Surah-Alam Nash-rah
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۹۴ – سُوْرَۃُ اَلَمْ نَشْرَحْ –
فہرستِ مضامین
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان، بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۱ وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَڪَ۲ اَلَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ۳ وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَڪَ۴ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۵ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۶ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ۷ وَ اِلٰی رَبِّڪَ فَارْغَبْ۸
ترجمہ: (اے رسول) کیا ہم نے آپ کےلیے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا۱ اور ہم نے آپ پر سے آپ کا بوجھ اتار دیا۲ جس سے آپ کی کمر ٹُوٹی جا رہی تھی۳ اور ہم نے آپ کےلیے آپ کے ذِکر کو بلندی عطا فرمائی۴ بےشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۵ یقینًا ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۶ تو جب آپ (رسالت کے فرائض سے) فارغ ہوا کریں تو (عبادت کےلیے) محنت کیا کریں۷ اور اپنے ربّ سے لَو لگایا کریں۸
معانی و مصادر: (نَشْرَحْ) شَرَحَ، يَشْرَحُ، شَرْحٌ (ف) کھولنا، واضح کرنا، وسیع کرنا، پاکیزہ کرنا۔
(وَضَعْنَا) وَضَعَ، يَضَعُ، وَضْعٌ (ف) ذلیل کرنا، ہٹانا، اتار دینا۔
(وِزْرٌ) وَزَرَ، يَزِرُ، وِزْرٌ (ض) اٹھانا۔ (وِزْرٌ=بوجھ)۔
(اَنْقَضَ) اَنْقَضَ، يُنْقِضُ، اِنْقَاضٌ (باب افعال) پیٹھ کو اس طرح توڑنا کہ آواز نکلے، بوجھل ہونا۔
(عُسْرٌ) عَسِرَ، يَعْسَرُ، عسْرٌ و عُسْرٌ وعَسَرٌ (س) مشکل ہونا۔
(يُسْرٌ) يُسُرَ، يَيْسُرُ، یَسَرٌ و یَسْرٌ (ک) آسان ہونا۔
يَسْرَ، یَيْسَرُ، يَسَرٌ (س) آسان ہونا ۔
(فَرَغْتَ) فَرَغَ، يَفْرَغُ و فَرِغَ، يَفْرَغُ، فَرَاغٌ و فُرُوْغٌ (ف،س) فارغ ہونا۔
(اِنْصَبْ) نَصِبَ، يَنْصَبُ، نَصَبٌ (س) تھک جانا ، جدّ و جہد اور محنت کرنا۔
نَصَبَ، يَنْصِبُ، يَنْصُبُ، نَصْبٌ (ن و ض) گاڑنا، پودا لگانا، مقرّر کرنا، تکلیف پہنچانا۔
(اِرْغَبْ) رَغِبَ، يَرْغَبُ، رَغَبٌ و رُغْبٌ و رَغْبَةٌ (س) رغبت کرنا۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ) (اے رسول) کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا (یعنی ہم نے آپ کا شرح صدر نہیں کر دیا، سینہ کو کشادہ نہیں کر دیا، دِل کی تنگی کو دور نہیں کر دیا) (وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ) اور ہم نے آپ پر سے آپ کا بوجھ اتار دیا۔ (اَلَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ) (وہ بوجھ) جس سے آپ کی کمر ٹوٹی جا رہی تھی (یعنی تبلیغ رسالت اور لوگوں کی اصلاح جو ایک بڑی بھاری ذِمّہ داری تھی اور جو ایک بہت ہی مشکل کام تھا ہم نے اس ذِمّہ داری کے بوجھ کو اتاردیا، اب وہ ذِمّہ داری بوجھ نہیں معلوم ہوتی جو کام مشکل تھاوہ آسان ہو گیا۔ آپ خوش دِلی اور سینہ کی فراخی کے ساتھ تمام ذِمّہ داریوں کو پورا کرنے کے قابل ہو گئے۔ اب تبلیغ رسالت آپ کو مشکل معلوم نہیں ہوتی۔ جو ذِمّہ داری آپ پر ڈالی جاتی ہے اب اس سے آپ کا دِل تنگ نہیں ہوتا بلکہ خوش دِلی کے ساتھ آپ اس ذِمّہ داری کو قبول کر لیتے ہیں)۔
موسیٰ علیہ الصّلوۃ والسّلام نے بھی اپنی تمام ذِمّہ داریوں کو احسن طریقہ سے پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر کی دعا فرمائی تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ۲۵ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ۲۶
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۲۵تا۲۶)
موسیٰ نے کہا اے میرے ربّ میرے (اس کام کے) لیے میرا سینہ کھول دے۔ میرے لیے میرے کام کو آسان کر دے۔
موسیٰ علیہ الصّلوۃ والسّلام کی اس دعا سے آیات زیرِ تفسیر کا مطلب صاف سمجھ میں آجاتا ہے یعنی شرح صدر سے مراد یہ ہے کہ تبلیغِ رسالت کا کام آسان ہو جائے۔ آیات زیرِ تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کوتسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے آپؐ کی خاطر، آپؐ کی دِل جمعی کے لیے آپؐ کے سینہ کو فراغ کر دیا تو اب تبلیغِ رسالت کا کام آپؐ کو بوجھ نہیں معلوم ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ، وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا ڪَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ،
