Surah Hal-atāka-Hadīthul-Ghāshiyah



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۸۸ – سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِ۝۱ وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ۝۲ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ۝۳ تَصْلٰی نَارًا حَامِیَةً۝۴ تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍ۝۵ لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ۝۶ لَا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ۝۷ وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ۝۸ لِسَعْیِهَا رَاضِیَةٌ۝۹ فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍ۝۱۰ لَا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةً۝۱۱ فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌ۝۱۲ فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌ۝۱۳ وَ اَڪْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ۝۱۴ وَ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌ۝۱۵ وَ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌ۝۱۶

<

ترجمہ: (اے رسول) کیا آپ کو چھا جانے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے۝۱ اس دن بہت سے (آدمیوں کے) چہرے جُھکے ہوئے ہوں گے۝۲ وہ عمل کرنے والے (اور عمل کرتے کرتے) تھک جانے والے ہوں گے۝۳ (تاہم) دھکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۝۴ ان کو ایک گرم چشمے سے (پانی) پلایا جائے گا۝۵ ان کےلیے (وہاں) کوئی کھانا نہیں ہو گا سوائے خاردار گھاس کے۝۶ جو نہ موٹا کرتی ہے اور نہ بھوک میں (کچھ) کام آتی ہے۝۷ بہت سے (آدمیوں کے) چہرے اس دن (نعمتوں میں) شاداں و فرحاں ہوں گے۝۸ وہ اپنی کوشش (کے اجر و ثواب) سے راضی ہوں گے۝۹ بلند جنّت میں۝۱۰ جس میں وہ کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۝۱۱ اس میں ایک چشمہ بہہ رہا ہو گا۝۱۲ اس میں اونچے اونچے تخت (بچھے) ہوں گے۝۱۳ (جگہ جگہ) آب خورے رکھے ہوئے ہوں گے۝۱۴ اور قطار در قطار گدّے (بچھے ہوئے) ہوں گے۝۱۵ اور (جا بجا) تکیے سجے ہوئے ہوں گے۝۱۶

