Surah `Amma – yatasa`a Luwn
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ۱ عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ۲ اَلَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَ۳ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ۴ ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ۵
ترجمہ: (اے رسول) یہ لوگ آپس میں کس چیز کے متعلّق سوال کرتے ہیں۱ (کیا) بڑی خبر کے متعلّق۲ جس کے (متعلّق) یہ (خود) اختلاف میں مبتلا ہیں۳ (اس کے سلسلے میں ان کی قیاس آرائیاں) ہرگز (صحیح) نہیں، انھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا۴ پھر (سن لو اس دن کےمتعلّق ان کی قیاس آرائیاں) ہرگز (صحیح) نہیں، انھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا۵
معانی و مصادر: (نَبَأٌ) نَبَأَ، يَنْبَأُ، نَبَأٌ، نَبُوْءٌ (ف) مطلع ہونا ، بلند ہونا ، نکلنا۔ (نَبَأٌ= خبر)
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ)(اے رسول) یہ لوگ آپس میں کس چیز کے متعلّق سوال کر رہے ہیں (عَنِ النَّبَاِ الْعَظیْمِ) ( کیا قیامت کی) بڑی (ہولناک خبر کے متعلّق (اَلَّذِىْ هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ)جس کے (متعلّق) یہ خود اختلاف میں مبتلا ہیں (كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ)(اس کے وقوع کے سلسلے میں ان کی قیاس آرائیاں صحیح نہیں اور) ہرگز (صحیح) نہیں، انھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا(ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ) پھر (سن لو، ان کی قیاس آرایاں صحیح نہیں اور) ہرگز (صحیح) نہیں، انھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا (کہ جس چیز کو وہ جھٹلا رہے ہیں وہ حقیقتِ ثابتہ بن کر ان کے سامنے آجائے گی)۔
قیامت کے متعلّق بڑی خبر کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ وہ ایک بڑی آفت ہوگی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ،اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ۱ یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَی النَّاسَ سُكٰرٰی وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰی وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ۲
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۱تا ۲)
اے لوگو! اپنے ربّ سے ڈرو، قیامت کا زلزلہ (بہت) بڑی چیز ہے۔ (اے رسول) جس دن آپ اسے دیکھیں گے (تو آپ دیکھیں گے کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے شیر خوار (بچّے) کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ (نشے میں) مدہوش ہیں حالاں کہ وہ (نشے میں) مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب (اتنا) سخت ہو گا (کہ اس کو دیکھ کر وہ مدہوش ہو جائیں گے)۔
اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے:
یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا،قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ،لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُو، ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً،یَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا،قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَڪْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۱۸۷
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۱۸۷)
(اور اے رسول) یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب واقع ہو گی، آپ کہہ دیجیے اس کا علم تو میرے ربّ کو ہے، وہی اس کو اس کے وقت (مقرّرہ) پر ظاہر کرے گا، (اے لوگو) وہ آسمانوں میں اور زمین میں ایک بڑی بھاری (آفت) ہو گی جو اچانک تم پر واقع ہو جائے گی (اور اے رسول) یہ لوگ (وقوعِ قیامت کے متعلّق) آپ سے اس طرح سوال کرتے ہیں گویا کہ آپ اس سے بخوبی واقف ہیں، آپ کہہ دیجیے اس کا علم تو (صرف) اللہ کو ہے لیکن (بات یہ ہے کہ) اکثر لوگ (اتنی سی بات بھی) نہیں جانتے۔
کفّار قیامت کی تصدیق نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کا آنا حق ہے۔
قیامت کی ہولنا کی بیان کرتے اللہ کے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
تُحْشَرُوْنَ حُفَاةً عَرَاةً غُرُلًا۔
(صحیح بخارى كتاب الرقاق باب كيف الحشر جزء ۸ صفحہ ۱۳۶)
تم (قیامت کے دن) ننگے پیر، ننگے بدن، بے ختنہ کیے ہوئے جمع کیے جاؤ گے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:
