Surah Innaaa An-zal-naahu Fee Lay-la-til Qadr



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۹۷ – سُوْرَۃُ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ۝۱ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ۝۲ لَیْلَةُ الْقَدْرِ، خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ۝۳ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ، مِنْ ڪُلِّ اَمْرٍ۝۴ سَلٰمٌ، هِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۝۵

<

ترجمہ: ہم نے اس (قرآن) کو عظمت والی رات میں اتارا۝۱ اور آپ کو کیا معلوم کہ عظمت والی رات کیا ہے۝۲ عظمت والی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۝۳ اس رات کو فرشتے اور روح (الامین) اپنے ربّ کے حکم سے (اپنے ربّ کے) تمام احکام (کو سرانجام دینے) کےلیے نازل ہوتے ہیں۝۴ وہ (رات) سلامتی (کی رات) ہے، (اس کی سلامتی اور خیر و برکت) طلوع فجر تک (باقی رہتی ہے)۝۵

<

معانی و مصادر: (قَدْرٌ) قَدَرَ، يَقْدُرُ، قَدْرٌ و قَدَرٌ (ض ، ن) مقدرت ہونا ، تنگ کرنا تعظیم کرنا۔
(خَيْرٌ) خَارَ، يَخِيْرُ، خَیْرٌ (ض) خیر والا ہونا ، بھلائی پہنچانا۔
(اِذْنٌ) اَذِنَ، يَاْذَنُ، اِذْنٌ و اَذِيْنٌ (س) اجازت دینا۔ (اِذْنٌ= اجازت، حکم)
(اَمْرٌ) اَمَرَ، يَاْمُرُ، اَمْرٌ و اٰمِرَةٌ و اِمَارٌ (ن) حکم دینا۔
(سَلٰمٌ) سَلِمَ، يَسْلَمُ، سَلَامٌ و سَلَامَةٌ (س) سلامت رہنا۔
(مَطْلَعٌ) طَلَعَ، يَطْلُعُ، طُلُوْعٌ و مَطْلَعٌ (ن) طلوع ہونا ، ظاہر ہونا۔(مَطْلَعٌ=طلوع ہونے کی جگہ یا وقت)
(فَجْرٌ) فَجَرَ، يَفْجُرُ، فَجُرٌ (ن) بہانا، پھاڑنا ظاہر کرنا، جھٹلانا، مخالفت کرنا، زنا کرنا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ) ہم نے اس (قرآن) کو عظمت والی رات میں اتارا (وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ) اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ عظمت والی رات کیا ہے (اس کی کس قدر فضیلت ہے) (لَیْلَةُ الْقَدْرِ،خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ) (پہلی فضیلت تو ان کی یہ ہے کہ وہ یعنی) عظمت والی رات ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے (ایک ہزار مہینے کی عبادت سے اس ایک رات کی عبادت بہتر ہے)۔
(تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ،مِنْ کُلِّ اَمْرٍ) (دوسری فضیلت اس کی یہ ہے کہ) اس رات کو فرشتے اور روح (الامین) اپنے ربّ کے حکم سے (اپنے ربّ کے) تمام احکام (کو سر انجام دینے) کے لیے (آسمان سے) نازل ہوتے ہیں۔
(سَلٰمٌ،هِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ) وہ رات سلامتی (کی رات) ہے (اس کی سلامتی خیر و برکت) طلوع فجر تک (باقی رہتی ہے)۔
قرآن مجید کا نزول قدر والی رات میں (شروع) ہوا۔ اس رات کو لیلۃ مبارکہ بھی کہتے ہیں، اس رات کو فرشتے احکامِ الٰہی لے کر ان کی انجام دہی کے لیے نازل ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