<

معانی و مصادر: (حَدِيْثٌ) حَدَثَ ، يَحْدُثُ ، حُدُوْثٌ (ن) واقع ہونا۔ (حَدِيْثٌ= قصّہ، بات)
(غَاشِيَةٌ) غَشِیَ، يَغْشٰى، غَشَاوَةٌ و غَشْىٌ (س) ڈھانکنا۔ (غَاشِيَةٌ=ڈھانکے والی، چھا جانے والی)
(نَاصِبَةٌ) نَصِبَ، يَنْصَبُ، نَصَبٌ (س) محنت کر کے تھک جانا، کوشش کرنا۔
(حَامِيَةٌ) حَمَّ، يَحُمُّ ، حَمٌّ (ن) گرم گرنا۔
(اٰنِيَةٌ) اَنٰی، يَاْنِیْ، اَنْیٌ و اَنَاءٌ و اِنًی (ض) قریب ہونا، حاضر ہونا، کھولنے یا ابلنے کے قریب ہونا۔
(ضَرِيْعٌ) ضَرِيْعٌ= خاردار جھاڑی۔
(يُسْمِنُ) اَسْمَنَ، يُسْمِنُ، اِسْمَانٌ (باب افعال) موٹا کرنا، موٹا ہونا۔
(جُوْعٌ) جَاءَ، يَجُوْعُ ، جَوْعٌ و مَجَاعَةٌ (ن) بھوکا ہونا۔ (جُوْعٌ= بھوک)
(نَاعِمَةٌ) نَعَمَ، يَنْعَمُ، نَعْمَةٌ و مَنْعَمٌ (ف،ن،س) خوش حال ہونا۔(نَاعِمَةٌ=خوش حال)
(لَاغِيَةٌ) لَغَا، يَلْغُوْ، لَغْوٌ (ن) لغو بات کہنا ۔ (لَاغِيَةٌ=بے ہودہ بات لغو بات)
(نَمَارِقُ) نَمَارِقُ ، نَمْرُقٌ و نَمْرَقَةٌ کی جمع، گدّے۔
(زَرَابِیُّ) زَرَابِیُّ = زُرْبِیٌّ و زُرْبِیَّۃٌ کی جمع ، تکیے، مسندیں۔
(مَبْثُوثَةٌ) بَثَّ ، يَبُثٌ، بَثٌ(ن) پھیلانا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِ) (اے رسول) کیا آپ کو چھا جانے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے۔
قیامت کو چھا جانے والی اس لیے کہا گیا کہ اس کی ہولناکی بڑی وسیع ہوگی اور سب پر چھا جائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا۝۷
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ: ۷۶، آیت : ۷)
(یہ اللہ کے بندے وہ ہوں گے جو) اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن کی بُرائی (بڑے وسیع پیمانے میں ہر طرف) پھیلی ہوئی ہو گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّڪُمْ،اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ۝۱ یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَی النَّاسَ سُكٰرٰی وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰی وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ۝۲
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۱ تا ۲)
اے لوگو! اپنے ربّ سے ڈرو، قیامت کا زلزلہ (بہت) بڑی چیز ہے۔ (اے رسول) جس دن آپ اسے دیکھیں گے (تو آپ دیکھیں گے کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے شیر خوار (بچّے) کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ (نشے میں) مدہوش ہیں حالاں کہ وہ (نشے میں) مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب (اتنا) سخت ہو گا (کہ اس کو دیکھ کر وہ مدہوش ہو جائیں گے)۔
آگے فرمایا
(وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ)[ اس دن (بہت سے آدمیوں کے) چہرے جھکے ہوئے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ،ذٰلِڪَ الْیَوْمُ الَّذِیْ ڪَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۝۴۴
(سُوْرَۃُ سَاَلَ سَآئِلٌ : ۷۰، آیت : ۴۴)
(قیامت کے دن) کافروں کی نظریں نیچی ہوں گی، ذِلّت ان پر چھا رہی ہو گی، یہ ہی وہ دن ہو گا جس (دن) کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔
(عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ) وہ عمل کرنے والے (اور عمل کرتے کرتے) تھک جانے والے ہوں گے (وہ عبادت شاقہ کرتے ہوں گے، بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہوں گے، بڑے بڑے وظیفے پڑھتے ہوں گے، چلّے کاٹتے ہوں گے نفس کُشی کرتے ہوں گے ، الّا اللہ کی ضربیں لگاتے ہوں گے، ساری ساری رات جاگتے ہوں گے، اس کے باوجود قیامت کے روز ان کے چہرے جھکے ہوں گے، اس لیے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے بتائے ہوئے معتدِل طریقے پر عمل نہیں کیا ہو گا اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل نہیں کرتا اس کے عمل قبول نہیں ہوتے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ۝۳۳
(سُوْرَۃُ مُحَمَّدِ : ۴۷، آیت : ۳۳)
اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔
