Al-Hujrat



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

تفسیر قرآن عزیز

جزء ۔ ۹

۴۹ سُوْرَۃُ الْحُجُرٰتِ

فہرستِ مضامین

۔ احترامِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم ۔

۔ صحابۂ کرامؓ کی خصوصیات ۔

۔ آدابِ معاشرہ ۔

۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزّت کا معیار ۔

۔ حقیقی مومن ۔

<

۴۹. سُوْرَۃُ الْحُجُرٰتِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ،اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۝۱ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَڪُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۝۲ اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰی،لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۝۳ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۝۴ وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ،وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۝۵

<

ترجمہ: اے ایمان والو، اللہ اور اُس کے رسول سے آگے نہ بڑھو، اللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے ۝۱ اے ایمان والو، اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے اونچا نہ کیا کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو نبی سے اس طرح زور سے نہ بولا کرو (کہیں ایسا نہ ہو) کہ تمھارے سارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو ۝۲ بےشک جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کے دِلوں کو اللہ نے تقوے کےلیے آزما لیا ہے، ان کےلیے مغفرت بھی ہے اور اجرِ عظیم بھی ۝۳ (اور اے رسول) جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر ناسمجھ ہیں ۝۴ اور (اے رسول) اگر وہ آواز نہ دیتے اور صبر (کے ساتھ انتظار) کرتے یہاں تک کہ آپ خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کےلیے بہتر ہوتا، (اللہ نے ان کی گزشتہ غلطی کو معاف کر دیا اس لیے کہ) اللہ بڑا بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۝۵

<

معانی و مصادر: تَحْبَطُ، حَبِطَ ، يَحْبَطُ، حَبْطٌ ، حَبُوْطٌ (س) ضائع ہونا ۔ رائیگاں ہونا۔

<

شانِ نزول: حضرت عبداللہ بن الزبیرؓ فرماتے ہیں :۔
اَنَّهٗ قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِیْ تَمِيْمٍ عَلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ اَبُوْ بَڪْرٍ : اَمِّرْ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ ، وَقَالَ عُمَرُ : بَلْ اَمِّرْ الْاَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ ، فَقَالَ اَبُوْ بَكْرٍ : مَا اَرَدْتَ اِلٰى اَوْ اِلَّا خِلَافِیْ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا اَرَدْتُ خِلَافَكَ ، فَتَمَارَيَا حَتَّی ارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُهُمَا ، فَنَزَلَ فِیْ ذٰلِكَ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَیِ اللهِ وَرَسُوْلِهٖ ، حتَّی انْقَضَتِ الْاٰيَةُ۔
(صحیح بخارى، كتاب التفسير، باب تفسير الحجرات۶/(۱۷۲-۱۷۱) حديث : ۴۸۴۷)
بنی تمیم کے کچھ سوار نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس آئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا بنی تمیم کا سردار قعقاع بن معبد کو بنا دیجیے حضرت عمرؓ نے عرض کیا نہیں اقرع بن حابس کو سردار بنا دیجیے حضرت ابوبکرؓ نے کہا: تمھارا کوئی مقصد نہیں سوائے اس کے کہ مجھ سے اختلاف کرو۔ حضرت عمرؓ نے کہا نہیں میرا مقصد اختلاف کرنا نہیں ہے۔ غرض یہ کہ دونوں میں تکرار ہوئی اور دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَیِ اللهِ وَرَسُوْلِهٖ ۔

<

تفسیر: آیات زیرِ تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے آدابِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىِ اللهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللهُ ، اِنَّ اللهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ)اے ایمان والو، اللہ اور اُس کے رسولؐ سے آگے نہ بڑھو، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے یعنی جب تک اللہ اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کوئی بات دریافت نہ کریں اس وقت تک اس بات کے سلسلے میں کچھ نہ بولا کرو، جو احکام اللہ اور اُس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم نے دیے ہیں ان کے آگے نہ بڑھو، ان میں اضافر نہ کرو، دین بس اسی کو سمجھو جو اللہ اور اُس کے رسول (صلّی اللہ علیہ وسلّم) نے دیا ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ فِيْهِ فَهُوَ رَدٌّ
(صحیح بخارى، كتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، جزء ۳ صفحه ۲۴۱، حديث : ۲۶۹۷، و صحيح مسلم، كتاب الاقضية، باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور ۶۳/۲ حديث : ۴۴۹۲/ ۱۷۱۸:int)
جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں (پہلے سے) موجود نہ ہو وہ بات مردود ہے۔
(يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصُوٰا تَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ)(اور) اے ایمان والو اپنی آواز کو نبی کی آواز سے اونچا نہ کیا کرو (وَلَا تَجْهَرُوَا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ مَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ)اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو نبیؐ سے اس طرح زور سے نہ بولا کرو (کہیں ایسا نہ ہو) کہ تمھارے (سارے) اعمال ضائع ہو جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو (اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُوْنَ اَصْوَاتَهُمْ ععِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ أُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوْبَهُمُ لِلتَّقْوٰى)بے شک جو لوگ اللہ کے رسولؐ کے پاس اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کے دِلوں کو اللہ نے تقوے کےلےئ آزمایا ہے (یعنی جو لوگ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں وہ واقعی تقوے والے ہیں، وہ واقعی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں)( لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ)ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور اجرِ عظیم بھی۔
آگے فرمایا
( اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرَاتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ) اور (اے رسول) جو لوگ آپؐ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر ناسمجھ ہیں(وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرُ الَّهُمْ، وَاللهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) اور (اے رسولؐ) اگر وہ آواز نہ دیتے اور (صبر کے ساتھ انتظار) کرتے یہاں تک کہ آپؐ خود (حجروں سے باہر) نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا (اللہ نے ان کی غلطی کو معاف کر دیا اس لیے کہ) اللہ بڑا بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے ۔
آدابِ رسول (صلّی اللہ علیہ وسلّم) کی تعلیم دیتے ہوئے ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :-
اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ،یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْڪَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ،فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ،اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۵۷
(سُوْرَۃُ الْمَآئِدَۃِ: ۵، آیت : ۱۵۷)
(میں اپنی رحمت ان لوگوں کےلیے لکھوں گا) جو رسول، نبی اُمّی کی پیروی کریں گے جن (کی بشارت اور جن کے ذِکر جمیل) کو وہ اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انھیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں، جو پاکیزہ چیزیں ان کےلیے حلال قرار دیتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتے ہیں اور جو ان (کی پیٹھوں) کے بوجھ اور ان (کی گردنوں) کے طوق ان سے اتار کر پھینک رہے ہیں، الغرض جو لوگ ان پر ایمان لائے، ان کا احترام کیا، ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان پر نازل کیا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا ڪَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤی اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْهُ،اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ،فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ،اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۝۶۲ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا،قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا،فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۝۶۳
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۶۲ تا ۶۳)
مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پرایمان لائے اور جب وہ ایسے کام کے سلسلے میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے رسول کے پاس ہوتے ہیں تو (وہاں سے) نہیں جاتے جب تک رسول سے اجازت نہ لے لیں۔(اے رسول) جو لوگ آپ سے اجازت لیتے ہیں یہ ہی لوگ (درحقیقت) اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں تو (اے رسول) جب یہ اپنے کسی کام کےلیے آپ سے اجازت مانگیں تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دے دیں اور (اے رسول) آپ ان کےلیے بخشش کی دعا کیا کریں، بےشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (اے ایمان والو) رسول کے بلانے کو ایسا نہ سمجھو جیسا تمھارا آپس میں ایک دوسرے کو بلانا، اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے چُھپ کر چُپکے سے کھسک جاتے ہیں، تو جو لوگ رسول کے حکم (یا فعل) کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں یا ان پر کوئی دردناک عذاب نہ نازل ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَی اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا،وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۵۱ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓىِٕڪَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۝۵۲
(سُوْرَۃ ُ النُّوْر: ۲۴، آیت : ۵۱ تا ۵۲)
مومنین کی شان تو یہ ہونی چاہیے کہ جب انھیں اللہ اور اُس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ (یعنی اللہ یا اُس کا رسول) ان کے درمیان فیصلہ کر دے تو وہ یہ کہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم اطاعت کریں گے اور یہ ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اُس (کی نافرمانی) سے بچتا رہے تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ مَا ڪَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَی اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ،وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا۝۳۶
(سُوْرَۃُ الْاَحْزَابِ : ۳۳، آیت : ۳۶)
کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کےلیے یہ زیبا نہیں کہ جب اللہ اور اُس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کردیں تو اس بات کے سلسلے میں انھیں کوئی اختیار باقی رہے اور جو شخص اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہو گیا۔
عمل
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلّی اللہ علیہ وسلّم) سے آگے نہ بڑھےں، شریعت اور سازی نہ کیجےا۔ جتنا بتا دیا ہے بس اتنا ہی کرتے رہیے۔
اے ایمان والو، اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی احادیث کے مقابلے میں بےادبی کا مظاہرہ نہ کیجیے۔ احادیث کو خاموشی سے سنیے اور عمل کیجیے۔

