Surah Wal-layli idhaa yaghshaa



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۹۲ – سُوْرَۃُ وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۝
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی۝۱ وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰی۝۲ وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤی۝۳ اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰی۝۴ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَ اتَّقٰی۝۵ وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۝۶ فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰی۝۷ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰی۝۸ وَ ڪَذَّبَ بِالْحُسْنٰی۝۹ فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰی۝۱۰ وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰی۝۱۱ اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰی۝۱۲ وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰی۝۱۳ فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰی۝۱۴ لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقٰی۝۱۵ اَلَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰی۝۱۶ وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقٰی۝۱۷ اَلَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰی۝۱۸ وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤی۝۱۹ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰی۝۲۰ وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی۝۲۱

<

ترجمہ: رات کی قسم جب وہ (ہر چیز کو) ڈھانک دے۝۱ دن کی قسم جب وہ ظاہر ہو جائے۝۲ اور اُس (ذات) کی قسم جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا۝۳ تم لوگوں کی کوششیں مختلف ہیں۝۴ تو جس نے (اللہ کے راستے میں) دیا اور پرہیز گاری اختیار کی۝۵ اور نیک بات کی تصدیق کی۝۶ تو ہم اس کےلیے آسانی (وراحت) تک پہنچنے کا راستہ آسان کر دیں گے۝۷ اور جس نے بُخل کیا اور لاپرواہی اختیار کی۝۸ اور نیک بات کو جھٹلایا۝۹ تو ہم اس کےلیے سختی (اور تکلیف) تک پہنچنے کا راستہ آسان کر دیں گے۝۱۰ اور جب وہ (دوزخ میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا۝۱۱ ہمارے ذِمّے (تو بس) راہ بتا دینا ہے۝۱۲ اور آخرت اور دنیا (دونوں) ہماری ہیں۝۱۳ تو (اے لوگو) میں نے تو تمھیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا۝۱۴ اس میں وہ ہی داخل ہو گا جو بڑا بدبخت ہو گا۝۱۵ (یعنی وہ شخص) جس نے (حق کو) جھٹلایا اور (اس سے) منھ پھیر لیا۝۱۶ اور (جو) متّقی ہو گا اس کو آگ سے بچا لیا جائے گا۝۱۷ (یعنی اس شخص کو آگ سے بچا لیا جائے گا) جو اپنا مال اس لیے دیتا ہے کہ وہ پاک ہو جائے۝۱۸ اور (اس لیے) نہیں (دیتا کہ) اس پر کسی کا احسان (ہے) جس کا وہ بدلہ اتارتا ہے۝۱۹ بلکہ اس کو تو اپنے بلند و بالا ربّ کی رضا منظور ہے۝۲۰ (تو ایسی صُورت میں) وہ عنقریب راضی ہو جائے گا۝۲۱