يَا رَسُوْلَ اللهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَآءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ فَقَالَ الْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ يُّهِمَّهُمْ ذٰلِكَ
(صحیح بخارى كتاب الرقاق باب كيف الحشر جزء ۸ صفحہ ۱۳۶ حديث : ۶۵۲۷ / ۶۱۶۲ وصحیح مسلم كتاب الجنة باب فناء الدنيا جزء ۲ صفحہ ۵۴۰ حديث : ۷۱۹۸ / ۲۸۵۹)
اے اللہ کے رسول! مرد اور عورت ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپؐ نے فرمایا وہ ایسا سخت وقت ہوگا کہ اس کا خیال بھی کوئی نہیں کرے گا۔
عمل
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے۔ اس کا آنا بالکل یقینی ہے۔
ترجمہ: کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟۶ اور (کیا ہم نے) پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا؟ یقینًا یہ کام ہم ہی نے کیے)۷ اور ہم ہی نے تم کو جوڑے جوڑے بنایا۸ ہم ہی نے تمھاری نیند کو (تمھارے لیے) باعثِ راحت و آرام بنایا۹ ہم ہی نے رات کو لباس (یعنی پردے کی چیز) بنایا۔۱۰ ہم ہی نے دن کو روزی (کمانے کا وقت) بنایا۱۱ ہم ہی نے تمھارے اوپر سات۷ مضبوط آسمان بنائے۱۲ ہم ہی نے (سورج کو) روشن چراغ بنایا۱۳ اور برسنے والے بادلوں سے موسلادھار پانی برسایا۱۴ تاکہ اس کے ذریعے غلّہ اور سبزہ پیدا کریں۱۵ اور گھنے باغ (اگائے)۱۶ بےشک فیصلے کا دن مقرّر ہے۱۷ (یہ وہ دن ہو گا) جس دن صُور پھونکا جائے گا تو لوگ فوج در فوج آموجود ہوں گے۱۸ آسمان کھول دیا جائے گا تو (اس کے کئی) دروازے ہو جائیں گے۱۹ پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو جائیں گے ۲۰
معانی و مصادر: (سُبَاتٌ) سَبَتَ، يَسْبُتُ، سَبْتٌ (ن و ض) ہفتہ کے دن میں داخل ہونا، آرام کرنا، کاٹنا (سُبَاتٌ= راحت)
(مِهٰدٌ) مَهَدَ، يَمْهَدُ، مَهْدٌ (ف) فرش بچھانا۔ (مِهٰدٌ = بچھونا)
(اَوْتَادٌ) وَتَدَ، يَتِدُ، وَتْدٌ، تِدَةٌ (ض) گڑ جانا، گاڑنا۔ (اَوْتَادٌ= وَتَدٌ کی جمع میخیں)
(مَعَاشٌ) عَاشَ، يَعْيِشُ، عَيْشٌ و عِيْشَةٌ و مَعَاشٌ و مَعِيْشَةٌ و مَعِيْشٌ (ض) زندہ رہنا۔(مَعَاشٌ=کھانے پینے کی چیزیں)
(وَهَّاجٌ) وَهَجَ، يَهِجُ، وَهُجٌ و وَهِيْجٌ و وَهَجَانٌ (ض) تپش کا تیز ہونا ، روشن ہونا۔ (وَهَّاجٌ=تپش والا، روشن)
(مُعْصِرَاتٌ) اَعْصَرَ، يُعْصِرُ، اِعْصَارٌ (باب افعال)نچوڑنا۔(مُعْصِرٌ=بادل، نچوڑنے والا)
(ثَجَّاجٌ) ثَجَّ، يَثُجُّ، ثَجٌّ (ن) بہنا۔
ثَجَّ، يَثُجُّ، ثَجٌّ (ن) بہانا۔
(الْفَافٌ) لَفَّ، يَلُفُّ، لَفٌّ (ن) ملانا جمع کرنا۔ (الْفَافٌ= لِفٌّ کی جمع، پتے والے درختوں کے باغ)
(سَرَابٌ) سَرَبَ، يَسْرَبُ، سُرُوْبٌ (ن) جاری ہونا۔
(سَرِبَ) يَسْرَبُ، سَرَبٌ (س) بہنا۔ (سَرَابٌ= ریگستان میں پانی کا دھوکا ہونا)۔
تفسیر: قیامت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی کاریگریوں کی طرف توجہ دِلاتا ہوا فرماتا ہے (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًا) کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ۴۸
(سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰتِ : ۵۱، آیت : ۴۸)
اور ہم ہی نے زمین کو بچھایا اور ہم کتنے اچّھے بچھانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۱۰
(سُوْرَۃُ الزُّخْرُفِ : ۴۳، آیت : ۱۰)
جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا اور اس میں تمھارے لیے راستے بنائے تاکہ تم ان پر چل کر منزلِ مقصود پر پہنچ سکو۔
آگے فرمایا (وَ الْجِبَالَ اَوْتَادًا) اور (کیا ہم نے) پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا،
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۳)
وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا دیا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کیے،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِڪَمْ ،
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۱۵)
اُسی نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے تاکہ زمین تمھیں لے کر کہیں جُھک نہ جائے،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا،
(سُوْرَۃُ حٰمٓ السَّجْدَۃِ : ۴۱، آیت : ۱۰)
اُسی نے زمین میں اس کے اوپر (کی طرف) پہاڑ بنائے،
آگے فرمایا (وَخَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا) اور ہم ہی نے تم کو جوڑے جوڑے بنایا (یعنی ہم نے مرد اور عورت کو پیدا کیا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً،وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ،اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا۱