<
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ۝۶ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْڪُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ،لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِڪُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْڪُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ،اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ۝۷ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً،وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۝۸
<

ترجمہ: اے ایمان والو، اگر تمھارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو (اس کی خوب) تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ لاعلمی میں تم کسی قوم پر جا پڑو (بعد میں) تمھیں اپنے فعل پر نادم ہونا پڑے ۝۶ اور (اے ایمان والو، اس بات کو اچّھی طرح) جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، اگر وہ بہت سی باتوں میں تمھارا کہنا مان لیا کریں تو تم مشقّت میں پڑ جاؤ لیکن (یہ تو) اللہ (کا احسان ہے کہ اُس) نے ایمان کو تمھارا محبوب بنا دیا ہے اور تمھارے دِلوں میں اس کو زینت دے دی ہے اور کفر، فِسق اور نافرمانی سے تم کو متنفّر کر دیا ہے، ایسے ہی لوگ ہدایت پر ہوتے ہیں ۝۷ (یہ ہدایت) اللہ کے فضل و احسان سے (ہی ملتی ہے) اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے ۝۸

<

معانی و مصادر : ( نٰدِ مِیْنَ) نَدِمَ ، يَنْدَمُ ، نَدَمٌ و نَدَامَةٌ (س) نادم ہونا۔
(عَنِتُّمْ) عَنِتَ، یَعْنَتُ ، عَنَتٌ (س) مشکت میں پڑجانا ، ہلاک ہوتا۔
(قُسُوٌقٌ) (فَاسِقٌ) فَسَقَ ، يَفْسُقُ ، فِسْقٌ و فُسُوْقٌ (ن ، ض ، ك) طریقِ حقّ سے نکل جانا ، بُرا کام کرنا۔
(حَبَّبَ) حَبَّبَ، يُحَبِّبُ ، تَحْبِيْبٌ (باب تفعیل) محبّت دینا۔
(كَرَّہَ) كَرَّہَ ، يُكَرِّهُ ، تَكْرِيْہٌ (باب تفعیل) ناپسندیدہ کر دینا۔
(عِصْيَانٌ)عَصٰى، يَعْصِىْ ، عَصُىٌ، مَعْصِيَةٌ (ض) نافرمانی کرنا(عِصْيَانٌ= نافرمانی)۔
(رَاشِدُوْنَ) رَشَدَ ، يَرْشُدُ ، رُشْدٌ و رَشَادٌ (ن) ہدایت پانا۔

