Surah An – Naziat
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا۱ وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا۲ وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا۳ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۴ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا۵ یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ۶ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ۷ قُلُوْبٌ یَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ۸ اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ۹ یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِ۱۰ ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً۱۱ قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ۱۲ فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۱۳ فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ۱۴
ترجمہ: ان فرشتوں کی قسم جو (بدن میں) گھس کر جان کو کھینچ لاتے ہیں۱ ان فرشتوں کی قسم جو (بآ سانی) سُرعت کے ساتھ (جان) نکالتے ہیں۲ ان فرشتوں کی قسم جو (خلا میں) تیرتے رہتے ہیں۳ پھر (احکامِ الہٰی کی تعمیل میں) سبقت کرتے ہیں۴ پھر امر (اِلہٰی کے سر انجام دینے) کی تدبیر کرتے ہیں۵ (قیامت کا دن آکر رہے گا، یہ وہ دن ہو گا) جس دن زمین میں زلزلہ آئے گا۶ پھر اس (زلزلے) کے بعد ایک اور زلزلہ آئے گا۷ اس دن (لوگوں کے) دِل دھڑک رہے ہوں گے۸ ان کی نظریں جُھکی ہوئی ہوں گی۹ کافر کہتے ہیں کہ کیا ہم پھر پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے ؟۱۰ کیا جب ہم بوسیدہ ہڈّیاں ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کیے جائیں گے)۱۱ کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو یہ لوٹنا بڑا نقصان دہ ہو گا۱۲ (اے رسول، ان کا دوبارہ زندہ کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں ہے) وہ تو بس (ہماری طرف سے) ایک ڈانٹ ہو گی۱۳ (اس کے) واقع ہوتے ہی یہ لوگ (فورًا) میدان (محشر) میں (جمع) ہو جائیں گے۱۴
معانی و مصادر: (نَازِعَاتٌ۔نَازِعَاتِ) نَزَعَ ، يَنْزِعُ، نَزْعٌ (ض) کھینچ لینا، اکھاڑ ڈالنا،(نَازِعَاتٌ = نَازِعَةٌ کی جمع)
(نَاشِطَاتٌ) نَشَطَ ، يَنْشُطُ، نَشْطٌ (ن) گرہ لگانا ، گرہ کھولنا ، نکالنا۔
(سَابِحَاتٌ) سَبَحَ، يَسْبَحُ، سَبْحٌ (ف) تیرنا۔
(تَرْجُفُ) رَجَفَ ، يَرْجُفٌ، رَجُفٌ وَ رَجَفَانٌ و رُجُوْفُ و رَجِيْفٌ (ن) زور سے ہلنا، زور سے ہلانا، زلزلہ آنا۔
(رَادِفَةٌ) رَدَفَ ، يَرْدُفُ، رَدْفٌ (ن و س) پیچھے جانا، سواری پر پیچھے بیٹھنا۔
(وَاجِفَةٌ) وَجَفَ ، يَجِفُ، وَجِيْفُ و وَجْفٌ و وُجُوفٌ (ض) دھڑکنا ۔
(حَافِرَةٌ) حَفَرَ ، يَحْفِرُ ، حَفْرٌ (ض) کھودنا۔ (حافِرَةٌ = پہلی پیدائش)
(نَخِرَةٌ) نَخِرَ، يَنْخَرُ، نَخَرٌ (س) بوسیدہ ہونا۔ (نَخِرَةٌ= نَاخِرَةٌ، بوسیدہ ہونے والی)
(كَرَّةٌ) کَرَّ، یَکُرُّ، کُرُوْرٌ (ن) لوٹنا، پیچھے ہٹ کر حملہ کرنا۔
(سَاهِرَةٌ) سَاهِرَةٌ : زمین، چاند۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا) ان فرشتوں کی قسم جو (بدن میں گھس کر روح کو کھینچ لاتے ہیں (وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا) ان فرشتوں کی قسم جو (بآسانی) سرعت کے ساتھ (روح) نکالتے ہیں (وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا) ان فرشتوں کی قسم جو (فضاء آسمانی) میں تیرتے رہتے ہیں (فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا) پھر (احکامِ الٰہی کی تعمیل میں) سبقت کرتے ہیں (فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا) پھر امر (الٰہی کے سر انجام دینے) کی تدبیر کرتے ہیں(قیامت کا دن آکر رہے گا) (یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ) (یہ وہ دن ہو گا) جس دن زمین میں زلزلہ آئے گا (تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ) پھر اس زلزلے کے بعد ایک اور زلزلہ آئے گا (قُلُوْبٌ یَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ) (اس دن خوف کی وجہ سے لوگوں کے) دِل دھڑک رہے ہوں گے (اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ) (اور) ان کی نظریں جُھکی ہوئی ہوں گی۔
قیامت کا زلزلہ بڑا خوفناک اور شدید ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا۱
(سُوْرَۃُ اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ: ۹۹، آیت : ۱)
جب زمین بڑے زور سے ہلائی جائے گی۔
قیامت کی ہولناکی کا ذِکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ،مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُ۱۸
(سُوْرَۃُ حٰـمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۱۸)
اور (اے رسول) ان کو اس دن سے ڈرائیں جو دن کہ بہت جلد آنے والا ہے، (اس دن) جب دِل (غم سے) گھٹ گھٹ کر گلوں سے آ لگیں گے، ظالموں کا نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا جس کی بات مان لی جائے۔
