Surah Al-Qiyama
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۷۵ – سُوْرَۃُ لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ
فہرستِ مضامین
۷۵۔ سُوْرَۃُ لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ۱ وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ۲ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ۳ بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ۴ بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗ۵ یَسْـَٔلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِ۶ فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ۷ وَ خَسَفَ الْقَمَرُ۸ وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ۹ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَىِٕذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ۱۰ ڪَلَّا لَا وَزَرَ۱۱ اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىِٕذٍنِالْمُسْتَقَرُّ۱۲ یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىِٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَ۱۳ بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌ۱۴ وَ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗ۱۵
ترجمہ: میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۱ اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی (کہ تم سب ایک دن دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے) ۲ کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈّیوں کو جمع نہیں کر سکتے ۳ کیوں نہیں (ہم جمع کر سکتے ہیں) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور ٹھیک کر دیں ۴(وہ اس لیے قیامت کو) نہیں (مانتا کہ) وہ چاہتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اور گناہ کرتا رہے ۵(اسی لیے) وہ (بطورِ اعتراض کے) پوچھتا ہے قیامت کا دن کب آئے گا ۶ تو وہ (سن لے روزِ قیامت) اس دن آئے گا (جس دن) آنکھیں پتھرا جائیں گی ۷ چاند میں گہن لگ جائے گا ۸ اور سورج اور چاند اکٹّھے کر دیے جائیں گے ۹اس دن انسان کہے گا کہیں بھاگ کر جانے کی کوئی جگہ ہے ۱۰ ہرگز نہیں، کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہو گی ۱۱ اس دن تو (اے رسول) آپ کے ربّ کے پاس ہی ٹھکانہ ہو گا ۱۲ اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے کون کون سے عمل آگے بھیجے تھے اور کون کون سے عمل پیچھے چھوڑ آیا تھا ۱۳ بلکہ (بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی) انسان خود اپنے نفس پر گواہ ہو گا ۱۴ اگرچہ وہ (اپنے آپ کو بچانے کےلیے) کتنے ہی عذر پیش کرے۱۵
معانی و مصادر: (لَوَّامَةٌ) لَامَ، يَلُوْمُ، لَوْمٌ و مَلَامٌ و مَلَامَةٌ (ن) ملامت کرنا۔(لَوَّامَةٌ = بہت ملامت کرنے والا)
(نُسَوِّى) سَوّٰى، يُسَوِّىْ، تَسْوِيَةٌ (باب تفعیل) ٹھیک کرنا ، برابر کرنا ۔
(بَنَانٌ= انگلی، پور۔
(يَفْجُرُ) فَجَرَ، يَفْجُرْ، فَجْرٌ و فُجُوْرٌ (ن) جھوٹ بولنا، گناہ کرنا ، زنا کرنا۔
(اَيَّانَ) اَيَّانَ =کب ۔
(بَرِقَ) بَرِقَ، يَبْرَقُ، بَرَقٌ (س) ڈر اور تحیّر کی وجہ سے دیکھ نہ سکنا ۔
(وَزَرٌ) وَزَرٌ= پناہ کی جگہ ۔
(بَصِيْرَةٌ) بَصِيْرَةٌ = گواہ، حجت، عبرت، عقل ۔
(مَعَاذِيْرُ) عَذَرَ، يَعْذِرُ، عُذْرٌ وعُذُرٌ و مَعْذِرَةٌ (ض) معذرت کرنا ، عذر پیش کرنا۔
(مَعَاذِيْرَةُ = معذرة کی جمع)
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ) میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی (وَلَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ الَّوَّامَةِ) اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی (کہ تم سب ایک دن دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے اور تم سے تمھارے اعمال کا حساب لیا جائے گا)۔
نفس دو۲ قسم کے ہیں:
۱نفس امّارہ ۔
۲ نفس لوّامہ۔
نفس امارہ بُرے کام کی ترغیب دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ،اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ،اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۵۳
(سُوْرَۃُ یُوْسُفْ : ۱۲، آیت : ۵۳)
اور میں اپنے نفس کو بُرائی سے مبرّا بھی نہیں کہتا، نفس تو بےشک (ہر انسان کو) بُرے کام کا حکم دیتا ہی رہتا ہے (لہٰذا اس کی شرارت سے کوئی بچ نہیں سکتا) سوائے اس کے جس پر میرے ربّ کی رحمت ہو جائے (میرا گناہ سے بچ جانا اُسی کے رحم و کرم کا رہینِ منّت ہے) بےشک میراربّ بڑا معاف کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے ۔
نفس لوّامہ بُرے کام پر ملامت کرتا ہے۔ اس کو ہم عمومًا ضمیر سے تعبیر کرتے ہیں۔
آگے فرمایا (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهٗ) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کر سکتے (بَلٰى، قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّىَ بَنَانَهٗ) کیوں نہیں (ہم جمع کر سکتے ہیں) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور ٹھیک کردیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۷۷ وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ،قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ۷۸ قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ،وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ۷۹
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت : ۷۷ تا ۷۹)
کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفۂ (ناچیز) سے پیدا کیا پھر بھی وہ برملا (ہم سے) جھگڑتا ہے ۔ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے، کہتا ہے جب ہڈّیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو انھیں کون زندہ کرے گا۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے ان (ہڈّیوں) کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، وہ ہر طرح پیدا کرنا جانتا ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ رَجُلًا حَضَرَةُ الْمَوْتُ لَمَّا اَيِسَ مِنَ الْحَيَاةِ اَوْصٰى اَهْلَهٗ اِذَا مُتُّ فَاجْمَعُوْا لِیْ حَطَبًا كَثِيْرًا ثُمَّ اَوْرُوْا نَارًا، حَتّٰى اِذَا اَكَلَتْ لَحْمِیْ وَخَلَصَتْ اِلٰى عَظْمِیْ، فَخُذُوْهَا فَاطْحَنُوْهَا فَذَرُّوْنِیْ فِی الْيَمِّ فِیْ يَوْمٍ حَارٍّ، اَوْ رَاحٍ، (فَفَعَلُوْا) فَجَمَعَهُ اللّٰہُ فَقَالَ ؟ لِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ، فَغَفَرَلَهٗ۔
(صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب ما ذكر عن بنی اسرائیل جزء ۴ صفحہ ۲۱۴، حديث : ۳۴۷۹ / ۳۲۹۲، وصحيح مسلم حديث : ۶۹۸۱ / ۲۷۵۶)
ایک شخص کی موت کا وقت جب قریب آیا اور وہ (اپنی) زندگی سے مایوس ہو گیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا جب میں مرجاؤں تو بہت سی لکڑیاں جمع کرنا، پھر آگ جلانا (اور میری لاش اس میں جلا دینا) یہاں تک کہ جب آگ میری کھال کو لا دے اور میری ہڈیوں تک پہنچ جائے تو اسے پیس ڈالنا۔ الغرض (انھوں نے ایسا ہی کیا) اللہ نے اس کو جمع کر لیا اور اس سے پوچھا ؟ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا تیرے ڈر سے، اللہ نے اسے بخش دیا۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے تمام ذرات کو جمع کیا اور اسے دوبارہ انسان بنادیا۔
یہ حدیث گویا (بَلٰى، قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّىَ بَنَانَهٗ) کی تفسیر ہے۔
آگے فرمایا (بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ) (انسان کسی اور وجہ سے قیامت کا انکار نہیں کرتا ) بلکہ (وہ صرف اس وجہ سے انکار کرتا ہے کہ) وہ چاہتا ہے کہ اس (کی زندگی) کے آگے (آنے والے دنوں میں وہ اور) گناہ کرتار ہے (اگر وہ قیامت پر ایمان لے آئے تو اس کا تقاضا یہ ہو گا کہ وہ گناہ چھوڑ دے لیکن وہ گناہ چھوڑنا نہیں چاہتا اس لیے ہٹ دھرمی سے قیامت کا انکار کرتا ہے) (يَسْئَلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِ) (اور اسی لیے) وہ (بطور اعتراض اور مذاق کے) پوچھتا ہے قیامت کا دن کب آئے گا۔
کافر برابر قیامت کا انکار کرتے رہے اور اس کی وقوع کو ناممکن سمجھتے ہوئے بطور اعتراض و تمسخر کے اس کے آنے کا وقت دریافت کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ڪُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا۴۹ قُلْ ڪُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًا۵۰ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَڪْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ،فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا،قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ،فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی هُوَ،قُلْ عَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا۵۱
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت : ۴۹تا۵۱)
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر) ہڈّیاں ہو جائیں گے اور پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم کو ازسرِنو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ تم پتّھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا وہ چیز بن جاؤ جو تمھارے خیال میں بڑی (ہی سخت) ہو (غرض یہ کہ تم کچھ بھی بن جاؤ، تم دوبارہ ضرور زندہ کیے جاؤ گے) تو یہ (فورًا) کہیں گے ہمیں دوبارہ کون زندہ کرے گا، (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ وہ (زندہ کرے گا) جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا تو (یہ جواب سن کر) یہ لوگ مذاقًا آپ کے سامنے سر مٹکائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہو گا آپ کہہ دیجیے کہ شاید (مستقبل) قریب ہی میں ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۲۵ قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ،وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۲۶فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓـَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ ڪَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ۲۷
(سُوْرَۃُ الْمُلْـكِ: ۶۷، آیت : ۲۵ تا۲۷)
اور (اے رسول) کافر کہتے ہیں اگر تم (اپنے دعوے میں) سچّے ہو تو بتاؤ یہ (قیامت کا) وعدہ کب (پورا) ہو گا۔ آپ کہہ دیجیے (اس کا) علم تو اللہ ہی کوہے، میں تو بس صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ (اور اے رسول) جب یہ (کافر) قیامت کو (اپنے) قریب دیکھیں گے تو جن لوگوں نے کفر کیا ہو گا ان کے چہرے بگڑ جائیں گے، (اس وقت) ان سے کہا جائے گا یہ ہی وہ (قیامت) ہے جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔
آگے فرمایا (فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ) (انسان بار بار پوچھتا ہے قیامت کا دن کب آئے گا ؟ قیامت کا دن کب آئے گا) تو وہ (سن لے روزِ قیامت) اس دن آئے گا (جس دن) آنکھیں پتّھرا جائیں گی (آنکھوں سے مارے خوف و دہشت کے دیکھا نہ جائے گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ،اِنَّمَا یُؤَخِّرُ هُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُ۴۲ مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ،وَ اَفْـِٕدَتُهُمْ هَوَآءٌ۴۳
(سُوْرَۃُ اِبْرَاھِیْمَ: ۱۴، آیت : ۴۲ تا۴۳)
اور (اے رسول) یہ خیال نہ کرنا کہ جو اعمال یہ ظالم کر رہے ہیں اللہ ان سے غافل ہے، (نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ) اللہ تو ان کو اس دن تک کےلیے مُہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ (اس دن لوگ) سروں کو اوپر اٹھائے ہوئے بھاگ رہے ہوں گے، (دہشت کی وجہ سے) ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گی اور دِل ہوا ہو رہے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُ۳۷
(سُوْرَۃ ُ النُّوْر: ۲۴،آیت :۳۷)
وہ (یعنی نیک لوگ) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن دِل اور آنکھیں اُلٹ جائیں گی۔
آگے فرمایا (وَخَسَفَ الْقَمَرُ)(قیامت اس دن آئے گی جس دن) چاند میں گہن لگ جائے گا (وَجُمِـعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ) اور سورج اور چاند اکٹھے کر دیے جائیں گے(يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ) اس دن انسان کہے گا بھاگ کر پناہ حاصل کرنے کی کوئی جگہ ہے (کَلَّا لَا وَزَرَ) نہیں (بھاگ کر) پناہ حاصل کرنے کی کوئی جگہ نہیں۔ (اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ نِالْمُسْتَقَرُّ) اس دن تو (اے رسول) آپ کے ربّ کے پاس ہی ٹھکانہ ہو گا (سب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور ان سے ان کے اعمال کے متعلّق سوال و جواب ہو گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِنْ ڪُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۳۲
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت : ۳۲)
اور (قیامت کے روز) یہ سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۵۳
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت :۵۳)
