Surah Idha ash-shamsu kuwwirat



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۸۱ – سُوْرَۃُ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۝۱ وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۝۲ وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۝۳ وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۝۴ وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۝۵ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۝۶ وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۝۷ وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ۝۸ بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ۝۹ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۝۱۰ وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۝۱۱ وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۝۱۲ وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۝۱۳ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ۝۱۴

<

ترجمہ: جب سورج کو لپیٹ لیا جائے گا۝۱ جب تارے جھڑ جائیں گے۝۲ جب پہاڑ چلائے جائیں گے۝۳ جب گیابھن اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی۝۴ جب وحشی جانور اکٹّھے کیے جائیں گے۝۵ جب سمندروں میں طغیانی آئے گی۝۶ جب لوگوں کو (ایک دوسرے سے) ملا دیا جائے گا۝۷ جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۝۸ کہ وہ کس جرم میں قتل کی گئی۝۹ جب (اعمال کے) صحیفے کھولے جائیں گے۝۱۰ جب آسمان کی کھال کھینچی جائے گی۝۱۱ جب دوزخ دہکائی جائے گی ۝۱۲ جب جنّت قریب لائی جائے گی۝۱۳ تو (اس دن) ہرشخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۝۱۴

<

معانی و مصادر: (كُوِّرَتْ) کَوَّرَ ، يُكَوِّرُ ، تَكْوِيْرٌ (باب تفعیل) لپیٹنا،
(اِنْكَدَرَتْ) اِنْكَدَرَ ، يَنْكَدِرُ ، اِنْکِدَارٌ (باب افعال) جھڑ پڑنا۔
(عُطِّلَتْ) عَطَّلَ، يُعَطِّلُ، تَعْطِيْلٌ (باب تفعیل) بےکار چھوڑ دینا۔
(وُحُوْشٌ) وَحَشَ، يَحِشُ، وَحْشٌ و وَحَشٌ (ض) خوف کی وجہ سے پھینک دینا۔ (وُحُوْشٌ=وَحْشٌ کی جمع ، جنگلی جانور)
(سُجِّرَتْ) سَجَّرَ، يُسَجِّرُ، تَسْجِيْرٌ (باب تفعیل) گرم کرنا، سمندر کا طغیانی میں آنا۔
(زُوِّجَتْ) زَوَّجَ، يُزَوِّجُ، تَزْوِيْجٌ (باب تفعیل) نکاح کرنا، ایک دوسرے سے ملانا۔
(مَوْءٗدَةٌ) وَأَدَ، يَئِدُ، وَأْدٌ (ض) زندہ گاڑنا۔
(کُشِطَتْ) كَشَطَ، يَكْشِطُ، كَشْطٌ (ض) کھال اتارنا ، جھول اتارنا، ڈھکنا ہٹا دینا۔
(سُعِّرَتْ) سَعَّرَ، يُسَعِّرُ، تَسْعِیْرٌ (باب تفعیل) بھڑ کا نا۔
(اُزْلِفَتْ) اَزْلَفَ، يُزْلِفُ، اِزْلَافٌ (باب افعال) قریب کرنا، جمع کرنا۔
(اَحْضَرَتْ) اَحْضَرَ، يُحْضِرُ، اِحْضَارٌ (باب افعال) حاضر کرنا۔

