Surah Idha as-sama’u inshaqqat



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۸۴- سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْشَقَّتْ –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۝
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ۝۱ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ۝۲ وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ۝۳ وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْ۝۴ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ۝۵

<

ترجمہ: جب آسمان پھٹ جائے گا۝۱ اور اپنے ربّ کا حکم غور سے سنے گا (اور اس کی تعمیل کرے گا) اور یہ ہی اس کےلیے واجب ہے۝۲ جب زمین کھینچی جائے گی۝۳ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کو باہر ڈال دے گی اور خالی ہو جائے گی۝۴ وہ اپنے ربّ کا حکم غور سے سنے گی (اور اس کی تعمیل کرے گی) اور یہ ہی اس کےلیے واجب ہے۝۵

<

معانی و مصادر:(اِنْشَقَّتْ) اِنْشَقَّ، يَنْشَقُّ، اِنْشِقَاقٌ(باب انفعال) پھٹ جانا۔
(اَذْنَ) اَذْنَ ، يَاْذَنُ، اَذَنٌ (س) غور سے سننا۔
(حُقَّتُ) حَقَّ ، يَحُقُّ ، حَقٌّ (ن) ثابت ہونا ثابت کرنا ، واجب ہونا ، واجب کرنا۔
(تَخَلَّتْ) تَخَلّٰى، يَتَخَلّٰى، تَخَلِّیْ (باب تفعیل) تنہا ہو جانا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ) جب آسمان پھٹ جائے گا (وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ) اور اپنے ربّ کا حکم غور سے سنے گا (اور اس کی تعمیل کرے گا) اور یہی اس کے لیے واجب ہے (وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ) اور جب زمین کھینچی جائے گی (اور بچھا دی جائے گی)۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا۝۱۰۵ فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا۝۱۰۶ لَا تَرٰی فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا۝۱۰۷
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۵ تا ۱۰۷)
اور (اے رسول، لوگ) آپ سے پہاڑوں کے متعلّق سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ میرا ربّ ان کو چُورا چُورا کر دے گا۔ پھر ان کو ہموار چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا۔ (اے رسول) آپ کو اس (میدان) میں نہ تو کوئی موڑ نظر آئے گا اور نہ کوئی ٹیلا۔
آگے فرمایا
(وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْ) اور (جب زمین ) جو کچھ اس کے اندر ہے اس کو باہر ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ۝۴
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۴)
جب قبروں کو اُلٹ پلٹ کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا۝۱ وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا۝۲
(سُوْرَۃُ اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ: ۹۹، آیت : ۱ تا ۲)
جب زمین بڑے زور سے ہلائی جائے گی۔ اور جب زمین اپنے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی۔
اللہ تعالی فرماتا ہے :
اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ۝۹
(سُوْرَۃُ وَالْعٰدِیٰتِ: ۱۰۰، آیت : ۹)
تو کیا اسے نہیں معلوم کہ قبروں میں جو (مُردے دفن) ہیں جب انھیں (زندہ کر کے) باہر نکالا جائے گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
تَقِیْءُ الْاَرْضُ اَفَلَا ذَكَبِدَهَا اَمْثَالَ الْاُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَيَجِیْءُ الْقَاتِلُ فَيَقُوْلُ فِیْ هٰذَا قَتَلْتُ وَيَجِیْءُ الْقَاطِعُ فَيَقُوْلُ فِیْ هٰذَا قَطَعْتُ رَحِمِیْ وَيَجِیْءُ السَّارِقُ فَيَقُوْلُ فِیْ هٰذَا قُطِعَتْ يَدِىْ ثُمَّ يَدَعُوْنَهٗ فَلَا يَاْخُذُوْنَ مِنْهُ شَيْئًا۔
(صحيح مسلم كتاب الزكوة باب الترغيب فِی الصدقة قبل ان لا يوجد من يقبلها جزء اوّل صفحه ۴۰۵ حديث : ۲۳۴۱ / ۱۰۱۳)
زمین اپنے جگر کے ٹکڑے باہر ڈال دے گی۔ وہ سونے اور چاندی کے ستونوں کے مانند ہوں گے۔ قاتل آئے گا اور (ان کو دیکھ کر) کہے گا (افسوس!) میں نے اس (کی لالچ) میں (فلاں کو) قتل کیا تھا۔ رشتہ کا توڑنے والا آئے گا اور کہے گا (افسوس!) میں نے اسی (کی لالچ) میں رشتے کو توڑا تھا۔ چور آئے گا اور کہے گا (افسوس!) اسی (کی لالچ) میں میرا ہاتھ کاٹا گیا۔ پھر وہ اسے چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے۔
الغرض زمین مُردوں کو اور دفینوں کو باہر ڈال دے گی اور خالی ہو جائے گی۔
آگے فرمایا
(وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ) زمین اپنے ربّ کا حکم غور سے سنے گی (اور اس کی تعمیل کرے گی) اور یہی اس کے لیے واجب ہے۔
جب قیامت آئے گی تو آسمان اپنے ربّ کے حکم سے پھٹ جائے گا اور زمین کھینچ تان کر بچھا دی جائے گی اور اپنے ربّ کے حکم سے مُردوں کو اور دفینوں کو باہر ڈال دے گی۔ آسمان اور زمین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ربّ کے حکم کی تعمیل کریں اور وہ حکم کی تعمیل سے کبھی انکار نہیں کرتے۔ ان کے لیے زیبا اور سزا دار بھی یہ ہے کہ حکم کی تعمیل کریں۔
آسمان اور زمین کے جذبہ اطاعت و فرماں برداری کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا، ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۝۹ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ، سَوَآءً لِّلسَّآىِٕلِیْنَ۝۱۰ ثُمَّ اسْتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا،قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآىِٕعِیْنَ۝۱۱
(سُوْرَۃُ حٰمٓ السَّجْدَۃِ : ۴۱، آیت : ۹ تا ۱۱)
(اے رسول) آپ (ان سے) پوچھیے کیا تم اُس ہستی (کے واحد الٰہ ہونے) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو۲ دن میں بنایا اور کیا تم اُس کے شریک بناتے ہو (حالانکہ) وہی تو (تمام) جہانوں کا مالک ہے (دوسرے کسی چیز کے بھی مالک نہیں)۔ اُسی نے زمین میں اس کے اوپر (کی طرف) پہاڑ بنائے، پھر اس میں (ہر قسم کی) برکتیں رکھیں اور ضروریاتِ زندگی کا اہتمام کیا، (یہ سب کچھ) چار۴ دن میں (ہوا) اور (اب تمام) مانگنے والوں کےلیے (اس میں) برابر (کا حصّہ) ہے۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجّہ ہوا اور آسمان (اس وقت) دھواں تھا، اُس نے آسمان اور زمین سے کہا دونوں خوشی سے یا ناخوشی سے (ادھر) آؤ، ان دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔
عمل
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے ، قیامت ضرور آئے گی اور وہ اس وقت آئے گی جب آسمان پھٹ جائے گا اور زمین کھینچ کر بچھادی جائے گی اور اپنے اندر کی چیزوں کو باہر ڈال کر خالی ہو جائے گی۔

