Surah Laa uqsimu / al-balad



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۹۰ – سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ/البَلَدِ –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ۝۱ وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ۝۲ وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ۝۳ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ ڪَبَدٍ۝۴ اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌ۝۵ یَقُوْلُ اَهْلَڪْتُ مَالًا لُّبَدًا۝۶ اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌ۝۷ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِ۝۸ وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِ۝۹ وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِ۝۱۰ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ۝۱۱ وَ مَاۤ اَدْرٰىڪَ مَا الْعَقَبَةُ۝۱۲ فَكُّ رَقَبَةٍ۝۱۳ اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍ۝۱۴ یَتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ۝۱۵ اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ۝۱۶ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ۝۱۷ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ۝۱۸ وَ الَّذِیْنَ ڪَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ۝۱۹ عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۝۲۰

<

ترجمہ: میں اس شہر (مکّہ) کی قسم کھاتا ہوں۝۱ اور (اے رسول، اس شہر کو ایک اور شرف بھی حاصل ہے، وہ یہ کہ) آپ اس شہر کے رہنے والے ہیں۝۲ اور باپ کی قسم اور اولاد کی قسم۝۳ ہم نے انسان کو (ایسا) بنایا ہے (کہ کسی نہ کسی) تکلیف میں (مبتلا رہتا ہے)۝۴ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس پر کوئی قادر نہیں ہو گا۝۵ وہ یہ کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا (میرا کسی نے کیا بگاڑ لیا)۝۶ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں۝۷ کیا ہم نے اسے دو۲ آنکھیں نہیں دیں۝۸ زبان اور دو۲ ہونٹ نہیں دیے۝۹ اور کیا ہم نے اس کو (اچّھے اور بُرے) دونوں راستے نہیں بتائے۝۱۰ لیکن وہ گھاٹی سے ہو کر نہ نکلا۝۱۱ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ گھاٹی کیا ہے۝۱۲ (گھاٹی یہ ہے) غلام کا آزاد کرانا۝۱۳ یا بھوک کے دن کھانا کھلانا۝۱۴ رشتے دار یتیم کو۝۱۵ یا خاک نشین محتاج کو۝۱۶ پھر وہ (صرف یہ ہی کام نہ کرے بلکہ وہ) ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے، صبر کی وصیّت کرتے رہے اور رحم کی وصیّت کرتے رہے۝۱۷ یہ ہی لوگ داہنے ہاتھ والے ہیں۝۱۸ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا وہ بائیں ہاتھ والے ہیں۝۱۹ ان پر آگ بند کر دی جائے گی۝۲۰

<

معانی و مصادر: (حِلٌ) حَلَّ، يَحِلُّ، يَحُلُّ، حِلٌّ و حَلَلٌ وحُلُوْلٌ (ن،ض) اترنا ، رہنا۔ (حِلٌ= اترنے والا، رہنے والا)
(كَبَدٌ) كَبَدَ،يَكْبِدُ، يَكْبُدُ، کَبْدٌ (ن،ض) قصد کرنا، مقصد میں ڈالنا۔ (كَبَدٌ=مشقّت)
(لُبَدٌ) لَبَدَ، يَلْبُدُ، لُبُوْدٌ (ن)اوپر تلے ہونا، بعض کا بعض پر سوار ہونا۔ (لُبَدٌ=کثیر)
(نَجْدَيْنِ) نَجَدَ، يَنْجُدُ، نُجُوْدٌ (ن) واضح ہونا، بہنا۔ (نَجْدٌ=بلند راستہ ، چھاتی)
(اِقْتَحَمَ) اِقْتَحَمَ، يَقْتَحِمُ، اِقْتِحَامٌ (باب افتعال) تحقیر کرنا، غائب ہونا، کسی کام میں نفس کو شدّت سے ڈالنا۔
(عَقَبَةٌ) عَقَبَ، يَعْقِبُ، عَقْبٌ و عُقُوْبٌ و عَاقِبَةٌ (ض) بعد میں آنا، جانشین ہونا۔ (عَقَبَةٌ= گھائی، پہاڑ میں سخت چڑھائی)۔
(فَكٌّ) فَكَّ، يَفُكُّ، فَكٌّ (ن) واضح کرنا، کھولنا۔
(مَسْغَبَةٌ) سَغَبَ، يَسْغُبُ، سَغْبٌ و سُغُوبٌ و سَغَبٌ و سَغَابَةٌ و سَغْبَةٌ (ن) بھوکا ہونا (مَسْغَبَةٌ =بھوک)
(مَقْرَبَةٌ) قَرِبَ ، يَقْرَبُ، قُرْبٌ و قُرْبَانٌ (س) قریب ہونا۔ (مَقْرَبَةٌ=رشتہ)
(مَتْرَبَةٌ) تَرِبَ ، يَتْرَبُ، تَرَبٌ و مَتْرَبٌ (س) محتاج ہونا۔ (مَتْرَبَةٌ= مفلسی جو خاک نشین بنادے)۔
(تَوَاصَوْا) تَوَاصٰى ، یَتَوٰصٰی، تَوٰصِىْ (باب تفاعل) باہم وصیّت کرنا۔
(مَرْحَمَةٌ) رَحِمَ، يَرْحَمُ، رَحْمَةٌ و مَرْحَمَةٌ و رُحْمٌ و رُحُمٌ (س) رحم کرنا۔
(مَيْمَنَةٌ) يَمَنَ، یَيْمَنُ، يُمْنٌ و مَيْمَنَةٌ (ف،س،ك) مبارک ہونا۔ يَمَنَ، یَيْمِنُ ويَاْمِنُ، يَمْنٌ (ض) سیدھی طرف جانا۔( مَيْمَنَةٌ=داہنی)
(مَشْئَمَةٌ) شَاَمَ ، يَشْئَمُ، شَاَمٌ(ف) منحوس ہونا۔ (مَشْئَمَةٌ=بایاں، منحوس)
(مُؤْصَدَةٌ) اَوْصَدَ، يُؤْصِدُ، اِيْصَادٌ (باب افعال) منھ ڈھانکنا، دروازہ بند کرنا۔ (مُؤْصَدَةٌ= ڈھانکی ہوئی)

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ) میں اس شہر (مکّہ) کی قسم کھاتا ہوں (وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ) اور (اے رسول! میرا اس شہر کی قسم کھا نا ہی اس شہر کی عظمت پر دِلالت نہیں کرتا بلکہ اس شہر کو ایک اور شرف بھی حاصل ہے وہ یہ کہ) آپؐ اس شہر کے رہنے والے ہیں۔
کعبے کی وجہ سے جو ہمیشہ سے تو حید اور اسلام کا مرکز رہا ہے مکّۂ معظّمہ کو بڑا شرف حاصل ہے۔
اللہ ذوالجلال والاکرام فرماتا ہے:
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ۝۹۶ فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ،وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا،
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۹۶ تا ۹۷)
سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کےلیے بنایا گیا وہ ہی ہے جو مکّہ میں ہے، وہ بابرکت ہے اور تما م اقوامِ عالَم کےلیے رہنما ہے۔ اس گھر میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، منجملہ ان کے مقامِ ابراہیم ہے (اللہ کے) اس گھر میں جو داخل ہو گیا وہ امن و امان میں آ گیا،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ
(سُوْرَۃُ الْمَآئِدَۃِ: ۵، آیت : ۹۷)
اللہ نے کعبے کو حُرمت والا گھر قرار دیا ہے
مکّۂ معظّمہ کے متعلّق جملہ مسائل