<

تفسیر : قیامت کا حال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ) جب سورج کو لپیٹ لیا جائے گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَرَّرَانِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ
(صحیح بخارى كتاب بدء الخلق باب صفة الشمس والقمر بحسبان جزء ۴صفحہ ۱۳۱ حديث : ۳۲۰۰ / ۳۰۲۸)
قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ لیا جائے گا۔
(وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ) جب تارے جھڑ جائیں گے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ۝۲
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۲)
جب تارے جھڑ جائیں گے۔
(وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ) جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا۝۲۰
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ: ۷۸، آیت : ۲۰)
پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ تَڪُوْنُ الْجِبَالُ ڪَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ۝۵
(سُوْرَۃُ اَلْقَارِعَۃُ: ۱۰۱، آیت : ۵)
اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اُون۔
(وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ) جب گیابنئ اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی (قیامت کے دن ان کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہے گی، ہرشخص کو اپنی جان کی پڑی ہوگی) ۔
(وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ) جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے (قیامت کے دن وحشی جانوروں کو بھی جمع کیا جائے گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىِٕرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ،مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ۝۳۸
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۳۸)
(اے انسانو) زمین میں جتنے چوپائے اور دو۲ بازوؤں سے اڑنے والے جتنے پرند ہیں یہ سب تمھاری طرح جماعتیں ہیں (ان سب کا حال لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے) ہم نے اس کتاب میں کسی بھی چیز کا حال لکھنے میں کوتاہی نہیں کی، پھر (قیامت کے دن) یہ سب اپنے ربّ کے پاس جمع کیے جائیں گے۔
(وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ) جب سمندروں میں طغیانی آئے گی۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ۝۳
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۳)
جب سمندروں میں طغیانی آئے گی۔
(وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ) جب لوگوں کو (ایک دوسرے سے) ملا دیا جائے گا (میدانِ محشر میں سب اکٹھے ہو جائیں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَ۝۴۹ لَمَجْمُوْعُوْنَ، اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۝۵۰
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۴۹ تا۵۰)
(اے رسول) آپ کہہ دیجیے بےشک اگلے اور پچھلے سب۔ ایک مقرّرہ دن مقرّرہ وقت پر جمع کیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ،جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ۝۳۸
(سُوْرَۃُ وَالْمُرْسَلٰتِ: ۷۷، آیت : ۳۸)
(اس دن ان سے کہا جائے گا) یہ فیصلے کا دن ہے، (آج) ہم نے تم کو اور (تم سے) پہلے کے لوگوں کو جمع کیا ہے۔
(وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ) اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفن کر دی گئی تھی پوچھا جائے گا (بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ) کہ وہ کس جرم میں قتل کی گئی تھی۔
ایّامِ جاہلیّت میں لڑکیوں کو زمین میں زندہ دفن کردیا کرتے تھے اس کے دو۲ اسباب تھے:
(۱) مفلسی (۲) بدنامی و رسوائی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ،نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ،اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً ڪَبِیْرًا۝۳۱
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۳۱)
اور (اے لوگو) مفلسی کے اندیشے سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم انھیں بھی کھلائیں گے اور تمھیں بھی کھلائیں گے (رزق تو ہمارے ذِمّہ ہے، تمھیں فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے) بےشک اولاد کا قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَڪُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ،نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ،
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۱۵۱)
مفلسی (کے ڈر) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا (اللہ نے اولاد کو قتل کرنا تم پر حرام کر دیا ہے، اللہ فرماتا ہے کہ) ہم تمھیں بھی کھلاتے ہیں انھیں بھی کھلائیں گے،
رسوائی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ ڪَظِیْمٌ۝۵۸ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ،اَیُمْسِڪُهٗ عَلٰی هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ،اَلَا سَآءَ مَا یَحْڪُمُوْنَ۝۵۹
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۵۸ تا ۵۹)
(بیٹیوں کی پیدائش کے سلسلے میں تو ان کا یہ حال ہے کہ) جب ان میں سے کسی کوبیٹی (کی پیدائش) کی خبر دی جاتی ہے تو (رنج و غم سے) ان کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے غم و غصّہ سے وہ (اندر ہی اندر) گُھٹ کر رہ جاتا ہے۔ جس بُرائی کی خبر اسے دی جاتی ہے اس کی بُرائی کی وجہ سے وہ (اپنی) قوم سے منھ چُھپاتا پھرتا ہے، (دِل میں سوچتا ہے کہ) آیا وہ اس ذِلّت کو برداشت کر کے اس کو زندہ رہنے دے یا اس کو زمین میں (زندہ) گاڑ دے، خبردار (اس لحاظ سے تو اللہ کےلیے لڑکیاں اور اپنے لیے لڑکے تجویز کرنے کا) جو فیصلہ یہ کرتے ہیں وہ بہت بُرا فیصلہ ہے۔
لڑکی کو زندہ درگور کر دینا بہت بڑا گناہ ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوْقَ الْاُمَّهَاتِ وَوَادَ الْبَنَاتِ وَ مَنَعَ وَهَاتِ وَ كَرِهَ لَكُمْ قِيْلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّئَوالِ وَاضَاعَةَ الْمَالِ۔
(صحیح بخاری کتاب الاستقراض باب ما ينهي من اضاعة المال جزء ۳ صفحه ۱۵۷ حديث : ۲۴۰۸ / ۲۲۷۷، وصحيح مسلم حديث : ۴۴۸۳ / ۵۹۳)
اللہ تعالیٰ نے ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کا زندہ گاڑ دینا، دینے سے انکار کرنا اور لینے کے لیے تیّار رہنا (یہ تمام بُری خصلتیں) تم پر حرام کر دی ہیں اور اللہ قیل وقال سوال کی کثرت اور مال کے ضائع کرنے کو تمھارے لیے نا پسند کرتا ہے۔