(اور اے رسول) وہ تو بس ایک زور دار آواز ہو گی کہ (اس کے سنتے ہی) سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّڪُمْ مُّلٰقُوْهُ،وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۲۲۳
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۲۳)
اللہ سے ڈرتے رہو اور (اس بات کو اچّھی طرح) جان لو کہ (قیامت کے دن) تم ضرور اللہ سے ملاقات کرو گے اور (اے رسول) آپ مومنین کو خوش خبری سنا دیجیے (کہ اس دن انیں کوئی خوف اور غم نہ ہو گا) ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰی رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِ۶
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْشَقَّتْ: ۸۴، آیت : ۶)
اے انسان، تو اپنے ربّ کی طرف (پہنچنے کےلیے) مشقّت جھیلتا ہوا کوشش کرتا رہتا ہے (تو یاد رکھ ایک دن) تو (ضرور) اُس سے ملاقات کرے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَی الْاَرْضَ بَارِزَةً،وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا۴۷ وَ عُرِضُوْا عَلٰی رَبِّكَ صَفًّا،لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا ڪَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ،بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا۴۸
(سُوْرَۃُ الْکَـھْـفِ: ۱۸، آیت : ۴۷ تا۴۸)
اور (اے رسول، نیک اعمال کا یہ صلہ اس دن ملے گا) جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور جس دن زمین آپ کو (ایک) چٹیل (میدان کی طرح) نظر آئے گی پھر ہم ان (سب) کو جمع کریں گے، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ اور (اے رسول، یہ سب) آپ کے ربّ کے سامنے صف بصف پیش کیے جائیں گے، (پھر ہم ان سے کہیں گے آج) تم ہمارے پاس (اسی طرح پیدا ہوکر) آگئے ہو جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، (تم تو روزِ جزا کا انکار کرتے تھے) بلکہ تمھارا تو یہ دعویٰ تھا کہ ہم نے (جزا و سزا کےلیے) کوئی وقت مقرّر ہی نہیں کیا ہے (تو اب تم نے دیکھ لیا کہ تمھارا دعویٰ غلط تھا) ۔
الغرض قیامت کے دن کہیں پناہ نہیں ملے گی، ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا۔ (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ) اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے کون سے عمل آگے بھیجے تھے اور کون سے عمل پیچھے چھوڑ آیا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ۷ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۸
(سُوْرَۃُ اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ: ۹۹، آیت : ۷ تا ۸)
تو جس نے ذرّہ برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اس (نیکی) کو (وہاں) دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرّہ برابر بھی بُرائی کی ہو گی وہ اس (بُرائی) کو (وہاں) دیکھ لے گا۔
انسان کے تمام اعمال اس کے سامنے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وُضِعَ الْڪِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا ڪَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا،وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا،وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۴۹
(سُوْرَۃُ الْکَـھْـفِ: ۱۸، آیت : ۴۹)
پھر (اے رسول، ہر ایک کا) اعمال نامہ (اس کے سامنے) رکھ دیا جائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ گناہ گار لوگ جو کچھ اس میں (تحریر) ہو گا اس (کو دیکھ کر اس کی سزا) سے ڈر رہے ہوں گے اور یہ کہہ رہے ہوں گے ہائے افسوس یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑی اور نہ کوئی بڑی بات چھوڑی، سب کو گِن گِن کر محفوظ کر لیا ہے، الغرض جو عمل انھوں نے کیے ہوں گے وہ ان سب کو (اس میں) موجود پائیں گے اور (اے رسول) آپ کا ربّ کسی پر ظلم نہیں کرے گا (بلکہ اس کے اعمال کے مطابق ہی اسے بدلہ دے گا)۔
الغرض جو عمل اس نے اپنی زندگی میں موت سے پہلے کیے تھے وہ بھی وہاں اسے بتائے جائیں گے اور وہ عمل جس کا وہ اپنی موت کے بعد سبب بنا تھا وہ بھی وہاں اسے بتائے جائیں گے۔ جو عمل انسان اپنی زندگی میں کرتا ہے وہ تو وہ عمل ہیں جو اس نے اپنے آگے بھیج دیے اور جن اعمال کی وجہ سے اسے موت کے بعد بھی ثواب یا عذاب پہنچتا رہتا ہے وہ وہ عمل ہیں جو وہ پیچھے چھوڑ آیا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهٗ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ اِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ اَوْ عِلْمٍ يَنْتَفِعُ بِهٖ اَوْ وَلَدِ صَالِحٍ يَدْعُوْلَهٗ
(صحیح مسلم كتاب الوصية باب ما يلحق الانسان من الثواب بعد وفاته جزء ۲ صفحہ ۱۴، حديث : ۴۲۲۳ / ۱۶۳۱)
جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین عمل اس کے جاری رہتے ہیں (۱) صدقہ جاریہ (۲) علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے (۳) صالح لڑکا جو اس کے لیے دعا کرے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهٗ كُتِبَ لَهٗ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ اُجُورِهِمْ شَیْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَةٌ سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهٗ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ اَوْزَارِهِمْ شَیْءٌ
(صحیح مسلم کتاب العلم باب من سنة حسنة أو سيئة جزء ۲ صفحہ ۴۶۵، حديث : ۶۸۰۰ / ۱۰۱۷)
جس نے اسلام میں کوئی اچّھا طریقہ جاری کر دیا پھر اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا تو جاری کرنے والے کے لیے بھی عمل کرنے والے کے مثل ثواب لکھا جائے گا اور ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوگا اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کر دیا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو جاری کرنے والے کے لیے بھی عمل کرنے والے کے مثل گناہ لکھا جائے گا اور ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کم نہیں ہو گا۔
رسول اللہ صَلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ دَعَا اِلٰى هُدًى كَانَ لَهٗ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهٗ ، لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ اُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا اِلٰى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ اٰثَامِ مَنْ تَبِعَهٗ وَلَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ اٰثَامِهِمْ شَيْئًا
(صحیح مسلم كتاب العلم باب من سن سنة حسنة أو سيئة جزء۲صفحه ۴۶۶، حديث : ۶۸۰۴ / ۲۶۷۴)
