Surah Was-samaaa-i zaatil burooj
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۸۵ – سُوْرَۃُ وَالسَّمَآءِذَاتِ الْبُرُوْجِ –
فہرستِ مضامین
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بے حد مہربان، بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ۱ وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ۲ وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍ۳ قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ۴ اَلنَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۵ اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌ۶ وَ هُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌ۷ وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ۸ اَلَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ،وَ اللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۹ اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ۱۰ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ،ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُ۱۱
ترجمہ: بُرجوں والے آسمان کی قسم۱ یومِ موعود کی قسم۲ گواہ کی قسم اور اس کی قسم جس کے سامنے گواہی دی جائے۳ خندق والے تباہ و برباد ہو گئے۴ (وہ خندق جس میں) ایندھن والی آگ تھی۵ جب وہ اس خندق کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۶ تو جو کچھ وہ مومنین کے ساتھ کر رہے تھے اس کا نظارہ کر رہے تھے۷ انھیں مومنین کی بس یہ ہی بات بُری معلوم ہوئی کہ وہ غالب اور تعریف والے اللہ پر ایمان لائے تھے۸ (وہ اللہ) جس کی بادشاہت آسمانوں پر بھی ہے اور زمین پر بھی ہے اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۹ جن لوگوں نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو تکلیف پہنچائی پھر توبہ نہیں کی تو ان کےلیے جہنّم کا عذاب ہے اور ان کےلیے جلنے کا عذاب ہے۱۰ (اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کےلیے ایسی جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) یہ (بہت) بڑی کامیابی ہے۱۱
معانی و مصادر: (شَاهِدٌ) (مَشْهُودٌ) شَهِدَ، يَشْهَدُ، شُهُودٌ (س) حاضر ہونا، پانا۔ مطلع ہونا) (شَاهِدٌ=گواہ ، تارا)
(مَشْهُودٌ=جمعہ کا دن یا قیامت کا دن)۔
شُهُوْدٌ=شَاهِدٌ کی جمع ۔
(اُخْدُوْدٌ) خَدَّ، يَخُدُّ، خَدٌّ (ن) زمین پھاڑنا۔(اُخْدُوْدٌ=کھائی، خندق)۔
(وَقُودٌ) وَقَدَ، يَقِدُ، وَقْدٌ و وَقَدٌ ووُقُوْدٌ و وَقَدَانٌ (ض) بھڑکنا۔ (وَقُودُ=ایندھن)
(نَقَمُوْا) نَقَمَ، يَنْقَمُ، يَنْقِمُ، نَقَمٌ (ض و س) بدلہ لینا، عیب لگانا۔
(حَريْقٌ) حَرَقَ، يَخْرُقُ ، حَرْقٌ (ن) جلانا ، کھر چنا۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ) برجوں والے آسمان کی قسم۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا۶۱
(سُوْرَۃ ُالْفُرْقَانِ: ۲۵، آیت : ۶۱)
بابرکت ہے وہ جس نے آسمان میں بُرج بنائے اور ان میں ایک چراغ اور ایک روشن چاند بنایا۔
(وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ) یوم موعود یعنی قیامت کے دن کی قسم۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ڪَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۶۰
(سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰتِ : ۵۱، آیت : ۶۰)
جس دن کا وعدہ کافروں سے کیا جارہا ہے اس دن (کے عذاب) سے ان کافروں کی (بڑی) خرابی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۴۲ یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ۴۳ خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ،ذٰلِڪَ الْیَوْمُ الَّذِیْ ڪَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۴۴
(سُوْرَۃُ سَاَلَ سَآئِلٌ : ۷۰، آیت : ۴۲ تا۴۴)
