Surah Sabbihi isma rabbika al-aAAla



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۸۷ – سُوْرَۃُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّـكَ الْاَ عْلٰی –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰی۝۱ اَلَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی۝۲ وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰی۝۳ وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی۝۴ فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰی۝۵ سَنُقْرِئُڪَ فَلَا تَنْسٰۤی۝۶ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ،اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰی۝۷ وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰی۝۸ فَذَڪِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰی۝۹ سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰی۝۱۰ وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقٰی۝۱۱ اَلَّذِیْ یَصْلَی النَّارَ الْكُبْرٰی۝۱۲ ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰی۝۱۳

<

ترجمہ: (اے رسول) اپنے عالی شان ربّ کی تسبیح پڑھا کیجیے۝۱ جس نے (سب کو) پیدا کیا پھر (ان کی ساخت کو) ٹھیک کیا۝۲ جس نے اندازہ مقرّر کیا پھر رہنمائی کی۝۳ اور جس نے (زمین سے) چارہ نکالا۝۴ پھر اس کو سیاہ کوڑا بنا دیا۝۵ ہم آپ کو (قرآن) پڑھائیں گے پھر آپ ہرگز (کبھی) نہیں بھولیں گے۝۶ مگر جو اللہ (ہی بھلانا) چاہے، وہ ظاہر (بات) کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ (بات) کو بھی جانتا ہے۝۷ ہم آسانی تک پہنچنے کےلیے آپ کےلیے (راستہ) آسان کر دیں گے۝۸ (اے رسول) اگر نصیحت نفع دے تو نصیحت کرتے رہیے۝۹ جو ڈرتا ہے وہ تو نصیحت مان لے گا۝۱۰ اور (جو) بدبخت (ہے وہ) اس سے گریز کرے گا۝۱۱ اور (قیامت کے دن) بڑی (تیز) آگ میں داخل ہو گا۝۱۲ پھر وہ وہاں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۝۱۳

