Surah Nooh



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۷۱ سُوْرَۃُ نُوْح

فہرستِ مضامین

حضرت نوح علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کا ذِکر جمیل

حضرت نوح علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کے حالات

<

۷۱ سُوْرَۃُ نُوْح
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۝۱ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَڪُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۝۲ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِ۝۳ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْڪُمْ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی،اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ،لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۴

<

ترجمہ: ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (رسول بناکر) بھیجا (اور ان سے کہا) کہ اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ وہ دردناک عذاب میں مبتلا ہوں (ان کے بُرے اعمال کے انجام سے) ڈراؤ ۝۱ انھوں نے کہا اے میری قوم، میں تمھیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ۝۲ (اورتمھیں ہدایت کرتا ہوں) کہ اللہ کی عبادت کرو، اُس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۝۳ وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور ایک وقتِ مقرّرہ تک کےلیے تمھیں (دنیا میں رہنے کی) مُہلت دے گا، (پھر) جب اللہ کا مقرّرہ وقت آجائے گا تو پھر وہ (ذرا سی دیر کےلیے بھی) مؤخّر نہیں کیا جائے گا، کاش تم (اس بات کو) جانتے ہوتے۝۴

<

معانی ومصادر: (اَجَلٌ) اَجِلَ، يَأْجَلُ، اَجَلٌ (س) تاخیر کر نا، وقت مقرّر کرنا۔ (اَجَلٌ= وقت کی انتہا، موت)

<

تفسیر : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا (اور ان سے کہا) کہ اپنی قوم کو، اس سے پہلے کہ وہ درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں (ان کے بُرے عقائد و اعمال کے انجام سے) ڈراؤ۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِهٖۤ،اِنِّیْ لَڪُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۝۲۵ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ، اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْڪُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ۝۲۶
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا، آیت: ۲۵تا۲۶)
اور (اے رسول) ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (رسول بناکر) بھیجا، انھوں نے (قوم سے) کہا میں تمھیں صاف صاف (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا (بناکر بھیجا گیا) ہوں۔ (میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں) کہ تم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو (اور اگر تم نے میری بات نہ مانی تو) مجھے تمھارے متعلّق الم ناک دن کے عذاب کا خوف ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ،اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۝۵۹
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۵۹)
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکر بھیجا تھا، انھوں نے (اپنی قوم سے) کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو، اس کے علاوہ تمھارا کوئی الٰہ نہیں مجھے تمھارے متعلّق (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
آگے فرمایا (قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ) نوح (علیہ الصّلوۃ والسّلام) نے کہا: اے میری قوم! میں تمھیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں (اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِ) (اور تمھیں ہدایت کرتا ہوں) کہ اللہ کی عبادت کرو، اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو (یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی) (اگر تم ایسا کرو گے تو) اللہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور ایک وقتِ مقرّرہ تک کے لیے تمھیں (دنیا میں رہنے کی) مُہلت دے گا (اور اگر تم ایمان نہیں لائے اور عذاب کا وقتِ مقرّرہ آگیا تو پھر مُہلت نہیں ملے گی، عذاب آئے گا اور تمھیں تباہ و برباد کر دے گا) (اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ) (اور اے کافرو! خبر دار ہو جاؤ) جب اللہ کا مقرّرہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ موخّر نہیں کیا جاتا (خواہ وہ موت کا وقت ہو یا عذاب کا وقت) کاش تم اس بات کو جانتے (اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس وقت کے آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن جائے)۔
موت کا یا عذاب کا ایک وقت مقرّر ہے لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ وہ وقت کب آئے گا لہٰذا اس وقت کے آنے سے پہلے ہوشیار ہو جانا چاہیے اور اپنی اصلاح کر لینی چاہیے۔ وہ وقت آجاتا ہے تو ایک لمحہ کے لیے بھی موخّر نہیں ہوتا لہٰذا اس وقت پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیْبٍ،فَاَصَّدَّقَ وَ اَڪُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ۝۱۰ وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا، وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۱۱
(سُوْرَۃُ اِذَا جَآءَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ: ۶ ۳،آیت: ۱۰ تا اا)
اور (اے ایمان والو) جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے تو وہ کہنے لگے اے میرے ربّ تو نے مجھے کچھ عرصے اور مُہلت کیوں نہ دی کہ میں خیرات کرتا اور نیک لوگوں میں شامل ہو جاتا۔ (کیا انھیں نہیں معلوم کہ) جب کسی شخص کی موت (کاوقت) آجاتا ہے تو پھر اللہ اس کو ہرگز مُہلت نہیں دیتا اور (اے لوگو) جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ،فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ۝۳۴
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۳۴)
ہر جماعت (کی ہلاکت) کا ایک وقت مقرّر ہے تو جب ان کا مقرّرہ وقت آجاتا ہے تو پھروہ ایک گھڑی کی بھی تاخیر کر سکتے ہیں اور نہ تقدیم (نہ موت کا وقت آنے کے بعد زندہ رہ سکتے ہیں اورنہ موت کے وقت سے پہلے مرسکتے ہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَهْلَڪْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۝۴ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ۝۵
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵، آیت : ۴ تا ۵)
اور (اے رسول) ہم نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا اس (کے ہلاک ہونے) کا مقرّرہ وقت (پہلے سے) لکھا ہوا تھا۔ کوئی قوم نہ اپنے وقتِ مقرّرہ سے آ گے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔
عمل
اے لوگو! صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کیجیے اور اس سے ڈرتے رہیے۔
اے ایمان والو! نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کیجیے۔

<
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًا۝۵ فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا۝۶ وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا۝۷ ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا۝۸ ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًا۝۹ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ،اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا۝۱۰ یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا۝۱۱ وَ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّڪُمْ اَنْهٰرًا۝۱۲ مَا لَڪُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا۝۱۳ وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا۝۱۴ اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۝۱۵ وَ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا۝۱۶ وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۝۱۷ ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُڪُمْ اِخْرَاجًا۝۱۸ وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا۝۱۹ لِتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۝۲۰
<