جس نے ہدایت کی طرف دعوت دی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس ہدایت کی پیروی کرنے والے کو اور یہ چیز ان کے ثواب میں سے کچھ کیل نہیں کرے گا اور جس نے گمراہی کی طرف دعوت دی تو اس کو اتناہی گناہ ہو گا جتنا اس گمراہی کی پیروی کرنے والے کو، ان کے گناہوں میں ذرا سا بھی کم نہیں ہو گا۔
آگے فرمایا (بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ) بلکہ انسان (کو اس کے اعمال بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی) وہ خود اپنے نفس پر گواہ ہو گا (وہ اپنے اعمال کا انکار نہیں کر سکے گا) (وَلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِيْرَہٗ) اگرچہ (اپنے آپ کو بچانے کے لیے) وہ کتنے ہی عذر پیش کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىِٕرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ،وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا۱۳ اِقْرَاْ كِتٰبَكَ،كَفٰی بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًا۱۴
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت : ۱۳تا ۱۴)
اور ہم نے ہر انسان (کے اعمال) کی بھلائی بُرائی کو اس انسان کی گردن میں لٹکا دیا ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے (دکھانے کے) لیے ایک کتاب نکالیں گے جس کو وہ (اپنے سامنے) کھلا ہوا پائے گا۔ (پھر ہم اس سے کہیں گے) اپنی کتاب پڑھ (اور اپنے اعمال کا جائزہ لے) آج تو اپنے (اعمال کا) حساب لینے کےلیے خود ہی کافی ہے۔
انسان اپنے اعمال کو تسلیم کرے گا اس کا دِل گواہی دے رہا ہو گا کہ اس نے واقعی وہ عمل کیے ہیں جن کی اسے خبر دی جارہی ہے۔ اس کے پاس اپنے بُرے عمل کی سزا سے بچنے کی کوئی سبیل نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ وہ جھوٹے بہانے پیش کرے گا لیکن جھوٹے بہانوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَیَوْمَىِٕذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ۵۷
(سُوْرَۃ ُ الرُّوْمِ: ۳۰، آیت : ۵۷)
پھر اس دن ظالم لوگوں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہیں دے گی اور نہ انھیں راضی کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۵۲
(سُوْرَۃُ حٰـمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۵۲) جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہیں دے گی، ان پر لعنت (برس رہی) ہو گی اور ان کے (رہنے کے) لیے (بہت ہی) بُرا گھر ہو گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ،اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۷
(سُوْرَۃُ التَّحْرِیْمِ: ۶۶، آیت : ۷)
(اور اے رسول، جب قیامت کا دن ہو گا تو اس دن اللہ کافروں سے فرمائے گا) اے کافرو، آج بہانے نہ بناؤ، جو عمل تم (دنیا میں) کرتے رہے تھے (آج) تمھیں ان ہی کا بدلہ ملے گا۔
عمل
اے لوگو! قیامت کے دن دوبارہ پیدا ہونے پر ایمان لایے۔ اس دن اللہ تعالیٰ آپ سے آپ کے اعمال کا حساب لے گا۔ آپ اس سے بیچ کر کہیں پناہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔
ترجمہ : (اے رسول) اس (قرآن) کو جلدی سے یاد کرنے کےلیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کیجیے۱۶اس کا (آپ کے سینے میں) جمع کرنا اور پھر اس کو پڑھوانا ہمارے ذِمّے ہے ۱۷ لہٰذا جب ہم پڑھا کریں تو (آپ سنتے رہیے اور) اس کے پڑھنے کی پیروی کیجیے۱۸ پھر اس کی تشریح کرا دینا بھی ہمارے ذِمّے ہے۱۹
معانی و مصادر: (قُرْاٰن) قَرَأَ، يَقْرَأُ، قَرْأٌ و قِرَاءَةٌ و قُرْاٰنٌ (ف) پڑھنا۔
(بَيَانٌ) بَانَ، يَبِيْنُ، بَيَانٌ و تَبْیَانٌ (ض) ظاہر ہونا ، واضح ہونا۔
شانِ نزول: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا نَزَلَ جِبْرِيْلُ بِالْوَحْیِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهٖ لِسَانَهٗ وَ شَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ وَ كَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ الْاٰيَةَ الَّتِیْ فِیْ لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ
(صحیح بخاری کتاب التفسير باب سورة القيامة جزء ۶ صفحہ ۲۰۳، حديث : ۴۹۲۹ / ۴۶۴۵ وصحیح مسلم كتاب الصلوة باب الاستماع للقراءة جزء اوّل صفحہ ۱۸۹، حديث : ۱۰۰۴ / ۴۴۸)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر جب حضرت جبریلؑ وحی لے کر آتے (اور آپؐ کو سناتے) تو آپؐ زبان اور لب ہلاتے رہتے تھے (کہ کہیں بھول نہ جائیں) اس سے آپؐ کو تکلیف ہوتی تھی۔ یہ تکلیف آپؐ (کی صُورت سے پہچانی جاتی تھی) الغرض اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری جو سورۂ لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ میں ہے لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ ۔ وحی کو یاد کرنے کے لیے آپؐ زبان کو حرکت نہ دیا کیجیے۔ اس کا (آپؐ کے سینے میں) جمع کرنا ہمارے ذِمّے ہے۔
تفسیر: (لَا تُحَرِّكَ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ)(اے رسول) اس (قرآن) کو جلدی سے یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کیجیے (اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ) اس کا (آپ کے سینہ میں) جمع کرنا اور اپھر اس کو پڑھوانا ہمارا ذِمّہ ہے (فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِـعْ قُرْاٰنَهٗ) لہٰذا جب ہم اس کو پڑھا کریں تو (آپ خاموش رہا کیجیے اور سنتے رہا کیجیے اور) اس کے پڑھنے کی پیروی کیا کیجیے۔ (یعنی جب ہم پڑھ چکیں تو جس طرح ہم نے پڑھا ہے آپ بھی اسی کے مطابق پڑھا کیجیے)(ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ) پھر اس کی تشریح کرا دینا بھی ہمارے ہی ذِمّہ ہے (یعنی ہم صرف اس کے الفاظ ہی آپ کو حفظ نہیں کرائیں گے بلکہ ان الفاظ کے معانی و مطالب بھی ہم ہی سمجھا ئیں گے۔ صرف الفاظ کی حفاظت ہی ہمارے ذِمّہ نہیں ہے بلکہ اس کی تشریح و توضیح بھی ہمارے ہی ذِمّہ ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ۴۴
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۴۴)
اور (اے رسول) ہم نے آپ کی طرف یہ ذِکر (اس لیے) نازل کیا ہے تاکہ اس ذِکر کی جو (ان لوگوں کی ہدایت کےلیے) ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ ان کےلیے تشریح و توضیح کر دیں تاکہ یہ لوگ (اپنے انجام کے متعلّق) غور و فکر کریں (اور سرکشی سے باز آجائیں) ۔
مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی تشریح و توضیح رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی زبان اقدس سے ہوگی لیکن اس تشریح و توضیح کا نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہوگا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم وہ ہی تشریح و توضیح فرما ئیں گے جو اللہ تعالیٰ آپ کو بتائے گا۔ قرآن مجید کی تشریح و توضیح رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی طرف سے نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی ہوگی۔ مندرجہ بالا آیت اور آیت زیرِتفسیر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی جو تشریح و توضیح احادیث میں بیان ہوئی ہے وہ سب منجانب اللہ اور منزل من اللہ ہے۔ قرآن مجید بھی وحی ہے اور احادیث بھی وحی ہیں۔ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں اور احادیث میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کے احکام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے جو احکام ان دونوں میں بیان کیے گئے ہیں ان کی اطاعت فرض ہے۔اطاعت اور اتباع کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
مثلاً اگر قرآن مجید نے نماز کے قیام کا حکم دیا تو نماز کا قیام فرض ہو گیا اسی طرح اگر حدیث نے پانچ اوقات کی نماز کا حکم دیا تو پانچ۵ اوقات کی نماز فرض ہو گئی۔
اگر قرآن مجید نے مسجد الحرام کی طرف منھ کرنے کا حکم دیا اور حدیث نے اس کی تشریح یہ کی کہ نماز میں مسجد الحرام کی طرف منھ کرنا ضروری ہے۔ تو اب نماز میں مسجد الحرام کی طرف منھ کرنا فرض ہو گیا۔ اگر حدیث قرآن مجید کے حکم کہ مسجد الحرام کی طرف منھ کر لو کی تشریح نہ کرتی تو قرآن مجید کے حکم پر عمل کرنا ناممکن ہوتا۔ الغرض قرآن مجید کی جتنی حفاظت ضروری ہے اتنی ہی حفاظت حدیث کی بھی ضروری ہے۔ محض قرآن مجید کے الفاظ کی حفاظت سے اللہ تعالیٰ کا منشا پورا نہیں ہوگا اور جب اللہ تعالیٰ کا منشا پورا نیںا ہو گا تو قرآن مجید کا نزول بے مقصد ہو جائے گا اور یہ نہیں ہو سکتا۔ دین کو جب ہی محفوظ کہا جا سکتا ہے جب کہ حکم اور اس کی تشریح دونوں محفوظ ہوں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ قرآن مجید بھی محفوظ اور حدیث بھی محفوظ ہے فللّٰہ الحمد۔
عمل
اے ایمان والو! قرآن مجید کو بھی وحی ماینے اور اس کی تشریح یعنی حدیث کو بھی وہ ہی مانیے۔
اے ایمان والو! قرآن مجید پڑھنے والے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید نہ پڑھا کیجیے بلکہ جب قرآن مجید پڑھا جائے تو غورسے اسے سنا کیجیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّڪُمْ تُرْحَمُوْنَ۲۰۴
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۲۰۴) اور (اے ایمان والو) جب قرآن پڑھا جائے تو خاموش رہا کرو اور اسے غور سے سنا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
ترجمہ: (اے لوگو، آخرت میں تمھاری خواہش کے مطابق) ہرگز نہیں (ہو گا) بلکہ (اس لیے کہ) تم دنیا سے محبّت کرتے ہو۲۰ اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۲۱ اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ ہوں گے۲۲ وہ اپنے ربّ کو دیکھ رہے ہوں گے۲۳ اور بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۲۴ وہ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان پر کوئی بڑی آفت آنے والی ہے جو ان کی کمر توڑ دے گی۲۵ (کوئی انسان اپنے ربّ کے سامنے حساب وکتاب کےلیے پیش ہونے سے) ہرگز نہیں (بچ سکتا، سنو) جب (جان) ہنسلی تک پہنچ جائے گی۲۶ لوگ کہیں گے کیا کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟۲۷ لیکن وہ (مرنے والاشخص) یہ خیال کر رہا ہو گا کہ فِراق (کا وقت) آ پہنچا (اب جھاڑ پھونک سے کیا ہو گا)۲۸ (جان کنی کے عالَم میں) پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۲۹ تو (اے انسان) اس دن تجھے اپنے ربّ کی طرف چلنا ہو گا۳۰ (لیکن افسوس انسان کو کیا ہو گیا ہے موت کا منظر وہ اکثر دیکھتا رہتا ہے) پھر بھی نہ تو (قیامت کی) تصدیق کرتا ہے اور نہ نماز پڑھتا ہے۳۱ بلکہ (قیامت کو) جھٹلاتا ہے اور منھ پھیر لیتا ہے۳۲ پھر اکڑتا ہوا اپنے گھروالوں کی طرف چل دیتا ہے۳۳ (تو اے انسان، تیری ان حرکتوں کی وجہ سے) تیرے لیے خرابی پر خرابی ہے۳۴ (اے انسان) پھر (سن لے) تیرے لیے خرابی پر خرابی ہے۳۵ کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا (اسے حساب و کتاب کےلیے زندہ نہیں کیا جائے گا)۳۶ (اس کا دوبارہ زندہ کرنا ہمارے لیے کیا مشکل ہے) کیا وہ نطفے کا ایک قطرہ نہیں تھا جو (رحمِ مادر میں) ٹپکایا گیا تھا۳۷ پھر وہ گوشت کا لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو بنایا اور (اس کے اعضا کو) درست کیا۳۸ پھر اس کی دو۲ جنسیں بنائیں (یعنی) مرد اور عورت۳۹ کیا (جس ہستی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کر دیا) وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو (دوبارہ) زندہ کر دے ۴۰
معانی و مصادر: (عَاجِلَةٌ) عَجِلَ، يَعْجَلُ، عَجَلٌ، عَجَلَةٌ (س) جلدی کرنا۔ (عَاجِلَةٌ = جلدی کرنے والی، دنیا)
(نَاضِرَةٌ) نَضَرَ، يَنْضُرُ، نَضْرٌ و نَضْرَۃٌ و نَضَرٌ و نُضُوْرٌ و نَضَارَةٌ (ن، س، ک) تر و تازہ اچّھا اور خوب صُورت ہونا۔(نَاضِرَةٌ = تروتازہ اور خوب صُورت)
(بَاسِرَةٌ) بَسَرَ، يَبْسُرُ، بَسْرٌ و بُسُوْرٌ (ن) تیوری چڑھانا ، منھ بگاڑنا ۔
(فَاقِرَةٌ) فَقَرَ، يَفْقُرُ ، فَقْرٌ (ن ، ض) کھونا، ٹکڑے کرنا۔ (فَاقِرَةٌ = شدید آفت جس سے پیٹھ کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں)
(تَرَاقِیْ) تَرَاقِیْ = تَرْقُوْةٌ کی جمع ، ہنسلیاں ۔
(رَاقٍ) رَقٰى، يَرْقِىْ، رَقْیٌ و رُقِیٌ و رُقْيَةٌ (ض) منتر پڑھنا۔ (رَاقٍ = منتر پڑھنے والا، جھاڑ پھونک کرنے والا)
(فِرَاقٌ) فَرَقَ، يَفْرُقُ، فَرَقٌ و فُرْقَانٌ (ن) علاحدہ کرنا، مانگ نکالنا۔
فَارَقَ، يُفَارِقُ، مُفَارَقَةٌ و فِرَاقٌ (باب مفاعله) ایک دوسرے سے علاحدہ ہونا۔ (فِرَاقٌ= جدائی)
(اِلْتَفَّتْ) اِلْتَفَّ، يَلْتَفُّ، اِلْتِفَافُ (باب افتعال) لپٹنا، جمع ہونا ۔
(مَسَاقٌ) سَاقَ، يَسُوْقُ، سَوْقٌ وسِيَاقٌ و سِيَاقَةٌ و مَسَاقٌ (ن) ہانکنا، بیان کرنا۔
(يَتَمطّٰی) تَمَطّٰى، يَتَمَطّٰى، تَمْطِّىْ (باب تفعل) لمبا ہونا، اترانا ۔
(اَوْلٰی) اَوْلٰی = افسوس۔
(سُدًی) اَسْدٰی، يُسْدِىْ، اِسْدَاءٌ (باب افعال) مہمل و بےکار کرنا۔(سُدًی=بےکار)
(يُمْنٰى) اَمْنٰى، يُمْنِىْ، اِمْنَاءٌ (باب افعال) انڈیل نا، ٹپ کانا۔
