Surah-al-Haaqa
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۱۰
۶۹ سُوْرَۃُحَآقّہ
فہرستِ مضامین
۶۹ سُوْرَۃُحَآقّہ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
اَلْحَآقَّةُ۱ مَا الْحَآقَّةُ۲ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُ۳ ڪَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ۴ فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ۵ وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍ۶ سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ، حُسُوْمًا، فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰی، كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍ۷ فَهَلْ تَرٰی لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ۸
ترجمہ:۔ قیامت۱ کیا ہے قیامت۲ اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ کیا ہے قیامت۳ (یہ لوگ قیامت کو جھٹلا رہے ہیں تو کیا ہوا، ان سے پہلے) ثمود اور عاد نے بھی اس کھڑکھڑانے والی (قیامت) کو جھٹلایا تھا۴ تو ثمود تو بجلی کی کڑک سے ہلاک کر دیے گئے۵ اور عاد کو انتہائی تیز آندھی سے ہلاک کیا گیا۶ اللہ نے اس (آندھی) کو سات۷ منحوس راتیں اور آٹھ۸ منحوس دن ان پر مسخّر کر دیا تھا تو (اے رسول، اگر) آپ (عذاب کے بعد) ان لوگوں کو دیکھتے (تو یہ دیکھتے کہ) وہ (اس طرح زمین پر) پڑے ہوئے ہیں گویا کہ وہ کھجور کے گرے ہوئے تنے ہیں۷ تو کیا آپ ان میں سے کسی کو باقی (بچاہوا) دیکھتے ہیں۸
معانی ومصادر:(حَآقَّۃٌ) حَقَّ، يَحِقُّ، يَحُقُّ، حَقٌّ (ن ، ض)ثابت اور واجب ہونا۔(حَآقَّۃٌ = قیامت)
(قارِعَۃٌ) قَرَعَ، يَقْرَعُ، قَرْعٌَ (ف) کھٹکھٹانا ۔
(طَاغِيَةٌ) طَغَا،یَطْغُوْ،طُغْوٌ و طُغْوٌ و طُغْوَانٌ (ن)حد سے بڑھ جانا (طَاغِيَةٌ=حد سے بڑھ جانے والی)۔
طَغٰی و طَغِیَ، یَطْغٰی، طَغْیٌ، طُغْیَانٌ (ف و س) حد سے بڑھ جانا ۔
(صَرْ صَرٌ) صَرْصَرَ، يُصَرْصِرُ، صَرْصَرَۃٌ (باب فَعْلَلَۃٌ۔ رباعی مجرد ) چیخنا۔(صَرْصُرٌ = آندھی)
( عَاتِیَۃُ ) عَتَا، يَعْتُوْ، عُتُوٌّ و عُتِىٌ (ن) سرکشی کرنا۔ (عَاتِيَةٌ = سرکشی کرنے والی)
(حُسُوْمًا) حَسَمَ، يَحْسِمُ، حَسْمٌ (ض) جڑسے کاٹنا، داغ دینا (حُسُوْمٌ = حَاسِمٌ کی جمع، منحوس)
(صَرْعٰی) صَرَعَ، يَصْرَعُ صَرْعٌ و صِرْعٌ و مَصْرَعٌ (ف) زمین پر دے مارنا (صَرْعٰی = صَرِيْعٌ کی جمع، پچھاڑے ہوئے)
(اَعْجَازٌ) اَعْجَازٌ = عَجْزٌ و عِجْزٌ کی جمع کسی چیز کا آخری حصّہ، درخت کا تنہ۔
(خَاوِيَةٌ) خَوٰی، يَخْوِیْ، خَوَاءٌ (ض) گر پڑنا، خالی ہونا
تفسیر :۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اَلْحَآقَّۃُ، مَا الْحَآقَّۃُ، وَمَاۤ اَدْرٰـكَ مَا الْحَآقَّۃُ) قیامت کیا ہے؟ قیامت! اور (اے رسول) آپ کو کیا معلوم کہ کیا ہے قیامت۔ قیامت کو اَلْحَآقَّۃُ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کا واقع ہونا بالکل حق ہے، ثابت ہے، وہ آکر رہے گی، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ،
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶،آیت: ۱۲)
اللہ ان کو قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ضرور جمع کرے گا،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ۸۵
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵،آیت: ۸۵)
بےشک قیامت (ایک دن) ضرور آنے والی ہے (ہم ضرور اس دن ان کافروں سے بدلہ لیں گے) لہٰذا (اس دنیا کی زندگی میں) آپ ان کو خوب صُورتی کے ساتھ درگزر کرتے رہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَڪْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۲۶
(سُوْرَۃُ الْجَاثِیَۃِ : ۴۵،آیت: ۲۶)
(اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہی تم کو زندہ کرتا ہے، پھر وہی تم کو موت دے گا، پھر وہی تم کو قیامت کے دن جس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ۱ لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ۲
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ: ۵۶ ، آیت : ا تا ۲)
(اے لوگو) جب واقع ہونے والی (یعنی قیامت) واقع ہو گی۔ (اور) اس کے واقع ہونے میں جھوٹ کو کوئی دخل نہیں (وہ ایک حقیقت ہے، ضرور واقع ہو کر رہے گی)۔
