Surah Wasamaaeah Waataariqe



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۱۰

۸۶ – سُوْرَۃُ وَالسَّمَآءِوَالطَّارِقِ –

فہرستِ مضامین

<

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۝
بے حد مہربان ، بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ۝۱ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ۝۲ اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ۝۳ اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌ۝۴ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ۝۵ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ۝۶ یَخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِ۝۷ اِنَّهٗ عَلٰی رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ۝۸ یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآىِٕرُ۝۹ فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍ۝۱۰

<

ترجمہ: آسمان کی قسم اور طارق کی قسم۝۱ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ طارق کیا ہے۝۲ وہ چمک دار تارا ہے۝۳ کوئی شخص ایسا نہیں جس پر نگراں (مقرّر) نہ ہو۝۴ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۝۵ وہ اُچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۝۶ جو پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۝۷ بےشک اللہ انسان کے لوٹانے پر قادر ہے۝۸ (یعنی قیامت کے دن دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے) جس دن بھیدوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۝۹ تو (اس دن) انسان کے پاس نہ قوّت ہو گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہو گا۝۱۰

<

معانی و مصادر: (طَارِقٌ) طَرَقَ ، يَطْرُقُ ، طَرْقٌ و طُرُوْقٌ (ن) رات کو آنا۔ (طَارِقٌ= رات کو آنے والا، چمک دار تارا)
(ثَاقِبٌ) ثَقَبَ، يَثْقُبُ، ثَقْبٌ (ن) روشن ہونا ، پھیلنا ، پھاڑنا۔
(دَافِقٌ) دَفَقَ، يَدْفُقُ ، دَفْقٌ و دُفُوْقٌ (ن) چھلکنا، سرعت کے ساتھ بہنا۔
(صُلْبٌ) صُلَبَ، يَصْلُبُ، صَلَابَةٌ (ك) سخت ہونا، بخل کرنا۔(صُلْبٌ =قوّت، پیٹھ کی ہڈی)
(تَرَاىِٕبُ) تَرَاىِٕبُ=تَرِيْبَةٌ کی جمع، پسلیاں ۔
(تُبْلىٰ) بَلَا، يَبْلُوْ، بَلَاءٌ و بَلْوٌ (ن) جانچ کرنا ۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ) آسمان کی قسم اور طارق کی قسم (وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ) اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ طارق کیا ہے (اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ) وہ چمکدار تارا ہے۔ آسمان اور چمک دار تارے کی قسم کھا کر فرمایا (اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌ) کوئی شخص ایسا نہیں جس پر نگران (مقرّر) نہ ہو (اللہ تعالیٰ ہر ایک پر نگران ہے، ہر شخص کے اعمال کو دیکھ رہا ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا۝۱
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۱)
بےشک اللہ تم پر نگران رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۝۹
(سُوْرَۃُ وَالسَّمَآءِذَاتِ الْبُرُوْ جِ : ۸۵، آیت : ۹)
بےشک اللہ تم کو دیکھ رہا ہے۔
آگے فرمایا
(فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ) انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے (خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ) وہ اچھلتے ہوئے پانی (یعنی نطفہ) سے پیدا کیا گیا ہے (یَخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِ) جو پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے (اِنَّهٗ عَلٰی رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ) بے شک اللہ انسان کے لوٹانے پر قادر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پہلے انسان کو دعوت دی کہ وہ اس چیز پر غور کرے وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی پیدائش ایسے پیچیدہ طریقے سے ہوئی ہے کہ عقل حیران ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ انسان کو ایک قطرے سے پیدا کر سکتا ہے۔ کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ انسان کو مَرنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے۔ اس کی پہلی پیدائش بڑی دقیق، پیچیدہ اور محیّر العقول ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری پیدائش کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ، وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۝۲۷
(سُوْرَۃ ُ الرُّوْمِ: ۳۰، آیت : ۲۷)
وہ ہی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہ ہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اُس کےلیے بہت آسان ہے، آسمانوں میں اور زمین میں اُس کی شان بہت ہی اعلیٰ (و ارفع) ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔