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِ۱ وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ۲
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ: ۸۸، آیت : ۱تا۲)
(اے رسول) کیا آپ کو چھا جانے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے۔ اس دن بہت سے (آدمیوں کے) چہرے جُھکے ہوئے ہوں گے۔
آگے فرمایا(یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِ) (کافر تعجب سے) کہتے ہیں کیا ہم پھر پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے (ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً) کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کیے جائیں گے)۔
ان کے اس تعجب کا ذِکر کرتے ہوئے ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا،ذٰلِڪَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ۳
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۳)
(اور جب ان سے کہا گیا کہ وہ حساب و کتاب کےلیے پھر زندہ کیے جائیں گے تو انھوں نے تعجّب سے پوچھا) کیا جب ہم مر کر مٹّی ہو جائیں گے؟ (تو دوبارہ زندہ ہوں گے) یہ دوبارہ زندہ ہونا تو بعید (از عقل) ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۱۶ اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ۱۷
(سُوْرَۃُ الصّٰٓـفّٰـتِ: ۳۷، آیت : ۱۶تا۱۷)
(کافر کہتے ہیں) کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹّی اور ہڈّیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم (دوبارہ) زندہ کیے جائیں گے۔ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا (بھی زندہ کیے جائیں گے)۔
آگے فرمایا (قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ) (کافر) کہتے ہیں اگر ایسا ہوا تو یہ لوٹنا بڑا نقصان دہ ہوگا (پھر تو واقعی ایمان نہ لانے کی ہمیں سزا ملے گی لیکن ایسا ہونا مشکل ہے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ) (نہیں مشکل نہیں) وہ تو بس (ہماری طرف سے) ایک ڈانٹ ہوگی(فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ) (اس کے) واقع ہوتے ہی یہ لوگ (فورًا) میدان (محشر) میں (جمع) ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍ۴۱ یَوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ،ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ۴۲ اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُ۴۳ یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا،ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ۴۴
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۴۱ تا۴۴)
اور (اے رسول) سنیے جس دن ایک پکارنے والا نزدیک کے مقام سے پکارے گا۔ جس دن لوگ حق کے ساتھ (اس کی) چیخ کو سن لیں گے، وہ ہی (مُردوں کے زمین سے) نکلنے کا دن ہو گا۔ (اے لوگو) ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف ہی (سب کو) لوٹ کر آنا ہے۔ جس دن زمین ان (کی لاشوں) پر سے پھٹ جائے گی (اور) وہ (قبروں سے نکل کر) تیزی کے ساتھ (میدانِ محشر میں جمع ہو جائیں گے) یہ جمع کر لینا ہمارے لیے آسان ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ،یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْءٍ نُّكُرٍ۶ خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۷ مُهْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ،یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۸
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۶ تا ۸)
جس دن ایک پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔ (اس دن لوگوں کی) آنکھیں نیچی ہوں گی (وہ اپنی اپنی) قبروں سے اس طرح نکل پڑیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈّیاں ہیں۔ وہ (زندہ ہوکر) پکارنے والے کی طرف تیزی کے ساتھ بھاگ رہے ہوں گے اور کافر یہ کہتے جا رہے ہوں گے یہ دن (بڑا) سخت ہے۔
الغرض قیامت کے دن یکے بعد دیگرے دو۲ زلزلے آئیں گے اور ایک بلانے والا کرخت آواز سے بلائے گا اس کے بلاتے ہی (یعنی صُور کی آواز سنتے ہی) سب دوبارہ زندہ ہو کر میدان محشر میں جمع ہو جا ئیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ،ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰی فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ۶۸
(سُوْرَۃُ الزُّمَرِ : ۳۹، آیت : ۶۸)
اور (اے رسول، جب) صُور پھونکا جائے گا تو آسمانوں میں اور زمین میں جتنے بھی ہیں سب پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے گا (کہ بے ہوش نہ ہو) پھر (جب) دوبارہ صُور پھونکا جائے گا تو سب ایک دم (قبروں سے نکل) کھڑے ہوں گے (اورحیران ہو کر ادھر اُدھر) دیکھ رہے ہوں گے۔
عمل
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے۔