آگے فرمایا (كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ) (یہ لوگ قیامت کو جھٹلا رہے ہیں تو کیا ہوا، ان سے پہلے) ثمود اور عاد نے بھی اس کھڑکھڑانے والی (قیامت) کو جھٹلایا تھا (فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ) تو ثمود تو بجلی کی کڑک سے ہلاک کر دیے گئے (وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍ) اور عاد کو انتہائی تیز آندھی سے ہلاک کیا گیا (سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ، حُسُوْمًا، فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰی، كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍ) اللہ نے اس (آندھی) کو سات۷ منحوس راتیں اور آٹھ۸ منحوس دن ان پر مسخّر کر دیا تھا تو (اے رسول، اگر) آپ (عذاب کے بعد) ان لوگوں کو دیکھتے (تو یہ دیکھتے کہ) وہ (اس طرح زمین پر) پڑے ہوئے ہیں گویا کہ وہ کھجور کے گرے ہوئے تنے ہیں (فَهَلْ تَرٰی لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ) (ان سب کو ہلاک کر دیا گیا۔ کسی کو باقی نہیں چھوڑا) تو کیا آپ ان میں سے کسی کو باقی (بچاہوا) دیکھتے ہیں (اگر کفّارِ مکّہ نے آپ کی اور قیامت کی تکذیب جاری رکھی تو ان کا بھی وہی حشر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آئے گا پھر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا)۔
قیامت کو قارعہ اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ ایک بُری آواز کے ساتھ واقع ہوگی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ۳۳ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِ۳۴ وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِ۳۵ وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِ۳۴
(سُوْرَۃُ عَـبَسَ: ۸۰، آیت : ۳۳ تا ۳۶)
تو جب شور مچانے والی آئے گی۔ اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اپنی ماں اور اپنے باپ سے (بھاگے گا)۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (بھاگے گا)
آٹھ۸ دن اور سات۷ راتوں کو جن کے دوران آندھی چلتی رہی منحوس کہا گیا ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ۱۸ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ۱۹ تَنْزِعُ النَّاسَ،كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ۲۰
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۱۸ تا ۲۰)
(قومِ) عاد نے بھی (اپنے رسول کی) تکذیب کی تو (دیکھ لو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا رہا۔ ہم نے ان پر ہمیشہ باقی رہنے والی نحوست کے دن ایک تیز آندھی چلائی۔ وہ (لوگوں کو) اس طرح اکھاڑ پھینکتی تھی گویا کہ وہ کھجور کے اکھڑے ہوئے درختوں کے تنے ہیں ۔
یہ سات۷ راتیں اور آٹھ۸ دن واقعی ان کے لیے بڑے منحوس تھے کہ ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
نحوست ایّام اور اشیا میں نہیں ہوتی بلکہ انسانوں کی بد اعمالی میں ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ،لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّڪُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۱۸ قَالُوْا طَآىِٕرُكُمْ مَّعَكُمْ،اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ،بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ۱۹
(سُوْرَۃُ یٰسٓ: ۳۶، آیت : ۱۸تا ۱۹)
گاؤں والوں نے کہا ہم تمھیں منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم (اپنی تبلیغ سے) باز نہ آئے تو ہم تمھیں سنگ سار کر دیں گے اور ہم سے تم کو درد ناک تکلیف پہنچے گی۔ رسولوں نے کہا تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے، اگر تم کو نصیحت کی گئی تو کیا (تم سمجھتے ہو نحوست نصیحت کی وجہ سے آئی ہے؟ نہیں) بلکہ (نحوست تمھارے بُرے اعمال کا نتیجہ ہے) تم لوگ (فِسق و فُجور میں) حد سے بڑھ گئے ہو
اگرچہ بد اعمالی نحوست کا سبب ہوتی ہے اور نحوست عذابِ الہٰی کا سبب ہوتی ہے اور عذابِ الہٰی اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے مطابق آتا ہے اس لیے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ نحوست کے نتائج اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ،قَالَ طٰٓىِٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ۴۷
(سُوْرَۃُ النَّمْلِ : ۲۷، آیت : ۴۷)
کہنے لگے (اے صالح) تمھاری اور تمھارے ساتھیوں کی نحوست میں ہم گرفتار ہیں، صالح نے کہا تمھاری نحوست تو اللہ کی طرف سے ہے بلکہ تم سب (اللہ کی طرف سے) آزمائش میں مبتلا ہو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ،وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَ مَنْ مَّعَهٗ،اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۱۳۱
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ : ۷، آیت : ۱۳۱)
تو جب کبھی انھیں خوش حالی نصیب ہوتی تو کہتے یہ ہمارا (حق) ہے اور اگر انھیں کوئی بُرائی پہنچتی تو کہتے کہ یہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست ہے، خبردار ہو جاؤ کہ ان کی نحوست تو اللہ کے پاس (مقدّر ہو چکی) تھی لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے تھے.