فلاح وہ ہی پائیں گے جنھوں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سنّت کے مطابق عمل کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ ڪُلَّ شَیْءٍ، فَسَاَڪْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ۝۱۵۶ اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ، یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْڪَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ، فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ،اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۵۷ قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا ِ۟الَّذِیْ لَهٗ مُلْڪُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ، فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۝۱۵۸
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۱۵۶تا۱۵۸)
اور میری رحمت تو ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے البتّہ میں اپنی رحمت ان لوگوں کےلیے لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ (یعنی میں اپنی رحمت ان لوگوں کےلیے لکھوں گا) جو رسول، نبی اُمّی کی پیروی کریں گے جن (کی بشارت اور جن کے ذکرِ جمیل) کو وہ اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انھیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں، جو پاکیزہ چیزیں ان کےلیے حلال قرار دیتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتے ہیں اور جو ان (کی پیٹھوں) کے بوجھ اور ان (کی گردنوں) کے طوق ان سے اتار کر پھینک رہے ہیں، الغرض جو لوگ ان پر ایمان لائے، ان کا احترام کیا، ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان پر نازل کیا گیا ہے وہ ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو، میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں جس اللہ کی بادشاہت آسمانوں پر بھی ہے اور زمین پر بھی، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ ہی زندہ کرتا ہے، وہ ہی مارتا ہے، تو (اے لوگو) اللہ پر ایمان لاؤ اور اُس کے رسول، نبی اُمّی پر ایمان لاؤ جو اللہ پر اور اللہ کی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تمھیں ہدایت مل جائے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جَآءَ ثَلٰثَةُ رَهْطٍ اِلٰى بُيُوتِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْاَلُوْنَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اُخْبِرُوْا كَاَنَّهُمْ تَقَآلُوْهَا فَقَالُوْا وَ اَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَحَدُهُمْ اَمَّا اَنَا فَانِیّْ اُصَلِّی اللَّيْلَ اَبَدًا وَّقَالَ اٰخَرُ اَنَا اَصُوْمُ الدَّهْرَ وَلَا اُفْطِرُ وَقَالَ اٰخَرُ اَنَا اَعْتَزِلُ النِّسَآءَ فَلَا اَتَزَوَّجُ اَبَدًا فَجَآءَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا اَمَا وَاللهِ اِنِّی لَاَخْشَاكُمْ لِهَِٰ وَاَتْقَاكُمْ لَهٗ لٰكِنِّیْ اَصُوْمُ وَ اَفْطِرُ وَاَصَلِّیْ وَاَرْقُدُ وَا تَزَوَّجُ النِّسَآءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِىْ فَلَيْسَ مِنّىْ
(صحیح بخاری کتاب النکاح باب الترغيب فِی النكاح جزء ۷ صفحہ ۲ حديث : ۵۰۶۳ / ۴۷۷۶ وصحیح مسلم کتاب النکاح جزء اوّل صفحہ ۵۸۴ حديث : ۳۴۰۳ / ۱۴۰۱)
تین۳ آدمی نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے۔ انھوں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عبادت کا حال پوچھا۔ جب ان کو بتا یا گیا تو انھوں نے اس عبادت کو کم خیال کیا۔ کہنے لگے کہاں ہم اور کہاں نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم (ہم کو آپؐ سے کیا نسبت) آپؐ کو تو اللہ نے اگلے پچھلے (ایسے) تمام کاموں سے محفوظ کر دیا ہے جن کا نتیجہ اچّھا نہ نکلے (ہم تو گناہ گار ہیں ہم کو بہت عبادت کرنی چاہیے) ان میں سے ایک نے کہا میں تو ساری عمر رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرا کہنے لگا میں ہمیشہ روزے رکھوں گا، کبھی (دن کو) افطار نہیں کروں گا۔ تیسرا کہنے لگا میں عمر بھر عورتوں سے الگ رہوں گا کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ اتنے میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم تشریف لے آئے۔ آپؐ نے فرمایا تم ہی وہ لوگ ہو جنھوں نے ایسا ایسا کہا تھا۔ سنو میں تم سب سے زیادہ اللہ (تعالیٰ) سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں، (رات کو) نماز بھی پڑھتا ہوں سوتا بھی ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں تو جو شخص میری سنّت سے روگردانی کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَا مِنْ نَبِیَّ بَعَثَهُ اللهُ فِیْ اُمَّةٍ قَبْلِیْ اِلَّا كَانَ لَهٗ مِنْ اُمَّتِهٖ حَوَّارِيُّوْنَ وَ اَصْحَابٌ يَّاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِهٖ وَيَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوْفٌ يَقُوْلُوْنَ مَالَا يَفْعَلُوْنَ وَيَفْعَلُوْنَ مَا لَا يُؤْمَرُوْنَ فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهٖ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهٖ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَ مَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهٖ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَيْسَ وَرَآءَ ذٰلِكَ مِنَ الْاِيْمَانِ۔حَبَّۃُ خَرْدَلٍ
(صحیح مسلم كتاب الایمان باب بيان كون النهي عن المنكر من الایمان جزء اوّل صفحه ۳۹-۴۰ حديث : ۱۷۹ / ۵۰)
اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا کہ جس کے اس کی امّت میں حواری اور اصحاب نہ ہوں جو اس کے طریقے پر چلتے ہوں اور اسی کے حکم کی پیروی کرتے ہوں۔ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوتے تھے جو زبان سے کہتے تھے اور کرتے نہیں تھے اور ان کاموں کو کرتے تھے جن کا حکم نہیں دیا گیا تھا جو کوئی (ایسے لوگوں) سے ہاتھ سے لڑے وہ مومن ہے، جو کوئی زبان سے لڑے وہ بھی مومن ہے اور جو کوئی ان سے دِل سے لڑے وہ بھی مومن ہے اور اس کے بعد تو رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں رہتا۔
الغرض سنّت کے خلاف عمل کرنے والے، بدعتوں کے عامل
(تَصْلٰی نَارًا حَامِیَةً) (یہ سب) دھکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے (تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍ) ان کو ایک گرم چشمے سے پانی پلایا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًا۝۲۴ اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًا۝۲۵
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ: ۷۸، آیت : ۲۴تا۲۵)
وہاں وہ نہ ٹھنڈک کا مزا چکھیں گے اور نہ پینے کی کسی چیز کا۔ سوائے گرم پانی اور بہتی ہوئی پیپ کے (مزے کے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَڪْفُرُوْنَ۝۷۰
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۷۰)
ان کو پینے کےلیے گرم پانی ملے گا اور جو کفر وہ کرتے تھے اس کی وجہ سے ان کو دردناک عذاب ہو گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَ۝۹۲ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ۝۹۳ وَ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ۝۹۴
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۹۲ تا۹۴)
اور اگر وہ (مرنے والا) جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوا۔ تو (اس کی) مہمانی کھولتے ہوئے (پانی) سے ہو گی۔ (پھر اسے) دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِ۝۵۴ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِ۝۵۵ هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ۝۵۶
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۵۴تا۵۶)
(تھوہر کا درخت کھانے کے بعد)پھر اس پر گرم پانی پیو گے۔ اور اس طرح پیو گے جس طرح پیاس کے مریض (اونٹ پانی) پیتے ہیں۔ جزا کے دن ان کی مہمانی یہ ہو گی۔
آگے فرمایا
(لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ) (ان کے لیے وہاں کوئی کھانا نہیں ہو گا سوائے خار دار گھاس کے (لَا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ) جو نہ موٹا کرے گی اور نہ بھوک میں (کچھ) کام آئے گی (وہ ایسی گھاس ہو گی کہ اس کے کھانے سے نہ کچھ فائدہ ہوگا اور نہ پیٹ ہی بھرے گا، بھوک بدستور لگتی رہے گی)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ۝۵۱ لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ۝۵۲ فَمَالِـُٔوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ۝۵۳
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۵۱تا۵۳)