لڑکی کو زندہ گاڑنا اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔ اس سلسلے میں عورتوں سے خصوصی طور پر بیعت لی جاتی تھی کہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد ایسا نہیں کریں گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَڪَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤی اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْـًٔا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ،اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۝۱۲
(سُوْرَۃُ الْمُمْتَحِنَّۃِ: ۶۰، آیت : ۱۲)
اے نبی، جب مومنہ عورتیں آپ کے پاس (ان شرائط کے ساتھ) بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ ذرا سا بھی شرک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان (یعنی گھڑ گھڑا کر کسی پر) بُہتان نہیں لگائیں گی اور معروف کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی تو آپ ان سے بیعت لے لیا کیجیے اور ان کےلیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کیجیے، بےشک اللہ بڑا بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔
آگے فرمایا
(وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ) جب اعمال نامے کھولے جائیں گے۔ ہرشخص کے اعمال صحیفوں میں لکھے جار ہے ہیں۔ یہ صحیفے قیامت کے دن انسانوں کو دے دیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىِٕرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ،وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا۝۱۳ اِقْرَاْ كِتٰبَكَ،كَفٰی بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًا۝۱۴
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۱۳ تا ۱۴)
اور ہم نے ہر انسان (کے اعمال) کی بھلائی بُرائی کو اس انسان کی گردن میں لٹکا دیا ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے (دکھانے کے) لیے ایک کتاب نکالیں گے جس کو وہ (اپنے سامنے) کھلا ہوا پائے گا۔ (پھر ہم اس سے کہیں گے) اپنی کتاب پڑھ (اور اپنے اعمال کا جائزہ لے) آج تو اپنے (اعمال کا) حساب لینے کےلیے خود ہی کافی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وُضِعَ الْڪِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا ڪَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا،وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا،وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۝۴۹
(سُوْرَۃُ الْکَـھْـفِ: ۱۸، آیت : ۴۹)
پھر (اے رسول، ہر ایک کا) اعمال نامہ (اس کے سامنے) رکھ دیا جائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ گناہ گار لوگ جو کچھ اس میں (تحریر) ہو گا اس (کو دیکھ کر اس کی سزا) سے ڈر رہے ہوں گے اور یہ کہہ رہے ہوں گے ہائے افسوس یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑی اور نہ کوئی بڑی بات چھوڑی، سب کو گِن گِن کر محفوظ کر لیا ہے، الغرض جو عمل انھوں نے کیے ہوں گے وہ ان سب کو (اس میں) موجود پائیں گے اور (اے رسول) آپ کا ربّ کسی پر ظلم نہیں کرے گا (بلکہ اس کے اعمال کے مطابق ہی اسے بدلہ دے گا)۔
آگے فرمایا
(وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ) جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی (یعنی جب آسمان کھول دیا جائے گا، وہ پھٹ جائے گا اور اس میں کئی دروازے ہو جائیں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ۝۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۱)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ۝۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْشَقَّتْ: ۸۴، آیت : ۱)
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَڪَانَتْ اَبْوَابًا۝۱۹
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ: ۷۸، آیت : ۱۹)
آسمان کھول دیا جائے گا تو (اس کے کئی) دروازے ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىِٕذٍ وَّاهِیَةٌ۝۱۶
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۱۶)
آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن وہ بہت ہی کمزور ہو گا۔
(وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ) جب دوزخ دہکائی جائے گی(وَاِذَا الْجَنَّةُ اُزْ لِفَتْ) جب جنّت قریب لائی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ۝۳۱
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۳۱)
(اس دن) جنّت متّقیوں کے قریب کر دی جائے گی، (بالکل) دور نہیں ہو گی۔
(عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ) (جس دن قیامت قائم ہوگی تو اس دن) ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا وہ کیا لے کر آیا ہے (کون کون سے عمل اس نے دنیا میں کیے تھے، اعمال نامہ دیکھ کر اسے ان تمام اعمال کا علم ہو جائے گا)۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا،وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ،تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا،وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ،وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۝۳۰
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۳۰)
(یہ سزا) اس دن (دی جائے گی جس دن) ہر شخص اپنے اچّھے اعمال کو موجود پائے گا اور بُرے اعمال کو بھی (موجود پائے گا، وہ ایسا ہولناک وقت ہو گا کہ اس وقت) ہر شخص چاہے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے بُرے اعمال کے درمیان بہت طویل فاصلہ ہوتا اور (دیکھو) اللہ (پھر) تم کو اپنے نفس سے ڈراتا ہے اور (یہ بھی جان لو کہ) اللہ (تعالیٰ) بندوں پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىِٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَ۝۱۳
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۱۳)
اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے کون کون سے عمل آگے بھیجے تھے اور کون کون سے عمل پیچھے چھوڑ آیا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْ۝۵
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۵)
(تو اس وقت) ہرشخص کو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا کیا پیچھے چھوڑ آیا تھا۔
الغرض قیامت آئے گی۔ اس دن لوگوں سے ان کے اعمال کے متعلّق باز پرس ہوگی۔
عمل
اے لوگو! اچّھے عمل کیجیے تا کہ آپ قیامت کے دن سرخرو ہوں۔