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
اِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِیْ شَیْءٍ فَفِی الدَّارِ وَ الْمَرْءَۃِ وَالْفَرَسِ
(صحیح بخاری کتاب النكاح باب مايتقى من شؤم المر أة جزء ۷ صفحه ۱۰،حديث : ۵۰۹۴ و صحیح مسلم كتاب الالسلام باب الطيرة و الفال جزء۲ صفحہ ۲۹۱، حديث : ۵۸۰۷/۲۳۲۵ :int)
الغرض نحوست کسی چیز میں ہوتی تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوتی۔
الغرض نحوست کسی چیز میں نہیں۔ نحوست اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے اور اس کا سبب لوگوں کی بداعمالی ہے۔
عمل
اللہ تعالیٰ پر اور اُس کے تمام رسولوں پر ایمان لایے۔
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کیجیے ۔
ترجمہ:۔ اور (اے لوگو) فرعون نے، اس سے پہلے کی (متعدّد) قوموں نے اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے گناہ کیا ۹ انھوں نے اپنے ربّ کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو بڑی سخت سزا میں پکڑ لیا ۱۰ اور (اے لوگو) جب (نوح کے زمانے میں) پانی طغیانی پر آیا تو (اس طغیانی سے پہلے ہی) ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر لیا تھا ۱۱ تاکہ اس (واقعے) کو تمھارے لیے (باعثِ عبرت و) نصیحت بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان (اس واقعے کے حالات سن کر) اسے یاد رکھیں (اور نصیحت حاصل کریں) ۱۲
معانی ومصادر: (اَلْمُؤْتَفِکٰتُ) اِئْتَفَكَ ، يَأْتَفِكَ، اِئْتِکَافٌ (باب افتعال) الٹ دینا ۔
(خَاطِئَةٌ) خَطِئَ، يَخْطَأُ ، خِطَأٌ و خِطَاَۃٌ (س) گناہ کرنا، خطا کرنا۔
(رَابِيَةٌ) رَبَا، يَرْبُوْ، رِبَاءٌ و رُبُوٌّ (ن) زیادہ ہونا ، پھلنا پھولنا۔
(تَعِیَ) (وَاعِيَةٌ ) وَعٰی، یَعِیْ ، وَعْیٌ (ض) یعنی جمع کرنا، یا درکھنا۔
تفسیر :۔ قومِ ثمود اور قومِ عاد کی ہلاکت اور تباہی کا ذِکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مزید قوموں کا ذِکر فرمایا جن کو تکذیبِ رسول کی سزا میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِ) اور (اے لوگو) فرعون نے اور اس سے پہلے کی (متعدّد) قوموں نے اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے گناہ کیا (فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً) انھوں نے اپنے ربّ کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو بڑی سخت سزا میں پکڑ لیا (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِ) {اس طرح نوح (علیہ الصّلوۃ والسّلام) کے زمانے میں} جب پانی طغیانی پر آیا (تو) ہم نے (اسلام قبول نہ کرنے والوں کو غرق کر دیا اور) تم کو ( یعنی تمھارے بزرگوں کو طغیانی سے پہلے ہی کشتی میں سوار کر لیا تھا ( اور عذاب سے بچا ليا ) (لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ) تاکہ اس (واقعے) کو تمھارے لیے (باعثِ عبرت و) نصیحت بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان (اس واقعے کے حالات سن کر) اسے یاد رکھیں (اور نصیحت حاصل کریں)۔
فرعون اور اس کی قوم کے لوگ موسیٰ علیہ الصّلوۃ والسّلام پر ایمان نہیں لائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کی قوم کو غرق کر دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ ڪَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ ڪَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ۱۳۶
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ : ۷، آیت : ۱۳۶)
بالآخر ہم ان سے بدلہ لے کر ہی رہے، ہم نے ان کو سمندر میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ (مسلسل) ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے اور ان سے غفلت برتتے رہے
فرعون سے پہلے بھی بہت سی قومیں ایمان نہ لانے کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ ڪَثِیْرًا۳۸ وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ،وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا۳۹
(سُوْرَۃ ُالْفُرْقَانِ: ۲۵، آیت : ۳۸،۳۹)
اور عادکو ثمود کو اور کنویں والوں کو اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو (ہم نے ہلاک کر ڈالا)۔اور ہر جماعت کےلیے ہم نے (عبرت ناک) مثالیں بیان کیں (لیکن جب وہ نہیں مانے) تو ہم نے ان سب کو ہلاک کر ڈالا
الٹی ہوئی بستیوں سے مراد حضرت لوط علیہ الصّلوۃ والسّلام کے زمانے کی بستیاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَ۷۳ فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ۷۴ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ۷۵
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵، آیت : ۷۳ تا ۷۵)
الغرض صبح ہوتے ہوتے ایک چنگھاڑ نے انھیں آدبوچا۔ پھر ہم نے اس (بستی کو اُلٹ کر) زیر و زبر کر دیا اور ان پر سنگِ گل کے پتّھر برسائے۔ بےشک اس قصّے میں عقل مندوں کےلیے (بڑی) نشانی ہے۔
نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام کی قوم کی تباہی کا ذِکر کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً،وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۳۷
(سُوْرَۃ ُالْفُرْقَانِ: ۲۵، آیت : ۳۷)
