Surah Qaf



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۹

۵۰ سُوْرَۃُقٓ

فہرستِ مضامین
توحید
قیامت

<
سُوْرَۃُ قٓ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝
بہت مہربان نہایت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ

قٓ،وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ۝۱ بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْڪٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌ۝۲ ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا،ذٰلِڪَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ۝۳ قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ،وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ۝۴ بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ۝۵
<

قٓ، قرآن مجید کی قسم (بےشک آپ اللہ کے رسول ہیں) ۝۱ (یہ لوگ کسی اور وجہ سے آپ کی رسالت کا انکار نہیں کرتے) بلکہ (ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھیں اس بات پر تعجّب ہے کہ) ان ہی میں سے ایک ڈرانے والا ان کے پاس آگیا، کافر کہنے لگے یہ تو (بڑی) عجیب بات ہے ۝۲ (اور جب ان سے کہا گیا کہ وہ حساب و کتاب کےلیے پھر زندہ کیے جائیں گے تو انھوں نے تعجّب سے پوچھا) کیا جب ہم مر کر مٹّی ہو جائیں گے؟ (تو دوبارہ زندہ ہوں گے) یہ دوبارہ زندہ ہونا تو بعید (از عقل) ہے ۝۳ (اے لوگو! یہ کوئی بعید از عقل بات نہیں) ہمیں اس چیز کا بخوبی علم ہے جو زمین ان (کے جسموں) میں سے کھا کھا کر کم کرتی رہتی ہے مزید برآں ہمارے پاس (تمام چیزوں کو) محفوظ کر دینے والی کتاب بھی ہے (جس میں ہر چیز تحریر ہے) ۝۴ (اے رسول، دوبارہ زندہ ہونا عجیب بات نہیں ہے) بلکہ (عجیب بات تو یہ ہے کہ) جب حق ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اب وہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑے ہوئے) ہیں۝۵

<

معانی و مصادر:(مَجِيْدٌ) فَجَدَ ، يَمْجُدُ ، مَجْدٌ (ن) بزرگی والا ہونا ۔
(عَجِبُوْا) عَجِبَ ، يَعْجَبُ ، عَجَبٌ (س) تعجّب کرنا۔
(مَرِيْجٌ) مَرَجَ ، يَمْرُجُ ، مَرَجٌ (ن) مضطرب و ملتبس ہونا (مَرِيْجٌ = مختلط ، ملتبس)

<

تفسیر: (قٓ) یہ حروفِ مقطعات میں سے ہے۔ حروفِ مقطعات کے متعلّق پہلے لکھا جا چکا ہے، سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
آگے فرمایا
(وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ) بزرگی والے قرآن کی قسم (بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں) قرآن مجید کے متعلّق ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ۝۷۵ وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ۝۷۶ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌ۝۷۷
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۷۵تا ۷۷)

(اور اے لوگو) میں تاروں کی منزلوں کی قسم کھاتا ہوں۔ اور کاش تم سمجھتے یہ (بہت) بڑی قسم ہے ۔ بےشک قرآن (بہت) باعزّت کتاب ہے۔
آیت زیرِ تفسیر میں قسم تو مذکور ہے لیکن جوابِ قسم مذکور نہیں بلکہ محذوف ہے۔ قرآن مجید کی قسم آپ اللہ کے رسول ہیں
(بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْڪٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌ) یہ (لوگ کسی اور وجہ سے آپ کی رسالت کا انکار نہیں کرتے) بلکہ (ان کے انکار کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ آپ انسان ہیں)انھیں اس بات پر تعجّب ہے کہ ان ہی میں سے ایک ڈرانے والا ان کے پاس (ان کی اصلاح کے لیے کیسے) آگیا۔ کافر کہتے ہیں یہ تو (بڑی) عجیب بات ہے (انسانوں کو ڈرانے کے لیے کوئی فرشتہ وغیرہ آنا چاہیے تھا۔ ہمارے جیسا انسان ہی کیوں آیا یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی)

کافروں کے اس قول کا ذِکر اللہ تعالیٰ نے دوسرے کئی مقامات پر بھی کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤی اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا۝۹۴ قُلْ لَّوْ ڪَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَڪًا رَّسُوْلًا۝۹۵ قُلْ كَفٰی بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ،اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۝۹۶
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۹۴ تا ۹۶)
اور (اے رسول) جب ان لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو (اب) ان کو ایمان لانے سے اور کوئی امر مانع نہیں سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کیا اللہ کسی انسان کو بھی رسول بناکر بھیج سکتا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ان پر آسمان سے فرشتے ہی کو رسول بناکر نازل کرتے۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے میرے اور تمھارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے، وہ اپنے بندوں سے بخوبی واقف ہے اور (انھیں) دیکھ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ،قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ۝۲
(سُوْرَۃُ یُوْنُسَ : ۱۰، آیت : ۲)

کیا لوگوں کو اس بات پر تعجّب ہے کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک شخص پر وحی بھیجی (اور اس سے کہا) کہ لوگوں کو ڈرایے اور ایمان والوں کو خوش خبری سنایے کہ ان کےلیے ان کے ربّ کے ہاں بڑا درجہ ہے (لیکن) کافروں نے (اس کو جھٹلایا اور) کہا یہ تو کھلا جادوگر ہے ۔

آگے فرمایا
(ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا ، ذٰلِكَ رَجُعٌ بَعِيدٌ) (اور جب ان سے کہا گیا کہ وہ حساب و کتاب کے لیے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے تو انھوں نے تعجّب سے پوچھا) کیا جب ہم مَرکر مٹی ہو جائیں گے تو (دوبارہ زندہ کیے جائیں گے) یہ دوبارہ زندہ ہونا تو بعید (از عقل) ہے (قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِنْدَ نَا كِتٰب حَفِيْظٌ) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے لوگو ، یہ کوئی بعید از عقل بات نہیں ہے) ہمیں اس چیز کا بخوبی علم ہے جو زمین ان کے جسموں میں سے (کھا کھا کر) کم کرتی رہتی ہے اور یہ چیز صرف (ہمارے علم ہی میں نہیں بلکہ ہمارے پاس لکھی ہوئی بھی ہے) ہمارے پاس ایک کتاب ہے(جو تمام چیزوں اور مُردہ انسانوں کے تمام ذرات کے تمام ذرات کو) محفوظ کرنے والی (ہے ہم جب چاہیں گے ان ذرات کو جمع کرکے انسانوں کو زندہ کردیں گے اور یہ ہمارے لیے کچھ بھی مشکل نہیں)۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ،وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ،وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۝۲۷
(سُوْرَۃ ُ الرُّوْمِ: ۳۰، آیت : ۲۷)

وہ ہی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہ ہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اُس کے لیے بہت آسان ہے، آسمانوں میں اور زمین میں اُس کی شان بہت ہی اعلیٰ (و ارفع) ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ۝۳ بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ۝۴
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۳ تا ۴)

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈّیوں کو جمع نہیں کر سکتے۔ کیوں نہیں (ہم جمع کر سکتے ہیں) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور ٹھیک کر دیں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًی۝۳۶ اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰى۝۳۷ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰى۝۳۸ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّڪَرَ وَ الْاُنْثٰى۝۳۹ اَلَیْسَ ذٰلِڪَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یُّحْیِ َۧ الْمَوْتٰى۝۴۰
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۳۶ تا ۴۰)

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا (اسے حساب و کتاب کےلیے زندہ نہیں کیا جائے گا)۔ (اس کا دوبارہ زندہ کرنا ہمارے لیے کیا مشکل ہے) کیا وہ نطفے کا ایک قطرہ نہیں تھا جو (رحمِ مادر میں) ٹپکایا گیا تھا۔ پھر وہ گوشت کا لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو بنایا اور (اس کے اعضا کو) درست کیا ۔ پھر اس کی دو۲ جنسیں بنائیں (یعنی) مرد اور عورت۔ کیا (جس ہستی نے پہلی مرتبہ نطفے سے انسان کو پیدا کر دیا) وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو (دوبارہ) زندہ کر دے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یُّحْیِ َۧ الْمَوْتٰی،بَلٰۤی اِنَّهٗ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۝۳۳
(سُوْرَۃُ الْاَحْقَافِ: ۴۶، آیت : ۳۳)

کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو زندہ کر دے، کیوں نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں:
كَانَ رَجُلٌ يُسْرِفُ عَلٰى نَفْسِهٖ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، قَالَ : لِبَنِيْهِ اِذَا اَنَا مُتُّ فَاَحْرِقُوْنِی ثُمَّ اطْحَنُوْنِیْ ثُمَّ ذَرُّوْنِیْ فِی الرِّيْحِ(وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَذَرُّوْنِیْ فِی الْیَمِّ) فَوَاللهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَیَّ رَبِّیْ لَيُعَذِّبُنِیْ عَذَابًا مَا عَذَّبَهٗ اَحَدًا ، فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِهٖ ذٰلِكَ فَاَمَرَ اللهُ الْاَرْضَ ، فَقَالَ اجْمَعِیْ مَا فِيْكِ مِنْهُ فَفَعَلَتْ فَاِذَا هُوَ قَآئِمٌ ، فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلٰى مَا صَنَعْتَ قَالَ يَا رَبِّ خَشْيَتُكَ فَغَفَّرَ لَهٗ
(صحیح بخارى، كتاب بدء الخلق، باب ما ذكر عن بنٓى السرآئيل، جزء ۴ صفحه ۲۱۴ و ۲۱۵، صفحه۲۱۵، حديث : ۳۴۸۱)

(نبی صلّی اللہ علیہ و سلّم نے فرمایا) ایک شخص بہت گناہ کیا کرتا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹوں سے کہنے لگا جب میں مَر جاؤں تو مجھے جلا دینا پھر (ہڈّیاں) خوب پیسنا پھر آندھی میں اور سمندر میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پکڑلیا تو ایسا عذاب کرے گا کہ اُس نے اس جسا عذاب کسی کو نہیں کیا ہوگا۔ جب وہ مَر گیا تو اس کے بیٹوں نے اس کی وصیّت کو پورا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا جو کچھ (اس کے بدن کے اجزاء) ترے اندر ہیں وہ سب جمع کر۔ زمین نے انھیں جمع کر دیا وہ سامنے کھڑا ہوا اللہ تعالیٰ نے پوچھا تونے یہ سب کچھ کیوں کیا۔ اس نے کہا : اے اللہ تیرے ڈر سے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔
آگے فرمایا (بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ) (قیامت کے روز زنده ہونا عجیب بات نہیں ہے)بلکہ (عجیب بات تو یہ ہے کہ) جب حق ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے حق کو جھٹلا دیا (اور)اب وہ ایک الجھی ہوئی بات میں(سرگرداں) ہیں۔
حق کو تسلیم کرنے کے بعد ہی الجھن دور ہوسکتی تھی لیکن انھوں نے حق کا انکار کردیا تو اب الجھن دور کیسے ہو وہ اسی طرح شک و التباس میں پڑے رہیں گے۔

عمل
اے لوگو، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم پرایمان لایے ، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم کے انسان ہونے پر تعجّب نہ کیجیے ، رسولؑ انسان ہی ہوا کرتے ہیں۔

<
اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَی السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ۝۶ وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ۝۷ تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰی لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۝۸ وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَڪًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِ۝۹ وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ۝۱۰ رِزْقًا لِّلْعِبَادِ،وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا،كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ۝۱۱
<

ترجمہ : کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان پر نظر نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا ہے اور (کس طرح) اس کو زینت دی ہے، اس میں کہیں درز تک نہیں ہے۝۶ اور ہم ہی نے زمین کو پھیلا دیا، اس میں پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں ہر قسم کی خوش نما چیزیں اگا ئیں۝۷ تاکہ ہر رجوع کرنے والا بندہ دیکھے اور نصیحت حاصل کرے۝۸ اور ہم ہی بادل سے برکت والا پانی برساتے ہیں، پھر اس سے باغ اور کھیتی کا غلّہ اگاتے ہیں۝۹ اور لمبی لمبی کھجوریں بھی (اگاتے ہیں) جن کا شگوفہ تہہ بہ تہہ ہوتا ہے۝۱۰ (یہ سب کچھ ہم) بندوں کو رزق فراہم کرنے کےلیے (اگاتے ہیں) اور ہم ہی پانی کے ذریعے مُردہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں (جس طرح پودے پانی برستے ہی زمین سے نکل پڑتے ہیں) اسی طرح (قیامت کے روز مُردے) نکل پڑیں گے۝۱۱

<

معانی و مصادر: (بَنَيْنَا) بَنٰى ، يَبْنِیْ، بَنْىٌ ، وبِنَاءٌ و بُنْيَانٌ (ض) بنانا ۔
(فُرُوْجٌ) فَرَجَ ، يَفْرِجُ ، فَرْجٌ (ض) کھولنا ، کشادہ کرنا(فُرُوْجٌ = فَرْجٌ کی جمع،دراڑ،شگاف)
(رَوَاسِیَ) رَسَا، يَرْسُوْ، رَسْوٌ و رُسُوٌّ (ن) ثابت ہونا ، راسخ ہونا (رَوَاسِیَ = جمے ہوئے پہاڑ)
(بَهِيْجٌ) بَهَجَ، يَبْهَجُ ، بَھْجٌ (ت) خوش کرنا ۔
بَھُجَ ، يَبْهُجُ ، بَھَاجَةٌ(ك) اچّھا ہونا(بَھِیْجٌ = خوش کرنے والا ، خوشنما ، اچّھا) ۔
(تَبْصِرَةٌ) بَصَّرَ، يُبَصِّرُ ، تَبْصِيْرٌ (باب تفعيل) ، دکھانا ،سمجھانا، پہچاننا(تَبْصِرَۃٌ = دکھانا)
(مُنِيْبٌ) اَنَابَ، يُنِيْبُ ، اِنَا بَۃٌ (باب افعال) رجوع کرنا(مُنِيْبٌ = رجوع کرنے والا) ۔
(حَبٌّ) حَبٌّ = دانہ،حَبَّۃٌ= ایک دانہ)
حَصِيْدٌ) حَصَدَ ، يَحْصُدُ ، حَصْدٌ وحَصَادٌ (ن) کاٹنا(حَصِیْدٌ = کٹی ہوئی کھیتی)
(بٰسِقٰتٌ) بَسَقَ ، يَبْسُقُ ، بُسُوْقٌ (ن) شاخوں کا بلند اور لمبا ہونا۔(بٰسِقَةٌ= لمبی ٹہنیوں والی)
(طَلْعٌ) طَلَعَ ، يَطْلُعُ ، طُلُوْعٌ و مَطْلَعٌ و مَطْلِعٌ (ن) طلوع ہونا، ظاہر ہونا(طَلْعٌ= شگوفہ، خوشہ کا غلاف)۔
(نَضِيْدٌ) نَضَدَ ، يَنْضِدُ ، نَضْدٌ (ض) رکھنا، ایک کے اوپر ایک رکھ کر جاَنا۔