<
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ۝۱۵ اَلْجَوَارِ الْڪُنَّسِ۝۱۶ وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ۝۱۷ وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ۝۱۸ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ ڪَرِیْمٍ۝۱۹ ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍ۝۲۰ مُطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ۝۲۱ وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍ۝۲۲ وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ۝۲۳ وَ مَا هُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ۝۲۴ وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ۝۲۵ فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَ۝۲۶ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۝۲۷ لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَ۝۲۸ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۝۲۹
<

ترجمہ: ان ستاروں کی قسم جو (چلتے چلتے) پیچھے ہٹ جاتے ہیں۝۱۵ اور (چلتے چلتے) غائب ہو جاتے ہیں۝۱۶ رات کی قسم جب وہ جانے لگے۝۱۷ صبح کی قسم جب وہ روشن ہو جائے۝۱۸ بےشک یہ ایک معزّز فرشتے کا (پہنچایا ہوا) کلام ہے۝۱۹ جو (بڑا) طاقتور اور عرش والے کے پاس بلند مرتبہ ہے۝۲۰ وہ سردار ہے اور وہاں بڑا امانت دار ہے ۝۲۱ اور (اے کافرو) تمھارے ساتھی دیوانے نہیں ہیں۝۲۲ بےشک انھوں نے اس فرشتے کو آسمان کے صاف و شفّاف کنارے پر دیکھا ہے۝۲۳ وہ غیب (کی باتیں بتانے) پر بخل نہیں کرتے (جو پیغام بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس آتا ہے اسے بے کم و کاست پہنچا دیتے ہیں، بےشک یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے)۝۲۴ یہ شیطان مردود کا بنایا ہوا کلام نہیں۝۲۵ پھر تم کدھر چلے جا رہے ہو۝۲۶ یہ (قرآن) تو تمام (اقوام) عالم کےلیے نصیحت ہے۝۲۷ (مگر مفید) اس کےلیے ہے جو سیدھے راستے پر چلنا چاہے۝۲۸ اور (اے لوگو) تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو اللہ ربُّ العالمین چاہے۝۲۹