ترجمہ: (نوح علیہ الصّلوٰۃ والسّلام انھیں سمجھاتے رہے لیکن جب انھوں نے کسی طرح نہ مانا تو) انھوں نے (اللہ تعالیٰ سے) فریاد کی اے میرے ربّ میں نے اپنی قوم کو رات دن (حق کی) دعوت دی ۝۵ لیکن میری دعوت سے وہ اور زیادہ ہی بھاگتے رہے ۝۶ اور جب کبھی میں نے ان کو بلایا (کہ آؤ اور توبہ کرو) تاکہ (اے اللہ) تو ان کی مغفرت فرما دے تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے، انھوں نے (کفر پر) اصرار کیا اور تکبّر کرتے رہے ۝۷ میں نے ان کو بلند آواز سے بھی دعوت دی ۝۸ ان کو علَی الاعلان بھی سمجھایا اور پوشیدہ طور پر بھی سمجھایا ۝۹ میں نے (ان سے) کہا اپنے ربّ سے معافی مانگو، وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۝۱۰ (اگر تم ایمان لے آئے تو) وہ تم پر موسلادھار بارش برسائے گا ۝۱۱ مال سے اور بیٹوں سے تمھاری مدد کرے گا، تمھارے لیے باغ لگا دے گا اور (ان میں) تمھارے لیے نہریں (جاری) کر دے گا ۝۱۲ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کے وقار (وعظمت) سے ڈرتے نہیں (اُس کا ذرا لحاظ نہیں کرتے) ۝۱۳ حالاں کہ اُس نے تم کو (مختلف) شکلوں میں پیدا کیا ۝۱۴ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اوپر تلے سات۷ آسمان کیسے (عجیب و غریب) بنائے ۝۱۵ اور ان کے بیچ میں چاند کو ایک نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا ۝۱۶ اللہ ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ۝۱۷ پھرتمھیں اسی میں لوٹائے گا اور (پھر) تم کو (اسی میں سے) نکالے گا ۝۱۸ اللہ ہی نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا ۝۱۹ تاکہ تم اس کے کشادہ راستوں پر چلو (پھرو)۝۲۰

<

معانی ومصادر: (فِرَارٌا) فَرَّ، يَفِرُّ، فِرَارٌ و فَرٌّ و مَفَرٌّ (ض) بھا گنا۔
(اِسْتَغْشَوْا) اِسْتَغْشٰى، يَسْتَغْشِیْ، اِسْتِغْشَاءٌ (بَاب استفعال) اوڑھنا، کسی کا اس طرح کپڑے کو اوڑھنا کہ نہ کوئی اس کی بات سن سکے اور نہ کوئی اسے دیکھ سکے۔
(اَصَرُّوْا) اَصَرَّ، يُصِرُّ، اِصْرَارٌ (باب افعال)کسی چیز پر جم جانا اور ثابت رہنا، گناہ پر اصرار کرنا۔
(جِهَارًا) جَھَرَ، يَجْھَرُ، جَھْرٌ و جِھَارٌ و جَھْرَۃٌ (ف) ظاہر کرنا، اعلان کرنا، آواز بلند کرنا۔
(مِدْرَارًا) دَرَّ، يَدُرُّ، دَرٌّ و دُرُوْرٌ (ن) بہنا، برسا ، روشن ہونا۔ (مِدْرَارٌ = بہت بہنے والا)
(تَرْجُوْنَ) رَجَا، يَرْجُوْ، رَجَاءٌ و رَجْوٌ و رَجَاةٌ و مَرْجَاةٌ و رَجَاءَۃٌ (ن) ڈرنا ،امید رکھنا۔
(وَقَارًا) وَقَرَ، يَقِرُ، وَقْرٌ و وَقَارَۃٌ و قِرَۃٌ (ض) باوقار ہونا۔
وَقُرَ، يَوْقُرُ، وَقَارَةٌ و وَقَارٌ (ك) باوقار ہونا۔
(اَطْوَارًا) طَارَ، یَطُوْرُ، طَوْرٌ و طَوْرَانٌ (ن)قریب ہونا۔(اَطْوَارٌ = طُوْرٌ کی جمع، حالتیں، اندازے ہیئتیں)
(طِبَاقًا) طَابَقَ، يُطَابِقُ، مَطَابَقَةٌ، طِبَاقٌ (باب مفا علہ) مطابق ہونا۔ (طِبَاقٌ= اوپر تلے)
(تَسْلُكُوْا) سَلَكَ، يَسْلُكُ، سُلُوْكٌ و سَلْكٌ (ن) راستے پرچناو، پرودینا۔
(فِجَاجًا) فَجَّ، يَفُجُّ، فَجٌّ (ن) کھولنا۔ (فِجَاجٌ = فَجٌّ کی جمع، دو۲ پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستہ)