تو (اے رسول) انھیں چھوڑ دیجیے کہ بے ہودہ مشاغل میں مُنہمک رہیں اور کھیلتے رہیں، یہاں تک کہ یہ اس دن سے ملاقات کریں جس دن کا وعدہ ان سے کیا جارہا ہے۔ جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح تیزی کے ساتھ دوڑ رہے ہوں گے گویا کہ وہ کسی (پالے کے) پتّھر کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی آنکھیں جُھکی ہوئی ہوں گی، ذِلّت ان پر چھا رہی ہو گی، یہ ہی وہ دن ہو گا جس (دن) کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔
(وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍ) گواہ کی قسم اور اس کی قسم جس کے سامنے گواہی دی جائے۔ قسمیں کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ) خندق والے تباہ و برباد ہو گئے۔
خندق والوں کا ذِکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
كَانَ مَلِكٌ فِيْمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَكَانَ لَهٗ سَاحِرٌ فَلَمَّا كَبِرَ قَالَ لِلْمَلِكِ اِنِّیْ قَدْ كَبِرْتُ فَابْعَثْ اِلَىَّ غُلَامًا اُعَلِّمْهُ السِّحْرَ فَبَعَثَ اِلَيْهِ غُلَامًا يُعَلِّمْهٗ فَكَانَ فِیْ طَرِيْقِهٖ اِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ فَقَعَدَ اِلَيْهِ وَسَمِعَ كَلَامَهٗ فَاَعْجَبَهٗ فَكَانَ اِذَا اَتَى السَّاحِرَ مَرَّ بِالرَّاهِبِ وَقَعَدَ اِلَيْهِ فَاِذَا اَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهٗ فَشَکٰى ذَلِكَ اِلَى الرَّاهِبِ فَقَالَ اِذَا خَشِيْتَ السَّاحِرَ فَقُلْ حَبَسَنِى اَهْلِیْ وَاِذَا خَشِيْتَ اَهْلَكَ فَقُلْ حَبَسَنِی السَّاحِرُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذٰلِكَ اِذَا اَتٰى عَلىٰ دَابَّةٍ عَظِيْمَةٍ قَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ فَقَالَ الْيَوْمَ اَعْلَمُ السَّاحِرُ اَفْضَلُ اَمْرِ الرَّاهِبُ اَفْضَلُ فَاَخَذَ حَجَرًا فَقَالَ اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ اَمْرُ الرَّاهِبِ اَحَبَّ اِلَيْكَ مِنْ اَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ هٰذِهِ الدَّابَّةَ حَتّٰى يَمْضِیَ النَّاسُ فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا وَمَضَى النَّاسُ فَاَتَ الرَّاهِبَ فَاَخْبَرَہٗ فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ اَیْ بُنَیَّ اَنْتَ الْيَوْمَ اَفْضَلُ مِنِّیْ قَدْ بَلَغَ مِنْ اَمْرِكَ مَا اَرَى وَانَّكَ سَتُبْتَلَى فَاِنِ ابْتُلِيْتَ فَلَا تَدُلُّ عَلَىَّ وَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْاَكْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَيُدَاوِی النَّاسَ مِنْ سَائِرِ الْاَدْوَاءِ فَسَمِـعَ جَلِيْسٌ لِلْمَلِكِ كَانَ قَدْ عَمِىَ فَاَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيْرَةٍ فَقَالَ مَا هٰهُنَا لَكَ اَجْمَعُ اِنْ اَنتَ شَفَيْتَنِیْ فَقَالَ اِنِّیْ لَا اَشْفِیْ اَحَدً اِنَّمَا يَشْفِی اللهُ فَاِنْ اَنْتَ اٰمَنْتَ بِاللهِ دَعَوْتُ اللهَ فَشَفَاكَ فَاٰمَنَ بِاللهِ فَشَفَاهُ اللهُ فَاَتَى الْمَلِكَ فَجَلَسَ اِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ قَالَ رَبِّیْ قَالَ وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِیْ قَالَ رَبِّیْ وَرَبُّكَ اللهُ فَاَخَذَهٗ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهٗ حَتّٰى دَلَّ عَلَى الْغُلَامِ فَجَیْءَ بِالْغُلَامِ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ اَیْ بُنَیَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبرِئُ الْاَ كْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَ تَفْعَلُ وَ تَفْعَلُ فَقَالَ اِنِّیْ لَا اَشْفِیْ اَحَدًا اِنَّمَا يَشْفِی اللهُ فَاَخَذَهٗ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهٗ حَتّٰى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ فَجِیْءَ بِالرَّاهِبِ فَقِيْلَ لَهُ ارْجِـعْ عَنْ دِيْنِكَ فَاَبَى فَدَعَا بِالْمِنْشَارِ فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِیْ مَفْرِقِ رَاْسِهٖ فَشَقَّهُ حَتّٰى وَقَعَ شِقَّاہُ ثُمَّ جِیْءَ بِجَلِيْسِ الْمَلِكِ فَقِيْلَ لَهُ ارْجِعْ عَنْ دِيْنِكَ فَاَبَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِیْ مَفْرِقِ رَاْسِهٖ فَشَقَّهُ بِهٖ حَتّٰى وَقَعَ شِقَّاہُ ثُمَّ جِیْءَ بِالْغُلَامِ فَقِيْلَ لَهُ ارْجِعْ عَنْ دِيْنِكَ فَاَبٰى فَدَفَعَهٗ اِلٰى نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِهٖ فَقَالَ اذْهَبُوْا بِهٖ اِلٰى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَاصْعَدُوْا بِهِ الْجَبَلَ فَاِذَا بَلَغْتُمْ ذِرُوْتَهٗ فَاِنْ رَجَعَ عَنْ دِيْنِهٖ وَاِلَّا فَاطْرَ حُوْہُ فَذَهَبُوْا بِهٖ فَصَعِدُوْا بِهِ الْجَبَلَ فَقَالَ اللّٰهُمَّ اكْفِنِيْهِمْ بِمَا شِئْتَ فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ فَسَقَطُوْا وَ جَآءَ يَمْشِی اِلَى الْمَلِكِ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ مَا فَعَلَ اَصْحَابُكَ قَالَ كَفَانِيْهِمُ اللهُ فَدَفَعَهٗ اِلٰى نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِهٖ فَقَالَ اذْهَبُوْا بِهٖ فَاحْمِلُوْهُ فِیْ قُرْقُوْرٍ فَتَوَسَّطُوْا بِهِ الْبَحْرَ فَاِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهٖ وَاِلَّا فَاقْذِ فُوْهُ فَذَهَبُوْا بِهٖ فَقَالَ اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْهِمْ بِمَا شِئْتَ فَانْكَفَاَتْ بِهِمُ السَّفِيْنَةُ فَغَرِقُوْا وَ جَاءَ يَمْشِی اِلَى الْمَلِكِ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ مَا فَعَلَ اَصْحَابُكَ قَالَ كَفَانِيْهِمُ اللهُ فَقَالَ لِلْمَلِكِ اَنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِیْ حَتّٰى تَفْعَلَ مَا اٰمُرُكَ بِهٖ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ تَجْمَعُ النَّاسَ فِیْ صَعِيْدٍ وَاحِدٍ وَ تَصْلُبُنِیْ عَلٰى جِذْ عٍ ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِىْ ثُمَّ ضَعِ السَّهْمَ فِیْ كَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ قُلْ بِاسْمِ اللهِ بِرَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ ارْمِنِىْ فَاِنَّكَ اِذَا فَعَلْتَ ذٰلِكَ قَتَلْتَنِىْ فَجَمَعَ النَّاسَ فِیْ صَعِيْدٍ وَاحِدٍ وَصَلَبَهٗ عَلَى جِذْعٍ ثُمَّ اَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَيَةٖ ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِیْ كَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ قَالَ بِاسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ رَمَاهُ فَوَقَعَ السَّهُمُ فِیْ صُدْغِهٖ فَوَضَعَ یَدَہٗ صُدْغِهٖ فِىْ مَوْضِعِ السَّهْمِ فَمَاتَ فَقَالَ النَّاسُ اٰمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ اٰمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ اٰمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ فَاُتِیَ الْمَلِكُ فَقِيْلَ لَهٗ اَرَاَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ قَدْ وَاللهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ قَدْ اٰمَنَ النَّاسُ فَاَمَرَ بِالْاَخْدُوْدِ فِیْ اَفْوَاهِ السِّكَكِ فَخُدَّتْ وَاَضْرَمَ النِّيْرَانَ وَقَالَ مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهٖ فَاَحْمُوهُ فِيهَا اَوْ قِيْلَ لَهُ اقْتَحِمُ فَفْعَلُوْا حَتّٰى جَاءَتِ امْرَاَۃٌ وَمعَھَا صَبِیٌّ لَھَا فَتَقَاعَسَتْ اَنْ تَقَعَ فِيْهَا فَقَالَ لَهَا الْغُلَامُ يَا اُمَّهِ اصْبِرِىْ فَاِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ ۔