<

معانی و مصادر: (خُنَّسٌ) خَنَسَ، یَخَنِسَ ، يَخْنُسُ، خَنُسٌ و خُنُوْسٌ و خِنَاسٌ (ن و ض) پیچھے ہٹ جانا۔ (خُنَّسٌ=خَانِسٌ کی جمع، پیچھے ہٹ جانےوالے)
(جَوَارٌ)جَرٰى، يَجْرِی، جَرْىٌ و جَرَيَانٌ و جِرْيَةٌ (ض) بہنا، جاری ہونا۔(جَوَارٌ=جَارِيَةٌ کی جمع، جاری نہریں، کشتیاں)
(كُنَّسٌ) كَنَسَ، يَكْنِسُ، كُنُوسٌ (ض) غائب ہو جانا۔ (كُنَّسٌ=کَانِسٌ کی جمع، چھپنے والے)
(عَسْعَسَ) عَسْعَسَ، يُعَسْعِسُ، عَسْعَسَةٌ (باب فَعَلَلَۃٌ، رباعی مجرد) گزرجانا، تاریک کرنا۔
(تَنَفَّسَ) تَنَفَّسَ، يَتَنَفَّسُ، تَنَفُّسٌ (باب تفعل) سانس لینا، روشن ہونا۔
(مَكِيْنٌ) مَكُنَ، يَمْكُنُ، مَكَانَةٌ (ک) بلند مرتبہ ہونا۔ (مَكِيْنٌ=بلند مرتبہ والا)
(مُطَاعٌ) اَطَاعَ، يُطِيْعُ، اِطَاعَةٌ (باب افعال) فرمان برداری کرنا۔ (مُطَاعٌ=وہ جس کی اطاعت کی جائے)
(اَمِيْنٌ) اَمُنَ، يَاْمُنُ، اَمَانَةٌ (ک) امین ہونا۔
(اُفُقٌ) اَفَقَ، يَاْفِقُ، اَفْقٌ (ض) آفاق میں جانا، دباغت دینا۔ (اُفُقٌ=وہ جگہ جہاں آسمان اور زمین بظاہر ملتے ہوئےنظر آتے ہیں)
(ضَنِيْنٌ) ضَنَّ ، يَضَنُّ، يَضِنُّ، ضَنٌّ و ضِنٌّ و ضِنَّةٌ و ضَنَانَةٌ ومَضَنّةٌ (ف و ض) بخل کرنا۔ (ضَنِيْنٌ=بخیل)
(شَيْطٰنٌ) شَطَنَ ، يَشْطُنُ، شَطْنٌ (ن) دور کرنا۔