تفسیر: قیامت کا ذِکر چل رہا تھا کہ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کوحکم دیا کہ جب وحی نازل ہو رہی ہو تو ساتھ ساتھ نہ پڑھا کریں بلکہ خاموشی کے ساتھ سنتے رہیں۔ اس حکم کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر قیامت کا ذِکر جاری کرتے ہوئے فرمایا (كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ) (اے مجرمو! قیامت کے روز تمھاری خواہش کے مطابق) ہر گز نہیں (ہوگا خواہ تم کتنے ہی عذر اور بہانے پیش کرو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ) تم دنیا سے محبّت کرتے ہو (وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ) اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو (آخرت کے لیے کوئی جدّ و جہد نہیں کرتے) (وُجُوهٌ يَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ) اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ ہوں گے (اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ) وہ اپنے ربّ کو دیکھ رہے ہوں گے (دیدارِ الٰہی کے فیض سے مسرور ہوں گے، ان کے چہرے با رونق ہوں گے)۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز نیک لوگ اللہ تعالی کا دیدار کریں گے اور یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس نعمت کی خوشی سے ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ النَّاسَ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَرٰى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّوْنَ فِی الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالُوْا لَا يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ فَهَلْ تُضَارُّوْنَ فِی الشَّمْسِ لَيْسَ دُوْنَهَا سَحَابٌ، قَالُوا لَا يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ فَاِنَّكُمْ تَرَوْنَهٗ
(صحیح بخاری کتاب التوحيد باب وكان عرشه على الماء جزء ۹ صفحہ ۱۵۶، حديث : ۷۴۳۷ / ۷۰۰۰، وصحيح مسلم حديث : ۷۴۳۸ / ۲۹۶۸)
لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسولؐ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے ربّ کو دیکھیں گے؟ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمھیں کوئی دقّت ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسولؐ! نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کیا سورج کو دیکھنے میں جب کہ اس کے نیچے بادل نہ ہو تمھیں کوئی دقّت ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسولؐ! نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا تو پھر بے شک اللہ کو (بھی اسی طرح بغیر دقّت کے) دیکھو گے۔
غرض یہ کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا۔ اس دیدار کے فیض اور اپنے اعمال کی جزا سے نیک لوگوں کے چہرے بڑے مسرور ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ۸ لِسَعْیِهَا رَاضِیَةٌ۹
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ: ۸۸، آیت : ۸تا۹)
بہت سے (آدمیوں کے) چہرے اس دن (نعمتوں میں) شاداں و فرحاں ہوں گے۔ وہ اپنی کوشش (کے اجر و ثواب) سے راضی ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ مُّسْفِرَةٌ۳۸ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ۳۹
(سُوْرَۃُ عَـبَسَ: ۸۰، آیت : ۳۸ تا ۳۹)
بہت سے چہرے اس دن چمک رہے ہوں گے۔ خنداں و شاداں ہوں گے۔
آگے فرمایا (وَوُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ) بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (تَظُنُّ اَنْ يُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ) وہ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان پر کوئی بڑی آفت آنے والی ہے جو ان کی کمر توڑ دے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌ۴۰ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ۴۱ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۴۲
(سُوْرَۃُ عَـبَسَ: ۸۰، آیت : ۴۰تا۴۲)
بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔ ان پر سیاہی چھا رہی ہو گی۔ یہ (چہرے) کافر وں، بدکاروں کے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ،فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ،اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِڪُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۱۰۶ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ،هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۱۰۷
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۰۶تا۱۰۷)
جس دن بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے، جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ (پھر ان سے کہا جائے گا) جو کفر تم کرتے رہے تھے اب اس کے عذاب کا مزا چکھو۔ اور جن لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں (شاداں و فرحاں) ہوں گے (اور) اس رحمت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
کمر توڑ دینے والی آفت دوزخ کا عذاب ہے۔ دوزخ کے متعلّق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُ۲۸ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ۲۹
(سُوْرَۃُ الْمُدَّثِّرِ: ۷۴، آیت : ۲۸تا۲۹)
وہ (ایک آگ ہے جو) نہ (کھال) باقی رکھے گی اور نہ (بغیر جلائے) چھوڑے گی۔ (وہ آگ انسانوں کی) کھالوں کوجھلس ڈالے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّهَا لَاِحْدَی الْڪُبَرِ۳۵
(سُوْرَۃُ الْمُدَّثِّرِ: ۷۴، آیت : ۳۵)
وہ (دوزخ تو) بڑی (آفتوں) میں سے ایک (بہت) بڑی (آفت) ہے۔
آگے فرمایا (كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ) (کوئی انسان اپنے ربّ کے سامنے حساب و کتاب کے لیے پیش ہونے سے) ہرگز نہیں (بیچ سکتا، سنو) جب (جان) ہنسلی تک پہنچ جائے گی (وَقِيلَ مَنْ رَّاقٍ) لوگ کہیں گے کیا کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے (جو اس کا علاج کرے) (وَظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ) لیکن وہ (مرنے والا شخص) یہ خیال کر رہا ہو گا کہ فراق (کا وقت) آپہنچا (اب جھاڑ پھونک، علاج معالجے سے کیا ہو گا)۔ (وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ) (جان کنی کے عالَم میں) پنڈلی سے پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ (اِلٰی رَبِّكَ يَوْمَئِذِ نِ الْمَسَاقُ) تو (اے انسان) اس دن تجھے اپنے ربّ کی طرف چلنا ہوگا (پھر تجھ سے حساب لیا جائے گا، تو حساب سے بچ نہیں سکتا، موت حساب ہی کا پیش خیمہ ہے۔ اے انسان تجھے یقین ہے کہ موت آکر رہے گی تو پھر یہ بھی تو یقین کرلے کہ تیرا حساب و کتاب ہوگا، موت تو پیدا ہی اس لیے کی گئی ہے کہ تیرے عملوں کی جانچ پڑتال ہو)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَڪُمْ اَیُّڪُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا، وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ۲