<

تفسیر: کفّارِ مکّہ قیامت کا انکار کرتے تھے ، وہ اس کو بعید ازعقل سمجھتے تھے۔ ان کی سمجھ میں کسی طرح نہ آتا تھا کہ دوبارہ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں ۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے پہلی دلیل تو یہ دی کہ اللہ اتنا عظیم ہے کہ مُردے کے ذرات جو زمین کھاتی چلی جاتی ہے ان ذرات کا اُسے علم ہوتا ہے۔ تمام اُس کے علم اوراُس کی کتاب میں محفوظ ہیں۔ وہ جب مُردے کو زندہ کرنا چاہے گا تو زمین کو حکم دے گا وہ تمام ذرات جمع کر دے گی ۔
قیامت کے دن دوبارہ پیدا کرنے کے مزید دلائل اللہ تعالیٰ نے آیات زیرِ تفسیر میں دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
(اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَی السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ) کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان پر نظر نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا ہے ، کس طرح اس کو زینّت دی ہے، اس میں کہیں درز تک نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ۝۲ اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا،مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ،فَارْجِعِ الْبَصَرَ،هَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ۝۳ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ ڪَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْڪَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ۝۴ وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ۝۵
(سُوْرَۃُ الْمُلْـكِ: ۶۷، آیت : ۲تا ۵)
(اے لوگو) وہ بہت زبردست اور بڑا بخشنے والا ہے۔ (وہ ہی ہے) جس نے اوپر تلے سات۷ آسمان بنائے (تو اے انسان) کیا تجھ کو رحمٰن کی (اس) کاریگری میں کوئی خرابی نظر آتی ہے (ذرا اس کی طرف) نظر کر، کیا تجھ کو (اس میں) کوئی دراڑ نظر آتی ہے۔ (ایک دفعہ نہیں) پھر دوبارہ نظر ڈال (ہر مرتبہ) تیری نظر تھکی ہاری تیری طرف لوٹ آئے گی۔ اور (اے لوگو) ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے زینّت دی اور ان چراغوں کو شیطانوں کے مارنے کی چیز بنایا مزید برآں ہم نے ان کےلیے آگ کا عذاب بھی تیّار کر رکھا ہے ۔
آگے فرمایا
(وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ) اور (کیا انھوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ) ہم نے اس کو پھیلایا پھر ہم نے اس میں پہاڑ گاڑ دیے اور ہم نے اس میں خوشنما چیزیں اگائیں (تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰی لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ) (تاکہ) ہر رجوع کرنے والے بندے کو (ہم اپنی قدرت کی نشانیاں) دکھائیں اور (وہ انھیں دیکھ کر) نصیحت(حاصل کرے)(وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَڪًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِ) اور ہم ہی بادل سے برکت والا پانی برساتے ہیں پھر اس سے باغ اور کھیتی کا غلّہ اگاتے ہیں (وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ) اور (ہم ہی) لمبی لمبی کھجوریں (اگاتے ہیں) جن کے خوشے تہ بہ تہ ہوتے ہیں (رِزْقًا لِّلْعِبَادِ،وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا،كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ) (یہ سب کچھ ہم) بندوں کو رزق فراہم کرنے کے لیے (اگاتے ہیں) اور ہم (ہی) اس پانی کے ذریعے مُردہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں (جس طرح درخت اور پودے پانی برستے ہی نکل پڑتے ہیں) اسی طرح (قیاٰمت کے دن مُردے) نکل پڑیں گے۔
انسان کو دوبارہ پیدا کرنے کے دلائل میں سے پہلی دلیل تو اللہ تعالیٰ نے یہ دی کہ ہم نے آسمان کو پیدا کیا ، اس کو زینّت دی، زمین کو پھیلا دیا ، اس میں پہاڑ پیدا کیے ، بادل سے پانی برسایا اور اس سے پھل پھول پیدا کیے تو کیا جو اللہ یہ سب کچھ کر سکتا ہے وہ انسان کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ،بَنٰىهَا۝۲۷ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا۝۲۸وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا ۝۲۹وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِڪَ دَحٰىهَا۝۳۰ اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۝۳۱وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا۝۳۲ مَتَاعًا لَّڪُمْ وَ لِاَنْعَامِڪُمْ۝۳۳
(سُوْرَۃُ النّٰزِعٰتِ: ۷۹، آیت: ۲۷ تا ۳۳)
(اے کافرو بتاؤ) کیا تمھارا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان (کا بنانا) اللہ نے تو آسمان کو بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھراسے ہموار کیا۔ اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کی صبح کو نکالا۔ اس کے بعد زمین کو بچھایا ۔ (پھر) زمین سے اس کا پانی اور چارہ نکالا ۔ اور پہاڑوں کو اس میں گاڑ دیا ۔ (یہ سب کچھ) تمھارے اور تمھارے چوپایوں کےلیے (کیا) ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۝۵۷
(سُوْرَۃُ حٰـمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۵۷)
آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنا، لوگوں کے پیدا کرنے سے یقینًا زیادہ بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (کہ جو آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کر سکتا ہے اُس کےلیے انسانوں کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے) ۔
قیامت کے دن دوبارہ پیدا کرنے کے سلسلے میں دوسری دلیل اللہ تعالیٰ نے کافروں کے مشاہدہ کو بنایا۔ کافر دیکھتے ہیں کہ زمین کیسے مُردہ پڑی ہوتی ہے، پھر پانی برستے ہی کس طرح زندہ ہوتی ہے ، فصلیں لہلہانے لگتی ہیں، بالکل اسی طرح مُردے بھی زمیں سے نکل کھڑے ہوں گے، زمیں کا زندہ ہونا کافر اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو پھر کیوں نہیں تسلیم کرتے کہ اسی طرح مُردے بھی زندہ ہو سکتے ہیں۔ جو زمیں کو زندہ کرسکتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے۔
عمل
اے لوگو ، دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لایے۔

<
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُ۝۱۲ وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍ۝۱۳ وَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ،كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ۝۱۴
<

ترجمہ: ان (کافروں) سے پہلے قومِ نوح نے، کنویں والوں نے اور ثمود نے بھی (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا تھا۝۱۲ اور عاد نے، فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے بھی (جھٹلایا تھا)۝۱۳ اور بن کے رہنے والوں نے اور قومِ تبّع نے بھی (جھٹلایا تھا) غرض یہ کہ سب ہی نے رسولوں کو جھٹلایا تو (ان پر) ہمارا وعدۂ عذاب ثابت ہو گیا۝۱۴

<

معانی و مصادر:(رَسٌ) رَسَّ، يَرُسُّ ، رَسٌ (ن) کھودنا ، دفن کرنا، باون کرنا ،اصلاح کرنا۔
(اَيْکَةٌ)اَيِكَ ، يَیْيَكُ ، اَيْكٌ (س) خوب پتوں والا ہونا ، (اَيْکَةٌ = وہ درخت جس میں بہت سے پتے ہوں)

<

تفسیر: ان آیات میں کفّار کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان کا حشر بھی گزشتہ امّتوں کی طرح ہوگا (كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُ) ان سے پہلے قومِ نوحؑ نے ، کنویں والوں نے اور ثمود نے( اپنے اپنے رسولوں کو) جھٹلایا تھا(وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍ) اور عاد نے ، فرعون نے اور لوط ؑ کے بھائیوں نے (یعنی لوط علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی قوم نے بھی لوط علیہ السّلام کو جھٹلایا تھا) (وَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ) اور جنگل کے رہنے والوں نے اور قوم تبّع نے (بھی جھٹلایا تھا)(كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ) (غرض یہ کہ ان)سب نے (اپنے اپنے رسولوں) یہ کہہ کر جھٹلایا تو ان سب پر ہمارا وعدۂ عذاب ثابت ہو گیا (یعنی یہ سب کے سب عذاب کے مستحق ہو گئے اور ہم نے ان سب کو تباہ و برباد کر دیا) ۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے کفّار کو اپنے عذاب سے ڈرا دیا۔ ان قوموں کی تباہی کا حال باغن کرنے سے مقصد یہ تھا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائے اور بدستور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم کو جھٹلاتے رہے تو ایک نہ ایک دن ان پر بھی عذاب نازل ہوگا اور وہ تباہ و برباد کر دیے جائیں گے ۔
عمل
اے لوگو ، قیامت پر اور رسولوں پر ایمان لایے ۔ اور ایمان لانے کے بعد ثابت قدم رہیے۔

<
اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ،بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۝۱۵
<

ترجمہ: اور (اے لوگو) کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں (نہیں ہم تو نہیں تھکے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ) یہ لوگ بلا وجہ ازسرِنو پیدا ہونے کے سلسلے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۝۱۵

<

معانی و مصادر:(عَیِيْنَا) عَیِیَ، يَعْیٰی ، عَىٌ و عَيَاءٌ (س) تھک جانا۔
عَیَ ،یَعَیُّ، عَیٌّ وعَيَاءٌ (ن) تھک جانا۔
(لَبَسٌ)لَبَسَ، يَلْبِسُ ، لَبْسَ (ن رض) مختلط کرنا ۔
(جَدِيْدٌ) جَدَّ، يَجِدُ ، جِدَّةٌ (ض) نیا ہونا (جَدِيْدٌ = نیا)

<

تفسیر :گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دلائل دیے، پھرفرمایا جن قوموں نے قیامت کو اور رسولوں کو جھٹلایا ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پھر قیامت کا ذِکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ،بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ) (اے لوگو) کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں (اور اس لیے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتے۔ نہیں ہم ہرگز نہیں تھکے ہم دوبارہ پیدا کر سکتے ہیں اور ضرور پیدا کریں گے) ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ لوگ بلاوجہ ازسرِنو پیدا کرنے (کے سلسلے) میں شک میں پڑے ہوئے ہیں (ان پر قیامت کا عقیدہ مشتبہ ہوگیا ہے۔ یہ اس عقیدہ سے الجھن میں پڑ گئے حالاں کہ الجھن کی تو کوئی بات نہیں، پیدا کرنے والا قادرِ مطلق ہے تو پھر الجھن کیْش)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یُّحْیِ َۧ الْمَوْتٰی،بَلٰۤی اِنَّهٗ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۝۳۳
(سُوْرَۃُ الْاَحْقَافِ: ۴۶، آیت : ۳۳)
کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو زندہ کردے، کیوں نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ،وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ۝۳۸
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۳۸)
اور (اے رسول) ہم نے آسمانوں کو، زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کو چھ۶ دن میں پیدا کیا اور ہم کو تکان محسوس نہیں ہوئی۔
عمل
اے لوگو ، قیامت کے دن دوبارہ پیدا ہونے پر ایمان لایے۔

<
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ،وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ۝۱۶ اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۝۱۷ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۝۱۸ وَ جَآءَتْ سَڪْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ،ذٰلِكَ مَا ڪُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ۝۱۹ وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ،ذٰلِڪَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ۝۲۰ وَ جَآءَتْ ڪُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ وَّ شَهِیْدٌ۝۲۱ لَقَدْ ڪُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ۝۲۲ وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ۝۲۳ اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍ۝۲۴ مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِ۝۲۵ نِالَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ۝۲۶ قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ ڪَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ۝۲۷ قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ۝۲۸ مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۝۲۹
<

ترجمہ: اور (اے رسول) ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسے اس کے دِل میں آتے ہیں اور ہم اس کی رگ و جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۝۱۶ جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو۲ ضبط کرنے والے جو (اس کے) دائیں بائیں (ضبط کرنے کےلیے تیّار) بیٹھے ہوتے ہیں (اس کام کو) ضبط کر لیتے ہیں۝۱۷ (اسی طرح) وہ کوئی بات منھ سے نہیں نکالنے پاتا کہ (اس کے لکھنے کےلیے بھی) اس کے پاس ایک نگراں تیّار رہتا ہے۝۱۸ اور (اے انسان، عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ) موت کی بےہوشی حق کے ساتھ (تجھ پر) طاری ہو جائے گی، (اس وقت تجھ سے کہا جائے گا) یہ ہی وہ (موت) ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا۝۱۹ پھر (ایک دن وہ آئے گا کہ) صُور پھونکا جائے گا (تو اس دن کہا جائے گا) یہ ہی تو عذاب کے وعدوں، (کے پورا ہونے) کا دن ہے۝۲۰ پھر ہرشخص (اس حالت میں) آئے گا کہ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا اس کے ساتھ ہو گا۝۲۱ (پھر اس سے کہا جائے گا) تو اس دن سے (بڑا) غافل رہا (تیری آنکھوں پر غفلت کا جو پردہ پڑا ہوا تھا آج) ہم نے تیرے (اس) پردے کو تیرے سامنے سے ہٹا دیا تو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے(تجھے آج وہ تمام چیزیں نظر آرہی ہیں جن سے تجھ کو ڈرایا گیا تھا)۝۲۲ اس کا ساتھی کہے گا یہ (ہے اس کا اعمال نامہ) جو میرے پاس تیّار (موجود) ہے۝۲۳ (اللہ ان دونوں فرشتوں سے جو اس کے ساتھ آئے تھے فرمائے گا) ہر ناشکرے، (حق سے) عناد رکھنے والے کو دوزخ میں ڈال دو۝۲۴ (یعنی جو) خیر سے روکتا تھا، حدود (شریعت) سے آگے بڑھ گیا تھا، (دینِ حق میں) شکوک پیدا کرتا تھا۝۲۵ (اور) جس نے اللہ کے علاوہ دوسرا الٰہ بنا رکھا تھا (اب) اس کو سخت عذاب میں ڈال دو۝۲۶ (وہ عرض کرے گا میرا کیا قصور ہے مجھے تو شیطان نے جو میرا ساتھی تھا گمراہ کیا) اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے ربّ میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی پَرلے درجے کی گمراہی میں(بھٹک رہا)تھا۝۲۷ (اللہ) فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو، میں تو تم کو پہلے ہی ڈرا چکا ہوں۝۲۸ میرے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور نہ میں (اپنے) بندوں پر ظلم کرتا ہوں۝۲۹

