Surah I-dhas-sa-maaa-un-fa-ta-rat
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۸۲ – سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ –
فہرستِ مضامین
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ۱ وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ۲ وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ۳ وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ۴ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْ۵
ترجمہ : جب آسمان پھٹ جائے گا۱ جب تارے جھڑ جائیں گے۲ جب سمندروں میں طغیانی آئے گی۳ جب قبروں کو اُلٹ پلٹ کیا جائے گا۴ (تو اس وقت) ہرشخص کو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا کیا پیچھے چھوڑ آیا تھا۵
معانی و مصادر : (اِنْفَطَرَتْ) اِنْفَطَرَ، يَنْفَطِرُ، اِنْفِطَارٌ (باب انفعال) پھٹ جانا۔
(انْتَثَرَتْ) اِنتَثَرَ، يَنْتَثِرُ، اِنْتِثَارٌ (باب افتعال) پھیلانا، بکھیرنا۔
(فُجِّرَتْ) فَجَّرَ، يُفَجِّرُ، تَفْجِيْرٌ (باب تفعیل) جاری کرنا، گناہ کی طرف نسبت کرنا۔
(بُعْثِرَتْ) بَعْثَرَ يُبَعْثِرُ، بَعْثَرَةٌ (باب فعلله = رباعی مرںد) الٹ پلٹ کرنا، تفریق کرنا۔
تفسیر : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِذَا السَّمَآءُانْفَطَرَتْ) جب آسمان پھٹ جائے گا (وَ اِذَا الكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ) جب ستارے جھڑ جائیں گے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۲
(سُوْرَۃُ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ: ۸۱، آیت : ۲)
جب تارے جھڑ جائیں گے۔
(وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ) جب سمندروں میں طغیانی آئے گی۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۶
(سُوْرَۃُ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ: ۸۱، آیت : ۶)
جب سمندروں میں طغیانی آئے گی۔
آگے فرمایا (وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ) اور جب قبروں کو الٹ پلٹ کیا جائے گا (یعنی جب مردے زندہ ہو کر اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے)۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ۹
(سُوْرَۃُ وَالْعٰدِیٰتِ: ۱۰۰، آیت : ۹)
تو کیا اسے نہیں معلوم کہ قبروں میں جو (مُردے دفن) ہیں جب انھیں (زندہ کر کے) باہر نکالا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۷
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۷)
(انسان اپنی اپنی) قبروں سے اس طرح نکل پڑیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈّیاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ذٰلِڪَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَ اَنَّهٗ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۶ وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا،وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ۷
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۶ تا ۷)
یہ (تمام چیزیں اس بات کی دلیل ہیں) کہ اللہ ہی برحق (الٰہ) ہے، وہ مُردوں کو زندہ کر سکتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے، اس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ (قیامت کے دن) اللہ ان تمام لوگوں کو جو قبروں میں ہیں ضرور (زندہ کر کے) اٹھائے گا۔
آگے فرمایا (عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ) (اس وقت) ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا تھا اور کیا پیچھے چھوڑ آیا تھا ( یعنی اس کے تمام اعمال جو اس نے موت سے پہلے کیے تھے اور جو اس کی وجہ سے اس کے مرنے کے بعد لوگوں نے کیے تھے سب وہاں موجود ہوں گے اور نامۂ اعمال میں مندرج ہوں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ۱۴
(سُوْرَۃُ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ: ۸۱، آیت : ۱۴)
تو (اس دن) ہرشخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىِٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَ۱۳
