر جزء اوّل صفحہ ۳۰۸، حديث : ۱۴۲۵ و سندہ صحیح، مرعاة جزء ۲ صفحہ ۳۱۳ حديث : ۱۲۸۱ وسنن ترمذى حديث : ۴۶۴ / ۴۶۸، وسنن نسائى حديث : ۱۷۴۶ / ۱۷۴۵)، وسنن ابن ماجه حديث : ۱۱۷۸)
مجھے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے (چند) کلمات سکھائے (تاکہ) میں انھیں وتر میں پڑھوں (اور وہ کلمات یہ ہیں)
اَللّٰهُمَّ اهْدِنِىْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِیْ فِيْمَنْ عَافَيْتَ وَ تَوَلَّنِیْ فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِیْ فِيْمَا اَعْطَيْتَ وَقِنِىْ شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَاِنَّكَ تَقْضِیْ وَلَا يُقْضٰى عَلَيْكَ اِنَّهٗ لَا يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَ تَعَالَيْتَ۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ فَيَقْنُتُ قَبْلَ الرَّكُوعِ
(رواه ابن ماجہ فی کتاب الصلوۃ باب ماجاء فى القنوت قبل الركوع و بعده جزء اوّل صفحہ ۳۶۹ حديث : ۱۱۸۲ وسندہ صحیح ۔ صلوۃ للالبانی صفحہ ۱۹۰ وسنن نسائى حديث : ۱۷۰۰ / ۱۶۹۹، وسنن دارقطنى حديث : ۱۶۴۱ / ۱۶۵۹)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم (جب) وتر پڑھتے تو دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
عَلَّمَنِى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِیْ وِتْرِىْ اِذَا رَفَعْتُ رَاْسِىْ وَلَمْ يَبْقَ اِلَّا السُّجُوْدُ
(رواه الحاكم وصحه فِی كتاب معرفة الصحابة جزء ۳ صفحہ ۱۷۳ حديث : ۴۸۰۰ / ۴۸۵۶ و صحیحہ احمد محمد شاکر۔ مرعاۃ جلد ۳ صفحہ ۲۱۳)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مجھے اپنے وتر میں اس وقت پڑھنے کے لیے کہا جب میں (رکوع سے) سر اٹھاؤں اور سوائے سجدوں کے کچھ باقی نہ رہے یہ کلمات اس وقت پڑھنے کے لیے سکھائے۔
۱۹ وتر کا سلام پھیرنے کے بعد تین۳ مرتبہ مندرجہ ذیل ثنا پڑھے۔
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ
ترجمہ: تمام کمزوریوں اور عیبوں سے منزّہ ہے وہ بادشاہ جو پاکیز گیوں والا ہے۔
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ اِذَا سَلَّمَ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ ثَلٰثًا وَيَرْفَعُ صَوْتَهٗ بِالثَّالِثَةِ
(نسائی کتاب الصلوۃ باب نوع اخر من القراءة فى الوتر جزء اوّل صفحہ ۱۹۴ حديث : ۱۷۳۳ / ۱۷۳۲ وسندہ صحیح ۔ مرعاة جزء ۳ صفحہ ۲۱۴ حديث : ۱۲۸۳ ، ومسند احمد حديث : ۲۱۴۶۰/ ۲۰۲۲۲ / ۲۱۱۴۲ / ۲۲۲۰ ، والمصنف ابن أبي شيبة حديث : ۶۹۴۴ / ۷۰۵۱ / ۶۸۷۳)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم جب وتر پڑھ کر سلام پھرتے تو تین۳ مرتبہ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ پڑھتے اور تیسری مرتبہ کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتے۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا فَرَغَ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِهٖ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ يَطِيْلُ فِیْ اٰخِرِهِنَّ۔
(نسائی کتاب الصلوۃ باب ذكر اختلاف الفاظ الناقلين بخبر ابی ابن کعب فی الوتر جزء اوّل صفحہ ۱۹۱ حديث : ۱۷۰۰ / ۱۶۹۹ وسندہ صحیح ، مرعاة جلد ۳ صفحہ ۲۱۴ حديث : ۱۲۸۳، وشرح مشكل الآثار طحاوى حديث : ۴۵۰۳، الأحاديث المختارة حديث : ۱۲۲۱)
رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم جب وتر سے فارغ ہوتے تو تین۳ مرتبہ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ کہتے اور آخری مرتبہ آواز کو طول دیتے۔