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۱)
اے لوگو! اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی سے اس کی بیوی کو بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو (پیدا کر کے زمین پر) پھیلا دیا (اے لوگو) اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں (کو قطع کرنے) سے بھی ڈرا کرو (کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی سزا میں تم پکڑے جاؤ) بے شک اللہ تم کو دیکھ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً،اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ۲۱
(سُوْرَۃ ُ الرُّوْمِ: ۳۰، آیت : ۲۱)
اور یہ بھی اُسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے (ایک نشانی) ہے کہ اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور (اُسی نے) تم میں محبّت اور مہربانی کو پیدا کر دیا، اس میں ان لوگوں کےلیے (بہت سی) نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا،
(سُوْرَۃُ فَاطِرٍ : ۳۵، آیت : ۱۱)
اور (اے لوگو) اللہ نے تم کو (پہلے) مٹّی سے پیدا کیا پھر نطفے سے (پیدا کیا) پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا ،
آگے فرمایا (وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا) اور ہم ہی نے تمھاری نیند کو (تمھارے لیے) باعثِ راحت و آرام بنایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ،اِنَّ فِیْ ذٰلِڪَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۲۳
(سُوْرَۃ ُ الرُّوْمِ: ۳۰، آیت : ۲۳)
اور تمھارا رات اور دن کے وقت سونا اور (دن کے وقت) اُس کا فضل تلاش کرنا بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے، ان میں سننے والوں کےلیے بہت سی نشانیاں ہیں۔
آگے فرمایا (وَجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا) اور ہم ہی نے رات کو لباس (یعنی پردے کی چیز) بنایا۔
جس طرح لباس انسان کی ستر پوشی کرتا ہے اسی طرح رات انسان کے بہت سے کاموں پر پردہ ڈال دیتی ہے، جس طرح لباس سردی اور گرمی سے بچاتا ہے اسی طرح رات شور و غل اور ہنگاموں سے بچا کر سکون و راحت بخشتی ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا۴۷
(سُوْرَۃ ُالْفُرْقَانِ: ۲۵، آیت : ۴۷)
اور (اے لوگو) وہی ہے جس نے تمھارے لیے رات کو لباس، نیند کو (باعثِ) راحت و آرام اور دن کو اُٹھ (کر محنت، مزدوری کر) نے کےلیے بنایا۔
آگے فرمایا(وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا)اور ہم نے دن کو روزی (کمانے کا وقت) بنایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَڪُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا، اِنَّ فِیْ ذٰلِڪَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۶۷
(سُوْرَۃُ یُوْنُسَ : ۱۰، آیت : ۶۷)
وہی ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون و راحت حاصل کرو اور دن کو زیادہ روشن بنایا (تاکہ تم اس میں کام کرو)، اس میں ان لوگوں کےلیے جو (خلوص کے ساتھ) سنتے ہیں (توحید کی) بہت سی نشانیاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ،وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا۱۲
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۱۲)
اور (اے رسول) ہم ہی نے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو۲ نشانیاں بنایا ہے پھر ہم ہی رات کی نشانی کو مٹا دیتے ہیں اور دن کی نشانی کو روشن بنا دیتے ہیں تاکہ تم (دن کی روشنی میں) اپنے ربّ کا فضل تلاش کر سکو اور سالوں کی گنتی اور حساب (و کتاب) معلوم کر سکو اور ہم نے تو ہر چیز کو علیٰحدہ علیٰحدہ بیان کر دیا ہے (تاکہ سمجھنے میں الجھن نہ ہو)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ،اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ۷۱ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ،اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۷۲ وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْڪُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۷۳
(سُوْرَۃُ الْقَصَصِ : ۲۸، آیت : ۷۱تا ۷۳)