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۱۳)
اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے کون کون سے عمل آگے بھیجے تھے اور کون کون سے عمل پیچھے چھوڑ آیا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا،وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ،تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا،وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ،وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۳۰
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۳۰)
(یہ سزا) اس دن (دی جائے گی جس دن) ہر شخص اپنے اچّھے اعمال کو موجود پائے گا اور بُرے اعمال کو بھی (موجود پائے گا، وہ ایسا ہولناک وقت ہو گا کہ اس وقت) ہر شخص چاہے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے بُرے اعمال کے درمیان بہت طویل فاصلہ ہوتا اور (دیکھو) اللہ (پھر) تم کو اپنے نفس سے ڈراتا ہے اور (یہ بھی جان لو کہ) اللہ (تعالیٰ) بندوں پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وُضِعَ الْڪِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا ڪَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا ، وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا، وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۴۹
(سُوْرَۃُ الْکَـھْـفِ: ۱۸، آیت : ۴۹)
پھر (اے رسول، ہر ایک کا) اعمال نامہ (اس کے سامنے) رکھ دیا جائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ گناہ گار لوگ جو کچھ اس میں (تحریر) ہو گا اس (کو دیکھ کر اس کی سزا) سے ڈر رہے ہوں گے اور یہ کہہ رہے ہوں گے ہائے افسوس یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑی اور نہ کوئی بڑی بات چھوڑی، سب کو گِن گِن کر محفوظ کر لیا ہے، الغرض جو عمل انھوں نے کیے ہوں گے وہ ان سب کو (اس میں) موجود پائیں گے اور (اے رسول) آپ کا ربّ کسی پر ظلم نہیں کرے گا (بلکہ اس کے اعمال کے مطابق ہی اسے بدلہ دے گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ۷ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۸
(سُوْرَۃُ اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ: ۹۹، آیت : ۷ تا ۸)
تو جس نے ذرّہ برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اس (نیکی) کو (وہاں) دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرّہ برابر بھی بُرائی کی ہو گی وہ اس (بُرائی) کو (وہاں) دیکھ لے گا۔
اگر چہ انسان کے تمام اعمال موت کے ساتھ منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین۳ کام ایسے ہیں جو موت کے بعد بھی اس کے نامۂ اعمال میں لکھے جاتے ہیں: صدقۂ جاریہ علمی سرمایہ، صالح اولاد۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهٗ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَةِ اِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ اَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْلَهٗ ۔
(صحیح مسلم كتاب الوصية باب ما يلحق الانسان من الثوب بعد وفاته جزء ۲ صفحہ ۱۴ حديث : ۴۲۲۳ / ۱۶۳۱)
جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل اس سے منقطع ہو جاتا ہے (یعنی موت کے بعد وہ کوئی عمل نہیں کر سکتا جو اس کے لیے ذخیرۂ آخرت ہو) مگر ہاں تین۳ عمل رہ جاتے ہیں (جو موت کے بعد بھی اس کے لیے ذخیرۂ آخرت بنتے ہیں) (۱) صدقۂ جاریہ (۲) علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں یا (۳) صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
مزید برآں کسی شخص کے وہ تمام نیک اعمال بھی صدقۂ جاریہ بن جاتے ہیں جن کو اس شخص نے جاری کیا تھا اور جن پر بعد والوں نے عمل کیا۔ وہ تمام اعمال اس کے نامۂ اعمال میں بھی لکھے جاتے ہیں۔
