Surah Wad-du-haa
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۹۳ – سُوْرَۃُ وَالضُّحٰی –
فہرستِ مضامین
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَ الضُّحٰی۱ وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی۲ مَا وَدَّعَكَ رَبُّڪَ وَ مَا قَلٰی۳ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰی۴ وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰی۵ اَلَمْ یَجِدْڪَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۶ وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰی۷ وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰی۸ فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْ۹ وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ۱۰ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۱۱
ترجمہ: (اے رسول) چاشت کے وقت کی قسم۱ اور رات کی قسم جب پُرسکون ہو جائے۲ آپ کے ربّ نے نہ آپ کو چھوڑا، نہ آپ سے ناراض ہوا۳ اور (اے رسول) آخرت آپ کےلیے دنیا سے بہتر ہے۴ عنقریب آپ کا ربّ آپ کو (اتنا) دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۵ کیا اُس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر (آپ کو) جگہ دی۶ اور (اے رسول، یہ ہی نہیں بلکہ) اُس نے آپ کو راہِ حق کی تلاش میں سرگرداں پایا پھر آپ کو ہدایت دی۷ آپ کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا۸ تو (اے رسول) آپ یتیم پرسختی نہ کیا کریں۹ سائل کو جِھڑکی نہ دیا کریں۱۰ اور اپنے ربّ کی نعمتوں کا ذِکر کرتے رہا کریں۱۱
معانی و مصادر: (سَجٰى) سَجَا، يَسْجُوْ، سَجْوٌ و سُجُوٌّ (ن) پرسکون ہونا۔
(وَدَّعَ) وَدَّعَ، يُوَدِّعُ، تَوْدِیْعٌ (باب تفعیل) چھوڑنا، گلے میں کوڑی ڈالنا۔
(قَلٰى) قَلٰى، يَقْلِیْ، قَلْیٌ (ض) ناراض ہونا ، بغض رکھنا۔
(اُوْلٰى) اُوْلٰی= اوّل کی مونث
(عَائِلٌ) عَالَ، يَعُوْلُ، عَوْلٌ و عِيَالَةٌ (ن) عیال کا زیادہ ہونا، فقیر ہونا۔
(تَقْهَرُ) قَهَرَ، يَقْهَرُ، قَهْرٌ (ف) ذلیل کرنا ، غلبہ پا کر ذلیل کرنا۔
(تَنْهَرُ) نَهَرَ، يَنْهَرُ، نَهْرٌ (ف) قوّت سے بہنا، جھڑ کنا، جاری کرنا۔
شان نزول: حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اِشْتَکٰى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ اَوْ ثَلَاثًا فَجَآءَتِ امْرَاَةٌ فَقَالَتَ يَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ لَاَ رْجُوْ اَنْ یَّكُوْنَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ لَمْ اَرَہٗ قَرِبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ اَوْ ثَلَاثًا فَاَنْزَلَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰی مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى
(صحیح بخاری کتاب تفسیر باب تفسیر سورہ والضحی جزء ۶ صفحہ۳ ۲۱، حديث : ۴۹۵۰ / ۴۶۶۷ و صحیح مسلم كتاب الجهاد باب ما لقى النبي صلى الله عليه وسلم من اذى المشركين جزء۲ صفحه ۱۰۵، حديث : ۴۶۵۷ / ۱۷۹۷)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا مزاج ناساز ہوا تو آپؐ دو۲ تین۳ رات (تہجد کے لیے) نہیں اٹھے۔ ایک عورت آئی کہنے لگی: محمّد میں سمجھتی ہوں تمھارے شیطان نے تم کو چھوڑ دیا۔ دو۲ تین۳ رات سے میں نے اسے تمھارے پاس نہیں آتے نہیں دیکھا اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتاریں: وَ الضُّحٰی وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی مَا وَدَّعَكَ رَبُّڪَ وَ مَا قَلٰی
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ الضُّحٰی) (اے رسول) چاشت کے وقت کی قسم (وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی) اور رات کی قسم جب پر سکون ہو جاۓ (مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰی) آپ کے ربّ نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ آپ سے ناراض ہوا (وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰی) اور (اے رسول) آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے (وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰی) عنقریب آپ کو آپ کا ربّ (اتنا) دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے (اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی) اور (دنیا میں بھی ہم نے کیا کچھ کم احسانات کیے ہیں) کیا اللہ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر (آپ کو) جگہ دی (وَ وَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰی) اور (اے رسول یہ ہی نہیں بلکہ) اُس نے آپ کو حق کی تلاش میں سرگرداں پایا پھر آپ کو ہدایت دی (وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰی) اور اللہ نے آپ کو تنگ دست پا یا تو غنی کر دیا۔
