Surah Wailun lil-mutaffifeen
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۸۳- سُوْرَۃُ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ –
فہرستِ مضامین
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۱ اَلَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ۲ وَ اِذَا ڪَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَ۳ اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ۴ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ۵ یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۶
ترجمہ: ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۱ جو لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۲ اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۳ کیا انھیں (اس بات کا) خیال نہیں کہ یہ (ایک دن دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے۴ (یعنی) ایک (بہت) بڑے دن (حساب و کتاب) کےلیے (لوٹائے جائیں گے)۵ جس دن (تمام) لوگ ر بُّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۶
معانی و مصادر : (مُطَفِّفِيْنَ) طَفَّفَ ، يُطَفِّفُ، تَطْفِيْفٌ (باب تفعیل) کم ناپنا، کم تولنا، کنجوسی کرنا۔
(اِكْتَالُوْا) اِكْتَالَ، يَكْتَالُ، اِکْتِيَالُ (باب افتعال) ناپ کر لینا۔
(يَسْتَوْفُوْنَ) اِسْتَوْفٰى، يَسْتَوْفِیْ، اِسْتِيْفَاءٌ (باب استفعال) پورا وصول کرنا۔
(كَالُوْا) كَالَ ، يَكِيْلُ، كَيْلٌ و مَكِيْلٌ و مَكَالٌ (ض) ناپنا۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی (بڑی) خرابی ہے (اَلَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ) جو لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں (وَاِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَ) اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں (اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ) کیا انھیں (اس بات کا) خیال نہیں کہ وہ (ایک دن دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائی جائیں گے (لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ) (یعنی) ایک (بہت) بڑے دن (حساب و کتاب) کے لیے (زندہ کیے جائیں گے) (یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) جس دن (تمام) لوگ ربّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (اور اپنا اپنا حساب دے رہے ہوں گے)۔
آیات زیرِ تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو قیامت کے دن سے ڈرایا ہے جس دن سب لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا اپنا حساب دیں گے۔ اس دن ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو سخت سزادی جائے گی۔ ناپ و تول کے سلسلے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ، ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۳۵
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت: ۳۵)
اور جب تم ناپ کر دو تو پورا پورا ناپ کر دو اور (جب تول کر دو تو) ترازو (کی ڈنڈی) کو سیدھا رکھ کر تولو، یہ بہت اچّھی بات ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے۔
قیامت کا دن بہت بڑا دن ہوگا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّىْ مِنْهَا حَقَّهَا اِلَّا اِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهٗ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ فَاُحْمِیَ عَلَيْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَيُكْوٰى بِهَا جَنْبُهٗ وَ جَبِيْنُهٗ وَ ظَهْرُهٗ كُلَّمَا بَرَدَتْ اُعِيْدَتْ لَهٗ فِیْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ،
(صحیح مسلم کتاب الزكوة باب اثم مانع الزكوة جزء اوّل صفحہ ۳۹۳ حديث : ۲۲۹۰ / ۹۸۷)