۝۱ مکّۂ معظّمہ کا احترام کرے، نہ وہاں کا درخت کاٹے، نہ کانٹا توڑے، نہ وہاں کی گھاس کاٹے سوائے اذخر کے، نہ وہاں سے شکار بھگائے، نہ وہاں کی گری پڑی چیز اٹھائے البتّہ وہ شخص اٹھا سکتا ہے جو اس کا اعلان کرے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَا هِجْرَةَ وَلٰكِنْ جِهَادٌ دَنِيَّةٌ وَّ اِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا فَاِنَّ هٰذَا بَلَدٌ حَرَّمَ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَاِنَّهٗ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيْهِ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ وَلَمْ يَحِلَّ لِیْ اِلَّا سَاعَةً مِنْ نَّهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرُمَةِ اللهِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهٗ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهٗ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَتَطتَهٗ اِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلٰى خَلَاهَا قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُوْلَ اللهِ اِلَّا الْاِذْخِرَ فَاِنَّهٗ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوْتِهِمْ قَالَ قَالَ اِلَّا اِذْخِرَ ۔
(صحیح بخاری کتاب الحج باب لا يحل القتال بمكة جزء ۳ صفحه ۱۸، حديث : ۱۸۳۴ / ۱۷۳۷ وصحیح مسلم کتاب الحج باب تحريم مكة و صيدها جزء اوّل صفحہ ۵۶۸، حديث : ۳۳۰۲ / ۱۳۵۳)
ہجرت نہیں رہی البتّہ جہاد قائم رہے گا اور نیّت باقی رہے گی جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکل کھڑے ہوا کرو۔ یہ وہ شہر ہے کہ اللہ نے جس دن آسمان اور زمین کو پیدا کیا اسی دن سے اس کو حرمت دی ہے اور اللہ کی یہ حرمت قیامت تک قائم رہے گی۔ مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس شہر میں لڑنا جائز نہیں تھا اور میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی کے لیے جائز ہوا تھا۔ اس کے بعد اس کی حرمت پھر قیامت تک کے لیے قائم ہو گئی اس کا کانٹانہ تو ڑا جائے، اس کا شکار نہ ہانکا جائے، اس کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے مگر وہ اٹھائے جو اس کا اعلان کرے، وہاں کی سبزی نہ اکھاڑی جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ مگر اذخر کی اجازت دے دیجیے وہ ہمارے لوہاروں اور ہمارے گھروں کے کام آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا اذخر کی اجازت ہے۔
۝۲ مکّۂ معظّمہ میں ہتھیار لے کر داخل نہ ہو۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَا يَحِلُّ لِاَحَدِكُمْ اَنْ يَّحْمِلَ بِمَڪَّةَ السِّلَاحَ
(صحیح مسلم كتاب الحج باب النهی عن حمل السلاح مكة بلا حاجة جزء اوّل صفحه ۵۷، حديث : ۳۳۰۷ / ۱۳۵۶)
مکّہ میں ہتھیار لے کر جانا تم میں سے کسی کے لیے بھی جائز نہیں۔
۝۳ مکّۂ معظّمہ میں خونریزی نہ کرے۔ وہاں جو آ جائے اسے امن دے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِ۝۱ وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَ۝۲ وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ۝۳
(سُوْرَۃُ وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ: ۹۵، آیت : ۱ تا۳ )
انجیر کی قسم اور زیتون کی قسم۔ اور سینین پہاڑ کی قسم۔ اور اس امن والے شہر کی قسم۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمُهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِاَ مْرِیٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضُدَ بِهَا شَجَرَةً فَاِنْ اَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُوْلُوْا لَهٗ اِنَّ اللهَ اَذِنَ لِرَسُوْلِهٖ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَاِنَّمَا اَذِنَ لِیْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْاَمْسُ
(صحیح بخاری کتاب الحج باب لا یعضد شجر الحرم جزء ۳ صفحہ ۱۸،حديث : ۱۸۳۲ / ۱۷۳۵ صحیح مسلم کتاب الحج باب تحريم مكة و صيدها جزء اوّل صفحه ۵۶۸، حديث : ۳۳۰۴ / ۱۳۵۴)
مکّہ کو اللہ نے حرمت بخشی ہے، لوگوں نے اس کو حرمت نہیں بخشی لہٰذا جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ مکّہ میں خونیزی کرے اور وہاں کے درخت کاٹے پھر اگر کوئی شخص اللہ کے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے قتال سے رخصت کی دلیل لے تو اس سے کہو کہ اللہ نے اپنے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کو اجازت دی تھی ہم کو اجازت نہیں دی اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے بھی دن کی ایک گھڑی کے لیے اجازت ملی تھی اور آج اس کی حرمت لوٹ کر ویسی ہی ہوگئی ہے جیسے کل تھی۔
۝۴ مکّہ معظّمہ کو تمام روئے زمین سے افضل اور سب سے زیادہ محبوب سمجھے۔
حضرت عبد اللہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ فَقَالَ وَاللهِ اِنَّكِ لَخَيْرُ اَرْضِ اللهِ وَاَحَبُّ اَرْضِ اللهِ اِلَى اللهِ وَلَوْلَا اَنِّیْ اُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ۔
(رواه الترمذی و صححه فى ابواب المناقب باب فی فضل مكة جزء ۲ صفحہ ۶۱۹، حديث : ۳۹۲۵ / ۴۲۶۷، ومسند احمد ۱۸۹۲۲ / ۱۷۹۷۰ / ۱۸۷۱۵ / ۱۲۵۹۸ و ۱۲۵۹۷، وصحيح ابن حبّان حديث : ۳۷۰۸ / ۳۷۰۰ / ۲۷۴)
میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو حزورہ کے مقام پر کھڑے ہوئے دیکھا۔ آپؐ یہ فرما رہے تھے اے مکّہ! اللہ کی قسم تو اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے اور اللہ کے نزدیک اللہ کی ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے اور اگر میں تجھ سے نہ نکالا جاتا تو (کبھی) نہ نلتا ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ مَا اَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَّ اَحَبَّكِ اِلَىَّ وَلَوْلَا اَنَّ قَوْمِیْ اَخْرَجُوْنَ مِنْكِ مَا سكَنْتُ غَيْرَكِ
(رواه الترمذی و صححه فى ابواب المناقب باب فِی فضل مكة جزء۲ صفحہ ۶۱۹، حديث : ۳۹۲۶ / ۴۲۶۸، ومستدرك حاكم حديث : ۱۷۸۷ / ۱۸۰۷، وصحيح ابن حبّان حديث : ۳۷۰۹ / ۳۷۰۱ / ۲۷۵)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مکّہ سے فرمایا تو کتنا اچّھا شہر ہے اور تو مجھ کو سب سے زیادہ پیارا ہے اور اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں سوا تیرے کہیں نہ رہتا۔
آگے فرمایا
(وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ) اور باپ کی قسم اور اولاد کی قسم (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ) ہم نے انسان کو (ایسا) بنایا ہے (کہ کسی نہ کسی) تکلیف میں (مبتلا رہتا ہے)۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
خَطَّ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا مُّرَبَّعًا وَّ خَطَّ خَطًّافِی الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا اِلٰى هٰذَا الَّذِیْ فِی الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِیْ فِی الْوَسَطِ وَقَالَ هٰذَا الْاِنْسَانُ وَ هٰذَا اَجَلُهٗ مُحِيْطٌ بِهِٖۤ اَوْ قَدْ اَحَاطَ بِهٖ وَ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ خَارِجٌ اَمَلُهٗ وَهٰذِهِ الْخُطُطُ الصِّغَارُ الْاَعْرَاضُ فَاِنْ اَخْطَاَهُ هٰذَا نَهَشَهٗ هٰذَا وَاِنْ اَخْطَاَهُ هٰذَا نَهَشَهٗ هٰذَا ۔
(صحیح بخاری کتاب الرقاق باقي الامل وطوله جزء ۸ صفحه ۱۱۰، حديث : ۶۴۱۷ / ۶۰۵۴)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے (زمین پر) ایک مربع شکل بنائی پھر اس کے بیچ میں ایک لکیر کھینچی جو مربع شکل سے باہر نکل گئی پھر اس لکیر کے اردگرد کئی چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچی پھر فرمایا (مربع کے) اندر جو لکیر ہے وہ آدمی (کے مثل) ہے اور یہ مربع شکل جو اس گھیرے ہوئے ہے اس کی موت ہے اور یہ لکیر جو مربع شکل کے باہر تک چلی گئی ہے اس کی آرزو ہے۔ اور یہ چھوٹی چھوٹی لکیر میں آفات ہیں اگر ایک آفت سے بچ گیا تو دوسری نے آدبایا اگر اس سے بھی بچ یا تو تیسری نے دبوچ لیا۔
آگے فرمایا
(اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌ) کیا وہ سمجھتا ہے کہ اس پر کوئی قادر نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰى۝۳۱ وَ لٰڪِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى۝۳۲ ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤی اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰى۝۳۳ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى۝۳۴ ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى۝۳۵ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًی۝۳۶ اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰى۝۳۷ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰى۝۳۸ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّڪَرَ وَ الْاُنْثٰى۝۳۹ اَلَیْسَ ذٰلِڪَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یُّحْیِ َۧ الْمَوْتٰى۝۴۰
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۳۱ تا ۴۰)
(لیکن افسوس انسان کو کیا ہو گیا ہے موت کا منظر وہ اکثر دیکھتا رہتا ہے) پھر بھی نہ تو (قیامت کی) تصدیق کرتا ہے اور نہ نماز پڑھتا ہے۔ بلکہ (قیامت کو) جھٹلاتا ہے اور منھ پھیر لیتا ہے۔ پھر اکڑتا ہوا اپنے گھروالوں کی طرف چل دیتا ہے۔ (تو اے انسان، تیری ان حرکتوں کی وجہ سے) تیرے لیے خرابی پر خرابی ہے۔ (اے انسان) پھر (سن لے) تیرے لیے خرابی پر خرابی ہے۔ کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا (اسے حساب و کتاب کےلیے زندہ نہیں کیا جائے گا)۔ (اس کا دوبارہ زندہ کرنا ہمارے لیے کیا مشکل ہے) کیا وہ نطفے کا ایک قطرہ نہیں تھا جو (رحمِ مادر میں) ٹپکایا گیا تھا۔ پھر وہ گوشت کا لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو بنایا اور (اس کے اعضا کو) درست کیا۔ پھر اس کی دو۲ جنسیں بنائیں (یعنی) مرد اور عورت۔ کیا (جس ہستی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کر دیا) وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو (دوبارہ) زندہ کر دے۔
الغرض انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا، کوئی اس سے باز پرس نہیں کرے گا، ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر اس سے اس کے اعمال کا حساب لے گا
(یَقُوْلُ اَهْلَڪْتُ مَالًا لُّبَدًا) وه کہتا (پھرتا) ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا (میرا کسی نے کیا بگاڑ لیا) (اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌ) کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں (ہم نے اسے بد اعمالیاں کرتے دیکھا ہے اور ہم اس سے ان بد اعمالیوں کا حساب لیں گے) (اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِ)[ کیا ہم نے اسے دو۲ آنکھیں نہیں دیں (وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِ) (اور کیا ہم نے اسے) زبان اور دو۲ ہونٹ نہیں دیے (وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِ) اور کیا ہم نے اس کو (اچّھے اور بُرے) دونوں راستے نہیں دکھائے۔
دنیاوی زندگی کے لحاظ سے آنکھیں، زبان اور ہونٹ بڑی نعمتیں ہیں، دینی لحاظ سے اچّھے اور بُرے راستے کی تمیز ہو جانا سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دین اور دنیا دونوں جگہ سرخرو ہونے کے لیے انسان کو اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا لیکن انسان بڑا بد بخت نکلا
(فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ) پھر بھی گھاٹی کو پار نہ کر سکا (وَ مَاۤ اَدْرٰىڪَ مَا الْعَقَبَةُ) اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ گھاٹی (سے ہماری) کیا مراد ہے (فَكُّ رَقَبَةٍ) (گھائی سے مراد ہے) غلام آزاد کرانا (اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍ) یا بھوک کے دن کھانا کھلانا (یَتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ) رشتے دار یتیم کو (اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ) يا خاک نشین محتاج کو۔
گھاٹی دو۲ پہاڑوں کے درمیان دشوار گزار راستہ کو کہتے ہیں تو جس طرح اس میں سے ہو کر گزرنا اور اس کو پار کرنا دشوار ہوتا ہے اسی طرح غلام کو آزاد کرانا اور بھوکے رشتے دار یتیم کو یا خاک نشین غریب کو کھانا کھلانا دشوار ہوتا ہے۔ بخل انسان کو ان کاموں میں مال صرف کرنے سے باز رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ، وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا۝۱۲۸
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۱۲۸)