<
یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰی رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِ۝۶ فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ۝۷ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۝۸ وَ یَنْقَلِبُ اِلٰۤی اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا۝۹ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖ۝۱۰ فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا۝۱۱ وَ یَصْلٰی سَعِیْرًا۝۱۲ اِنَّهٗ ڪَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا۝۱۳ اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ۝۱۴ بَلٰۤی،اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًا۝۱۵
<

ترجمہ: اے انسان، تو اپنے ربّ کی طرف (پہنچنے کےلیے) مشقّت جھیلتا ہوا کوشش کرتا رہتا ہے تو (ایک دن تو ضرور) اُس سے ملاقات کرے گا۝۶ پھر (اس دن) جس شخص کو اس کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۝۷ ٖتو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۝۸ اور وہ خوش خوش اپنے گھر والوں کے پاس لوٹے گا۝۹ اور جس شخص کو اس کا نامہ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۝۱۰ ٖتو وہ موت موت پکارے گا۝۱۱ اور وہ دوزخ میں داخل ہو گا۝۱۲ (دنیا میں) وہ اپنے اہل و عیال میں (بہت) خوش تھا۝۱۳ اس کا خیال تھا کہ وہ لوٹ کر (اپنے ربّ کے پاس) نہیں جائے گا۝۱۴ کیوں نہیں (آخر اسے جانا پڑا) اس کا ربّ اسے دیکھ رہا تھا (جب وہ دنیا میں بداعمالیوں میں مشغول تھا)۝۱۵