اور نوح کی قوم نے بھی جب رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کر دیا اور ان لوگوں کے لیے (عبرت کی) ایک نشانی بنادیا، اس کے علاوہ ظالموں کےلیے ہم نے دردناک عذاب بھی تیّار کر رکھا ہے۔
الغرض کفّارِ مکّہ کی نصیحت کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (اے کفّارِ مکّہ) تم سے پہلے کئی قو میں ایمان نہ لانے کی سزا میں تباہ و برباد کی جاچکی ہیں ۔ تم کو ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ اگر تم لوگ ایمان نہیں لائے تو تم کو بھی انھیں قوموں کی طرح تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔
عمل
اے لوگو! اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم پر ایمان لایے تا کہ آپ عذابِ الہٰی سے بچ جائیں۔
ترجمہ:۔ پھر جب صُور میں پھونک ماری جائے گی ۱۳ اور زمین کو اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا اور ان کو ایک ہی بار میں (توڑ پھوڑ کر) برابر کر دیا جائے گا ۱۴ تو اس دن قیامت واقع ہو گی ۱۵ آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن وہ بہت ہی کمزور ہو گا ۱۶ اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور (اے رسول) اس دن آپ کے ربّ کے تخت کو آٹھ۸ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے ۱۷ اس دن تم (اللہ کے سامنے) پیش کیے جاؤ گے اور تمھاری کوئی پوشیدہ بات (نہ اللہ سے پہلے پوشیدہ تھی اور) نہ (اس دن) پوشیدہ ہو گی۱۸
معانی ومصادر: (دُكَّتًا) (دَكَّةٌ) دَكَّ ، يَدُكُّ، دَكٌّ (ن) گرا کر زمین کے برابر کر دینا۔
(وَاهِيَةٌ) وَھٰی، یَہِیْ، وَھْیٌ کمزور ہونا ، پھٹ جانا۔
(اَرْ جَآءُ) اَرْجَآءٌ = رَجَا اور رَجَاءٌ کی جمع، کنارے (حروف اصلی : ر، ج ،ی)
تفسیر:۔ قیامت کا ذِکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ)پھر جب صُور میں پھونک ماری جائے گی(وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً)اور زمین کو اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا اور ایک ہی (جھٹکے) میں انھیں (توڑ پھوڑ کر ریزہ ریزہ اور) ہموار کردیا جائے گا(فَیَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ)تو اس دن قیامت قائم ہوگی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا۱۰۵ فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا۱۰۶ لَا تَرٰی فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا۱۰۷
(سُوْرَۃُ طٰہٰ : ۲۰، آیت : ۱۰۵ تا ۱۰۷)
اور (اے رسول، لوگ) آپ سے پہاڑوں کے متعلّق سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ میرا ربّ ان کو چُورا چُورا کر دے گا۔ پھر ان کو ہموار چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا۔ (اے رسول) آپ کو اس (میدان) میں نہ تو کوئی موڑ نظر آئے گا اور نہ کوئی ٹیلا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا۴ وَ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۵ فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا۶
(سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ : ۵۶، آیت : ۴ تا ۶)
(اور اے لوگو) جب (قیامت آئے گی تو) زمین بہت زور سے ہلائی جائے گی۔ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ (اور) غبار کی طرح اڑیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ۱۰
(سُوْرَۃُ وَالْمُرْسَلٰتِ: ۷۷، آیت : ۱۰)
جب پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۰
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا۱۴
(سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّلِ: ۷۳، آیت : ۱۴)
(یہ سزائیں ان کو اس دن ملیں گی) جس دن زمین اور پہاڑ لرزیں گے اور پہاڑ بُھر بُھرے ٹِیلے بن جائیں گے (یعنی یہ سزائیں ان کو قیامت کے دن ملیں گی)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا۲۰
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ: ۷۸، آیت : ۲۰)
پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو جائیں گے
الغرض قیامت کے دن پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ پہلے وہ ریت کے ٹیلوں کی شکل میں ہوں گے پھر انھیں زمین کے ساتھ ہموار میدان میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
آگے فرمایا (وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىِٕذٍ وَّاهِیَةٌ) اور (اے رسول قیامت کے دن) آسمان پھٹ جائے گا اوراس دن وہ بہت کمزور ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَڪَانَتْ اَبْوَابًا۱۹
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ: ۷۸، آیت : ۱۹)
آسمان کھول دیا جائے گا تو (اس کے کئی) دروازے ہو جائیں گے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ا)
جب آسمان پھٹ جائے گا
آگے فرمایا (وَ الْمَلَكُ عَلٰۤی اَرْجَآىِٕهَا، وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِیَةٌ) (قیامت کے دن) آسمان کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور (اے رسول) اس دن آپ کے ربّ کے تخت کو آٹھ۸ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے(یَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰی مِنْكُمْ خَافِیَةٌ) اس دن تم (اللہ کے سامنے) پیش کیے جاؤ گے اور تمھاری کوئی پوشیدہ بات (نہ اللہ سے پہلے پوشیدہ تھی اور) نہ (اس دن) پوشیدہ ہو گی۔