جب اللہ تعالی پہلی بار پیدا کر سکتا ہے حالاں کہ پہلی بار پیدا کرنا بہت پیچیدہ ہے تو وہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے
(اِنَّهٗ عَلٰی رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ) بے شک اللہ انسان کو لوٹانے پر قادر ہے (یعنی اس کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا)۔(یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآىِٕرُ)[/arb] جس دن بھیدوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی (یعنی اللہ تعالیٰ انسان کے اچّھے اور بُرے ارادوں کو ظاہر کرے گا،) نیک نیّتی اور بدنیّتی ظاہر کر دی جائے گی۔ نیک نیّتی سے کیے ہوئے اعمال قبول ہوں گے، بدنیّتی سے یا غیر ارادی طور پر ہو جانے والے اعمال ضائع کر دیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ،وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ،فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ،وَ اللّٰهُ عَلٰی ڪُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۝۲۸۴
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۸۴)
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے (بھلا جو اتنی بڑی بادشاہت کا مالک ہو، کیا اُس سے کوئی بات مخفی رہ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں) اگر تم اپنے دِلوں کی بات ظاہر کرو گے یا چُھپاؤ گے اللہ (کو بہر حال اس کا علم ہو گا اور وہ) تم سے اس کا محاسبہ کرے گا، پھر وہ جس کو چاہے گا معاف کر دے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اَلْاَعْمَالُ بِالنِّيَّتِهٖ وَلِكُلِّ امْرِیءٍ مَانَوٰى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ اِلَى اللهِ وَرَسُوْلِهٖ فَهِجْرَتُهٗ اِلَى اللهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ لِدُنْيَا يُصِيْبُهَا اَوِ امْرَاَةٍ يَتَزَوْجُهَا فَهَجْرَتُهٗ اِلىٰ مَا هَاجَرَ اِلَيْهِ
(صحیح بخاری کتاب الایمان باب ماجاء ان الاعمال بالنية والحسبة جزء اوّل صفحہ ۲۱، حديث : ۵۴ و صحیح مسلم کتاب الامارة باب قوله صلّی اللہ علیہ وسلّم انما الاعمال بالنية جزء۲ صفحه ۱۵۸، حديث : ۴۹۲۷ / ۱۹۰۷)
ہر آدمی کو وہ ہی ملے گا جس کی وہ نیّت کرے تو جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہوگی اور جو شخص دنیا کمانے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت ان ہی کاموں کے لیے ہوگی (اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا)۔
آگے فرمایا
(فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍ) تو (اس دن یعنی قیامت کے دن) انسان کے پاس نہ کوئی قوّت ہوگی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہوگا (یعنی اپنے کو عذاب سے بچانے کی کسی میں قدرت نہیں ہوگی اور نہ وہاں کوئی مددگار ہی دستیاب ہوگا کہ اس کو عذاب سے بچانے کے سلسلے میں اس کی کچھ مدد کر سکے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْـًٔا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۝۴۸
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۴۸)
ڈرو اس دن سے جس دن کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے کچھ بھی کام نہ آئے گا، نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی، نہ کسی سے بدلہ (یا معاوضہ یا فدیہ) لیا جائے گا اور نہ وہ (یعنی اہلِ محشر) کسی کی مدد حاصل کر سکیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْـًٔا،وَ الْاَمْرُ یَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ۝۱۹
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۱۹)
اس دن کسی شخص کو کسی دوسرے شخص کےلیے (نفع و نقصان کا) ذرا سا بھی اختیار نہیں ہو گا، اس دن تو بس اللہ (تعالیٰ) ہی کی حکومت ہو گی۔
عمل
اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈریئے ، اللہ تعالیٰ آپ سے غافل نہیں ہے۔ وہ ہر وقت آپ کو دیکھ رہا ہے۔ اسے آپ کے تمام اعمال کی خبر ہے، وہ آپ کے تمام اعمال بلکہ آپ کے دِلوں اور نیّتوں کا آپ سے حساب لے گا۔
اے لوگو! قیامت پر ایمان لایے۔ جو اللہ انسان کو پیچیدہ طریقہ سے پیدا کرنے پر قادر ہے وہ اللہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔

<
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ۝۱۱ وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ۝۱۲ اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ۝۱۳ وَ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ۝۱۴ اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًا۝۱۵ وَ اَكِیْدُ كَیْدًا۝۱۶ فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۝۱۷
<