<

تفسیر : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ) ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ (الْجَوَارِ الْكُنَّسِ)(اور) چلتے چلتے غائب ہو جاتے ہیں۔
آگے فرمایا
(وَالَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَ) رات کی قسم جب وہ جانے لگے (وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ) (اور) صبح کی قسم جب وہ روشن ہو جائے(اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ) یہ ایک معزز فرشتے کا (پہنا یا ہوا) کلام ہے (ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِى الْعَرْشِ مَكِيْنٍ) جو (بڑا) طاقتور اور عرش والے کے پاس بلند مرتبہ ہے۔ (مُطَاعٍ ثُمَّ اَمِيْنٍ) وہ سردار ہے اور وہاں (اللہ کے نزدیک بڑا) امانت دار ہے۔
رسولِ کریم سے مراد حضرت جبریل علیہ السّلام ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰی قَلْبِڪَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۝۹۷
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۹۷)
(اے رسول) آپ کہہ دیجیے جو شخص جبریل کا دشمن ہو تو (اسے خبردار ہو جانا چاہیے کہ) بےشک وہی تو ہے جس نے اللہ کے حکم سے یہ کتاب آپ کے قلب پر اتاری ہے، جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ایمان والوں کےلیے ہدایت اور بشارت (کا مثردہ سناتی) ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّڪَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ۝۱۰۲
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۱۰۲)
(اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ اس (قرآن) کو آپ کے ربّ کی طرف سے روحُ القدّس نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ (یہ قرآن) ایمان والوں کو ثابت (قدم) رکھے، مسلمین کو راہِ راست پر چلائے اور (جنّت کی) بشارت سنائے۔
جبریل علیہ السّلام کی پہلی صفت تو اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کی کہ وہ کریم یعنی عزّت والے ہیں۔ اس کی تشریح میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ عرش والے کے ہاں بڑے مرتبے والے ہیں، مزید برآں فرشتوں کے سردار ہیں۔
دوسری صفت یہ بیان کی کہ وہ ذی قوّت (یعنی قوّت والے ہیں)۔ ایک اور مقام پر حضرت جبریل علیہ السّلام کی قوّت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی۝۵ ذُوْ مِرَّةٍ،
(سُوْرَۃُ النَّجْمِ : ۵۳، آیت : ۵ تا ۶)
ان کو ایک زبردست طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے۔ (وہ یقینًا) طاقت والا (فرشتہ ہے)،
تیسری صفت یہ بیان کی کہ وہ امانت دار ہیں۔ احکامِ الہٰی اور آیاتِ ربّانی کو بےکم و کاست رسولوں تک پہنچاتے ہیں۔ اسی لیے انھیں روحُ الْامین بھی کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۝۱۹۲ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ۝۱۹۳ عَلٰی قَلْبِڪَ لِتَڪُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ۝۱۹۴ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ۝۱۹۵
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۱۹۲تا ۱۹۵)
اور (اے رسول) بےشک یہ (قرآن) ربُّ العالمین کا نازل کردہ ہے۔ اس کو امانت دار فرشتہ (جبریل) لے کر اترا ہے۔ (اور اس نے اس کو) آپ کے قلب پر (اِلقا کیا ہے) تاکہ آپ (لوگوں کو) ڈرائیں۔ (اور اِلقا بھی) صاف صاف عربی زبان میں (کیا ہے)۔
اللہ تعالیٰ نے تین۳ قسمیں کھانے کے بعد فرمایا کہ یہ معزز فرشتے کا پہنچایا ہوا کلام ہے۔
آگے فرمایا
(وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنِ) اور (اے اہلِ مکّہ) تمھارے ساتھی (یعنی محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم) دیوانے نہیں ہیں (قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، کسی دیوانے کی بڑ نہیں ہے، دیوانہ تو کجا صاحبِ عقل و ہوش و حواس اور ذی علم اشخاص بھی اس جیسا کلام نہیں بنا سکتے)(وَ لَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ) اور (اے کفّارِ مکّہ) تمھارے ساتھی (یعنی محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم) نے اس معزز فرشتے (یعنی جبریل علیہ السّلام) کو آسمان کے صاف و شفاف کنارے پر دیکھا بھی ہے (یعنی محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جبریل علیہ السّلام سے نہ صرف کلامِ الہٰی کو پڑھا ہے بلکہ انھیں افق پر ان کی اصلی شکل میں دیکھا بھی ہے)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