پھر اے جھٹلانے والے گمراہ لوگو۔ تم تھوہر کے درخت میں سے کھاؤ گے۔ پھر اسی سے (اپنے) پیٹ بھرو گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ۝۴۳ طَعَامُ الْاَثِیْمِ۝۴۴ كَالْمُهْلِ، یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِ۝۴۵ كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ۝۴۶
(سُوْرَۃُ الدُّخَانِ : ۴۴، آیت : ۴۳تا۴۶)
بےشک زقّوم کا درخت۔ گناہ گار کا کھانا (ہو گا)۔ وہ پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا اور پیٹوں میں اس طرح کھولے گا۔ جس طرح گرم پانی کھولتا ہے۔
مجرمین کے عذاب کا ذِکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے صالحین کے اجر و ثواب کا ذِکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
(وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ) بہت سے (آدمیوں کے) چہرے اس دن (نعمتوں میں) شاداں و فرحاں ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ۝۲۲ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ۝۲۳
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۲۲تا۲۳)
اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ ہوں گے۔ وہ اپنے ربّ کو دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ مُّسْفِرَةٌ۝۳۸ ضَاحِكَةٌ
مُّسْتَبْشِرَةٌ۝۳۹
(سُوْرَۃُ عَـبَسَ: ۸۰، آیت : ۳۸تا۳۹)
بہت سے چہرے اس دن چمک رہے ہوں گے۔ خنداں و شاداں ہوں گے۔
(لِسَعْیِهَا رَاضِیَةٌ) وہ اپنی کوشش (اور عمل کے اجر و ثواب سے) راضی ہوں گے (فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍ) بلند و بالا جنّت میں (وہ رہیں گے) (لَا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةً) اس میں وہ کوئی بیہود اور لغو بات نہیں سنیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا،
(سُوْرَۃ ُ مَرْیَمِ : ۱۹، آیت : ۶۲)
ان باغات میں کوئی لغو بات ان کے سننے میں نہیں آئے گی بس (ہر طرف سے) سلام (کی آوازیں آتی ہوں گی)،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًا۝۲۵ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۝۲۶
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۲۵تا۲۶)
وہاں وہ نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ کوئی گناہ کی بات۔ وہاں تو بس سلام سلام کی آوازیں (آرہی ہوں گی)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَاڪِذّٰبًا۝۳۵
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ: ۷۸، آیت : ۳۵)
اس میں نہ وہ کوئی لغو بات سنیں گے اور نہ کوئی جھوٹ۔
آگے فرمایا
(فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌ) اس (جنّت) میں (ایک) چشمہ بہہ رہا ہوگا (فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌ) اور اس میں اونچے اونچے تخت (بچھے) ہوں گے (وَ اَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ) (جگہ جگہ) آبخورے رکھے ہوں گے (وَ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌ) قطار در قطار ( گدّے بچھے) ہوئے ہوں گے (وَ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌ) اور (جا بجا) تکیے سجے ہوئے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ۝۱۵ مُتَّڪِـِٕیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ۝۱۶
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۱۵تا۱۶)
یہ لوگ (جواہرات سے) جَڑے ہوئے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ (اور) تکیے لگائے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ۝۳۴
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۳۴)
اونچے اونچے فرشوں (میں عیش کر رہے ہوں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مُتَّكِـِٕیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ۝۷۶
(سُوْرَۃُ الرَّحْمٰنِ : ۵۵، آیت : ۷۶)
(اہلِ جنّت، جنّت میں) سبز گاؤ تکیوں اور نفیس مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔
الغرض مجرمین کو دوزخ میں طرح طرح کا عذاب ہوگا۔ صالحین کو جنّت میں طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی۔
عمل
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور سول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے احکام کے مطابق عمل کیجیے، نہ سنّت سے آگے بڑھیےو اور نہ سنّت سے کم کیجیے۔