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۱۲۵)
تو جس شخص کو اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے تو اس کے سینے کو اسلام کےلیے کھول دیتا ہے اور جس شخص کو گمراہ کرنا (یعنی گمراہ رکھنا) چاہتا ہے تو اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے (اسلام کو قبول کرنا اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے) گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل جائے اس کا راہِ راست پر آنا مشکل نہیں ہوتا لیکن جس کا سینہ اسلام کے لیے کھلے نہیں بلکہ تنگ ہو جائے اس کے لیے راہِ ہدایت قبول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کے لیے رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم کا سینہ کھول دیا تو پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے لیے تبلیغ کا کام آسان ہو گیا۔ اگر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا شرح صدر نہ ہوتا تو واقعی وہ اتنی بڑی ذِمّہ داری تھی کہ پیٹھ اس کے بوجھ کی بمشکل ہی متحمل ہو سکتی تھی۔ اسی ذِمّہ داری کے بوجھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ابتدائے وحی کے وقت حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا۔
لَقَدْ خَشِيتُ عَلٰى نَفْسِیْ
(صحیح بخاری کتاب الوحى باب كيف كان بدء الوحى الى رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم جزء اوّل صفحہ ۳،حديث : ۳ وصحیح مسلم کتاب الایمان باب بدء الوحي الى رسول الله صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم جزء اوّل صفحہ ۷۹،حديث : ۴۰۳ / ۱۶۰)
مجھے اپنی جان کا خوف ہے (کہیں ایسانہ ہو کہ یہ بوجھ میری کمر توڑ دے)۔
اس بوجھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ،وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَڪَّرُوْنَ۲۱
(سُوْرۃُ الْحَشْرِ : ۵۹، آیت : ۲۱)
(اے رسول) اگر اس قرآن کو ہم کسی پہاڑ پر اتارتے تو آپ دیکھتے کہ وہ اللہ کے ڈر سے جُھک جاتا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے، یہ مثالیں ہم اس لیے بیان کر رہے ہیں کہ وہ غور و فکر کریں۔
الغرض تبلیغ رسالت کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے لیے آسان کر دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ کے بے شمار انعامات و احسانات میں سے یہ بھی ایک انعام و احسان تھا جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر کیا۔ آگے فرمایا (وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ) اور ہم نے آپ کے لیے (آپ کی خاطر) آپ کے ذِکر کو بلندی عطا فرمائی ہے (جہاں اللہ تعالیٰ کا ذِکر ہوتا ہے وہاں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کاذِکر بھی ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کا ذِکر ہو اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ذِکر نہ آئے۔ آپؐ پر صلوٰۃ و سلام نہ پڑھا جائے، فرشتے بھی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر صلوٰۃ بھیجتے رہتے ہیں اور ایمان والے بھی صلوٰۃ بھیجتے رہتے ہیں۔ کوئی نماز ایسی نہیں ہوتی جس میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر صلوٰۃ وسلام نہ بھیجا جائے۔ کوئی اذان اور اقامت ایسی نہیں جن میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا نام نامی اسم گرامی نہ لیا جائے)۔
اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر اپنی ایک بیش بہا نعمت کا ذِکر فرمایا۔ آگے فرمایا (فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا) بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے (اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا)[ یقیناً ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے (تبلیغِ رسالت بےشک ایک مشکل کام تھا لیکن اللہ نے اس کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے لیے آسان کر دیا لہٰذا کسی مشکل سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اگر کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس مشکل سے نکل جانے کا راستہ بھی آسان کر دیتا ہے۔ بس صبر و استقامت کی ضرورت ہے)۔