عمل
اے لوگو! قیامت آئے گی اور ضرور آئے گی پھر تم سے تمھارے اعمال کی بازپرس ہوگی لذٰنا اپنے اعمال کی اصلاح کیجیے۔
ترجمہ:۔ پھر جس شخص کو اس کا (اعمال) نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ (فرطِ مسّرت سے) کہے گا لو، یہ میرا (اعمال) نامہ پڑھو ۱۹ مجھے یقین تھا کہ (ایک دن) میرا حساب (تحریری صُورت میں) مجھے ملے گا ۲۰ تو (اے رسول) یہ شخص خاطر خواہ عیش (و راحت) میں ہو گا ۲۱ بلند وبالا جنّتوں میں (وہ رہے گا) ۲۲ جن (میں پھلوں) کے خوشے جُھک رہے ہوں گے ۲۳ (ان سے کہا جائے گا) جو عمل تم نے گز شتہ ایّام میں آگے بھیج دیے تھے ان کے بدلے میں بغیر مشقّت کھاؤ اور پیو۲۴
معانی ومصادر: (هَآؤُمُ) هَآؤُمُ = ھا کی جمع لو۔
(مُلٰقٍ) لَا قٰی، یُلَاقِی، مُلَاقَاۃٌ (باب مفاعلہ) ملاقات کرنا۔
(قُطُوْفٌ) قَطَفَ ، يَقْطِفُ ، قُطْفٌ، (ض) پھل توڑنا۔ (قُطُوْفٌ = قَطْفٌ کی جمع ، توڑے ہوئے پھل)۔
(دَانِيَةٌ) دَنَا، يَدْنُوْا، دُنُوٌّ (ن) قریب ہونا۔
(ھَنِیْئٌ) ھَنُؤَ، يَھْنُؤُ و ھَنَاءَةٌ و ھَنْأَۃٌ و ھَنْأٌ (ك) بغیر مشقّت کے آسان ہونا۔ (ھَنِیْئٌ = بغیر مشقّت کے ملنے والا)
(اَسْلَفْتُمْ) اَسْلَفَ، يُسْلِفُ، اِسْلَافٌ (باب افعال) آگے بھیج دینا۔
(خَالِيَةٌ)خَلَا، يَخْلُوْ، خُلُوٌّ و خَلَاءٌ(ن) خالی کرنا، گزر جانا۔
تفسیر : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذِکر فرمایا پھر فرمایا (فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ، فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْ) پھر جس شخص کو اس کا (اعمال) نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ (فرطِ مسرت سے) کہے گا: لو یہ میرا (اعمال) نامہ پڑھو(اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْ) مجھے یقین تھا کہ (ایک دن) میرا حساب ( تحریری شکل میں) مجھے ملے گا (فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ) تو (اے رسول) یہ شخص خاطر خواہ عیش (و راحت) میں ہوگا (فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍ) بلند و بالا جنّتوں میں (وہ رہے گا) (قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ) جنّت (میں پھلوں) کے خوشے جھک رہے ہوں گے (كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓـًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ) (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) جو عمل تم نے گزشتہ ایّام (یعنی دنیا کی زندگی) میں آگے بھیج دیے تھے ان کے بدلے میں بغیر مشقّت کھاؤ اور پیو۔
نیک لوگوں کے نامۂ اعمال کے سلسلے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ۷ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۸ وَ یَنْقَلِبُ اِلٰۤی اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا۹
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْشَقَّتْ: ۸۴، آیت : ۷تا۹)
پھر (اس دن) جس شخص کو اس کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ اور وہ خوش خوش اپنے گھر والوں کے پاس لوٹے گا
نیک لوگوں کے نامۂ اعمال کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے:
یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ،فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا۷۱
(سُوْرَۃُ بـنٓی اسرآئیل: ۱۷، آیت : ۷۱)
(اس دن سے ڈرو) جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے، تو جن لوگوں کو ان کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (بڑی مسرّت کے ساتھ) اپنے نامۂاعمال کو پڑھیں گے اور ان پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہ ہو گا۔
ترجمہ:۔ اور جس شخص کو اس کا (اعمال) نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا اے کاش!! میرا (اعمال) نامہ مجھے نہ دیا جاتا ۲۵ اور نہ میں یہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے ۲۶ اے کاش!! موت نے میرا کام تمام کر دیا ہوتا ۲۷ (آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا ۲۸ میری قوّت میرے پاس سے جاتی رہی ۲۹ (وہ یہ باتیں کہہ ہی رہا ہو گا کہ اللہ حکم دے گا) اسے پکڑلو اور اس کے گلے میں طوق پہنادو ۳۰ پھر اس کو دوزخ میں داخل کر دو ۳۱ پھر ایک زنجیر سے جس کی لمبائی ستّر۷۰ ہاتھ ہے اس کو جکڑدو ۳۲ یہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا ۳۳ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا ۳۴ تو آج اس کا یہاں نہ کوئی دوست ہے ۳۵ اور نہ (اس کےلیے یہاں) کوئی کھانا ہے سوائے دھووَنْ کے ۳۶ جس کو گناہ گاروں کے علاوہ کوئی نہیں کھائے گا ۳۷
معانی ومصادر: (اُوْتَ) أٰتٰى، يُؤْتِیْ، اِیْتَآءٌ (باب افعال) دینا۔
(يٰلَيْتَنِیْ) يٰلَيْتَنِیْ = اے کاش۔
(اَدْرِ) دَرٰی، یَدْرِیْ، دِرَایَۃٌ (ض) جاننا۔
(غُلُّوْا) غَلَّ، يَغُلُّ، غَلٌّ (ن) داخل کرنا، ہاتھ یا گردن میں طوق ڈالنا۔
(صَلُّوْا) صَلّٰی ، یُصَلِّیْ ، تَصْلِیَۃٌ (باب تفعیل) آگ میں داخل کرنا۔
(اُسْلُكُوْ) سَلَكَ، يَسْلُكُ، سَلْكٌ و سَلُوْكٌ (ن) داخل ہونا، داخل کرنا، پرونا۔
(غِسْلِيْنٌ) غَسَلَ، يَغْسِلُ، غَسْلٌ و غُسْلٌ (ض) دھونا (غِسْلِيْنٌ = دھووَنْ)