<
اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ ڪَیْفَ خُلِقَتْ۝۱۷ وَ اِلَی السَّمَآءِ ڪَیْفَ رُفِعَتْ۝۱۸ وَ اِلَی الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْ۝۱۹ وَ اِلَی الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْ۝۲۰ فَذَكِّرْ،اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَڪِّرٌ۝۲۱ لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ۝۲۲ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰی وَ كَفَرَ۝۲۳ فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَڪْبَرَ۝۲۴ اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْ۝۲۵ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۝۲۶
<

ترجمہ: کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب و غریب) بنائے گئے ہیں۝۱۷ اور آسمان کی طرف (نظر نہیں کرتے) کہ اس کو کیسا بلند کر دیا گیا ہے۝۱۸ اور پہاڑوں کی طرف (نہیں دیکھتے) کہ کیسے کھڑے کیے گئے ہیں۝۱۹ اور زمین کی طرف (نظر نہیں کرتے) کہ کیسی بچھائی گئی ہے۝۲۰ تو (اے رسول) آپ نصیحت کرتے رہیے، آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں۝۲۱ ان پر داروغہ نہیں ہیں۝۲۲ مگر ہاں جس نے (اس نصیحت سے) منھ موڑا اور کفر کیا۝۲۳ تو اللہ اس کو بہت بڑا عذاب دے گا۝۲۴ بےشک ان (سب) کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۝۲۵ پھر ہم کو ان (سب) سے حساب لینا ہے۝۲۶