آگے فرمایا (فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ) تو (اے رسول) جب آپ (رسالت کے فرائض سے) فارغ ہوا کریں تو (عبادت کے لیے) محنت کیا کریں (یعنی خوب عبادت کیا کریں) (وَ اِلٰی رَبِّكَ فَارْغَبْ) اور اپنے ربّ سے لَو لگایا کریں۔
رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم عموماً دن کو تبلیغِ رسالت کے فرائض انجام دیا کرتے تھے لہٰذا دن کے وقت آپؐ کو فرصت نہیں ملتی تھی کہ اللہ تعالیٰ سے یکسوئی کے ساتھ لَو لگائیں اور یکسوئی کے ساتھ عبادت کریں۔ اسی مصروفیت کا ذِکر کرتے ہوئے اور پھر یکسوئی کے ساتھ عبادت کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ۱ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا۲ نِصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًا۳ اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا۴ اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا۵ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًا۶ اِنَّ لَڪَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا۷ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّڪَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًا۸
(سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّلِ: ۷۳، آیت : ۱تا۸)
اے کپڑا اوڑھنے والے۔ رات کو قیام کیا کیجیے مگر (ساری رات نہیں) تھوڑی رات۔ (یعنی) آدھی رات یا اس سے کچھ کم۔ یا اس سے کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کیجیے۔ ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری حکم اِلقا کرنے والے ہیں۔ بےشک رات کا جاگنا (نفس کو) شدّت کے ساتھ پامال کرنے اور بات کو استوار رکھنے کا باعث ہوتا ہے۔ دن کے وقت تو آپ بڑی بڑی دیر تک دوسرے کاموں میں مصروف رہا کریں گے۔ (لہٰذا رات کے وقت) اپنے ربّ کے نام کا وِرد کیا کیجیے اور سب کو چھوڑ کر اُس کی طرف متوجّہ ہو جایا کیجیے۔
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّڪَ،عَسٰۤی اَنْ یَّبْعَثَڪَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۷۹
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۷۹)
اور (اے رسول) رات کے وقت بھی کچھ دیر کےلیے نماز کے ساتھ شب بیداری کیا کیجیے، یہ (نماز) آپ کےلیے زائد ہے، ہو سکتا ہے کہ آپ کا ربّ آپ کو مقامِ محمود میں کھڑا کرے۔
اس حکم کی تعمیل میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رات کو بڑی بڑی دیر تک نماز پڑھا کرتے تھے یہاں تک کہ آپؐ کے قدموں پر ورم آجاتا تھا۔
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اِنْ كَانَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُوْمُ لِيُصَلِّیَ حَتّٰى تَرِمَ قَدَمَاهُ اَوْ سَاقَاهُ فَيُقَالُ لَهٗ فَيَقُوْلُ اَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُورًا ۔
(صحیح بخاری ڪتاب الصلوٰۃ باب قیام النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم حتی ترم قدماه جزء ۲ صفحہ ۶۳،حديث : ۱۱۳۰ / ۱۰۷۸،وصحيح مسلم حديث : ۷۱۲۴ / ۲۸۱۹)
رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم بہت لمبا قیام کرتے تھے یہاں تک کہ آپؐ کے قدم یا آپؐ کی پنڈلیاں سوج جاتی تھیں۔ آپؐ سے کہا جاتا تھا (کہ آپؐ اتنا طویل قیام کیوں کرتے ہیں، آپؐ کے تو بڑے درجے ہیں) آپؐ فرماتے کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيْدُ فِیْ رَمَضَانَ وَلَا فِیْ غَيْرِهٖ عَلٰى اِحْدٰى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّیْ اَرْبَعًا فَلَا تَسْئَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَ طُوْلِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّیْ اَرْبَعًا فَلَا تَسْئَلُ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُوْلِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّیْ ثَلَاثًا