<

معانی و مصادر: (وَرِيْدٌ) ، وَرَدَ ، يَرِدُ ، وُرُوْدٌ (ض) پانی پر آنا (وَرِيْدٌ= گردن کی رگ)
(عَتِیْدٌ) ، عَتُدَ، يَعْتُدُ ، عَتَادٌ و عَتَادَةٌ (ك)
تیّار کرنا(عَتِیْدٌ=حاضر، مُہّیا) (يَتَلَقّٰى) (اَلْمُتَلَقِّىْ) تَلَقّٰى ، يَتَلَقّٰى ، تَلَقِّىْ (باب تفعل) لینا، سیکھنا ، ملاقات کرنا، استقبال کرنا۔
(يَلْفِظُ) لَفَظَ ، يَلْفِظُ ، لَفْظٌ (ض وس) منھ سے نکالنا ، پھینک دینا۔
(رَقِيْبٌ) رَقَبَ ، يَرْقُبُ ، رُقُوبٌ و رَقُوْبٌ و رَقَابَةٌ و رَ قْبَانٌ و رِقْبَةٌ و رَقْبَةٌ (ن) نگرانی کرنا ، انتظار کرنا (رَقِيْبٌ =نگران ، منتظر) –
(سَكْرَةٌ) سَكِرَ، يَسْكُرُ، سَكَرٌو سَكْرٌو سُكرٌ وسُكُرٌ (س) نشہ آنا ( سَكْرَةٌ = موت یا غم کی شدت) –
(تَحِيْدُ) حَادَ ، يَحِيْدُ ، حَيْدٌ وحَيَدَانٌ و مَحِيْدٌ وحَيْدَةٌ وحُيُوْدٌ (ض) راستہ سے ہٹ جانا۔
(سَآئِقٌ) سَاقَ ، يَسُوْقُ ، سَوْقٌ وسِيَاقٌ وَسِيَاقَةٌ ومَسَاقٌ (ن) بانكنا۔
(غِطَآءٌ) غَطَا ، یَغْطُوْ ، غَطْوٌ و غُطُوٌّ (ن) پردہ کرنا، چھپانا۔
(حَدِيْدٌ) حَدَّ ، يَحِدُّ، حِدَّةٌ (ض) تیز ہونا(حَدِيْدٌ = تیز ، لوہا) –
(عَنِيْدٌ) عَندَ ، يَعْنُدٌ ، عُنُوْدٌ (ن ، ض، س ، ك) حق کو پہچان کر اس کا انکار کرنا اور مخالفت کرنا۔ راه حق سےعدول کرنا ۔
(مُعْتَدٍ) اِعْتَدَىَ ، يَعْتَدِىْ، اِعْتِدَاءٌ (باب افتعال) حق سے تجاوز کرنا، ظلم کرنا۔
(مُرِیْبٌ) اَرَابَ، يُرِيْبُ ، اِرَابَةٌ (باب افعال) شک میں ڈالنا۔
(اَطْغَيْتُ) اَطْغٰى ، يُطْغِىْ ، اِطْغَاءٌ (باب افعال) سرکشی پر ابھارنا ۔

<

تفسیر: اور قیامت کا ذِکر چل رہا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر قیامت سے پہلے آنے والے واقعات پر روشنی ڈالی اور آخر میں پھر قیامت پر زور دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ،) اور (اے لوگو) ہم نے انسان کو پیدا کیاْ اور(اے لوگو، ہم دوبارہ بھی پیدا کر سکتے ہیں) اور جو وسوسے اس کے دِل میں آتے ہیں ہم تو ان تک کو جانتے ہیں(تو ہمارے لیے اس کے اعمال سے واقف ہونا کیا مشکل ہے) (وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ) اور ہم تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں(بھلا جو انسان کے اتنا قریب ہو وہ انسان کے اعمال سے واقف نہیں ہوگا۔ ضرور ہوگا اور ان اعمال کا اچّھا یا بُرا بدلہ دے گا۔ یہ تو اُس کا علم ہے۔ اس کے علاوہ اُس نے تو بندے کے اعمال کو لکھنے کا بھی بندوبست کر رکھا ہے)(اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ) جب (بندہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو۲ ضبطِ تحریر میں لانے والے (فرشتے) جو(اس کے) دائیں بائیں (ضبطِ تحریر کے لیےتیّار) بٹھے ہوتے ہیں(فورًا اس کام کو) ضبطِ تحریر میں لے آتے ہیں(مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ) (اور) وہ کوئی بات منھ سے نکالنے نہیں پاتا کہ (اس کے لکھنے کے لیے)اس کے پاس نگران تیّار(بیٹھا) ہوتا ہے ۔
بے شک تم پر نگہبان (مقرّب ہیں۔ باعزّت لکھنے والے ۔ وہ جانتے ہںا جو کچھ تم کرتے ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَ۝۱۰ كِرَامًا كَاتِبِیْنَ۝۱۱ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ۝۱۲
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۱۰ تا ۱۲)
(حالاں کہ) تم پر نگہبان (مقرّر) ہیں۔ (جو) باعزّت لکھنے والے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا ڪُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ،وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ۝۹۴
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۹۴)
جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کے اعمال کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور ہم اس کےلیے (اس کے اعمال کو) لکھ رہے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ تَرٰی كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً،كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤی اِلٰی كِتٰبِهَا،اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۲۸ هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ،اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۲۹
(سُوْرَۃُ الْجَاثِیَۃِ : ۴۵، آیت : ۲۸ تا ۲۹)
اور (اے رسول) آپ ہر جماعت (کے لوگوں) کو دیکھیں گے کہ دوزانو بیٹھے ہیں، ہر جماعت (کے لوگوں) کو ان کے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا (پھر) ان سے کہا جائے گا آج تمھیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم (دنیا میں) کرتے رہے تھے۔ ہماری یہ کتاب تمھارے متعلّق (تمام باتیں) سچّائی کے ساتھ بیان کرے گی، جو کچھ تم کرتے تھے ہم اسے لکھواتے جاتے تھے۔
الغرض انسان کی ہر بات لکھی جارہی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اچّھی بات کہے ورنہ خاموش رہے ۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں:-
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهٗ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهٗ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرَ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ
(صحیح بخاری کتاب الادب باب من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يوذ جاره حديث : ۶۰۱۸ و صحیح مسلم کتاب الايمان باب الحث على الكرام الجار جزء اوّل صفحہ ۳۸، حديث : ۱۷۳ / int. : ۴۷)
جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو تکلفَ نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ مہمان کی خاطر تواضع کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
حضرت عدیؓ بن حاتم کہتے ہںِ :-
ذَكَرَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَاَشَاحَ بِوَجْهِهٖ ، ثُمَّ ذَكَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَاَشَاحَ بِوَجْهِهٖ، قَالَ شُعْبَةُ اَمَّا مَرَّتَيْنِ فَلَا اَشُكُّ ، ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَاِنْ لَمْ تَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ۔
(صحیح بخارى، كتاب الأدب، باب طيب الكلام، جزء ۸ صفحه ۱۴،حديث : ۶۰۲۳)
نبی صلّی اللہ علیہ و سلّم نے دوزخ کا ذِکر کیا پھر اس سے پناہ مانگی اور منھ پھیرلیا ، پھر دوزخ کا ذِکر کیا پھر اس سے پناہ مانگی اور منھ پھیرلیا ۔ شعبہ کہتے ہیں آپؐ کے دو۲ مرتبہ (اس طرح کر نے) میں تو مجھے شک نہیں( البتّہ تین۳ مرتبہ ایسا کرنے کے معاملے میں شک ہے۔) پھر آپؐ نے فرمایا دوزخ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے کر سہی، اگر یہ بھی نہ ملے تو اچّھی بات کہہ کر (ہی سہی)۔
جھوٹ نہ بولے:
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں:-
اٰيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلٰتٌ (وَ فِی رَوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰى وَزَعَمَ اَنَّهٗ مُسْلِمٌ) اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَائْتُمِنَ خَانَ
(صحیحَ بخاری کتاب الایمان باب علامة المنافق جزء اوّل صفحه ۱۵، حديث : ۳۳، و صحیح مسلم کتاب الایمان باب باان خصائل المنافق ہے۴۴ /۱ حديث : ۲۱۳ / int. : ۵۹)
منافق کی تین۳ نشانیاں ہیں اگرچہ وہ روزے رکھے نماز پڑھے اور دعویٰ کرے کہ وہ مسلؔم ہے ، جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔
آگے فرمایا
( وجآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ) اور (اے انسان عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ) موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ (تجھ پر) طاری ہو جائے گی(اس وقت تجھے سے کہا جائے گا) یہ ہی وہ (موت) ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا۔
موت سے کوئی کتنا ہی بھاگے موت تو آکر رہے گی ۔ وہ پیچھا چھوڑنے والی نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۸
(سُوْرَۃُ الْجُمُعَۃِ : ۶۲، آیت : ۸)
(اے رسول آپ )کہہ دیجیے کہ جب موت سے تم بھاگےِ پھرتے ہو وہ ضرور (ایک دن) تم سے ملاقات کرے گی ، پھر تم پوشدہ اور ظاہر کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے تھے اللہ تعالیٰ تمام کاموں سے تمھں مطلع کرے گا۔
موت سے چھٹکارا نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۝۱۶۸
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۶۸)
(اے رسول) آپ (ان سے) کہہ دیجیے کہ اگر تم (واقعی اس دعوے میں) سچّے ہو (کہ موت کو اپنی تدبیر سے ٹال سکتے ہو) تو اب موت کو اپنے پاس نہ آنے دینا ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ،
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۷۸)
اور (اے لوگو)تم کہیں بھی ہو موت تم کو آکر رہے گی خواہ تم (بڑے بڑے) اونچے برجوں ہی میں کیوں نہ (محفوظ) ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۝۱۶ (سُوْرَۃُ الْاَحْزَابِ : ۳۳، آیت : ۱۶)
(اے رسول) آپ کہہ دیجیے اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں ہرگز نفع نہیں دے گا اور (اگر بھاگ کر تم بچ بھی گئے تو) ایسی صُورت میں تم کچھ تھوڑا سا (دنیوی) فائدہ اور حاصل کر لوگے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَڪُمُ الْمَوْتَ ،
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۶۰)
ہم نے تم لوگوں کے درمیان مَرنا مقدر کر دیا ہے۔
قیامت کے دلائل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے موت کا ذِکر کیا اس لیے کہ موت قیامت کا پیش خیمہ ہے ۔
آگے فرمایا
(وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ،ذٰ لِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ) اور (اے انسان ، پھر ایک دن وہ آئے گا کہ) صُور پھونکا جائے گا (تو اس دن کہا جائے گا) یہ تو عذاب کے وعدوں (کے پورا ہونے) کا دن ہے،
قرآن مجید( میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو بار بار قیامت کے دن سے اور قیامت کے عذابات سے ڈرایا ہے تو جب قیامت کا دن آجائے گا اس دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جن عذابوں کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا آج ان وعدوں کے پورا ہونے کا دن ہے ۔
صُور دو۲ دفعہ پھونکا جائے گا۔ آیت زیرِ تفسیر میں دوسری مرتبہ صُور پھونکے جانے کا ذِکر ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ،ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰی فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ۝۶۸ وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۝۶۹ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۝۷۰
(سُوْرَۃُ الزُّمَرِ : ۳۹، آیت : ۶۸ تا ۷۰)
اور (اے رسول، جب) صُور پھونکا جائے گا تو آسمانوں میں اور زمین میں جتنے بھی ہیں سب پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے گا (کہ بے ہوش نہ ہو) پھر (جب) دوبارہ صُور پھونکا جائے گا تو سب ایک دَم (قبروں سے نکل) کھڑے ہوں گے (اورحیران ہو کر ادھر اُدھر) دیکھ رہے ہوں گے ۔ اور (اے رسول، اس وقت تمام) زمین اپنے ربّ کے نور سے جگمگا اٹھے گی، اعمال نامہ (سامنے) رکھ دیا جائے گا، انبیا اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور ان لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہو گا ۔ اور ہر شخص کو جو عمل اس نے کیے تھے ان کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور (کسی شخص کا کوئی عمل ضائع نہیں ہو گا اس لیے کہ) اللہ کو جو کچھ لوگ کرتے رہے تھے اس کا بخوبی علم ہو گا ۔
آگے فرمایا
(وَ جَآءَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ وَّ شَهِیْدٌ) پھر ہر شخص (میدانِ محشر میں اس حالت میں) آئے گا کہ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا اس کے ساتھ ہو گا ۔
آیت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ دو۲ فرشتے ہوں گے ۔ ایک فرشتہ انسان کو میدانِ محشر میں لے کر آئے گا اور دوسرا فرشتہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا
(لَقَدْ ڪُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ)(پھر اس سے کہا جائے گا) تو اس (دن) کے سلسلے میں(بڑی) غفلت میں تھا (تری آنکھوں پر غفلت کا پردہ تھا ، اس پر دے کی وجہ سے تجھے نظر نہ آتا تھا) آج ہم نے تیرے (اس) پردے کو تیرے سامنے سے ہٹا دیا تو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے (آج تجھے قیامت کا منظر آنکھوں کے سامنے نظر آرہا ہے اور اب تو اس کا انکار نہیں کر سکتا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَسْمِـعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ،یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۝۳۸ وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ،وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۝۳۹
(سُوْرَۃ ُ مَرْیَمِ : ۱۹، آیت : ۳۸ تا ۳۹)
جس دن یہ لوگ ہمارے پاس حاضر ہوں گے تو (اس دن کیسےْ سننے والے اور کیسےَ دیکھنے والے ہوں گے مگر آج یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں ہیں(نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں) اور (اے رسول) آپ ان کو حسرت کے دن سے ڈرایے جس دن ہر بات کا فصلہ ہو جائے گا (افسوس اس دن کے معاملے میں) یہ لوگ (کیسی) غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ لَوْ تَرٰۤی اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاڪِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ،رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ۝۱۲
(سُوْرَۃ ُالٓمّٓ تَنْزِیْلُ: ۳۲، آیت : ۱۲)
اور (اے رسول) کاش آپ مجرموں کو (اس قت) دیکھیں جس وقت وہ اپنے ربّ کے پاس سر جھکائے کھڑے ہوں گے (اور اس طرح کہہ رہے ہوں گے) اے ہمارے ربّ ہم نے اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیا اور ( براہِ راست سب کچھ سن لیا ، (اب) ہمیں یقین آگیا ہے۔ ہمیں واپس (دنیا میں)بھیج دے، (اب) ہم اچّھےعمل کریں گے۔
آگے فرما یا
(وَقَالَ قَرِيْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَىَّ عَتِيْدٌ) (پھر) اس کا ساتھی (جو گواہ بن کر آیا تھا) کہے گا یہ (ہے اس کا اعمالِ نامہ جو) میرے پاس تیّار ہے (وہ اپنے نامۂ اعمال کے مطابق دوزخ کا مستحق ہو گا، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں سے فرمائے گا)(اَلْقِيَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ) ہر ناشکرے، (حق سے) عناد (اور دشمنی) رکھنے والے کو دوزخ میں ڈال دو (مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبٍ) (جو) خیر سے روکتا تھا ، حدود (شریعت) سے آگے بڑھ گیا تھا اور لوگوں کے دِلوں میں (دینِ حق کی طرف سے) شکوک پیدا کرتا تھا (اَلَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللهِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَاَ لْقِيٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِيْدِ) جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا الٰہ بنا رکھا تھا(اب) اس کو سخت عذاب میں جھونک دو۔
قیامت کے دن دوزخ سے ایک گردن نکلے گی اس کی دو۲ آنکھیں ہوں گی جو دیکھتی ہوں گی اور دو۲ کان ہوں گے جو سنتے ہوں گے اور ایک زبان ہوگی جو بولتی ہوگی۔ زبان کہے گی مجھے تین۳ قسم کے لوگوں کے لیے مقرّر کیا گیا ہے : ایک تو ہر سرکش حق سے دشمنی رکھنے والے کے لیے دوسرے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ کو پکارتا تھا اور تیسرے تصویر بنانے والوں کے لیے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں:-
تَخْرُجُ عُنُقٌ مِّنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَاُذْنَانِ تَسْمَعَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِسَانٌ يَنْطِقُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ‏‏‏‏ اِنِّیْ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ:‏‏‏‏ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللهِ اِلَهًا اٰخَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِالْمُصَوِّرِيْنَ
(رواه الترمذي وصححه فی ابواب صفة جهتم باب ماجاء في صفة النار جزء٢ صفحہ ۲۱۶، حديث : ۲۵۷۴)
جن لوگوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا ان آیات میں ان کی مندرجہ ذیل صفّات بیان کی گئی ہیں:۔
۝۱ناشکری کرنا ،
۝۲ حق سے عناد اور دشمنی رکھنا ،
۝۳ نیکیوں سے روکنا ،
۝۴ حدودِ شریعت سے آگے بڑھ جانا ،
۝۵ لوگوں کے دِلوں میں اسلاؔم کی طرف سے شکوک پید‏ا کرنا ،
۝۶ اللہ کے ساتھ دوسرا الٰہ بنانا ،
آگے فرمایا
(قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ) (انسان عرض کرے گا میرا کیا قصور ہے مجھے تو شیطان نے سرکشی پر ابھارا)اس کا ساتھی یعنی شیطان کہے گا: اے ہمارے ربّ، میں نے اس کو سرکشی پر نہیں ابھارا بلکہ یہ تو خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں تھا۔
حضرت ابنِ مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے فرمایا :
مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِہٖ قَرِيْنُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِيْنُهٗ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَالُوْا وَاِيَّاكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ وَاِيَّایَ اِلَّا اَنَّ اللهَ اَعَانَنِیْ عَلَيْهِ فَاَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِیْ اِلَّا بِخَيْرٍ
(صحیح مسلم، كتاب صفة القيامة والجنة والنار، باب تحريش الشيطان، جزء ۲ صفحه ۵۲۷، حديث : ۷۱۰۸ / int. : ۲۸۱۴و حديث : ۷۱۰۹ / int. : ۲۸۱۴)
تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کے لیے ایک ساتھی جنّات میں سے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرّرنہ کیا گیا ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ؐ، کیا آپؐ کے ساتھ بھی شیطان ہے ۔ آپؐ نے فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی ہے لیکن اللہ نے اس کے مقابلے میں میری مدد کی ہے تو وہ مسلؔم ہو گیا ہے اور مجھے نیکی کے سوا کوئی بات نہیں بتاتا۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں:۔
اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَآءَ فَرَاٰى مَا ۤاَصْنَعُ فَقَالَ مٰلَكِ يَا عَآئِشَةُ اَغِرْتِ فَقُلْتُ وَمَا لِیْ لَا يَغَارُ مِثْلِیْ عَلٰى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَقَدْ جَآءَكِ شَيْطَانُكِ قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَوْ مَعِیَ شَيْطَانٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ اِنْسَانٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ نَعَمْ وَلٰكِنْ رَّبِّیْ اَعَانَنِیْ عَلَيْهِ حَتّٰى اَسْلَمَ
(صحیح مسلم كتاب صفة القيٰمة باب تحريش الشيطان جزء ۲ صفحہ ۵۲۷، حديث : ۷۱۱۰ / int. : ۲۸۱۵)
ایک رات کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم میرے پاس سے باہر نکلے ۔ اس پر مجھے بڑی غیرت آئی۔ پھر آپؐ واپس تشریف لائے اور میرَا حال دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا اے عائشہ ، تمھیں کیا ہوا؟ کیا تمھیں غیرت آئی؟ ميں نے کہا مجھے کیا ہوا جو میری جیسی بیوی کو آپؐ جیسے شوہر پر رشک نہ آئے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے فرمایا کیا تمھارا شیطان تمھارے پاس آگیا تھا۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ ، کیا میرے ساتھ شیطان ہے ؟ آپؐ نے فرمایا ہاں ۔ میں نے کہا کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے ۔ فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ کیا آپؐ کے ساتھ بھی شیطان ہے ؟ آپؐ نے فرمایا ہاں لیکن میرے ربّ نے میری مدد کی تو وہ مسلؔم ہو گیا ہے ۔
آگے فرمایا
(قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ)(اللہ تعالیٰ) فرمائے گا میرے پاس جھگڑا نہ کرو، میں نے تو تم کو پہلے ہی( اپنے فیصلےسے) متنبّہ کر چکا ہوں (کہ میں شیطان کو اور اس کے متّبعین کو جہنّم میں ڈال دوں گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۝۱۱۹
(سُوْرَۃُ ھُوْدٍ : اا ، آیت : ۱۱۹)
(اے رسول) آپ کے ربّ کی وہ بات پوری ہو کر رہے گی (جو وہ پہلے ہی کہہ چکا ہے) کہ وہ ضرور دوزخ کو جنّات اور انسانوں سے بھر دے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ لٰڪِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۝۱۳
(سُوْرَۃُ ُالٓمّٓ تَنْزِیْلُ /السَّجْدَۃِ : ۴۱، آیت : ۱۳)
میری طرف سے (میرا وہ) وعدہ پورا ہو کر رہے گا (جو میں پہلے کر چکا ہوں کہ میں ضرور (نافرمان) جنّات اور انسانوں سے دوزخ کو بھر دوں گا (اگر سب کو ہدایت دے دوں تو یہ وعدہ کیسے پورا ہوگا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
قَالَ فَالْحَقُّ،وَ الْحَقَّ اَقُوْلُ۝۸۴ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْڪَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ۝۸۵
(سُوْرَۃُ صٓ : ۳۸، آیت : ۸۵،۸۴)
(اللہ نے ابلیس سے) فرمایا تو پھر سچّی بات (یہ) ہے اور میں سچّی بات ہی کہتا ہوں کہ میں ضرور تجھے اور ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے ان سب سے جہنّم کو بھر دوں گا۔
آگے فرمایا
(مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ) میرے ہاں بات بدلا نہیں کرتی (میں نے شیطان اور اس کے متّبعین کو جہنّم میں جھونک دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ فصلہ اٹل ہے ، بدلا نہیں جا سکتا) اور نہ میں (اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہوں (ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو شخص دوزخ کا مستحق نہ ہو اس کو دوزخ میں ڈال دوں)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
يَا عِبَادِیْ اِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِیْ وَجَعَلْتُهٗ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا
(صحیح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم الظلم، جزء ۲ صفحه ۴۲۹، حديث : ۶۵۷۲ / int. : ۲۵۷۷)
اے میرے بندو میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمھارے درمیان بھی حرام کیا ہے تو تم آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔
شیطان اور انسان میں جو جھگڑا ہو گا اس کا کچھ ذِکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ ابراہیم میں بھی فرمایا ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ،وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْڪُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُڪُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ،فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ،مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ،اِنِّیْ ڪَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَڪْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ،اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۝۲۲
(سُوْرَۃُ اِبْرَاھِیْمَ: ۱۴، آیت : ۲۲)
اور جب (سزا و جزا کا) کام ختم ہو جائے گا (اور لوگ )شیطان (کو بُرا بھلا کہیں گے تو وہ) کہے گا اللہ نے جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ سچّا وعدہ تھا(اُس نے پورا کر دیا) اور میں نے جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا) میں اسے پورا نہیں کر سکا ، مجھے (دنیا میں)تم پر کوئی قدرت حاصل نہیں تھی مگر(صرف اتنی کہ) میں نے تم کو بلایا، تم نے میری بات مان لی لہٰذا اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمھاری مدد کر سکتا ہوں اور نہ تم میری مدد کر سکتے ہو، میں تو اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم نے پہلے کبھی مجھے (اللہ کا) شریک بنایا تھا ، بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب (تیّار) ہے۔
الغرض شیطان میں اور انسان میں میدانِ محشر میں جھگڑا ہوگا۔ انسان شیطان کو اور شیطان انسان کو قصور وار ٹھرائے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے پاس جھگڑنے کی ضرورت نہیں ، تمھارے متعلّق پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق تمھیں جہنّم میں جانا ہے ، جھگڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ وہ فیصلہ حتمی ہے ، واقع ہو کر رہے گا۔
عمل
اے لوگو ، خوب سوچ سمجھ کہ بات منھ سے نکالا کیجیے ، آپ کی تمام باتیں لکھی جارہی ہیں اور ان باتوں کے مطابق آپ کا فیصلہ ہوگا۔
اے لوگو ، موت آکر رہے گی، آپ حساب و کتاب سے بچ نہیں سکتے لہٰذا ایسے اعمال کا کیجیے کہ قیامت کے دن آپ عذاب سے بچ جائیں۔
اے لوگو ، نا شکری نہ کیجیے ، جان بوجھ کر حق کا انکار نہ کیجیے ،کسی کو نیکی کرنے سے نہ رو کیے ، اسلؔام کے متعلّق کسی کے دِل میں شکوک و شبہات نہ ڈالیے ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر گز کسی کو الٰہ نہ بنایے ۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو الٰہ بنانا شرک ہے اور شرک ہر گز نہیں بخشا جائے گا۔
(نوٹ:۔ الٰہ کی مکمل تشریح کے لیے البقرہ کی آیت نمبر ۱۶۳ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں)۔