(اے رسول) آپ (ان سے) پوچھیے بتاؤ اگر اللہ ہمیشہ کےلیے قیامت کے دن تک تم پر رات کر دے تو اللہ کے علاوہ وہ کونسا الٰہ ہے جو تمھارے لیے روشنی لے آئے، تو کیا تم سنتے نہیں (کہ تم سے کیا کہا جا رہا ہے)۔ (اور اے رسول) آپ (ان سے) پوچھیے بتاؤ اگر اللہ ہمیشہ کےلیے یومِ قیامت تک تم پر دن کر دے تو اللہ کے علاہ کونسا الٰہ ہے جو تمھارے لیے رات لے آئے جس میں تم آرام کر سکو تو کیا تم دیکھتے نہیں (کہ تم کہاں بھٹک رہے ہو)؟۔ اور (اے لوگو) اُس نے اپنی رحمت سے تمھارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم (رات کو) آرام کر سکو اور (دن کو) اُس کا فضل تلاش کر سکو اور تاکہ تم (اس نعمت پر) اللہ کا شکر ادا کرو۔
آگے فرمایا (وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا) اور ہم ہی نے تمھارے اوپر سات۷ مضبوط آسمان بنائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا،
(سُوْرَۃُ الْمُلْـكِ: ۶۷، آیت : ۳)
(وہی ہے) جس نے اوپر تلے سات۷ آسمان بنائے ،
آگے فرمایا (وَجَعَلْنَا سِرَ اجًاوَّ هَّاجًا) اور ہم ہی نے (سورج کو) روشن چراغ بنایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً
(سُوْرَۃُ یُوْنُسَ : ۱۰، آیت : ۵)
وہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا۔
آگے فرمایا (وَاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا) اور ہم ہی نے برسنے والے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا (لِنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّاوَّنَبَاتًا) تا کہ اس کے ذریعے ہم غلہ اور سبزہ پیدا کریں (وَ جَنٰتٍ اَلْفَافًا) اور گھنے باغ (اگائے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ،حَتّٰۤی اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ ڪُلِّ الثَّمَرٰتِ،كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۵۷
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۵۷)
وہی ہے جو اپنی رحمت یعنی بارش سے پہلے (بارش کی آمد آمد کی) خوش خبری دینے کےلیے ہواؤں کو بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب وہ (پانی سے بھرے ہوئے) بھاری بادل کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی مُردہ زمین کی طرف ہانک دیتے ہیں، پھر ہم اس (بادل) سے پانی برساتے ہیں، پھر اس (پانی) کے ذریعے ہم (زمین سے) ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں، اسی طرح ہم (قیامت کے دن زمین سے تمام) مُردوں کو نکالیں گے، (ہم اس مثال کے ذریعے تمھیں سمجھا رہے ہیں) تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً،فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا،وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ،اُنْظُرُوْۤا اِلٰی ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ،اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۹۹
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۹۹)
اور (اے لوگو) وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم ہی اس کے ذریعے ہر چیز کے پودے اگاتے ہیں پھر ہم ہی اس سے سرسبز (ٹہنی) پیدا کرتے ہیں پھر ہم ہی اس سے ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گچّھوں میں سے جُھکے ہوئے خوشے، انگور کے باغات، زیتون اور انار جو ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور غیر مشابہ بھی (ہم ہی پیدا کرتے ہیں اور اے لوگو) جب وہ درخت پھل لائے تو اس کے پھل کی طرف (ذرا غور سے) دیکھو اور اس پھل کے پکنے کا بھی مشاہدہ کرو (تم دیکھو گے کہ) ان تمام چیزوں میں ایمان والوں کےلیے (اللہ کی قدرت کی) بہت سی نشانیاں ہیں۔
آیات زیرِ تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کی چند نشانیاں بیان کیں۔ پھر فرمایا (اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا) (جب ہم یہ تمام کام کر سکتے ہیں تو کیا فیصلہ کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتے، یقیناً ہم پیدا کر سکتے ہیں) بے شک فیصلہ کا دن مقرّر ہے (يَوْمَ يُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا) (يہ وه دن ہو گا) جس دن صُور پھونکا جائے گا تو لوگ فوج در فوج آموجود ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ،یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْءٍ نُّكُرٍ۶ خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۷ مُّهْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ،یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۸
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۶تا ۸)
