Surah wa-Teen wa-Zay-toon
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۹۵ – سُوْرَةُ وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِ –
فہرستِ مضامین
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِ۱ وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَ۲ وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ۳ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۴ ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ۵ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۶ فَمَا یُكَذِّبُڪَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ۷ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۸
ترجمہ: انجیر کی قسم اور زیتون کی قسم۱ (اور) سینین پہاڑ کی قسم۲ (اور) اس امن والے شہر کی قسم۳ بےشک ہم نے انسان کو (رفعت بخشی کہ اس کو) اچّھی صُورت میں پیدا کیا۴ پھر ہم ہی نے اس کو پست ترین (مخلوقات کے درجے) میں پھیر دیا۵ مگر (ان لوگوں کو نہیں) جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کےلیے تو غیر منقطع اجر (و ثواب) ہے۶ (اے رسول) ان (تمام باتوں کو سن لینے) کے بعد (آخر) کیا بات ہے کہ انسان (روزِ) جزا کے سلسلے میں آپ کو جھٹلاتا ہے۷ کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے۸
معانی و مصادر: (تِيْنٌ) تِيْنٌ=انجیر
(زَيْتُوْنٌ) زَيْتُوْنٌ=ایک درخت کا نام ہے۔
(طُوْرٌ) طُوْرٌ = پہاڑ۔
(سِيْنِيْنَ) سِيْنِيْنَ= ایک پہاڑ کا نام ہے اسے سِیْنَآ بھی کہتے ہیں۔
(اَمِيْنٌ) اَمِنَ ، يَاْمَنُ ، اَمَنٌ وَ اَمَنٌ و اَمَانٌ و اَمَنَةٌ (س) مطمئن ہونا۔ (اَمِيْنٌ= مطمئن،امن والا)
(بَلَدٌ) بَلَدَ، يَبْلُدُ، يُلُوْدٌ (ن) مقیم ہونا۔ (بَلَدٌ= شهر)
(تَقْوِيْمٌ) قَوَّمَ، يُقَوِّمُ، تَقْوِیْمٌ (باب تفعیل) سیدھا کرنا۔ (تَقْوِیْمٌ= صُورت، شہر کے طول اور عرض وغیرہ کا بیان)
(اَسْفَلَ) سَفَلَ، يَسْفُلُ، سُفُوْلٌ و سَفَالٌ (ن) نیچے ہونا۔
(مَمْنُوْنٌ) مَنَّ، يَمُنُّ، مَنٌّ (ن) کاٹنا منقطع کرنا۔
(اَحْكَمُ) (حَاكِمِيْنَ) حَكَمَ ، يَحْكُمُ، حُكْمٌ وحُكُوْمَةٌ (ن) حکم دینا، فیصلہ کرنا۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِ) انجیر کی قسم اور زیتون کی قسم (وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَ) (اور) سینین پہاڑ کی قسم (یعنی کوہِ طور کی قسم) (وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ) (اور) اس امن والے شہر کی قسم (یعنی شہرِ مکّہ کی قسم)۔
اللہ تعالیٰ نے انجیر کی قسم کھائی انجیر طبی لحاظ سے ایک مفید دوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زیتون کی قسم کھائی۔ زیتون ایک درخت ہے جس سے تیل نکلتا ہے جو سالن وغیرہ کے کام آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰڪِلِیْنَ۲۰
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۲۰)
اور (وہ) درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو کوہِ سینا میں ہوتا ہے (اور جو) کھانے والوں کےلیے روغن اور سالن لیے ہوئے اگتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کی قسم کھائی۔ اللہ تعالیٰ نے کوہِ طور کی قسم ایک اور مقام پر بھی کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الطُّوْرِ۱
(سُوْرَۃُ الطُّوْرِ: ۵۲، آیت : ۱)
(اے رسول) طور کی قسم۔
طور پہاڑ ہی وہ مقدّس مقام ہے جہاں موسیٰ علیہ الصّلوۃ والسّلام کو اللہ تعالیٰ کی تجلّی نظر آئی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا،قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ۲۹ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤی اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۳۰
(سُوْرَۃُ الْقَصَصِ : ۲۸، آیت : ۲۹ تا ۳۰)
پھر جب موسیٰ (علیہ الصّلوٰۃ والسّلام) نے مقرّرہ مدّت پوری کی اور اپنے اہل (و عیال) کو لے کر (وہاں سے) چلے تو (اثنائے راہ میں) انھوں نے (کوہِ) طور کی طرف ایک آگ دیکھی، انھوں نے اپنے اہل (وعیال) سے کہا تم یہاں ٹھہرو (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں وہاں سے تمھارے پاس (راستے کی) کوئی خبر لاؤں یا آگ کا کوئی انگارہ لے آؤں تاکہ تم (آگ جلا کر) اس سے تاپو۔ پھر جب موسیٰ (علیہ الصّلوٰۃ والسّلام) اس (آگ) کے پاس پہنچے تو انھیں ایک مبارک مقام میں وادی کی داہنی جانب سے ایک درخت سے آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں اللہ، ربُّ العالمین ہوں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْڪُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ هُدًی۱۰ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰی۱۱ اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ، اِنَّڪَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی۱۲
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰تا۱۲)
جب انھوں نے (دوران سفر ایک جگہ) آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا تم (یہاں) ٹھہرو میں نے (ایک جگہ) آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں اس میں سے تمھارے لیے کوئی انگارا لے آؤں یا (وہاں) آگ کے مقام پر (پہنچ کر کسی سے) راستہ معلوم کرلوں۔ پھر جب وہ آگ کے مقام پر پہنچے تو انھیں آواز آئی اے موسیٰ۔ میں تمھارا ربّ ہوں، تم اپنی جوتیاں اتار دو (اس لیے کہ اس وقت) تم طویٰ نامی ایک مقدّس وادی میں ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے بلدِ امین یعنی شہرِ مکّہ کی قسم کھائی۔ شہرِ مکّہ ہمیشہ سے پر امن مقام چلا آرہا ہے۔ یہاں خونریزی وغیرہ کرنا قطعاً حرام ہے (تفصیل کے لے سورۃ البلد کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں)۔ انجیر، زیتون، کوہِ طور اور شہرِ مکّہ کی قسم کھانے کے بعد فرمایا (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ) ہم نے انسان کو (رفعت بخشی کہ اس کو) بہت اچّھی صُورت میں پیدا کیا (گویا تمام مخلوقات میں اس کو بلند مرتبہ عطا کیا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ ڪَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰی ڪَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۷۰
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۷۰)
اور (اے لوگو، ہمارا کتنا بڑا احسان ہے کہ) ہم نے بنی آدم کو عزّت دی، خشکی اور تری میں ان کو سواریاں بخشیں، (کھانے کےلیے) پاکیزہ چیزیں انھیں عطا کیں اور جتنی چیزیں ہم نے پیدا کی ہیں ان میں سے بہت سی چیزوں پر ہم نے ان کو فضیلت دی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ) پھر ہم نے انسان کو پست ترین (مخلوقات کے درجہ) میں لوٹا دیا (یعنی جن لوگوں نے کفر کیا ان کو ذلیل ترین مخلوق کے درجہ میں پہنچا دیا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ ڪَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِڪِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا،اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِ۶
(سُوْرَۃُ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا: ۹۸، آیت : ۶)
بےشک اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے جنھوں نے کفر کیا وہ دوزخ کی آگ میں (ڈالے جائیں گے اور اس میں) ہمیشہ رہیں گے، یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا،ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ۶۳
(سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ : ۹، آیت : ۶۳)
کیا انھیں نہیں معلوم کہ جو شخص اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو اس کےلیے جہنّم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا (اور) یہ (بہت) بڑی ذِلّت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ،قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ۲۷
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۲۷)
مزید برآں قیامت کے دن اللہ انھیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان سے پوچھے گا بتاؤ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے معاملے میں تم (مومنین کی) مخالفت کیا کرتے تھے (وہ کچھ جواب نہ دے سکیں گے البتّہ) وہ لوگ جن کو علم دیا گیا تھا کہیں گے آج کے دن کی ذِلّت اور تباہی (سب) کافروں کےلیے ہے۔
آگے فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ) مگر (ان لوگوں کو پست ترین مخلوق کے درجہ میں نہیں لوٹایا) جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ان کے لیے تو غیر منقطع اجر (وثواب) ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ، نُوْرُهُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا،اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۸
(سُوْرَۃُ التَّحْرِیْمِ: ۶۶، آیت : ۸)
اس دن اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے کبھی رُسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے داہنی طرف (ان کے ساتھ ساتھ) چل رہا ہو گا (اور) وہ (اس طرح) دعا کر رہے ہوں گے اے ہمارے ربّ ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کر دے اور ہماری مغفرت فرما، بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہیں وہ بدستور اعلیٰ ترین مخلوق میں شامل رہے۔ ان کو ذلیل نہیں کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ، اُولٰٓىِٕڪَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ۷ جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا، رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ، ذٰلِڪَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۸
(سُوْرَۃُ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا: ۹۸، آیت : ۷تا۸)
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے یہ لوگ بہترین مخلوق ہیں۔ ان کا بدلہ ان کے ربّ کے پاس ہمیشہ (قائم) رہنے والی جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہو گا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے، یہ (بدلہ) اس کےلیے ہے جو اپنے ربّ سے ڈرتا ہے۔
آگے فرمایا (فَمَا یُكَذِّبُڪَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ) تو (اے رسول) ان تمام باتوں کو سن لینے کے بعد (آخر) کیا بات ہے کہ انسان (روزِ) جزا کے سلسلے میں آپ کو جھٹلاتا ہے (کیا جس اللہ نے انسان کو پہلی بار خوب صُورت شکل میں پیدا کیا وہ انسان کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا۔ وہ یقیناً پیدا کر سکتا ہے اور پیدا کرے گا پھر انسانوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا)(اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ) کیا اللہ سب سے بڑا حاکم اور فیصلہ کرنے والا نہیں ہے (وہ فیصلہ فرمائے گا اور بہت خوب فیصلہ فرمائے گا)۔
عمل
اے لوگو! اللہ پر اور قیامت پر ایمان لایے اور نیک عمل کیجیے تا کہ قیامت کے روز آپ ذلیل وخوار نہ ہوں۔