ترجمہ : (اور اے رسول) کیا موسیٰ کا قصّہ آپ کو (نہیں) پہنچا۱۵ جب ان کے ربّ نے ان کو ایک مقدّس وادی (یعنی) طویٰ میں پکارا۱۶ (اور کہا اے موسیٰ) فرعون کے پاس جاؤ، اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے۱۷ (اس سے) کہو کیا تو چاہتا ہے کہ (کفر کی گندگی سے) پاک ہو جائے۱۸ اور (کیا) میں تجھے تیرے ربّ کی طرف (جانے والا) راستہ بتاؤں، (ہو سکتا ہے کہ) پھر تو (اپنے ربّ سے) ڈرنے لگے۱۹ پھر انھوں نے اس کو (اپنی نبوّت کی) ایک بڑی نشانی دکھائی۲۰ لیکن اس نے (پھر بھی) جھٹلایا اور (ان کا) کہنا نہ مانا۲۱ پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا اور (ان کو نقصان پہنچانے کی) کوشش کرنے لگا۲۲ پھر اس نے (لوگوں کو) جمع کیا اور (ان کو) آواز دی۲۳ پھر (ان سے) کہا میں تمھارا سب سے بڑا ربّ ہوں۲۴ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کر دیا۲۵ جوشخص (اللہ سے) ڈرتا ہے اس کےلیے اس (قصّے) میں عبرت (کاسامان) ہے۲۶
معانی و مصادر:(نَکَالٌ) نَكَلَ ، يَنكُلُ، نَكْلَةٌ (ن) عبرت ناک سزا دینا۔
تفسیر: کفّارِ مکّہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا مذاق اڑاتے تھے، قیامت کا انکار کرتے تھے۔ ان کو اپنی قوّت پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ۴۴
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۴۴)
(اور اے رسول) کیا یہ کہتے ہیں کہ ہم غالب آنے والی (مضبوط) جماعت ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی عبرت کے لیے فرعون کا قصّہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰی) (اے رسول) کیا موسیٰ کا قصّہ آپ کو (نہیں) پہنچا (اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی) جب ان کے ربّ نے ان کو ایک مقدّس وادی (یعنی) طوٰی میں پکارا۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هَلْ اَتٰىڪَ حَدِیْثُ مُوْسٰی۹ اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْڪُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ هُدًی۱۰ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰی۱۱ اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ،اِنَّڪَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی۱۲
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۹ تا ۱۹)
اور (اے رسول) کیا آپ نے موسیٰ کا واقعہ سنا ہے۔ جب انھوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا تم (یہاں) ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں اس میں سے تمھارے لیے کوئی انگارا لے آؤں یا (وہاں) آگ کے مقام پر (پہنچ کر کسی سے) راستہ معلوم کرلوں۔ پھر جب وہ آگ کے مقام پر پہنچے تو انھیں آواز آئی اے موسیٰ۔ میں تمھارا ربّ ہوں، تم اپنی جوتیاں اتار دو (اس لیے کہ اس وقت) تم طویٰ نامی ایک مقدّس وادی میں ہو۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے طوٰی نامی مقدّس وادی میں موسیٰ علیہ الصّلوۃ و السّلام کو پکارا اور فرمایا (اِذْهَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰی) فرعون کے پاس جاؤ، اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے (اس کو نصیحت کرو تا کہ وہ سیدھے راستے پر آجائے) (فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤی اَنْ تَزَكّٰی) (اس سے) کہو کیا تو چاہتا ہے کہ (کفر کی گندگی سے) پاک ہو جائے (وَ اَهْدِیَكَ اِلٰی رَبِّكَ فَتَخْشٰی) اور کیا میں تجھے تیرے ربّ کی طرف (جانے والا) راستہ بتاؤں (ہو سکتا ہے کہ) پھر تو (اپنے ربّ سے) ڈرنے لگے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰی كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰی۵۰
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۵۰)
فرعون نے کہا اے موسیٰ تم دونوں کا ربّ کون ہے؟ موسیٰ نے کہا ہمارا ربّ وہ ہےجس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کو ہدایت کی (تاکہ وہ ان اَغراض و مقاصد کو پورا کر سکے جس کےلیے وہ پیدا کی گئی ہے)۔
فرعون نے کہا:
قَالَ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ۲۹
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۲۹)
فرعون نے کہا اگر تم نے میرے علاوہ کسی کو الٰہ بنایا تو میں تم کو قید کردوں گا۔
موسیٰ علیہ الصّلوۃ والسّلام نے کہا:
قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍ۳۰
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۳۰)
موسیٰ علیہ الصّلوۃ والسّلام نے کہا اگرچہ میں تیرے سامنے (اپنی صداقت کے ثبوت میں) کوئی واضح چیز ہی کیوں نہ پیش کروں۔
فرعون نے کہا:
قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ ڪُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ۳۱
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۳۱)
فرعون نے کہا اگر تم سچّے ہو تو وہ چیز پیش کرو۔
(فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْڪُبْرٰی) پھر انھوں نے اس کو (اپنی نبوّت کی) ایک بڑی نشانی دکھائی۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَاَلْقٰی عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ۳۲