<
یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ۝۳۰ وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ۝۳۱ هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِڪُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ۝۳۲ مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ۝۳۳ اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ،ذٰلِڪَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ۝۳۴ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ۝۳۵
<

ترجمہ: اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی (نہیں)، کیا کچھ(دوزخی) اور ہیں؟۝۳۰ (اس دن) جنّت متّقیوں کے قریب کر دی جائے گی، (بالکل) دور نہیں ہو گی۝۳۱ (پھر ان سے کہا جائے گا) یہ ہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا (یعنی جس کا وعدہ) ہر رجوع کرنے والے (احکامِ الٰہی کی) حفاظت کرنے والے سے (کیا گیا تھا)۝۳۲ جو بغیر دیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا اور رجوع کرنے والے دِل کے ساتھ (ہمارے پاس) آیا۝۳۳ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) سلامتی کے ساتھ جنّت میں داخل ہو جاؤ، یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۝۳۴ ان کےلیے جو کچھ وہ اس میں چاہیں گے (موجود ہو گا) اور ہمارے پاس تو اوربھی بہت کچھ ہو گا (جو ہم انھیں دیں گے)۝۳۵

<

معانی و مصادر :(اِمْتَلَئْتِ) ،اِمْتَلَأَ، يَمْتَلِئُ، اِمْتِلَاءٌ (باب افتعال) بھرنا۔
(مَزِيْدٌ) زَادَ ، يَزِيْدُ ، زَيْدٌ و زِيْدٌ ومَزِيْدٌ و زَيْدَانٌ (ض) زیادہ ہونا، زیادہ کرنا (مزید اسم مفعول بھی ہے)۔
(اُزْلِفَتْ) اَزْلَفَ ، يُزْلِفُ ، اِزْلَافٌ (باب افعال)قریب کرنا۔
(اَوَّابٌ) اٰبَ، يَئَوْبُ ، اَوْبٌ وصَآبٌ (ن) لوٹنا، رجوع کرنا۔