<

تفسیر : نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے لیکن جب وہ کسی طرح باز نہ آئے تو انھوں نے اللہ تعالی سے فریاد کی(قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًا)انھوں نے کہا اے میرے ربّ میں نے اپنی قوم کو رات دن (حق کی) دعوت دی(فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا)لیکن میری دعوت سے وہ اور زیادہ ہی بھاگتے رہے (حق سے ان کی نفرت بڑھتی ہی رہی)(وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا)اور جب کبھی میں نے ان کو بلایا (کہ آؤ اور تو بہ کرو) تاکہ (اے میرے ربّ) تو ان کی مغفرت فرمائے تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے (تا کہ میری بات نہ سن سکیں، اے میرے ربّ) انھوں نے (کفر پر) اصرار کیا (یعنی کفر پر جمے رہے) اور تکبّر کرتے رہے (میری بات کو تسلیم نہیں کیا) نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کی قوم نے حق بات کو تسلیم نہیں کیا، یہی ان کا تکبّر تھا۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قَالَ (رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ الرَّجُلٌ يُحِبُّ اَنْ يَكُوْنَ ثَوْبُهٗ حَسَنًا وَنَعْلُهٗ حَسَنَةً قَالَ اِنَّ اللهَ جِمَيْلٌ يُحِبُّ الْجِمَالَ، اَلْكِبَرُ بَطَرُ الْـحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ۔
(صحیح مسلم كتاب الايمان باب تحريم الكبر وبیانہ جزء اوّل صفحہ ۵۱،حديث : ۲۶۵ / ۹۱)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
وہ شخص جس کے دِل میں ذرّہ برابر بھی تکبّر ہو جنّت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک شخص نے عرض کیا (اے اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم) بےشک آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچّھا ہو اور اس کی جوتی اچّھی ہو (کیا یہ بھی تکبّر ہے) رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا یہ تکبّر نہیں اللہ خوب صُورت ہے، خوب صُورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبّر تو حق کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔
نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے دربارِالہٰی میں اپنی فریاد جاری رکھتے ہوئے عرض کیا(ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا)میں نے ان کو بلند آواز سے بھی دعوت دی(ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًا) ان کو علی الاعلان بھی سمجھایا اور پوشیدہ طور پر بھی سمجھایا (یعنی میں نے ان کو مجمع میں بھی نصیحت کی اور فردًا فردًا ہر ایک کو خفیہ طور پر بھی نصیحت کی لیکن وہ کسی طرح نہیں مانے)(فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ،اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا)میں نے کہا اپنے ربّ سے معافی مانگو، وہ بڑا معاف کرنے والا ہے (تم کفر سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لو تو اللہ تعالیٰ تمھیں معاف کر دے گا۔ آخرت میں تمھیں تمھارے گناہوں کی کوئی سزا نہیں دے گا اور دنیا میں بھی تم پر اپنا فضل و کرم کرے گا)(یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا)(اگر تم ایمان لے آئے تو) وہ تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا(وَ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا)مال سے اور بیٹوں سے تمھاری مدد کرے گا (دولت بھی تمھیں خوب دے گا اور بیٹے بھی تمھیں خوب دے گا) تمھارے لیے باغ لگا دے گا اور (ان میں) تمھارے لیے نہریں (جاری) کر دے گا (تا کہ تم خوب کھاؤ اور پیو)(مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا)تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کے وقار (وعظمت) سے ڈرتے نہیں (اس کے وقار اور اس کی عظمت کا ذرا لحاظ نہیں کرتے اور اُس کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے وقار اور اُس کی عظمت کے منافی ہے کہ اُس کی تو عبادت نہ کی جائے، اُس سے تو نہ مانگا جائے اور دوسرے بے بس لوگوں کی عبادت کی جائے، ان سے مانگا جائے)(وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا)حالاں کہ اُس نے تم کو مختلف حالتوں اور شکلوں میں پیدا کیا (دوسرے تو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْـًٔا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا۝۳
(سُوْرَۃ ُالْفُرْقَانِ: ۲۵، آیت : ۳)
(پھر بھی) لوگوں نے اُس کے علاوہ دوسرے الٰہ بنا لیے حالاں کہ وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں، وہ اپنے نقصان اور نفع کے مالک بھی نہیں اور نہ ان کے اختیار میں مرنا ہے، نہ جینا ہے اور نہ مر کر اُٹھ کھڑا ہونا۔
آگے فرمایا(اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا)کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسے اوپر تلے سات۷ آسمان بنائے (اے کافرو! کیا تمھارے معبود ایسے آسمان بنا سکتے ہیں، ہرگز نہیں بنا سکتے تو پھر ان کی عبادت کیوں کرتے ہو)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَی السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ۝۶
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۶)
کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان پر نظر نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا ہے اور (کس طرح) اس کو زینت دی ہے، اس میں کہیں درز تک نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَڪُمْ اَیُّڪُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا،وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ۝۲ اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا،مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ،فَارْجِعِ الْبَصَرَ،هَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ۝۳ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ ڪَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْڪَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ۝۴ وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ۝۵
(سُوْرَۃُ الْمُلْـكِ: ۶۷، آیت : ۲ تا۵)
وہ بہت زبردست اور بڑا بخشنے والا ہے۔ (وہی ہے) جس نے اوپر تلے سات۷ آسمان بنائے (تو اے انسان) کیا تجھ کو رحمٰن کی (اس) کاریگری میں کوئی خرابی نظر آتی ہے۔ (ذرا اس کی طرف) نظر کر، کیا تجھ کو (اس میں) کوئی دراڑ نظر آتی ہے (ایک دفعہ نہیں) پھر دوبارہ نظر ڈال (ہر مرتبہ) تیری نظر تھکی ہاری تیری طرف لوٹ آئے گی۔ اور (اے لوگو) ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور ان چراغوں کو شیطانوں کے مارنے کی چیز بنایا مزید برآں ہم نے ان کےلیے آگ کا عذاب بھی تیّار کر رکھا ہے۔
آگے فرمایا(وَ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا)اور ان آسمانوں میں چاند کو ایک نور بنایا اور سورج کو ایک چراغ بنایا (چاند اور سورج دونوں ساتوں آسمانوں کے گھیرے میں ہیں۔ آسمانِ دنیا ان پر محیط ہے اور پھر دوسرے آسمان یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کے اوپر احاطہ کیے ہوئے ہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ،مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِڪَ اِلَّا بِالْحَقِّ،یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ۝۵
(سُوْرَۃُ یُوْنُسَ : ۱۰، آیت : ۵)
وہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) اور چاند کو نور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرّر کیں تا کہ تم (ماہ و) سال کو شمار کر سکو اور (ماہانہ اور سالانہ) حساب و کتاب رکھ سکو، یہ سب کچھ اللہ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، علم والوں کےلیے وہ اپنی آیتوں کو علاحدہ علاحدہ بیان کر رہا ہے (تاکہ سمجھنے میں الجھن نہ ہو)۔
اللہ تعالیٰ نے چاند کو نور فرمایا اور سورج کوضیاء اور سراج فرمایا۔ نور روشنی کے لیے عام لفظ ہے لیکن ضیاء سے عام روشنی مراد نہیں بلکہ خاص روشنی مراد ہے۔ کسی چیز کی ضیاء اس کی ذاتی روشنی ہے۔ سراج یعنی چراغ کی روشنی بھی ذاتی ہوتی ہے۔ وہ روشنی دیتا ہے، لیتا نہیں ہے سورج کو اسی لیے سراج یا ضیاء کہا گیا ہے کہ اس کی روشنی ذاتی اور قوی ہوتی ہے کیوں کہ چاند کی روشنی ذاتی نہیں لہٰذا اسے نور کے عام لفظ سے ذِکر کیا گیا ہے۔
آگے فرمایا(وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا) اور (اے کافرو!) اللہ نے تم کو زمین سے پیدا کیا۔(ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا) پھر تمھیں اس میں لوٹائے گا اور (پھر) تم کو (اس سے) نکالے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُڪُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰی۝۵۵
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۵۵ )
(اے لوگو) ہم نے تم کو زمین ہی سے پیدا کیا ہے، زمین ہی میں تم کو لوٹا دیں گے اور پھر زمین ہی سے تم کو (زندہ کر کے) دوبارہ نکالیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۝۶ اَلَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ۝۷ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍ۝۸ ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ،قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۝۹
(سُوْرَۃ ُالٓـمّٓ تَنْزِیْلُ: ۳۲، آیت : ۶ تا۹)
وہی (تو ہے جو) پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب اور (بہت) رحم کرنے والا ہے۔ (وہی ہے) جس نے ہر چیز کو (بہت) اچّھا بنایا اور (اُسی نے) اس کو پیدا (بھی) کیا اور اُسی نے انسان کی پیدائش کو مٹّی سے شروع کیا۔ پھر ایک حقیر پانی کے خلاصے سے اس کی نسل کو پیدا کیا۔ پھر اُسی نے اس کی درستی اور اصلاح کی اور اس میں اپنی رُوح پھونک دی پھر اُسی نے (اے لوگو) تمھارے کان (تمھاری) آنکھیں اور (تمھارے) دِل بنائے مگر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

