Surah Iq-ra Bis-mi Rab-bi-ka Al-la-zi Kha-la-qa



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۹۶ – سُوْرَۃُ اِقْرَاْبِاسْمِ رَبِّـكَ الَّذِیْ خَلَقَ –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ۝۱ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۝۲ اِقْرَاْ وَ رَبُّڪَ الْاَڪْرَمُ۝۳ اَلَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۝۴ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۝۵

<

ترجمہ: (اے رسول) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا۝۱ جس نے انسان کو خون سے پیدا کیا۝۲ آپ پڑھیے اور (اپنے ربّ کے نام کے ساتھ پڑھیے، بےشک) آپ کا ربّ بہت عزّت والا ہے۝۳ (وہ ہی ہے) جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۝۴ (اور) انسانوں کو وہ باتیں سکھائیں جن کو وہ نہیں جانتا تھا۝۵

<

معانی و مصادر: (اِقْرَأْ) قَرَأَ، يَقْرَأُ، قَرْءٌ و قِرَاءَةٌ و قُرْاٰنٌ (ف) پڑھنا۔
(عَلَقٌ) عَلَقٌ=
خون۔

<

شان نزول:
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهٖ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِی النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرٰى رُؤْيَاۤ اِلَّا جَآءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ اِلَيْهِ الْخَلَاءُ وَكَانَ يَخْلُوْا بِغَارِ حِرَآءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيْهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِیَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ اَنْ يَّنْزِعَ اِلٰى اَهْلِهٖ وَيَتَزَوَّدُ لِذٰلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ اِلٰى خَدِيْجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتّٰى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَى غَارِ حِرآءٍ فَجَآءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اِقْرَأْ فَقُلْتُ مَا اَنَا بِقَارِیْءٍ قَالَ فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِیْ حَتّٰى بَلَغَ مِنِّی الْجَهْدُ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا اَنَا بِقَارِیْءٍ فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتٰی بَلَغَ مِنِّی الْجُھْدُ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَاۤ اَنَا بِقَارِیءٍ قَالَ فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ، خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْاَ كَرَمُ فَرَجَعَ بِهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهٗ فَدَخَلَ عَلٰی خَدِيْجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ فَقَالَ زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْهُ حَتّٰى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِيْجَةَ وَاَخْبَرَهَا الْخَبَرَ لَقَدْ خَشِيْتُ عَلٰى نَفْسِىْ فَقَالَتْ خَدِيْجَةُ كَلَّا وَاللهِ مَا یُخْزِیْكَ اللهُ اَبَدًا اِنّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَصْدُقُ الْحَدِيْثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَ تَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِى الضَّيْفَ وَ تُعِيْنُ عَلٰى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِهٖ خَدِيْجَةُ حَتّٰى اَتَتْ بِهٖ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ اَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزّٰى ابْنَ عَمِّ خُدِيجَةَ وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِی الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعِبْرَانِیَّ فَيَكْتُبُ مِنَ الْاَنْجِيلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَآءَ اللَّهُ اَنْ یَّكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِىَ فَقَالَتْ لَهٗ خَدِيْجَةُ يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ اَخِيْكَ فَقَالَ لَهٗ وَرَقَۃُ يَا ابْنَ اَخِي مَا ذَا تَرٰى فَاَخْبَرَهٗ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَاٰى فَقَالَ لَهٗ وَرَقَةُ هٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ نَزَّلَ اللهُ عَلٰى مُوسٰى يَا لَيْتَنِیْ فِيْهَا جَذَعًا يَّا لَيْتَنِیْ اَكُوْنُ حَيَّا اِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوَ مُخْرِ جِیَّ هُمْ قَالَ نَعَمْ لَمْ يَاتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهٖۤ اِلَّاعُوْدِىَ وَ اِنْ یُّدْرِكُنِىْ يَوْمُكَ اَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًاثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَۃُ اَنْ تُوُفِّیَ وَفَتَرَ الْوَحْىُ
(صحیح بخاری کتاب الوحى باب كيف كان بدء الوحى الى رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم جزء اوّل صفحه ۳، ۴، حديث : ۳ و صحیح مسلم کتاب الايمان باب بدء الوحى الى رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم جزء اوّل صفحہ ۷۹ و ۸۰، حديث : ۴۰۳ / ۱۶۰)