ہر سونے اور چاندی والے کے لیے جو اس سونے اور چاندی سے اس کا حق ادا نہ کرتا ہو قیامت کے دن آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی پھر ان کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر ان سے اس شخص کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پیٹھ کو داغ دیا جائے گا۔ جب کبھی وہ تختیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی تو اس شخص (کو داغ دینے) کے لیے ان کو دوبارہ تپایا جائے گا (اور یہ معاملہ) اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی (بار بار ہوتا رہے گا)۔
عمل
اے ایمان والو! قیامت کے دن عذاب سے بچنے کا اہتمام کیجیے ۔ ناپ تول میں کبھی بھی کمی نہ کیجیے۔
ترجمہ: (اس دن بداعمال لوگ) ہرگز (فلاح) نہیں (پائیں گے) تمام بداعمال لوگوں کا نامۂ اعمال سجّین میں ہو گا۷ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ سجّین کیا ہے۸ وہ ایک رجسٹر ہے جس میں (بداعمال لوگوں کے اعمال ناموں کا) اندراج کیا جاتا ہے۹ اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے۱۰ (یعنی ان لوگوں کی) جو روزِ جزا کو جھٹلاتے ہیں۱۱ اور اس کو وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے بڑھ جانے والا گناہ گار ہوتا ہے۱۲ جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں۱۳ (نہیں) ہرگز نہیں (یہ افسانے نہیں ہیں بلکہ حقائق ہیں، ان حقائق کے انکار کی وجہ یہ نہیں کہ یہ لوگ ان کو افسانے سمجھتے ہیں) بلکہ (ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ) ان کے (بُرے) اعمال کی وجہ سے ان کے دِلوں پر زنگ لگ گیا ہے۱۴ (یہ لوگ) ہرگز (فلاح) نہیں (پائیں گے) بلکہ یہ تو اس دن اپنے ربّ (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے۱۵ پھر دوزخ میں داخل ہوں گے۱۶ پھر (ان سے) کہا جائے گا یہ ہی ہے وہ دوزخ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۱۷
معانی و مصادر: (سِجِّيْنٌ) سَجَنَ، يَسْجُنُ، سَجْنٌ (ن) قید کرنا۔ (سِجِّيْنٌ=سخت)
(مرْقُومٌ ) رَقَمَ ، يَرْقُمُ، رَقْمٌ (ن) لکھنا۔
(مُعْتَدٍ) اعْتَدٰى، يَعْتَدِىْ، اِعْتَدَاءٌ ( باب افتعال) سرکشی کرنا۔
(اَثِيْمٌ) اَثِمَ، يَاْثَمُ، اِثْمٌ و اَثَمٌ و اَثَامٌ و مَاْثَمٌ (س) گناہ کرنا۔
(رَانَ) رَانَ، يَرِيْنُ ، رَيْنٌ و رُیُوْنٌ (ض) زنگ لگتا ۔
(مَحْجُوْبُوْنَ) حَجَبَ ، يَحْجُبُ ، حَجْبٌ و حِجَابٌ (ن) چھپانا ، پردہ ڈالنا۔
(صَالُونَ) صَلِیَ، يَصَلىٰ، صَلًى، صِلًی و صَلِیٌّ ، صِلِیٌّ (س) داخل ہونا۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ) (بد اعمال لوگ قیامت کے دن) ہرگز (فلاح) نہیں (پائیں گے) بد اعمال لوگوں کا نامۂ اعمال سجّین میں ہو گا (وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌ) اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم سجّین کیا ہے۔ (كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ) وہ ایک رجسٹر ہے جس میں (بداعمال لوگوں کے نامۂ اعمال کا) اندراج کیا جاتا ہے (وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ) اس دن جھٹلانے والوں کی (بڑی) خرابی ہے (اَلَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ) (یعنی ان لوگوں کی) جو روزِ جزا کو جھٹلاتے ہیں (وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ) اور اس کو وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے بڑھ جانے والا گناہ گار ہوتا ہے (قیامت کے انکار سے اس کی بے راہ روی بڑھتی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ جب حساب و کتاب نہیں تو ڈر کس بات کا لہٰذا خوب گناہ کرتا ہے) (اِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ) (اور) جب (اسے سمجھایا جاتا ہے اور) ہماری آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں (جونسلاً بعد نسلٍ منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔ ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَیَعِدُكُمْ اَنَّڪُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّڪُمْ مُّخْرَجُوْنَ۳۵ هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۳۶ اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۳۷