آگے فرمایا(وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا) اللہ ہی نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۝۴۷ وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ۝۴۸
(سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰتِ : ۵۱، آیت : ۴۷ تا۴۸)
اور (اے رسول) آسمان کو ہم نے (اپنے) ہاتھ سے بنایا اور ہم بڑی وسعت دینے والے ہیں۔ اور ہم ہی نے زمین کو بچھایا اور ہم کتنے اچّھے بچھانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ۝۷ تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰی لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۝۸
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۷ تا ۸)
اور ہم ہی نے زمین کو پھیلا دیا، اس میں پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں ہر قسم کی خوش نما چیزیں اگا ئیں۔ تاکہ ہر رجوع کرنے والا بندہ دیکھے اور نصیحت حاصل کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا،وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ،اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ۝۳
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ: ۱۳، آیت:۳)
وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا دیا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کیے، (وہی ہے جس نے) زمین میں (مختلف قسم کے) پھلوں کے جوڑے بنائے، وہی رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے، (اے لوگو) غور و فکر کرنے والوں کےلیے اس میں (اللہ کی توحید کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ ڪُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ۝۱۹
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵، آیت : ۱۹)
ہم ہی نے زمین کو پھیلا دیا، ہم ہی نے اس میں پہاڑوں کو گاڑ دیا اور ہم ہی نے اس میں موزوں (و مناسب) چیزوں کو اگایا۔
آگے فرمایا(لِتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا) تاکہ تم اس کے کشادہ راستوں میں چلو (پھرو)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ،وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ۝۳۱
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۳۱)
اور ہم نے زمین پر پہاڑ بنائے تاکہ زمین ان کو لے کر ڈگمگا نہ جائے اور ہم نے ان پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ منزلِ مقصود پر پہنچ سکیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِڪَمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۝۱۵ وَ عَلٰمٰتٍ، وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ۝۱۶ اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ،اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۝۱۷
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۱۵ تا ۱۷)
اُسی نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے تاکہ زمین تمھیں لے کر کہیں جُھک نہ جائے، اُسی نے نہریں (جاری کر دیں) اور اُسی نے راستے (بنا دیے) تاکہ تم ان پر چل کر منزلِ مقصود پر پہنچ جاؤ۔ اور (ان راستوں پر) ایسی علامتیں (بھی بنا دیں جن سے راستے معلوم کرنے میں آسانی ہو) اور (اے رسول، ہم ہی نے) تارے (بھی بنائے جن) سے یہ لوگ راستے معلوم کرتے ہیں۔ تو کیا جس نے (سب کچھ) بنایا کیا وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کر سکے (ہرگز نہیں) تو پھر کیا بات ہے کہ تم نصیحت حاصل نہیں کرتے (اور اپنے بزرگوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہو)۔
آیات زیرِتفسیر میں توحید کے ان دلائل کا ذِکر ہے جن دلائل کو حضرت نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ ان دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات۷ آسمان بنائے، ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا، انسانوں کو زمین سے پیدا کیا، زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا اور اس میں کشادہ راستے بنائے تا کہ انسان ان کے ذریعے زمین میں چلیں پھریں۔ برخلاف اس کے معبودانِ باطل نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پیدا کرنے والا اور جو کھس بھی پیدا نہ کر سکے دونوں برابر ہو جائیں اور دونوں کی عبادت کی جائے یا پیدا کرنے والوں کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جائے جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ یہ دونوں باتیں سراسر باطل ہیں۔ عبادت و اطاعت کا مستحق صرف وہ ہے جس نے کائنات کو پیدا کیا۔
عمل
اے ایمان والو! نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کی طرح دن رات تبلیغ کرتے رہا کیجیے۔
اے لوگو! اسلام قبول کیجیے، شرک چھوڑ دیجیے توحید کو اختیار کیجیے، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی دینی اور دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کرے گا۔

<
قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًا۝۲۱ وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا۝۲۲ وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا،وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًا۝۲۳ وَ قَدْ اَضَلُّوْا ڪَثِیْرًا،وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا۝۲۴ مِمَّا خَطِیْٓـٰٔتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا،فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا۝۲۵
<

ترجمہ: نوح نے کہا اے میرے ربّ انھوں نے میرا کہنا نہیں مانا اور ایسے لوگوں کے پیچھے لگ گئے جن کےلیے ان کے مال اور ان کی اولاد نے نقصان کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا ۝۲۱ انھوں نے (میرے خلاف) بڑی بڑی تدبیریں کیں ۝۲۲ وہ کہتے رہے اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ وَدّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر (جیسے بزرگوں) کو چھوڑنا ۝۲۳ اور (اے میرے ربّ) انھوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا لہٰذا اب تو ان کی گمراہی کو اور بڑھا دے ۝۲۴ (الغرض) وہ گناہوں کی سزا میں غرق کر دیے گئے اور آگ میں داخل کر دیے گئے، انھیں اللہ کے علاوہ کوئی مددگار نہیں ملا (جو انھیں بچاتا)۝۲۵

<

معانی ومصادر: (خَسَارًا) خَسِرَ، يَخْسَرُ، خَسْرٌ و خَسَرٌ و خَسُرٌ و خَسَارٌ و خَسَارَةٌ و خُسْرَانٌ (س) نقصان اٹھانا۔
(كُبَّارًا) كَبُرَ، يَكْبُرُ، كِبَرٌ و كُبْرٌ و كُبَارَةٌ (ك) بڑا ہونا۔(کُبَّارٌ= بڑا)
(تَذَرُنَّ) (لَا تَذَرْ) وَذَرَ، يَذَرُ، وَذْرٌ (ف) چھوڑنا۔
(خَطِيْئٰتٌ) خَطِیءَ، يَخْطَئُ، خِطْأً و خِطْاَۃٌ و خَطَأٌ (س) گناه کرنا، خطا کرنا (خَطِيْئٰتٌ= خَطِيْئَةٌ کی جمع ، گناه)

<

تفسیر : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًا) (نوح عليہ الصّلوۃ والسّلام نے اپنی تبلیغی جدو جہد بیان کرتے ہوئے) عرض کیا کہ اے میرے ربّ انھوں نے میرا کہنا نہیں مانا اور ایسے لوگوں کے پیچھے لگ گئے جن کے لیے ان کے مال اور ان کی اولاد نے نقصان کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا (وہ لوگ اپنے مال اور اولاد کی کثرت میں مگن تھے لیکن نہ ان کے مال نے انھیں فائدہ پہنچایا اور نہ اولاد نے، دونوں ان کی آخرت کے نقصان ہی کے باعث ہوئے) (وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا) اور (اے میرے ربّ) انھوں نے (میرے خلاف) بڑی بڑی خفیہ تدبیریں کیں (وَقَالُوْالَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا، وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا) اور (اے میرے ربّ) وہ (ایک دوسرے سے یہی) کہتے رہے اپنے معبودوں کو ہر گز نہ چھوڑنا اور (دیکھو) ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو ہرگز نہ چھوڑنا (وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِيرًا،وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا)اور (اے میرے ربّ) انھوں نے (اس طرح) بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا لہٰذا اب تو ان کی گمراہی کو اور بڑھا دے ( تاکہ یہ جلدی تباہ ہو جائیں اور مزید لوگوں کی تباہی کا باعث نہ بنیں) (مِمَّا خَطِيْۤئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا، فَلَمْ يَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللهِ اَنْصَارًا) (الغرض) وه اپنے گناہوں کی سزا میں غرق کر دیے گئے اور پھر آگ میں داخل کر دیے گئے ، انھیں اللہ کے علاوہ کوئی مددگار نہیں ملا (جو انھیں عذابِ الہٰی سے بچاتا)۔
عمل
اے لوگو! رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر ایمان لےآئیے، آپؐ کی اطاعت کیجیے۔ مال و اولاد کی کثرت پر ناز نہ کیجیے۔ مال اور اولاد آپ کے کچھ کام نہ آئے گی۔ ان کی وجہ سے، اپنی آخرت برباد نہ کیجیے۔
اے لوگو! معبودانِ باطل کی عبادت چھوڑ دیجیے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کیجیے۔