سب سے پہلے جو وحی رسول اللہ صلّی علیہ وسلّم پر جو آنی شروع ہوئی وہ نیند میں نیک خواب تھا۔ آپؐ جو خواب بھی دیکھتے تھے وہ صبح کی روشنی کے مثل واقع ہو جاتا تھا۔ پھر آپؐ کو تنہائی اچّھی لگنے لگی اور آپؐ حرا کے غار میں (جاکر) اکیلے ذِکرِ الٰہی میں مشغول رہا کر تے تھے اور وہاں گھر آنے سے پہلے گنتی کی کئی راتیں عبادت کرتے تھے۔ پھر گھر آکر اس کام کے لیے مزید توشہ لے جاتے اور (چند راتوں کے بعد) پھر خدیجہؓ کے پاس آتے اور (مذید) توشہ لے جاتے۔ (ایسا ہوتا رہا) یہاں تک کہ آپؐ غارِ حرا ہی میں تھے کہ آپؐ کے پاس حق آ گیا۔ فرشتہ آیا۔ اس نے کہا پڑھیے۔ آپؐ نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آپؐ فرماتے ہیں پھر فرشتے نے مجھے پکڑا اور بھینچا، اس کے ایسا کرنے سے مجھے قوّت محسوس ہوئی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھیے میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے مجھ کو پھر پکڑا اور مجھے دوسری مرتبہ بھینچا مجھے پھر قوّت محسوس ہوئی۔ پھر مجھ کو چھوڑ دیا اور کہا پڑھیے میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے مجھ کو پھر پکڑا اور تیسری بار پھر مجھے بھینچا پھر مجھ کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا اُس پروردگار کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے (سب چیزوں کو) پیدا کیا، اُس نے آدمی کو خون سے بنایا۔ پڑھیے اور آپؐ کا ربّ تو بڑی عزت والا ہے یہ آیتیں سن کر آپؐ لوٹے۔ آپؐ کا دِل دھڑک رہا تھا۔ آپؐ حضرت خدیجہؓ (کے پاس) جو خویلد کی بیٹی تھیں گئے اور فرمانے لگے مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ آپؐ کو کمبل اوڑھا دیا گیا۔ آپ کا ڈر جاتا رہا تو آپؐ نے (حضرت) خدیجہؓ سے یہ قصّہ بیان کرکے فرمایا مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ (حضرت) خدیجہؓ نے کہا ہر گز نہیں۔ اللہ کی قسم اللہ آپؐ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپؐ تو رشتے کو جوڑتے ہیں، سچ بولتے ہیں، جو لوگ معاشرہ پر بوجھ ہوتے ہیں ان کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نادار کے لیے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان داری کرتے ہیں اور حق کے کاموں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں پھر حضرت خدیجہؓ آپؐ کو ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ کے پاس جو خدیجہؓ کے چچا زاد بھائی تھے لے گئیں وہ جاہلیت کے زمانے میں عیسائی ہو گئے تھے (وہ عبرانی زبان جانتے تھے) انجیل سے جو اللہ ان سے لکھوانا چاہتا وہ عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ وہ بوڑھے ضعیف ہو کر نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہؓ نے ان سے کہا اے میرے چاززاد بھائی (ذرا) اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے آپؐ سے کہا : اے بھیجتے تم نے کیا دیکھا ؟ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ ان سے بیان کیا تو ورقہ بن نوفل کہنے لگے یہ تو وہ رازدار فرشتہ ہے جس کو اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ الصّلوۃ والسّلام) پر اتارا تھا۔ کاش میں اِس وقت جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب تم کو تمہاری قوم نکالے گی۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے پوچھا کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا ہاں جب کسی شخص نے ایسی بات کہی جیسی تم کہتے ہو تو لوگ اس کے دشمن ہو گئے اور اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو تمہاری بھرپور مدد کروں گا۔ پھر بہت زمانہ نہیں گزرا تھا کہ ورقہ وفات پا گئے اور وحی کے آنے میں وقفہ ہو گیا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ) (اے رسول) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا۝۲
(سُوْرَۃ ُالْفُرْقَانِ: ۲۵، آیت : ۲)
اُسی نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا ایک اندازہ مقرّر کیا۔
(خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ) (جس نے) انسان کو خون سے بنایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ۝۱۲ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّڪِیْنٍ۝۱۳ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۱۲ تا ۱۴)
اور (اے رسول) ہم نے انسان کو مٹّی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس کو نطفے کی شکل میں ایک محفوظ مقام میں رکھا۔ پھر نطفہ کا لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی، پھر بوٹی کی ہڈّیاں بنائیں، پھر ہڈّیوں پر گوشت چڑھایا، پھر ہم نے اس کو (بالکل ہی) دوسری مخلوق کی شکل میں بنا دیا، (واقعی) اللہ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے (بہت) بابرکت ہے۔
آگے فرمایا
(اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَ کْرَمُ) (اے رسول) پڑھیے (اور اپنے ربّ کے نام کے ساتھ پڑھیے بے شک) آپ کا ربّ بہت عزّت والا ہے (اَلَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ) (وہ ہی ہے) جس نے قلم کے ذریعے (انسان کو) تعلیم دی (عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ) (اور) انسان کو وہ باتیں سکھا ئیں جن کو وہ نہیں جانتا تھا۔
انسان جب پیدا ہوتا ہے کچھ نہیں جانتا۔ پھر وہ جسے جیسے بڑا ہوتا جاتا ہے بہت کچھ سیکھتا جاتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطری طور پر، پھر کتابی طور پر، پھر انبیا کے ذریعے وہ باتیں سکھائیں جن کو وہ نہیں جانتا تھا۔