<

معانی و مصادر: (يَغْشٰى)غَشْیٌ، يَغْشَى، غَشْى و غِشَايَةٌ وغِشَاوَةٌ (س) ڈھانکنا۔
(تَجَلّٰی) تَجَلّٰى ، يَتَجَلّٰى، تَجَلِّیْ (باب تفعل) ظاہر ہونا۔
شَتّٰى) شَتَّ، يَشِتُّ، شَتٌّ و شِتَاتٌ و شَتِيَتٌ ، شَتِيْتٌ (ض) متفرق ہونا۔ (شَتّٰی= شَتِيْتٌ کی جمع متفرق)
(يُسْرٰی) یَسُرَ، يَیْسُرُ، يُسْرٌ (ك) آسان ہونا۔ (يُسْرٰی= اَیْسَرُ کا مونث، زیادہ آسان، الٹی) يَسَرَ، يَيْسِرُ، يَسَرٌ (ض) آسان ہونا۔
(عُسْرٰى) عَسِرَ، يَعْسَرُ، عُسْرٌ و عُسُرٌ و عَسَرٌ (س) مشکل ہونا۔ (عُسْرٰى=اَعْسَرُ کا مونث مشکل)
(تَرَدّٰی) تَرَدّٰی، يَتَرَدّٰی، تَرَدِّیْ (باب تفعل) گرنا۔
(تَلَظّٰى) تَلَظّٰى، يَتَلَظّٰی، تَلَظِّىْ (باب تفعل) بھڑکنا ۔
(يُجَنَّبُ) جَنَّبَ، يُجَنِّبُ، تَجْنِيْبٌ (باب تفعیل) دور کرنا ، دور ہونا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی) رات کی قسم جب وہ (ہر چیز کو تاریکی سے) ڈھانک دے۔ (وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰی) دن کی قسم جب وہ ظاہر ہو جائے ( یعنی خوب روشن ہو جائے) (وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤی) اور اُس (ذات) کی قسم جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا (اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰی) تم (لوگوں) کی کوششیں مختلف ہیں (کوئی نیک عمل کر رہا ہے، کوئی بُرے عمل کر رہا ہے، کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیتا ہے اور کوئی اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا بخل کرتا ہے) (فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَ اتَّقٰی) تو جس نے (اللہ تعالیٰ کے راستے میں) دیا اور پرہیز گاری اختیار کی (وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی) اور نیک بات کی تصدیق کی (فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰی) تو ہم اس کے لیے آسانی (اور راحت) تک پہنچنے کا راستہ آسان کر دیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ۝۳۳ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ،ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَ۝۳۴ لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۝۳۵
(سُوْرَۃُ الزُّمَرِ : ۳۹، آیت : ۳۳ تا۳۵)
اور جو شخص حق لے کر آئے اور جو شخص اس کی تصدیق کرے (تو) ایسے لوگ متّقی ہیں۔ ان کے ربّ کے پاس ان کےلیے ہر وہ چیز ہو گی جو وہ چاہیں گے، نیکی کرنے والوں کا یہ ہی بدلہ ہے۔ (اللہ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ) ان لوگوں سے ان کے بُرے کاموں کو جو انھوں نے کیے، دور کر دے گا (یعنی ان کی بداعمالی کو معاف کر دے گا) اور جو اچّھے عمل انھوں نے کیے ان کا بدلہ انھیں عطا فرمائے گا۔
الغرض جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتا ہے، پر ہیز گاری اختیار کرتا ہے اور نیک بات یعنی اسلام اور احکامِ الہٰی کی تصدیق کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ منزلِ مقصود یعنی جنّت تک پہنچنے کا راستہ آسان کر دیتا ہے اس کو نیک کام آسان معلوم ہوتے ہیں۔ وہ ان صفات کے باعث بآسانی جنّت حاصل کر لیتا ہے
(وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰی) اور جس نے بخل کیا اور لاپرواہی اختیار کی (یعنی پرہیزگاری کی طرف سے لاپرواہی اختیار کی جو چاہا کرتا رہا، احکامِ الہٰی کی تعمیل کی طرف کوئی توجہ نہیں کی) (وَ کَذَّبَ بِالْحُسْنٰی) اور نیکی (یعنی اسلام اور احکامِ الہٰی) کو جھٹلایا (فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰی) تو ہم اس کے لیے سختی (اور تکلیف) تک پہنچنے کا راستہ آسان کر دیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَی اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ،اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًی لِّلْڪٰفِرِیْنَ۝۳۲
(سُوْرَۃُ الزُّمَرِ : ۳۹، آیت : ۳۲)
(اے رسول) اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بولے اور جب اس کے پاس حق آئے تو اس کو جھٹلائے، کیا کافروں کےلیے دوزخ میں ٹھکانہ نہیں ہے؟۔
الغرض جو شخص بخل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، احکامِ الہٰی کی تعمیل سے غفلت برتتا ہے اور سچائی، اسلام اور احکام الہٰی کی تصدیق نہیں کرتا اس کے لیے اللہ تعالیٰ دوزخ تک پہنچنے کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ اس کو بُرے کام آسان معلوم ہوتے ہیں وہ ان خصائلِ خہنچ کے باعث بآسانی دوزخ میں چلا جاتا ہے۔
آگے فرمایا
(وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰی) اور جب وہ (بخیل شخص دوزخ میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا (وہ مال کو جمع کرتا رہا، اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کیا تو وہ مال جو اس نے جمع کیا تھا اور دنیا میں چھوڑ کر چلا آیا تھا قیامت کے دن اس کے کچھ کام نہیں آئے گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ۝۱ اَلَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗ۝۲ یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ۝۳ كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ۝۴
(سُوْرَۃُ وَیْلٌ لِّکُلِّ : ۱۰۴، آیت : ۱ تا ۴)
ہر غیبت کرنے والے اور منھ دَر منھ عیب نکالنے والے کی (بڑی) خرابی ہے۔ جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گنتا رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے حیاتِ جاودانی بخشے گا۔ ہرگز نہیں، وہ ضرور حطمہ(یعنی آگ) میں پھینکا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلْهٰىڪُمُ التَّڪَاثُرُ۝۱ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۝۲ ڪَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝۳ ثُمَّ ڪَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝۴ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۝۵ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ۝۶
(سُوْرَۃُ اَلْھٰکُمُ التَّڪَاثُـرُ: ۱۰۲، آیت : ۱ تا ۶)
مال میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی حِرص نے تمھیں (اللہ کے احکام سے) غافل کر دیا۔ (اور تم اسی غفلت میں رہے) یہاں تک کہ قبروں میں جا پہنچے۔ (تمھاری یہ غفلت) ہرگز (تمھارے لیے فائدہ مند) نہیں (ہو گی) عنقریب تمھیں (اس غفلت کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔ پھر (سن لو تمھاری یہ غفلت) ہرگز (تمھارے لیے فائدہ مند) نہیں (ہو گی) تمھیں عنقریب (اس غفلت کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔ (تمھاری خوش فہمیاں) ہرگز (تمھارے کام) نہیں (آئیں گی) اگر تمھیں اس کا یقینی علم ہوتا (تو تم کبھی غفلت نہ برتتے)۔ تم (اپنی غفلت کی سزا میں) ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كُنَّا فِیْ جَنَازَةٍ فِیْ بَقِيْعِ الْغَرْقَدِ فَاَتَانَا النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهٗ وَ مَعَهٗ مِخْصَرَةٌ فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهٖ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ مَا مِنْ نَّفْسٍ مَّنْفُوْسَةٍ اِلَّا ڪُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَاِلَّا قَدْ كُتِبَ شَقِيَّةً اَوْ سَعِيدَةً فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَفَلَا نَتَّكِلُ عَلٰى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ اَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيْرُ اِلٰى عَمَلِ اَهْلِ السَّعَادَةِ وَاَمَّا مَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ اَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيْرُ اِلٰى عَمَلِ اَهْلِ الشَّقَاوَةِ قَالَ اَمَّا اَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُیَسِّرُوَنَ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ وَ اَمَّا اَهْلُ الشَّفَاوَةِ فَيُيَسِّرُوْنَ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ ثُمَّ قَرَاَ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى الاٰيَة ۔
(صحیح بخاری کتاب الجنائز باب موعظة المحدث عند القبر جزء ۲ صفحہ ۱۲۰، حديث : ۱۳۶۲ / ۱۲۹۶، وصحيح مسلم حديث : ۶۷۳۱ / ۲۶۴۷)
ہم بقیع میں ایک جنازے کے ساتھ تھے اتنے میں نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ ہم آپؐ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپؐ کے پاس ایک چھڑی تھی۔ آپؐ نے سرجھکا لیا اور چھڑی سے زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں (یعنی) کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانہ بہشت یا دوزخ میں نہ لکھا گیا ہو اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہوگی یا بد بخت۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وسلّم) پھر ہم اپنی قسمت کے لکھے پر بھروسہ کیوں نہ کر لیں اور عمل کرنا (محنت اٹھانا) چھوڑ دیں کیوں کہ جس کا نام نیک بختوں میں لکھا گیا ہے وہ ضرور نیک کام کی طرف مائل ہوگا اور جس کا نام بدبختوں میں لکھا گیا ہے وہ ضرور بدی کی طرف جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا بات یہ ہے کہ جو نیک بخت ہیں ان کو نیک کام کرنے کی توفیق دی جائے گی اور جو بدبخت ہیں ان کو بدی کرنے کی توفیق ملے گی، پھر آپؐ نے سورۃ والیل کی یہ آیت پڑھیں (فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَ اتَّقٰی) اخیر تک۔
آگے فرمایا
(اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰی) ہمارا ذِمّہ (بس) راہ بتا دینا ہے (تو وہ ہم نے بتادی ہماری ذِمّہ داری ختم ہو گئی) (وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰی) اور آخرت اور دنیا (دونوں) ہماری ہیں (دونوں جگہ ہماری حکومت ہے دونوں کے ہم مالک ہیں، نہ دنیا میں کوئی ہماری پکڑ سے بچ سکتا ہے اور نہ آخرت میں کوئی ہماری پکڑ سے بچ سکتا ہے) (فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰی) تو (اے لوگو) میں نے تو تمھیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا (تمھیں چاہیے کہ ڈر جاؤ اور اس سے بچنے کی کوشش کرو) (لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقٰی) اس میں وہ ہی داخل ہو گا جو بڑا بد بخت ہوگا (اَلَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰی) (یعنی وہ شخص) جس نے (اچّھائی کو) جھٹلایا اور (اس سے) منھ پھیر لیا۔ (وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقٰی) اور (جو) متّقی ہو گا اس کو آگ سے بچالیا جائے گا (اَلَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰی) (یعنی اس کو) جو اپنا مال اس لیے دیتا ہے کہ وہ پاک ہو جائے (وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤی) (اس لیے) نہیں (دیتا کہ) اس پر کسی کا احسان (ہے) جس کا وہ بدلہ اتارتا ہے (اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰی) بلکہ اپنے بلند و بالا ربّ کی رضا جوئی (کے لیے دیتا ہے) (وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی) (تو ایسی صُورت میں) وہ عنقریب راضی ہو جائے گا (اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر دے گا کہ وہ خوش ہو جائے گا)۔
پہلے اللہ تعالیٰ نے سچائی کو جھٹلانے والے کا انجام بتایا
(فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰی) ہم اس کے لیے سختی تک پہنچنے کا راستہ آسان کر دیں گے آگے چل کر جھٹلانے والے کا انجام بتایا (فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰی۝ لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقٰی) میں نے تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ۔ اس میں وہ ہی داخل ہو گا جو بڑا بد بخت ہوگا۔ گویا عُسْرٰی سے مراد دوزخ ہے۔ یعنی بعد والی آیت پہلے والی آیت کی تفسیر ہے۔
اسی طرح پہلے فرمایا
(فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَ اتَّقٰی) جس نے (اللہ کے راستے میں) دیا اور پرہیزگاری اختیار کی۔ بعد میں فرمایا (وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقٰی۝ اَلَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰی) پرہیز گاری اختیار کرنے والے کو دوزخ سے بچالیا جائے گا یعنی اس کو جو اپنا مال اس لیے دیتا ہے کہ وہ پاک ہو جائے۔ یعنی دونوں صفتیں بخشش اور تقویٰ جو پہلی آیات میں بیان ہوئی ہیں بعد والی آیات میں بھی بیان ہوئی ہیں گویا (اَلَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰی) پہلی آیت کے الفاظ (اَعْطٰی وَ اتَّقٰی) کی تشریح ہیں۔
پہلے فرمایا
(فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰی) ہم اس کے لیے آسانی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ یہاں فرمایا (وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی) وہ عنقریب راضی ہو گا یعنی جنّت میں اپنا اجر وثواب دیکھ کر خوش ہوگا۔ گویا اوپر کی آیت میں (یُسْرٰی) سے مراد بندے کا راضی ہونا ہے یعنی (یُسْرٰی) سے مراد جنّت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ۝۲۱ فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍ۝۲۲
(سُوْرَۃُ اَلْحَآقَّۃِ : ۶۹، آیت : ۲۱ تا ۲۲)
تو (اے رسول) یہ شخص خاطر خواہ عیش (وراحت) میں ہو گا۔ بلند وبالا جنّتوں میں (وہ رہے گا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۝۲۷ اِرْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً۝۲۸ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ۝۲۹ وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۝۳۰
(سُوْرَۃُ وَالفَجْرِ: ۸۹، آیت : ۲۷ تا۳۰)
(اور جو سعید روح ہو گی اس سے کہا جائے گا) اے اطمینان والی روح۔ اپنے ربّ کی طرف چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ تو میرے (نیک) بندوں میں شامل ہو جا۔ اور میری جنّت میں داخل ہو جا۔
عمل
اے لوگو! حق کی تصدیق کیجیے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنا مال خرچ کیجیے اور پر ہیز گاری اختیار کیجیے۔
اے لوگو! حق کو نہ جھٹلایے، اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل نہ کیجیے اور احکامِ الہی سے تغافل نہ برتیے۔
اے ایمان والو! جو کچھ آپ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کریں اسے صرف اس نیّت سے خرچ کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو جائے اور وہ صدقہ آپ کے لیے گناہوں سے پاک ہونے کا سبب بن جائے۔



<

Share This Surah, Choose Your Platform!