<
وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْڪٰفِرِیْنَ دَیَّارًا۝۲۶ اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا ڪَفَّارًا۝۲۷ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ،وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۝۲۸
<

ترجمہ: نوح نے دعا کی اے میرے ربّ ان کافروں میں سے ایک کوبھی زمین میں آباد نہ رہنے دے (سب کو ہلاک کر دے)۝۲۶ اگر تو ان (میں سے بعض) کو (زندہ) چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے اور ان کی جو اولاد ہو گی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہی ہو گی ۝۲۷ اے میرے ربّ مجھے بخش دے، میرے ماں باپ کو بخش دے، جو شخص میرے گھر میں مومن بن کر داخل ہو اسے بخش دے (ان کے علاوہ) تمام مومنین اور مومنات کوبخش دے اور (اے میرے ربّ) ظالموں (کی کسی چیز) میں اضافہ نہ کر سوائے تباہی کے۝۲۸

<

معانی ومصادر: (دَيَّارًا) دَارَ، يَدُوْرُ، دَوْرٌ و دَوَرَانٌ (ن) مکان میں رہنا، چکر لگانا۔ (دَیَّا رًا) مکان میں رہنے والا، دیر ( یعنی بت خانے) میں رہنے والا۔
(یَلِدُوْا) وَلَدَ، يَلِدَ، لِدَةٌ و وِلَادَةٌ و اِلَادَةٌ و مَوْلِدٌ و وِلَادٌ (ض) جننا۔
(فَاجِرًا) فَجَرَ، يَفْجُرُ، فَجْرٌ و فُجُوْرٌ (ن) جونٹ بولنا، زنا کرنا ، گناہ کرنا۔
(تَبَارًا) تَبِرَ، یَتْبَرُ، تَبْرٌ (س) ہلاک ہونا۔
تَبَرَ، يَتْبِرُ، تَبْرٌ (ض)
ہلاک کرنا۔(تَبَارٌا= ہلاکت)

<

تفسیر: نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام جب اپنی قوم کی ہدایت قبول کرنے سے مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست کی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ۝۹ فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۝۱۰
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۹ تا۱۰)
ان سے پہلے قومِ نوح نے بھی جھٹلایا تھا، انھوں نے ہمارے بندے (نوح) کی تکذیب کی اور کہنے لگے یہ تو دیوانے ہیں اور (ہمارے بزرگوں کے) جِھڑکے ہوئے۔(جب کافر کسی طرح باز نہیں آئے) تو نوح نے اپنے ربّ سے دعا کی میں مغلوب ہوں تو (ان سے) بدلہ لے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ۝۲۶
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۲۶)
نوح نے کہا اے میرے ربّ اس وجہ سے کہ یہ مجھے جھٹلا رہے ہیں تو میری مدد فرما۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِ۝۱۱۷ فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۝۱۱۸
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۱۱۷ تا ۱۱۸)
نوح نے کہا اے میرے ربّ میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ تو (اے میرے ربّ) میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومنین میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے دے۔
اللہ تعالیٰ نے بطورِ تسلی کے فرمایا:
وَ اُوْحِیَ اِلٰی نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۝۳۶ وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا، اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ۝۳۷
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۳۶ تا ۳۷)
اور (اے رسول، پھر) نوح کو بذریعہ وحی خبر دی گئی کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں بس اب ان کے علاوہ آپ کی قوم میں سے اور کوئی ایمان نہیں لائے گا لہٰذا جو کچھ یہ کر رہے ہیں آپ اس کا غم نہ کریں۔ اور (اے نوح) ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے (ایک) کشتی بنایےن، پھر جو لوگ ظالم ہیں ان (کے معاملے) میں ہم سے کسی قسم کی سفارش نہ کیجیے، یہ سب ضرور غرق کر دیے جائیں گے۔
نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کو معلوم ہو گیا کہ کافر تباہ ہونے والے ہیں اور اب اسلام پھلے گا اور پھولے گا لیکن وہ صرف اس بات ہی کے خواہاں نہیں تھے کہ اسلام موجودہ نسل ہی میں پھلے پھولے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ اسلام آئندہ نسلوں میں بھی پھلے پھولے اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ اسلام سے برگشتہ کرنے والا کوئی فرد باقی نہ رہے لہٰذا انھوں نے ان کی مکمل تباہی کے لیے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) اور (اے رسول) نوح نے (اس موقع پر اس طرح) دعا کی! اے میرے ربّ ان کافروں میں سے ایک کو بھی زمین میں زندہ نہ رہنے دے (سب کو ہلاک کر دے) (اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا) اگر تو ان ( میں سے بعض) کو زندہ چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے اور ان کی جو اولاد ہوگی وہ بھی بد کردار اور ناشکر گزار ہوگی (اور اس طرح یہ سب مل کر پھر گمراہی کو عام کر دیں گے)(رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ) اور اے میرے ربّ مجھے بخش دے، میرے ماں باپ کو بخش دے اور جو شخص میرے گھر میں اس حالت میں داخل ہو کہ وہ مومن ہو اسے بھی بخش دے اور (اے میرے ربّ! تمام) مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے (وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا) اور (اے میرے ربّ ) ظالموں کی کسی چیز) میں اضافہ نہ کر سوائے تباہی کے۔
عمل
اے ایمان والو! تبلیغ اسلام کے لیے نوح علیہ الصّلوۃ السّلام کے جذبہ کے مثل جذبہ پیدا کیجیے۔ کفر کو پھیلانے والے تمام عناصر کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے پوری طرح کوشش کیجیے اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہیے۔
اپنی مغفرت اپنے مسلم ماں باپ کی مغفرت اور تمام مومنین اور مومنات کی مغفرت کے لیے نوح علیہ الصّلوۃ السّلام کے الفاظ میں دعا کرتے رہیے۔
اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک دعا اور بھی سکھائی جو مندرجہ ذیل آیت میں بیان ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۝۱۰
(سُوْرۃُ الْحَشْرِ : ۵۹، آیت : ۱۰ )
اے ہمارے ربّ ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دِلوں میں ان لوگوں کےلیے جو ایمان لائے بُغض نہ پیدا کر، اے ہمارے ربّ تو بہت شفقت کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔


نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کے حالات


نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام اللہ تعالیٰ کے پہلے رسول ہیں جو لوگوں کی ہدایت کے لیے دنیا میں بھیجے گئے۔
(صحیح بخاری كتاب بدء الخلق باب قول الله تعالیٰ،انا ارسلنا نوحا إلى قومہٖ جزء ۴ صفحہ ۱۶۲،حديث : ۳۳۴۰ / ۳۱۶۲، وصحيح مسلم حديث : ۴۴۰ / ۱۹۴)
(نوٹ :آدم علیہ الصّلوۃ والسّلام پہلے نبی تھے)۔