جس دن ایک پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔ (اس دن لوگوں کی) آنکھیں نیچی ہوں گی (وہ اپنی اپنی) قبروں سے اس طرح نکل پڑیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈّیاں ہیں۔ وہ پکارنے والے کی طرف تیزی کے ساتھ بھاگ رہے ہوں گے اور کافر یہ کہتے جا رہے ہوں گے یہ دن (بڑا) سخت ہے۔
آگے فرمایا (وَفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا) اور (اس دن) آسمان کھول دیا جائے گا تو (اس کے کئی) دروازے ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۱)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
آگے فرمایا(وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا)اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ تَڪُوْنُ الْجِبَالُ ڪَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ ۵
(سُوْرَۃُ اَلْقَارِعَۃُ: ۱۰۱، آیت : ۵)
اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اُون۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا۱۰۵
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۵)
اور (اے رسول، لوگ) آپ سے پہاڑوں کے متعلّق سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ میرا ربّ ان کو چُورا چُورا کر دے گا۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا۱۴
(سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّلِ: ۷۳، آیت : ۱۴)
(یہ سزائیں ان کو اس دن ملیں گی) جس دن زمین اور پہاڑ لرزیں گے اور پہاڑ بُھر بُھرے ٹِیلے بن جائیں گے (یعنی یہ سزائیں ان کو قیامت کے دن ملیں گی)۔
الغرض قیامت کے دن پہاڑ دھنکی ہوئی اون کے مانند اڑیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر ریت کے ٹیلوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔
عمل
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے ۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بے شمار نمونے آپ کے سامنے موجود ہیں تو کیا جو اللہ یہ سب کام کر سکتا ہے، وہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا۔ وہ ضرور کر سکتا ہے۔ اسے ہر قسم کی قدرت حاصل ہے۔
ترجمہ: بےشک دوزخ (سرکشوں کی) گھات میں ہے۲۱ سرکشوں کا ٹھکانا وہی ہے۲۲ اس میں وہ سالہا سال تک رہیں گے۲۳ وہاں وہ نہ ٹھنڈک کا مزا چکھیں گے اور نہ پینے کی کسی چیز کا۲۴ سوائے گرم پانی اور بہتی ہوئی پیپ کے (مزے کے)۲۵ ان کو ان (کی بداعمالیوں) کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۲۶ انھیں حساب (و کتاب) کا کوئی ڈر نہیں تھا۲۷ ہماری آیتوں کو شدّت کے ساتھ جھٹلایا کرتے تھے۲۸ ہم نے (ان کی) ہر بات کو لکھ کر محفوظ کر لیا تھا۲۹ تو (اس دن ہم ان سے کہیں گے اپنی بداعمالی کا) مزا چکھو، ہم تم پر کسی چیز کو زیادہ نہیں کریں گے سوائے عذاب کے۳۰
معانی و مصادر: (مِرْصَادٌ) رَصَدَ ، يَرْصُدُ، رَصْدٌ و رَصَدٌ (ن) گھات میں بیٹھنا۔ (مِرْصَادٌ= گھات کی جگہ)
(مَاٰبٌ) آب ، يَئُوْبُ، اَوْبٌ و مَاٰبٌ (ن) لوٹنا ، واپس آنا۔
(لَابِثِيْنَ) لَبِثَ ، يَلْبَثُ، لَبْثٌ ولَبَثٌ و لُبْثُ و لُبَاثٌ و لَبَاثَةٌ (س) رہنا۔
(اَحْقَابٌ) اَحْقَابٌ = حُقُبٌ کی جمع ، سال۔
(حَمِيْمٌ) حَمَّ ، يَحُمُّ ، حَمٌّ (ن) گرم کرنا۔
(غَسَّاقٌ) غَسَقَ، يَغْسِقُ، غَسْقٌ وغُسُوْقٌ (ض)
غَسِقَ، يَغْسَقُ، عَسْقَانٌ(س) بہنا۔ (غَسَّاقٌ= بہتی ہوئی پیپ)
(وِفَاقٌ) وَافَقَ ، يُوَافِقُ ، مُوَافَقَةٌ و وِفَاقٌ (باب مفاعلہ) موافق کرنا ، موافق ہونا۔
(كِذَّابًا) كَذَبَ، يَكْذِبُ، كَذِبٌ و كِذْبٌ وكِذْبَةٌ وكَذْبَةٌ و كِذَابٌ و كِذَّابٌ (ض) جھوٹ بولنا، غلط بیانی کرنا، توریہ کرنا، خطا کرنا۔
تفسیر: قیامت کا دن آنے والا ہے، اس دن فرمان برداروں اور سرکشوں کے درمیان فیصلہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا) بے شک دوزخ گھات میں ہے (لِلطَّاغِيْنَ مَاٰبًا) سرکشوں کا ٹھکانا وہی ہے (لٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًا) اس میں وہ سالہاسال رہیں گے۔(لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدً اوَّلَا شَرَابًا) (وہاں) نہ ٹھنڈک کا مزا چکھیں گے اور نہ پینے کی کسی چیز کا (اِلَّا حَمِیْمًاوَّ غَسَّاقًا) سوائے گرم پانی اور بہتی ہوئی پیپ (کے مزے) کے (جَزَآءً وِّفَاقًا) ان کو ان (کی بداعمالیوں) کا بدلہ ان (کی بداعمالیوں) کے موافق دیا جائے گا (نہ زیادہ ہو گا اور نہ کم، اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں کرے گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا،وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤی اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۱۶۰