<

معانی و مصادر: (نُصِبَتْ) نَصَبَ، يَنْصِبُ، يَنْصُبُ، نَصْبٌ (ض، و، ن) گاڑنا، کھڑا کرنا، تھکانا ، تکلیف پہنچانا۔
(سُطِحَتْ) سَطَحَ، يَسْطَحُ، سَطْحٌ (ف) بچھانا ۔
(مُصَيْطِرٌ) صَیْطَرَ، يُصَيْطِرُ، صَيْطَرَةٌ (باب فعللۃ) نگران ہونا۔ (مُصَيْطِرٌ= نگران)
(اِيَابٌ) اٰبَ، يَئُوْبُ، اَوْبٌ و مَاَبٌ (ن) لوٹنا۔ (اِيَابٌ=واپسی)

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند نمونوں کی طرف متوجّہ کرتے ہوئے فرماتا ہے (اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ) (اے رسول) کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب و غریب) بنائے گئے ہیں (بدن دیکھو تو عجیب، خصوصیات دیکھو تو عجیب، ریگستان میں خوب چلتا ہے، کئی کئی دن کے لیے پانی پیٹ میں جمع کر لیتا ہے) (وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ) اور (کیا یہ) آسمان کو (نہیں دیکھتے) کہ اس کو کیسا بلند کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَی السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ۝۶
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۶)
کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان پر نظر نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا ہے اور (کس طرح) اس کو زینت دی ہے، اس میں کہیں درز تک نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا،مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ، هَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ۝۳ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ ڪَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْڪَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ۝۴ وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ۝۵
(سُوْرَۃُ الْمُلْـكِ: ۶۷، آیت : ۳تا۵)
(وہ ہی ہے) جس نے اوپر تلے سات۷ آسمان بنائے (تو اے انسان) کیا تجھ کو رحمٰن کی (اس) کاریگری میں کوئی خرابی نظر آتی ہے (ذرا اس کی طرف) نظر کر، کیا تجھ کو (اس میں) کوئی دراڑ نظر آتی ہے۔ (ایک دفعہ نہیں) پھر دوبارہ نظر ڈال (ہر مرتبہ) تیری نظر تھکی ہاری تیری طرف لوٹ آئے گی۔ اور (اے لوگو) ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور ان چراغوں کو شیطانوں کے مارنے کی چیز بنایا مزید برآں ہم نے ان کےلیے آگ کا عذاب بھی تیّار کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ،بَنٰىهَا۝۲۷ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا۝۲۸
(سُوْرَۃُ النّٰزِعٰتِ: ۷۹، آیت : ۲۷تا۲۸)
(اے کافرو بتاؤ) کیا تمھارا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان (کا بنانا) اللہ نے تو آسمان کو بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھراسے ہموار کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا،وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ۝۳۲
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۳۲)
اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا لیکن (ان مناظر کو دیکھنے کے بعد بھی) وہ (ان) آسمانی نشانیوں سے رُوگردانی کر رہے ہیں۔
آگے فرمایا
(وَ اِلَی الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْ) اور (کیا یہ) پہاڑوں کو (نہیں دیکھتے) کہ کیسے کھڑے کیے گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ،وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ۝۳۱
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۳۱)
اور ہم نے زمین پر پہاڑ بنائے تاکہ زمین ان کو لے کر ڈگمگا نہ جائے اور ہم نے ان پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ منزلِ مقصود پر پہنچ سکیں۔
آگے فرمایا
(وَ اِلَی الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْ) اور (کیا یہ) زمین (کی طرف نظر نہیں کرتے) کہ کیسی بچھائی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۝۴۷ وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ۝۴۸
(سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰتِ : ۵۱، آیت : ۴۷تا۴۸)
اور (اے رسول) آسمان کو ہم نے (اپنے) ہاتھ سے بنایا اور ہم بڑی وسعت دینے والے ہیں۔ اور ہم ہی نے زمین کو بچھایا اور ہم کتنے اچّھے بچھانے والے ہیں۔
یہ کافر ہماری قدرت کے نمونے کیوں نہیں دیکھتے اور ان پر غور کیوں نہیں کرتے تا کہ انھیں معلوم ہو سکے کہ جو ان نمونوں کا خالق ہے بس وہ ہی اللہ ہے اور جو یہ سب کچھ پیدا کر سکتا ہے وہ انسانوں کو مَرنے کے بعد دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے
(فَذَكِّرْ،اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَکِّرٌ) (اور اگر اس کے باوجود یہ کافر نہ مانیں) تو (اے رسول) آپ نصیحت کرتے رہیں، آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں (لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ) آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں (کہ زبردستی ان سے منوائیں)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ،فَذَڪِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۝۴۵
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۴۵)
(اے رسول) ہمیں معلوم ہے جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں لیکن آپ ان پر جَبر کرنے والے تو (بناکر) نہیں (بھیجے گئے، آپ کی ذِمّہ داری) تو (بس اتنی ہے کہ) آپ اس شخص کو قرآن کے ذریعے نصیحت کرتے رہیے جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا،اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ،
(سُوْرَۃُ الشُّوْرٰی : ۴۲، آیت : ۴۸)
تو (اے رسول) اگر یہ رُوگردانی کریں تو ہم نے آپ کو ان پر نگراں بناکر نہیں بھیجا، آپ کے ذِمّے سوائے تبلیغ کے اور کچھ نہیں،
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَقُوْلُوْا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ فَاِذَا قَالُوْا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَائَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ ثُمَّ قَرَءَ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ
(صحیح مسلم کتاب الايمان باب الامر بقتال الناس حتى يقولوا له اله الا الله محمّد رسول الله جزء اوّل صفحہ ۲۸، حديث : ۱۲۸ / ۲۱، وصحيح بخارى حديث : ۳۹۲ / ۳۸۵)
مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ کہیں پھر جب انھوں نے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ کہا تو انھوں نے مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ (یعنی کلمہ کا حق ان سے لیا جائے گا) پھر ان کا حساب اللہ کے ذِمّے ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیات پڑھیں اِنَّمَا اَنْتَ مُذَڪِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ یعنی آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں۔ آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں۔
آگے فرمایا
(اِلَّا مَنْ تَوَلّٰی وَ كَفَرَ) مگر (ہاں) جس نے (اس نصیحت سے ) منھ موڑا اور کفر کیا (فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ) تو اللہ اس کو بہت بڑا عذاب دے گا (اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْ) بے شک ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے (ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ) پھر ہم کو ان (سب) سے حساب لینا ہے (یہ ہم سے بچ کر کہاں جائیں گے۔ اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو آپ کے ذِمّے ان کو سزا دینا نہیں ہے سزا تو ہم دیں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِنَّمَا عَلَیْڪَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ۝۴۰
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۴۰)
آپ کی ذِمّہ داری تو بس یہ ہے کہ آپ (احکامِ الہٰی کو) پہنچا دیں پھر حساب لینا ہماری ذِمّہ داری ہے۔
عمل
اے لوگو! قدرتی مناظر کو دیکھیے اور ایمان لے آیے۔

سورۂ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِ کی فضیلت
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اس سورت کو جمعہ کی نماز میں اور عید کی نماز میں پڑھا کرتے تھے اور اگر عید جمعہ کے دن واقع ہوتی تو عید کی نماز اور جمعہ کی نماز دونوں میں اس سورت کی تلاوت کرتے تھے۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَءُ فِی الْعِيْدِيْنِ وَفِی الْجُمُعَةِ بِسَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الاَعْلٰى وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ قَالَ وَاِذَا اجْمَتَعَ الْعِيْدُ وَ الْجُمُعَةُ فِیْ يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَءُ بِهِمَا اَيْضًا فِی الصَّلوٰتَيْنِ
(صحیح مسلم كتاب الجمعة باب ما يقرء فِی صلوة الجمعة جزء اوّل صفحہ ۳۴۷، حديث : ۲۰۲۸ / ۸۷۸)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم عیدین (کی نماز) اور جمعہ کی نماز میں سَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الاَعْلٰى اور هَلْ اَتٰىكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ پڑھا کرتے تھے اور جب عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن واقع ہوتے تب بھی دونوں نمازوں میں انھی دونوں سوتوں کو پڑھتے تھے۔



<

Share This Surah, Choose Your Platform!