<

تفسیر: گزشتہ آیات میں قیامت کا ذِکر تھا۔ آیات زیرِتفسیر میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے مزید کچھ حالات بیان کیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (يَوْمَ یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ) اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ، وہ کہے گی، (نہیں) کیا کچھ (دوزخی) اور ہیں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :۔
يُلْقٰى فِی النَّارِ ، وَتَقُوْلُ : هَلْ مِنْ مَزِيْدٍ ؟ حَتّٰى يَضَعَ قَدَمَهٗ، فَتَقُوْلُ : قَطْ قَطْ
(صحیح بخارى، كتاب التفسير، باب تفسير سورة قٓ، جزء ۶ صفحه ۱۷۳، حديث : ۴۸۴۸)
دوزخی لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے لیکن دوزخ ہی کہتی رہے گی کچھ اور ہے کچھ اور ہے اس کا پیٹ نہیں بھرے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا اس وقت کہے گی بس بس۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :-
تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : اُوْثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِيْنَ وَالْمُتَجَبِّرِيْنَ ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : مَا لِیْ لَا يَدْخُلُنِیْ اِلَّا ضُعَفَآءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ ، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالىٰ لِلْجَنَّةِ : اَنْتِ رَحْمَتِیْ ، اَرْحَمُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ مِنْ عِبَادِیْ ، وَقَالَ لِلنَّارِ : اِنَّمَا اَنْتِ عَذَابٌ ، اُعَذِّبُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَلِڪُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مِلْؤُهَا ، فَاَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتّٰى يَضَعَ رِجْلَهٗ ، فَتَقُولُ : قَطٍ قَطٍ قَطٍ ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوٰى بَعْضُهَا اِلىٰ بَعْضٍ ، وَلَا يَظْلِمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ خَلْقِهٖ اَحَدًا ، وَاَمَّا الْجَنَّةُ ، فَاِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَا يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا
(صحیح بخارى، كتاب التفسير، باب تفسير سورة قٓ، جزء ۶ صفحه ۱۷۳، حديث : ۴۸۵۰، و صحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها، باب النار يدخلها الجبارون، جزء ۲ صفحه ۵۳۷، حديث : ۷۱۷۵ / int. : ۲۸۴۶)
(ایک مرتبہ) دوزخ اور جنّت میں بحث ہوئی دوزخ نے کہا مجھ میں تو وہ لوگ آئیں گے جو بڑے مغرور اور سرکش ہوں گے۔ جنّت نے کہا میرا کیا حال ہے مجھ میں تو وہ لوگ آئیں گے جو غریب اور دھتکارے ہوئے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے جنّت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے اپنے جن بندوں پر چاہوں گا رحم کروں گا اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے سے اپنے جن بندوں کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور ان میں سے ہر ایک کی بھرتی ہوگی۔ دوزخ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا ۔ اس وقت وہ کہے گی بس بس بس اور بھر کر سمٹ جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے پر ظلم نہیں کرے گا۔ جنّت کی بھرتی اس طرح ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے (مزید) مخلوق پیدا کرے گا۔
آگے فرمایا
(وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ) اور (اس دن جنّت متّقیوں کے قریب کر دی جائے گی (بالکل) دور نہیں ہوگی ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ۝۹۰ وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَ۝۹۱
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۹۰ تا ۹۱)
(اس دن) جنّت متّقیوں کے قریب کر دی جائے گی اور دوزخ گمراہوں کے سامنے کر دی جائے گی ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۝۱۲ وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۝۱۳ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ۝۱۴
(سُوْرَۃُ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ: ۸۱، آیت : ۱۲ تا ۱۴)
جب دوزخ دہکائی جائے گی اور جب جنّت قریب لائی جائے گی (تو اس وقت) ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے ۔
آگے فرمایا
(هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ) (پھر ان سے کہا جائے گا)یہ ہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا (یعںی جس کا وعدہ) ہر رجوع کرنے والے اور (احکامِ الٰہی) کی حفاظت کرنے والے سے (کیا گیا تھا)
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جنّت کا وعدہ ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ، اُسی سے لو لگاتے ہیں، معافی کے لیے اُسی سے درخواست کرتے ہیں، مدد کے لیے اُسی کو پکارتے ہیں اور جو احکامِ الٰہی کی حفاظت کرتے ہیں یینے اللہ تعالیٰ کے احکام پر برضا و رغبت عمل کرتے ہیں۔
آگے فرمایا
(مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبٍ)(اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور احکامِ الٰہی کی حفاظت کرنے والا وہ ہے) جو بغیر دیکھے رحمٰن سے ڈرتا ہے اور رجوع کرنے والے دِل کے ساتھ قیامت کے دن ہمارے پاس آئے گا۔
“اوّاب” اور “حفیظ “کی تشریح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ “اوّاب “اور” حفیظ “وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے بغرا دیکھے ڈرتے ہیں اور رجوع کرنے والا دِل لے کر میدانِ محشر میں حاضر ہوں گے۔
ایمان بالغیب یعنی بغیر دیکھے ایمان لانا ضروری ہے۔ ایمان بالمشاہدہ کی کوئی حقیقت نہیں ۔ جو ایمان مقبول ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ ہدایت بھی اسی کو ملتی ہے جو ایمان بالغیب لائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
الٓمّٓ۝۱ ذٰلِكَ الْڪِتٰبُ لَا رَیْبَ،فِیْهِ،هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ۝۲ اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ۝۳
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲، آیت:۱ تا ۳)
(یہ) وہ کتاب ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ، یہ متّقیوں کے لیے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ،فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ۝۱۱
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت : ۱۱)
آپ تو اسے ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور بغیر دیکھے رحمٰن سے ڈرے تو (اے رسول) ایسے شخص کو آپ مغفرت اور باعزّت اجر کی خوش خبری سنا دیجیے۔
قلبِ منیب سے مراد وہ دِل ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، مصیبت میں اُسی کو پکارتا ہو ، اُسی سے لو لگاتا ہو ، اُسی کی یاد سے سرشار ہو۔
آگے فرمایا
(اُدْخُلُوْهَا بِسَلَامٍ ، ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُوْدِ) (ایسے لوگوں سے جو بغیر دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوں اور جو رجوع کرنے والا دِل لے کر میدانِ محشر میں حاضر ہوں گے کہا جائے گا) سلامتی کے ساتھ جنّت میں داخل ہو جاؤ، یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے (اب تم جنّت سے نکالے نہیں جاؤ گے)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :-
مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْاَسُ لَا تَبْلٰى ثِیَابُہٗ وَلَا يَفْنٰى شَبَا بُہٗ
(صحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها، باب في دوام نعيم أهل الجنة، جزء ۲ صفحه ۵۳۴، حديث : ۷۱۵۶ / ۲۸۳۶ : int.)
جو شخص جنّت میں جائے گا وہ ہمیشہ سکون سے رہے گا اسے کبھی تکلیف نہیں ہوگی اور نہ اس کی جوانی کبھی ختم ہوگی۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :-
يُنَادِیْ مُنَادٍ اِنَّ لَكُمْ اَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوْاۤ اَبَدًا وَّاِنَّ لَكُمْ اَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوْتُوْا اَبَدًا وَّاِنَّ لَكُمْ اَنْ تَشِبُّوْا فَلَا تَهْرَمُوْا اَبَدًا وَّاِنَّ لَكُمْ اَنْ تَنْعَمُوْا فَلَا تَبْأَ سُوْا اَبَدًا فَذٰلِكَ قَوْلُهٗ عَزَّ وَجَلَّ وَنُوْدُوْاۤ اَنْ تِلْكُمْ الْجَنَّةَ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
(صحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها، باب في دوام نعيم أهل الجنة، جزء ۲ صفحه ۵۳۴، حديث : ۷۱۵۷ / int. : ۲۸۳۷)
ایک پکار نے والا (جنّت کے لوگوں کو) پکارے گا کہ تمھارے لیے (یہ بات طے پاگئی ہے) کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے ۔ تم زندہ رہو گے تمھیں کبھی موت نہیں آئے گی ، تم جو ان رہو گے بڑھاپا کبھی تمھارے قریب نہیں آئے گا اور تم ہمیشہ امن و سکون سے رہو گے کبھی غمگین نہیں ہوگے اور یہ ہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کہ جنّت والوں کو پکارا جائے گا کہ یہ تمھاری جنّت ہے جس کے تم وارث ہوئے اس وجہ سے کہ تم نیک عمل کرتے تھے ۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں:-
يُدْخِلُ اللهُ اَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَيُدْخِلُ اَهْلَ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُوْمُ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ فَيَقُوْلُ يَاۤ اَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ وَيَاۤ اَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ كُلٌّ خَالِدٌ فِيْمَا هُوَ فِيْهِ
(صحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها، باب النار يدخلها الجبارون، جزء ۲ صفحه ۵۳۸، (حديث : ۷۱۸۳ / int. : ۲۸۵۰)
اللہ تعالیٰ جنّت والوں کو جنّت میں اور دوزخ والوں کو دوزخ میں داخل کرے گا پھر ایک پکار نے والا ان کے درمیان میں کھڑا ہو گا اور کہے گا اے جنّت والو اب موت نہیں ہے اور اے دوزخ والو اب موت نہیں ہے ہر ایک ہمیشہ اسی حال میں رہے گا جس حال میں وہ (اب) ہے ۔
آگے فرمایا
(لَهُم مَّا يَشَاۤءُوْنَ فِيْهَا وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ) اس (جنّت میں ان (لوگوں) کے لیے جو کچھ وہ چاہیں گے (موجود ہوگا)اور تمھارے پاس تو اور بھی بہت کچھ ہو گا (جو ہم انھیں دیں گے)۔
جنّتیوں کی ہر خواہش کو پورا کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ ان کو اور بھی بہت سی نعمتیں دی جائیں گی۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں:-
اَنَّ النَّاسَ قَالُوْا : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، هَلْ نَرٰى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : هَلْ تُمَارُوْنَ فِی الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُوْنَهٗ سَحَابٌ ، قَالُوا : لَا يَا رَسُوْلَ اللهِ ، قَالَ : فَهَلْ تُمَارُوْنَ فِی الشَّمْسِ لَيْسَ دُوْنَهَا سَحَابٌ ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَاِنَّكُمْ تَرَوْنَهٗ كَذٰلِكَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ، فَيَقُوْلُ : مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْہُ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَتَّبِـعُ الشَّمْسَ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَتَّبِـعُ الْقَمَرَ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَتَّبِـعُ الطَّوَاغِيْتَ ، وَتَبْقٰى هٰذِهِ الْاُمَّةُ فِيْهَا مُنَافِقُوْهَا فَيَاْتِيْهِمُ اللهُ فَيَقُوْلُ اَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُوْلُوْنَ هٰذَا مَكَانُنَا حَتّٰى يَاْتِيَنَا رَبُّنَا فَاِذَا جَآءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ ، فَيَاْتِيْهِمُ اللهُ عَزَّوَجَلَّ فَيَقُوْلُ اَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُوْلُوْنَ اَنْتَ رَبُّنَا فَيَدْعُوْهُمْ فَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَیْ جَهَنَّمَ فَاَكُوْنُ اَوَّلَ مَنْ يَجُوْزُ مِنَ الرُّسُلِ بِاُمَّتِهٖ، وَلَا يَتَڪَلَّمُ يَؤْمَئِذٍ اَحَدٌ اِلَّا الرُّسُلُ وَكَلَامُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اَللّٰهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَفِیْ جَهَنَّمَ كَلَالِيْبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ ، هَلْ رَاَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ ؟ ، قَالُوْا : نَعَمْ ، قَالَ : فَاِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ ، غَيْرَ اَنَّهٗ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا ۤۤ اِلَّا اللهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِاَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ يُّوْبَقُ بِعَمَلِهٖ وَمِنْهُمْ مَنْ يُّخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُوْ حَتّٰى اِذَاۤ اَرَادَ اللهُ رَحْمَةً مَنْ اَرَادَ مِنْ اَهْلِ النَّارِ ، اَمَرَ اللهُ الْمَلٰٓئِكَةَ اَنْ يُّخْرِجُوْا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَيُخْرِجُوْنَهُمْ وَيَعْرِفُوْنَهُمْ بِاٰ ثَارِ السُّجُوْدِ ، وَحَرَّمَ اللهُ عَلَى النَّارِ اَنْ تَاْكُلَ اَثَرَ السُّجُوْدِ فَيَخْرُجُوْنَ مِنَ النَّارِ فَكُلُّ ابْنِ اٰدَمَ تَاْكُلُهُ النَّارُ اِلَّا اَثَرَ السُّجُوْدِ فَيُخْرَجُوْنَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتَحَشُوْا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُوْنَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِیْ حَمِيْلِ السَّيْلِ ، ثُمَّ يَفْرُغُ اللهُ مِنَ الْقَضَآءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَيَبْقٰى رَجُلٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَهُوَ اٰخِرُ اَهْلِ النَّارِ دُخُوْلًا الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهٖ قِبَلَ النَّارِ ، فَيَقُوْلُ : يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِیَ عَنِ النَّارِ قَدْ قَشَبَنِیْ رِيْحُهَا وَاَحْرَقَنِیْ ذَكَآ ؤُهَا ، فَيَقُوْلُ : هَلْ عَسَيْتَ اِنْ فُعِلَ ذٰلِكَ بِكَ اَنْ تَسْاَلَ غَيْرَ ذٰلِكَ ؟ ، فَيَقُوْلُ : لَا ، وَعِزَّتِكَ فَيُعْطِی اللهَ عَزّوَجَلَّ مَا يَشَآءُ مِنْ عَهْدٍ وَّمِيْثَاقٍ فَيَصْرِفُ اللهُ وَجْهَهٗ عَنِ النَّارِ ، فَاِذَاۤ اَقْبَلَ بِهٖ عَلَى الْجَنَّةِ رَاٰى بَهْجَتَهَا سَكَتَ مَا شَآءَ اللهُ اَنْ يَّسْكُتَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ قَدِّمْنِیْ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُوْلُ اللهُ لَهٗۤ : اَلَيْسَ قَدْ اَعْطَيْتَ الْعُهُوْدَ وَالْمِيْثَاقَ اَنْ لَّا تَسْاَلَ غَيْرَ الَّذِیْ كُنْتَ سَاَلْتَ ، فَيَقُوْلُ : يَا رَبِّ لَۤا اَكُوْنُ اَشْقٰى خَلْقِكَ ، فَيَقُوْلُ : فَمَا عَسَيْتَ اِنْ اُعْطِيْتَ ذٰلِكَ اَنْ لَّا تَسْاَلَ غَيْرَهٗ ، فَيَقُوْلُ : لَا ، وَعِزَّتِكَ لَا اَسْاَلُ غَيْرَ ذٰلِكَ فَيُعْطِیْ رَبَّهٗ مَا شَآءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيْثَاقٍ فَيُقَدِّمُهٗۤ اِلٰى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَاِذَا بَلَغَ بَابَهَا فَرَاٰى زَهْرَتَهَا وَمَا فِيْهَا مِنَ النَّضْرَةِ وَالسُّرُوْرِ فَيَسْكُتُ مَا شَآءَ اللّٰهُ اَنْ يَّسْكُتَ ، فَيَقُوْلُ : يَا رَبِّ اَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ ، فَيَقُوْلُ اللهُ : وَيْحَكَ يَا ابْنَ اٰدَمَ مَاۤ اَغْدَرَكَ اَلَيْسَ قَدْ اَعْطَيْتَ الْعَهْدَ وَالْمِيْثَاقَ اَنْ لَّا تَسْاَلَ غَيْرَ الَّذِیْ اُعْطِيْتَ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِیْۤ اَشْقٰى خَلْقِكَ فَيَضْحَكُ اللهُ مِنْهُ ثُمَّ يَاْذَنُ لَهٗ فِیْ دُخُوْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُوْلُ : تَمَنَّ ، فَيَتَمَنّٰى حَتّىٰۤ اِذَا انْقَطَعَ اُمْنِيَّتُهٗ ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : مِنْ كَذَا وَكَذَا اَقْبَلَ يُذَكِّرُهٗ رَبُّهٗ حَتّىٰۤ اِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْاَمَانِیُّ ، قَالَ اللهُ: لَكَ ذٰلِكَ وَمِثْلُهٗ مَعَهٗ وَقَالَ اَبُوْ سَعِيدِ الْخُدْرِیُّ لِاَبِیْ هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ ذٰلِكَ وَعَشَرَةُ اَمْثَالِهٖ قَالَ اَبُوْ هُرَيْرَةَ لَمْ اَحْفَظْهُ مِنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِلَّا قَوْلَهٗ لَكَ ذٰلِكَ وَمِثْلُهٗ مَعَهٗ.
(صحیح بخارى، كتاب الصلوٰة، باب فضل السجود، جزء اول صفحه ۲۰۴، حديث : ۸۰۶)
لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ کیا ہم قیامت کے دن اپنے ربّ کو دیکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا تمھیں چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے جب کہ اس پر ابر نہ ہو۔ انھوں نے کہا : نہیں اے اللہ کے رسولؐ ۔ آپؐ نے فرمایا کار تمھیں سورج کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے جب کہ ابر نہ ہو۔ انھوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اسی طرح تم اپنے ربّ کو بھی دیکھو گے ۔ قیامت کے دن لوگ اکٹھے کیے جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے تو کوئی سورج کے ساتھ ہو جائے گا ، کوئی چاند کے ساتھ ہو جائے گا اور کوئی بتوں کے ساتھ اور میں اس امّت کے لوگ رہ جائیں گے ان میں منافق بھی ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ (ایک نئی صُورت میں) ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا میں تمھارا ربّ ہوں ۔ وہ کہیں گے ہم یھیں رہیں گے جب تک ہمارا ربّ آئے جب ہمارا ربّ آئے گا تو ہم اس کو پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ (دوسری صُورت میں) ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا میں تمھارا ربّ ہوں۔ وہ کہیں گے (بے شک تو ہمارا ربّ ہے پھر ان کو بلایا جائے گا اور پل صراط کو دوزخ کے درمیان رکھا جائے گا پھر آپؐ نے فرمایا سب پغمبروں سے پہلے میں اپنی امّت لے کر پار ہو جاؤں گا ۔ اس دن سوائے پغمبروں کے کوئی بات نہیں کر سکے گا۔ پغمبر یہ دعا کریں گے اے اللہ ہمیں بچا، ہمیں بچا۔ دوزخ میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ تم نے سعدان کا کانٹا دیکھا ہے؟ صحابہؓ نے عرض کریں گے جی ہاں دیکھا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا بس وہ آنکڑے اسی سعدان کے کانٹوں کی شکل کے ہوں گے مگر اتنے بڑے کہ اللہ ہی ان کی بڑائی کو جانتا ہے وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اُچک لیں گے ۔ کوئی اپنے عمل کی وجہ سے بالکل ہلاک ہو جائے گا اور کوئی چکنا چور ہوکر پھر بچ جائے گا۔ جب اللہ تعالیٰ دوزخیوں میں سے بعضوں پر رحم کرنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا جو اللہ کی عبادت کرتا تھا اس کو نکال لو۔ فرشتے ایسے لوگوں کو نکال لیں گے وہ سجدے کے نشان سے ان کو پہچان لیں گے کیوں کہ اللہ نے سجدے کے مقام کو دوزخ پر حرام کر دیا ہے، وہ سجدے کے مقام کو نہیں کھا سکتی الغرض وہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے آدمی کا سارا بدن آگ کھالے گی لیکن سجدے کا نشان رہ جائے گا۔ یہ لوگ کوئلے کی طرح جلے ہوئے دوزخ سے نکلیں گے پھر ان پھر آبِ حیات ڈالا جائے گا تو وہ اس طرح ابھر آئیں گے جیسے دانہ نالے کے بہاؤ میں ابھر آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے فیٖصلے سے فارغ ہو جائے گا۔ ایک شخص جنّت اور دوزخ کے بیچ میں رہ جائے گا وہ سب دوزخیوں کے بعد جنّت میں جائے گا۔ اس کا منھ دوزخ کی طرف ہوگا۔ وہ عرض کرے گا اے میرے ربّ میرا منھ دوزخ کی طرف سے پھیر دے کیوں کہ اس کی بدبو میرے لیے ناقابل برداشت ہے اور اس کی چمک مجھے جلاتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچّھا اگر میں ایسا کر دوں تو پھر تُو تو کوئی اور درخواست نہیں کرے گا۔ وہ عرض کرے گا ہرگز نہیں تیری بزرگی کی قسم پھر جس طرح اللہ چاہے گا وہ عہد و پیمان کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ اس کا منھ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا۔ جب وہ جنّت کی طرف منھ کرے گا تو وہاں کی بہار دیکھ کر جتنی دیر اللہ تعالیٰ کو منظور ہے خاموش رہے گا پھر دوسری بار عرض کرے گا اے میرے ربّ مجھے جنّت کے دروازے پر پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے کیا کیا قول و قرار کیے تھے۔ تونے کہا تھا کہ اب میں کوئی اور درخواست نہیں کروں گا۔ بندہ عرض کرے گا اے میرے ربّ کیا۔ تیری ساری مخلوق میں ایک میں ہی بدنصب رہوں۔ ارشاد ہو گا اچّھا اگر میں یہ درخواست بھی تیری پوری کر دوں تو پھر تو اور کچھ نہیں مانگے گا۔ بندہ عرض کرے گا، ہرگز نہیں، تیری بزرگی کی قسم میں اب کچھ نہیں مانگوں گا پھر جس طرح اللہ کو منظور ہوگا وہ قول وقرار کرے گا۔ آخراللہ تعالیٰ اس کو جنّت کے دروازے پر پہنچادے گا۔ جب جنّت کے دروازے پر پہنچے گا وہاں کی بہار تازگی و فرحت دیکھ کر جتنی دیر اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا وہ خاموش رہے گا۔ پھر تیسری مرتبہ عرض کرے گا اے اللہ مجھے جنّت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے تجھ پر افسوس ہے تو کیسا بد عہد ہے؟ کیا تو نے یہ یہ قول و قرار نہیں کیے تھے۔ تونے کہا تھا کہ اب میں کوئی اور درخواست نہیں کروں گا۔ وہ عرض کرے گا بے شک کیے تھے لیکن اے میرے ربّ مجھے اپنی ساری مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ بنا ۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ہنس دے گا اور اس کو جنّت میں جانے کی اجازت دے گا اور فرمائے گا آرزو کر جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو ارشاد ہو گا یہ بھی تو مانگ ، یہ بھی تو مانگ ، خود اللہ تعالیٰ اس کو یاد دلائے گا۔ جب اس کی ساری آرزوئین پوری ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب تجھ کو دیں اور اتنی اور ابوسعیدر خدری ؓ صحابی نے ابوہریرہ ؓ سے کہا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے اس طرح فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب کچھ کو دیں اور دس۱۰ گنا۔ ابوہریرہؓ کی نے کہا مجھے تو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے ایسا فرمایا ہو۔ آپؐ نے فرمایا تھا یہ سب نعمتیں تجھ کو دیں اور اس کی مثل اور دیں (کتنی مثل اور دیں یہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں نہیں ہے)۔
اس حدیث میں مطلوبہ نعمتوں کے علاوہ جو نعمتیں دی جائیں گی ان میں ۔ ایک تو دیدارِ الٰہی ہے اور دوسری وہ نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ ان کو یاد دلائے گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے فرمایا :-
اِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُوْلُ لِاَهْلِ الْجَنَّةِ يٰۤا اَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُوْلُوْنَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَ سَعْديْكَ وَالْخَيْرُ فِیْ يَدَيْكَ فَيَقُوْلُ هَلْ رَضِيْتُمْ فَيَقُوْلُوْنَ وَمَا لَنَا لَا نَرْضٰى يَا رَبِّ وَقَدْ اَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ فَيَقُوْلُ اَ لَاۤ اُعْطِيْكُمُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ فَيَقُوْلُوْنَ يَا رَبِّ وَاَیُّ شَیْءٍ اَفْضَلُ مِنْ ذٰلِكَ فَيَقُوْلُ اَحِلٌ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِیْ فَلَا اسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَةً اَبَدًا
(صححْ مسلم كتاب الجنة وصفة نعيمها باب احلال الرضوان على اهل الجنة جزء ٢ صفحه ۵۳۱، حديث : ۷۱۴۰ / int. : ۲۸۲۹)
الله تعالیٰ جنّتی لوگوں سے فرمائے گا اے جنّتیو ، وہ کہیں گے اے ربّ ہم حاضر ہیں اور سعادت حاصل کرتے ہیں۔ سب بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم راضی ہو؟ وہ کہیں گے ہم کیسے راضی نہ ہوں ہم کو تو تونے اتنا کچھ دیا کہ اپنی مخلوق میں کسی کو نہیں دیا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تم کو اس سے بھی بہتر کوئی چیز دوں؟ وہ عرض کریں گے اے ربّ اس سے بہتر کون سی چزن ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تم پر اپنی رضامندی نازل کرتا ہوں اور میں اس کے بعد تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :۔
يَقُوْلُ اللهُ تَعَالٰى اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْحَ مَا اُطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَآءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ
(صحیح بخارى، كتاب التفسير، باب تفسير الٓمّٓ السجدة، جزء ۶ صفحه ۱۴۵، حديث : ۴۷۸۰، و صحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها، جزء ۲ صفحه ۵۳۰، حديث :۷۱۳۲ / int. : ۲۸۲۴)
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسي نعمتیں تیّار کر رکھی ہیں کہ جن کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی آدمی کے دِل میں اس کا خیال تک آیا جو نعمتیں میں نے چھپا کر رکھی ہیں ان کے مقابلے میں وہ میں جو تم پر ظاہر کر دی ہیں ہیچ ہیں۔ پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَآءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (یعنی ان کے لیے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی جو(نعمتیں) ہم نے چھپا رکھی ہیں انھیں کوئی شخص نہیں جانتا۔ یہ ان کے (ان) اعمال کا بدلہ ہے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے)۔
ان احادیث میں جن نعمتوں کا بیآن ہے وہ یہ ہیں :
۝۱ اللہ تعالیٰ کی رضوان ۝۲ پوشیدہ نعمتیں
الغرض ہر جنّتی کو وہ تمام نعمتیں ملیں گی جن کو وہ طلب کرے گا اور جب اس کی تمام مطلوبہ چیزیں اسے مل جائیں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے مزید نعمتیں ملیں گی مثلاً دیدارِ الٰہی ، رضوانِ الٰیی، پوشیدہ نعمتیں وغیرہ۔
عمل
اے لوگو، دوزخ سے بچنے کی کوششں کیجیے ۔ متّقی بننے کی کوشش کیجیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیجیے ، اُس کے احکام کی حفاظت کیجیے اور بغیر دیکھے اس سے ڈرتے رہے۔