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جَآءَنَاسٌ مِنَ الْاَعْرَابِ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ الصُّوْفُ فَرَاٰى سُوْءَ حَالِهِمْ قَدْ اَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَتْ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَابْطَؤُاْ عَنْهُ حَتّٰى رُِءِىَ ذٰلِكَ فِیْ وَجْهِهٖ قَالَ ثُمَّ اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ جَآءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَآءَ اٰخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوْا حَتّٰى عُرِفَ السُّرُوْرُ فِیْ وَجْهِهٖ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهٗ كُتِبَ لَهٗ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ اُجُورِهِمْ شَیْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهٗ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ اَوْزَارِهِمْ شَیءٌ ۔
(صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنة حسنة أو سيئة جزء۲ صفحه ۴۶۵ حديث : ۶۸۰۰ / ۱۰۱۷)
دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس آئے۔ وہ بال پہنے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ان کی بُری حالت کو ملاحظہ فرمایا۔ وہ مفلسی میں مبتلا تھے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی لیکن لوگوں نے کچھ دیر لگائی۔ اتنے میں ایک انصاری چاندی سے بھری ہوئی ایک تھیلی لایا، پھر دوسرا کچھ لایا، پھر لگاتار لوگ صدقات لانے لگے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے چہرے میں خوشی کے آثار پائے گئے پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کسی اچّھے طریقے کو جاری کر دیا، پھر اس پر بعد میں عمل کیا گیا تو اس جاری کرنے والے کے لیے بھی اتنا ہی اجر لکھا جائے گا جتنا عمل کرنے والے کے لیے لکھا جائے گا، ان کے عمل میں سے کچھ کم نہ ہو گا اور جس نے اسلام میں کسی بُرے طریقہ کو جاری کر دیا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس جاری کرنے والے کے لیے بھی اتنا ہی گناہ لکھا جائے گا جتنا عمل کرنے والوں کے لیے لکھا جائے گا، ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کم نہیں ہو گا۔
جو اعمال انسان آگے بھیج دیتا ہے ان سے وہ اعمال مراد ہیں جو وہ اپنی زندگی میں کرتا ہے اور جو اعمال انسان پیچھے چھوڑ دیتا ہے ان سے لوگوں کے وہ اعمال مراد ہیں جن کا وہ شخص سبب بنا تھا۔
وہ عمل جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی لکھا جاتا ہے درج ذیل ہیں:
۱ صدقۂ جاریہ مثلاً مسجد بنوانا، کنواں کھدوانا سرائے بنوانا وغیرہ۔
۲ علم مثلاً قرآن مجید اور احادیث نبویؐ کی علمی خدمت کرنا۔ ایسی کتاب لکھنا جولوگوں کے لیے فلاحِ دارین کا سبب ہو، ایسے شاگرد چھوڑ جانا جو دین کی علمی خدمت کریں وغیرہ وغیرہ۔
۳ نیک اولاد کی دعا، نیک اولاد کی دعا سے اس کو اس لیے فائدہ پہنچتا ہے کہ ان کو نیک بنانے میں اس کی کوشش شامل تھی۔
وہ اعمال جن کا گناہ مرنے کے بعد بھی نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے درج ذیل ہیں:
۱ کسی بُرے عمل کا جاری کر دینا، خلاف شرع کام کے لیے عمارتیں بنوانا وغیرہ۔
۲ کسی نیک کام کو ایجاد کر دینا (اس کو بدعت کہتے ہیں)۔
۳ کوئی ایسا علمی کام کرنا جس سے گمراہی پھیلے مثلاً خلاف شرع کتاب تصنیف کرنا گمراہی کی تعلیم دینا۔
یہ تمام کام انسان کے اپنے عمل ہیں جن کا ثواب یا عذاب اسے ملتارہتا ہے۔ نیابتًہ اگر کوئی شخص میّت کی طرف سے نیک عمل کرتا ہے تو اس کا ثواب بھی میّت کو پہنچتا ہے اگر چہ یہ اس کا عمل نہیں ہوتا مثلاً کسی میّت کی طرف سے قربانی کرنا صدقہ کرنا،غلام آزاد کرنا وغیرہ وغیرہ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اِنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّ اِبِیْ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوْسِ فَهَلْ يُكَفِّرْ عِنْهُ اَنْ اَتَّصَدَّقَ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ۔
(صحیح مسلم كتاب الوصيّة باب وصول ثواب الصدقات الى الميت جزء ۲ صفحہ ۱۳ حديث : ۴۲۱۹ / ۱۶۳۰)