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۱۶۰)
اور جو شخص ایک بُرائی لے کر آئے گا اس کو ایک ہی بُرائی کی سزا ملے گی اور ان پر (کسی قسم کا) ظلم نہیں کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلْیَوْمَ تُجْزٰی كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ،لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ،اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۱۷
(سُوْرَۃُ حٰـمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۱۷)
(قیامت کے دن کہا جائے گا) آج ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، آج (کسی پر) ظلم نہیں ہو گا، بےشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْـًٔا،وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا،وَ كَفٰی بِنَا حٰسِبِیْنَ۴۷
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۴۷)
اور (اے رسول) قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازوئیں قائم کریں گے لہٰذا کسی پر ذرا سا بھی ظلم نہیں ہو گا، اگر (کسی نے) رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل کیا ہو گا ہم اسے (ترازو میں) لاکر رکھ دیں گے اور ہم حساب لینے کےلیے کافی ہیں۔
آگے فرمایا (اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًا) (یہ سرکش لوگ جن کو دوزخ میں ڈالا جائے گا وہ ہوں گے) جنھیں حساب (و کتاب) کا کوئی ڈر نہیں تھا (انھیں قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے اور حساب دینے پر ایمان نہیں تھا) (وَكَذّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًا) ہماری آیتوں کو شدّت کے ساتھ جھٹلایا کرتے تھے (وَكُلَّ شَیْءٍ اَحْصَيْنٰهُ كِتٰبًا) ہم نے (ان کی) ہر بات کو لکھ کر محفوظ کر لیا تھا۔ (ان کا کوئی عمل ایسا نہیں ہوگا جو غیر محفوظ ہو اور اس کی سزا ان کو نہ دی جائے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وُضِعَ الْڪِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا ڪَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا،وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا،وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۴۹
(سُوْرَۃُ الْکَـھْـفِ: ۱۸، آیت : ۴۹)
پھر (اے رسول، ہر ایک کا) اعمال نامہ (اس کے سامنے) رکھ دیا جائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ گناہ گار لوگ جو کچھ اس میں (تحریر) ہو گا اس (کو دیکھ کر اس کی سزا) سے ڈر رہے ہوں گے اور یہ کہہ رہے ہوں گے ہائے افسوس یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑی اور نہ کوئی بڑی بات چھوڑی، سب کو گِن گِن کر محفوظ کر لیا ہے، الغرض جو عمل انھوں نے کیے ہوں گے وہ ان سب کو (اس میں) موجود پائیں گے اور (اے رسول) آپ کا ربّ کسی پر ظلم نہیں کرے گا (بلکہ اس کے اعمال کے مطابق ہی اسے بدلہ دے گا)۔
آگے فرمایا (فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا) (اس دن ہم ان سرکشوں سے کہیں گے اپنی بداعمالی کا) مزا چکھو، ہم تم پر کسی چیز کو زیادہ نہیں کریں گے سوائے عذاب کے (یعنی عذاب بڑھتا رہے گا)۔
عمل
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے ، قیامت آکر رہے گی، حساب و کتاب ہو کر رہے گا ہر سرکش شخص کو اس کی بداعمالی کے موافق سزادی جائے گی اور عذاب میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔
ترجمہ: متّقیوں کےلیے کامیابی ہے۳۱ باغات ہیں اور انگور ہیں۳۲ ہم عمر نوجوان لڑکیاں ہیں۳۳ اور چھلکتے ہوئے جام ہیں۳۴ اس میں نہ وہ کوئی لغو بات سنیں گے اور نہ کوئی جھوٹ۳۵ (اے رسول، انھیں) آپ کے ربّ کی طرف سے (بڑی) کثیر مقدار میں بدلہ دیا جائے گا۳۶ (یعنی) اُس ربّ کی طرف سے (انھیں بدلہ دیا جائے گا) جو آسمانوں کا، زمین کا اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں ان سب کا ربّ ہے (اور جو) بے حد مہربان ہے، (اس دن) لوگ اُس سے بات نہیں کر سکیں گے۳۷ (یہ وہ دن ہو گا) جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف بصف کھڑے ہوں گے، وہ بات نہیں کریں گے مگر ہاں وہ شخص بات کر سکے گا جس کو رحمان اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک کہے۳۸ وہ دن برحق ہے (آکر رہے گا) تو جو شخص چاہے اپنے ربّ کے ہاں اپنا ٹھکانہ بنالے۳۹ (اے لوگو) ہم نے تم کو عنقریب واقع ہونے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے، اس دن ہرشخص اپنے (تمام) اعمال کو دیکھ لے گا جو اس نے آگے بھیج دیے تھے، (اس دن) کافر کہے گا اے کاش!! میں مٹّی ہوتا۴۰