ان آیات میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ابتدائی حالت کا مختصر بیان ہے۔ بچپن میں آپؐ یتیم ہو گئے، کوئی سہارا نہیں رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سہارا عطا فرمایا، آپؐ تنگ دست تھے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مال دار کر دیا، آپؐ کو صراطِ مستقیم کی تلاش تھی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائی۔
حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہّرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهٖ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِی النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرٰى رُؤْيَا اِلَّا جَآءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ اِلَيْهِ الْخَلَاءُ وَكَانَ يَخُلُوا بِغَارِ حِرَآءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيْهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِیْ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ اَنْ يَّنْزِعَ اِلٰى اَهْلِهٖ وَيَتَزَوَّدُ لِذٰلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ اِلٰى خَدِيْجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتّٰى جَآءَهُ الْحَقُّ۔
(صحیح بخاری کتاب الوحی جزء۱ صفحہ ۳، حديث : ۳، وصحيح مسلم حديث : ۴۰۳ / ۱۶۰)
سب سے پہلے جو وحی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر شروع ہوئی تو وہ اچّھا خواب تھا۔ سوتے میں جو خوب آپؐ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح نمودار ہوتا۔ پھر آپؐ کو تنہائی اچّھی لگنے لگی آپؐ غارِحرا میں اکیلے رہتے اور وہاں قبل اس کے کہ آپؐ اپنی بیوی کے پاس آئیں اور اس کام کے لیے مزید توشہ لے جائیں کئی کئی رات عبادت کرتے اور (جب توشہ ختم ہو جاتا تو) پھر آپؐ خدیجہؓ کے پاس لوٹ کر آتے اور اتنا ہی توشہ پھر ساتھ لے جاتے (آپؐ اس طرح کرتے رہے) یہاں تک کہ آپؐ کے پاس حق آ گیا۔
آگے فرمایا (فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْ) تو (اے رسول) آپ یتیم پر سختی نہ کیا کریں۔
نوٹ: یتیم کے حقوق کے مسائل سورۂ النسآء کی آیات ۳۶ اور ۴۳ کی تفاسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
(وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ) اور (اے رسول) سائل کو جھڑکی نہ دیا کریں۔ سائل کے متعلّق ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۱۹
(سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰتِ : ۵۱، آیت : ۱۹)
(متّقی لوگ اس لیے جنّت میں داخل کیے گئے کہ دنیاوی زندگی میں) ان کے مالوں میں سائل اور اس کا بھی حصّہ تھا جو (مانگتا نہیں اور) کما بھی نہیں سکتا۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۲۴ لِلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۲۵
(سُوْرَۃُ سَاَلَ سَآئِلٌ : ۷۰، آیت : ۲۴تا۲۵)
(نمازی بے صبرے نہیں ہوتے یعنی وہ نمازی بے صبرے نہیں ہوتے) جن کے مالوں میں (ایک) حصّہ مقرّر ہے۔ مانگنے والے کےلیے اور اس کےلیے جو (مانگتا نہیں اور) کما بھی نہیں سکتا۔
سائل کے متعلّق جملہ احکام
۱ سائل کو جھڑ کی نہ دے (یہ حکم او پر گزر چکا ہے)۔
۲ اپنے مال میں سائل کے لیے کچھ رقم مختص کر دے (یہ حکم اوپر گزر چکا ہے)۔
۳ [سائل کو چمٹ کر سوال نہیں کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ، یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ، تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ، لَا یَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا،
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۷۳)
(تمھارے صدقات خاص طور پر ان) فقرا کےلیے ہونے چاہئیں جو اللہ کے راستے میں روک لیے جاتے ہیں، (روزی کمانے کےلیے) وہ ملک میں کہیں آ جا نہیں سکتے (وہ کسی سے سوال بھی نہیں کرتے اور) سوال نہ کرنے کی وجہ سے جاہل یہ سمجھتا ہے کہ وہ مال دار ہیں (حالاں کہ وہ مال دار نہیں ہوتے) وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال بھی نہیں کرتے (کہ ان کے اس فعل سے ہی ان کو پہچان لیا جائے البتّہ، اے رسول) آپ ان کو ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہیں ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُّرِدِ اللهُ بِهٖ خَيْرً یُّفَقِّهْهُ فِی الدِّيْنِ وَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ اِنَّمَا اَنَا خَازِنٌ فَمَنْ اَعْطَيْتُهٗ عَنْ طِيْبِ نَفْسٍ فَيُبَارَكُ لَهٗ فِيْهِ وَمَنْ اَعْطَيْتُهٗ عَنْ مَّسْئَلَةٍ وَشَرَہٍ كَانَ كَالَّذِیْ يَاْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ۔