انسان (فطرۃً) حِرص کی طرف مائل ہوتے ہیں (نہ مرد مہر دینا چاہے گا اور نہ عورت اپنا حق چھوڑنا پسند کرے گی لیکن اللہ حِرص کو پسند نہیں کرتا وہ تو یہ حکم دیتا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ نیکی و احسان کرتے رہو) اور اگر تم نیکی و احسان کرتے رہے اور (اللہ سے) ڈرتے رہے تو اللہ (تمھاری نیکیوں کو ضائع نہیں کرے گا وہ) تمھارے اعمال سے باخبر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۹
(سُوْرۃُ الْحَشْرِ : ۵۹، آیت : ۹)
اور جوشخص اپنے نفس کی حِرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ،وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕڪَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۶اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ،وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌ۝۱۷
(سُوْرَۃُ التَّغَابُنِ : ۶۴، آیت : ۱۶ تا ۱۷)
اور (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے رہو، (یہ) تمھارے لیے بہتر ہے اور جو شخص نفس کے بُخل سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (اے ایمان والو) اگر تم اللہ کو قرضِ حسنہ دو گے تو اللہ اس کو تمھارے لیے کئی گنا کر دے گا اور تمھاری مغفرت فرمائے گا اور اللہ بڑا قدردان اور بُردبار ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنْ یَّسْـَٔلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ۝۳۷ هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ،فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ،وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ،وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ،وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ،ثُمَّ لَا یَڪُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۝۳۸
(سُوْرَۃُ مُحَمَّدِ : ۴۷، آیت : ۳۷تا۳۸)
اگر وہ تم سے (اپنے لیے) مال طلب کرے اور بار بار اپنے سوال کو دہرائے تو تم بُخل کرو گے اور اللہ تمھاری کدورتوں کو ظاہر کر کے رہے گا (جو مال کو خرچ کرنے کے سلسلے میں تمھارے دِلوں میں پوشیدہ ہیں)۔ دیکھو تم ہی تو وہ لوگ ہو کہ جب تم کو (اس لیے) بلایا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو تم میں سے بعض بُخل کرتے ہیں اور جو شخص بُخل کرتا ہے تو اس میں اسی کا نقصان ہے (اے لوگو) اللہ (تعالیٰ) تو غنی ہے اور تم سب محتاج ہو اور اگر تم (اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے) منھ پھیرو گے تو اللہ تمھارے بدلے دوسروں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح (بخیل) نہیں ہوں گے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيْدٍ مِنْ ثُدَيِّهِمَا اِلٰى تَرَاقِيْهِمَا فَاَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ اِلَّا سَبَغَتْ اَوْ وَّفَرَتْ عَلىٰ جِلْدِهٖ حَتّٰى تُخْفِیَ بَنَانَهٗ وَتَعْفُوَ اَثَرَهٗ وَاَمَّا الْبَخِيْلُ فَلَا يُرِيدُ اَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا اِلَّا لَزِقَتْ ڪُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَهُوْ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ
(صحیح بخارى كتاب الزكوة باب مثل المتصدق والبخيل جزء۲ صفحہ ۱۴۲،حديث : ۱۴۴۳ / ۱۳۷۵ وصحیح مسلم کتاب الزكوة باب مثل المنفق والبخيل جزء اوّل صفحه ۴۰۸، حديث : ۲۰۵۹ / ۱۰۲۱)
بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو۲ شخصوں کی طرح ہے جو لوہے کے دو۲ کرتے چھاتیوں سے ہنسلیوں تک پہنے ہوئے ہوں۔ خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ کرتا پھیل جاتا ہے اور لمبا چوڑا ہو کر سارا بدن ڈھانک دیتا ہے یہاں تک کہ انگلیوں کی پوریں بھی ڈھک جاتی ہیں اور (کرتا لمبا ہونے کی وجہ سے) قدموں کے نشان بھی مٹا دیتا ہے۔ اور بخیل جب کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو ہر حلقہ اپنی جگہ پر چمٹ کر رہ جاتا ہے، وہ اس کو کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو نعمتیں دیں تو اسے چاہیے تھا کہ ان کا شکر ادا کرتا اور غلاموں کو آزاد کراتا، یتیموں اور مسکینوں کوکھانا کھلاتا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکا۔ یہ دشوار کام وہ نہیں کر سکا۔ یہ اس کی ناشکری ہے۔
غلام آزاد کرنے کی فضیلت
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَيُّمَا رَجُلٍ اَعْتَقَ اِمْرَاً مُّسْلِمًا اسْتَنْقَذَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضُوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ۔
(صحیح بخاری کتاب العتق باب فِی العتق و فضله جزء ۳ صفحه ۱۸۸، حديث : ۲۵۱۷ / ۲۳۸۱، صحیح مسلم کتاب العتق باب فضل العتق جزء اوّل صفحہ ۶۵۷، حديث : ۳۷۹۸ / ۱۵۰۹ ۔واللفظ للبخاری)
جو شخص کسی مسلم غلام کو آزاد کرے تو اللہ اس کے ہر عضو کو غلام کے ہر عضو کے بدلے میں دوزخ سے آزاد کر دے گا۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قُلْتُ (يَا رَسُولَ اللهِ) فَاَیَّ الرِّقَابِ اَفْضَلُ قَالَ اَغْلَاهَا ثَمَنَا وَّ اَنْفُسَهَا عِنْدَ اَهْلِهَا
(صحیح بخاری کتاب العتق باب ای الرقاب افضل جزء ۳ صفحہ ۱۸۸، حديث : ۲۵۱۸ / ۲۳۸۲، وصحيح مسلم حديث : ۲۵۰ / ۸۴)
میں نے کہا (اے اللہ کے رسول) کونسا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا جس کی قیمت زیادہ ہو اور جو اس کے مالک کو بہت پسند ہو۔
نوٹ: رشتہ دار، یتیم اور مسکین کے حقوق کے سلسلے میں سورۂ نسآء کی آیت ۳۶ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
ثَلٰثَةٌ لَّهُمْ اَجْرَانِ رَجُلٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اٰمَنَ بِنَبِيِّهٖ وَ اٰمَنَ بِمُحَمَّدٍ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْكُ اِذَا ادّٰى حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوَالِيْهِ وَرَجُلٌ ڪَانَتْ عِنْدَهٗ اُمَّةٌ يَّطَاُهَا فَاَدَّبَهَا فَاَحْسَنَ تَادِيْبَهَا وَ عَلَّمَهَا فَاَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا ثُمَّ اعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهٗ اَجْرَانِ