<

معانی و مصادر: (سَوّٰى) سَوّٰى، يُسَوِّى، تَسْوِيَةٌ (باب تفعیل) برابر کرنا۔
(مَرْعٰى) رَعٰى، يَرْعٰى، رَعْىٌ و رِعَايَةٌ و مَرْعًی (ف) چرنا، چرانا، رعایا کی نگرانی کرنا۔ (مَرْعٰى= گھاس)
(غُثَآءٌ) غَثٰى، يَغْثِیْ، غَثْىٌ (ض) غَثَا، يَغْثُوْ، غَثْوٌ و غُثُوٌّ (ن) جھاگ ہونا۔ (غُثَآءٌ =جھاگ)
(اَحْوٰى) حَوِىَ، يَحْوٰى، حَوًى (س) سبز سیاہی مائل یا لال سیاہی مائل ہونا۔
(اَحْوٰى= سبزی سیاہی مائل یا لال سیاہی مائل ہونا)۔
(نُيَسِّرُ) يَسَّرَ، يُیَسِّرُ، تَیْسِیْرٌ (باب تفعیل) آسان کرنا۔
(یُسْرٰ) يَسَرَ، یَيْسِرُ، یَسْرٌ ويَسَرٌ (ض) نرم ہونا، آسان ہونا۔ (یُسْر=آسانی، نرمی)
(يَخْفٰى) خَفِیَ، يَخْفٰی، خَفَاءٌ وَخُفْيَةٌ وخِفْيَةٌ (س) چھپنا۔
(يَتَجَنَّبُ) تَجَنَّبَ، يَتَجَنَّبُ، تَجَنُّبٌ (باب تفعل) دور ہونا ، دور رہنا۔
(اَشْقٰی) شَقِیَ، يَشْقٰى، شِقَاءٌ و شَقَاوَةٌ و شِقَاوَةٌ و شِقْوَةٌ (س) بد بخت ہونا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰی) (اے رسول) اپنے عالی شان ربّ کی تسبیح پڑھا کیجیے۔ رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم جب اس آیت کی تلاوت فرماتے(سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰى) پڑھا کرتے تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا قَرَاَ سَبْحِ اسْمَ رَبَّكَ الأعْلٰى قَالَ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰى
(ابوداؤد کتاب الصلوة باب الدعاء فی الصلوۃ جزء اوّل صفحہ ۱۳۵، حديث : ۸۸۳ سندہ صحیح مرعاۃ جلد ۲صفحہ ۴۱۲، حديث : ۸۶۶ ومستدرك حاكم حديث : ۹۷۰ / ۹۸۴، وسنن الكبرىٰ للبيهقى حديث : ۳۶۹۱)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰی پڑھتے تو فرماتے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰى۔
آگے فرمایا (اَلَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی) جس نے (سب کو) پیدا کیا پھر (ان کی ساخت کو) ٹھیک کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا:
یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِ۝۶ اَلَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ۝۷ فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَڪَّبَكَ۝۸
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۶ تا۸)
اے انسان، تجھے اپنے عزّت والے ربّ سے کس نے دھوکے میں رکھا۔ (اس ربّ سے) جس نے تجھ کو بنایا، پھر تجھ کو (یعنی تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا، پھر تجھ کو مناسب شکل دی۔ پھر جس صُورت میں چاہا تجھے ترتیب دے دیا۔
آگے فرمایا
(وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰی) جس نے اندازہ مقرّر کیا پھر رہنمائی کی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ۝۴۹
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۴۹)
ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرّرہ) اندازے کے مطابق پیدا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اندازہ مقرّر فرمایا۔ ہر چیز کی خصوصیات، رزق، عمر وغیرہ کے اندازے مقرّر کیے پھر ہر چیز کو اس کی فطرت کے مطابق کام کرنے اور کام چلانے کی ہدایت کی۔ ہر چیز خواہ ذی روح ہو یا غیر ذی روح اپنی فطرت اور خواص کے مطابق کام کرتی ہے۔ نظامِ عالَم پورا اسی طرح قائم ہے۔
آگے فرمایا
(وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی) جس نے (زمین سے) چارہ نکالا (فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰی) پھر اس کو سیاہ کوڑا بنا دیا۔
چارہ جب اگتا ہے تو سر سبز ہوتا ہے، پھر وہ سوکھ جاتا ہے اور پامال ہو کر ریزہ ریزہ اور سیاہ ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ اُس نے ہر چیز کے جو قواعد اور ضوابط بنادیے انھی قواعد وضوابط کی وہ چیز پابند ہے۔ گھاس جب اگتی ہے تو سبز ہوتی ہے، لہلہانے لگتی ہے پھر سوکھ جاتی ہے اور کوڑا بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ہی وہ مقرّرہ ضابطہ ہے جس کے مطابق گھاس کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں۔ گھاس کو اس طرح حالتیں بدلنے کی جو رہنمائی کی گئی ہے وہ اسی رہنمائی کے مطابق کام کرتی ہے۔ وہ اس مقرّرہ ضابطے سے انحراف نہیں کر سکتی۔
آگے فرمایا
(سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤی) (اے رسول) ہم آپ کو (قرآن مجید) پڑھائیں گے پھر آپ (کبھی) نہیں بھولیں گے (اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ) مگر جو اللہ ہی (بھلانا) چاہے (اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰی) (وہ ربّ جس کی تسبیح پڑھنے کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے) وہ ظاہر (بات) کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ بات کو بھی جانتا ہے (اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