شانِ نزول: حضرت حارثؓ ابن ضرار فرماتے ہیں :۔
قَدِمْتُ عَلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَانِیْ اِلَى الْاِسْلَامِ، فَدَخَلْتُ فِيهِ، وَاَقْرَرْتُ بِهٖ، فَدَعَانِیْ اِلَى الزَّڪٰوةِ، فَاَقْرَرْتُ بِهَا، وَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، اَرْجِـعُ اِلٰى قَوْمِیْ، فَاَدْعُوْهُمْ اِلَى الْاِسْلَامِ، وَاَدَاءِ الزَّڪٰوةِ ، فَمَنِ اسْتَجَابَ لِیْ جَمَعْتُ زَكَاتَهٗ، فَيُرْسِلُ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُوْلًا لِاِبَّانِ كَذَا وَكَذَا لِيَاْتِيَكَ مَا جَمَعْتُ مِنَ الزَّڪٰوةِ ، فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّكَاةَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لَهٗ، وَبَلَغَ الْاِبَّانَ الَّذِیْ اَرَادَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ يُبْعَثَ اِلَيْهِ، احْتُبِسُ عَلَيْهِ الرَّسُوْلُ، فَلَمْ يَاْتِهِ، فَظَنَّ الْحَارِثُ اَنَّهٗ قَدْ حَدَثَ فِيْهِ سَخْطَةً مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلِهٖ، فَدَعَا بِسَرَوَاتِ قَوْمِهٖ، فَقَالَ لَهُمْ اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَقَّتَ لِیْ وَقْتًا يُرْسِلُ اِلَیَّ رَسُوْلَهٗ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدِیْ مِنَ الزَّكَاةِ، وَلَيْسَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُلْفُ، وَلَا اَرٰى حَبْسَ رَسُوْلِهٖ اِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ كَانَتْ، فَانْطَلِقُوْا، فَنَاْتِیَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلِيْدَ بْنَ عُقْبَةَ اِلَى الْحَارِثِ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدَهٗ مِمَّا جَمَعَ مِنَ الزَّكَاةِ، فَلَمَّا اَنْ سَارَ الْوَلِيْدُ حَتّٰى بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِيْقِ، فَرِقَ، فَرَجَعَ، فَاَتٰى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، اِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِی الزَّكَاةَ، وَاَرَادَ قَتْلِي، فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعْثَ اِلَى الْحَارِثِ، فَاَقْبَلَ الْحَارِثُ بِاَصْحَابِهٖ اِذْ اسْتَقْبَلَ الْبَعْثَ وَفَصَلَ مِنَ الْمَدِينَةِ، لَقِيَهُمُ الْحَارِثُ، فَقَالُوْا: هٰذَا الْحَارِثُ، فَلَمَّا غَشِيَهُمْ، قَالَ لَهُمْ: اِلَى مَنْ بُعِثْتُمْ؟ قَالُوْا: اِلَيْكَ، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالُوْا: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَعَثَ اِلَيْكَ الْوَلِيْدَ بْنَ عُقْبَةَ، فَزَعَمَ اَنَّكَ مَنَعْتَهُ الزَّكَاةَ، وَاَرَدْتَ قَتْلَهُ قَالَ: لَا، وَالَّذِیْ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، مَا رَاَيْتُهٗ بَتَّةً، وَلَا اَتَانِیْ فَلَمَّا دَخَلَ الْحَارِثُ عَلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” مَنَعْتَ الزَّكَاةَ، وَاَرَدْتَ قَتْلَ رَسُولِیْ؟ ” قَالَ: لَا، وَالَّذِیْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَاَيْتُهٗ، وَلَا اَتَانِیْ، وَمَا اَقْبَلْتُ اِلَّا حِيْنَ احْتَبَسَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَشِيْتُ اَنْ تَكُونَ كَانَتْ سَخْطَةً مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَسُوْلِهٖ. قَالَ: فَنَزَلَتِ الْحُجُرَاتُ (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ) اِلٰى هٰذَا الْمَكَانِ: فَضْلࣰا مِّنَ ٱللهِ وَنِعۡمَةً،وَٱللهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۔
(مسند امام احمد، حديث : ۸۷۶۱/ ۱۷۷۳۵/ ۱۸۴۵۹، رواتهٗ ثقات، بلوغ الامانى، جزء ۱۸ صفحه ۲۸۲ و ۲۸۳، وسنده صحیح)
میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے مجھے اسلاؔم کی دعوت دی۔ میں اسلاؔم میں داخل ہو گیا۔ پھر آپؐ نے مجھے زکوٰة کی طرف بلایا، میں نے اس کے (ادا کرنے) کا اقرار کیا۔ میں نے کہا: میں اپنی قوم کی طرف لوٹ کر جا رہا ہوں، ان کو اسلاؔم کی دعوت دوں گا اور زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے کہوں گا تو جس شخص نے میری بات مان لی میں اس کی زکوٰۃ جمع کروں گا اور فلاں فلاں وقت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم میرے پاس کسی کو بھیجیں گے کہ وہ جو زکوٰۃ میں نے جمع کی ہے اسے آپؐ کے پاس پہنچا دے (تو میں وہ زکوة اس کے حوالے کردوں گا) جب حارثؓ نے ان لوگوں سے زکوٰۃ وصول کر لی جنھوں نے حارثؓ کی بات مان لی تھی (اور اسلاؔم قبول کر لیا تھا) اور وہ وقت آپہنچا جس وقت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حارثؓ کے پاس کسی کو بھیجنے کا ارادہ کیا تھا (تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ولید کو عامِل بنا کر اس کام کے لیے روانہ کیا) لیکن وہ عامِل حارثؓ تک نہیں پہنچ سکا۔ حارثؓ نے خیال کیا کہ اللہ عزّ و جلّ اور اُس کا رسولؐ ناراض ہو گئے ہیں (اس لیے عامِل کو نہیں بھیجا) حارثؓ نے اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے میرے لیے وقت مقرّر کیا تھا کہ اس وقت آپؐ کسی عامِل کو میرے پاس بھیجیں گے تاکہ وہ زکوٰۃ کا جو مال میرے پاس ہے اسے اپنی تحویل میں لے لے۔ رسول اللہ صلّی علیہ وسلّم وعدہ خلافی تو نہیں کر سکتے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے کہ آپؐ ناراض ہیں لہذا چلو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس چلیں۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ولید بن عقبہ کو حارث کے پاس بھیجا تھا کہ وہ جو زکوٰۃ حارث نے جمع کی ہے اسے اپنی تحویل میں لے لے۔ جب ولید روانہ ہوا اور راستے میں کسی مقام پر پہنچا تو وہ ڈر کر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس لوٹ آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول حارث نے مجھے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور میرے قتل کا ارادہ کیا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حارثؓ کی طرف ایک فوجی دستہ بھیجنے کا اہتمام فرمایا۔ ادھر حارثؓ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب فوجی دستہ مدینہ سے روانہ ہو کر آگے بڑھا تو حارثؓ نے اس دستے کو (آگے بڑھتا ہوا) پایا۔ فوجی دستے کے لوگوں نے کہا : یہ حارثؓ موجود ہیں۔ پھر جب حارثؓ نے ان سے ملاقات کی تو پوچھا تم کو کس کی طرف روانہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا تمھاری طرف۔ حارثؓ نے کہا کس لیے؟ فوجی دستے کے لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے تمھاری طرف ولید بن عقبہ کو بھیجا تھا۔ اس نے (واپس آکر) بیان کیا کہ تم نے اس کو زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور اس کے قتل کا ارادہ کیا۔ حارثؓ نے کہا : نہیں قسم اُس کی جس نے محمّد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں نے اس کو قطعًا نہیں دیکھا اور نہ وہ میرے پاس آیا۔ پھر جب حارثؓ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس پہنچے تو آپؐ نے فرمایا کیا تم نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا اور میرے عامِل کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حارثؓ نے کہا نہیں قسم اُس ذات کی جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے نہ میں نے اس کو دیکھا اور نہ وہ میرے پاس آیا اور میں روانہ نہیں ہوا مگر اس وقت جب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا عامِل (مجھ تک) نہ پہنچ سکا۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ (عامِل کا نہ پہنچنا) کہیں اس سبب سے تو نہیں کہ اللہ عزّ و جلّ ناراض ہو گئے ہیں۔ اس وقت (سورہ حجرات کی یہ آیتیں نازل ہوئیں : يَاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سے عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ تک۔