تفسیر : اوپر ان لوگوں کے انعام و اکرام کا ذِکر تھا جن کے داہنے ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا۔ آیات زیرِ تفسیر میں ان لوگوں کے انجام کا ذِکر ہے جن کے بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ، فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْ) اور جس شخص کو اس کا (اعمال) نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا اے کاش!! میرا (اعمال) نامہ مجھے نہ دیا جاتا (وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْ) اور اے کاش میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے (یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَ) اے کاش!! موت نے میرا کام تمام کر دیا ہوتا (مَاۤ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَهْ) (آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا (هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْ) میری قوّت میرے پاس سے جاتی رہی (خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ) (وہ یہ باتیں کہہ ہی رہا ہو گا کہ اللہ حکم دے گا) اسے پکڑلو اور اس کے گلے میں طوق پہنادو (ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُ) پھر اس کو دوزخ میں داخل کردو (ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ) پھر ایک زنجیر سے جس کی لمبائی ستّر۷۰ ہاتھ ہے اس کو جکڑدو (اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِ) یہ (وہ شخص ہے جو) عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا (وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ) اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا (فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌ) تو آج اس کا یہاں نہ کوئی دوست ہے (وَ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ) اور نہ (یہاں اس کے لیے) کوئی کھانا ہے سوائے (زخموں کے) دھووَنْ کے۔ (لَا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَ) جس کو گناہ گاروں کے علاوہ کوئی نہیں کھائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖ ۱۰ فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا۱۱ وَ یَصْلٰی سَعِیْرًا۱۲
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْشَقَّتْ: ۸۴، آیت : ۱۰ تا ۱۲)
اور جس شخص کو اس کا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ تو وہ موت موت پکارے گا۔ اور وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ جَهَنَّمَ ڪَانَتْ مِرْصَادًا۲۱ لِلطَّاغِیْنَ مَاٰبًا۲۲ لٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًا۲۳ لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًا۲۴ اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًا۲۵ جَزَآءً وِّفَاقًا۲۶ اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًا۲۷ وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًا۲۸
(سُوْرَۃُ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ: ۷۸، آیت : ۲۱ تا ۲۸)
بےشک دوزخ (سرکشوں کی) گھات میں ہے۔ سرکشوں کا ٹھکانا وہی ہے۔ اس میں وہ سالہا سال تک رہیں گے۔ وہاں وہ نہ ٹھنڈک کا مزا چکھیں گے اور نہ پینے کی کسی چیز کا۔ سوائے گرم پانی اور بہتی ہوئی پیپ کے (مزے کے)۔ ان کو ان (کی بداعمالیوں) کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ انھیں حساب (و کتاب) کا کوئی ڈر نہیں تھا۔ ہماری آیتوں کو شدّت کے ساتھ جھٹلایا کرتے تھے۔
ترجمہ: تو (اے لوگو) میں ان (تمام) چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جو تم کو نظر آتی ہیں ۳۸ اور جو تم کو نظر نہیں آتیں ۳۹ یہ (قرآن) عزّت والے رسول کا کلام ہے ۴۰ یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے، (مگر) تم لوگ کم ہی یقین کرتے ہو ۴۱ اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے لیکن تم لوگ کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو ۴۲ (اور یہ کلام رسول کا خود ساختہ نہیں ہے بلکہ یہ کلام) ربُّ العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے ۴۳ اور اگر یہ رسول کوئی بات (بناکر) ہماری طرف منسوب کر دے ۴۴ تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے ۴۵ اور ان کے دِل کی رگ کاٹ ڈالتے ۴۶ تو پھر تم میں سے کوئی بھی (ہم کو) اس کام سے روکنے والا نہیں ہوتا ۴۷ بےشک یہ (کتاب) متّقین کےلیے نصیحت ہے ۴۸ اور ہمیں معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کو جھٹلاتے ہیں ۴۹ لیکن یہ (کتاب ایک دن) کافروں کےلیے (باعثِ) حسرت ہو گی ۵۰ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ (کتاب) یقینًا حق ہے ۵۱ تو (اے رسول، اگر یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں) آپ اپنے عظمت والے ربّ کی تسبیح پڑھتے رہیے۵۲
معانی ومصادر: (کَاھِنٌ) كَھَنَ، يَكْھَنُ، کَھَانَۃٌ (ف، ن) غیب کی خبر دینا۔
كَهُنَ ، يَكْھُنُ، كَهَانَۃٌ (ك) کا ہن ہونا۔
(تَقَوَّلَ) تَقَوَّلَ، يَتَقَوَّلُ، تَقَوُّلٌ (باب تفعّل) جھوٹ بات بنانا۔
(اَقَاوِيْلُ) قَالَ، يَقُولُ، قَوْلٌ و قَالٌ و قِيْلٌ و قَوْلَةٌ و مَقَالٌ و مَقَالَۃٌ (ن)کہنا(اَقَاوِیْلُ = اَقْوَالٌ کی جمع۔ اَقْوَالٌ ، قَوْلٌ کی جمع ہے۔