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۳۲)
موسیٰ علیہ الصّلوۃ والسّلام نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈالی تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ (بالکل) صاف (و صریح) اژدہا ہے۔
(فَڪَذَّبَ وَعَصٰی) فرعون نے (پھر بھی موسیٰ علیہ الصّلوۃ والسّلام کی) تکذیب کی اور (ان کا) کہنا نہ مانا (ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی) پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا اور (ان کو نقصان پہنچانے کی) کوشش کرنے لگا (فَحَشَرَ فَنَادٰی) پھر اس نے (لوگوں کو) جمع کیا اور (ان کو) آواز دی (اے لوگو)(فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰی) پھر (ان سے) کہا میں تمھارا سب سے بڑا ربّ ہوں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ،اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۵۱ اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ،وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ۵۲ فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ۵۳ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ،اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۵۴
(سُوْرَۃُ الزُّخْرُفِ : ۴۳، آیت : ۵۱ تا ۵۴)
پھر (ایک دن) فرعون نے اپنی قوم (کے مجمع) میں کہا اے میری قوم کیا مصر کی بادشاہت کا میں مالک نہیں اور کیا یہ نہریں میرے (محل کے) نیچے نہیں بہہ رہی ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟۔ کیا میں اس شخص سے جو بے عزّت ہے اور جو اچّھی طرح بات بھی نہیں کر سکتا بہتر نہیں ہوں؟۔ (اگر اس کا دعویٰ صحیح ہے) تو اس پر (اللہ کی طرف سے) سونے کے کنگن کیوں نہیں نازل ہوتے یا فرشتے اس کے ساتھ مل کر کیوں نہیں نازل ہوئے۔ الغرض اس نے اپنی قوم کو بے وقوف بنا دیا، قوم کے لوگوں نے اس کی اطاعت کی اور وہ تو تھے ہی فاسق۔
آگے فرمایا (فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰی) پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کر دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ۵۵
(سُوْرَۃُ الزُّخْرُفِ : ۴۳، آیت : ۵۵)
پھر جب ان لوگوں نے ہمیں غصّہ دِلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کر دیا۔
آگے فرمایا (اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰی) جو شخص (اللہ سے) ڈرتا ہے اس کے لیے اس (قصّے) میں عبرت (کاسامان) ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس قصّے سے کفّارِ مکّہ کو تنبیہ کی کہ فرعون جیسے طاقتور بادشاہ کو ہم نے ایمان نہ لانے کی سزا میں تباہ و برباد کر دیا تو تمھاری کیا ہستی ہے۔ تم تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ تمھیں اس قصّے سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اپنے انجام سے ڈر کر ایمان لے آنا چاہیے اور اگر تم نے ایمان قبول نہیں کیا تو تم بھی اسی طرح نیست و نابود کر دیے جاؤ گے جس طرح فرعون نیست و نابود کیا گیا۔
عمل
اے لوگو! اللہ تعالیٰ پر ایمان لایے، ربّ وہ ہی ہے، اس کے علاوہ کوئی ربّ نہیں۔ اپنی قوّت و حشمت پر گھمنڈ نہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے تمھاری قوّت و حشمت کی کیا حقیقت ہے۔ وہ آن واحد میں تمھاری شان و شوکت، قوّت و حشمت کے باوجود تمھیں عذاب میں مبتلا کر کے نیست و نابود کر سکتا ہے۔
ترجمہ: (اے کافرو بتاؤ) کیا تمھارا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان (کا بنانا) اللہ نے تو آسمان کو بنایا۲۷ اس کی چھت کو بلند کیا، پھراسے ہموار کیا ۲۸اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کی صبح کو نکالا۲۹ اس کے بعد زمین کو بچھایا۳۰ (پھر) زمین سے اس کا پانی اور چارہ نکالا۳۱ اور پہاڑوں کو اس میں گاڑ دیا۳۲ (یہ سب کچھ) تمھارے اور تمھارے چوپایوں کےلیے (کیا)۳۳ پھر جب وہ بڑی آفت آئے گی۳۴ اس دن انسان کو (اپنے) اعمال یاد آئیں گے۳۵ اور (اس دن) دوزخ ہر دیکھنے والے کے سامنے لائی جائے گی۳۶ تو جس نے سرکشی کی۳۷ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۳۸ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہو گی۳۹ اور جوشخص اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو (ناجائز) خواہش سے باز رکھا۴۰ تو اس کا ٹھکانہ جنّت ہو گی۴۱ (اے رسول) کافر آپ سے قیامت کےمتعلّق پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقع ہو گی۴۲ تو اس کا (وقت) بتانے کے سلسلے میں آپ کس خیال میں ہیں۴۳ اس کا علم تو آپ کے ربّ ہی پر منتہی ہوتا ہے۴۴ آپ (کی ذِمّہ داری تو بس اتنی ہے کہ آپ) اس شخص کو ڈرا دیں جو قیامت سے ڈرتا ہے۴۵ جب یہ (لوگ) اس دن کو (یعنی قیامت کو اپنی آنکھوں سے) دیکھیں گے تو (ان کو) ایسا معلوم ہوگا کہ وہ (دنیا میں) بس ایک شام رہے یا اس کی صبح۴۶
معانی و مصادر: (سَمْكٌ) سَمْكٌ= چھت ۔