<
ڪَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤی۝۶ اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰی۝۷ اِنَّ اِلٰی رَبِّكَ الرُّجْعٰی۝۸ اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰی۝۹ عَبْدًا اِذَا صَلّٰی۝۱۰ اَرَءَیْتَ اِنْ ڪَانَ عَلَی الْهُدٰۤی۝۱۱ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی۝۱۲ اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰی۝۱۳ اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰی۝۱۴ ڪَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ یَنْتَهِ،لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِ۝۱۵ نَاصِیَةٍ ڪَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ۝۱۶ فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗ۝۱۷ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَ۝۱۸ كَلَّا،لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۩۝۱۹
<

ترجمہ: (اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے انسان کو علم دیا لیکن انسان اُس کا شکر ادا) ہرگز نہیں (کرتا) بلکہ انسان سرکشی کرتا ہے۝۶ (خصوصًا) جب وہ اپنے آپ کو غنی دیکھتا ہے۝۷ بےشک اسے اپنے ربّ کی طرف لوٹ کر جانا ہے (وہاں اسے اس کی سرکشی کی سزا مل جائے گی)۝۸ (اے رسول) کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو (نماز سے) روکتا ہے۝۹ ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۝۱۰ کیا آپ نے دیکھا اگر وہ ہدایت پر ہوتا۝۱۱ اور تقوے کا حکم دیتا (تو اس کے حق میں کتنا اچّھا ہوتا)۝۱۲ (اور) کیا آپ نے دیکھا اگر وہ جھٹلاتا ہے اور حق سے منھ موڑتا ہے۝۱۳ تو کیا اسے نہیں معلوم کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۝۱۴ (وہ اللہ کی گرفت سے) ہرگز نہیں (بچ سکتا) اگر وہ باز نہیں آیا تو ہم ضرور اس کی پیشانی کو پکڑ کر گھسیٹیں گے۝۱۵ (وہ) پیشانی جو جھوٹی اور خطا کار ہے۝۱۶ تو اسے چاہیے کہ اپنی مجلس (کے رفقا) کو (اپنی مدد کےلیے) بلائے۝۱۷ ہم بھی دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے۝۱۸ (پھر اس کو) ہرگز (فلاح نصیب) نہیں (ہو گی، لہٰذا اے رسول) آپ اس کا کہنا نہ مانیں بلکہ (بدستور نماز پڑھتے رہیں) سجدے کرتے رہیں اور اللہ کا قُرب حاصل کرتے رہیں ۩۝۱۹