<

معانی و مصادر: (کَدْحٌ) كَدَحَ، يَكْدَحُ، کَدْحٌ (ف) خوب کوشش کرنا، مشقّت جھیلنا، نوچنا، زخمی کرنا ٹکڑے ٹکڑے کرنا عیب لگانا۔
(ثُبُوْرٌ) ثَبَرَ، يَثْبُرُ، ثُبُوْرٌ (ن) ہلاک ہونا، مرنا (ثُبُوْرٌ= موت)
(سَعِيْرٌ) سَعَرَ، يَسْعُرُ، سَعْرٌ(ن) بھڑکانا۔
(يَحُوْرُ) حَارَ ، يَحُورُ ، حَوْرٌ (ن) لوٹنا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِ حٌ اِلٰی رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِ) اے انسان تو اپنے ربّ کی طرف (پہنچنے کے لیے) مشقّت جھیلتا ہوا کوشش کرتا رہتا ہے تو (ایک دن) تو ضرور اس سے ملاقات کرے گا (قیامت یقیناً آئے گی اور تجھے اس دن اپنے ربّ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا حساب دینا ہوگا) (فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ) پھر (اس دن) جس شخص کو اس کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا (فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا) تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا (وَ یَنْقَلِبُ اِلٰۤی اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا) اور وہ خوش خوش اپنے گھر والوں کے پاس لوٹے گا (وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖ) اور جس شخص کو اس کا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا (فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا) تو وہ موت موت پکارے گا (وَ یَصْلٰی سَعِیْرًا) اور دوزخ میں داخل ہوگا۔
جن لوگوں کا قیامت پر ایمان ہوگا اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے احکام کے مطابق اچّھے عمل کیے ہوں گے ان کو ان کا نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اس کو لے کر بہت خوش ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ ڪِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ، فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْ۝۱۹ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْ۝۲۰ فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ۝۲۱ فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍ۝۲۲ قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ۝۲۳ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ۝۲۴
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۱۹ تا ۲۴)
پھر جس شخص کو اس کا (اعمال) نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ (فرطِ مسّرت سے) کہے گا لو، یہ میرا (اعمال) نامہ پڑھو۔ مجھے یقین تھا کہ (ایک دن) میرا حساب (تحریری صُورت میں) مجھے ملے گا۔ تو (اے رسول) یہ شخص خاطر خواہ عیش (وراحت) میں ہو گا۔ بلند وبالا جنّتوں میں (وہ رہے گا)۔ جن (میں پھلوں) کے خوشے جُھک رہے ہوں گے۔ (ان سے کہا جائے گا) جو عمل تم نے گز شتہ ایّام میں آگے بھیج دیے تھے ان کے بدلے میں بغیر مشقّت کھاؤ اور پیو۔
جن لوگوں سے آسان حساب لیا جائے گا ان کے اعمال کی سرسری پیشی ہوگی اور وہ نجات پا جائیں گے۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ اَحَدٌ يُحَاسَبُ اِلَّا هَلَكَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ جَعَلَنِی اللهُ فِدَآءَكَ الَيْسَ يَقُوْلُ اللهُ تَعَالٰى فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتَابَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا قَالَ ذَاكَ الْعَرْضُ يُعْرَضُوْنَ وَمَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ۔
(صحیح بخارى كتاب التفسير باب تفسير سورة اذا السماء انشقت جزء ۶ صفحہ ۲۰۸ حديث : ۴۹۳۹ / ۴۶۵۵ وصحیح مسلم كتاب الجنة باب اثبات الحساب جزء ۲ صفحہ ۵۴۷ حديث : ۷۲۲۵ / ۲۸۷۶ واللفظ للبخاری)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: جس شخص سے حساب لیا جائے گاوہ (ضرور) ہلاک ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر سے قربان کرے کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ جس شخص کے سیدھے ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا اس سےآسان حساب لیا جائے گا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: یہ تو (صرف) پیشی ہوگی۔ وہ پیش کیے جائیں گے (اور بس، پوچھ کچھ کچھ نہیں ہوگی) لیکن جس شخص سے حساب و کتاب میں کرید کی جائے گی وہ ہلاک ہو جائے گا“۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت زیر تفسیر میں حساب یسیر سے مراد سرسری پیشی ہے۔ جن لوگوں سے آسان حساب لیا جائے گا ان کے حساب میں کرید نہیں کی جائے گی۔ ان لوگوں کے برخلاف جن کو ان کا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ان کی بڑی خرابی ہے۔ بائیں ہاتھ میں دینا اور وہ بھی پیٹھ کے پیچھے سے یہ ان کے مزید ذلّت اور رسوائی کا سبب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ،فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْ۝۲۵ وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْ۝۲۶ یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَ۝۲۷ مَاۤ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَهْ۝۲۸ هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْ۝۲۹