حٰمٓ۝۱ وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۝۲ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا ڪُنَّا مُنْذِرِیْنَ۝۳ فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍ۝۴ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا،اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ۝۵ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّڪَ،اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۝۶
(سُوْرَۃُ الدُّخَانِ : ۴۴، آیت : ۱ تا۶)
حٰمٓ۝۱ روشن کتاب کی قسم۝۲ ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اتارا ہے (تاکہ ہم اس کے ذریعے لوگوں کو بداعمالی کے انجام سے ڈرائیں) بےشک ہم (پہلے بھی) ڈراتے رہے ہیں۝۳ اسی رات کو (نظامِ کائنات کے سلسلے میں) تمام حکمت والے کاموں کا فیصلہ ہوتا ہے۝۴ (اسی طرح اس رات کو ہم نے) اپنے پاس سے (یہ) حکم (یعنی قرآن نازل فرمایا ہے اور) بےشک (اسی مقصد یعنی ڈرانے ہی کےلیے) ہم رسولوں کو بھیجتے رہے ہیں۝۵ (اے رسول، اس کتاب کا نزول) آپ کے ربّ کی طرف سے (دنیا والوں پر ایک بڑی) رحمت ہے، بےشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۝۶
قرآن مجید رمضان میں نازل ہوا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَ الْفُرْقَانِ،
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۸۵)
رمضان ہی کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، (وہ قرآن) جس میں (تمام) لوگوں کےلیے رہنمائی ہے اور جس میں ہدایت اور حقّ و باطل میں امتیاز پیدا کرنے کے واضح دلائل ہیں،
کیوں کہ قرآن مجید رمضان میں نازل ہوا لہٰذا شبِ قدر رمضان کی کوئی ایک رات ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ کون سی رات ہے البتّہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَّمَضَانَ
(صحیح بخاری کتاب الصوم باب تحرى ليلة القدر فِی الوتر من العشر الأواخر جزء ۳ صفحہ ۶۰،حديث : ۲۰۱۷ / ۱۹۱۳ و صیح مسلم کتاب الصوم باب فضل ليلة القدر جزء اوّل صفحہ ۴۷۸، حديث : ۲۷۷۶ / ۱۱۶۹)
شبِ قدر کو رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرو۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِیْ رَمَضَانَ الْعَشْرِ الَّتِیْ فِیْ وَسَطِ الشَّهْرِ فَاِذَا كَانَ حِيْنَ يُمْسِیْ مِنْ عِشْرِيْنَ لَيْلَةً تُمْضِیْ وَيَسْتَقْبِلُ اِحْدٰى وَعِشْرِيْنَ رَجَعَ اِلٰى مَسْكَنِهٖ وَ رَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهٗ وَاَنَّهٗ اَقَامَ فِیْ شَهْرٍ جَاوَرَ فِيْهِ اللَّيْلَةَ الَّتِیْ كَانَ يَرْجِعُ فِيْهَا فَخَطَبَ النَّاسَ (وَفِیْ رِوَايَةِ الْبُخَارِى فَخَرَجَ صَبِيْحَةَ عِشْرِيْنَ فَخَطَبَنَا) فَاَمَرَهُمْ مَا شَآءَ اللهُ ثُمَّ قَالَ كُنْتُ اَجَاوِرُ هٰذِهِ الْعَشْرَ ثُمَّ قَدْ بَدَا اِلىْ اَنْ اَجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِیَ فَلْيَثْبُتْ فِیْ مُعْتَكِفِهٖ وَ قَدْ اُرِيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ اَنْسِيْتُهَا فَابْتَغُوْهَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وَابْتَغُوْهَا فِیْ كُلِّ وِتْرٍ وَقَدْ رَاَيْتُنِیْ اَسْجُدُ فِیْ مَآءٍ وَّطِيْنٍ فَاسْتَهَلَّتِ السَّمَآءُ فِیْ تِلْكِ اللَّيْلَةِ فَاَمْطَرَتْ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِیْ مُصَلَّى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ اِحْدَى وَّعِشْرِيْنَ فَبَصُرَتْ عَيْنِىْ نَظَرْتُ اِلَيْهِ انْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ وَجْهُهٗ مُمْتَلِیْءٌ طِيْنًا وَمَآءً