بَيْنَا اَنَا اَمْشِیْ اِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَآءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِىْ فَاِذَا الْمَلَكُ الَّذِىْ جَآءَنِیْ بِحِرَآءٍ جَالِسٌ عَلٰى كُرْسِیٍّ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ فَرُ عِبْتُ مِنْهُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَاَنْزَلَ اللهُ تَعَالٰى۔ یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ۝۱ قُمْ فَاَنْذِرْ۝۲ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۝۳ وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۝۴ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۝۵ فَحَمِیَ الْوَحْیُ وَ تَتَابَعَ ۔
(صحیح بخاری کتاب الوحی باب كيف كان بداء الوحى الى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جزء اوّل صفحہ ۴، حديث : ۴ و صیح مسلم کتاب الایمان باب بداء الوحى الى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جزء اوّل صفحہ ۸۰، حديث : ۴۰۶ / ۱۶۱)
میں ایک بار (راستے پر) چلا جار ہا تھا اتنے میں میں نے آسمان سے ایک آواز سنی۔ آنکھ اٹھا کر اوپر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو (غار) حرا میں میرے پاس آیا تھا آسمان اور زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں یہ دیکھ کر ڈر گیا۔ (اپنے گھر) لوٹا۔ میں نے (گھر والوں سے) کہا مجھے کپڑا اوڑھادو مجھے کپڑا اوڑھادو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اے کپڑا اوڑھنے والے، اٹھ جائیے اور (لوگوں) کو ڈرائیے، اپنے ربّ کی بڑائی بیان کیجیے اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئیے اور ناپاکی سے دور رہیے۔
افق مبین کے سلسلے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاسْتَوٰی۝۶ وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی۝۷
(سُوْرَۃُ النَّجْمِ : ۵۳، آیت : ۶تا۷)
(ایک دن ایسا ہوا کہ) وہ فرشتہ (یعنی جبریل، اپنی اصل شکل میں)نمودارہوا۔ اس حال میں کہ وہ (اس وقت) بلند اُفُق پر تھا۔
آگے فرمایا
( وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ) اور (اے کفّارِ مکّہ) وہ (یعنی محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم) غیب کی باتیں بتانے کے معاملے میں بخل نہیں کرتے (جو آیات ربّانی ان کے پاس بذریعہ وحی آتی ہیں انھیں بے کم و کاست لوگوں کو بتا دیتے ہیں) (وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِیْمٍ) اور یہ (قرآن مجید اللہ کا کلام ہے) شیطان مردود کا کلام نہیں ہے۔
اوپر فرمایا کہ قرآن مجید معزّز فرشتے کا پہنچایا ہوا کلام ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شیاطین اور کاہنوں کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اس آیت
(وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِیْمٍ) میں صراحت کے ساتھ اس بات کی نفی کی کہ یہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔ شیاطین تو جھوٹے اور گناہ گار لوگوں پر نازل ہوتے ہیں۔ الصادق الامین (صلّی اللہ علیہ وسلّم) پر کیسے نازل ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ۝۲۲۱ تَنَزَّلُ عَلٰی كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ۝۲۲۲ یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ۝۲۲۳
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۲۲۱تا۲۲۳)
(اے لوگو) کیا میں تمھیں بتاؤں شیطان کس پر اترتے ہیں۔ وہ تو کذاب اور گناہ گار پر اترتے ہیں۔ وہ (ہر) سنی سنائی بات (اس کے دِل میں) القاء کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر تو (بالکل ہی) جھوٹے ہوتے ہیں (کوئی بھی صحیح بات القاء نہیں کرتے)۔