(سُوْرَۃُ الْمُلْـكِ: ۶۷، آیت : ۲)
(وہ ہی ہے) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں کون اچّھے عمل کرتا ہے اور (اے لوگو) وہ بہت زبردست اور بڑا بخشنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ۸۳ وَ اَنْتُمْ حِیْنَىِٕذٍ تَنْظُرُوْنَ۸۴ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْڪُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ۸۵ فَلَوْ لَاۤ اِنْ ڪُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ۸۶ تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۸۷
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۸۳تا۸۷)
تو جب روح گلے میں پہنچ جاتی ہے (اسے روکتے) کیوں نہیں۔ حالاں کہ تم اس وقت (مرنے والے کو) دیکھتے رہتے ہو (لیکن کر کچھ نہیں سکتے)۔ اور ہم تم سے زیادہ اس (مرنے والے) کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔ تو اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو تو (اپنی طاقت کا مظاہرہ) کیوں نہیں (کرتے)۔ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچّے ہو تو اس (روح) کو لوٹا (کیوں نہیں) لیتے۔
الغرض انسان کو چاہیے کہ حساب و کتاب پر ایمان لائے۔ موت تو آتی ہی اس لیے ہے کہ انسان کو حساب و کتاب کے لیے پیش کیا جائے۔ انسان کو کیا ہو گیا ہے کہ موت کا منظر وہ اکثر دیکھتا رہتا ہے پھر بھی (فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰى) نہ تو (رسولوں کی تصدیق کرتا ہے اور نہ قیامت کی) تصدیق کرتا ہے اور نہ نماز پڑھتا ہے(وَلٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰی) بلکہ (رسولوں کو اور قیامت کو) جھٹلاتا ہے اور (حق سے) منھ پھیر لیتا ہے(ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰی) پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیتا ہے (اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى)تو اے انسان تیری ان حرکتوں کی وجہ سے تیری خرابی پر خرابی ہے (ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰی)(اے انسان) پھر (سن لے) تیرے لیے خرابی پر خرابی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وَیْلٌ لِّلْڪٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِ۲
(سُوْرَۃُ اِبْرَاھِیْمَ: ۱۴، آیت : ۲)
اور (اے رسول) اگر یہ لوگ اللہ کے راستے پر نہ آئیں تو (ایسے) کافروں کےلیے شدید عذاب کے باعث (بڑی) خرابی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۳۷
(سُوْرَۃ ُ مَرْیَمِ : ۱۹، آیت : ۳۷)
تو جو لوگ کافر ہیں ان کو بڑے دن حاضر ہونے کی جگہ (بڑی) تباہی و بربادی ہے۔
رسولوں کی تصدیق آخرت میں بڑے درجات کا سبب ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ اَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَيُوْنَ اَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا يَتَرَاءَيُوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّیَّ الْغَابِرَ فِی الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ اَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ، قَالُوا يَا رَسُوْلَ اللهِ، تِلْكَ مَنَازِلُ الْاَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ، قَالَ بَلٰى: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِيَدِهٖ رِجَالٌ اٰمَنُوْا بِاللهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِيْنَ
(صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب جاء فى صفة الجنة جزء ۴ صفحہ ۱۴۵، حديث : ۳۲۵۶ / ۳۰۸۳، وصحيح مسلم حديث : ۷۱۴۴ / ۲۸۳۱)
جنّتی اپنے اوپر بالا خانوں کے مکینوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم مشرق یا مغرب کے افق میں باقی رہ جانے والے تارے کو دیکھتے ہو، یہ اس لیے کہ ان کے درجات میں فرق ہو گا (بالا خانہ خانوں کے لوگوں کا درجہ بلند ہوگا)۔ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہ (انبیا علیہم السّلام) کے گھر ہوں گے، ان کے علاوہ کوئی اور ان میں نہیں پہنچ سکے گا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کیوں نہیں، جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی (وہ بھی ان بالاخانوں میں ہوں گے)۔
آگے فرمایا (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًی) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا (اس سے حساب و کتاب نہیں لیا جائے گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ۱۱۵ فَتَعٰلَی اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ،لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ،رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ۱۱۶ وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ،لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ،فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ،اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْڪٰفِرُوْنَ۱۱۷
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۱۱۵تا۱۱۷)
(اے لوگو) کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمھیں بےکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے۔ اللہ، بادشاہِ حقیقی (فضول کام کرنے سے) بلند و بالا ہے، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ عزّت والے عرش کا مالک ہے۔ اور (اے لوگو) جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو پکارے جس کےلیے اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو اس کا حساب اس کے ربّ کے ہاں ہی ہو گا، بےشک کافر فلاح نہیں پا سکتے۔
آگے فرمایا (اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ يُّمْنٰى) (انسان کا دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لیے کیا مشکل ہے) کیا ابتدا میں وہ نطفہ کا ایک قطرہ نہیں تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا گیا تھا (ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰی) پھر وہ گوشت کا لوتھڑا بنا پھر (اللہ نے) اسے (انسان) بنادیا اور اس (کے اعضا) کو درست کیا (فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْأُنْثٰى) پھر (اللہ نے) اس کی دو۲ جنسیں بنائیں (یعنی) مرد اور عورت۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ۷ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍ۸ ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ،قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۹ وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ،بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ۱۰ قُلْ یَتَوَفّٰىڪُمْ مَّلَڪُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُڪِّلَ بِڪُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّڪُمْ تُرْجَعُوْنَ۱۱