(صحیح بخاری کتاب العلم باب تعليم الرجل امة جزء اوّل صفحہ ۳۵، حديث : ۹۷ و صحیح مسلم کتاب الایمان باب وجوب الایمان برسالة نبينا جزء اوّل صفحه ۷۵، حديث : ۳۸۷ / ۱۵۴)
تین۳ آدمیوں کو دوہرا ثواب ملے گا ایک تو اہلِ کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے پیغمبر پرایمان لایا اور پھرمحّمد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) پر ایمان لایا دوسرا وہ غلام جو اللہ کا بھی حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا بھی حق ادا کرے اور تیسرا وہ شخص جس کے پاس ایک لونڈی ہو وہ اس سے صحبت کر تا ہو پھر اس کو اچّھی طرح ادب سکھائے اور اچّھی طرح تعلیم دے پھر آزاد کر کے اسے سے نکاح کرلے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔
لونڈی اور غلام کو آزاد کرنے کے جملہ مسائل !
۝۱ لونڈی اور غلام کو آزاد کرے اور روپیہ خرچ کرکے دوسروں سے بھی آزاد کرائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ،وَ السَّآىِٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ،
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۷۷)
(اصل نیکی تو ان لوگوں کی ہے) جو مال کی محبّت کے باوجود اسے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں پر اور غلاموں کے آزاد کرانے میں خرچ کرتے ہیں،
۝۲ جو شخص اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو کفّارہ میں ایک مومن غلام ، لونڈی آزادی کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا،
(سُوْرَۃُ الْمُجَادِلَۃِ: ۵۸، آیت : ۳)
اور (اے ایمان والو) جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر (اگر) وہ اپنے (اس) قول سے رجوع کریں تو (ان کو اپنی بیویوں کو) ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضروری) ہے،
۝۳ جو شخص قسم کھائے اور پھر قسم توڑ دے تو اسے چاہیے کہ کفّارے میں دس۱۰ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا دس۱۰ مسکینوں کو کپڑے پہنائے یا ایک غلام آزاد کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا یُؤَاخِذُڪُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُڪُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ،فَڪَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰڪِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ ڪِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ،
(سُوْرَۃُ الْمَآئِدَۃِ: ۵، آیت : ۸۹)
(اے ایمان والو) اللہ تمھاری لغو قسموں (کے توڑنے) پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں کرے گا لیکن ان قسموں (کے توڑنے) پر (ضرور) تم سے مواخذہ کرے گا جن قسموں کو تم نے پختہ کیا ہو، (ایسی) قسموں (کے توڑنے) کا کفّارہ دس۱۰ مسکینوں کو اوسط درجے کا ایسا کھانا کھلانا ہے جو (عمومًا) تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو یا انھیں کپڑے پہنانا ہے یا ایک غلام آزاد کرنا ہے،
۝۴ کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو کفّارے میں ایک مومن غلام (یا لونڈی) آزاد کرے۔ اگر وہ مومن جس کو قتل کیا ہے دشمن قوم سے تعلّق رکھتا ہو یا کسی ایسی قوم سے تعلّق رکھتا ہو جس سے مسلم قوم کا معاہدہ ہو تو ایسی صُورت میں ایک غلام آزاد کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَـًٔا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ،
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۹۲)
جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو (اس کے کفّارے میں قاتل) ایک مومن غلام (یا لونڈی) آزاد کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّڪُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ،وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤی اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ،
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۹۲)
اگر مقتول مومن ہو لیکن اس کا تعلّق تمھاری دشمن قوم سے ہو تو اس صُورت میں بھی (بطور کفّارہ) ایک مومن غلام آزاد کرے (دیت کی ضرورت نہیں) اور اگر مقتول اس قوم کا فرد ہو جس قوم سے تمھارا عہد و پیمان ہے تو (قاتل) اس کے وارثوں کو پوری دیت ادا کرے اور (بطور کفّارہ) ایک مومن غلام بھی آزاد کرے،
۝۵ سورج گرہن ہو تو غلام آزاد کرے۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اَمَرَ النَّبِیُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِیْ كُسُوفِ الشَّمْسِ
(صحیح بخارى كتاب الكسوف باب من احب العتاقة فِی كسوف الشمس جزء ۲ صفحہ ۴۷، حديث : ۱۰۵۴ / ۱۰۰۶)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے سورج گہن میں غلام آزاد کر نے کا حکم دیا۔
۝۶ رمضان کا روزہ قصداً توڑے تو ایک غلام (یا لونڈی) آزاد کرے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ جَاءَهُٗ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَلَكْتُ قَالَ مَالَكَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَاَتِی (وَفِیْ رِوَايَةٍ فِیْ رَمَضَانَ) وَاَنَا صَآئِمٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ تَسْتَطِيْعُ اَنْ تَصُوْمَ شَهْرَيْنِ مُتَتَا بِعَيْنِ قَالَ لَا فَقَالَ فَهَلْ تَجِدُ اِطْعَامَ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا قَالَ لَا۔
(صحیح بخاری کتاب الصوم باب اذا جامع فى رمضان ولم يكن له شيء وباب اذا جامع فی رمضان جزء ۳ صفحہ ۴۱، حديث : ۱۹۳۶ / ۱۸۳۴، و حديث : ۱۹۳۷ / ۱۸۳۵، وصحيح مسلم حديث : ۲۵۹۵ / ۱۱۱۱)
ایک بار ہم نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اس نے عرض کیا، یا رسول اللہ میں تباہ ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا کیا ہوا؟ اس نے کہا میں نے اپنی بیوی سے جماع کیا اور میں روزہ دار تھا۔ آپؐ نے فرمایا تجھ کو آزاد کرنے کے لیے ایک غلام مل سکتا ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تو دو۲ مہینے کے لگا تار روزے رکھ سکتا ہے، اس نے کہا نہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا تو ساٹھ۶۰ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے اس نے کہا نہیں۔