(صحیح مسلم كتاب الزهد والرقائق باب قصة اصحاب الاخدود والسار و اراهب و الغلام جلد۲ صفحہ ۵۹۸ حديث : ۷۵۱۱ / ۳۰۰۵)
گزشتہ اقوام میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ایک جادوگر تھا۔ جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں کسی لڑکے کو میرے پاس بھیج دیجیے تاکہ میں اسے جادو کی تعلیم دے دوں۔ بادشاہ نے ایک لڑکا جادو کی تعلیم کے لیے اس کے پاس بھیج دیا۔ اس لڑکے کے راستے میں ایک راہب رہتا تھا۔ لڑکا اس کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سنتا تھا۔ اور انھیں پسند کرتا تھا۔ وہ جب بھی ساحر کے پاس جاتا اور راہب کی طرف سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا۔ پھر جب وہ ساحر کے پاس پہنچتا تو ساحر تاخیر ہونے کی وجہ سے اسے مارتا۔ لڑکے نے راہب سے اس کی شکایت کی۔ راہب نے کہا اگر تمھیں ساحر سے اندیشہ ہو تو کہ دیا کرو گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور اگر گھر والوں کا خوف ہو تو کہہ دیا کرو مجھے ساحر نے روک لیا تھا الغرض ایسا ہوتا رہا ایک دن وہ ایک ایسے جانور کے پاس پہنچا جس نے لوگوں کا راستہ بند کر دیا تھا۔ لڑکا کہنے لگا آج میں معلوم کروں گا کہ ساحر افضل ہے یا راہب۔ اس نے ایک پتّھرلیا اور کہا الہی اگر راہب کا کام تجھے ساحر کے کام سے زیادہ پسند ہے تو اس جانور کو مار دے تا کہ لوگ آئیں جائیں۔ اس نے وہ پتّھر اس جانور کے مارا اور اسے قتل کر دیا۔ لوگ آنے جانے لگے۔ پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اور اس واقعے کی اطلاع اسے دی۔ راہب نے کہا بیٹا آج تو مجھ سے افضل ہے، تیرا کام اس حد تک پہنچ گیا جیسا کہ میں دیکھ رہا ہوں۔ تو عنقریب مصیبت میں گرفتار ہو گا۔ تو جب تو مصیبت میں مبتلا ہو تو میرا پتہ نہ دینا، یہ لڑ کا مادر زاد اندھے کو اور برص کے مریض کو اچّھا کر دیتا تھا بلکہ تمام بیماریوں کا علاج کرتا تھا۔ بادشاہ کا ایک ہمنشین اندھا ہو گیا، وہ لڑے کی خبر سن کر اس کے پاس بہت سے تحفے لایا ار کہنے لگا اگر تم مجھے شفا دے دو گے تو یہ تمام چیزیں جو یہاں ہیں تمھارے لیے حاضر ہیں۔ لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اُس سے دعا کروں گا، وہ تم کو شفادے گا۔ وہ شخص اللہ پر ایمان لے آیا۔ اللہ نے اس کو شفا دے دی۔ شفا پا کر وہ بادشاہ کے پاس گیا اور جس طرح اس کے پاس بیٹھا کرتا تھا جا کر بٹھں گیا۔ بادشاہ نے کہا کس نے تیری نگاہ تجھے لوٹا دی۔ اس نے کہا میرے ربّ نے۔ بادشاہ نے کہا میرے علاوہ تیرا کوئی اور ربّ بھی ہے۔ اس نے کہا میرا اور تیرا ربّ اللہ ہے۔ بادشاہ نے اسے گرفتار کروایا اور تکلیفیں دینے لگا، بالآخر اس نے لڑکے کا پتہ بتا دیا۔ لڑکے کو بلایا گیا۔ بادشاہ نے کہا بٹاا اب تیری قوّتِ سحر یہاں تک پہنچ گئی کہ تو اندھے اور مبروص کو بھی اچّھا کر دیتا ہے اور ایسا کرتا ہے۔ لڑکے نے کہا میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ اللہ شفا دیتا ہے۔ بادشاہ نے اس کو بھی گرفتار کرا کے تکلیفیں دینا شروع کر دیں آخر اس نے راہب کا پتہ بتا دیا۔ راہب کو بلوایا گیا اور اس سے کہا گیا اپنے دین کو ترک کر دے۔ راہب نے انکار کر دیا۔ بادشاہ نے آرا منگوا کر راہب کے سر پر رکھوا کر اسے چِروا کر دو۲ ٹکڑے کرا دیے۔ اس کے بعد اپنے ہمنشین کو طلب کیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ اپنے دین سے باز آجا اس نے بھی انکار کر دیا۔ بادشاہ نے اس کو بھی چِروا کر دو۲ ٹکڑے کر دیا۔ اس کے بعد لڑکے کو بلایا گیا اور اس سے کہا گیا تو اپنے مذہب سے باز آجا اس نے بھی انکار کیا، بادشاہ نے اس کو اپنے چند اصحاب کے حوالے کر دیا اور حکم دیا کہ اس کو فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے چوٹی پر چڑھاؤ۔ پھر اگر یہ اپنے مذہب سے باز نہ آئے تو وہاں سے اسے پھینک دیاڑ۔ لوگ اسے لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔ لڑکے نے کہا الہٰی جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے۔ پہاڑ میں زلزلہ آیا اور وہ سب لوگ مرگئے ۔ لڑکا چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ نے کا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے اللہ نے ان سے بچا لیا۔ بادشاہ نے پھر اسے چند مصاحبوں کے حوالے کر کے حکم دیا کہ اس کو لے جا کر ایک چھوٹی کشتی میں سوار کرو اور وسط سمندر میں پہنچ کر مذہب ترک نہ کرنے کی صُورت میں اس کو سمندر میں پھینک دو۔ وہ لوگ اس کو لے کر گئے ۔ لڑکے نے کہا الہٰی تو جس طرح چاہے مجھ کو ان سے بچالے۔ کشتی ان آدمیوں سمیت الٹ گئی۔ سب ڈوب گئے۔ لڑکا چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ نے پوچھا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا مجھے اللہ نے ان سے بچالیا۔ اس کے بعد اس نے بادشاہ سے کہا تم ہرگز مجھے قتل نہ کر سکو گے جب تک میرے کہنے پر عمل نہ کرو گے۔ بادشاہ نے کہا وہ کیا؟ لڑکے نے کہا ایک میدان میں سب لوگوں کو جمع کرو اور مجھے سولی کے تختہ پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو گمان کے چلہ میں رکھ کر کہو، اس اللہ کے نام سے مارتا ہوں جو اس لڑکے کا ربّ ہے۔ پھر مجھے تیر مارو۔ اگر ایسا کرو گے تو مجھے مارسکو گے۔ بادشاہ نے سب لوگوں کو جمع کیا۔ لڑکے کو ایک سولی کے تختہ پر لٹکا دیا اور اس کے ترکش سے ایک تیر لے کر کمان کے چلہ میں رکھ کر کہا اس اللہ کے نام سے مارتا ہوں جو اس لڑکے کا ربّ ہے، یہ کہ کر تیر مارا تیر لڑکے کی کنپٹی میں جاکرپیوست ہوگیا۔لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا اور مر گیا۔ یہ دیکھ کر سب لوگ کہنے لگے ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے۔ بادشاہ کو بھی یہ خبر پہنچ گئی۔ لوگوں نے بادشاہ سے کہا جس بات کا آپ کو اندیشہ تھا وہ بات ہو کر رہی لوگ ایمان لے آئے۔ بادشاہ نے گلیوں کے دہانے پر کچھ خندق کھدوانے کا حکم دیا۔ خندقیں کھودی گئیں اور ان میں آگ جلا دی گئی۔ بادشاہ نے کہا جو شخص اپنے دین سے باز نہ آئے اسے اس میں ڈال دو۔ لوگ باز نہ آئے اور خندق میں داخل ہو گئے۔ آخر میں ایک عورتی آئی، جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ وہ خندق میں گرنے سے رکی بچّہ نے اپنی ماں سے کہا اماں تم صبر کرو تم حق پر ہو۔
آگے فرمایا (اَلنَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ) (خندق والے ہلاک ہو گئے وہ خندق جس میں) آگ ہی آگ تھی (اور وہ آگ) ایندھن والی (آگ تھی یعنی جس آگ کے لیے خندق میں خوب ایندھن جمع کیا گیا تھا) (اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌ) جب وہ اس خندق کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے (وَ هُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌ) اور جو کچھ وہ مومنین کے ساتھ کر رہے تھے اس کا نظارہ کر رہے تھے (وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ) انھیں مومنین کی بس یہی بات بُری معلوم ہوئی کہ وہ غالب اور تعریف والے اللہ پر ایمان لائے تھے(اَلَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ، وَ اللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ) (وہ اللہ) جس کی بادشاہت آسمانوں پر بھی ہے اور زمین پر بھی اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ (اس کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا) (اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ) جن لوگوں نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو تکلیف پہنچائی پھر تو بہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ؔؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُ) (اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے ایسی جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (جنّت کامل میں جانا) یہ (بہت) بڑی کامیابی ہے۔