(وَتِيْنٌ) وَتَنَ، يَتِنُ، وَتْنٌ و وَتِیْنٌ (ض) دِل کی رگ کو پہنچنا۔(وَتِيْنٌ = دِل کی رگ جس سے تمام رگوں میں خون جاری ہوتاہے۔)
(حَاجِزِیْنَ) حَجَزَ، یَحْجِزُ، حَجْزٌ و حِجَازَۃٌ (ض و ن) روکنا (حَاجِزٌ۔روکنے والا، اوٹ)۔
(حَسْرَۃٌ) حَسِرَ ، یَحْسَرُ ، حَسَرٌ و حَسْرَۃٌ (س) حسرت ہونا۔
تفسیر :۔ کفّارِ مکّہ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں مانتے تھے کبھی کہتے کہ یہ پریشان خیالات ہیں، کبھی کہتے محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم شاعر ہیں اور انھی کا یہ کلام ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ،
(سُوْرَۃ ُالْاَنْبِیَآءِ : ۲۱، آیت : ۵)
ظالم کہنے لگے یہ (قرآن) تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں (اگر یہ) نہیں (تو) اس کو انھوں نے خود ہی گھڑلیا ہے (اور اگر) یہ بھی نہیں (تو) یہ شاعر ہیں،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ۲۶
(سُوْرَۃُ الصّٰٓـفّٰـتِ: ۳۷، آیت : ۳۶)
اور (اس طرح) کہتے تھے کہ کیا ہم ایک دیوانے شاعر (کے کہنے) سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ۳۰
(سُوْرَۃُ الطُّوْرِ: ۵۲، آیت : ۳۰)
کیا کافر یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں، ہم ان کے معاملے میں زمانے کی گردش کا انتظار کر رہے ہیں۔ کبھی کہتے یہ کا ہن ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَذَڪِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّڪَ بِڪَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍ۲۹
(سُوْرَۃُ الطُّوْرِ: ۵۲، آیت : ۲۹)
(اے رسول) آپ نصیحت کرتے رہیے، آپ اپنے ربّ کے فضل و کرم سے نہ تو کاہن ہیں اور نہ دیوانے۔
کبھی کہتے ہیں کہ کہ ایک عجمی آدمی ان کو آ کر سکھا جاتا ہے۔ یہ اس سے سیکھ کر یہ کلام سنا دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ،لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ۱۰۳
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۱۰۳)
(اے رسول) اور ہمیں (بخوبی) علم ہے کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ رسول کو کوئی شخص سکھا جاتا ہے حالانکہ جس شخص کی طرف یہ لوگ کج روی سے نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ (قرآن) فصیح و بلیغ عربی زبان (میں) ہے (عجمی شخص ایسی فصیح و بلیغ عربی زبان کیا جانے)۔
ان تمام باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے علاحدہ علاحدہ بھی دیا ہے لیکن آیات زیرِ تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ تمام باتوں کی تردید کردی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ) تو (اے لوگو) میں ان (تمام) چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جو تم کو نظر آتی ہیں ۔ (وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَ) اور جو تم کو نظر نہیں آتیں (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍ) یہ (قرآن) عزّت والے رسول کا کلام ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ ڪَرِیْمٍ۱۹ ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍ۲۰ مُطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ۲۱
(سُوْرَۃُ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ: ۸۱، آیت : ۱۹ تا ۲۱)
بےشک یہ ایک معزّز فرشتے کا (پہنچایا ہوا) کلام ہے۔ جو (بڑا) طاقتور اور عرش والے کے پاس بلند مرتبہ ہے۔ وہ سردار ہے اور وہاں بڑا امانت دار ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰی قَلْبِڪَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۹۷
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۹۷)
(اے رسول) آپ کہہ دیجیے جو شخص جبریل کا دشمن ہو تو (اسے خبردار ہو جانا چاہیے کہ) بےشک وہی تو ہے جس نے اللہ کے حکم سے یہ کتاب آپ کے قلب پر اتاری ہے، جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ایمان والوں کےلیے ہدایت اور بشارت (کا مثردہ سناتی) ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّڪَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ۱۰۲
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۱۰۲)
(اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ اس (قرآن) کو آپ کے ربّ کی طرف سے روحُ القدس نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ (یہ قرآن) ایمان والوں کو ثابت (قدم) رکھے، مسلمین کو راہِ راست پر چلائے اور (جنّت کی) بشارت سنائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۱۹۲ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ۱۹۳ عَلٰی قَلْبِڪَ لِتَڪُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ۱۹۴ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ۱۹۵
(سُوْرَۃُ الشُّعْرَآءُ : ۲۶، آیت : ۱۹۲ تا۱۹۵)
اور (اے رسول) بےشک یہ (قرآن) ربُّ العالمین کا نازل کردہ ہے۔ اس کو امانت دار فرشتہ (جبریل) لے کر اترا ہے۔ (اور اس نے اس کو) آپ کے قلب پر (اِلقا کیا ہے) تاکہ آپ (لوگوں کو) ڈرائیں۔ (اور اِلقا بھی) صاف صاف عربی زبان میں (کیا ہے)۔