۲۰ اگر وتر پڑھنا بھول جائے یا وتر کا وقت سوتے میں نکل جائے تو جب یاد آئے (یا جب جاگے) وتر پڑھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِذَا اَصْبَحَ اَحَدُكُمْ وَلَمْ يُوْتِرْ فَلْيُوْتِرْ
(رواه الحاكم وصححه فِی كتاب الوتر جزء اوّل صفحہ ۳۰۳ حديث : ۱۱۳۶ / ۱۱۴۹، وسنن دارقطنى حديث : ۱۶۲۰ / ۱۶۳۸، والمعجم الأوسط للطبراني حديث : ۸۸۴۲)
جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جائے اور اس نے وتر نہ پڑھا ہوتو وتر پڑھ لے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهٖ اَوْ نِسَيَہٗ فَلْيُصَلِّهٖ اِذَا اَصْبَحَ اَوْ ذَكَرَ
(رواه الحاكم وصححه فی کتاب الوتر جزء اوّل صفحہ ۳۰۲ حديث : ۱۱۲۷ / ۱۱۴۰، وسنن دارقطنى حديث : ۱۶۱۹ / ۱۶۳۷، وسنن الكبرىٰ للبيهقى حديث : ۴۵۳۳)
جو شخص بغیر وتر پڑھے سو جائے یا وتر پڑھنا بھول جائے تو جب صبح ہو تو اسے پڑھ لے یا جب یاد آئے تو پڑھ لیے۔
۲۱ اگر کوئی شخص چاہے تو ایک سلام سے پانچ۵ رکعت، سات۷ رکعت وتر پڑھ سکتا ہے لیکن تین۳ رکت وتر ایک سلام سے نہ پڑھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَاتُوْتِرُوْابِثَلَاثٍ اَوْتِرُوْابِخَمْسٍ اَوْبِسَبْعٍ وَلَاتَشَبَّهُوْابِصَلٰوةِالْمَغْرِبِ۔
(دارقطنی کتاب الصلواة ابواب الوتر جزء اوّل صفحہ ۱۷۲ حديث : ۱۶۳۲ / ۱۶۵۰ وسندہ صحیح، نیل الاوطار جزء ۳ صفحہ ۳۱ حديث : ۹۲۳ ومستدرك حاكم حديث : ۱۱۳۸ / ۱۱۵۱، وصحيح ابن حبان حديث : ۲۴۲۹ / ۲۴۲۰ / ۲۳۱۹)
تین۳ رکعت وتر نہ پڑھا کرو، پانچ۵ یا سات۷ رکعت پڑھ لیا کرو۔ مغرب سے مشابہت نہ کرو۔
۲۲ اگر تین۳ رکعت وتر پڑھنے ہوں تو اس طرح پڑھے کہ دو۲ رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے پھر ایک رکعت پڑھے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّهٗ كَانَ يَفْصِلُ بَيْنَ شَفْعِهٖ وَ وِتْرِہٖ بِتَسْلِيْمَةٍ وَاَخْبَرَ ابْنُ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذٰلِكَ
(طحاوى كتاب الصلوۃ باب الوتر جزء اوّل صفحہ ۱۹۲ حديث : ۱۶۲۴ / ۱۵۵۸ / ۱۶۶۴ وسنده قوی، نیل جزء ۳ صفحه ۲۹ ومسند احمد حديث : ۵۴۶۱ / ۵۲۰4 / ۲۲۱۷، وصحيح ابن حبان حديث : ۲۴۳۵ / ۲۴۲۶ / ۶۲۷۴)
حضرت ابن عمر دو۲ رکعت اور وتر کے درمیان سلام سے فصل کرتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم بھی ایساہی کرتے تھے۔
۲۳ ان دو۲ رکعتوں میں جو وتر کی ایک رکعت سے پہلی پڑھی جائیں سورۂ سَبِّـحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى اور سورۂ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ [/arb][urdu]تلاوت کرے اور وتر کی رکعت میں قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھے۔
كَانَ النَّبِیُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَاُ فِی الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ يُوْتِرُ بَعْدَهُمَا بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى وَ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ وَيَقْرَأُ فِی الْوِتْرِ بِقُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ
(رواہ الحاکم و سندہ صحیح المستدرک جزء اوّل صفحہ ۳۰۵، حديث : ۳۹۲۲ / ۳۹۶۶ التعلیقات جزء اوّل صفحہ ۳۹۷ حديث : ۱۲۶۹، وسنن دارقطنى حديث : ۱۶۵۷ / ۱۶۷۵، وصحيح ابن حبّان حديث : ۲۴۳۲ / ۲۴۲۳ / ۷۰۶۶)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم ان دو۲ رکعتوں میں جن کے بعد وتر پڑھا جاتا ہے سَبِّـحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى اور قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ پڑھتے تھے اور وتر میں قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ[ پڑھتے تھے۔