ترجمہ : گردش کرنے والے آسمان کی قسم۝۱۱ اور پھٹ جانے والی زمین کی قسم۝۱۲ یہ (قرآن مجید) قولِ فیصل ہے۝۱۳ یہ کوئی ہنسی دِل لگی کی بات نہیں ہے۝۱۴ (اے رسول) یہ لوگ (آپ کے اور اسلام کے خلاف) تدبیریں کر رہے ہیں۝۱۵ اور میں بھی تدبیر کر رہا ہوں۝۱۶ تو آپ ان کافروں کو مُہلت دے دیجیے (اور زیادہ نہیں بس) تھوڑی سی مُہلت دے دیجیے (پھر میں ان کو دیکھ لوں گا)۝۱۷

<

معانی و مصادر: (رَجُعٌ) رَجَعَ ، يَرْجِعُ، رُجُوْعٌ و مَرْجِعٌ و رُجْعٰى (ض) لوٹنا، بارش کے بعد بارش ہونا۔
(صَدْعٌ) صَدَعَ، يَصْدَعُ، صَدْعٌ (ف) پھاڑ نا، صاف صاف بیان کرنا۔
(فَصْلٌ) فَصَلَ، يَفْصِلُ، فَصْلٌ (ض) کاٹنا، فیصلہ کن حکم دینا۔
(هَزَلٌ) هَزَلَ، یَهْزِلُ، هَزْلٌ (ض) مذاق کرنا۔
(مَهِّلَ) مَهَّلَ، يُمْهِّلُ، تَمْهِّيْلٌ (باب تفعیل) مُہلت دینا، نرمی کرنا۔
(اَمْهِلْ) اَمْهَلَ، يُمْهِلُ، اِمْهَالٌ (باب افعال) مُہلت دینا، نرمی کرنا۔
(رُوَيْدٌ) اَرْوَدَ ، يُرْوِدُ، اِرْوَاد ٌ(باب افعال) مُہلت دینا، نرمی کرنا۔ (رُوَيْدٌ= مُہلت)