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام، آدم علیہ الصّلوۃ والسّلام کے دس۱۰ قرن بعد مبعوث کیے گئے۔
(رواه ابن حبان فی صحیحہ، حديث: ۶۱۹۰/ ۶۱۵۷/ ۳۱۱۳) موارد الظبان کتاب علامات النبوة باب ذكرابینا اٰدم صفحہ ۵۰۹، حديث : ۲۰۸۵ سندہ صحیح البدایہ والنهاية جزء اوّل صفحه ۱۰۱، و مستدرك حاكم، حديث: ۳۰۳۹ / ۳۰۷۶ ، والمعجم الأوسط للطبراني، حديث : ۴۰۳)

جب نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام مقامِ رسالت پر فائز ہوئے تو اپنی قوم کو تبلیغ کرنے لگے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اُس کے سوا تمھارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم قیامت کے بڑے دن کے عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے۔ قوم کے سرداروں نے کہا: اے نوح ہم سمجھتے ہیں کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔ نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے فرمایا: میں گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں ربّ العالمین کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، میں اپنے ربّ کا پیغام تمھیں پہنچارہا ہوں، میں تمھاری خیر خواہی کر رہا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ کیا تم اس بات پر تعجّب کرتے ہو کہ تمھارے ربّ کے پاس سے پیغامِ نصیحت تمھارے جیسے ہی ایک آدمی کے پاس کیسے آگیا تا کہ وہ اس پیغام کے ذریعے تم کو ڈرائے تمھیں چاہیے کہ ڈر جاؤ تا کہ اللہ تعالی تم پر رحم فرمائے۔ قوم نے یہ سب باتیں سنیں لیکن انھیں تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ نوح علیہ الصلواۃ والسلام کی تکذیب کی۔
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۵۹ تا ۶۴)

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے تبلیغ جاری رکھی۔ قوم کے لوگوں نے کہا کہ نوح مجنون ہیں۔ ان کو ہمارے کسی بزرگ نے جھڑک دیا ہے (یہ ہمارے بزرگوں کی توہین کرتے ہیں، ان پر ہمارے بزرگوں کی پھٹکار ہے اس لیے یہ اس بلا میں گرفتار ہیں اور مجنونانہ باتیں کرتے ہیں۔
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت: ۹)

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے ان کی گستاخانہ کلمات کی کوئی پرواہ نہ کی اور انھیں برابر سمجھاتے رہے۔ انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اُس کے علاوہ تمھارا کوئی الٰہ نہیں ہے، تم آخر ڈرتے کیوں نہیں ( کہ اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو) قوم کے سرداروں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: یہ تو تمھارے ہی مثل ایک آدمی ہیں، یہ تو چاہتے ہیں کہ ان کو تم پرکسی قسم کی فضیلت حاصل ہو جائے۔ اگر اللہ کو ہماری ہدایت ہی منظور تھی تو وہ ضرور ہم پرفرشتے نازل کرتا (انسان کو رسول نہ بناتا نوح تو ایسی بات کہتے ہیں جو) ہم نے اپنے آباء واجداد کے حالات میں کبھی نہیں سنی ان کو واقعی جنون ہے۔ کچھ دن انتظار کرو(نتیجہ سامنے آجائے گا) یہ ضرور ایک دن ذلیل وخوار ہوں گے۔
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۲۳ تا ۲۵)۔

الغرض نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کی مسلسل تبلیغ سے کچھ غریب لوگ ایمان لے آئے لیکن اکثر لوگ ان کی نبوّت کا انکار ہی کرتے رہے۔ ایک دن تبلیغ کرتے ہوئے نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے اپنی قوم سے فرمایا (اے میری قوم) تم آخر (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں؟ میں تمھاری طرف ایک امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ دیکھو اللہ سے ڈر جاؤ اور میری اطاعت کرو۔ میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا (تم میری نیّت پر شبہ نہ کرو) میں تو تمھاری بے لوث خیر خواہی کر رہا ہوں۔ میری اجرت تو اللہ تعالیٰ ربّ العالمین کے ذِمّے ہے (دیکھو پھر کہتا ہوں) اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ قوم کے لوگوں نے کہا: کیا ہم ایسی حالت میں آپ پر ایمان لائیں کہ آپ پر ایمان لانے والے تو سب حقیر لوگ ہیں (کوئی عزّت دار آدمی آپ پر ایمان نہیں لایا ایسی صُورت میں ہمارا ایمان لانا ہماری شان کے خلاف ہے۔ ہاں اگر آپ ان حقیر لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیں تو پھر ہم غور کریں گے)۔
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۱۰۵ تا ۱۱۱)

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے فرمایا: مجھے ان کے پیشوں سے کیا مطلب؟ (مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کس طرح روزی کماتے ہیں، میں تو ان کے ایمان کی قدر کرتا ہوں) لہٰذا میں ان کو اپنی مجلس سے نہیں نکال سکتا (رہی یہ بات کہ وہ کسی خاص وجہ سے ایمان لائے ہیں، ان کے ایمان میں خلوص نہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذِمّے ہے (دِلوں کا حال تو وہی جانتا ہے۔ میں عالم الغیب نہیں ہوں) میں تو بس صاف صاف ڈرانے والا ہوں (اور لوگوں کے ظاہری عمل کو دیکھنے والا ہوں) قوم نے کہا: اے نوح! اگر تم ان باتوں سے باز نہیں آئے تو ہم تمھیں سنگ سار کر دیں گے۔ نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی! اے میرے ربّ میری قوم مجھے جھٹلا رہی ہے، مجھ میں اور ان میں فیصلہ فرما دے اور ہم (ایمان والوں) کو ان سے نجات دے۔
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۱۱۲ تا ۱۱۷)۔

ایک دن نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم (یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسالت کے منصب پر فائز کیا ہے) اگر تم کو میرا اس منصب پر فائز ہونا اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے تو میں تو اللہ پر توکل کرتا ہوں (تمھاری شرارتوں کی ذرّہ برابر پرواہ نہیں کرتا) تم اپنی سب تدبیریں بروئے کار لاؤ، اپنے تمام شرکا کو بھی (اپنی مدد کے لیے) جمع کر لو، تمھاری تدبیر و سازش کا کوئی گوشہ تم سے مخفی نہ رہ جائے، پھر جو کچھ تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے ذراسی بھی مُہلت نہ دو، اگر (اس چیلنج کے بعد بھی) تم ( میری نصیحت سے) منھ موڑو تو میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا ، میری اجرت تو اللہ تعالیٰ کے ذِمّے ہے (میں تو تمھاری خیر خواہی بغیر کسی لالچ کے کرتا ہوں) اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں مسلمین میں سے ہوں (اور تم سے بھی کہتا ہوں کہ مسلم بن جاؤ) قوم نے نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کی نصیحت ماننے سے انکار کر دیا اور برابر ان کی تکذیب کرتے رہے۔
(سُوْرَۃُ یُوْنُسَ : ۱۰، آیت : ۷۱ تا ۷۳)

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے ہر طرح قوم کو سمجھایا۔ بار بار کہا کہ میں تم کو عذابِ الیم سے ڈراتا ہوں، میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تم اللہ کی عبادت کرو اور میرا کہنا مانو، اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف کر دے گا۔