<
وَ ڪَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ،هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ۝۳۶ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰی لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ۝۳۷ وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ،وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ۝۳۸ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّڪَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ۝۳۹ وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ۝۴۰
<

ترجمہ : اور (اے رسول) ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا جو قوّت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں پھر (جب ہمارا عذاب آیا تو) وہ (کئی) شہروں میں پناہ حاصل کرنے کی جگہ تلاش کرنے کےلیے (آئے) گئے تو کیا (انھیں) کوئی بھاگنے کی جگہ (ملی)؟۝۳۶ اس میں نصیحت ہے اس شخص کےلیے جس کے پاس دِل ہے اور جو حضورِقلب کے ساتھ کان لگا کر سنتا ہے۝۳۷ اور (اے رسول) ہم نے آسمانوں کو، زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کو چھ۶ دن میں پیدا کیا اور ہم کو تکان محسوس نہیں ہوئی۝۳۸ تو (اے رسول) جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس پر آپ صبر کیجیے اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے ربّ کی تعریف کے ساتھ تسبیح پڑھا کیجیے۝۳۹ اور رات میں بھی کچھ دیر اُس کی تسبیح پڑھا کیجیے اور نماز کے بعد بھی۝۴۰

<

معانی و مصادر: (قَرْنٌ) قَرَنَ ، يَقْرُنُ ، قَرْنٌ (ن)دو۲ چیزوں کو ملانا (قَرْنٌ= سینگ، ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت ، اہل زمانہ)
(نَقَّبُوْا) نَقَّبَ ، يُنقِّبُ ، تَنْقِيْبٌ (باب تفعیل) بھاگنے کی جگہ تلاش کرنے کے لیے گشت لگانا۔
(مَحِيْصٌ) حَاصَ، يَحِيْضُ ، حَيْصٌ و حَيْصَةٌ و حُيُوْصٌ ومَحِيْصٌ وحَيْصَانٌ (ض) بھاگنا (مَحِيْصٌ = بھاگنے کی جگہ تلاش کرنا) ۔
(لُغُوْبٌ) ، لَغَبَ ، يَلْغَبُ ، لَغَبٌ ، لَغُوْبٌ ولُغُوْبٌ (ف ، ن ، ك) تھكنا –
لَغِبَ ، يَلْغَبُ ، لَغَبٌ (س) تھکنا ۔