آگے فرمایا (وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ، قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ) یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے، (مگر) تم لوگ کم ہی یقین کرتے ہو (وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ، قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ) اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے لیکن تم لوگ کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو (تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ) (اور یہ کلام رسول کا خود ساختہ نہیں ہے بلکہ یہ کلام) ربُّ العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
الٓمّٓ۱ تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۲
(سُوْرَۃ ُالٓـمّٓ تَنْزِیْلُ: ۳۲، آیت : ا تا۲)
الٓمّٓ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کتاب کا نزول ربُّ العالمین کی طرف سے ہے۔
آگے فرمایا (وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ)اور اگر یہ رسول کوئی بات (بناکر) ہماری طرف منسوب کر دے(لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِ)تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے (ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْن) اور ان کے دِل کی رگ کاٹ ڈالتے (فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ) تو پھر تم میں سے کوئی بھی (ہم کو) اس کام سے روکنے والا نہیں ہوتا (وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ) اور (اے لوگو! خبر دار ہو جاؤ) یہ کلام متّقین کے لیے نصیحت ہے(اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اس کلام سے نصیحت حاصل کرتے ہیں) (وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ) اور (اے لوگو) ہمیں معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کو جھٹلاتے ہیں (وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ)اور (اے لوگو! ایک دن آئے گا کہ) یہ جھٹلانا کافروں کے لیے باعث حسرت ہوگا ( کافر کہیں گے وائے افسوس ہم کیوں نہ اس کلام پر ایمان لائے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ۲
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵، آیت : ۲)
ایک وقت آنے والا ہے جب کافر یہ تمنّا کریں گے کاش! وہ مسلم ہوتے.
آگے فرمایا (وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ)اور (اے لوگو) اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ (کلام) یقیناً حق ہے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے نال ہوا ہے)۔ (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ) (اگر یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں) آپ تو (اے رسول) اپنے عظمت والے ربّ کی تسبیح پڑھتے رہے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ثُمَّ مَضٰی فَقُلْتُ یُصَلِّیْ بِهَا فِی رَكْعَةٍ فَمَضٰى فَقُلْتُ يَرْكَعُ بِھَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَھَا ثُمَّ افْتَتَحَ اٰلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَھَا يَقْوَاُ مُتَرَسِّلًا اِذَا مَرَّ بِاٰ یَۃٍ فِیْھَا تَسْبِیْحٌ سَبَّحَ وَاِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَاَلَ وَاِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَڪَعَ فَجَعَلَ يَقُوْلُ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ فَکَانَ رُکُوْعُہٗ نَحْوًا مِنْ قِيَامِہٖ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ ثُمَّ قَامَ طَوِيْلًا قَرِيْبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعلٰی
(صحیح مسلم كتاب الصلوة باب استحباب تطويل القراءة فِی الصلوٰة الليل جزء اوّل صفحہ ۳۱۲،حديث : ۱۸۱۴ /۷۷۲ int)
میں نے ایک رات کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ نے سورۂ بقرہ شروع کی۔ میں نے (اپنے دِل میں کہا) سو۱۰۰ آیتیں پڑھ کر رکوع کریں گے لیکن آپؐ تو آگے بڑھ گئے۔ میں نے سوچا سورۂ بقرہ کو ایک رکعت میں پڑھیں گے لیکن آپؐ آگے بڑھ گئے۔ آپؐ نے سورۂ نسا شروع کر دی پھر اس کو پورا پڑھ ڈالا۔ آپؐ بہت آہستہ آہستہ قرآن کی قرأت کر رہے تھے۔ جب آپؐ ایسی آیت پر سے گزرتے جس میں تسبیح کا ذِکر ہوتا تو آپؐ تسبیح پڑھتے اور جب کسی سوال پر سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے کی آیت پر سے گزرتے تو اللہ کی پناہ طلب کرتے پھر آپؐ نے رکوع کیا اور آپؐ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ پڑھ تے رہے۔ آپؐ کا رکوع قیام کے ملت تھا پھر آپؐ نے سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ پڑھ تے رہے۔ پھر آپؐ نے رکوع کے مثل قیام کیا پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور سجدہ میں آپ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعلٰی پڑھ تے رہے۔
عمل
اے لوگو! قرآن مجید یقینًا اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس پر ایمان لیے۔ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن آپ کو اس پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے حسرت و ندامت ہو۔
اے ایمان والو! اپنے عظمت والے ربّ کی تسبیح پڑھا کیجیے۔