(صحيح مسلم كتاب الزكوة باب النهي عن المسئلة جزء۱ صفحہ ۴۱۴، حديث : ۲۳۸۹ / ۱۰۳۷)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ دیتا ہے میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں تو فقط خزانچی ہوں پھر جس کو میں دِل کی خوشی سے دوں تو اس میں اس کو برکت ہوتی ہے اور جس کو میں مانگنے سے اور اس کے ستانے سے دوں اس کا حال ایسا ہے کہ وہ کھاتا ہے اور پیٹ نہیں بھرتا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَا تُلْحِفُوْا فِی الْمَسْئَلَةِ فَوَ اللهِ لَا يَسْاَلُنِىْ اَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخَرِجَ لَهٗ مَسْئَلَتُهٗ مِنِّیْ شَيْئًا وَّاَنَا لَهٗ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهٗ فِيْمَاۤ اَعْطَيْتُهٗ ۔
(صحيح مسلم كتاب الزڪوٰة باب النهی عن مسئلة جزء اوّل صفحہ ۴۱۴، حديث : ۲۳۹۰ / ۱۰۳۸)
تم چمٹ کر سوال نہ کیا کرو اس لیے کہ اللہ کی قسم مجھ سے جوشخص کوئی چیز مانگتا ہے اور اس کے سوال کے سبب سے میرے پاس سے وہ چیز خرچ ہوتی ہے اور میں اس کو بُرا جانتا ہوں تو اس میں برکت کیوں کر ہوگی۔
۴ جہاں تک ہو سکے سوال سے بچے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَاَنْ يَّاْخُذَ اَحَدُكُمْ حَبْلَهٗ ثُمَّ يَعْدُوَ اَحْسِبُهٗ قَالَ اِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبَ فَيَبِیْعَ فَيَاْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ خَيْرُ لَهٗ مِنْ اَنْ يَّسْاَلَ النَّاسَ
(صحیح بخاری کتاب الزكوة باب قول الله تعالی: لا يسئلون الناس الحافا جزء ۲ صفحہ ۱۵۴عن ابی ہریرہ حديث : ۱۴۸۰ / ۱۴۱۰، وصحيح مسلم حديث : ۲۴۰۰ / ۱۰۴۲)
اگر تم میں سے کوئی اپنی رسی لے کر پہاڑ پر جائے ، وہاں لکڑیاں چنے اور اس کو بیچ کر آپ کھائے اور خیرات بھی کرے تو یہ کام لوگوں سے سوال کرنے سے (بدرجہا) بہتر ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
لَاَنْ يَاْخُذَ اَحَدُكُمْ حَبْلَهٗ فَيَاْتِیَ بِحُزْمَةِ الْحَطَبِ عَلٰى ظَهْرِهٖ فَيَبِيْعَهَا فَيَكُفَّ اللهُ بِهَا وَجْهَهٗ خَيْرٌ لَّهٗ مِنْ اَنْ يَّسْئَالَ النَّاسَ اَعْطُوْهُ اَوْ مَنَعُوْهُ۔
(صحیح بخاری کتاب الزكوة باب الاستعفاف عن المسئلة جزء ۲ صفحہ ۱۵۲ عن الزبير حديث : ۱۴۷۱ / ۱۴۰۲، وصحيح مسلم حديث : ۲۴۰۲ / ۱۰۴۲)
اگر تم میں سے کوئی رسی لے پھر لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لائے پھر اس کو بیچے اور (اس طرح) اللہ اس کی عزّت و آبرو کو بچائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کریں وہ دیں یا نہ دیں۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ اُنَا سًا مِّنَ الْاَ نْصَارِ سَاَلُوْا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَاَلُوْهُ فَاَعْطَا هُمْ حَتّٰى نَفِدَ مَا عِنْدَهٗ فَقَالَ مَا يَكُوْنُ عِنْدِىْ مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ اَدَّخِرَهٗ عَنْكُمْ وَمَنْ يَّسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ وَمَنْ يَّسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ وَمَنْ يَّتَصَبَّرْ يُصَبَّرْهُ اللهُ وَمَا اُعْطِیَ اَحَدٌ عَطَآءً خَيْرٌ اوَّ اَوْ سَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔
(صحیح بخارى كتاب الزكوة باب الاستعفاف عن المسئلة جزء۲ صفحه ۱۵۱، حديث : ۱۴۶۹ / ۱۴۰۰، وصحیح مسلم کتاب الزكٰوة باب فضل التعفف و الصبر جزء ۲ صفحہ ۴۲۰، حديث : ۲۴۲۴ / ۱۰۵۳)
انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے سوال کیا۔ آپؐ نے ان کو دیا۔ انھوں نے پھر سوال کیا، آپؐ نے پھر ان کو دیا یہاں تک کہ آپؐ کے پاس جو مال تھا وہ ختم ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا میرے پاس جو مال و دولت ہے وہ میں تم سے اٹھا نہیں رکھوں گا (تم کو دیتا رہوں گا) جو کوئی سوال سے بچے تو اللہ بھی اس کو بچائے گا اور جو کوئی بے پرواہی کرے گا اللہ اس کو بے پرواہ کرے گا اور جو شخص صبر کرے اللہ اس کو صبر دے گا اور صبر سے بہتر اور کشادہ تر کسی کو کوئی نعمت نہیں دی گئی۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَ جَلَسْنَا حَوْلَهٗ فَقَالَ اِنَّ مِمَّا اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِىْ مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِّنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِيْنَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَوْ يَاْتِی الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيْلَ لَهٗ مَا شَاْنُكَ تُكَلِّمُ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلَّمُكَ فَرَ اَيْنَاۤ اَنَّهٗ يُنْزَلُ عَلَيْهِ قَالَ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَآ وَقَالَ اَيْنَ السَّائِلُ وَكَاَنَّهٗ حَمِدَهُ فَقَالَ اِنَّهٗ لَا يَاْتِ الْخَيْرُ بِالشَّرِّ وَاِنْ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيْعُ يَقْتُلُ اَوْ يُلِمُّ اِلَّا اٰكِلَةَ الْخَضْرَآءِ اَكَلَتْ حَتّٰى اِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتُ وَبَالَتْ وَرَتَعَتْ وَاِنَّ هٰذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا اَعْطٰى مِنْهُ الْمِسْلِمِيْنَ وَالْيَتِيْمَ وَابْنَ السَّبِيْلِ اَوْ كَمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاِنَّهٗ مَنْ يَّاْخُذُهٗ بِغَيْرِ حَقِهٖ كَالَّذِیْ يَاْڪُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَيَكُوْنُ شَهِيْدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
(صحیح بخارى كتاب الزكٰوة باب الصدقة على اليتمی جزء۲ صفحہ ۱۵۰، حديث : ۱۴۶۵ / ۱۳۹۶ وصحیح مسلم کتاب الزکٰوۃ باب تخوف ما يخرج من زهرة الدنيا جزء ۲ صفحہ ۴۱۹، حديث : ۲۴۲۳ / ۱۰۵۲)
ایک دن نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم منبر پر بیٹھے۔ ہم بھی آپؐ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے اپنے بعد جس چیز کا تم پر ڈر ہے وہ دنیا کی زیب و زینت ہے جو تم پر کھول دی جائے گی۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اچّھی چیز سے بھی بُرائی پیدا ہوتی ہے؟ یہ سن کر آپؐ خاموش ہو گئے۔ لوگوں نے اس سے کہا تجھے کیا ہو گیا تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے بات کرتا ہے اور نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم تم سے بات نہیں کرتے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آپؐ پر وحی اتر رہی ہے۔ آپؐ نے چہرہ سے پسینہ پوچھا پھر فرمایا سوال کرنے والا کہاں ہے؟ گویا آپؐ کو اس کا پوچھار اچّھا معلوم ہوا۔ پھر آپؐ نے فرمایا بے شک یہ صحیح ہے کہ اچّھی چیز بُرائی نہیں لاتی مگر فصل ربیع جو گھاس اگاتی ہے وہ کبھی جانور کو مار بھی ڈالتی ہے یا مرنے کے قریب کر دیتی ہے لیکن وہ جانور جو ہری سبزی چرے پھر جب اس کی دونوں کوکھیں تن جائیں تو سورج کی طرف منھ کر کے لید کرے، پیشاب کرے اور پھر چرنے لگے (تو وہ نہیں مرتا اور نہ بیمار ہوتا ہے) اور یہ دنیا کا مال تو ہرا بھرا شیریں ہے تو مسلؔم کا وہ مال اچّھا ہے جس مال میں سے وہ مسکین یتیم اور مسافر کو دیتا ہے جو کوئی نا جائز طور سے مال لیتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کھا تا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور وہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَعْطَانِیْ ثُمَّ سَاَلْتُهٗ فَاَعْطَانِیْ ثُمَّ سَاَلْتُهٗ فَاَعْطَانِیْ ثُمَّ قَالَ يَا حَكِيْمُ اِنَّ هٰذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ اَخَذَهٗ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهٗ فِيْهِ وَمَنْ اَخَذَهٗ بِاِشْرَافِ نَفْسٍ لَّمْ يُبَارَكْ لَهٗ فِيْهِ وَكَانَ ڪَالَّذِیْ يَاْ كُل وَلَا يَشْبَعُ اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلٰى ۔
(صحیح بخارى كتاب الزكوة باب الاستعفاف عن المسئلة جزء۲ صفحه ۱۵۲، حديث : ۱۴۷۲ / ۱۴۰۳، وصحیح مسلم کتاب الزكوة باب بيان ان اليد العليا خير من اليد السفلى جزء اوّل صفحہ ۴۱۳، حديث : ۲۳۸۷ / ۱۰۳۵)
میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے مانگا آپؐ نے دیا پھر مانگا پھر آپؐ نے دیا پھر مانگا پھر آپؐ نے دیا پھر فر مایا حکیم یہ مال ہرا بھرا (بہت) شیریں ہے لیکن جو شخص اس کو اپنے نفس کو سخی کر کے لے تو اس کے لیے اس میں برکت دی جائے گی اور جو شخص دِل میں لالچ رکھ کر لے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جائے گی اس کا حال اس شخص کا سا ہوگا جو کھائے اور سیر نہ ہو۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
۵ بغیر سوال اور لالچ کے اگر مال ملے تو لے لے، رد نہ کرے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيْنِى الْعَطَآءَ فَاَقُوْلُ اَعْطِهٖ مَنْ هُوَ اَفْقَرُ اِلَيْهِ مِنِّى فَقَالَ خُذْهٗ اِذَا جَاءَكَ مِنْ هٰذَا الْمَالِ شَیءٌ وَاَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَآئِلٍ فَخُذُهُ وَ مَالَا فَلَا تُتَّبِعْهُ نَفْسَكَ