معانی و مصادر: (مَفَازٌ) فَازَ ، يَفُوْزُ، فَوْزٌ (ن) کامیاب ہونا۔ (مَفَازٌ= کامیابی)
(حَدَآئِقُ) حَدَائِقُ=حَدِيْقَةٌ کی جمع، باغ۔
(كَوَاعِبُ) كَعَبَ، يَکْعُبُ، كُعُوْبٌ وكُعُوْبَةٌ و كِعَابَةٌ (ن و ض) لڑکی کی چھاتی ابھرنا۔
(كَوَاعِبُ=كَاعِبٌ کی جمع ، نوجوان لڑکیاں)
(اَتْرَابٌ) اَتْرَابٌ=تِرْبُ کی جمع ، ہم عمر ۔
(دِهَاقٌ) دَھَقَ ، يَدْهَقُ ، دَهْقٌ (ف)بھرنا، پانی بھرنا۔ (دِهَاقٌ=کثیر ، چھلکتا ہوا)
(صَوَابٌ) صَابَ ، يَصُوْبُ، صَوْبٌ ومَصَابٌ (ن) ٹھیک نشانہ پر بیٹھنا، خطا نہ کرنا۔
تفسیر: اوپر کی آیتوں میں سرکش لوگوں کے انجام کا ذِکر تھا۔ ان آیات میں متّقی لوگوں کے اجر وثواب کا ذِکر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا) بے شک متّقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًا) باغات ہیں اور انگور ہیں (وَ كَوَاعِبَ اَتْرَابًا) ہم عمر نوجوان لڑکیاں ہیں(وَ كَاْسًا دِهَاقًا) اور چھلکتے ہوئے جام ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ۱۷ بِاَڪْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ،وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ۱۸ لَا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَ۱۹ وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ۲۰ وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ۲۱وَ حُوْرٌ عِیْنٌ۲۲ كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِ۲۳ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۲۴
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۱۷ تا۲۴)
ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہنے والے لڑکے ان کے پاس آتے جاتے رہیں گے۔ ان کے پاس آب خورے، آفتابے اور بہنے والی شراب کے جام ہوں گے۔ اس (شراب) سے نہ تو دردِ سر ہو گا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی۔ اور (وہاں ان کےلیے) میوے ہوں گے جو وہ پسند کریں۔ اور جس قسم کے پرندوں کا گوشت وہ چاہیں گے انھیں میسّر ہو گا۔ اور (وہاں) بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں (بھی) ہوں گی۔ وہ ایسی ہوں گی جیسے چُھپے ہوئے (آب دار) موتی۔ یہ ان اعمال کا بدلہ ہو گا جو وہ (دنیا میں) کرتے رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ،مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ۲۷ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۲۸ وَ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۲۹ وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۳۰ وَ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ۳۱ وَ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ۳۲ لَا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍ۳۳ وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ۳۴ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءً۳۵ فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا۳۶ عُرُبًا اَتْرَابًا۳۷ لِاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ ۳۸
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۲۷ تا۳۸)
اور داہنے ہاتھ والے، کیا کہنے داہنے ہاتھ والوں کے۔ (وہاں) وہ بغیر کانٹے والی بیریوں میں۔ تہہ بہ تہہ کیلوں (میں)۔ لمبے لمبے سایوں (میں)۔ پانی کے جھرنوں (میں)۔ کثیر میووں (میں)۔ (جو) نہ (کبھی) منقطع ہوں گے اور نہ ان سے (کبھی) روکا جائے گا۔ اونچے اونچے فرشوں (میں عیش کر رہے ہوں گے)۔ (ان چیزوں کے علاوہ انھیں حوریں بھی ملیں گی) ہم نے ان کو پیدا کیا۔ پھر ان کو کنواری بنایا۔ (مزید برآں ہم نے ان کو) پیاری پیاری اور ہم عمر بنا دیا۔ داہنے ہاتھ والوں کےلیے۔
آگے فرمایا (لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَاڪِذّٰبًا) جنّت میں وہ نہ کوئی لغو بات سنیں گے اور نہ کوئی جھوٹ (بات سنیں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًا۲۵ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۲۶
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۲۵ تا ۲۶)