۝۷ اگر ایک غلام کے کئی مالک ہوں پھر ایک مالک اپنے حصّے کی حد تک اس غلام کو آزاد کر دے تو اس شخص پر لازم ہے کہ اس کے پاس اس کی قیمت کے برابر مال ہے تو اسے پورا آزاد کرا دے۔ اس غلام کی قیمت کا عدل کے ساتھ اندازہ لگایا جائے اور شریکوں کو ان کے حصّے کی قیمت دے دی جائے۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر اس غلام کو اس حد تک آزاد سمجھا جائے جس حد تک وہ آزاد کر دیا گیا یا غلام سے اس کی بقیہ قیمت کے برابر مزدوری کرائی جائے اور شریکوں کو ان کے حصّے کی قیمت دے دی جائے لیکن غلام پر مزدوری کرنے کے لیے جبر نہ کیا جائے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ اَعْتَقَ شَرَ كَالَّهٗ فِی الْمَمْلُوْكِ فَعَلَيْهِ عِتْقُهٗ كُلِّهٖ اِنْ كَانَ لَهٗ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهٗ فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَهٗ مَالٌ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيْمَةَ عَدْلٍ فَاُعْتِقَ مِنْهُ مَا اَعْتَقَ۔
(صحیح بخاری کتاب العتق باب اذا عتق عبد أبين اثنين جزء ۳ صفحه ۱۸۹، حديث : ۲۵۲۳ / ۲۳۸۷، وصحيح مسلم (حديث : ۴۳۲۶ / ۱۵۰۱)
جو شخص غلام کا اپنا حصّہ آزاد کر دے اس پر پورا آزاد کرانا لازم ہے، اس کے پاس اتنامال ہو جو اس کی قیمت کو کافی ہو۔ اگر اتنا مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے پھر جو حصّہ اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی حصّہ آزاد سمجھا جائے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ اَعْتَقَ نَصِيْبًا اَوْ شَقِيْصًا فِی مَمْلُوْكٍ وَ خَلَاصُہٗ عَلَيْهِ فِیْ مَالِهٖۤ اِنْ كَانَ لَهٗ مَالٌ وَاِلَّا قُوِّمَ عَلَيْهِ فَاسْتُسْعِیَ بِهٖ غَيْرَ مَشْقُوْقٍ عَلَيْهِ
(صحیح بخاری کتاب العتق باب اذا اعتق نصیبافی عبد وليس له مال جزء ۳ صفحه ۱۹۰، حديث : ۲۵۲۷ / ۲۳۹۰، وصحيح مسلم حديث : ۴۳۳۳ / ۱۵۰۳)
جو شخص غلام میں سے اپنا حصّہ آزاد کر دے تو اس کو اپنے مال سے اس کا آزاد کرانا ضروری ہے بشرط یہ کہ وہ مال دار ہو ور نہ اس کی قیمت لگا کر غلام سے مزدوری کرائے اور اس کی مزدوری سے حاصل شدہ رقم سے غلام کا بقیہ حصّہ آزاد کر دے لیکن مزدوری کے سلسلے میں اس پر مشقّت نہ ڈالی جائے۔
۝۸ اگر کوئی شخص اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد کر دے تو وہ کرسکتا ہے بشرط یہ کہ اس کے پاس مال ہو۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ اَعْتَقَ غُلَامًا لَهٗ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهٗ مَالٌ غَيْرُهٗ فَبَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ يَشْتَرِيْهِ مِنِّىْ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا اِلَيْهِ ۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب جواز بیع المدبر جزء ۲ صفحہ ۳۳ حديث : ۴۳۳۸ / ۹۹۷)
ایک انصاری شخص نے اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے پاس غلام کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا۔ اس بات کی خبر نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو پہنچی۔ آپؐ نے (غلام کو بلوایا اور کہا) اس کو مجھ سے کون خریدتا ہے۔ نعیم بن عبد اللہ (نے کہا میں، الغرض انھوں) نے اس غلام کو آٹھ سو۸۰۰ درہم میں خرید لیا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے وہ درہم اس انصاری شخص کو دے دیے۔
۝۹ مفلس آدمی موت کے وقت اپنے تمام غلام آزاد نہ کرے بلکہ قرعہ ڈال کر غلاموں کی صرف تہائی تعداد آزاد کرے۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ رَجُلًا اَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِيْنَ لَهٗ عِنْدَ مَوْتِهٖ لَمْ يَكُنْ لَهٗ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَدَعَابِهِمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّاهُمْ اَثْلَاثًا ثُمَّ اَقَرَعَ بَيْنَهُمْ فَاَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَاَرَقَّ اَرْبَعَةً وَقَالَ لَهٗ قَوْلًا شَدِيْدًا۔
(صحیح مسلم كتاب الايمان باب من اعتق شركاله فى عبد جزء۲ صفحہ ۳۳، حديث : ۴۳۳۵ / ۱۶۶۸)
ایک شخص نے اپنی موت کے وقت چھ۶ غلاموں کو آزاد کیا۔ اس کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ان غلاموں کو بلوایا۔ پھر ان کو تین۳ حصوں میں تقسیم کیا۔ پھر آپؐ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی۔ دو۲ کو آزاد کر دیا اور چار۴ کو غلام رہنے دیا اور اس (آزاد کرنے والے) کو سختی سے ملامت کی۔
۝۱۰ آزاد کردہ غلام کی میراث (بطور عصبہ) اس شخص کا حق ہے جس نے اسے آزاد کیا تھا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَلْوَلَآءُ لِمَنْ اَعْتَقَ
(صحیح بخارى كتاب العتق باب اذا قال المكاتب اشترى و اعتقنى فاشتراه لذلك جزء ۳ صفحه ۳۰۰، حديث : ۲۵۶۵ / ۲۴۲۶ و صحیح مسلم کتاب العتق باب انما الولاء لمن اعتق جزء اوّل صفحہ ۴۵۴، حديث : ۳۷۷۶ / ۱۵۰۴)
آزاد کردہ غلام کی میراث بحیثیت عصبہ اس شخص کو ملے گی جو اسے آزاد کرے۔
۝۱۱ جس لونڈی سے بچّہ پیدا ہو جائے تو وہ لونڈی نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے اور نہ ورثہ میں تقسیم کی جائے۔ مالک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن مالک کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہو جائے گی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
نَهٰى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ اُمَّهَاتِ الْاَوْلَادِ وَقَالَ لَا يُبَعْنَ وَلَا يُوْهَبْنَ وَلَا يُوْرَثْنَ يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا دَامَ حَيًّا فَاِذَا مَاتَ فَهِیَ حُرَّةٌ۔
(رواه الدارقطن فِی كتاب المكاتب جزء۲ صفحہ ۴۸۱، حديث : ۴۱۷۴ / ۴۲۵۰ رواتہ ثقات نیل جزء ۶ صفحه ۸۴، حديث : ۲۶۱۷ سندہ صحیح)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے امّہات الاولاد کو بیچنے سے منع فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا وہ نہ بیچی جائیں، نہ ہبہ کی جائیں، نہ ورثہ میں تقسیم کی جائیں۔ ان کا مالک جب تک زندہ رہے ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جب وہ مر جائے گا تو وہ آزاد ہو جائیں گی۔