(صحیح بخارى كتاب الزڪوة باب من عطاه الله شيئا من غير مسئلة جزء ۲ صفحہ ۱۵۲، حديث : ۱۴۷۳ / ۱۴۰۴ وصحیح مسلم كتاب الزكوة باب اباحة الاخذ لمن اعطٰی من غير مسئلة جزء اوّل صفحه ۴۱۶، حديث : ۲۴۰۵ / ۱۰۴۵)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم مجھ کو کچھ مال مرحمت فرماتے۔ میں عرض کرتا اس کو دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ اس کا محتاج ہو۔ آپؐ فرماتے نہیں لے لو۔ جب تمھارے پاس دنیا کے مال میں سے کچھ آئے اور تم کو اس کا خیال نہ ہو اور نہ تم نے سوال کیا ہو تو اسے لے لیا کرو اور اگر ایسا نہ ہو تو نفس کو مال کے پیچھے نہ لگاؤ۔
۶ زیادہ سوال ہر گز نہ کرے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْاَلُ النَّاسَ حَتّٰى يَاْتِیَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَيْسَ فِیْ وَجْهِهٖ مُزْعَةُ لَحْمٍ
(صحیح بخاری کتاب الزكٰوة باب من سال الناس تكثرا جزء ۲ صفحہ ۱۵۳، حديث : ۱۴۷۴ / ۱۴۰۵، صحیح مسلم کتاب الزكٰوة باب كراهة المسالة الناس جزء اوّل صفحہ ۴۱۵ حديث : ۲۳۹۸ / ۱۰۴۰)
(اگر کوئی) آدمی لوگوں سے برابر مانگتا رہے تو قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے منھ پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہیں ہوگی۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ اللهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيْلَ وَقَالَ وَاِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
(صحیح بخاری کتاب الزکٰوۃ باب قول الله تعالٰى يسألون الناس الحافا جزء ۲ صفحہ ۱۵۳، حديث : ۱۴۷۷ / ۱۴۰۷، وصحيح مسلم حديث : ۴۴۸۵ / ۵۹۳)
اللہ کو تین۳ باتیں ناپسند ہیں ایک قیل و قال دوسرے روپیہ ضائع کرنا تیسرے بہت سوال کرنا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَنْ سَاَلَ النَّاسَ اَمْوَالَهُمْ تَكَثُرًا فَاِنَّمَا يَسْاَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ اَوْ لِيَسْتَڪْثِرْ۔ (صحيح مسلم كتاب الزكٰوة باب كراهة المسالة الناس جزء اوّل صفحہ ۴۱۵، حديث : ۲۳۹۹ / ۱۰۴۱)
جو شخص دولت مند بننے کے لیے لوگوں سے ان کے اموال مانگتا ہے وہ گویا انگارہ مانگتا ہے تو اب وہ کم مانگے یا زیادہ مانگے۔
۷ مال کے علاوہ کسی اور چیز کے متعلّق بھی سوال نہ کرے۔
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً اَوْ ثَمَانِيَةً اَوْ سَبْعَةً فَقَالَ اَلَا تُبَايِعُوْنَ رَسُوْلَ اللهِ وَكُنَّا حَدِيْثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا بَايَعْنَاكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ثُمَّ قَالَ اَلَا تُبَايِعُوْنَ رَسُوْلَ اللهِ فَقُلْنَا بَايَعْنَاكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ثُمَّ قَالَ اَلَا تُبَايِعُوْنَ رَسُوْلَ اللهِ قَالَ فَبَسَطْنَا اَيْدِيَنَا وَقُلْنَا قَدْ بَايَنَعْنَاكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ قَالَ عَلٰى اَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تَشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا وَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيْعُوْا (وَ اَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً) وَلَا تَسْاَلُوا النَّاسَ شَيْئًا فَلَقَدْ رَاَيْتُ بَعْضَ اُولٰئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ اَحَدِهِمْ فَمَا يَسْاَلُ اَحَدً يُنَاوِلُهٗ اِيَّاهُ ۔
(صحیح مسلم كتاب الزكٰوة باب كراهة للمسائلة الناس جزء اوّل صفحه ۴۱۵، حديث : ۲۴۰۳ / ۱۰۴۳)
ہم نو۹ یا آٹھ۸ یا سات۷ آدمی آدمی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ آپؐ نے فرمایا تم اللہ کے رسول سے بیعت کیوں نہیں کرتے۔ ہمیں بیعت کیے کچھ ہی دیر ہوئی تھی (لہٰذا) ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ہم تو آپؐ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپؐ نے پھر فرمایا تم اللہ کے رسول سے بیعت کیوں نہیں کرتے۔ ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! ہم تو آپؐ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپؐ نے پھر فرمایا تم اللہ کے رسول سے بیعت کیوں کرتے۔ ہم نے اپنے ہاتھ پھیلائے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم تو آپؐ سے بیعت کر چکے اب کس بات پر بیعت کریں؟ فرمایا اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ ذرا سا بھی شرک نہ کرو، پانچ۵ نمازیں (ادا کرو) اور اطاعت کرو پھر آہستہ سے آپؐ نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو۔ مینے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اگر اس کا کوڑا گر جاتا تو وہ کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اسے دے دیے۔