وہاں وہ نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ کوئی گناہ کی بات۔ وہاں تو بس سلام سلام کی آوازیں (آرہی) ہوں گی۔
آگے فرمایا (جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا) (اے رسول) آپ کے ربّ کی طرف سے (انھیں بڑی) کثیر مقدار میں بدلہ دیا جائے گا۔ (رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا) (یعنی) یہ بدلہ ان کو آسمان کے، زمین کے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کے مہربان ربّ کی طرف سے (دیا جائے گا۔ اس دن) لوگ اس سے بات نہیں کر سکیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ،وَ اِنْ تَڪُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا۴۰
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۴۰)
بےشک اللہ (کسی پر) ذرّہ برابر بھی زیادتی نہیں کرے گا، اگر کسی نے نیکی کی ہو گی تو اسے کئی گنا کر دے گا اور اسے اپنے پاس سے اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔
آگے فرمایا (يَوْمَ يَقُومُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا، لَا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا) اس دن روح الامین اور (تمام) فرشتے صف باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ وہ فرشتے بات نہیں کر سکیں گے مگر (ہاں وہ بات کر سکے گا) جس کو رحمٰن اجازت دے اور جو بات ٹھیک کہے۔
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی شخص غلط بات نہیں کہہ سکتا اور نہ بغیر اجازت بول سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا۱۰۹
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۹)
اس دن (کسی کی) سفارش نفع نہیں دے گی سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جس کو رحمٰن نے اجازت دے دی ہو اور جس کی بات کو وہ پسند کرے۔
آگے فرمایا (ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَابًا) وہ دن برحقّ ہے (آکر رہے گا) تو جو شخص چاہے اپنے ربّ کے ہاں اپنا مقام بنالے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ۱ لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ۲
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ: ۵۶ ، آیت : ا تا ۲)
(اے لوگو) جب واقع ہونے والی (یعنی قیامت) واقع ہو گی۔ (اور) اس کے واقع ہونے میں جھوٹ کو کوئی دخل نہیں (وہ ایک حقیقت ہے، ضرور واقع ہو کر رہے گی)۔
قیامت کا دن یقیناً آئے گا، حساب و کتاب یقیناً ہو گا تو اب جو شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنا اچّھا ٹھکانہ بنانا چاہے وہ بنالے، نیک عمل کرے اور تقویٰ اختیار کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍ۵۴ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۵۵
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۵۴ تا۵۵)
بےشک متّقی لوگ باغوں اور نہروں میں (شاداں و فرحاں) ہوں گے۔ بااقتدار بادشاہ کے پاس ایک سچّے (باعزّت) مقام میں۔
آگے فرمایا (اِنَّاۤ اَنْذَرْ نٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا) (اے لوگو) ہم نے تو تم کو (مستقبل) قریب میں آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے (تو اب تم ڈر جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچّھا ٹھکا نہ حاصل کرنے کے لیے نیک عمل کرو) (يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ) اس دن ہر شخص اپنے تمام اعمال کو جو اس نے آگے بھیج دیے تھے دیکھ لے گا (وہ تمام اعمال جو وہ دنیا میں کرتا رہا تھا اس کو نظر آئیں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ۷ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۸
(سُوْرَۃُ اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ: ۹۹، آیت : ۷ تا ۸)
تو جس نے ذرّہ برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اس (نیکی) کو (وہاں) دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرّہ برابر بھی بُرائی کی ہو گی وہ اس (بُرائی) کو (وہاں) دیکھ لے گا۔
آگے فرمایا (وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَيْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا)
اس دن کافر کہے گا اے کاش میں مٹی ہوتا (نہ میرا حساب ہوتا اور نہ کتاب)۔
عمل
اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کیجیے، نیک عمل کر کے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مرتبہ و مقام حاصل کیجیے۔