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (یٰۤا يُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاّ اِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْا) اے ایمان والو، اگر تمھارے پاس کوئی فاسق (یا نامعتبر آدمی) خبر لائے تو (اس کی خوب) تحقیق کر لیا کرو (اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمُ نٰدِ مِيْنَ) (کہیں ایسانہ ہو) کہ وہ (خبر غلط نکلے اور) تم لاعلمی میں کسی قوم پر جا پڑو پھر (بعد میں) تمھیں اپنے اس فعل پر جو تم کہ بیٹھو نادم ہونا پڑے (یعنی بغیر تحقیق کے کسی قوم پر حملہ کیا کرو ہو سکتا ہےکہ وہ قوم بےگناہ ہو او تم اس کے ساتھ زیادتی کر بیٹھ پھر تمھیں اپنی جلد بازی پر ندامت ہو) (وَاعْلَمُوْاۤ اَنَّ فِيْكُمْ رَسُوْلَ اللهِ) اور (اے ایمان والو) اچّھی طرح جان لو کہ تم میں اللہ کے رسولؐ موجود ہیں (تمھیں ان کی اطاعت کرنی چاہیے نہ یہ کہ وہ تمھاری اطاعت کریں) (لَوْ يُطِيْعُكُمْ فِیْ كَثِيْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ) اگر وہ بہت سی باتوں میں تمھارا کہنا مان لیا کریں (اور تمھاری خواہش کو پورا کر دیا کریں) تو تم مشقّت میں پڑ جاؤ (تمھیں کیا معلوم کہ کس کام کا کیا انجام ہونے والا ہے، نہ تمھیں یہ معلوم کہ کسی کام میں کیا کیا مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہیں، رسولؐ اپنے منصبِ رسالت کی وجہ سے بذریعہ وحی تمھارے کاموں کی مصلحتوں اور حکمتوں سے واقف ہیں، وہ تم پر بہت شفیق ہیں، وہ تمھیں کسی مشقّت میں مبتلا کرنا نہیں چاہتے لہٰذا ان کی اطاعت ہی میں تمھارا فائدہ ہے ان کی نافرمانی میں تمھارا نقصان ہے)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی شفقت اور مہربانی کا ذِکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-

لَقَدْ جَآءَڪُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۝۱۲۸
(سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ : ۹، آیت : ۱۲۸)
(اے لوگو) تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آ گئے ہیں، (جن کی خیر خواہی اور شفقت کا حال یہ ہے کہ) تمھاری تکلیف ان پر (بڑی) گراں گزرتی ہے، وہ تمھاری فلاح و بہبود کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں اور مومنین پر تو وہ (خصوصیت کے ساتھ) بہت (ہی) مہربان اور بہت (ہی) رحم کرنے والے ہیں۔
آگے فرمایا
(وَلٰكِنَّ اللهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِیْ قُلُوبِکُمْ) لیکن یہ تو (اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اُس نے) ایمان کو تمھارا محبوب بنا دیا ہے اور تمھارے دِلوں میں اس کو زینت دے دی ہے (وَکَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ) اور کفر، فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کر دیا ہے (اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ) ایسے ہی لوگ ہدایت یاب ہوتے ہیں (فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَ نِعْمَةً) یہ ہدایت اللہ کے فضل اور احسان سے (ہی ملتی ہے۔ یہ اُسی کا احسان ہے کہ اس نے ایمان کو تمھارا محبوب بنا دیا اور معصیت و نافرمانی سے تمھارے دِلوں کو متنفّر کر دیا) (وَاللهُ عَلِيْمٌ حَكِیْمٌ) اور (اے ایمان والو) الله عِلم والا، حکمت والا ہے (وہ ہی جانتا ہے کہ کس کام میں کیا حکمت ہے لہذا رسوں کے توسط سے اس کا کہنا مانتے رہو۔)
عمل
اے ایمان والو غیرمعتبر شخص کی خبر کی فورًا تصدیق نہ کیا کیجیے۔ پہلےتحقیق کیا کیجیے اور پھر اس کے مطابق عمل کیا کیجیے۔
اے ایمان والو، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کیجیے، ایمان کو اپنا محبوب بنانے اور کفرو نافرمانی سے بچنے کی کوشش کیجیے اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کیجیے۔

<
وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا،فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللّٰهِ،فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا،اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۝۹ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۝۱۰
<

ترجمہ: اور (اے ایمان والو) اگر مومنین کی دو۲ جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دیا کرو، پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کر دے تو تم اس سے لڑو جو زیادتی کرے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ (اللہ کے حکم کی طرف) لوٹ آئے تو ان دونوں میں انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور (دیکھو ہر حال میں) انصاف ہی کیا کرو، بےشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۝۹ یقیناً مومنین تو آپس میں بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان (ضرور) صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ (اللہ کی طرف سے) تم پر رحم کیا جائے ۝۱۰