عمل
اے ایمان والو! صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیے خواہ آپ کو کسین ہی تکلیف کیوں نہ پہنچائی جائے۔ نیک عمل کرتے رہے۔ اے لوگو! غالب اور تعریف والے اللہ پر ایمان لایے ۔ ایمان والوں پر کسی قسم کا ظلم و تشدد نہ کیجیے۔
ترجمہ: (اے رسول) آپ کے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۱۲ وہی پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۱۳ وہ بڑا بخشنے والا اور بہت محبّت کرنے والا ہے۱۴ وہ عرش والا اور بزرگی والا ہے۱۵ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۱۶ (اے رسول) کیا آپ کو (کافروں کے) لشکروں کی خبر پہنچی ہے۱۷ یعنی فرعون اور ثمود (کے لشکروں ) کی (کہ وہ کس طرح تباہ و برباد کر دیے گئے)۱۸ لیکن کافر پھر بھی جھٹلانے میں (مصروف) ہیں۱۹ اور اللہ ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے (اگر یہ ایمان نہ لائے تو یہ بھی اسی طرح برباد کر دیے جائیں گے جس طرح فرعون اور ثمود کے لشکر برباد کر دیے گئے)۲۰ (اور اے کافرو، قرآن کوئی معمولی کتاب نہیں) بلکہ یہ تو بزرگی والا قرآن ہے۲۱ جو لوحِ محفوظ میں (مکتوب) ہے۲۲
معافی و مصادر: (بَطْشٌ) بَطَشَ، يَبْطُشُ، بَطْشٌ (ن و ض) پکڑنا ۔
(يُبْدِئُ) اَبْدَاَ، يُبْدِئُ، اِبْدَاءٌ (باب افعال) پیدا کرنا۔
(وَدُوْدٌ) وَدَّ، يُوَدُّ، وَدٌّ و وِدٌّ و وُدٌ و وِدَادٌ و وَدَادٌ و وُدَادٌ و مَوْدِدَةٌ و مَوَدَّةٌ و مَوْدُوْدَةٌ (ف) محبّت کرنا۔
(جُنُوْدٌ) جُنُوْدٌ= جُنْدٌ کی جمع الشکر۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌ) (اے رسول) آپ کے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ۱۰۲
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۱۰۲)
بےشک اُس کی گرفت بڑی دردناک اور شدید ہوتی ہے۔
آگے فرمایا (اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُ) وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ،ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ،قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ ڪُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۶۴
(سُوْرَۃُ النَّمْلِ : ۲۷، آیت : ۶۴)
(بتاؤ) کون ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے اور پھر اس کو دوبارہ بھی پیدا کرے گا اور وہ کون ہے جو بادل اور زمین سےتمھیں رزق فراہم کرتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے (جو یہ کام کر سکے، ہرگز نہیں، تو اے رسول) آپ (ان سے) کہہ دیجیے اگر تم سچّے ہو (کہ کوئی اور الٰہ ہے جو یہ کام کرتا ہے) تو (اپنے ثبوت میں) کوئی دلیل پیش کرو۔
(وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ) اور وہ بڑا بخشنے والا اور بہت محبّت کرنے والا ہے۔(لیکن اس کی محبّت نیکی کرنے والے کے لیے مخصوص ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۱۹۵
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۹۵)
بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبّت کرتا ہے۔
(ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ) (وہ) عرش والا اور بزرگی والا ہے (فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ) جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمْرِهٖ
(سُوْرَۃُ یُوْسُفْ : ۱۲، آیت : ۲۱)
اور اللہ اپنے (ہر) کام پر غالب (اور اس کو پورا کرنے پر قادر) ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُڪْمِهٖ،
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۴۱)
اللہ جو (چاہتا ہے) حکم دیتا ہے اُس کے حکم کا تعاقّب کرنے والا کوئی نہیں،