مزید برآں کلامِ الہٰی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے نزول کے وقت شیاطین کو اس سے دور رکھا جاتا ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے فرشتے تعینات کر دیے جاتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰی غَیْبِهٖۤ اَحَدًا۝۲۶ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُڪُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا۝۲۷ لِیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰی كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۝۲۸
(سُوْرَۃُ الْجِنِّ : ۷۲، آیت : ۲۶تا ۲۸)
غیب کا جاننے والا وہی ہے اور وہ اپنا غیب کسی پر ظاہر بھی نہیں کرتا۔ مگر ہاں صرف اپنے برگزیدہ رسول پر ظاہر کرتا ہے (اور جب وہ ایسا کرتا ہے) تو وہ اس رسول کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرّر کر دیتا ہے۔ تاکہ وہ دیکھ لے کہ رسولوں نے اپنے ربّ کے پیغامات کو (بے کم و کاست) پہنچا دیا ہے اور (ویسے تو) اللہ (ہر اس چیز کا) جو ان کے پاس ہوتی ہے احاطہ کر لیتا ہے اور ہر ایک چیز کی تعداد کو وہ گِن لیتا ہے (لہٰذا وہ ضائع نہیں ہو سکتی)۔
آگے فرمایا
( فَاَيْنَ تَذْهَبُونَ)[ پھر تم (ایسے کلام کو چھوڑ کر) کہاں (بہکے) چلے جا رہے ہو۔ (اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِلْعٰلَمِيْنَ) یہ (قرآن) تو تمام (اقوامِ) عالَم کے لیے نصیحت ہے (لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَقِيْمَ) (مگر سفید) اس کے لیے ہے جو سیدھے راستے پر چلنا چاہے (وَمَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ) اور (اے لوگو) تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو اللہ ربُّ العالمین چاہے۔ (تم اگر سیدھے راستے پر آنا بھی چاہو تو نہیں آسکتے جب تک اللہ تعالیٰ تمھارا سیدھے راستے پر آنا نہ چاہے۔ تمھارے ارادے بے کار ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیّت نہ ہو۔ جب تک تم ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے مقرّر کردہ قوانینِ ہدایت کے مطابق ہدایت کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو ہدایت حاصل نہیں کر سکتے)۔
حضرت قتیلہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اِنَّ يَهُوْدِيًّا اَتَى النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنَّكُمْ تُنَدِّدُوْنَ وَاِنَّكُمْ تُشْرِكُوْنَ تَقُوْلُوْنَ مَاشَآءَ اللهُ وَشِئْتَ وَتَقُوْلُوْنَ وَالْكَعْبَةِ فَاَمَرَهُمُ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَرَادُوْ اَنْ يَّحْلِفُوْا اَنْ يَّقُوْلُوْا وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ وَيَقُوْلُ اَحَدٌ مَاشَآءَ اللهُ ثُمَّ شِئْتَ ۔
(نسائی کتاب الايمان والنذور باب الحلف بالكعبة جزء۲ صفحه ۱۲۴، حديث : ۳۸۰۴ / ۳۷۷۳ سندہ صحیح ، نیل الاوطار، جزء ۸صفحہ ۱۸۹، حديث : ۳۸۲۰، ومسند احمد حديث : ۲۷۶۳۳ / ۲۵۸۸۹ / ۲۷۰۹۳ / ۵۳۰۱، ومستدرك حاكم حديث : ۷۸۱۵ / ۸۰۰۹)
ایک یہودی، نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس آیا۔ اس نے کہا تم (اللہ کا) مثیل ٹھہراتے ہو اور شرک کرتے ہو۔ تم کہتے ہو جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں اور تم کہتے ہو کعبہ کی قسم۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مسلمین کو حکم دیا کہ وہ جب قسم کھانے کا ارادہ کریں تو اس طرح کہا کریں ربِّ کعبہ کی قسم اور جب (تم میں سے) کوئی (چاہنے کا ذِکر کرے تو اس طرح کہے) جواللہ چاہے پھر آپ چاہیں (یعنی اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے بعد ہی انسان کا چاہنا ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔ انسان لاکھ چاہے کچھ نہیں ہو گا جب تک اللہ نہ چاہے)۔
عمل
اے لوگو! قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس میں سب کے لیے نصیحت کا سامان ہے۔ محمّد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) اللہ تعالی کے برگزیدہ رسول ہیں لہٰذا قرآن مجید اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر ایمان لا کر اپنے کو دوزخ سے بچانے کا اہتمام کیجیے۔



<

Share This Surah, Choose Your Platform!