<

معانی و مصادر: (بَغَتْ) بَغٰی ، یَبْغِیْ ، بَغْیٌ ، بُغًی و بُغَاءٌ و بَغْیَہٌ (ض) طلب کرنا ، زیادتی کرنا ، نافرمانی کرنا۔
(فَاءَتْ) فَاءَ ، يَفِیْءُ ، فَیْءٌ (ض) مال غنیمت حاصل کرنا، لوٹنا ، بدل جانا۔
(عَدْلٌ) عَدَلَ ، يَعْدِلُ ، عَدْلٌ (ض) انصاف کرنا ، سیدھا کرنا ، برابر کرنا ، راہ سے مڑ جانا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا) اور (اے ایمان والو) اگر مومنین کی دو۲ جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دیا کرو (فَاِنْ بَغَتْ اِحْدٰ هُمَا عَلَى الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حتّٰی تَفِیْۤءَ اِلٰى اَمْرِ اللهِ)پھر اگر ان دونوں میں سے ایک (جماعت) دوسری (جماعت) پر زیادتی کرے تو تم اس سے لڑو جو زیادتی کرے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے (یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق فیصلے کے لیے آمادہ ہو جائے) (فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ) پھر اگر (زیادتی کرنے و کرنے والی جماعت) اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو ان دونوں میں انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور (دیکھو ہر حال میں) انصاف ہی کیا کرو، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی وَ یَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ،یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۝۹۰
(سُوْرَۃُ النَّحْلِ: ۱۶، آیت : ۹۰)
(اور اے ایمان والو) بےشک اللہ انصاف، احسان اور رشتے داروں کو (مالی امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، بُری بات اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے (اے ایمان والو) اللہ تمھیں نصیحت کر رہا ہے تاکہ تم (ان باتوں کا خاص) خیال رکھو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ڪُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ،وَ لَا یَجْرِمَنَّڪُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعْدِلُوْا،اِعْدِلُوْا،هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی،وَ اتَّقُوا اللّٰهَ،اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۸
(سُوْرَۃُ الْمَآئِدَۃِ: ۵، آیت : ۸)
اے ایمان والو، (محض) اللہ (کی رضا) کےلیے انصاف کے ساتھ گواہی دینے کےلیے کھڑے ہو جایا کرو اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو (نہیں) انصاف ہی کیا کرو یہ ہی تقوے کے قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ تمھارے اعمال سے باخبر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ،وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ،اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ،لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ،لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ،اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا،وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ۝۱۵
(سُوْرَۃُ الشُّوْرٰی : ۴۲، آیت : ۱۵)
(اے رسول) کہہ دیجیے کہ میں اس کتاب پر ایمان لایا جو اللہ (تعالیٰ) نے نازل کی ہے، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم لوگوں کے درمیان انصاف کروں، اللہ ہی ہمارا بھی ربّ ہے اور تمھارا بھی ربّ ہے، ہمارے اعمال ہمارے لیے اورتمھارے اعمال تمھارے لیے ہیں، ہم میں اور تم میں کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہم سب کو (ایک دن) جمع کرے گا اور اُسی کی طرف (ہم سب کو) لوٹ کر جانا ہے (وہی فیصلہ کرے گا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَهْلِهَا،وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ،اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ،اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۝۵۸
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۵۸)
(اے ایمان والو) اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کے حوالے کر دیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بےشک اللہ تم کو اچّھی اچّھی نصیحتیں کر رہا ہے، بےشک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ،وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِڪُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ،ذٰلِڪُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّڪُمْ تَتَّقُوْنَ۝۱۵۳
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۱۵۳)
اور (اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ) میرا سیدھا راستہ تو یہ ہی ہے، بس اس کی پیروی کرو اور (دوسرے) راستوں پر نہ چلنا ورنہ وہ راستے تم کو اللہ کے راستے سے علیٰحدہ کر دیں گے، اللہ (قرآن مجید کے ذریعے) تم کو ان باتوں کا حکم دے رہا ہے تاکہ تم متّقی بن جاؤ۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
اِنَّ الْمُقْسِطِيْنَ عِنْدَ اللهِ عَلٰى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَنْ يَّمِيْنِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِيْنُ، اَلَّذِيْنَ يَعْدِلُونَ فِیْ حُكْمِهِمْ وَاَهْلِيْهِمْ وَمَا وَلُوْا۔
(صحیح مسلم، كتاب الامارة، باب فضيلة الإمام العادل، جزء ۲ صفحه ۱۲۴، حديث : ۴۷۲۱/ ۱۸۲۷:int)
جو لوگ انصاف کرتے ہیں وہ اللہ عزّ وجلّ کی داہنی طرف نور کے منبروں پر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ واہنے ہیں اور یہ انصاف کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اپنے حکم میں، اپنے اہل و عیال میں اور جس کام کا والی انھیں بنایا جائے اس میں انصاف کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
سَبْعَةٌ يُّظِلُّهُمُ اللهُ فِیْ ظِلِّهٖ يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّهٗ ، اِمَامٌ عَدْلٌ وَّشَابٌّ نَشَاَ فَیْ عِبَادَةِ اللهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهٗ مُعَلَّقٌ فِی الْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِی اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَاَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَّجَمَالٍ , فَقَالَ : اِنِّیْۤ اَخَافُ اللهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَاَخْفَاهَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُهٗ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهٗ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ۔
(صحیح بخارى، كتاب الزكٰوة، باب الصدقة باليمين، جزء ۲ صفحه ۱۳۸، (حديث : ۱۴۲۳، و صحيح مسلم، كتاب الزكٰوة، باب فضل إخفاء الصدقة، جزء ۲ صفحه ۴۱۲، حديث : ۲۳۸۰/ ۱۰۳۱int:)
سات۷ آدمیوں کو اللہ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اُس کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا : ایک تو عادل امیر، دوسرے وہ جوان جس نے اللہ کی عبادت میں پرورش پائی ، تیسرے وہ شخص جس کا دِل مسجد میں لٹکا ہوا رہتا ہے ، چوتھے وہ دو۲ آدمی جنھوں نے اللہ کے لیے محبّت کی پھر اس محبّت پر اکٹھے ہوئے اور اسی محبّت پر جدا ہوئے، پانچویں وہ مرد جس کو ایک مرتبہ والی خوبصُورت عورت نے بلایا تو اس نے کہا میں اللہ سے ڈرتا ہوں چھٹے وہ شخص جس نے صدقہ دیا پھر اس کو اتنا چھپایا کہ الٹے ہاتھ کو خبر نہیں ہوئی کہ سیدھے ہاتھ نے کیا دیا، ساتویں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا پھر اس کے آنسو بہ نکلے۔
آگے فرمایا (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ) مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے دو۲ بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ (اللہ کی طرف سے) تم پر رحم کیا جا تم جائے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اس آیت پر عمل کر کے دکھایا۔
حضرت سہیل بن سعد کہتے ہیں :-
اَنَّ اَهْلَ قُبَآءِ اقْتَتَلُوْا حتّٰی تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ ، فَاُخْبِرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذٰلِكَ، فَقَالَ اذْهَبُوْا بِنَا نُصْلِحْ بَيْنَهُمْ۔
(صحیح بخارى، كتاب الصلح،باب قول الإمام لأصحابه اذهبوا بنا نصلح،جزء ۳ صفحه ۲۴۰، حديث: ۲۶۹۳)
قباء کے لوگ آپس میں لڑ پڑے یہاں تک کہ خبر انھوں نے ایک دوسرے پر پتّھر پھینکے۔ یہ خبر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو دی گئی۔ آپؐ نے فرمایا چلو ہم ان کے پاس چلیں تاکہ ان کے درمیاں صلح کرادیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کو دوسرے مومن کا بھائی قرار دیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ دونوں مثل بھائیوں کے زندگی گزاریں، جس طرح اپنے سگے بھائیوں کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح آپس میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں، جس طرح اپنے سگے بھائی کے نقصان کو پسند نہیں کرتے اسی طرح آپس میں ایک دوسرے کے نقصان کو پسند نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا،وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْڪُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا،وَ ڪُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا،كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۝۱۰۳
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۰۳)
اور (اے ایمان والو) تم سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور فرقے فرقے نہ بنو، اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اُس نے تم پر کی وہ یہ کہ ایک وقت وہ تھا کہ تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے، اللہ نے تمھارے دِلوں میں اُلفت ڈال دی پھر تم اللہ کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے، تم دوزخ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا، اللہ وضاحت کے ساتھ اپنی آیتوں کو بیان کر رہا ہے تاکہ تم ہدایت یاب ہو جاؤ (اور پھر اسی تفرّقہ بازی میں مبتلا نہ ہو جاؤ)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
اِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا
(صحیح بخارى، كتاب الادب، باب يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن، جزء ۸ صفحه ۲۳، حديث : ۶۰۶۶، و صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم الظن، جزء ۲ صفحه ۲۳، حديث : ۶۵۳۰/ ۶۵۵۹ int. : و حديث : ۶۵۳۶/۶۵۶۳int.: وزاد مسلم فى رواية وَلَا تَقَاطَعُوْا، وَلَا تَنَافَسُوْا)
بدگمانی سے بچو بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے کسی کی خفیہ، باتوں کو نہ معلوم کرو، کسی کا عیب نہ تلاش کرو، قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، حسد، بغض، قطع تعلّق، قطع رحمی نہ کرو اور دنیا کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو، اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کے رہو۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
لَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا ، وَّلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ يَهْجُرَ اَخَاهُ فَوْقَ ثَلٰثِ لَيَالٍ۔
(صحیح بخارى، كتاب الادب، باب الهجرة، جزء ۸ صفحه ۲۵، حديث : ۶۰۷۶، و صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب النهى عن التحاسد،جزء۲ صفحه ۴۲۲، حديث : ۶۵۲۶/ ۲۵۵ : int و حديث : ۲۵۵۹:int)
ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، نہ حسد کرو اور نہ قطع تعلّق کرو بلکہ اللہ کے بندے سب بھائی بھائی بن جاؤ۔ کسی مسلؔم کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلؔم بھائی سے تین۳ راتوں سے زیادہ ناراض رہے اور اسے چھوڑ دے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ اَنْ يَهْجُرَ اَخَاهُ فَوْقَ ثَلٰثِ لَيَالٍ ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هٰذَا وَيُعْرِضُ هٰذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِیْ يَبْدَاُ بِالسَّلَامِ
(صحیح بخارى، كتاب الادب، باب الهجرة، جزء ۸ صفحه ۲۶،حديث : ۶۰۷۷، و صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم الهجر فوق ثلاث، جزء ۲ صفحه ۴۲۳، حديث : ۶۵۳۲/ ۲۵۶۰:int)
کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ تین۳ راتوں سے زیادہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے، دونوں ملاقات کریں اور ایک دوسرے سے منھ پھیر لیں اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهٗ بَعْضًا۔
ایک مومن (دوسرے) مومن کے لیے مثل عمارت کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو تقویت پہنچاتا ہے۔
حضرت ابو موسٰیؓ کہتے ہیں :۔
ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ اَصَابِعِهٖ۔
(صحیح بخارى، كتاب الأدب، باب تعاون المؤمنين بعضهم بعضا، جزء ۸ صفحه ۱۴، حديث : ۶۰۲۶، و صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تراحم المؤمنين، جزء ۲ صفحه ۴۳۱، حديث : ۶۵۸۵/ ۲۵۸۵ :int) پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اپنی انگلیوں میں تشبیک کی (یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا۔ مطلب یہ کہ جس طرح انگلیاں آپس میں مل کر ایک دوسرے کی تقویت کا سبب ہیں اسی طرح مومنین کو بھی مِل کر اتّفاق و اتحاد سے رہنا چاہیے تاکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت کا سبب بن سکیں)۔
(نوٹ: صحیح مسلم میں انگلیوں میں انگلیاں ڈالنے کا ذِکر نہیں ہے)۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهٗ وَلَا يُسْلِمُهٗ ، وَمَنْ كَانَ فِیْ حَاجَةِ اَخِيْهِ كَانَ اللهُ فِیْ حَاجَتِهٖ ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(صحیح بخارى، كتاب المظالم، باب لا يظلم المسلم المسلم، جزء ۳ صفحه ۱۶۸، حديث : ۲۴۴۲، و صحيح مسلم، كتاب البر، باب تحريم الظلم، جزء ۲ صفحه ۴۳۰، حديث : ۶۵۷۸/ ۲۵۸۰: int)
مسلم مسلم کا بھائی ہے نہ خود اس پر ظلم کرے اور نہ اس کو (کسی ظالم کے) حوالے کرے۔ جو شخص اپنے بھائی کے کام میں اس کی مدد کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے کام میں اس کی مدد کرے گا اور جو شخص کسی مسلم سے کسی مصیبت کو دور کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کی ایک مصیبت اس پر سے دور کر دے گا اور جو شخص مسلم کا عیب چھپائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا عیب چھپائے گا۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
اُنْصُرْ اَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا ، قَالُوا يَا رَسُوْلَ اللهِ ، هٰذَا نَنْصُرُهٗ مَظْلُوْمًا ، فَكَيْفَ نَنْصُرُهٗ ظَالِمًا قَالَ تَاْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ۔
(صحیح بخارى، كتاب المظالم، باب أعن أخَاك ظالما أو مظلوما، جزء ۳ صفحه ۱۶۸، حديث : ۲۴۴۴ ، وروى مسلم، نحوهُ فى كتاب البر، باب نصر الأخ ظالما أو مظلوما، جزء ۲ صفحه ۴۳۱، حديث : ۶۵۸۲/ ۲۵۸۴: int)
اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ(صلّی اللہ علیہ وسلّم) وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کریں لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کریں۔ آپؐ نے فرمایا اس کا ہاتھ پکڑ لو (یعنی اس کو ظلم سے روک دو)