۸ سوال صرف تین۳ آدمیوں کے لیے حلال ہے ان تین۳ آدمیوں کی وضاحت مندرجہ ذیل حدیث میں ہے۔ ان تین۳ آدمیوں کے علاوہ جو سوال کرتا ہے وہ حرام کھاتا ہے۔
حضرت قبیصہؓ بن مخارق الہلالی فرماتے ہیں:
تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَاَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَسْاَلُهٗ فِيْهَا فَقَالَ اَقِمْ حَتّٰى تَاْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَاْ مُرَلَكَ بِهَا قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيْصَةُ اَنَّ الْمَسْالَةَ لَا تَحِلُّ اِلَّا لِاَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمٰلَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْاَلَةُ حَتّٰى يُصِيْبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٌ اَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اِجْتَاحَتْ مَالَهٗ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْاَلَةُ حَتّٰى يُصِيْبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ اَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٌ اَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتّٰى يَقُوْمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِى الْحِجَا مِنْ قَوْمِهٖ لَقَدْ اَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْاَلَةُ حَتّٰى يُصِيْبَ قِوامًا مِنْ عَيْشٍ اَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْاَلَةِ يَا قَبِيْصَةُ سُحْتًا يَا كُلَّهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا ۔
(صحیح مسلم كتاب الزكٰوة باب من تحل له المسالة جزء اوّل صفحہ ۴۱۶، حديث : ۲۴۰۴ / ۱۰۴۴)
میں قرض دار ہو گیا تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس آیا تا کہ (اس کی ادائے گی کے سلسلے) میں آپؐ سے سوال کروں، (میں نے سوال کیا تو) آپؐ نے فرمایا تم ٹھہر و یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آئے تو تمھارے لیے صدقہ کا حکم دیں پھر آپؐ نے فرمایا اے قبیصہ، سوال کرنا تین۳ آدمیوں کے سوا کسی کے لیے حلال نہیں، ایک تو وہ شخص جو قرض دار ہو گیا تو اس کے لیے سوال حلال ہو گیا یارں تک اسے پالے پھر سوال سے رک جائے، دوسرا وہ شخص جو کسی آفت میں مبتلا ہو جائے اور اس کا مال ضائع ہو جائے تو اس کے لیے سوال حلال ہو گیا یہاں تک کہ وہ خوش حال ہو جائے، تیرا وہ شخص جو فاقہ زدہ ہو اور اس کی قوم کے تین۳ سمجھ دار آدمی گواہی دیں کہ وہ واقعی فاقہ میں مبتلا ہے تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ خوش حالی تک پہنچ جائے۔ ان تین۳ آدمیوں کے علاوہ کسی اور آدمی کا سوال کرنا حرام ہے، سوال کرنے والاحرام کھاتا ہے۔
۹ سوال صرف امیر سے کرے۔ اگر کسی دوسرے سے سوال کرے تو سخت مجبوری میں کرے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنَّ الْمَسْاَلَةَ كَدٌ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهٗ اِلَّا اَنْ يَّسْاَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا اَدْفِیْ اَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ
(رواه الترندی و صححه فِی كتاب الزكٰوة باب ما جاء فى النهى عن المسئلة جزء اوّل صفحہ ۲۱۱، حديث : ۶۸۱ / ۶۸۸، وسنن نسائى حديث : ۲۶۰۱ / ۲۶۰۲ / ۲۶۰۰، وسنن ابوداؤد حديث : ۱۶۳۹)
سوال کے ذریعے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے سوائے اس صورت کے کہ آدمی امیر سے سوال کرے یا ایسے کام کےلیے سوال کرے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔
۱۰ سائل کو کچھ نہ کچھ دیا جائے۔
امّ بُجیدؓ فرماتی ہیں:
اَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّ الْمِسْكِيْنَ لَيَقُوْمُ عَلَى بَابِي فَمَا اَجِدُ لَهٗ شَيْئًا اُعْطِيْهِ اِيَّاهُ فَقَالَ لَهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنْ لَّمْ تَجِدِىْ لَهٗ شَيْئًا تُعْطِيْنَهُ اِيَّاهُ اِلَّا ظِلْفًا مُحَرَقًا فَادْفَعِيْهِ اِلَيْهِ فِیْ يَدِهٖ۔
(رواه الترندی و صححه فى كتاب الزكواة باب ما جاءى حق السائل جزء اوّل صفحہ ۲۰۶ حديث : ۶۶۵ / ۶۷۱، وسنن ابوداؤد حديث : ۱۶۶۷، وصحيح ابن حبان حديث : ۳۳۷۳ / ۳۳۶۲ / ۱۱۷۸)
انھوں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے کہا کہ میرے دروازے پر فقیر آن کھڑا ہوتا ہے میں کچھ نہیں پاتی کہ اس کو دوں۔ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ان سے فرمایا اگر تم اس کو دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ سوائے جلے ہوئے کھر کے تو اسی کو اس کے ہاتھ میں رکھ دیا کرو۔