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۲۵تا ۲۹)
اور جس شخص کو اس کا (اعمال) نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا اے کاش!! میرا (اعمال) نامہ مجھے نہ دیا جاتا۔ اور نہ میں یہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے ۝۲۶ اے کاش!! موت نے میرا کام تمام کر دیا ہوتا۔ (آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا۔ میری قوّت میرے پاس سے جاتی رہی۔
آگے فرمایا
(اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا) وہ دنیا میں اپنے اہل و عیال میں بڑا خوش تھا۔ آیات زیرِ تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے سیدھے ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا وہ اپنے گھر والوں کے پاس خوش خوش لوٹے گا لیکن وہ شخص جس کو نامۂ اعمال الٹے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ دنیا میں تو بے شک اپنے اہل و عیال میں خوش تھا لیکن وہاں میدانِ محشر میں خوش نہیں ہوگا بلکہ ایسی مصیبت میں گرفتار ہو گا کہ موت کی تمنّا کرے گا (اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ) (یہ حالت اس کی اس لیے ہوگی) کہ اس کا یہ خیال تھا کہ وہ لوٹ کر (اپنے ربّ کے پاس) نہیں جائے گا (بَلٰۤی، اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًا) کیوں نہیں (آخر اسے جانا پڑا۔ جب وہ دنیا میں بداعمالیوں میں مشغول تھا تو) اُس کا ربّ (اس سے غافل نہیں تھا بلکہ) اسے دیکھ رہا تھا (اللہ کوعلم ہے کہ وہ کیا کیا بد اعمالیاں کرتا رہا تھا۔ یہ وہی بد اعمالیاں ہوں گی جن کو اپنے نامۂ اعمال میں دیکھ کر وہ موت موت پکارے گا لیکن وہاں موت نہیں آئے گی)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِذَا صَارَ اَهْلُ الْجَنَّةِ اِلَى الْجَنَّةِ وَاَهْلُ النَّارِ اِلَى النَّارِ جَیْءَ بِالْمَوْتِ (وَفِیْ رِوَايَةٍ كَاَنَّهُ كَبْشٌ اَمْلَحُ) حَتّٰى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ ثُمَّ يُذْبَحُ ثُمَّ يُنَادِیْ مُنَادٍ يَا اَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ (وَفِی رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ ڪُلٌّ خَالِدٌ فِيْمَا هُوَ فِيْهِ) فَيَزْدَادُ اَهْلُ الْجَنَّةِ فرَحًا اِلٰى فَرَحِهِمْ وَيَزَادَادُ اَهْلُ النَّارِ حُزْنًا اِلٰى حُزنِهِمْ ۔
[arb][ref](صحیح بخارى كتاب الرقاق باب صفة الجنة جزء ۸ صفحہ ۱۴۲ حديث : ۶۵۴۸ / ۶۱۸۲ و تفسير سورة مريم جزء ۶ صفحہ ۱۱۸ حديث : ۴۷۳۰ / ۴۴۵۳ وصحیح مسلم کتاب الجنة باب الناريدخلها الجبارون صفحہ ۵۳۸ حديث : ۷۱۸۳ / ۲۸۵۰)
[/ref][urdu]جب جنّتی جنّت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے تو موت کو (اس حالت میں) لایا جائے گا گویا کہ وہ ایک چتکبّر مینڈھا ہے۔ اسے جنّت اور دوزخ کے درمیان رکھ دیا جائے گا پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر ایک منادی ندا کرے گا، اے اہل جنّت اب موت نہیں آئے گی اور اے اہل دوزخ اب موت نہیں آئے گی ، ہر شخص ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا جس حال میں وہ اب ہے، یہ سن کر جنّتیوں کی خوشی اور بڑھ جائے گی اور دوزخیوں کے غم میں اضافہ ہو جائے گا“۔ نوٹ: خط کشیدہ عبارت صرف صحیح مسلم میں ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
[/urdu][arb]يُقَالُ لِاَهْلِ الْجَنَّةِ يَا اَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَلِاَهْلِ النَّارِ يَا اَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ
(صحیح بخاری کتاب الرقاق باب بدخل الجنة سبعون الفا بغیر حساب جزء ۸ صفحہ۱۴۱ حديث : ۶۵۴۵ / ۶۱۷۹، وصحيح مسلم (حديث : ۷۱۸۱ / ۲۸۴۹)
جنّتیوں سے کہا جائے گا اے اہل جنّت، (تمھیں یہاں) ہمیشہ رہنا ہے (اب تمھیں) موت نہیں آئے گی اور دوزخیوں سے کہا جائے گا اے اہل دوزخ، ( تمھیں یہاں) ہمیشہ رہنا ہے (اب تمھیں) موت نہیں آئے گی“۔
عمل
اے لوگو! قیامت کے ایمان پر ایمان لایے، بداعمالیوں سے بچیے اور یقین رکھئیے کہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی تمام بد اعمالیوں کا علم ہے۔