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا يَبِـعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهٗ وَلَا يَخْذُلُهٗ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوٰى هٰهُنَا وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَارٍ بِحَسْبِ امْرِءٍ مِنَ الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهٗ، وَمَالُهٗ، وَعِرْضُهٗ۔
(صحیح مسلم، كتاب البر، باب تحريم ظلم المسلم، جزء ۲ صفحه ۴۲۴، حديث : ۶۵۴۱/ ۲۵۶۴: int)
حسد نہ کرو، قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے قطع تعلّق نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کی بولی پر بولی نہ لگائے۔ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ مسلم مسلم کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اس کو چھوڑے نہ اس کو حقیر سمجھے، تقویٰ یہاں ہے آپؐ نے اپنے سینے کی طرف تین۳ مرتبہ اشارہ کیا۔ مسلؔم کے لیے یہ ہی بُرائی کافی ہے کہ اپنے مسلم بھائی کو حقیر سمجھے۔ مسلم کی سب چیزیں اس کا خون، اس کا مال اور اس کی (عزّت اور) آبرو (دوسرے) مسلؔم پر حرام ہیں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوْفِ شَيْئًا وَلَوْ اَنْ تَلْقٰى اَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ۔
(صحیح مسلم، كتاب البر، باب استحباب طلاقة الوجه، جزء ۲ صفحه ۴۴۵، حديث : ۶۶۹۰/ ۲۶۲۶: int)
کسی نیک کام کو حقیر نہ سمجھو اگرچہ (وہ کام) اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا (ہی کیوں نہ ہو)۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ فِیْ تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ ، اِذَا اشْتَكٰى عُضْوًا تَدَاعٰى لَهٗ سَائِرُ جَسَدِهٖ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰى۔
(صحیح بخارى، كتاب الأدب، باب رحمة الناس والبهائم، جزء ۸ صفحه ۱۲، حديث : ۶۰۱۱، صحيح مسلم، كتاب البر، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم، جزء ۲ صفحه ۴۳۱، حديث : ۶۵۸۶/ ۲۵۸۶: int)
مومنین سب ایک دوسرے پر رحم کرنے، محبت کرنے اور مہربانی سے پیش آنے میں ایک جسم کی مانند ہیں۔ جب جسم میں ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے اعضا بے چین ہو جاتے ہیں نیند نہیں آتی اور بخار چڑھ جاتا ہے۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
اَلْمُسْلِمُوْنَ كَرَجُلٍ وَّاحِدٍ اِنْ اشْتَكٰى عَيْنُهُ اشْتَكٰى كُلُّهٗ وَاِنْ اشْتَكٰى رَاْسُهُ اشْتَكٰى كُلُّهٗ۔
(صحيح مسلم، كتاب البر، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم، جزء ۲ صفحه ۴۳۲، حديث : ۶۵۸۹/ ۲۵۸۶: int)
مسلمین شخص واحد کے مانند ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا پورا جسم تکلیف پاتا ہے اور اگر اس کے سر میں درد ہوتا ہے تو اس کا پورا جسم درد و کرب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-

لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰی يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ۔
(صحیح بخارى، كتاب الإيمان، باب من الإيمان أن يحب لأخيه ما يحب لنفسه، جزء اول صفحه ۱۰، حديث : ۱۳)
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ ہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
عمل
اے ایمان والو، بھائی بھائی بن کر رہیے۔ اپنے مومن بھائی سے اس طرح محبّت کیجے جس طرح اپنے سگے بھائی سے محبّت کی جاتی ہے۔
اے ایمان والو، اگر دو۲ مسلم جماعتوں میں لڑائی ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کیجیے۔ اگر ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے گروہ سے اس وقت تک لڑیے جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق فیصلہ ماننے پر آمادہ نہ ہو جائے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق فیصلہ ماننے کے لیے تیّار ہو جائے تو ان دونوں میں انصاف کے ساتھ صلح کرا دیجیے۔

اے ایمان والو، ہمیشہ اور ہر موقع پر انصاف کیا کیجیے۔ اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

<
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ،وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَڪُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ،بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ،وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۱۱
<

ترجمہ: اے ایمان والو، کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ہو سکتا ہے وہ لوگ (جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے) مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں اور (یہ حکم صرف مردوں ہی کےلیے نہیں بلکہ) عورتیں بھی (دوسری) عورتوں کا مذاق نہ اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ (عورتیں جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے) مذاق اڑانے والی عورتوں سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب سے منسوب نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے پکارو، ایمان (لانے) کے بعد (کسی کا) بُرا نام (رکھنا) گناہ ہے اور جو لوگ (ان باتوں سے) توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۝۱۱

<

معانی و مصادر: (يَسْخَرُ)، سَخِرَ ، یَسْخَرُ ، سَخَرٌ و سَخْرٌ و سُخْرٌ و سُخُرٌ و سُخْرَةٌ وَ مَسْخَرٌ (س) مذاق کرنا۔
(تَلْمِزُ) لَمَزَ، يَلْمِزُ، يَلْمُزُ ، لَمْزٌ (ن و ض) مارنا ، عیب لگانا ، کلامِ خفی کے ساتھ آنکھ مارنا ، دھکا دینا۔
(تَنَابَزُوْا) تَنَابَزَ، يَتَنَابَزُ، تَنَابُزٌ (باب تفاعل) باہم عار دلانا، ایک دوسرے کو بڑا لقب دینا۔

<

شان نزول: حضرت ابی جبیرؓ بن الضحاک کہتے ہیں :۔
كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَكُوْنَ لَهُ الْاِ سْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فَيُدْعٰى بِبَعْضِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَعَسٰى اَنْ يَّكْرَهَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ‏‏‏‏ فَنَزَلَتْ هٰذِهِ الْاٰيَةُ‏‏‏ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْاَلْقَابِ
(رواه الترمذى، و صححه، فى ابواب تفسير القراٰن، جزء ۲ صفحه ۴۳۸، حديث : ۳۲۶۸)
ہمارے ایک ایک آدمی کے دو دو اور تین تین نام تھے اور بعض نام سے پکارنا ان کو بُرا لگتا تھا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی وَلَا تَنَا بَزُوْا بِالْاَلْقَابِ یعنی لوگوں کو بُرے لقب سے نہ پکارو۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (یٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَايَسْخَرْقَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَانِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ) اے والو، کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ہو سکتا ہے کہ وہ (لوگ جن کا مذاق اڑایا گیا ہے) ان (لوگوں) سے (جنھوں مذاق اڑایا ہے) بہتر ہوں، اور نہ عورتیں (دوسری) عورتوں کا مذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ (عورتیں جن کا مذاق اڑایا گیا ہے) ان (عورتوں) سے (جنھوں نے مذاق اڑایا ہے) بہتر ہوں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذاق میں کسی کی توہین کرنے آبرو ریزی کرنے اور پھبتی اڑانے سے منع فرمایا ہے۔ اگرچہ قوم کے لفظ میں عورتیں بھی شامل تھیں لیکن پھر بھی ان کا علحدہوہ ذِکر اس مقصد سے کیا گیا کہ مذاق اڑانے کی خصلت عمومًا عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔
کسی مومن کی آبرو ریزی کرنا قطعًا حرام ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں :
خَطَبَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ : يٰۤا اَيُّهَا النَّاسُ اَیُّ يَوْمٍ هٰذَا قَالُوْا يَوْمٌ حَرَامٌ ، قَالَ فَاَیُّ بَلَدٍ هٰذَا قَالُوْا بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ فَاَیُّ شَهْرٍ هٰذَا قَالُوْا شَهْرٌ حَرَامٌ قَالَ فَاِنَّ دِمَاءَڪُمْ وَاَمْوَالَكُمْ وَاَعْرَاضَكُمْ ( وَفِىْ رِوَايَةِ الْبُخَارِى عَنْ اَبِی بَكْرَةَ وَاَبْشَارَكُمْ) عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِیْ بَلَدِكُمْ هٰذَا فِیْ شَهْرِكُمْ هٰذَا ، فَاَعَادَهَا مِرَارًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَهٗ ، فَقَالَ اللّٰهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللّٰهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ (قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللهُ عَنْهُمَا فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِيَدِهٖ اِنَّهَا لَوَصِيَّتُهٗ اِلٰى اُمَّتِهٖ) فَلْيُبْلِغْ الشَّاهِدُ الْغَآئِبَ لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ كُفَّارًا يَّضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔
(صحیح بخارى، كتاب الحج، باب الخطبة أيام منًى، جزء ۲ صفحه ۲۱۵،حديث : ۱۷۳۹)، كتاب الفتن، باب قول النبي صلى اللّٰه عليه وسلم لا ترجعہ ا بعدی كفارا، جزء ۹ صفحه ۶۳، حديث : ۷۰۷۸ ، وروى مسلم، نحوه فى صحيحه، عن ابى بكرة، كتاب القسامة، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض، جزء ۲ صفحه ۴۲، حديث : ۴۳۸۳/ ۱۶۷ int. : و حديث : ۴۳۸۶/۱۶۷۹. )
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ۱۰/ ذو الحجّہ کو لوگوں کو خطاب فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا لوگو، یہ کو نسا دن ہے؟ انھوں نے کہا یہ حرمت والا دن ہے۔ آپؐ نے فرمایا یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپؐ نے فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے۔ لوگوں نے کہا یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تمھارے خون، تمھارے مال، تمھاری آبروئیں، تمھاری جلدیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح اس دن کی اس شہر میں اس مہینہ میں حرمت ہے۔ کئی مرتبہ آپؐ نے اس کلمے کو دہرایا۔ پھر آسمان کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا اے اللہ میں نے (تیرا حکم) پہنچا دیا اے اللہ میں نے پہنچا دیا (ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا قسم اُس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں آپؐ کی اپنی امّت کو وصیّت تھی) جو یہاں موجود ہیں وہ ان کو پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مارکر کافر نہ بن جانا۔