۲۴ جب پانچ۵ رکعت وتر پڑھے تو کسی رکعت میں التحیات کے لیے نہ بیٹھے سوائے پانچویں رکعت کے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّی مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُؤْتِرُ مِنْ ذٰلِكَ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِی شَیْءٍ اِلَّا فِیْ اٰخِرِهَا۔
(صحیح مسلم كتاب الصلٰوة باب صلوة الليل وعدد ركعات النبي صلى الله عليه وسلم فِی الليل جزء اوّل صفحہ ۲۹۶ حديث : ۱۷۲۰ / ۷۳۷)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رات کو (جب) تیرہ۱۳ رکعت پڑھتے تو پانچ۵ رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔ ان میں کسی رکعت میں نہیں بیٹھتے تھے سوائے آخری رکعت کے۔
۲۵ جب سات۷ رکعت وتر پڑھے تو چھٹی پر بیٹھے پھر ساتویں پر بیٹھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ فرماتی ہیں:
فَلَمَّا كَبُرَ وَ ضَعُفَ اَوْ تَرَبِسَبْعِ رَڪَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ اِلَّا فِی السَّادِسَةِ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّی السَّابِعَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيْمَةً۔
(رواه النسائى فى كتاب الصلوۃ باب كيف الوتر بسبع جزء اوّل صفحہ ۲۹۳ حديث : ۱۷۲۰ / ۱۷۱۹ و سندہ صحیح)
جب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عمر زیادہ ہو گئی اور آپؐ کمزور ہو گئے تو آپؐ سات۷ رکعت پڑھتے۔ سوائے چھٹی رکعت کے کسی رکعت میں نہیں بیٹھتے تھے۔ پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے اور ساتویں رکعت پڑھتے پھر سلام پھیرتے۔
۲۶ وتر نو۹ رکعت بھی پڑھے جا سکتے ہیں جب نو۹ رکعت وتر پڑھے تو آٹھویں رکعت پر بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ کا ذِکر کرے، اس کی حمد کرے، اس سے دعا مانگے پھر کھڑا ہو جائے اور نویں رکعت پڑھے۔ نویں رکعت پڑھ کر بیٹھ جائے، اللہ تعالیٰ کا ذِکر کرے، اس کی حمد کرے، اس سے دعا مانگے ، پھر سلام پھیرے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كُنَّا نُعِدُّ لَهٗ سِوَاكَهٗ وَ طَهُوْرَهٗ فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَآءَ اَنْ يَبْعَثَهٗ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكَ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّیْ تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيْهَا اِلَّا فِی الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوْهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُوْمُ فَيُصَلِّی التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوْهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيْمًا يُسْمِعُنَا۔
(صحيح مسلم كتاب الصلوۃ باب جامع صلوۃ الیل جزء اوّل صفحہ ۲۹۹ حديث : ۱۷۳۹ / ۷۴۶)
ہم رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے لیے مسواک اور ضو کا پانی رکھ دیا کرتے تھے پھر رات کو جب اللہ آپؐ کو اٹھانا چاہتا اٹھا دیتا۔ آپؐ مسواک کرتے اور وضو کرتے پھر نو۹ رکعت نماز پڑھتے۔ اس میں کسی رکعت پر نہ بیٹھے سوائے آٹھویں رکعت کے۔ جب آپؐ بیٹھتے تو اللہ کا ذِکر کرتے اور اس کی حمد کرتے، اس سے دعا مانگتے پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پڑھتے پھر بیٹھتے، اللہ کا ذِکر کرتے، اس کی تعریف کرتے، اس سے دعا مانگتے پھر سلام پھیر تے اور ہمیں سناتے (یعنی بلند آواز سے سلام کرتے تا کہ ہم سن لیں)۔