<

تفسیر: الله تعالیٰ فرماتا ہے (وَ کَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ،هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ) اور (اے رسول) ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا جو قوّت میں ان (کفّارِ مکّہ) سے کہیں زیادہ تھیں پھر (جب ہمارا عذاب آیا تو) وہ بھاگ کر پناہ کی جگہ تلاش کرنے کے لیے کئی ایک شہروں میں گشت لگاتے رہے تو کیا (انھیں) کوئی بھاگنے کی جگہ (ملی)۔
اس آیت میں کفّارِ مکّہ کو ایک قسم کی دھمکی ہے ۔ گزشتہ قوموں نے جب اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور کسی طرح ایمان نہیں لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اس عذاب سے بچنے کے لیے انھوں نے شہروں کو چھان مارا لیکن انھیں کہیں کوئی پناہ کی جگہ نہیں ملی اور وہ ہلاک کر دیے گئے ۔ وہ قوّت میں کفّارِ مکّہ سے کہیں زیادہ تھے پھر بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہ سکے تو ان کفّارِ مکّہ کی کیا حقیقت ہے ۔ اگر انھوں نے تکذیب جاری رکھی تو ان پر بھی اسی طرح عذاب نازل ہو گا اور یہ نیست و نابود کر دیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُ۝۱۲ وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍ۝۱۳ وَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ،كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ۝۱۴
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۱۲ تا ۱۴)
ان (کافروں) سے پہلے قومِ نوح نے، کنویں والوں نے اور ثمود نے بھی (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا تھا اور عاد نے ، فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے بھی (جھٹلایا تھا) اور بن کے رہنے والوں نے اور قوم تبّع نے بھی(جھٹلایا تھا) غرض یہ کہ سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان سب پر ہمارا وعدۂ عذاب ثابت ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا،هِیَ حَسْبُهُمْ،وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ،وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ۝۶۸كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِڪُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَڪْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا،فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا،اُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ،وَ اُولٰٓىِٕڪَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۝۶۹ اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ،وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَالْمُؤْتَفِكٰتِ،اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ،فَمَا ڪَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰڪِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ۝۷۰
(سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ : ۹، آیت : ۶۸ تا ۷۰)
اللہ نے منافق مردوں ، منافق عورتوں اور (ان کے علاوہ تمام) کفّار کو آتشِ جہنّم کی وعید سنادی ہے جہنّم میں وہ ہمشہ رہیں گے ، (اور) وہ ہی ان کے لیے کافی ہے ، اللہ نے ان پر لعنت کر دی ہے اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔ (اے کفّار ، تمھاری حالت بالکل ان لوگوں جیسی ہو گی) جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں (حالاں کہ) وہ قوّت کے لحاظ سے تم سے زیادہ مضبوط تھے اور مال اور اولاد بھی تم سے زیادہ رکھتے تھے( لیکن، یہ چیزیں ان کے کچھ کام نہیں آئیں) انھوں نے (دنیا سے) اپنے نصیب کے مطابق فائدہ اٹھایا تو جس طرح تم سے پہلے لوگوں نے اپنے تو نصیب کے مطابق فائدہ اٹھایا تھا اسی طرح تم بھی اپنے نصیب کے مطابق فائدہ اٹھا رہے ہو اور جس طرح( وہ مذاق اڑانے کے لیے غور و) خوض کرتے رہے تھے ، تم بھی (مذاق اڑانے کے لیے غور و) خوض کر رہے ہو (جو حشران کا ہوا وہ ہی حشر تمھارا بھی ہوگا) ایسے لوگوں کے عمل دنیا اور آخرت (دونوں جگہ) ضائع ہو گئے اور یہ ہی لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔ کیا اِن لوگوں کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں یعنی قوم ِنوح ، قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ ابراہیم ، اصحابِ مدین اور الٹی ہوئی بستیوں والے ، ان (تمام قوموں) کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے (لیکن وہ ایمان نہیں لائے تو دیکھ لو ان کا حشر کیسا ہوا) اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ تو خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ،كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ،وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ۝۲۱ ذٰلِڪَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ،اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۝۲۲ (سُوْرَۃُ حٰمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۲۱تا۲۲)
اور (اے رسول) کیا انھوں نے زمین میں سیر و سیّاحت نہیں کی تاکہ یہ (اپنی آنکھوں سے) ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، وہ قوّت اور زمین میں اپنے نشانات کے لحاظ سے ان سے کہیں زیادہ مضبوط تھے، لیکن اللہ نے ان کے گناہوں کے سبب ان کو پکڑ لیا تو پھر ان کو اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہیں تھا ۔ (ان پر) یہ (عذابات) اس لیے (نازل ہوئے) کہ ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر آئے تھے لیکن انھوں نے (پھر بھی رسولوں کا) انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا، بےشک اللہ قوّت والا اورسخت عذاب دینے والا ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ ڪَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ،كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰی عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۝۸۲ فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۝۸۳ فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ۝۸۴ فَلَمْ یَڪُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا،سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ،وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْڪٰفِرُوْنَ۝۸۵
(سُوْرَۃُ حٰمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۸۲تا ۸۵)
(اور اے رسول) کیا انھوں نے زمین میں سیر و سیّاحت نہیں کی کہ یہ (اپنی آنکھوں سے) ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، وہ ان سے تعداد میں بھی زیادہ تھے اور قوّت اور زمین میں آثار کے لحاظ سے بھی (ان سے) زیادہ مضبوط تھے لیکن جو عمل انھوں نے کیے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے ۔ پھر جب ان کے رسول کھلے دلائل کے ساتھ ان کے پاس پہنچے تو جو علم ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے، الغرض جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس (عذاب) نے انھیں (چاروں طرف سے) گھیر لیا ۔ جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے ہم اللہ اکیلے پر ایمان لاتے ہیں اور جن لوگوں کو ہم اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے ان کا انکار کرتے ہیں ۔ لیکن جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا تو (اس وقت) ایمان لانا ان کےلیے نفع بخش نہیں ہوا، یہ اللہ کا دستور ہے جو اُس کے بندوں میں (پہلے سے) ہوتا آیا ہے کہ (عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ) ایسے موقع پر کافروں کو نقصان ہی اٹھانا پڑا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْڪَ،اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ۝۱۳
(سُوْرَۃُ مُحَمَّدِ : ۴۷، آیت : ۱۳)
اور (اے رسول) کتنی ہی بستیاں (ایسی گزر چکی ہیں) جو آپ کی بستی سے جس بستی سے آپ کو نکالا قوّت میں کہیں زیادہ تھیں، ہم نے انھیں ہلاک کرڈالا، پھر ان کا کوئی مددگار نہ ہوا۔
کفّارِ مکّہ کو ڈرانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا
(اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰی لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ) اس میں (یعنی قرآن مجید میں) اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس دِل ہے اور جو حضورِ قلب کے ساتھ کان لگا کر سنتا ہے ۔
دِل تو ہر شخص کے سینے میں موجود ہے لیکن یہاں دِل سے مراد دِل کی وہ خاص کیفیّت ہے جو اسے نصیحت سننے پر مجبور کرتی ہے۔ دِل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہو ، اللہ تعالیٰ کی محبّت ہو، خلوص ہو، تقویٰ ہو، حق کو تلاش کرنے اور اس پر عمل کرنے کی تڑپ ہو ، دِل بناّ ہو ، دِل میں اللہ تعالیٰ کی لگن ہو، اللہ تعالیٰ سے لَو لگانے والا دِل ہو ، ضد، ہٹ دھرمی اور حق پوشی سے دِل پاک وصاف ہو، دِل کی اسی کیفیّت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍ مُنِيْبٍ
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۳۳)
(متّقی وہ ہے) جو بغیر دیکھے رحمٰن سے ڈرے اور رجوع کرنے والے دِل کے ساتھ (ہمارے پاس)آئے۔
دِل اگر اندھا ہو جائے تو پھر سیدھا راستہ ملنا مشکل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰی عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ۝۴۵ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا،فَاِنَّهَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ۝۴۶
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۴۵ تا ۴۶)
الغرض کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے اس لیے ہلاک کر دیا کہ وہ ظالم تھیں (دیکھ لو) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں، (بہت سے) کنویں بے کار پڑے ہیں اور (بہت سے) عالی شان محل (ویران پڑے ہیں) ۔ تو (اے رسول) کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر و سیّاحت نہیں کی تاکہ (ان بستیوں کا عبرت ناک انجام دیکھ کر) ان کے دِل ایسے ہو جاتے کہ ان سے (اپنے انجام کو) سمجھ لیتے اور کان ایسے ہو جاتے کہ ان سے (نصیحت کی بات) سن لیتے (اے رسول) بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دِل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں ۔
الغرض دِل کی مندرجہ بالا کاجھ ت ہوں ، حضور ِقلب ہو اور کان لگا کر سنے تو نصحتہ ضروراثر کرتی ہے۔
دِل کی اصامح بڑی ضروری ہے ۔ دِل اگر بگڑ جائے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے، حلال و حرام کی تمزی اُٹھ جاتی ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں:-
اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَةً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهٗۤ، اَلَا وَهِیَ الْقَلْبُ
(صحیح بخارى، كتاب الايمان، باب فضل من استبرأ لدينه، جزء اول صفحه ۲۰، حديث : ۵۲)
بے شک (انسان) کے جسم میں ایک (گوشت) کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہوتا ہے تو سارا جسم درست ہوتا ہے اور اگر وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ سن لو وہ ٹکڑا دِل ہے۔
آگے فرمایا
(ولَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ) اور (اے لوگو) ہم نے آسمان کو زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کو چھ۶ دن میں پیدا کیا اور ہمیں تکان محسوس نہیں ہوئی اور جب ساری کائنات کو پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں، تو انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لیے کیا مشکل ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ،بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۝۱۵
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۱۵)
اور (اے لوگو) کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں، (نہیں ہم تو نہیں تھکے) البتّہ یہ ہی لوگ ازسرِنو پیدا ہونے کے سلسلے میں (بلا وجہ)شک میں پڑے ہوئے ہں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یُّحْیِ َۧ الْمَوْتٰی،بَلٰۤی اِنَّهٗ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۝۳۳
(سُوْرَۃُ الْاَحْقَافِ: ۴۶، آیت : ۳۳)
کیا انھوں نے نہیں: دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو زندہ کر دے ، کیوں نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کر نا زیادہ مشکل ہے اسی لیے اللہ تعالٰی نے بطور دلیل کے ان چیزوں کی پیدائش کا ذِکر کیا۔ جو اللہ آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کر سکتا ہے وہ یقینًا انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ،بَنٰىهَا۝۲۷ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا۝۲۸ وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۝۲۹
(سُوْرَۃُ النّٰزِعٰتِ: ۷۹، آیت : ۲۷ تا ۲۹)
(اے کا فرو)بتاؤ کیا تمھارا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان (کا پیدا کرنا)؟ اللہ نے تو آسمان ان کو کو بنایا، اس کی چھت کو بلند کاب ، پھر اسے ہموار کیا، اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کی صبح کو نکالا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۝۵۷
(سُوْرَۃُ حٰمٓ المُؤْمِنِ : ۴۰، آیت : ۵۷)
آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے یقیناً زیادہ بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ دِل کی نہیں جانتے (کہ جو آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کر سکتا ہے اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے)۔
عذاب کی دھمکی اور قیامت کی دلیل دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا
(فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ) (اے رسول ، آپ کی نبوّت اور قیامت کے سلسلے میں) جو کچھ یہ کہ رہے ہیں آپ اس پر صبر کریں، (ان کے مذاق اڑانے کی پرواہ نہ کریں ، آزردہ نہ ہوں) اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے ربّ کی تعریف کے ساتھ تسبیح پڑھا کیجیے (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ) اور رات میں کچھ دیر اس کی تسبیح پڑھا کیجیے اور نماز کے بعد بھی (تسبیح پڑھا کیجیے)۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار۴ اوقات میں تسبیح (یعنی نماز) پڑھنے کا حکم دیا ہے :-
۝۱ سورج کے طلوع سے پہلے،
۝۲ سورج کے غروب سے پہلے،
۝۳ رات کو تھوڑی دیر اور
۝۴ نمازوں کے بعد
سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے تسبیح پڑھنے سے مراد فجر اور عصرکی نمازیں ہیں۔
حضرت جریر بن عبد اللہ فرماتے ہیں :-
كُنَّا جُلُوْسًا لَيْلَةً مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ اِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ اَرْبَعَ عَشْرَةَ ، فَقَالَ: اِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هٰذَا ، لَا تُضَامُوْنَ فِیْ رُؤْيَتِهٖ ، فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ لَا تُغْلَبُوْا عَلٰى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا فَافْعَلُوْا ، ثُمَّ قَرَاَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ
(صحیح بخارى، كتاب التفسير، باب تفسير سورة قٓ، جزء ۶ صفحه ۱۷۳، حديث : ۴۸۵۱، و صحيح مسلم، كتاب الصلوٰة، باب فضل صلوٰتي الصبح والعصر، جزء اول صفحه ۲۵۳، حديث : ۱۴۳۴ / int. : ۶۳۳)
ہم ایک رات نبی صلّی اللہ علیہ و سلّم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپؐ نے چودھویں رات کو چاند کی طرف دیکھا ۔ آپؐ نے فرمایا عنقریب تم اپنے ربّ کو اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو بے تکلف دیکھ رہے ہو ، اُس کے دیکھنے میں تمھیں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوگی اگر تم سے ہو سکے تو ایسا کرو کہ سورج نکلنے سے پہلے کی نماز اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز قضا نہ ہونے پائے۔ اس کے بعد آپؐ نے یہ آیت پڑھی وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ (سورۂ قٓ آية ۳۹) (یعنی طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے اپنے ربّ کی تعریف کے ساتھ تسبیح پڑھا کیجیے ۔
فجر اور عصر کی نمازوں کی بڑی فضیلت ہے ۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :-
مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
(صحیح بخارى، كتاب الصلوٰة، باب فضل صلوٰة الفجر، جزء اول صفحه ۱۵۰، حديث : ۵۷۴، و صحيح مسلم، كتاب الصلوٰة، باب فضل صلوٰتی الصبح والعصر، جزء اول صفحه ۲۵۴، حديث : ۱۴۳۸ / int. : ۶۳۵)
جو شخص دو۲ ٹھنڈی نمازیں پڑھے وہ جنّت میں جائے گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :۔
يَتَعَاقَبُوْنَ فِيْكُمْ مَّلٰٓئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلٰٓئِكَةٌ بِالنَّهَارٍ، وَيَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَوٰةِ الْفَجْرِ وَصَلَوٰةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِيْنَ بَاتُوْا فِيْكُمْ فَيَسْاَلُهُمْ وَهُوَ اَعْلَمُ بِهِمْ ، كَيْفَ تَرَڪْتُمْ عِبَادِیْ ؟ فَيَقُوْلُوْنَ : تَرَكْنٰهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ ، وَاَتَيْنٰهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ
(صحیح بخارى، كتاب الصلوٰة، باب فضل الصلوٰة العصر، جزء اول صفحه ۱۴۵، حديث : ۵۵۵، و صحيح مسلم، كتاب الصلوٰة، باب فضل صلاتى الصبح والعصر، جزء ۱ صفحه ۲۵۳، حديث : ۱۴۳۲ / int. : ۶۳۲)
رات اور دن کے فرشتے تمھارے پاس یکے بعد دیگرے آتے جاتے رہتے ہں ۔ یہ فرشتے فجر اور عصر کی نماز میں اکٹّھے ہوتے ہںے ۔ جو فرشتے رات کو تم میں رہے تھے وہ (آسمان پر) چڑھ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالاں کہ وہ ان سے زیادہ واقف ہوتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا وہ کہتے ہیں ہم نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :۔
مَنْ صَلَّى الْعِشَآءَ فِیْ جَمَاعَةٍ فَكَاَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِیْ جَمَاعَةٍ فَكَاَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهٗ (صحیح مسلم، كتاب الصلوٰة، باب فضل صلوٰة العشاء والصبح فى جماعة، جزء اول صفحه ۲۶۳، حديث : ۱۴۹۱ / int. : ۶۵۶)
جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو گویا وہ آدھی رات تک نماز پڑھتا رہا اور جس نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی وہ گویا ساری رات نماز پڑھتا رہا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں:۔
مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِیْ ذِمَّةِ اللهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللهُ مِنْ ذِمَّتِهٖ بِشَیْءٍ فَيُدْرِكَهٗ فَيَكُبَّهٗ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ
(صحیح مسلم، كتاب الصلوٰة، باب فضل صلوة العشاء والصبح فى جماعة، جزء اول صفحه ۲۶۳، حديث : ۱۴۹۳ / int. : ۶۵۷)
جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے تو اللہ جس سے بھی اپنی پناہ کا حق طلب کرے گا اسے نہیں چھوڑے گا بلکہ اس کو جہنّم میں ڈال دے گا۔
عصر کی نماز بیچ والی نماز کہلاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی،وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ۝۲۳۸
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۳۸)
تمام نمازوں کی مستقل طور پر یکے بعد دیگرے حفاظت کرتے رہو ، خصوصًا بیچ والی نماز (یعنی نمازِ عصر) کی اور (نماز میں) اللہ کے سامنے ادب سے کھڑے رہا کرو۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں :-
اَنّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَبَسُوْنَا عَنْ صَلَوٰةِ الْوُسْطٰى حَتّٰى غَابَتِ الشَّمْسُ مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوْتَهُمْ اَوْ اَجْوَافَهُمْ نَارًا
(صحیح بخارى، كتاب التفسير، باب تفسير سورة بقرة، جزء ۶ صفحه ۳۷، حديث : ۴۵۳۳، و صحيح مسلم، كتاب الصلوٰة، باب الدليل لمن قال الصلاة الوسطى هي صلاة العصر، ۱ / ۲۵۲، حديث : ۱۴۲۲ / int. : ۶۲۷)
نبی صلّی اللہ علیہ و سلّم نے جنگِ خندق کے دن فرمایا ان کافروں نے ہم کو بیچ والی نماز نہ پڑھنے دی حتٰی کہ سورج ڈوب گا ۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں، گھروں یا ان کے پیٹوں کو انگاروں سے بھرے۔
(وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ) (اور رات کے وقت بھی کچھ دیر تسبیح پڑھا کیجیے) سے مراد مغرب اور عشا کی نمازیں ہیں۔
(وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ) اور نمازوں کے بعد بھی(تسبیح پڑھا کیجیے)۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہںِ :-
اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّى قَبْلَ الظُّهْرِ رَكَعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكَعَتَيْنِ فِیْ بَيْتِهٖ وَ بَعْدَ صَلوٰةِ الْعِشَاءِ رَكَعَتَيْنِ (ابوداؤد، كتاب الصلوٰة، باب تفريع أبواب التطوع وركعات السنة، جزء اول صفحه ۱۸۵، حديث : ۱۲۵۲، و سنده صحیح)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم ظہر سے پہلے دو۲ رکعتیں پڑھتے تھے اور ظہر کے بعد دو۲ رکعتیں اور مغرب کے بعد دو۲ رکعتیں اپنے گھر میں اور عشاء کے بعد دو۲ رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔
عمل
اے ایمان والو، کافروں کی باتوں پر صبر کام کیجیے ۔ نماز پابندی سے پڑھتے رہا کیجیے۔