آگے فرمایا (وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ) اور (اے رسول) آپ اپنے ربّ کی نعمتوں کا ذِکر کرتے رہا کریں۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا۔
۱ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو نبوّت و رسالت عطا فرمائی اور قرآن مجید عطا فرمایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَا ڪُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤی اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْڪٰفِرِیْنَ۸۶
(سُوْرَۃُ الْقَصَصِ : ۲۸، آیت : ۸۶)
اور (اے رسول) آپ کو تو توقّع نہیں تھی کہ آپ کی طرف کتاب اتاری جائے گی، مگر یہ آپ کے ربّ کی رحمت ہے (کہ اُس نے آپ کو نبی بناکر آپ پر کتاب نازل فرمائی) لہٰذا آپ ہرگز کافروں کی طرف داری نہ کیجیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا،مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا، وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۵۲
(سُوْرَۃُ الشُّوْرٰی : ۴۲، آیت : ۵۲)
اور (اے رسول) ان ہی (تین۳) طریقوں سے ہم نے آپ کی طرف اپنے احکام کی وحی بھیجی ہے، (اس سے پہلے) آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیسی ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے البتّہ ہم نے اس کتاب کو نور بنایا ہے، اس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت پر چلاتے ہیں اور (اے رسول) آپ یقینًا (لوگوں کو) سیدھا راستہ بتاتے ہیں۔
۲ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر رحمت نازل کرتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ، یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۵۶
(سُوْرَۃُ الْاَحْزَابِ : ۳۳، آیت : ۵۶)
اللہ اور اُس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو، تم نبی کےلیے دعائے رحمت کیا کرو اور ان پر سلام بھیجتے رہا کرو۔
۳ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو خاتم النبینس بنایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ،وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۴۰
(سُوْرَۃُ الْاَحْزَابِ : ۳۳، آیت : ۴۰)
(اے ایمان والو) محمّد تم مردوں میں سےکسی (مرد) کے باپ نہیں بلکہ وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور نبیّوں کے ختم کرنے والے اور اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔
۴ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو مقام محمود پر فائز کرنے کا وعدہ فرمایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
عَسٰۤی اَنْ یَّبْعَثَڪَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۷۹
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۷۹)
ہو سکتا ہے کہ آپ کا ربّ آپ کو مقامِ محمود میں کھڑا کرے۔
۵ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو شاہد اور سراج منیر (روشن چراغ) بنایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا۴۵ وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا۴۶
(سُوْرَۃُ الْاَحْزَابِ : ۳۳، آیت : ۴۵ تا۴۶)
اے نبی ہم نے آپ کو گواہ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔ اور (ہم نے آپ کو) اپنے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ (بناکر بھیجا ہے)۔
۶ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو رحمت للعالمین بنایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ۱۰۷
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۱۰۷)
اور (اے رسول) ہم نے آپ کو تمام (اقوامِ) عالَم کےلیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔
۷ اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر فضلِ کبیر اور فضلِ عظیم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ،وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا۱۱۳
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۱۱۳)
اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور آپ کو ایسی ایسی باتوں کی تعلیم دی ہے جن کو (پہلے) آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر تو اللہ کا بڑا فضل ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْڪَ ڪَبِیْرًا۸۷
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۸۷)
بے شک آپ پر اس کا بڑا فضل ہے۔
۸ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو آسمان پر لے گیا اور بہت سی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَڪْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا،اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۱