۝۱۲ اگر کوئی شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک بن جائے تو وہ مملوک خود بخود آزاد ہو جائے گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ عَتِيْقٌ
(رواه احمد وسنده صحیح ، بلوغ جزء ۱۴ صفحه ۱۵۵، حدیث : ۲۰۴۶۷ / ۱۹۳۴۳ / ۲۰۲۰۴ / ۵۲۶۲، المنتقى ابن الجارود حديث : ۹۷۲ / ۱۰۴۵، بلوغ، جزء ۱۴ صفحہ ۱۵۵، وسنن ابن ماجه حديث : ۲۵۲۵)
جو شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو جائے تو وہ رشتہ دار آزاد ہو جائے گا۔
۝۱۳ اگر غلام کی آزادی کو مشروط کر دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَعْتَقَتْنِیْ اَمُّ سَلَمَۃَ وَاشْتَرَطَتْ عَلَىَّ اَنْ اَخْدُمَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ
(راه احمد، حديث : ۲۲۲۷۲ / ۲۰۹۲۱ / ۲۱۹۲۷ / ۵۲۶۱ وسنده صحیح بلوغ جزء ۱۴ صفحه ۱۵۵، وسنن ابن ماجه حديث : ۲۵۲۶، وسنن ابوداؤد حديث : ۳۹۳۲)
مجھے امِّ سلمہؓ نے اس شرط پر آزاد کیا کہ میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی وفات تک آپؐ کی خدمت کرتا رہوں۔
نوٹ: غلام کے حقوق سورۂ نسآء کی آیت ۳۶ کی تفسِیر اور مکاتب غلام کے مسائل سورۂ نور کی آیت ۳۳ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
آگے فرمایا
(ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ) پھر وہ (صرف یہ ہی کام نہ کرے کہ غلام آزاد کرے، یتیم اور مسکین کو کھانا کھلائے بلکہ اسے چاہیے کہ) ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے، جوصبر کی وصیّت کرتے رہے اور (لوگوں پر) رحم و کرم کی وصیّت کرتے رہے۔ (اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ) یہ ہی لوگ دانے ہاتھ والے ہیں۔
بغیر ایمان لائے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے غلام آزاد کرنے والوں، یتیم اور مسکین کو کھانا کھلانے والوں پر یہ بات واضح کر دی کہ ان کے نیک اعمال کی قبولیت کے لیے ایمان لانا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا۝۱۲۴
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۱۲۴)
اور جو شخص نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرط یہ کہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان پر تل برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً،وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۝۹۷
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۹۷)
جو شخص نیک عمل کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرط یہ کہ مومن ہو تو ہم اس کو (دنیا میں) پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے اور آخرت میں ایسے لوگوں کو ان کے اچّھے اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰی لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْڪُوْرًا۝۱۹
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۱۹)
اور جو شخص آخرت کا طلب گار ہو اور اس کےلیے ایسی کوشش کرے جیسی کوشش کہ اس کے (حصول کے) لیے ضروری ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدردانی کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا۝۱۱۲
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۱۲)
اور جو شخص نیک عمل کرے گا بشرط یہ کہ وہ مومن ہو تو اسے نہ ناانصافی کا خوف ہو گا اور نہ حق تلفی کا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا ڪُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ، وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ۝۹۴
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۹۴)
جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کے اعمال کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور ہم اس کےلیے (اس کے اعمال کو) لکھ رہے ہیں۔
اسلام قبول کرنے کے بعد اور اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں بہت سی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے حالات میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الْعَصْرِ۝۱ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۝۲ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ،وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۝۳
(سُوْرَۃُ وَالْعَصْرِ: ۱۰۳، آیت : ۱ تا۳)
زمانے کی قسم۔ بےشک (تمام) انسان نقصان میں ہیں۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ایک دوسرے کو حق کی وصیّت کرتے رہے اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ کے احکام پر جمے رہنے اور گناہوں سے بچنے کے سلسلے میں بھی صبر کی بڑی ضرورت ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
وَاِنَّهُ مَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفُهُ اللهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللهُ وَمَنْ يَّسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَآءً خَيْرًا وَّاَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔
(صحیح بخاری کتاب الرقاق باب الصبر عن محارم الله جزء ۸ صفحہ ۱۲۳، حديث : ۶۴۷۰، وصحيح مسلم حديث : ۲۴۲۴ / ۱۰۵۳)
جو شخص سوال سے بچے گا اللہ اس کو سوال سے بچائے گا، جو شخص صبر کرے گا اللہ اس کو صبر دے گا اور جو شخص بے پرواہ رہے گا اللہ اس کو بے پرواہ کر دے گا (یعنی حرص سے بچائے گا) اور (اے ایمان والو) صبر سے بہتر اور وسیع تر تم کو کوئی نعمت ہرگز نہیں ملے گی۔
صرف غلام، رشتہ دار، یتیم اور خاک نشین مسکین ہی پر رحم و کرم کرنا ضروری نہیں بلکہ ہر ذی روح پر رحم کرنا ضروری ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے
(وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ) فرما کر رحم و کرم کی خصلت کو تمام مخلوق کے لیے فرض کر دیا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ۔
(صحیح بخاری کتاب التوحيد جزء ۹ صفحہ ۱۴۱ حديث : ۷۴۴۸ / ۷۰۱۰ و صحیح مسلم کتاب الجنائز باب البكاءعلى البيت جزء اوّل صفحه ۳۶۷ حديث : ۲۱۳۵ / ۹۲۳)
اللہ اپنے بندوں میں سے صرف انھی بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحیم ہوتے ہیں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