<

معانی و مصادر: (يَطْغٰى) طَغٰى و طَغِىَ، يَطْغٰى، طَغَىٌ و طِغْیْانٌ و طُغْیَانٌ (ف و س) سرکشی کرنا طغیانی پر آنا۔
(رُجْعٰى) رَجَعَ ، يَرْجِعُ ، رُجُوْعٌ و مَرْجِعٌ و رُجْعٰى و رُجْعَانٌ و مَرْجِعَةٌ (ض) لوٹنا۔
(کَلَّا) کَلَّا= ہرگز نہیں، بےشک۔
(يَنْتَهِ) اِنْتَهٰى، يَنْتَهِیْ، اِنْتِهَاءٌ (باب افتعال) باز آنا۔
(نَسْفَعًا) سَفَعَ، يَسْفَعُ، سَفَعٌ (ف) پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹنا طمانچہ مارنا۔
(لَنَسْفَعًا= لَنَسْفَعَنْ)
(خَاطِئَةٌ) خَطِئَ، يَخْطَاءُ، خَطَأُ (س) خطا کرنا ۔
(نَادِیْ) نَدَا، يَنْدُوْ، نَدْوٌ (ن) مجلس میں جمع ہونا۔ (نَا دِیْ= مجلس)
(زَبَانِيَةٌ) زَبَنَ، يَزْبِنُ، زَبْنٌ (ض) دفع کرنا۔ (زَبَانِيَةٌ= دوزخ کے فرشتے)