ایک شخص نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم سے عرض کیا میرا باپ مر گیا ہے۔ اس نے کافی مال چھوڑا ہے لیکن اس نے وصیّت نہیں کی تو کیا اگر میں اس کی طرف سے صدقہ دوں تو اس کی طرف سے کفّارہ ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: ہاں۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّ اُمِّیَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَاِنِّیْ اَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَلِیَ اَجْرٌ اَنْ اَتَصَدَّقَ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ۔
(صحیح مسلم كتاب الوصيّة باب وصول ثواب الصدقات الى الميت جزء ۲صفحہ ۱۳ حديث : ۴۲۲۰ / ۱۰۰۴)
ایک شخص نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے عرض کیا میری ماں اچانک مر گئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسے بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرتی۔ اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا مجھے بھی اجر ملے گا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ہاں۔
عمل
اے ایمان والو! اچّھے عمل کیجیے۔
ترجمہ: اے انسان، تجھے اپنے عزّت والے ربّ سے کس نے دھوکے میں رکھا۶ (اس ربّ سے) جس نے تجھ کو بنایا، پھر تجھ کو (یعنی تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا، پھر تجھ کو مناسب شکل دی۷ پھر جس صُورت میں چاہا تجھے ترتیب دے دیا۸ (اے کافرو، تمھارا یہ عقیدہ کہ تم روزِ جزا کو نہیں مانتے) ہرگز (صحیح) نہیں (تمھاری گمراہی کی اصل وجہ خالقِ کائنات سے رُوگردانی نہیں) بلکہ (اس کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ) تم روزِ جزا کو جھٹلاتے ہو۹ (حالاں کہ) تم پر نگہبان (مقرّر) ہیں۱۰ (جو) باعزّت لکھنے والے ہیں۱۱ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۱۲ بےشک نیک لوگ نعمتوں میں (شاداں و فرحاں) ہوں گے۱۳ اور گناہ گار دوزخ میں (جل رہے) ہوں گے۱۴ جس میں وہ حساب وکتاب کے دن داخل ہوں گے۱۵ وہ اس سے کہیں روپوش نہیں ہو سکتے۱۶ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ وہ حساب و کتاب کا دن کیسا ہے۱۷ (اور اے رسول، ہم) پھر (آپ سے کہتے ہیں کہ) آپ کو کیا معلوم کہ وہ حساب و کتاب کا دن کیسا ہے۱۸ اس دن کسی شخص کو کسی دوسرے شخص کےلیے (نفع و نقصان کا) ذرا سا بھی اختیار نہیں ہو گا، اس دن تو بس اللہ (تعالیٰ) ہی کی حکومت ہو گی۱۹
معانی و مصادر : (غَرَّ) غَرَّ، يَغُرُّ، غَرٌّ و غِرَّةٌ و غُرُوْرٌ (ن) دھوکا دینا ۔
(سَوّٰى) سَوّٰى، يُسَوِّى، تَسْوِيَةٌ (باب تفعیل) برابر کرنا۔
(عَدَلَ) عَدَلَ ، يَعْدِلُ، عَدْلٌ (ض) برابر کرنا، حق سے انحراف کرنا، انصاف کرنا۔
(رَكَّبَ)رَكَّبَ، يُرَكِّبُ، تَرْكِيْبٌ (باب تفعيل)بعض کو بعض کے اوپر رکھنا، سوار کرانا۔
(اَبْرَارٌ) بَرَّ، يَبُرُّ، بِرٌّ، مُبَرَّةٌ (ن) نیکی کرنا۔(اَبْرَارٌ= بَرٌّ کی جمع ، نیک لوگ)
(نَعِيْمٌ) نَعَمَ، يَنْعَمُ، نَعْمَةٌ و مَنْعَمٌ (ف ، ن ، س) خوش حال ہونا۔ (نَعِيْمٌ=نعمت)
(يَصْلَوْنَ) صَلِیَ، يَصْلٰى، صَلًى، صِلًی و صُلِیٌّ وصَلِىٌّ (س) داخل ہونا۔
تفسیر : اللہ تعالی فرماتا ہے (يٰۤاَ يُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ) اے انسان تجھے اپنے عزّت والے ربّ سے کس نے دھوکے میں رکھا ( کہ تو نے اس کے ہوتے ہوئے دوسروں کو اپنا معبود، حاجت روا اور مشکل کُشا بنالیا، دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور حقوق میں شریک کر کے شرک کا ارتکاب کیا) (اَلَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰـكَ فَعَدَ لَكَ) (یعنی اس ربّ سے تجھے کس نے دھوکے میں مبتلا کیا) جس (ربّ) نے تجھ کو بنایا پھر تجھ کو (یعنی تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا پھر تجھ کو مناسب شکل دى (فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ) پھر جس صُورت میں چاہا تجھے ترتیب دے دیا (اگر یہی کام دوسروں نے کیے ہوتے تو وہ بے شک اللہ تعالیٰ کے شریک ہو سکتے تھے لیکن انھوں نے تو کچھ بھی نہیں کیا اور نہ وہ ایسا کر سکتے ہیں تو پھر اے انسان تو کیوں دھوکے میں مبتلا ہے اور کیوں ان بےبس ہستیوں کو قادر مطلق کا شریک ٹھہرا رکھا ہے) (كَلَّا، بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ) (تمھارا یہ عقیدہ کہ تم