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام دن و رات تبلیغ کرتے رہے، لیکن وہ جتنا سمجھاتے قوم کے لوگ اتنا ہی ان کی نصیحت سے دور بھاگےے۔ جب بھی وہ ان سے کہتے : اے لوگو! آؤ (معافی مانگو) تا کہ اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے تو (یہ سن کر) وہ اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے، اپنے اوپر کپڑے ڈال لیتے اور انتہائی تکبّر سے پیش آتے۔
(سُوْرَۃُ نُوْ حٍ : ۷۱، آیت : ۱ تا ۷)

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے اپنی قوم کو علی الاعلان بھی اسلام کی دعوت دی، تنہائی میں بھی ہر ایک کو سمجھایا، بار بار ان سے کہا اپنے ربّ سے معافی مانگو، وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تمھیں معاف کر دے گا۔
(سُوْرَۃُ نُوْ حٍ : ۷۱، آیت : ۸ تا ۱۰)۔

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے فرمایا (اگر تم تو بہ کر لو) تو اللہ تعالیٰ تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا تمھیں مال دے گا، اولاد دے گا تمھاری لیے باغ اُگائے گا، تمھارے لیے نہریں جاری کر دے گا (سب کچھ وہی کرتا ہے اور وہی کرے گا تو) پھر تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وقار کوملحوظ نہیں رکھتے (اُس کے مقابلے میں دوسروں کو لے آتے ہو اور پھر ان سے اپنی مطلب برآری کے لیے دعائیں کرتے ہو حالاں کہ وہ تو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے اور اللہ تو وہ ہے کہ) اُس نے تم کو پیدا کیا تمھارے مختلف چہرے بنائے (جو ایک دوسرے سے نہیں ملتے) ذرا کائنات کو دیکھو۔ اُس نے اوپر تلے سات۷ آسمان بنائے۔ ان میں چاند کو چمکایا۔ اُس نے سورج کو چراغ بنایا اور اُسی نے تم کو زمین (جیسی چیز سے) پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو زمین میں لوٹائے گا۔ اور اسی میں سے تم کو قیامت کے دن اٹھائے گا۔
(سُوْرَۃُ نُوْ حٍ : ۷۱، آیت : اا تا ۱۸)۔

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یا درکھو اُس نے تمھارے لیے زمین کو بچھایا، پھر اس میں تمھارے چلنے پھرنے کے راستے بنائے۔
(سُوْرَۃُ نُوْ حٍ : ۷۱، آیت : ۹ ، ۲۰)

ایک دن نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! میں تمھیں صاف صاف (عذابِ الہٰی سے) ڈرانے والا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے ڈر ہے کہ (قیامت کے) درد ناک دن تم عذاب میں گرفتار نہ ہو جاؤ۔ قوم کے سرداروں نے کہا: اے نوح! ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ تم ہمارے جیسے انسان ہو، ہم دیکھتے ہیں کہ تمھارے متبعین سب کے سب رذیل اور سادہ لوح ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے (ایمان لانے کے باوجود تم سب غربت کا شکار ہو) ہم تو سمجھتے ہیں کہ تم سب جھوٹے ہو۔ نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے جواب دیا : اے میری قوم! بتاؤ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے دلیل و برہان پر قائم ہوں اور اُس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت (خاص) سے نوازا ہے جس کی تمھیں کوئی بصیرت نہیں تو کیا ہم زبردستی یہ نصیحت جس سے تم نفرت کر رہے ہو تمھارے اوپر تھوپ دیں۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۲۵ تا ۲۸)

(قوم نے کہا، ان رذیل لوگوں کو آپ اپنے پاس سے ہٹا دیجیے تو شاید ہم آپ کی بات سن سکیں) نوح علیہ الصّلواۃ والسّلام نے فرمایا: اے میری قوم! میں تم سے اس کام کی اجرت طلب نہیں کرتا (کہ تمھاری مرضی کے مطابق چلوں) اور نہ میں ایمان والوں کو جو اپنے ربّ کی ملاقات پر یقین رکھتے ہیں اپنی مجلس سے نکال سکتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم بڑی جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ اے میری قوم! اگر میں ان کو اپنی مجلس سے نکال دوں تو اللہ کی طرف سے جب عذاب آئے گا تو اس وقت کون میری مدد کر سکے گا۔ میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے میں، نہ غیب جانتا ہوں، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (میں یقیناً انسان ہوں) اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تم حقیر سمجھتے ہو اللہ انھیں بھلائی سے بہرہ ور نہیں فرمائے گا۔ ان کے دِلوں میں کیا ہے اللہ ہی خوب جانتا ہے، اگر میں یہ کہوں کہ اللہ ان کے ساتھ خیر کا ارادہ نہیں رکھتا تو میں ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا، آیت : ۲۹ تا ۳۱)

قوم کے لوگوں نے کہا : اے نوح! آپ ہم سے خوب جھگڑ چکے، جس عذاب کا آپ وعدہ کرتے ہیں اگر آپ سچّے ہیں تو وہ عذاب لے آئیے۔ نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، وہ جب چاہے گا عذاب لے آئے گا۔ تم اُسے عاجز نہیں کر سکو گے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیّت میں تمھارا گمراہ ، ہی رہنا لکھا ہے تو میری نصیحت تمھیں نفع نہیں دے سکتی۔ اللہ ہی تمھارا ربّ ہے اور تمھیں اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۳۲ تا ۳۴)

الغرض نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام اپنی قوم کو نو سو پچاس۹۵۰ سال تک سمجھاتے رہے لیکن وہ ٹَس سے مَس نہیں ہوئے۔
(سُوْرَۃُ الْعَنْکَبُوْتِ: ۲۹، آیت : ۱۴)

انھوں نے آپس میں ایک دوسرے سے صاف الفاظ میں کہا کہ اپنے بزرگوں کو اور ودّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو ہرگز نہ چھوڑنا (ان ہی کی پوجا کرتے رہنا)۔
(سُوْرَۃُ نُوْ حٍ : ۷۱، آیت : ۲۳)

آخر نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی : اے میرے ربّ! میری قوم نے میری نافرمانی کی (میری کوئی بات نہیں مانی بلکہ) گمراہ کرنے والوں کی بات مانتے رہے اور میرے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرتے رہے۔ اے میرے ربّ میں مغلوب ہوں (میری مدد فرما) ان کافروں سے بدلہ لے ۔
(سُوْرَۃُ نُوْ حٍ : ۷۱، آیت : ۲۱ تا ۲۲)، (سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت: ۱۰)

اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کی طرف وحی بھیجی کہ تمھاری قوم میں سے جو قلیل لوگ ایمان لے آئے وہ لے آئے، اب کوئی ایمان نہیں لائے گا لہٰذا ان کے افعال پر کسی قسم کا افسوس نہ کرو۔ اب تم یہ کرو کہ ہمارے حکم سے ہماری نگرانی میں (طوفان سے بچنے کے لیے) ایک کشتی بناؤ۔ اب میں ان سب کو غرق کرنے والا ہوں۔ تم ان ظالموں کے حق میں کسی قسم کی سفارش نہ کرنا۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا،آیت : ۳۶،۳۷،۴۰)