<
وَ اسْتَمِـعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍ۝۴۱ یَوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ،ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ۝۴۲ اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُ۝۴۳ یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا،ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ۝۴۴ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ،فَذَڪِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۝۴۵
<

ترجمہ : اور (اے رسول) سنیے جس دن ایک پکارنے والا نزدیک کے مقام سے پکارے گا۝۴۱ جس دن لوگ حق کے ساتھ (اس کی) چیخ کو سن لیں گے، وہ ہی (مُردوں کے زمین سے) نکلنے کا دن ہو گا۝۴۲ (اے لوگو) ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف ہی (سب کو) لوٹ کر آنا ہے۝۴۳ جس دن زمین ان (کی لاشوں) پر سے پھٹ جائے گی (اور) وہ (قبروں سے نکل کر) تیزی کے ساتھ (میدانِ محشر میں جمع ہو جائیں گے) یہ جمع کر لینا ہمارے لیے آسان ہے۝۴۴ (اے رسول) ہمیں معلوم ہے جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں لیکن آپ ان پر جَبر کرنے والے تو (بناکر) نہیں (بھیجے گئے، آپ کی ذِمّہ داری) تو (بس اتنی ہے کہ) آپ اس شخص کو قرآن کے ذریعے نصیحت کرتے رہیے جو میری وعید سے ڈرتا ہے۝۴۵

<

معانی و مصادر :(یُنَادِیْ)، (مُنَادٍ) نَادٰى، يُنَادِیْ ، مُنَادَاةٌ و نِدَاءٌ (باب مفاعله) پکارنا (مُنَادٍ = پکارنے والا)
(صَيْحَةٌ ، صَاحَ، يَصِيْحُ ، صَیْحٌ و صَيْحَةٌ وصِيَاحُ وصَيْحَانٌ (ض) چیخنا (صَیْحَۃٌ = چیخ ،عذاب)
(تَشَقَّقَ) ، تَشَقَّقَ ، يَتَشَقَّقُ ، تَشَقَّقٌ (باب تفعل) پھٹ جانا ۔
(سِرَاعٌ) ، سَرُعَ ، يَسْرُ عُ، سُرْعَةٌ وسَرَعٌ وسِرَعٌ وسَرْعٌ و سِرْعٌ وسَرَعَةٌ (ك و س)جلدی کرنا (سِرَاعٌ = سَرِيْعَةٌ کی جمع ، جلدی کرنے والیاں)۔
(يَسِيْرٌ) يَسُرَ ، يَیْسُرُ ، يُسْرٌ(ك) آسان ہونا، کم کرنا ۔
يَسَرَ ، يَيْسِرُ، يَسَرٌ (ض) نرم ہونا ۔
(جَبَّارٌ) جَبَرَ، يَجْبُرُ، جَبُرٌو جُبُوْرٌ و جِبَارَۃٌ (ن) جبر کرنا ، غنی کرنا ، اصلاح کرنا۔

<

تفسیر:ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پھر قیامت کا ذِکر شروع کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍ) اور (اے رسول) سنیے (قیامت اس دن آئے گئی) جس دن ایک پکارنے والا (کسی) نزدیک کے مقام سے پکارے گا (یَوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ،ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ) جس دن لوگ حق کے ساتھ (اس کی) چیخ کو سنیں گے وہ ہی (مُردوں کے زمین سے) نکلنے کا دن ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰی فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ۝۶۸
(سُوْرَۃُ الزُّمَرِ : ۳۹، آیت : ۶۸)
پھر (جب) دوبارہ صُور پھونکا جائے گا تو سب ایک دم (قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے) اور حیران ہوکر ادھر ادھر دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْءٍ نُّكُرٍ۝۶
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ٦)
جس دن ایک پکارنے والا ان کو ایک ناگوار بات کی طرف بلائے گا۔
آگے فرمایا
(اِنَّا نَحْنُ نُحْىٖ وَنُمِيْتُ وَاِلَيْنَا الْمَصِيْرُ) ہم ہی زندہ کرتے ہیں ، ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری (ہی) طرف (سب کو) لوٹ کر آنا ہے ۔
اس آیت میں اشارہ ہے کہ جب ہم پہلی مرتبہ پیدا کر چکے ہیں تو دوسری مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لیے کیا مشکل ہے۔ ہم یقیناً دوبارہ پیدا کریں گے اور سب کو ہماری طرف حساب و کتاب کے لیے لوٹنا ہو گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:-
مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُڪُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰی۝۵۵
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۵۵)
(اے لوگو)ہم نے تم کو زمین ہی سے پیدا کیا ہے اور زمین ہی میں تم کو لوٹائیں گے اور پھر زمین ہی سے تم کو(زندہ کر کے) دوبارہ نکالیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
كَمَا بَدَ اْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيْدُہٗ،
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۱۰۴)
ہم نے جس طرح مخلوق کو پہلی بار پیدر کیا (اسی طرح) دوبارہ (بھی) پیدا کریں گے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ،
(سُوْرَۃ ُ الرُّوْمِ: ۳۰، آیت : ۲۷)
وہ ہی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہ ہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۝۱۱
(سُوْرَۃ ُ الرُّوْمِ: ۳۰، آیت : ۱۱)
اللہ ہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہ ہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
آگے فرمایا
(یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا،ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ)(اور ہماری طرف لوٹنا اس دن ہو گا جس دن زمین ان (کی لاشوں) پر سے پھٹ جائے گی (یعنی زمین پھٹ جائے گی اور یہ لوگ باہر نکل آئیں گے اور پھر) تیزی کے ساتھ (میدانِ محشر میں جمع ہو جائیں گے) یہ جمع کرنا ہمارے لیے آسان ہے (کچھ بھی مشکل نہیں)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ڪُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا۝۴۹ قُلْ ڪُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًا۝۵۰ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَڪْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ،فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا،قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ،فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی هُوَ،قُلْ عَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا۝۵۱ یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۝۵۲
(سُوْرَۃُ بنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۴۹ تا ۵۲)
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مَر کر) ہڈّیاں ہو جائیں گے اور پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم کو ازسرِنو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ تم پتّھر بن جاؤ یا لوہا ۔ یا وہ چیز بن جاؤ جو تمھارے خیال میں بڑی (ہی سخت) ہو (غرض یہ کہ تم کچھ بھی بن جاؤ، تم دوبارہ ضرور زندہ کیے جاؤ گے) تو یہ (فورًا) کہیں گے ہمیں دوبارہ کون زندہ کرے گا، (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ وہ (زندہ کرے گا) جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا تو (یہ جواب سن کر) یہ لوگ مذاقًا آپ کے سامنے سر مٹکائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہو گا آپ کہہ دیجیے کہ شاید (مستقبل) قریب ہی میں ہو جائے ۔ (یہ اس دن ہو گا) جس دن وہ تمھیں پکارے گا تو تم اُس کی حمد کرتے ہوئے (حکم کی) تعمیل کرو گے (اور سب قبروں سے باہر نکل آؤ گے، اس وقت) تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت ہی کم رہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۝۷ مُهْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ،یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۝۸
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ٧تا ٨)
(اس دن لوگوں کی) آنکھیں نیچی ہوں گی (وہ اپنی اپنی) قبروں سے اس طرح نکل پڑیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈّیاں ہیں۔ وہ (زندہ ہوکر) پکارنے والے کی طرف تیزی کے ساتھ بھاگ رہے ہوں گے اور کافر یہ کہتے جا رہے ہوں گے یہ دن (بڑا) سخت ہے۔
الغرض قیامت کے دن زمین پھٹ جائے گی۔ مُرد ے اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہو کہ باہر نکل آئیں گے اور ٹڈّیوں کی طرح پھیل جائیں گے اور ایک بلانے والے کی طرف جو (کسی) قریب کے مقام سے بُلا رہا ہوگا تیزی کے ساتھ چلے جائیں گے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :۔
اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ، وَاَوَّلُ مَنْ يُّنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَاَوَّلُ شَافِعٍ وَاَوَّلُ مُشَفَّعٍ
(صحیح مسلم، كتاب الفضائل، باب تفضيل نبينا صلى اللّٰه عليه وسلم على جميع الخلائق، جزء ۲ صفحه ۳۱۰، حديث : ۵۹۴۰ / int. : ۲۲۷۸)
میں قیامت کے دن آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے میرُی قبر پھٹے گی، سب سے پہلے میں۰ شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میرَی شفاعت قبول ہوگی ۔
آگے فرمایا
(نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْمْد بِجَبَّارٍ) (اے رسول)، ہمیں معلوم ہے جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں (ان کے ایمان نہ لانے سے آپ آزردہ نہ ہوں)آپ ان پر جبر کرنے والے (بنا کر) نہیں بھیجے گئے (کہ جبرًا آپ ان کو مسلؔم بنائیں، آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے) ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
فَذَكِّرْ،اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَڪِّرٌ۝۲۱ لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ۝۲۲
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ: ۸۸، آیت : ٢٢تا٢١)
(اے رسول) آپ نصیحت کرتے رہیے ۔ آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں ، ان پر داروغہ نہیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا،اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ،
(سُوْرَۃُ الشُّوْرٰی : ۴۲، آیت : ۴۸)
(اے رسول) اگر یہ رُوگردانی کریں تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا آپ کے ذمّے سوائے تبلیغ کے اور کچھ نہیں۔
آگے فرمایا
(فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِيْد) (آپ کا کام نصیحت کرنا ہے لہٰذا آپ اس (شخص) کو قرآن (مجید،) کے ذریعے نصیحت کرتے رہیے جو میرے (عذاب کی) وعید سے ڈرتا ہے (جو ڈرتا ہے وہ ایمان لے آئے گا ، جو نہیں ڈرتا وہ ایمان نہیں لائے گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
فَذَڪِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰی۝۹ سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰی۝۱۰
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ: ۸۸، آیت : ٩تا١٠)
تو (اے رسول) اگر نصیحت نفع دے تو نصیحت کرتے رہیے ۔ جو ڈرتا ہے وہ تو نصیحت مان لے گا۔
عمل
اے لوگو، قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لایے۔ اللہ تعالیٰ پہلی بار پیدا کر چکا ہے لہٰذاوہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے اور یہ اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔

<

سورۂ قٓ کے متعلّق مزید معلومات
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم ہر جمعہ کو خطبہ میں سورہ قٓ کی تلاوت فرماتے تھے ۔
عمرة بنتِ عبد الرحمٰن کی بہن کہتی ہیں:
اَخَذْتُ قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ مِنْ فِیْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَقْرَءُ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ فِیْ ڪُلِّ جُمُعَةٍ
(صحیح مسلم، كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلوٰة والخطبة، جزء اول صفحه ۳۴۵، حديث : ۲۰۱۲ / int. : ۸۷۲)
میں نے سورۂ قٓ والقرآن المجيد رسول الله صلّی اللہ علیہ و سلّم کی زبان مبارک سے سن کر یاد کی ہے۔ آپؐ ہر جمعہ کو خطبہ میں منبر پر اس سُورت کو پڑھا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم عید کی نماز میں سورۂ قٓ پڑھا کرتے تھے۔
عبد اللہ بِن عبد اللہ کہتے ہیں :
اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللهِ عَنْہُ سَاَلَ اَبَا وَاقِدِ اللَّيْثِیَّ رَضِیَ اللهِ عَنْہُ مَا كَانَ يَقْرَءُ بِهٖ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی الْاَضْحٰى وَالْفِطْرِ فَقَالَ كَانَ يَقْرَءُ فِيْهِمَا قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ
(صحیح مسلم، كتاب العيدين، باب ما يقرأ به في صلوٰة العيدين، جزء اول صفحه ۳۵۲، حديث : ۲۰۵۹ / int. : ۸۹۱)
حضرت عمر بِن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لینی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم عید الاضحٰی اور عید الفطر کی نماز میں کیا پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا کہ آپؐ ان میں قٓ والقرآن المجيد اور اقتربت الساعة وانشق القمر پڑھتے تھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فجر کی نماز میں سورۂ قٓ پڑھا کرتے تھے۔
حضرت جابر بِن سمرہ ؓ کہتے ہیں :۔
اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَاُ فِی الْفَجْرِ بِقٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيْدِ وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيْفًا (صحیح مسلم، كتاب الصلوٰة، باب القراءة فی الصبح، ۱۹۳/ ۱ ، حديث : ۱۰۲۷ / int. : ۴۵۸)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فجر کی نماز میں سورۂ قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ پڑھتے تھے اور باقی نمازیں ہلکی پڑھتے تھے ۔

<

Share This Surah, Choose Your Platform!