روز جزا کو نہیں مانتے) ہرگز (صحیح) نہیں (تمھاری گمراہی کی اصل وجہ خالق کائنات سے روگردانی نہیں) بلکہ (اصل وجہ تو یہ ہے کہ) تم روز جزا کو جھٹلاتے ہو (تمھیں اگر ڈر ہوتا کہ ایک دن اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اعمال کے متعلّق باز پرس کرے گا تو تم اللہ تعالیٰ سے رُوگردانی نہ کرتے ، نہ اس کے ساتھ شرک کرتے، نہ اللہ تعالیٰ کے متعلّق کسی دھوکے میں مبتلا ہوتے لیکن تم نے قیامت کا انکار کر دیا تو اب تم بے فکر ہو گئے اور جو چاہتے ہو کر گزرتے ہو) (وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ) حالاں کہ تم پر (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) نگہبان (مقرّر) ہیں (کِرَامًا كَاتِبِيْنَ) (وہ) با عزّت لکھنے والے ہیں (ان سے تمھارے اعمال پوشیدہ نہیں رہ سکتے) (يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (اور صرف جانتے ہی نہیں، اپنے علم کے مطابق تمھارے تمام اعمال لکھ بھی لیتے ہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۱۷ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۱۸
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۱۷ تا ۱۸)
جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو۲ ضبط کرنے والے جو (اس کے) دائیں بائیں (ضبط کرنے کےلیے تیّار) بیٹھے ہوتے ہیں (اس کام کو) ضبط کر لیتے ہیں۔ (اسی طرح) وہ کوئی بات منھ سے نہیں نکالنے پاتا کہ (اس کے لکھنے کےلیے بھی) اس کے پاس ایک نگراں تیّار رہتا ہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَ تَرٰی كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً،كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤی اِلٰی كِتٰبِهَا،اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۲۸ هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ،اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۲۹
(سُوْرَۃُ الْجَاثِیَۃِ : ۴۵، آیت : ۲۸ تا ۲۹)
اور (اے رسول) آپ ہر جماعت (کے لوگوں) کو دیکھیں گے کہ دو زانو بیٹھے ہیں، ہر جماعت (کے لوگوں) کو ان کے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا (پھر) ان سے کہا جائے گا آج تمھیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم (دنیا میں) کرتے رہے تھے۔ ہماری یہ کتاب تمھارے متعلّق (تمام باتیں) سچّائی کے ساتھ بیان کرے گی، جو کچھ تم کرتے تھے ہم اسے لکھواتے جاتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ فَقَالَ هَلْ تَدْرُوْنَ مِمَّا اَضْحَكُ قَالَ قُلْنَا اللهُ وَ رَسُوْلُهٗ اَعْلَمُ قَالَ مِنْ مَخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهٗ فَيَقُوْلُ يَا رَبِّ اَلَمْ تُجِرْنَیْ مِنَ الظُّلْمِ قَالَ يَقُوْلُ بَلٰى قَالَ فَيَقُوْلُ لَاۤ اُجِيْزُ عَلَى نَفْسِیْۤ اِلَّا شَاهِدًامِّنِّیْ فَيَقُوْلُ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيْدًا اَوْ بِالْكِرَامِ الكَاتِبِيْنَ شُهُوْدًا قَالَ فَيُخْنَمُ عَلٰى فِيْهِ فَيُقَالُ لِاَرْكَانِهِ انْطَلِقِیْ قَالَ فَنَتْطِقُ بِاَعْمَالِهٖ قَالَ ثُمَّ يُخَلّٰى بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْكَلَامِ قَالَ فَيَقُوْلُ بُعْدًا لَڪُنَّ وَ سُحْقًا فَعَنْكُنَّ كُنْتُ اُنَاضِلُ۔
(صحیح مسلم کتاب الزهد والرقاق جزء۲ صفحہ ۵۸۸ حديث : ۷۴۳۹ / ۲۹۶۹)
ہم رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں آپؐ ہنسے۔ آپؐ نے فرمایا تم جانتے ہو میں کس لیے ہنس رہا ہوں؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں بندے کی اس گفتگو سے ہنس رہا ہوں جو وہ اپنے ربّ سے کرے گا۔ بندہ کہے گا اے میرے ربّ! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی۔ اللہ فرمائے گا کیوں نہیں۔ بندہ کہے گا میں اپنے نفس پر ( کسی کی گواہی کی) اجازت نہیں دیتا سوائے اس گواہ کے جو میری طرف سے مقرّر ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج تجھ پر گواہی کے لیے تیرا نسں ہی کافی ہے یا گواہی کے لیے کرامًا کا تینْ کافی ہیں۔ پھر اس کے منھ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضا سے کہا جائے گا کہ وہ گواہی دیں۔ اس کے اعضا اس کے (بُرے اعمال) کی گواہی دیں گے۔ پھر بندے کو بات کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ وہ (اپنے اعضا سے کہے گا) تمھارے لیے دوری ہو جائے تم (مجھ سے) دور ہو جاؤ میں تمھارا ہی تو دفاع کر رہا تھا۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ہوشیار کر دیا کہ تم یہ نہ سمجھنا کہ تم سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ تم سے ضرور پوچھا جائے گا جب ہی تو تمھارے سارے اعمال ضبطِ تحریر میں لائے جا رہے ہیں۔ اب تو تمھاری بے خوفی اور بے راہ روی ختم ہو جانی چاہیے اور اگر اب بھی تمھاری بے خوفی اور بےراہ روی ختم نہ ہوئی تو پھر ایک دن آنے والا ہے جس دن (اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِيْمٍ) نیک لوگ تو نعمتوں میں (شاداں و فرحاں) ہوں گے (وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِيْمٍ) اور گناہ گار لوگ دوزخ میں (جل رہے) ہوں گے (يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّيْنِ) (اور جس سزا و جزا کے دن کو تم جھٹلا رہے ہو) اسی سزا اور جزا کے دن وہ دوزخ میں داخل ہوں گے (وَمَاهُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِيْنَ) اور اس سے (بچ کر وہ کہیں) غائب نہیں ہوسکیں گے (وَمَاۤ اَدْرٰـكَ مَا يَوْمُ الدّیْنِ) اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ وہ حساب و کتاب کا دن کیسا ہے(ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰ ـكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ) (اور اے رسول! ہم) پھر (آپ سے کہتے ہیں کہ) آپ کو کیا معلوم کہ وہ حساب و کتاب کا دن کیسا ہے (يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا وَالْاَ مْرُيَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِ) (اے رسول! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ دن کیسا ہے، وہ ایسا دن ہے کہ) اس دن کسی شخص کو کسی دوسرے شخص کے لیے (نفع ونقصان کا) ذرا سا بھی اختیار نہیں ہو گا اس دن بس اللہ ہی کی حکومت ہوگی (بس اُسی کو اختیار ہو گا کہ وہ جس کو چاہے نفع پہنچائے اور جس کو چاہے نقصان پہنچائے)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ،لَا یَخْفٰی عَلَی اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ،لِمَنِ الْمُلْڪُ الْیَوْمَ،لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۱۶
(سُوْرَۃُ حٰـمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۱۶)
جس دن وہ (قبروں سے) نکل کر (میدانِ محشر میں آ کر) کھڑے ہو جائیں گے، ان کی کوئی بات اللہ سے مخفی نہ ہو گی، (اللہ تعالیٰ فرمائے گا، بتاؤ) آج کس کی بادشاہت ہے؟ (پھر خود ہی فرمائے گا، آج) اللہ کی (بادشاہت ہے) جو اکیلا ہے اور غالب ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُڪُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا،وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ۴۲
(سُوْرَۃُ سَبَـاٍ : ۳۴، آیت : ۴۲)
(اللہ فرمائے گا) تو آج تم میں سے کسی کو کسی کے نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں، پھر ہم ظالموں سے کہیں گے (اب) تم اس دوزخ کے عذاب کا مزا چکھو جس دوزخ کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔
عمل
اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے غافل نہ ہو جایےت۔ پیدا کرنے والا وہ ہے تو نفع نقصان پہنچانے والا بھی وہی ہے۔ اس کی ذات، صفات اور حقوق میں کسی کو شریک کر کے دھوکا نہ کھائیے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے، اللہ تعالیٰ آپ کے تمام اعمال کو محفوظ کر رہا ہے اور وہ قیامت کے دن آپ کے اعمال کاآپ سے حساب و کتاب لے گا۔
اے لوگو! نیک عمل کیجیے ، بُرے عمل سے بچیےگ۔ قیامت کے دن سے ڈریئے۔ اس دن کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ اس دن تو بس اللہ اکیلے کی حکومت ہوگی۔ اُسی کو اختیار ہو گا اور سب بے بس اور بے اختیار ہوں گے۔