(أغْطَشَ) اَغْطَشَ، يُغْطِشُ، اِغْطَاشٌ (باب افعال) تاریک بنانا۔
(ضُحٰى) ضَحَا، يَضُحُوْ، ضَحْوٌ و ضُحُوٌّ و ضُحِیٌّ (ن) ظاہر ہونا ، دھوپ میں آنا۔(ضُحٰى= طلوع آفتاب)
(دَحٰی) دَحٰى، يَدُحُوْ و يَدْحٰى، دَحْوٌ (ن و ف) بچھانا۔
(مَرْعٰى) رَعٰى، يَرْعٰى، رَعْىٌ و رِعَايَةٌ و مَرْعٰی (ف) چرنا، چرانا ۔
(طَآمَّةٌ) طَمَّ، يَطُمُّ، طَمٌّ و طُمُوْمٌ (ن) بڑھ جانا، بڑا ہونا، بھرنا، کترنا۔ (طَآمَّةٌ =بڑی آفت)
(بُرِّزَتْ) بَرَّزَ ، يُبَرِّزُ ، تَبْرِیْزٌ (باب تفعیل) ظاہر کرنا۔
(جَحِيْمٌ) جَحَمَ ، يَجْحَمْ، جَحْمٌ (ف) بھڑکانا ، جلانا۔
جَحِمَ ويَجْحَمُ، جَحَمٌ (س) بھڑکنا۔ (جَحِیْمُ=دوزخ)
(مَاْوٰى) اَوٰى ، يَاْوِىْ، اُوِیٌّ (ض) پناہ لینا۔
(مُرْسٰی) اَرْسٰی، يُرْسِیْ، اِرْسَاءٌ (باب افعال) ثابت ہونا ٹھہرانا۔ (مُرْسٰی= جائے وقوع ، وقت وقوع)
تفسیر: قیامت کا بیان چل رہا تھا کہ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے کفّارِ مکّہ کی عبرت کے لیے فرعون کا قصّہ سنایا۔ اس قصّے کے ختم ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر قیامت کا ذِکر جاری کر دیا۔
کفّارِ مکّہ قیامت کے دن انسانوں کو دوبارہ پیدا کیے جانے کو ناممکن اور بعید از عقل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی عقلوں کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ،بَنٰىهَا) (اے کافرو! بتاؤ) کیا تمھارا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان ( کا بنانا زیادہ مشکل ہے، یقیناً آسمان کا بنانا زیادہ مشکل ہے تو) اس نے (تو) آسمان (جیسی مشکل چیز) کو بنایا (رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا) (پھر) اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے ہموار بنایا (تو جب مشکل کام وہ کر سکتا ہے تو آسان کام کرنا اس کے لیے مشکل کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ یقیناً انسانوں کو دوبارہ پیدا کر سکتا ہے اس کے لیے نہ آسمان کا پیدا کرنا مشکل ہے اور نہ انسان کا دوبارہ پیدا کرنا۔ اس کے لیے ہر کام آسان ہے)۔
اللہ تعالیٰ آسمان کی حیرت ناک پیدائش کا ذِکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَ اِلَی السَّمَآءِ ڪَیْفَ رُفِعَتْ۱۸
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ: ۸۸، آیت : ۱۷ تا ۱۸)
کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب و غریب) بنائے گئے ہیں۔ اور آسمان کی طرف (نظر نہیں کرتے) کہ اس کو کیسا بلند کر دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا،مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ، هَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ۳ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ ڪَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْڪَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ۴
(سُوْرَۃُ الْمُلْـكِ: ۶۷، آیت : ۳ تا ۴)
(وہ ہی ہے) جس نے اوپر تلے سات۷ آسمان بنائے (تو اے انسان) کیا تجھ کو رحمٰن کی (اس) کاریگری میں کوئی خرابی نظر آتی ہے (ذرا اس کی طرف) نظر کر، کیا تجھ کو (اس میں) کوئی دراڑ نظر آتی ہے۔ (ایک دفعہ نہیں) پھر دوبارہ نظر ڈال (ہر مرتبہ) تیری نظر تھکی ہاری تیری طرف لوٹ آئے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ، كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی، یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّڪُمْ تُوْقِنُوْنَ۲
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۲)
اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کر دیا، جیسا کہ تم اسے دیکھتے ہو، پھر وہ عرش پر جلوہ افروز ہوا اور سورج اور چاند کو مسخّر کر دیا (ان میں سے) ہر ایک، ایک وقتِ مقرّرہ تک کےلیے گردش کر رہا ہے، (خبردار) اللہ ہی (کائنات کے) ہر کام کی تدبیر کرتا ہے، وہ ہی (اپنی) آیات کو علاحدہ علاحدہ بیان کر رہا ہے تاکہ تمھیں اپنے ربّ کی ملاقات کا یقین آجائے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان، چاند، سورج وغیرہ پیدا کر سکتا ہے تو وہ انسانوں کو بھی دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس دلیل کے بعد تو انھیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کا یقین آجاناچاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ، فَاَبَی الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا ڪُفُوْرًا۹۹
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۹۹)
کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے انسان (مزید) پیدا کر دے، اُس نے ان کےلیے ایک وقت مقرّر کر دیا ہے جس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں، لیکن ان ظالموں نے انکار کر دیا تو بس انکار کر ہی دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۵۷
(سُوْرَۃُ حٰـمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۵۷)
آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنا، لوگوں کے پیدا کرنے سے یقینًا زیادہ بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (کہ جو آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کر سکتا ہے اُس کےلیے انسانوں کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یُّحْیِ َۧ الْمَوْتٰی،بَلٰۤی اِنَّهٗ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۳۳
(سُوْرَۃُ الْاَحْقَافِ: ۴۶، آیت :۳۳ )
کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو زندہ کر دے، کیوں نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
الغرض جب اللہ تعالیٰ آسمان جیسی چیز پیدا کر سکتا ہے تو اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
آگے فرمایا (وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا) اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کی صبح کو نکالا (یعنی اللہ تعالیٰ نے رات اور دن بنائے۔ یہ بھی اس کی قدرت کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے) (وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا) اس کے بعد اس نے زمین کو بچھایا (اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا) (پھر) زمین سے اس کا پانی اور اس کا چارہ نکالا (وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا) اور پہاڑوں کو اس میں گاڑ دیا(مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ) یہ سب کچھ تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے کیا۔
زمین پر انسان اور جانور رہتے ہیں، چلتے پھرتے ہیں، اس کا پانی پیتے ہیں، جانور اس کا چارہ کھاتے ہیں، پہاڑوں سے چشمے اور دریا نکلتے ہیں۔ انسان اور جانور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان کو پیدا کیا اس حال میں کہ وہ دھویں کے مانند تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا، پھر اس پر پہاڑوں کو رکھ دیا پھر زمین میں سبزیاں، درخت وغیرہ کی پیدائش کا اندازہ مقرّر کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کو جو اب تک دھویں کی شکل میں تھا سات آسمانوں میں تبدیل کیا، آسمان کی چھت کو بلند کیا پھر زمین کو بچھا دیا اس میں سے پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو زمین میں مضبوطی سے گاڑ دیا۔
مندرجہ ذیل آیات میں ان باتوں کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا،ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۹ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ، سَوَآءً لِّلسَّآىِٕلِیْنَ۱۰ ثُمَّ اسْتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا،قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآىِٕعِیْنَ۱۱ فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰی فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا،وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْح،وَ حِفْظًا،ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۱۲
(سُوْرَۃُ حٰمٓ السَّجْدَۃِ : ۴۱، آیت : ۹ تا ۱۲)
(اے رسول) آپ (ان سے) پوچھیے کیا تم اُس ہستی (کے واحد الٰہ ہونے) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو۲ دن میں بنایا اور کیا تم اُس کے شریک بناتے ہو (حالاں کہ) وہ ہی تو (تمام) جہانوں کا مالک ہے (دوسرے کسی چیز کے بھی مالک نہیں)۔ اُسی نے زمین میں اس کے اوپر (کی طرف) پہاڑ بنائے، پھر اس میں (ہر قسم کی) برکتیں رکھیں اور ضروریاتِ زندگی کا اہتمام کیا، (یہ سب کچھ) چار۴ دن میں (ہوا) اور (اب تمام) مانگنے والوں کےلیے (اس میں) برابر (کا حصّہ) ہے۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجّہ ہوا اور آسمان (اس وقت) دھواں تھا، اُس نے آسمان اور زمین سے کہا دونوں خوشی سے یا ناخوشی سے (ادھر) آؤ، ان دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔ پھر اللہ نے دو۲ دن میں اس کے سات۷ آسمان بنائے اور آسمان میں اس کے کام کے متعلّق احکام صادر کیے اور (اے رسول) پھر ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے زینت بخشی اور (ان کو ذریعۂ) حفاظت (بھی بنایا) یہ (اللہ) غالب اور علم والے کے (مقرّر کیے ہوئے) اندازے ہیں (جن کے مطابق کائنات کا نظام چل رہا ہے)۔