(صحیح بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد جزء ۸ صفحہ ۹، حديث : ۵۹۹۷ / ۵۶۵۱، وصحيح مسلم (حديث : ۶۰۲۸ / ۲۳۱۸)
جو شخص (دوسروں پر) رحم نہیں کرتا (اس پر) رحم نہیں کیا جاتا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَلرَّاحِمُوْنَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ اِرْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ يَرْحَمُكُمْ مَنْ فِی السَّمَآءِ (رواه الترمذی و صححه فِی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء فی رحمۃ المسلمین حديث : ۱۹۲۴ / ۲۰۳۷، وسنن ابوداؤد حديث : ۴۹۴۱، وسنن الكبرىٰ للبيهقى حديث : ۱۷۹۱۱ / ۱۷۹۰۵)
رحم کرنے والوں پر ہی رحمٰن رحم کرتا ہے (لہٰذا اے لوگو!) تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِی بِطَرِيْقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ وَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيْهَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَاِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرٰى مِنَ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هٰذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِىْ كَانَ بَلَغَ بِیْ فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَاَ خُفَّهٗ ثُمَّ اَمْسَكَہٗ بِفِيْهِ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللهُ لَهٗ فَغَفَرَ لَهٗ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ وَاِنَّ لَنَا فِی الْبَهَآئِمِ اَجْرًا فَقَالَ فِیْ كُلِّ ذَاتِ كِبَدٍ رَطْبَةٍ اَجْرٌ۔
(صحیح بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الناس و البهائم جزء ۸ صفحہ ۱۱، حديث : ۶۰۰۹ / ۵۶۶۳، وصحيح مسلم حديث : ۵۸۵۹ / ۲۲۴۴)
ایک شخص راستے میں چلا جارہا تھا۔ اس کو سخت پیاس لگی اس کو ایک کنواں دکھائی دیا۔ وہ اس میں اترا اور پانی پیا۔ جب باہر نکلا تو دیکھا ایک کتا پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ اس نے اپنے دِل میں کہا اس کتے کو بھی پیاس سے ایسی ہی تکلیف ہوگی جیسے مجھ کو پہنچ چکی ہے۔ وہ پھر کنوئیں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر منھ میں پکڑ کر اوپر چڑھا۔ اس نے کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام کی قدر کی اور اس کو بخش دیا۔ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! (صلّی اللہ علیہ وسلّم) کیا ہم کو جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کا ثواب ملے گا، آپؐ نے فرمایا (ہاں) ہر تر جگر والے کے ساتھ (حسن سلوک کرنے کا) ثواب ملے گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
عُذِّبَتِ امْرَاَةٌ فِیْ هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتّٰى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيْهَا النَّارَ لَا هِیَ اَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا اِذَا هِیَ حَبَسَتْهَا وَلَا هِیَ تَرَكَتْهَا تَاْكُلُ مِنْ خِشَاشِ الْاَرْضِ۔
(صحیح مسلم كتاب البر واصلة باب تحريم تعذيب الهرة جزء ۲ صفحہ ۴۴۳، حديث : ۶۶۷۵ / ۲۲۴۲، وصحيح بخارى ۳۴۸۲ / ۳۲۹۵)
ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے اس بلی کو قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مرگئی ۔ نہ اس کو کھلایا پلایا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
الغرض جو لوگ ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کی ممنوعات سے بچیں اور مخلوق پر رحم و کرم کریں وہ داہنے ہاتھ والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ،مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ۝۲۷ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۝۲۸ وَ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۝۲۹ وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۝۳۰ وَ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ۝۳۱ وَ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ۝۳۲ لَا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍ۝۳۳ وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ۝۳۴ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءً۝۳۵ فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا۝۳۶ عُرُبًا اَتْرَابًا۝۳۷ لِاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ ۝۳۸
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۲۷ تا۳۸)
اور داہنے ہاتھ والے، کیا کہنے داہنے ہاتھ والوں کے۔ (وہاں) وہ بغیر کانٹے والی بیریوں میں۔ تہہ بہ تہہ کیلوں (میں)۔ لمبے لمبے سایوں (میں)۔ پانی کے جھرنوں (میں)۔ کثیر میووں (میں)۔ (جو) نہ (کبھی) منقطع ہوں گے اور نہ ان سے (کبھی) روکا جائے گا۔ اونچے اونچے فرشوں (میں عیش کر رہے ہوں گے)۔ (ان چیزوں کے علاوہ انھیں حوریں بھی ملیں گی) ہم نے ان کو پیدا کیا۔ پھر ان کو کنواری بنایا۔ (مزید برآں ہم نے ان کو) پیاری پیاری اور ہم عمر بنایا۔ داہنے ہاتھ والوں کےلیے۔
آگے فرمایا
(وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا وہ بائیں ہاتھ والے ہیں (عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ) ان پر آگ بند کر دی جائے گی (یعنی اس کی گرم بھاپ بھی باہر نہیں نکلے گی۔ آگ پوری شدّت سے اندر رہے گی اور یہ دوزخیوں کے لیے مزید تکلیف کا باعث ہوگی)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ۝۸ فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۝۹
(سُوْرَۃُ وَیْلٌ لِّکُلِّ : ۱۰۴، آیت : ۸تا ۹)
وہ ان پر بند کر دی جائے گی۔ لمبے لمبے ستونوں میں۔
الغرض جن لوگوں نے اللہ اور اس کے احکام کے ساتھ کفر کیا وہ دوزخ میں ہوں گے۔ ان پر آگ کو بند کر دیا جائے گا، اس کی لپٹ اور تپش بھی باہر نہ نکلنے پائے گی۔
عمل
اے لوگو! ایمان لایے ، فضول خرچی نہ کیجیے ، غلاموں کو آزاد کیا کیجیے رشتہ دار یتیموں، خاک نشین، محتاجوں اور مسکینوں کو کھانا کھلایا کیجیے۔ ایک دوسرے کو صبر کی اور استقامت کی تلقین کرتے رہیے اور اللہ تعالی کی تمام مخلوق پر رحم کیا کیجیے



<

Share This Surah, Choose Your Platform!