سَوَآءٌ مِّنْڪُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ۝۱۰
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۱۰)
تم میں سے جو شخص چُھپا کر بات کرے یا بلند آواز سے بات کرے (اُس کےلیے دونوں) برابر ہیں (اسی طرح) جو رات کو چُھپ کر کہیں بیٹھ جائے یا دن کے وقت کہیں چلا جا رہا ہو (اُس کےلیے یہ بھی دونوں برابر ہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰی۝۷
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۷)
اور (اے رسول) اگر آپ (اللہ سے) پکار کر کوئی بات کہیں (تو اللہ کو آپ کے پکار کر کہنے کی کوئی ضرورت نہیں) اس لیے کہ وہ تو(دِلوں کے) بھید کو بھی جانتا ہے اور چُھپی باتوں کو بھی جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ، یَعْلَمُ سِرَّڪُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَڪْسِبُوْنَ۝۳
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۳)
آسمانوں میں اور زمین میں وہ ہی ایک اللہ ہے (جس کی ہر چیز پر بادشاہت ہے) وہ تمھاری پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے اور ظاہر باتوں کو بھی جانتا ہے اور جو عمل تم کر رہے ہو ان سے (بخوبی) واقف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ۝۱۱۰
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۱۱۰)
بےشک اللہ اس بات کو بھی جانتا ہے جو پکار کر کہی جائے اور اس بات کو بھی جانتا ہے جو تم چُھپاتے ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ،اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝۱۳
(سُوْرَۃُ الْمُلْـكِ: ۶۷، آیت : ۱۳)
اور (اے لوگو) تم چُھپا کر کوئی بات کہو یا علّانیہ کوئی بات کہو (اللہ کو ہر حال میں اس کا علم ہو جائے گا اور یہ ہی کیا) وہ تو دِل کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔
آگے فرمایا
(وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰی) (ہم آسانی تک پہنچنے کے) لیے آپ کے لیے (راستہ) آسان کردیں گے۔ ( تبلیغ جیسے مشکل کام کو آپ کے لیے آسان کردیں گے، تبلیغ کا بوجھ آپ کومحسوس نہیں ہوگا، تبلیغ کی منزلِ مقصود تک پہنچنا آپ کے لیے آسان کردیں گے)۔
اللہ تعالیٰ نے یہ واعدہ پورا کر دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۝۱ وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَڪَ۝۲ اَلَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ۝۳ وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَڪَ۝۴ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۝۵ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۝۶
(سُوْرَۃُ اَلَمْ نَشْرَحْ: ۹۴، آیت : ۱تا ۶)
(اے رسول) کیا ہم نے آپ کےلیے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا۔ اور ہم نے آپ پر سے آپ کا بوجھ اتار دیا۔ جس سے آپ کی کمر ٹُوٹی جا رہی تھی۔ اور ہم نے آپ کےلیے آپ کے ذِکر کو بلندی عطا فرمائی۔ بےشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔ یقینًا ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔
آگے فرمایا
(فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰی) (اے رسول، ہم نے تبلیغ جیسے مشکل کام کو آپ کے لیے آسان کردیا) تو اب اگر آپ کی نصیحت نفع دے تو نصیحت کرتے رہے (سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰی) جو (اللہ سے) ڈرتا ہے وہ تو نصیحت مان لے گا (وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقٰی) اور (جو) بدبخت ہے وہ اس سے گریز کرے گا (اَلَّذِیْ یَصْلَی النَّارَ الْكُبْرٰی) اور (قیامت کے دن) بڑی (تیز) آگ میں (یعنی دوزخ میں) داخل ہوگا (ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰی) پھر وہ اس میں نہ مَرے گا اور نہ زندہ رہے گا (زندگی موت سے بدتر ہوگی لیکن موت نہیں آئے گی)۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ یُسْقٰی مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍ۝۱۶ یَتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَڪَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ ڪُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ،وَ مِنْ وَّرَآىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ۝۱۷
(سُوْرَۃُ اِبْرَاھِیْمَ: ۱۴، آیت : ۱۶تا ۱۷)
دوزخی کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ وہ اسے گھونٹ گھونٹ کر کے پیے گا پھر بھی آسانی سے اُسے حلق کے نیچے نہ اتار سکے گا، ہر طرف سے موت آتی ہوئی دکھائی دے گی لیکن وہ مرے گا نہیں اور اس کے بعد اس کو (اور بھی) سخت عذاب دیا جائے گا۔
عمل
اے ایمان والو! جب یہ آیہ کریمہ “سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰی” پڑھا کریں تو
“سُبْحَانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ” پڑھا کریں۔
اے لوگو! ایمان لے آیے، اللہ سے ڈریئے، بدبخت نہ بنیے۔