الغرض ان تمام چیزوں کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک ادنی نمونہ ہے۔ جو اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ یقینًا ان سے آسان کام یعنی انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ قیامت ضرور قائم ہوگی اور انسان ضرور دوبارہ پیدا کیے جائیں گے (فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰی) پھر جب وہ بڑی آفت (یعنی قیامت) آئے گی (یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی) (تو) اس دن انسان کو (اپنے) اعمال یاد آئیں گے (وہ اپنے بُرے اعمال کو یاد کر کے غم و اندوہ میں مبتلا ہو گا، لیکن سوائے حسرت اور ندامت کے کچھ نہ کر سکے گا) (وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی) (اس دن) دوزخ ہر دیکھنے والے کے سامنے لائی جائے گی۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَسَيُكَلِّمُهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَيْسَ بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَہٗ تَرْجُمَانٌ ثُمَّ يَنْظُرُ فَلَا يَرٰى شَيْئًا قُدَّامَهٗ ثُمَّ يَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ اَنْ يَّتَّقِیَ النَّارُ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ
(صحیح بخاری کتاب الرقاق باب من نوقت الحساب عذب جلد ۸ صفحہ ۱۴۰ حديث : ۶۵۳۹ / ۶۱۷۴ و صحیح مسلم کتاب الزكوة باب الحدث على الصدقة جزء اوّل صفحہ ۴۰۶ حديث : ۲۳۴۸ / ۱۰۱۶)
تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس سے اللہ قیامت کے دن بات نہ کرے۔ اللہ کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ پھر جب وہ سامنے دیکھے گا تو اسے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی (سوائے آگ کے) پھر وہ اپنے آگے دیکھے گا تو آگ اس کے سامنے آجائے گی لہٰذا تم میں سے جس سے ہو سکے دوزخ سے بچے خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی۔
آگے فرمایا(فَاَمَّا مَنْ طَغٰی) تو جس نے (اللہ تعالیٰ کے احکام سے) سرکشی کی (وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا) اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی (فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰی) تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگی۔
دنیا کی زندگی کو ترجیح دینے والے کے متعلّق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ، اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ، فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ۳۸
(سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ : ۹، آیت : ۳۸)
اے ایمان والو، تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے اللہ کے راستے میں نکلنے کےلیے کہا جاتا ہے تو تم زمین کی طرف جُھک جاتے ہو، کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ہے؟ (تو کان کھول کر سن لو کہ) دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں (بہت ہی) کم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وَیْلٌ لِّلْڪٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِ۲ اَلَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا،اُولٰٓىِٕڪَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ۳
(سُوْرَۃُ اِبْرَاھِیْمَ: ۱۴، آیت : ۲تا ۳)
اور (اے رسول) اگر یہ لوگ اللہ کے راستے پر نہ آئیں تو (ایسے) کافروں کےلیے شدید عذاب کے باعث (بڑی) خرابی ہے۔ (یعنی ان لوگوں کےلیے بڑی خرابی ہے) جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی سے محبّت کرتے ہیں، (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی نکالنے کی فکر میں رہتے ہیں، یہ لوگ گمراہی میں بہت دور جا پڑے ہیں۔
آگے فرمایا(وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی) جو شخص اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو (ناجائز) خواہش سے باز رکھا (فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰی) تو اس کا ٹھکانہ جنّت ہوگی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۳۵
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۳۵)
تو جو لوگ (ان پر ایمان لا کر) متّقی بن جائیں گے اور (اپنی) اصلاح کرلیں گے انھیں (قیامت کے دن) نہ کوئی خوف ہو گا اور کوئی غم ہو گا۔
آگے فرمایا (یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا) (اے رسول! کافر آپ سے) قیامت کے متعلّق پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقع ہوگی (فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا) تو اس کا (وقت) بتانے کے سلسلے میں آپ کس خیال میں ہیں (اِلٰی رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا) اس کا علم تو آپ کے ربّ ہی پر منتہی ہوتا ہے (وہ ہی جانتا ہے کہ وہ کب واقع ہوگی)۔
کافروں کا قاعدہ تھا کہ جب وہ دلائل کے سامنے لاجواب ہو جاتے تھے تو قیامت کا وقت پوچھےا لگتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ڪُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا۔ قُلْ ڪُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًا۔ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَڪْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ، فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا، قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ،فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی هُوَ،قُلْ عَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا۔۱