آگے فرمایا (هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ) (اے رسول) کیا آپ کو ( کافروں کے) لشکروں کی خبر پہنچی ہے۔ (فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَ) (یعنی) فرعون اور ثمود کی (کہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہ کس طرح ہلاک اور برباد کر دیے گئے) (بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍ) (ان کے حالات سے) کفّار (کو عبرت نہیں ہوتی ابھی تک) جھٹلانے میں (لگے ہوئے) ہیں (کیا وہ ڈرتے نہیں کہ جس طرح قومِ فرعون اور قومِ ثمود کو عذابِ الہٰی نے نیست و نابود کر دیا اسی طرح کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر عذاب نازل ہو جائے اور انھیں نیست و نابود کر دے) (وَ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ مُّحِیْطٌ) (بہر حال) اللہ ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے کہ (اس سے بچ کر یہ کہاں جائیں گے، ایمان نہ لانے کی سزا ان کو ضرور مل کر رہے گی) (بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ) (اے کافرو! یہ قرآن کوئی معمولی کتاب نہیں) بلکہ یہ تو بزرگی والا قرآن ہے۔ (فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ) (جو) لوح محفوظ میں (مکتوب) ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ۷۵ وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ۷۶ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌ۷۷ فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ۷۸ لَا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۷۹ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۸۰ اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ۸۱ وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّڪُمْ تُكَذِّبُوْنَ۸۲
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۷۵ تا۸۲ )
اور (اے لوگو) میں تاروں کی منزلوں کی قسم کھاتا ہوں۔ اور اگر تم سمجھو تو یہ (بہت) بڑی قسم ہے۔ بےشک قرآن بہت باعزّت کتاب ہے۔ پوشیدہ کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (مکتوب ہے)۔ اس کو صرف پاک لوگ ہاتھ لگاتے ہیں۔ یہ ربُّ العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ تو کیا تم (ایسے) کلام سے غفلت برت رہے ہو۔ اور اس کے جھٹلانے کو تم نے اپنا رزق بنا رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّهَا تَذْڪِرَةٌ۱۱ فَمَنْ شَآءَ ذَڪَرَهٗ۱۲ فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ۱۳ مَرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ۱۴ بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍ۱۵ ڪِرَامٍۭ بَرَرَةٍ۱۶
(سُوْرَۃُ عَـبَسَ: ۸۰، آیت : ۱۱تا ۱۶)
یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔ تو جو چاہے اسے یاد کرے (اور اس سے فائدہ اٹھائے، فائدہ اٹھانے کےلیے کسی کی کوئی شرط نہیں مانی جائے گی)۔ یہ (قرآن) بڑے عزّت والے اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ ان اوراق کو بلندی دی گئی ہے اور وہ (نہایت) پاکیزہ ہیں۔ وہ (ایسے) لکھنے والوں کے ہاتھ میں (رہتے) ہیں۔ جو (بڑے) باعزّت اور (بہت) نیک ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ،وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌ۴۱
(سُوْرَۃُ حٰمٓ السَّجْدَۃِ : ۴۱، آیت : ۴۱)
بےشک جن لوگوں نے اس کتاب کا انکار کیا جب کہ یہ کتاب ان کو پہنچی (تو انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا) بےشک یہ کتاب تو بڑی باعزّت کتاب ہے۔
عمل
اے لوگو! قرآن مجید پر ایمان لایے۔ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں، یہ تو بڑی عزّت والی کتاب ہے۔ اگر آپ ایمان نہیں لائیں گے تو سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو گھیرے ہوئے ہے۔ وہ آپ کو جب چاہے گا پکڑلے گا پھر اس کی گرفت سے نکلنا ناممکن ہو گا۔ اگر وہ چاہے گا تو آپ کو اسی طرح تباہ و برباد کر دے گا جس طرح قومِ فرعون اور قومِ ثمود ہلاک کر دی گئیں۔