<
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ۝۱۶ وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَ۝۱۷ وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ۝۱۸ لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ۝۱۹ فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۝۲۰ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَ۩۝۲۱ بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ۝۲۲ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ۝۲۳ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ۝۲۴ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۝۲۵
<

ترجمہ: میں شفق کی قسم کھاتا ہوں۝۱۶ میں رات کی اور جن چیزوں کو وہ جمع کر لیتی ہے ان سب کی قسم کھاتا ہوں۝۱۷ اور میں چاند کی جب وہ پورا ہو جائے قسم کھاتا ہوں۝۱۸ تم منزل بمنزل (سفرِ زندگی) طے کرو گے۝۱۹ تو ان (کافروں) کو کیا ہو گیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے۝۲۰ اور جب ان کو قرآن سنایا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۩۝۲۱ بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں۝۲۲ اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ جمع کر رہے ہیں۝۲۳ تو (اے رسول) آپ انھیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجیے۝۲۴ مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کےلیے غیر منقطع اجر ہے۝۲۵

<

معانی و مصادر: (وَسَقَ) وَسَقَ، يَسِقُ، وَسَقٌ (ض) جمع کرنا اور اٹھا لینا۔
(اِتَّسَقَ) اِتَّسَقَ، يَتَّسِقُ، اِتِّسَاقٌ (باب افتعال) پوری قوّت اور جوانی کو پہنچنا ۔
(طَبَقٌ) طَبَقٌ=مطابق ، ڈھکنا، طباق جس پر کھانا کھایا جائے ، حال ، مرتبہ۔
(يُوْعُوْنَ) اَوْعٰى، يُوْعِیْ، اِیْعَاءٌ (باب افعال) حفظ کرنا، جمع کرنا۔