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۴۹تا ۵۱)
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر) ہڈّیاں ہو جائیں گے اور پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم کو ازسرِنو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ تم پتّھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا وہ چیز بن جاؤ جو تمھارے خیال میں بڑی (ہی سخت) ہو (غرض یہ کہ تم کچھ بھی بن جاؤ، تم دوبارہ ضرور زندہ کیے جاؤ گے) تو یہ (فورًا) کہیں گے ہمیں دوبارہ کون زندہ کرے گا، (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ وہ (زندہ کرے گا) جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا تو (یہ جواب سن کر) یہ لوگ مذاقًا آپ کے سامنے سر مٹکائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہو گا آپ کہہ دیجیے کہ شاید (مستقبل) قریب ہی میں ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا، قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ، لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُو،ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ،لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً، یَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا، قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَڪْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۱۸۷
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۱۸۷)
(اور اے رسول) یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب واقع ہو گی، آپ کہہ دیجیے اس کا علم تو میرے ربّ کو ہے، وہ ہی اس کو اس کے وقت (مقرّرہ) پر ظاہر کرے گا، (اے لوگو) وہ آسمانوں میں اور زمین میں ایک بڑی بھاری (آفت) ہو گی جو اچانک تم پر واقع ہو جائے گی (اور اے رسول) یہ لوگ (وقوعِ قیامت کے متعلّق) آپ سے اس طرح سوال کرتے ہیں گویا کہ آپ اس سے بخوبی واقف ہیں، آپ کہہ دیجیے اس کا علم تو (صرف) اللہ کو ہے لیکن (بات یہ ہے کہ) اکثر لوگ (اتنی سی بات بھی) نہیں جانتے۔
آگے فرمایا(اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَا) جو شخص قیامت سے ڈرتا ہے آپ تو بس اس کو ڈرانے والے ہیں (آپ کا کام بس اتنا ہی ہے کہ آپ انھیں ہوشیار کر دیں۔ قیامت کا وقت بتانا یہ آپ کا کام نہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ، وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ، وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ، اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۱۸۸
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۱۸۸)
(اے رسول) آپ کہہ دیجیے میں تو اپنے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے اور (نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں) اگر میں غیب (کی باتیں) جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں جمع کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی بُرائی نہ پہنچتی، میں تو بس (سرکشوں کو) ڈرانے والا اور ایمان والوں کو خوش خبری سنانے والا ہوں۔
آگے فرمایا (كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا) جب یہ (لوگ) اس کو (یعنی قیامت کو اپنی آنکھوں سے) دیکھیں گے (تو ان کو ایسا معلوم ہوگا کہ وہ دنیا میں) بس ایک شام رہے یا اس کی صبح۔
دنیا کی بے حقیقت زندگی کے متعلّق ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ۱۱۲ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّیْنَ۱۱۳ قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ ڪُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۱۱۴
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۱۱۲تا ۱۱۴)
(پھر اللہ اہل دوزخ سے) پوچھے گا (بتاؤ) تم زمین میں کتنے سال رہے۔ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصّہ (زمین میں) رہے، آپ گِننے والوں سے پوچھ لیجیے (ہمیں تو صحیح علم نہیں)۔ اللہ فرمائے گا تم (زمین میں) بہت ہی کم رہے کاش! تمھیں اس کا علم ہوتا۔
قیامت کے دن دنیا کی زندگی کی حقیقت کھلے گی۔ اس دن افسوس ہو گا کہ اتنی سی زندگی کے لیے ہم نے اپنی آخرت کی دائمی زندگی کو بگاڑا۔
عمل
اے لوگو! قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لایے ۔ جس اللہ ذوالجلال والاکرام نے آسمانوں کو بنایا اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں۔
اے ایمان والو! احکامِ الہٰی سے سرتابی نہ کیجیے ، دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح نہ دیجیے ، اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوکر حساب و کتاب دینے سے خائف رہے۔ اپنے نفس کی خواہشات کو شریعتِ الہٰیہ کا تابع رکھئیے۔ احکامِ الہٰی کے خلاف کوئی کام نہ کیجیے۔
اے ایمان والو! دنیا کی زندگی بہت قلیل ہے اس کی خاطر آخرت کی دائمی زندگی کو برباد نہ کیجیے۔