(صحیح بخاری کتاب الصوم باب تحرى ليلة الصدر فى الوتر من العشر الاواخر جزء ۳ صفحہ ۶۰، حديث : ۲۰۱۸ / ۱۹۱۴ و باب التماس ليله القدر فِی السبع الأواخر جزء ۳ صفحه ۶۰،حديث : ۲۰۱۶ / ۱۹۱۲ و صحیح مسلم کتاب الصيام باب فضل ليلة القدر والحث على طلبها جزء اوّل صفحہ ۴۷۶، حديث : ۲۷۶۹ / ۱۱۶۷)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم رمضان کے بیچ کے عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے جب بیسویں۲۰ تاریخ گزرتی اور اکیسویں۲۱ رات کی آمد آمد ہوتی تو شام کو آپؐ اپنے گھر لوٹ آتے اور جو لوگ اعتکاف میں آپؐ کے ساتھ ہوتے وہ بھی (اپنے گھروں کو) لوٹ جاتے تھے۔ ایک رمضان میں ایسا ہوا آپؐ جس تاریخ (کی شام) کو اعتکاف سے لوٹ آتے تھے اس تاریخ (کی صبح کو) آپؐ اعتکاف ہی میں تھے کہ آپؐ نے لوگوں کو خطبہ دیا۔ (صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے بیسویں۲۰ تاریخ کی صبح کو خطبہ دیا) اور جو اللہ نے چاہا وہ ان کو حکم دیا پھر فرمایا کہ میں اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا اب مجھ کو مناسب معلوم ہوا کہ اخیر عشرہ میں اعتکاف کروں تو جتنے لوگ میرے ساتھ اعتکاف میں ہیں وہ اعتکاف ہی میں رہیں اور مجھ کو شبِ قدر دکھلائی گئی پھر بھلا دی گئی۔ تم اس کو اخیر عشرہ میں تلاش کیا کرو اور طاق راتوں میں ڈھونڈا کرو اور میں نے دیکھا میں رات کو کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں پھر اسی رات کو یعنی اکیسویں۲۱ رات کو پانی برسا اور جہاں پر نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نماز پڑھا کرتے تھے وہاں سے مسجد ٹپکی۔ میں نے خود اپنی آنکھ سے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو دیکھا آپؐ صبح کی نماز پڑھ کر لوٹے اور آپؐ کے چہرہ انور پر گیلی مٹی لگی ہوئی تھی۔
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ لیلتہ القدر اکیسویں۲۱ شب کو ہوتی ہے لیکن باوجود گلی مٹی میں سجدہ کرنے کی علامت کے آپؐ نے کسی ایک خاص رات یا اکیسویں۲۱ رات کو مخصوص نہیں کیا بلکہ یہ ہی فرمایا کہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلۃ القدر کسی ایک خاص رات میں نہیں ہوتی بلکہ وہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات کو ہوتی ہے اور ان راتوں میں گھومتی رہتی ہے۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو اس رات کی علامت بتائی گئی تھی لیکن رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اس علامت کو بھول گئے۔ اب پہلے سے یہ نہیں معلوم ہو سکتا کہ آنے والی رات شبِ قدر ہے البتّہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ہمیں ایک علامت ایسی بتائی ہے کہ اس رات کے گزر جانے کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ آج کی رات شبِ قدر تھی۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَخْبَرَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا
(صحیح مسلم کتاب الصيام باب فضل ليلة القدر جزء اوّل صفحہ ۴۷۸،حديث : ۲۷۷۷ / ۷۶۲)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ہم کو خبر دی کہ اس کی صبح کو آفتاب اس حالت میں نکلتا ہے کہ اس میں شعاع نہیں ہوتی۔
شبِ قدر کے گزر جانے کے بعد اس کی علامت سے کوئی خاص فائدہ نہیں البتّہ اس رات کو جاگنے والے کے لیے ایک خوش خبری ضروری ہے۔ اگر شبِ قدر کے آنے سے پہلے لوگوں کو کسی علامت سے یہ معلوم ہو جاتا کہ آج شبِ قدر ہے تو پھر وہ صرف اسی رات جاگتے۔ اس علامت کے بھلا دینے میں اللہ تعالیٰ کی یہ مصلحت ہے کہ لوگ اس کی تلاش میں پانچ۵ راتیں جاگیں اور اجر و ثواب زیادہ حاصل کریں۔ اس رات کو عبادت کرنے کا بڑا ثواب ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ اِيْمَانًا وَ احْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ
(صحیح بخاری کتاب الصوم باب فضل ليلة القدر جزء ۳ صفحه ۵۹،حديث : ۲۰۱۴ / ۱۹۱۰ وصحیح مسلم کتاب الصلواۃ باب الترغیب فی قیام رمضان جزء اوّل صفحہ ۳۰۵،حديث : ۱۷۷۹ / ۷۵۹)
جو شخص ایمان کے ساتھ اور احتساب کے ساتھ شبِ قدر میں قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
عمل
اے ایمان والو! شبِ قدر ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کیجیے۔



<

Share This Surah, Choose Your Platform!