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۳۵ تا ۳۷)
کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مَر جاؤ گے اور (گل سڑ کر) مٹّی اور ہڈّی بن جاؤ گے تو تم کو پھر (زمین سے زندہ کر کے) نکالا جائے گا۔ جو بات تم سے کہی جا رہی ہے یہ بعید (ازعقل) ہے، یہ بعید (ازعقل) ہے۔ ہماری دنیا کی زندگی ہی بس (زندگی) ہے (جس میں) ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم (کبھی دوبارہ زندہ کر کے) نہیں اٹھائے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ۶۷ لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ،اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۶۸
(سُوْرَۃُ النَّمْلِ : ۲۷، آیت : ۶۷ تا ۶۸)
اور (اے رسول) کافر کہتے ہیں کیا جب ہم اور ہمارے آباء و اجداد (مر کر) مٹّی ہو جائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کر کے قبروں سے) نکالے جائیں گے۔ یہ وعدہ ہم سے اور (ہم سے) پہلے ہمارے آباء و اجداد سے کیا جاتا رہا ہے (لیکن اس وعدے کی حقیقت کچھ نہیں) یہ تو بس اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
آگے فرمایا (كَلَّا بَلْ، رَانَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ) (یہ اگلوں کے افسانے) ہر گز نہیں (ہیں اور نہ یہ لوگ ان باتوں کے افسانے ہونے کی وجہ سے قیامت کا انکار کر رہے ہیں بلکہ ان کے انکار کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ) ان کے (بُرے ے) اعمال کی وجہ سے ان کے دِلوں پر زنگ لگ گیا ہے (لہٰذا ان پر نصیحت اثر نہیں کرتی)
(نوٹ: دِل کے زنگ کے متعلّق مفصل معلومات کے لیے سورۂ بقرہ کی آیت: ۷ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں)۔
جس طرح لوہے پر زنگ لگنے سے لوہا بے کار ہو جاتا ہے اسی طرح گناہوں کے زنگ لگنے سے ان کے دِل بے کار ہو گئے ہیں۔ ان میں صلاحیت ہی باقی نہیں رہی کہ نصیحت قبول کر سکیں۔ گویا دِل دِل ہی نہ رہے تو نصیحت کا قبول کرنا کیسا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰی لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ۳۷
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۳۷)
اس میں نصیحت ہے اس شخص کےلیے جس کے پاس دِل ہے اور جو حضورِقلب کے ساتھ کان لگا کر سنتا ہے۔
آگے فرمایا (كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ) (یہ لوگ) ہرگز (فلاح) نہیں (پائیں گے) بلکہ یہ تو اس دن اپنے ربّ (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے۔
بدکردار لوگ اللہ تعالیٰ کا دیدار نہ کر سکیں گے، البتّہ نیک لوگ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرسکیں گے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ۲۲ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ۲۳
(سُوْرَۃُ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: ۷۵، آیت : ۲۲ تا۲۳)
اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ ہوں گے۔ وہ اپنے ربّ کو دیکھ رہے ہوں گے۔
آگے فرمایا (ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ) پھر (بد کردار لوگ) دوزخ میں داخل ہوں گے (ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ) پھر ان سے کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے (اب اس جھٹلانے کا مزا چکھو)۔
عمل
اے لوگو! بُرے اعمال سے بچیے، قیامت پر ایمان لایے۔