(صحیح بخاری ڪتاب الصلوٰۃ باب قيام النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم باللیل فی رمضان وغیرہ جزء۲ صفحہ ۶۷،حديث : ۱۱۴۷ / ۱۰۹۶، وصحيح مسلم حديث : ۱۷۲۳ / ۷۳۸)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رمضان ہو یا اور کوئی مہینہ گیارہ۱۱ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے پہلے آپؐ چار۴ رکعت پڑھتے، کچھ نہ پوچھو کتنی حسین اور طویل ہوتی تھیں پھر آپؐ چار۴ رکعت پڑھتے کچھ نہ پوچھو کتنی حسین اور طویل ہوتی تھیں پھر آپؐ تین۳ رکعت پڑھتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّیْ فِيْمَا بَيْنَ اَنْ يَفْرُ غَ مِنْ صَلوٰةِ الْعِشَآءِ وَهِیَ الَّتِیْ يَدْعُوا النَّاسُ الْعَتَمَةَ اِلَى الْفَجْرِ اِحْدٰى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَ يُوْتِرُ بِوَاحِدَةٍ ۔
(صحیح مسلم كتاب الصلٰوۃ باب صلٰوة الليل وعدد ركعات النبي صلى الله علیه و سلم جزء اوّل صفحہ ۲۹۶،حديث : ۱۷۱۸ / ۷۳۶)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم عشا جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں اور فجر کے درمیان گیارہ۱۱ رکعت پڑھتے تھے۔ ہر دو۲ رکعت پر سلام پھیرتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَتْ صَلٰوةٌ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ عَشَرَ رَكْعَاتٍ وَ يُوْتِرُ بِسَجْدَةٍ
(صحیح مسلم كتاب الصلٰوة باب صلٰوة الليل وعدد ركعات النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم جزء اوّل صفحہ ۲۹۷،حديث : ۱۷۲۷ / ۷۳۸)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رات کو دس۱۰ رکعت پڑھتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ثُمَّ مَضٰى فَقُلْتُ يُصَلِّى بِهَافِیْ رَكْعَةٍ فَمَضٰى فَقُلْتُ يَرْكَعُ بِهَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَآءَ فَقَرَأَ هَا ثُمَّ افْتَتَحَ اٰلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَ هَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا اِذَا مَرَّبِاٰيَةٍ فِيْهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ وَاِذَا مَرَّبِسُؤَالٍ سَاَلَ وَاِذَا مَرَّ بِتَعَوْذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُوْلُ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ فَكَانَ رُكُوْعُهٗ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهٖ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہٗ ثُمَّ قَامَ طَوِيْلًا قَرِيْبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰى فَكَانَ سُجُوْدُهٗ قَرِيْبًا مِنْ قِيَامِهٖ (قَالَ) وَفِیْ حَدِيْثِ جَرِيْرٍ مِنَ الزِّيَادَةٍ فَقَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
(صحیح مسلم کتاب الصلٰوة باب استحباب تطويل القراءة فِی صلاة الليل جزء اوّل صفحہ ۳۱۲،حديث : ۱۸۱۴ / ۷۷۲)
ایک رات کو میں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ نے سورۂ بقرہ پڑھی۔ میں سمجھا سو۱۰۰ آیتیں پڑھ کر رکوع کریں گے لیکن آپ آگے نکل گئے۔ میں سمجھا کہ پوری سورۂ بقرہ ایک رکعت میں پڑھیں گے پھر آپؐ نے سورۂ نسآء شروع کر دی اور اسے ختم کیا پھر سورۂ آلِ عمران شروع کر دی اور اسے پورا پڑھ ڈالا۔ آپؐ بہت آہستہ آہستہ پڑھ رہے تھے۔ جب کسی ایسی آیت پر سے گزرتے جس میں تسبیح کا ذِکر ہوتا تو آپؐ تسبیح پڑھتے، جب کسی سوال پر سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے کی آیت پر سے گزرتے تو پناہ طلب کرتے پھر آپؐ نے رکوع کیا۔ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَّ الْعَظِيْمِ پڑھتے رہے۔ آپؐ کا رکوع قیام کے برابر تھا۔ پھر سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کہا پھر آپؐ بڑی دیر تک کھڑے رہے یہ قیام تقریباً رکوع کے برابر تھا پھر سجدہ کیا اور سُبْحَانَ رَبِّیَّ الْاَعْلٰى پڑھتے رہے۔ آپؐ کا سجدہ تقریباً آپؐ کے قیام کے برابر تھا۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَطَالَ حَتّٰى هَمَمْتُ بِاَمْرِ سَوْءٍ قَالَ قِيْلَ وَمَا هَمَمْتَ بِهٖ قَالَ هَمَمْتُ اَنْ اَجْلِسَ وَاَدَعَہٗ
(صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب استحباب لطويل القراءة فِی صلٰواۃ الليل جزء اوّل صفحہ ۳۱۲،حديث : ۱۸۱۵ / ۷۷۳، وصحيح بخارى حديث : ۱۱۳۵ / ۱۰۸۴)
میں نے (ایک رات) کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ نماز پڑھی آپؐ نے لمبی نماز پڑھی یہاں تک کہ میں نے بُرے کام کا ارادہ کیا۔ (ان سے) کہا گیا: آپ نے کس کام کا ارادہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا میں نے ارادہ کیا تھا کہ بیٹھ جاؤں اور آپ کو چھوڑ دوں۔