<
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰی۝۱۴ وَ ذَڪَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰی۝۱۵ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا۝۱۶ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی۝۱۷ اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۝۱۸ صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰی۝۱۹
<

ترجمہ: وہ شخص یقینًا فلاح پائے گا جس نے (اپنے آپ کو روحانی امراض سے) پاک کرلیا۝۱۴ اور اپنے ربّ کے نام کا ذِکر کرتا رہا پھر نماز بھی پڑھتا رہا۝۱۵ (اے لوگو، تم آخرت کی زندگی کو ترجیح نہیں دیتے) بلکہ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۝۱۶ حالاں کہ آخرت بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۝۱۷ یہ بات (کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ بات تو) پہلےصحیفوں میں بھی (لکھی ہوئی) تھی۝۱۸ یعنی ابراہیم اور موسیٰ کےصحیفوں میں۝۱۹

<

معانی و مصادر: (تُؤْثِرُوْنَ) اٰثَرَ، يُؤْثُرُ، اِیْثَارٌ (باب افعال) پسند کرنا، ترجیح دینا۔
(اَبْقٰى) بَقِىَ، يَبْقٰى، بَقَاءٌ (س) بَقٰی، يَبْقِىْ، بَقْىٌ (ض) باقی رہنا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰی) وہ شخص یقیناً فلاح پائے گا جس نے (اپنے آپ کو روحانی امراض سے ) پاک کر لیا (وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰی) اور اپنے ربّ کے نام کا ذِکر کرتا رہا (اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہا) پھر (صرف ذِکر ہی نہیں کرتا رہا بلکہ) نماز بھی پڑھتا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۝۷ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۝۸ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۝۹ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا۝۱۰
(سُوْرَۃُ وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا: ۹۱، آیت : ۷تا۱۰)
نفس کی قسم اور (اُس ذات کی قسم) جس نے اسے ٹھیک بنایا۔ پھر اسے بدعملی اور پرہیز گاری دونوں چیزیں سمجھا دیں۔ وہ شخص یقینًا کامیاب ہو گا جس نے نفس کو پاک کیا۔ اور وہ شخص یقینًا نامراد ہو گا جس نے اسے خاک میں ملا دیا۔
آگے فرمایا
(بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا) (اے لوگو! تم آخرت کی زندگی کو ترجیح نہیں دیتے) بلکہ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو (یہ ہی ساری خرابی کی جڑ ہے) (وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی) حالاں کہ آخرت بہتر بھی ہے اور زیادہ باقی رہنے والی بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ڪَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ۝۲۰ وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ۝۲۱
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۲۰تا۲۱) (اے لوگو، آخرت میں تمھاری خواہش کے مطابق) ہرگز نہیں (ہو گا) بلکہ (اس لیے کہ) تم دنیا سے محبّت کرتے ہو۔ اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا،اُولٰٓىِٕڪَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ۝۳
(سُوْرَۃُ اِبْرَاھِیْمَ: ۱۴، آیت : ۳)
(یعنی ان لوگوں کےلیے بڑی خرابی ہے) جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی سے محبّت کرتے ہیں، (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی نکالنے کی فکر میں رہتے ہیں،یہ لوگ گمراہی میں بہت دور جا پڑے ہیں ۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
وَاللهِ مَا الدُّنْيَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ هَذِهٖ وَ اَشَارَ يَحْیٰی بَالسَّبَّابَةِ فِی الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْبِمَ تَرْجِعُ
(صحیح مسلم كتاب الجنة باب فناء الدنيا جزء ۲ صفحہ ۵۴۰، حديث : ۷۱۹۷ / ۲۸۵۸)
اللہ کی قسم آخرت (کے مقابلے) میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اس انگلی (یعنی شہادت کی انگلی) کو سمندر میں ڈبوئے پھر دیکھے کہ وہ کس چیز کے ساتھ لوٹتی ہے (یعنی دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے انگلی کی تری سمندرکے پانی کے مقابلے میں)۔
سمندر کے پانی کے سامنے جس طرح انگلی کی تری کی کوئی حقیقت نہیں اسی طرح آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔
آگے فرمایا
(اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی) یہ بات پہلے صحیفوں میں بھی (لکھی ہوئی) تھی (صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰی) یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پہلے بھی انسانوں کو بتایا گیا ہے کہ آخرت دنیا سے بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی ہے لہٰذا انسانوں کو چاہیے کہ آخرت کو حاصل کرنے کے ذرائع اختیار کریں۔
عمل
اے لوگو! ایمان لایے۔ کفر و شرک اور تمام گناہوں کی ناپاکی سے اپنے کو پاک کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہیے اور نماز پڑھتے رہیے، آخرت کی زندگی کو دنیا کی زندگی پر ترجیح دیجیے۔ فلاح و بہبود حاصل کرنے کی یہ ہی صُورت ہے۔
سورۂ سَبِّحِ اسْمِ رَبِکَ الْاَعْلیٰ کی فضیلت
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اس سورت کو عید کی نماز میں اور جمعہ کی نماز میں پڑھا کرتے تھے اور اگر عید جمعہ کے دن واقع ہوتی تو اس سورت کو عید کی نماز میں بھی پڑھتے اور جمعہ کی نماز میں پڑھتے۔
حضرت نعمانؓ بن بشیر فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَءُ فِی الْعِيْدِيْنِ وَفِی الْجُمُعَةِ بِسَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الاَعْلٰى وَ هَلْ اَتَاكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ قَالَ وَاِذَا اجْتَمَعَ الْعِيْدُ وَ الْجُمُعَةُ فِیْ يَوْمٍ وَّاحِدٍ يَّقْرَءُ بِهِمَا اَيْضًا فِی الصَّلوٰتَيْنِ
(صحیح مسلم كتاب الجمعةباب ما يقرء فِی صلوة الجمعة جزء اوّل صفحہ ۳۴۷، حديث : ۲۰۲۸ / ۸۷۸)
رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم عیدین (کی نماز) اور جمعہ کی نماز میں سَبِحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى اور هَلْ اَتَاكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ پڑھا کرتے تھے اور جب عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن واقع ہوتے تب بھی دونوں نمازوں میں انھی دونوں سوتوں کو پڑھتے تھے۔



<

Share This Surah, Choose Your Platform!