ترجمہ: (نیک لوگ) ہرگز (ناکام) نہیں (ہوں گے) نیک لوگوں کے اعمال نامے علّیّین میں ہوں گے۱۸ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ علّیّین کیا (چیز) ہے۱۹ وہ ایک رجسٹر ہے جس میں (نیک لوگوں کے نامۂ اعمال کا) اندراج کیا جاتا ہے۲۰ مقرّب (فرشتے) وہاں موجود رہتے ہیں۲۱ بےشک نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے۲۲ تختوں پر بیٹھے (ہوئے جنّت کی) سیر کر رہے ہوں گے۲۳ (اے رسول) آپ ان کے چہروں پر نعمتوں کی تر و تازگی پہچان لیں گے۲۴ انھیں سر بمُہر خالص شراب پلائی جائے گی۲۵ اس پر مُہر لگانے کی چپڑی مشک ہو گی، حِرص کرنے والوں کو اس کی حِرص کرنی چاہیے۲۶ اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہو گی۲۷ (تسنیم) ایک چشمہ ہے جس سے مقرّب لوگ پِییں گے۲۸ بےشک گناہ گار (دنیا میں) ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے۲۹ اور جب ایمان والوں کے پاس سے گزرتے تو آپس میں ایک دوسرے کو آنکھ سے اشارہ کرتے تھے۳۰ اور جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹتے تو ہنسی دِل لگی کرتے ہوئے لوٹتے تھے۳۱ اور جب ان (ایمان والوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ یقینًا گمراہ ہیں۳۲ حالاں کہ وہ ان پر نگراں بناکر نہیں بھیجے گئے تھے (کہ ان کے عقائد و اعمال کو دیکھ کر ان کی گمراہی کا فیصلہ کریں)۳۳ تو آج (یعنی قیامت کے دن) ایمان والے کافروں سے ہنسی دِل لگی کریں گے۳۴ وہ اپنے تختوں پر بیٹھے (جنّت کا) نظارہ کر رہے ہوں گے۳۵ کیا کافروں کو ان کے اعمال کا (پورا پورا) بدلہ نہیں ملا۳۶
معانی و مصادر: (عِلِّيُّوْنَ) عِلِّيُّوْنَ=عِلّیٌّ کی جمع، شریف اور بلند مرتبہ لوگ۔
(رَحِيْقٌ) رَحِيْقٌ=شراب۔
(مَخْتُوْمٌ) خَتَمَ ، يَخْتِمُ ، خَتْمٌ و خِتَامٌ (ض) مُہر لگانا۔ (خِتَامٌ=مُہر لگانے کی چیز مثلاً چپڑی وغیرہ)
(يَتَنَافَسُ) تَنَافَسَ، يَتَنَافَسُ ، تَنَافُسٌ (باب تفاعل) مال کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بڑھنے کی خواہش کرنا،حرص کرنا۔
(نَضْرَةٌ) نَضَرَ، يَنْضُرُ، نَضْرٌ و نَضَرٌ و نَضْرَةٌ و نُضُوْرٌ ونَضَارَةٌ (ن) تروتازہ ہونا۔
(تَسْنِيْمٌ) تَسْنِيْمٌ=جنّت میں ایک چشمہ کا نام ہے۔
(يَتَغَامَزُوْنَ) تَغَامَزَ، يَتَغَامَزُ ، تَغَامُزٌ (باب تفاعل) آنکھ سے آپس میں اشارہ کرنا۔
(فَکِهِيْنَ) فَكِهَ، يَفْكَهُ ، فَكَهُ و فَكَاهَةٌ (س) ہنسی دِل لگی کرنا (فَکِهٌ =اترانے والا، دِل لگی کرنے والا)
(ثُوِّبَ) ثَوَّبَ، يُثَوِّبُ ، تَثْوِيْبٌ (باب تفعیل) بدلہ دینا ۔
تفسیر : اوپر بدکردار لوگوں کے اور ان کے انجام کا ذِکر تھا، ان آیات میں نیک لوگوں کا اور ان کے اجر و ثواب کا ذِکر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ) (نیک لوگ) ہرگز (ناکام و نامراد) نہیں (ہوں گے) نیک لوگوں کے اعمال نامے علّیّین میں ہوں گے (وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَ) اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ علّیّین کیا (چیز) ہے (كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ) وہ ایک رجسٹر ہے جس میں (نیک لوگوں کے اعمال نامے کا) اندراج کیا جاتا ہے (یَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ) مقرّب (فرشتے) وہاں موجود رہتے ہیں (اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ) بے شک نیک لوگ نعمتوں میں (شاداں و فرحاں) ہوں گے (عَلَی الْاَرَآىِٕكِ یَنْظُرُوْنَ) تختوں پر بیٹھے (ہوئے جنّت کی) سیر کر رہے ہوں گے (تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِ) (اے رسول) آپ ان کے چہروں پر نعمتوں کی ترو تازگی پہچان لیں گے۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِڪَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًا۱۱
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ: ۷۶، آیت : ۱۱)
تو اللہ ان کو اس دن کی بُرائی سے بچا لے گا اور تر و تازگی اور سُرور سے ان کو بہرہ ور کرے گا۔
(یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ) انھیں سربمُہر خالص شراب پلائی جائے گی (خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ، وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ) اس (شراب کی بوتل پر) مُہر لگانے کی چپڑی مشک ہو گی، حرص کرنے والوں کو ایسی نعمتوں کی حرص کرنی چاہیے (یعنی لوگوں کو چاہیے کہ جنّت کی نعمتوں کی خواہش کریں اور ان کو حاصل کرنے کے لیے نیکیاں کرتے رہیں) (وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ) اس (شراب میں) تسنیم کی آمیزش ہوگی (عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ) ( تسنیم) ایک چشمہ ہے جس میں سے مقرّب لوگ پئیں گے (اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ) (دنیا میں) گناہ گار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے (وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ) اور جب ایمان والوں کے پاس سے گزرتے تھے تو ایک دوسرے کو آنکھ سے اشارہ کرتے تھے (وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤی اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ) اور جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹتے تو ہنسی دِل لگی کرتے ہوئے لوٹتے تھے۔ (وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَ) اور جب ایمان والوں کو دیکھتے تو کہتے یہ لوگ یقیناً گرَاہ ہیں (وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَ) حالاں کہ وہ ایمان والوں پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے (کہ ان کے عقائد و اعمال کو دیکھ کر ان کی گمراہی کا فیصلہ کرتے) (فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَ) تو آج (یعنی قیامت کے روز) ایمان والے کافروں کی ہنسی اڑائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ ڪَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا،وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ،وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۲۱۲
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۱۲)
کافروں کےلیے دنیا کی زندگی کو مزیّن کر دیا گیا ہے، وہ (جب) ایمان والوں (کو دنیاوی لحاظ سے خوش حال نہیں دیکھتے تو ان) کا مذاق اڑاتے ہیں (لیکن اے ایمان والو، دنیا کی خوش حالی کوئی حقیقت نہیں رکھتی، اصل خوش حالی تو آخرت کی خوش حالی ہے) قیامت کے دن متّقی لوگ ان سے برتر ہوں گے (وہ اس دن خوش حال ہوں گے، رہی دنیا کی خوش حالی تو دنیا میں تو) اللہ (کافر ہو یا مومن) جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۱۰۹ فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤی اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ ڪُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ۱۱۰ اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا،اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۱۱۱
(سُوْرَۃُ المُؤْمِنُوْنِ: ۲۳، آیت : ۱۰۹ تا ۱۱۱)
(قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کافروں سے فرمائے گا) میرے بندوں میں ایک جماعت تھی، (اس جماعت کے لوگ اس طرح) دعا کرتے تھے اے ہمارے ربّ ہم ایمان لائے لہٰذا ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ تم نے ان کا مذاق بنا رکھا تھا یہاں تک کہ تم نے میری نصیحت کو طاقِ نسیاں کر دیا اور ان سے مذاق اور دِل لگی کرتے رہے۔ آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا (اور) بےشک (آج) وہی لوگ کامیاب ہیں۔
آگے فرمایا (عَلَی الْاَرَآىِٕكِ، یَنْظُرُوْنَ) نیک لوگ اپنے تختوں پر بیٹھے (جنّت کے باغ و بہار کا) نظارہ کر رہے ہوں گے (هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ) کیا کافروں کو ان کے اعمال کا (پورا پورا) بدلہ نہیں ملا (یعنی کیا کافروں کو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لانے، قیامت کا انکار کرنے اور ایمان والوں کا مذاق اڑانے کا پورا پورا بدلہ نہیں ملا ؟ کیوں نہیں جو کچھ وہ دنیا میں کرتے تھے اس کی انھیں پوری پوری سزا مل گئی)۔
عمل
اے لوگو! ایمان لایے اور نیکیاں کیجیے تا کہ جنّت کی نعمتوں سے آپ بہرہ ور ہوں۔
اے کافرو! ایمان والوں کا مذاق نہ اڑایے بلکہ قیامت کے دن جو واقعات آپ کو سنائے جارہے ہیں ان سے نصیحت حاصل کیجیے اور ایمان لا کر آپ بھی ایمان والوں کے ساتھ جنّت کے باغ و بہار کا لطف اٹھایے۔