<

تفسیر : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ) میں شق کی قسم کھاتا ہوں (وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَ) اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ جمع کر لیتی ہے ان سب کی قسم (کھاتا ہوں) (وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ) اور چاند کی قسم (کھاتا ہوں) جب وہ پورا ہو جائے۔
شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو افق آسمان پر مغرب کے وقت نظر آتی ہے۔ غروب آفتاب سے مغرب کا وقت شروع ہوتا ہے اور شفق کے غائب ہونے تک رہتا ہے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
وَ وَقْتُ صَلٰوةِ الْمَغْرِبِ اِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مَالَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ (صحیح مسلم كتاب الصلوة باب اوقات الصلاة الخمس جزء اوّل صفحہ ۲۴۷ حدیث : ۱۳۸۹ / ۶۱۲)
مغرب کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب سورج غائب ہو جائے (اور اس وقت تک رہتا ہے) جب تک شفق غائب نہ ہو جائے۔
(وَ مَا وَسَقَ) سے انسان اور جانور مراد ہیں جو رات کے وقت اپنے اپنے مکانات، باڑوں اور گھونسلوں میں جمع ہوجاتے ہیں۔
چاند پورا ہونے سے مراد ماہِ کامل ہے۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے قسمیں کھانے کے بعد فرمایا
(لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ) تم منزل بمنزل (سفرِ زندگی) طے کرو گے (کبھی تمھاری کچھ حالت ہوگی اور کبھی کچھ حالت ہو گی۔ زندگی کے حالات بدلتے رہیں گے کبھی بچپن، کبھی جوانی کبھی بڑھا پا کبھی صحت کبھی مرض کبھی خوشی و راحت ، کبھی رنج اور تکلیف)۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ حَالَا بَعْدَ حَالٍ قَالَ هَذَا نَبِيُّكُمْ
(صحیح بخاری کتاب التفسير باب تفسير سورة اذا السماء انشقت جزء ۶ صفحہ ۲۰۸ حديث : ۴۹۴۰ / ۴۶۵۶)
تم منزل بمنزل زندگی طے کرو گے یعنی ایک حالت کے بعد (دوسری) حالت آئے گی۔ یہ تمھارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ہے۔
انسان کے حالات کو بدلنے کا فاعلِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ جب یہ تمام تبدیلیاں اللہ تعالیٰ کرتا رہتا ہے تو درحتیں وہی الٰہ ہے۔ دوسرے ان تبدیلیوں کا مطلق اختیار نہیں رکھتے لہٰذا وہ کیسے الٰہ ہو سکتے ہیں اور کس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہو سکتے ہیں۔ جو اللہ یہ تمام کام انجام دیتا ہے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ انسانوں کو مرنے کے بعد قیامت کے روز دوبارہ پیدا کر دے
(فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ) تو ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ (اللہ پر اور قیامت پر) ایمان نہیں لاتے (وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَ) اور جب ان کو قرآن سنایا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے (انھیں چاہیے کہ قادرِ مطلق کی قدرت پر ایمان لائیں اور قرآن مجید سن کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں) (بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ) لیکن (ایمان لانا توکجا) یہ کافر تو اسے جھٹلاتے ہیں (وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ (اپنی آخرت کے لیے) جمع کر رہے ہیں (اللہ ان کے اعمال سے پوری طرح واقف ہے) (فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ) تو (اے رسول) آپ انھیں درد ناک عذاب کی خوش خبری سنادیجیے (اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ) مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر و ثواب ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
يُنَادِیْ مُنَادٍ اِنَّ لَكُمْ اَنْ تَصِحُّوْا فَلَا تَسْقَمُوْااَبَدًا وَ اِنَّ لَكُمْ اَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوْتُوْا اَبَدًا وَ اِنَّ لَكُمْ اَنْ تَشِبُّوْا فَلَا تَهْرَ مُوْا اَبَدًا وَ اِنَّ لَكُمْ اَنْ تَنْعَمُوْا فَلَا تَبْتَئِسُوْا اَبَدًا فَذٰلِكَ قَوْلُهٗ عَزَّ وَجَلَّ وَنُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِ ثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
(صحیح مسلم کتاب الجنة باب فِی دوام نعیم اهل الجنة جزء ۲ صفحہ ۲۳۴ حديث : ۷۱۵۷ / ۲۸۳۷)
ایک منادی (جنّتیوں کو مخاطب کر کے) اعلان کرے گا کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہیں ہوگے تم زندہ رہو گے کبھی نہیں مرو گے تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے تم خوش حال رہو گے تم کبھی بدحال نہیں ہو گے، یہی مطلب ہے اللہ عز وجل کے اس فرمان (عالی شان) کا (وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْڪُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) پھر ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ جو عمل تم (دنیا میں) کرتے تھے ان کے بدلے میں (اب) تم کو اس جنّت کا وارث بنا دیا گیا ہے۔
یہ حدیث گویا
(اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ) (غیر منقطع اجر) کی تفسیر ہے۔
سجدہ تلاوت : رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم جب یہ آیت
(وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَ) تلاوت فرماتے تو سجدہ کیا کرتے تھے۔
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رَاَيْتُ اَبَا هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ قَرَاَ اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَتْ فَسَجَدَ بِهَا فَقُلْتُ يَا اَبَا هُرَيْرَةَ اَلَمْ اَرَكَ فَسَجَدَ قَالَ لَوْ لَمْ اَرَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ لَمْ اَسْجُدُ
(صحیح بخاری کتاب الصلوة باب سجدة اذا السماء انشقت جزء۲ صفحہ۵۱ حديث : ۱۰۷۴ / ۱۰۲۴، وصحيح مسلم حديث : ۱۳۰۶ / ۵۷۸)
میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے جب سورۂ اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ پڑھی تو اس میں سجدہ تلاوت کیا۔ میں نے کہا اے ابوہریرہ! کیا میں نے تمھیں سجدہ کرتے نہیں دیکھا (تم نے کیوں سجدہ کیا) انھوں نے فرمایا اگر میں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو سجدہ کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی سجدہ نہ کرتا (یعنی میں نے اس لیے سجدہ کیا کہ اس سورت میں سجدہ کرنا سنّت ہے)۔
عمل
اے ایمان والو! جب قرآن مجید میں سجدہ کی آیت آئے تو سجدہ کیا کیجیے۔
نوٹ: سجدہ تلاوت کے متعلّق مزید معلومات کے لیے سورۂ اعراف کی آیت ۲۰۶ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
اے لوگو! قرآن مجید پر ایمان لایے، قرآن مجید کا انکار ہر گز نہ کیجیے۔

<

Share This Surah, Choose Your Platform!