(سُوْرَۃ ُالٓـمّٓ تَنْزِیْلُ: ۳۲، آیت : ۷تا ۱۱)
(وہ ہی ہے) جس نے ہر چیز کو (بہت) اچّھا بنایا اور (اُسی نے) اس کو پیدا (بھی) کیا اور اُسی نے انسان کی پیدائش کو مٹّی سے شروع کیا۔ پھر ایک حقیر پانی کے خلاصے سے اس کی نسل کو پیدا کیا۔ پھر اُسی نے اس کی درستی اور اصلاح کی اور اس میں اپنی رُوح پھونک دی پھر اُسی نے (اے لوگو) تمھارے کان (تمھاری) آنکھیں اور (تمھارے) دِل بنائے مگر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ اور (اے رسول) یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں نیست و نابود ہو جائیں گے تو کیا ہم ازسرِنو پیدا ہوں گے، (آپ کہہ دیجیے کہ ضرور ایسا ہو گا، لیکن اے رسول، یہ لوگ مانیں گے نہیں اس لیے کہ یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کے نہیں) بلکہ (اصل میں) اپنے ربّ کی ملاقات کے منکر ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرّر کیا گیا ہے تمھاری رُوح قبض کرے گا پھر تم اپنے ربّ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ۱۲ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّڪِیْنٍ۱۳ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا،ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ،فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ۱۴ ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَ۱۵ ثُمَّ اِنَّڪُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ۱۶
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۱۲تا ۱۶)
اور (اے رسول) ہم نے انسان کو مٹّی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس کو نطفے کی شکل میں ایک محفوظ مقام میں رکھا۔ پھر نطفہ کا لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی، پھر بوٹی کی ہڈّیاں بنائیں، پھر ہڈّیوں پر گوشت چڑھایا، پھر ہم نے اس کو (بالکل ہی) دوسری مخلوق کی شکل میں بنا دیا، (واقعی) اللہ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے (بہت) بابرکت ہے۔ پھر اس (پیدائش) کے بعد تم ضرور (ایک دن) مرنے والے ہو۔ پھر قیامت کے دن تم (دوبارہ) زندہ کیے جاؤ گے۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے دلائل سے ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ جب وہ کچھ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنَ يُّحیَ الْمَوْتٰى) کیا (جس ہستی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا) وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو (دوبارہ) زندہ کر دے ( کیوں نہیں، وہ یقیناً قادر ہے کہ مُردوں کو دوبارہ زندہ کر دے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۷۷ وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ،قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ۷۸ قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ،وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ۷۹
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت : ۷۷ تا ۷۹)
کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفۂ (ناچیز) سے پیدا کیا پھر بھی وہ برملا (ہم سے) جھگڑتا ہے۔ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے، کہتا ہے جب ہڈّیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو انھیں کون زندہ کرے گا۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے ان (ہڈّیوں) کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، وہ ہر طرح پیدا کرنا جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ڪُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا۴۹ قُلْ ڪُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًا۵۰ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَڪْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ، فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا، قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ، فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی هُوَ، قُلْ عَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا۵۱
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت : ۴۹ تا ۵۱)
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر) ہڈّیاں ہو جائیں گے اور پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم کو ازسرِنو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ تم پتّھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا وہ چیز بن جاؤ جو تمھارے خیال میں بڑی (ہی سخت) ہو (غرض یہ کہ تم کچھ بھی بن جاؤ، تم دوبارہ ضرور زندہ کیے جاؤ گے) تو یہ (فورًا) کہیں گے ہمیں دوبارہ کون زندہ کرے گا، (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ وہ (زندہ کرے گا) جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا تو (یہ جواب سن کر) یہ لوگ مذاقًا آپ کے سامنے سر مٹکائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہو گا آپ کہہ دیجیے کہ شاید (مستقبل) قریب ہی میں ہو جائے۔
عمل
اے لوگو! دنیا سے محبّت نہ کیجیے۔ آخرت سے محبّت کیجیے۔ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے لہٰذا آخرت میں کامیابی کے لیے جدّ و جہد کیجیے۔
موت ایک دن آنی ہے اور ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے لہٰذا اے لوگو! اس حساب کے لیے تیّاری کیجیے۔ یہ خیال نہ کیجیے کہ آپ کو بغیر حساب و کتاب کے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا۔ نہیں، ایسا نہیں ہوگا حساب و کتاب ضرور ہوگا۔
اے لوگو! جس اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلی بار پیدا کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ آپ کو دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔
اے لوگو! آپ ضرور دوبارہ پیدا کیے جائیں گے اور پھر آپ کا حساب و کتاب ہو گا، لہٰذا خوابِ غفلت میں نہ رہیے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے اور نیک عمل کرتے رہیے۔