<

شان نزول:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كَانَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّیْ فَجَآءَ اَبُوْجَهْلٍ فَقَالَ اَلَمْ اَنْهَكَ عَنْ هٰذَا اَلَمْ اَنْهَكَ عَنْ هٰذَا اَلَمْ اَنْهَكَ عَنْ هٰذَا فَانْصَرَفَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَبَرَهٗ فَقَالَ اَبُوْ جَهْلٍ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا بِهَا نَادٍ اَكْثَرُ مِنِّیْ فَاَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰى فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗ، سَنَدْعُ الزَّبَانِيَہٗ
(رواه الترندی و صححه فى ابواب تفسير القرآن باب تفسير سورة اقرأ باسم ربك جزء ۲ صفحه ۴۷۰، حديث : ۳۳۴۹ / ۳۶۴۳، ومستدرك حاكم حديث : ۳۸۰۹ / ۳۸۵۱، والسنن الكبرىٰ النسائي حديث : ۱۱۶۲۰)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل آیا اس نے تین۳ بار کہا میں نے تم کو اس سے منع نہیں کیا۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نماز سے فارغ ہوئے تو اسے دھمکایا۔ ابوجہل نے کہا تمھیں معلوم ہے کہ اس شہر میں مجھ سے زیادہ کسی کے اصحابِ مجلس نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں۔
فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗ ، سَنَدْعُ الزَّبَانِيَہٗ اسے چاہیے کہ اپنی مجلس کو بلائے، ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (کَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤی)(اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے انسان کو علم دیا) لیکن انسان (پھر بھی شکر ادا) نہیں (کرتا) بلکہ سرکشی کرتا ہے، (اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰی) خصوصاً جب وہ اپنے آپ کو غنی دیکھتا ہے۔
جب انسان اپنے آپ کو خوش حال دیکھتا ہے تو مغرور اور سرکش ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی کرتا ہے (اِنَّ اِلٰی رَبِّكَ الرُّجْعٰی) (کیا وہ ڈرتا نہیں کہ اسے) یقیناً اپنے ربّ کی طرف لوٹ کر جانا ہے (وہاں اسے اس کی سرکشی کی سزامل جائے گی)
(اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰی) (اے رسول) کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو (نماز سے) روکتا ہے (عَبْدًا اِذَا صَلّٰی) (ہمارے) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے ( یعنی وہ شخص رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو نماز سے روکتا ہے)۔
احادیث میں شانِ نزول کے علاوہ ایک اور واقعہ ایسا ملتا ہے جس میں ابوجہل کا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو نماز سے روکنے کا ذِکر ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قَالَ اَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْھَہٗ بَیْنَ اَظْهُرِكُمْ؟ قَالَ فَقِيْلَ نَعَمْ فَقَالَ وَاللَّاتِ وَالْعُزّٰى لَئِنْ رَاَيْتُهٗ يَفْعَلُ ذٰلِكَ لَاَطَاَنَّ عَلٰى رَقَبَتِهٖ اَوْ لَاُعَفِّرَنَّ وَجْهَهٗ فِی التُّرَابِ قَالَ فَاَتٰى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَـلَیْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّیْ زَعَمَ لِيَطَاءَ عَلٰى رَقَبَتِهٖ قَالَ فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ اِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِىْ بِيَدَيْهِ قَالَ فَقِيْلَ لَهٗ مَالَكَ فَقَالَ اِنَّ بَيْنِیْ وَبَيْنَهٗ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهُوْلًا وَ اَجْنِحَةً فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْدَنَا مِنِّیْ لَاَخْتَطَفَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ عُضُوًا عُضْوًا
(صحيح مسلم كتاب صفة القيمة باب قوله ان الانسان ليطغٰی ان راه استغنی جزء۲صفحه ۵۱۹، حديث : ۷۰۶۵ / ۲۷۹۷)
ابو جہل نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا کیا محّمد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) تمھارے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں۔ کہا گیا ہاں۔ ابوجہل نے کہا: لات اور عزیٰ کی قسم اگر میں نے انھیں ایسا کرتے دیکھ لیا تو ان کی گردن روند ڈالوں گا اور ان کے چہرے کومٹی میں لتھیڑ دوں گا۔ (پھر ایسا ہوا کہ) وہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس آیا۔ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے آپؐ کی گردن روند نے کا ارادہ کیا لیکن پھر وہ اچانک آپؐ سے دور ہو گیا اور اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ آیا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے (کسی چیز سے) بیچ رہا تھا۔ اس سے کہا گیا تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق تھی، بڑا ہولناک منظر تھا اور بازو تھے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے اعضا کو اچک لیتے۔
آگے فرمایا
(اَرَءَیْتَ اِنْ ڪَانَ عَلَی الْهُدٰۤی) (اے رسول) کیا آپ نے دیکھا اگر وہ ہدایت پر ہوتا (اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی) اور تقویٰ کا حکم دیتا (تو اس کے حق میں کتنا اچّھا ہوتا) (اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰی) اور (اے رسول) کیا آپ نے دیکھا کہ اگر وہ (آپ کو) جھٹلاتا ہے (اور آپ کی تعلیمات سے منھ موڑتا ہے تو کیا وہ ہمارے عذاب سے بیچ کر نکل جائے گا) (اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰی) کیا اسے نہیں معلوم کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
(کَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ یَنْتَهِ،لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِ) (لہٰذا وہ اللہ کی گرفت سے) ہرگز نہیں (بچ سکتا) اگر وہ (اپنی حرکتوں سے) باز نہ آیا تو ہم ضرور اس کی پیشانی کو پکڑ کر گھسیٹیں گے۔
(نَاصِیَةٍ کَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ) (وہ) پیشانی جو جھوٹی اور خطا کار ہے۔
شانِ نزول کی روایت میں ہے کہ ابو جہل نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے کہا تھا کہ میری مجلس کے رفقا بہت ہیں (میں اپنی مجلس کے رفقا کو بلاؤں گا تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکو گے) اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا
(فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗ) (اگر اس نے یہ چیلنج کیا ہے) تو اسے چاہیے کہ اپنی مجلس (کے رفقا کو اپنی مدد کے لیے ) بلائے (سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَ) ہم بھی دوزخ کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔
صحیح مسلم کی روایت جو اوپر گزری اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوجہل نے فرشتے دیکھے تھے۔ اگر وہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھتا تو فرشتے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔ وہ فرشتے گویا زبانیہ کی تفسیر ہے۔
آگے فرمایا
(كَلَّا،لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ) (اے رسول، وہ آپ کو نماز سے روکتا ہے، آپ) ہرگز (اس کا کہنا) نہ (مانیں بلکہ بدستور نماز پڑھتے رہیں) اور سجدے کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہیں۔
سجدہ تلاوت:
رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم سورۂ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ پڑھ کر سجدہ کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سَجَدَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ وَاِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ
(صحیح مسلم کتاب الصلوة باب سجد ود التلاوة جزء اوّل صفحه ۲۳۳، (حديث : ۱۳۰۲ / ۵۷۸)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ اور اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ میں سجدہ کیا ۔
عمل
اے لوگو! آپ سب کو لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے لہٰذا اس کے احکام سے سرکشی نہ کیجیے۔ کسی کواللہ کی عبادت سے نہ رو کیے۔
اے ایمان والو! جب آپ اس سورت کی آخری آیت پڑھیں تو سجدہ تلاوت کیا کیجیے۔
نوٹ: سجدہ تلاوت کے جملہ مسائل کے لیے سورۂ الاعراف کی آیت ۲۰۶ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔



<

Share This Surah, Choose Your Platform!