الغرض نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں تختوں اور کیلوں سے کشتی بنانے لگے۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۳۸)، (سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت: ۱۳)

جب قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے (کہ نہ سمندر ہے نہ سیلاب، کشتی کا کیا کام) نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام جواب دیتے کہ اگر (آج) تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو تو (کل وہ وقت آنے والا ہے کہ) ہم تمھارا مذاق اڑائیں گے تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ (میری تکذیب کی) تمھیں کیسی عبرتناک سز املتی ہے۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۳۸،۳۹)

الغرض جب اللہ تعالیٰ کے عذاب کا حکم آپہنچا تو تندور سے پانی نے جوش مارنا شروع کیا۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۴۰)،

اللہ تعالیٰ نے بارش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت: اا)

اللہ تعالی نے نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام سے فرمایا: اس کشتی میں تمام جانوروں کے ایک ایک جوڑے کو اور اپنے اہل و عیال کو سوار کر لو لیکن اس شخص کو نہیں جس کے متعلّق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے کہ وہ غرق ہوگا اور جو ایمان لے آئے ہیں انھیں بھی سوار کر لو۔ سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھنا: اللہ کے نام کے ساتھ (جس کے ہاتھ میں ہے) اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۴۰ تا ۴۱)۔

اور جب پوری طرح کشتی میں سوار ہو جاؤ تو کہنا سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۴۱)۔

پھر اس طرح دعا کرنا: اے میرے ربّ مجھے برکتوں کے ساتھ (اس کشتی سے) اتار، بے شک تو بہترین اتارنے والاہے۔
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت: ۲۸ تا ۲۹)۔

الغرض نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے حسبِ ہدایت سب کو سوار کیا اور خود بھی سوار ہو گئے۔ زمین سے چشمے جاری ہو گئے آسمان سے موسلا دھار بارش ہوتی رہی، اوپر اور نیچے دونوں طرف سے پانی کی آمد نے طوفانی صُورت اختیار کر لی۔
(سُوْرَۃُ الْعَنْکَبُوْتِ: ۲۹، آیت : ۱۴)،(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۱۲)

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے دعا کی: اے میرے ربّ زمین میں اب کسی کافر کو نہ چھوڑنا ورنہ یہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے۔ ان کی اولاد بھی انھی کے نقش قدم پر چل کر انھی جیسی ہوگی۔ اے میرے ربّ مجھے بخش دے۔ میرے ماں باپ کو بخش دے، جو شخص میرے گھر میں اس حالت میں داخل ہو کہ وہ مومن ہو اسے بخش دے اور اے میرے ربّ تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور ظالموں پر عذاب کو بڑھاتا رہ۔
(سُوْرَۃُ نُوْ حٍ : ۷۱، آیت : ۲۶تا ۲۸)۔

کشیا پہاڑ جیسی لہروں میں نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام اور ان کے ساتھیوں کو لے کر چلی جا رہی تھی (کافر ڈوبتے چلے جا رہے تھے) نوح علیہ الصّلواۃ و السّلام کا ایک لڑکا جو ایمان نہیں لایا تھا کشتی میں سوار نہیں ہوا اور ایمان والوں سے علاحدہ رہا۔ نوح علیہ الصّلوۃ السّلام نے آخری مرتبہ پھر اسے سمجھایا۔ انھوں نے کہا اے میرے بیٹے (ایمان لے آ اور) ہمارے ساتھ سوار ہو جا۔ کافروں کا ساتھ چھوڑ دے (ورنہ تو غرق ہو جائے گا) لڑکے نے جواب دیا میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا، وہ مجھے طوفان سے (اور غرق ہونے سے) بچالے گا۔ نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے فرمایا آج اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔ آج تو وہی بچے گا جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ یہ گفتگو جاری ہی تھی کہ ایک موج آئی اور وہ لڑ کا غرق ہو گیا۔ نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کو اللہ تعالیٰ کا وعدہ یاد آیا۔ وہ کہنے لگے اے میرے ربّ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے (اور تو نے وعدہ کیا تھا کہ میرے اہل کو بچائے گا) اور تیرا وعدہ تو سچّا ہوتا ہے (تو پھر تونے اسے کیوں ڈبو دیا۔ بہر حال جو فیصلہ تونے کیا وہ ٹھیک ہے اس لیے کہ) تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۴۲، ۴۳،۴۴ )۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے نوح وہ تمھارے اہل میں سے نہیں ہے اس لیے کہ اس کے عمل اچّھے نہیں ہیں لہٰذا تم ایسی بات کا سوال نہ کرو جس کا تمھیں علم نہیں ہے۔ میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں سے نہ ہوجانا (کہ پھر اس کے متعلّق مجھ سے کسی قسم کی سفارش کر بیٹھو) نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے عرض کیا : اے میرے ربّ میں اس بات سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں ایسی بات کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں (مجھے معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما) اگر تو معاف نہیں کرے گا اور رحم نہیں کرے گا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا، آیت : ۴۶، ۴۷)۔

الغرض نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کی دعا قبول ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی۔ تمام کافر ڈبودیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کو اور ان کے اہل و عیال کو سخت تکلیف سے نجات دی۔
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۷۶،۷۷)۔

جب تمام کافر ڈوب گئے تو اللہ تعالیٰ نے زمین سے فرمایا: اے زمین اپنے پانی کو جذب کر لے اور آسمان سے فرمایا: اے آسمان رُک جا۔ الغرض پانی اتر گیا اور کشتی جودی (پہاڑ) پر جا کر کھڑی ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اترو۔ ہماری برکتیں تمھارے اور جو لوگ تمھارے ساتھ سوار ہیں ان کے شامل حال ہیں۔
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۴۴)۔


نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کے فضائل


نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام نے نو سو پچاس۹۵۰ سال بڑی جانفشانی سے تبلیغ کی۔ بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا ئیں لیکن صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف میں فرمایا کہ وہ بڑے شکر گزار بندے تھے۔
(سُوْرَۃُ الْعَنْکَبُوْتِ: ۲۹، آیت : ۱۴) (سُوْرَۃُ الصّٰٓـفّٰـتِ: ۳۷، آیت : ۷۶) ،(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت : ۳)

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے تھے۔
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۳۳)

اللہ تعالیٰ نے انیس کی اولاد کو دنیا میں باقی رکھا، نسلِ انسانی انیی کی اولاد سے چلی۔
(سُوْرَۃُ الصّٰٓـفّٰـتِ: ۳۷، آیت: ۷۷)

نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام زمین پر اللہ تعالیٰ کے پہلے رسول تھے۔
(صحیح بخارى كتاب بدء الخلق باب قول الله تعالى انا ارسلنا نوحًا الى قومہٖ جزء۲ صفحہ ۱۶۲، حديث : ۳۳۴۰ / ۳۱۶۲، وصحيح مسلم حديث : ۴۴۰ / ۱۹۴)



<

Share This Surah, Choose Your Platform!