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ) گردش کرنے والے آسمان کی قسم (وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ) اور پھٹ جانے والی زمین کی قسم (جب بارش ہوتی ہے تو اس کے ذریعے بیج اگتے ہیں پھر اس کی سوئی زمین کو پھاڑ کر اوپر نکل آتی ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا۝۲۵ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۝۲۶ فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّا۝۲۷
(سُوْرَۃُ عَـبَسَ: ۸۰، آیت : ۲۵ تا ۲۷)
ہم نے پانی برسایا۔ پھر ہم نے زمین کو پھاڑا۔ پھر ہم نے اس میں غلّہ اگایا۔
قیامت کے دن زمین پھٹ جائے گی اور مردے سب نکل پڑیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا،
(سُوْرَۃُ قٓ : ۵۰، آیت : ۴۴)
جس دن زمین ان (کی لاشوں) پر سے پھٹ جائے گی (اور) وہ (قبروں سے نکل کر) تیزی کے ساتھ (میدانِ محشر میں جمع ہو جائیں گے)،
(اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ) یہ (قرآن مجید) قولِ فیصل ہے ( یعنی قرآن مجید کا بیان تمام معاملات میں اٹل، فیصلہ کن اور قطعی الصّحت ہے) (وَ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ) یہ کوئی ہنسی دِل لگی کی بات نہیں ہے ( کافروں کو چاہیے کہ اس کو ہنسی دِل لگی نہ سمجھیں، عذاب کا جو وعدہ قرآن مجید میں کیا گیا ہے وہ ایک اٹل حقیقت ہے، وقتِ مقرّرہ پر آکر رہے گا) (اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًا) (اے رسول) یہ لوگ (آپ کے اور اسلام کے خلاف) تدبیر کر رہے ہیں (وَ اَكِیْدُ كَیْدًا) اور میں بھی تدبیر کر رہا ہوں (میں ان کی تدبیروں اور سازشوں کا توڑ کرتا رہتا ہوں انھیں ناکام کر دیتا ہوں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ،وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۝۵۴
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۵۴)
کافروں نے خفیہ تدبیریں کیں اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیریں کیں اور اللہ (تعالیٰ) بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا،
(سُوْرَۃُ الرَّعْدِ : ۱۳، آیت : ۴۲)
اور (اے رسول) ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انھوں نے بھی (رسولوں کے خلاف بہت سی) خفیہ تدبیریں کی تھیں لیکن (ان کی تدبیریں کارگر نہیں ہوئیں، اس لیے کہ) تدبیریں تو تمام اللہ کے قبضے میں ہیں، (وہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے)،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ۝۵۰ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ ، اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ۝۵۱ فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا، اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ۝۵۲ وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۝۵۳
(سُوْرَۃُ النَّمْلِ : ۲۷، آیت : ۵۰ تا ۵۳)
(تو اے رسول) انھوں نے بھی تدبیر کی اور ہم نے بھی تدبیرکی اور ان کو (ہماری تدبیر کی) کچھ خبر نہ ہوئی۔ تو (اے رسول) آپ دیکھیے ان کی تدبیر کا کیا انجام ہوا، ہم نے ان کو اور ان کی پوری قوم کو نیست و نابود کر دیا۔ جو ظلم وہ کرتے رہے تھے اس کی سزا میں یہ ان کے گھر (جو عام شاہراہ پر واقع ہیں) گرے پڑے ہیں، اس میں علم والوں کےلیے (عبرت کی بڑی) نشانی ہے۔ اور (اے رسول) ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور (اللہ سے) ڈرتے رہتے تھے (عذاب سے) بچا لیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَدْ مَڪَرُوْا مَڪَرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَڪْرُهُمْ،وَ اِنْ ڪَانَ مَڪْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ۝۴۶ فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ،اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ۝۴۷
(سُوْرَۃُ اِبْرَاھِیْمَ: ۱۴، آیت : ۴۶ تا ۴۷)
اور (اے رسول) ان ظالموں نے (اپنے رسولوں کے خلاف بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی تمام تدبیریں اللہ کی نظر میں تھیں (وہ رسولوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے) اگرچہ ان کی تدبیریں (اس بلا کی تھیں کہ ان) سے پہاڑ ٹل جاتے۔ (اے رسول) آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ نے جو وعدہ اپنے رسولوں سے کیا ہے اس کے خلاف کرے گا (اللہ ضرور وعدے کے مطابق ان سے انتقام لے گا) بےشک اللہ بڑا زبردست اور انتقام لینے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ،وَ مَكْرُ اُولٰٓىِٕكَ هُوَ یَبُوْرُ۝۱۰
(سُوْرَۃُ فَاطِرٍ : ۳۵، آیت : ۱۰)
اور (اے رسول) جو لوگ (آپ کے خلاف) بُری تدبیریں کرتے رہتے ہیں ان کےلیے سخت عذاب (تیّار) ہے، (یہ آپ کو کیا نقصان پہنچائیں گے) خود ان کی تدبیریں (بالآ خر) نیست و نابود ہو جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اُمْلِیْ لَهُمْ،اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ۝۱۸۳
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۱۸۳)،
(سُوْرَۃُ نٓ/القلم: ۶۸، آیت : ۴۵)
میں انھیں ڈھیل دیتا ہوں (پھر حکیمانہ تدبیر کے ذریعے انھیں یکا یک پکڑ لیتا ہوں) یقینًا میری تدبیر بڑی مضبوط ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَمْ یُرِیْدُوْنَ ڪَیْدًا،فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَ۝۴۲
(سُوْرَۃُ الطُّوْرِ: ۵۲، آیت : ۴۲)
کیا یہ کوئی تدبیر کرنا چاہتے ہیں؟ تو (یہ اچّھی طرح سمجھ لیں کہ) کافر (ہمیشہ اللہ کی) تدبیر میں گرفتار ہوتے رہے ہیں۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تسلی کی خاطر فرمایا کہ اگرچہ کافر آپ کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں لیکن ان کی تمام سازشیں میرے قبضے میں ہیں۔ میں ان کی سازشوں کو بار آور نہیں ہونے دوں گا، ان پر عذاب آئے گا لیکن ابھی ذرا صبر کیجیے
(فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا) (اور) ان کافروں کو مُہلت دیجیے (زیادہ نہیں بس) تھوڑی سی مُہلت دیجیے (پھر میں ان کو دیکھ لوں گا)۔
عمل
اے لوگو! قرآن مجید پر ایمان لایے۔ اس کے مضامین مذاق اور دِل لگی کے طور پر نہیں ہیں۔ اس کی ہر بات قطعی ہے اور صحیح ہے۔

<

Share This Surah, Choose Your Platform!