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۱)
پاک ہے (وہ اللہ) جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدِحرام سے مسجدِاقصیٰ تک لے گیا جس کے اِردگرد (کے علاقے) کو ہم نے (بڑی) برکتوں سے نوازا ہے تاکہ ہم اسے اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائیں، بےشک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰی۱۳ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰی۱۴ عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰی۱۵ اِذْ یَغْشَی السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰی۱۶ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰی۱۷ لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰی۱۸
(سُوْرَۃُ النَّجْمِ : ۵۳، آیت : ۱۳تا۱۸)
انھوں نے اس (فرشتہ) کو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا ہے۔ سدرۃِ المنتہیٰ کے پاس۔ اس کے قریب ہی جنّتُ الماویٰ ہے۔ جب اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ (آپ کی) نظر نہ (کسی اور طرف) مائل ہوئی اور نہ آگے بڑھی۔ انھوں نے یقینًا اپنے ربّ کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔
۹ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم یتیم تھے، اللہ تعالیٰ نے ٹھکانہ دیا اور پرورش کا بخوبی انتظام فرمایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَمْ یَجِدْڪَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۶
(سُوْرَۃُ وَالضُّحٰی: ۹۳، آیت : ۶)
کیا اُس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر (آپ کو) جگہ دی۔
۱۰ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم حق کی تلاش میں سرگردان تھے، اللہ تعالیٰ نے راہِ حق دکھائی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰی۷
(سُوْرَۃُ وَالضُّحٰی: ۹۳، آیت : ۷)
اور (اے رسول، یہ ہی نہیں بلکہ) اُس نے آپ کو راہِ حق کی تلاش میں سرگرداں پایا پھر آپ کو ہدایت دی۔
۱۱ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی معاشی حالت اچّھی نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو خوش حال کر دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰی۸
(سُوْرَۃُ وَالضُّحٰی: ۹۳، آیت : ۸)
آپ کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا۔
۱۲ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو پانچ۵ ایسی چیز یں دیں جو کسی کو نہیں دی تھیں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ اَحَدٌ قَبْلِى نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ وَ جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدً وَّ طَهُوْرًا فَاَيُّمَا رَجُلٍ مِّنْ اُمَّتِیْ اَدْرَكَتْهُ الصَّلوٰةُ فَلْيُصَلِّ وَ اُحِلَّتْ لِیَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ الاَحَدٍ قَبْلِیْ وَاُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِیُ يُبْعَثُ اِلٰى قَوْمِهٖ خَآصَّةً وَبُعِثْتُ اِلَى النَّاسِ عَامَّةً ۔
(صحيح بخارى كتاب الـتیمّم باب قول الله تعالٰى فلم تجد و اماءً فتيمموا جزء اوّل صفحہ ۹۱، حديث : ۳۳۵ / ۳۲۸، وصحيح مسلم حديث : ۱۱۶۳ / ۵۲۱)
مجھے پانچ۵ باتیں ایسی ملی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملیں۔ ایک یہ کہ ایک مہینے کی راہ سے دشمن پر میرا رعب پڑتا ہے، دوسرا یہ کہ ساری زمین میرے لیے نماز کی جگہ اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے لہٰذا میری امت کا ہر آدمی جہاں اس کو نماز وقت آجائے نماز پڑھ لے تیسرے یہ کہ مالِ غنیمت میرے لیے حلال کر دیا گیا، مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے حلال نہیں کیا گیا تھا، چوتھے یہ کہ مجھ کو شفاعت ملی، پانچویں یہ کہ ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جا تا تھا اور میں سب لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو بہت سی نعمتوں سے نوازا اور بہت سے احسانات کیے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم ان نعمتوں اور احسانات کا ذِکر فخریہ طور پر نہیں بلکہ آیت زیرِ تفسیر کے حکم کے مطابق کیا کرتے تھے۔
عمل
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کیجیے کہ اُس نے ہمیں راہِ حق دکھائی اور ایمان سے سرفراز فرمایا۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذِکر کیا کیجیے ، یتیم پر سختی نہ کیا کیجیے اور سائل کو جھڑ کی نہ دیا کیجیے۔