نوٹ : (صحیح بخاری میں یہ روایت حضرت ابن عباسؓ کا اور حضرت ابی بکرہؓ دونوں سے مروی ہے۔ صحیح مسلم میں صرف حضرت ابی بکرہؓ سے ہے)۔
آگے فرمایا (وَلَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ) اور (اے ایمان والو) آپس میں ایک دوسرے کو عیب سے منسوب نہ کرو۔
اپنے مسلم بھائی کے عیب کو چھپائے۔ عیب کو ظاہر کر کے اپنے بھائی کو رسوا نہ کرے ۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :۔
مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
(صحیح بخارى، كتاب المظالم، باب لا يظلم المسلم المسلم، جزء ۳ صفحه ۱۶۸، حديث : ۲۴۴۲، و صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، جزء ۲ صفحه ۴۳۰، حديث : ۶۵۷۸/ ۲۵۸۰: int)
جو شخص کسی مسلم کا عیب چھپائے اللہ قیامت کے دن اس کا عیب چھپائے گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :۔
لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا اِلَّا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
(صحیح مسلم، كتاب البر والصلة، باب بشارة من ستر اللّٰه تعالیٰٰ عيبه، جزء ۲ صفحه ۴۳۳، حديث : ۶۵۹۵/ ۲۵۹۰: int)
کوئی بندہ کسی (دوسرے) بندے کے عیب کو نہیں چھپاتا مگر یہ کہ اللہ قیامت کے دن اس کے عیب کو چھپائے گا۔
جو عیب کسی مسلم بھائی میں نہ ہو اس کو اس کی طرف منسوب کرنا تو اور بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
لَا يَرْمِیْ رَجُلٌ رَّجُلًا بِالْفُسُوْقِ وَلَا يَرْمِيْهِ بِالْكُفْرِ اِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ اِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهٗ كَذٰلِكَ
(صحیح بخارى، كتاب الادب، باب ما ينهى من السباب واللعن، جزء ۸ صفحه ۱۸، حديث : ۶۰۴۵)
اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو فاسق یا کافر کے اور وہ شخص فاسق یا کا فرنہ ہو تو تہمت کا وہ کلمہ کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔
آگے فرمایا (وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ، بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ) اور (اے ایمان والو) ایک دوسرے کو بُرے القاب سے نہ پکارا کرو، ایمان (لانے) کے بعد (کسی کا) بُرا نام رکھنا) گناہ ہے۔
حکمِ الٰہی کا منشا یہ ہے کہ کسی کو ایسے بُرے لقب سے نہ پکارے جس سے اسے غصّہ آئے یا جو لقب اسے بُرا لگے یا جس لقب سے اس کی توہین، تضحیک اور رُسوائی ہوتی ہو۔
آگے فرمایا (وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُو لٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ) اور جو لوگ ان باتوں سے توبہ نہ کریں وہ ہی ظالم ہیں۔
اس آیت کا منشا یہ ہے کہ مندرجہ ذیل کام نا جائز ہیں۔ اور ان سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
۝۱کسی کا مذاق اڑانا،
۝۲کسی پر عیب لگانا اور
۝۳کسی کو میرے لقب سے پکارنا۔
عمل
اے ایمان والو، کسی کا مذاق نہ اڑایے، کسی پر عیب نہ لگایے اور نہ کسی کو بُرے لقب سے پکاریے۔

<
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ،اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا،اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَڪَرِهْتُمُوْهُ،وَ اتَّقُوا اللّٰهَ،اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ۝۱۲
<

ترجمہ: اے ایمان والو، بہت گمان کرنے سے بچا کرو اس لیے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، کسی کی عیب جوئی نہ کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو کیا تم کو اس سے کراہت (نہیں) آئے گی اور (دیکھو) اللہ سے ڈرتے رہو (توبہ کرو) بےشک اللہ توبہ قبول کرنے والا (اور) بہت رحم کرنے والا ہے۝۱۲

<

معانی و مصادر: (مَیْتٌ) مَاتَ ، يَمُوْتُ ، مَوْتٌ (ن) مرنا (مَیْتٌ = مَيِّتٌ، مرده، جمع اَمْوَاتٌ ، مَوْتٰى و مَيِّتُونَ)

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (یٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ) اے ایمان والو، بہت گمان کرنے سے بچا کر واس لیے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں[/arb] (وَلَا تَجَسَّسُوْا) [/arb]اور (کسی کی) عیب جوئی نہ کیا کرو[/arb](وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ، اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّا كُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ) [/arb]اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو تم کو اس سے (کراہت) نہیں آئے گی (وَاتَّقُوا اللهَ ، اِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ) اور (اے ایمان والو) الله سے ڈرو (اور توبہ کرو اللہ تمھاری توبہ قبول کرے گا) بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بہت رحم کرنے والا ہے۔
اس آیت میں تین۳ باتوں کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے:-
۝۱بدگمانی کرنا ،
۝۲عیب تلاش کرنا ،
۝۳غیبت کرنا ،
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :۔
اِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا تَحَسَّسُوْا وَلَا تَنَاجَشُوْا وَلَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا۔
(صحیح بخارى، كتاب الادب، باب يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن، جزء ۸ صفحه ۲۳، حديث : ۶۰۶۶، و صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم الظن، جزء ۲ صفحه ۴۳۳ و ۴۳۴، (حديث : ۶۵۳۶/ ۲۵۶ int: و حديث : ۶۵۳۸/۲۵۶۳ .:int)
بدگمانی سے بچو، بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے ، کسی کا راز نہ معلوم کرد، کسی کا عیب نہ تلاش کرد، بولی پر بولی نہ لگاؤ ، حسد، بغض اور تعلّقات منقطع نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔
بد گمانی بہت بڑا جھوٹ ہے۔ ہو سکتا ہے بدگمانی سے کسی میں کسی عیب کو فرض کرلے اور وہ عیب اس میں نہ ہو۔ بدگمانی کرنے سے بلا وجہ بے بنیاد بغض و عداوت پیدا ہوتی ہے، تعلّقات خراب ہوتے ہیں۔ اگر کسی کی طرف سے کوئی بدگمانی پیدا ہوتی معلوم ہو تو براہِ راست اس سے وضاحت طلب کر لی جائے۔ وضاحت طلب کرنے سے عمومًا یہ ثابت ہوتا ہے کہ بدگمانی بے بنیاد تھی۔
کسی کو اپنے آپ سے بھی بدگمانی نہ ہونے دے۔
حضرت علی بن الحسینؓ کہتے ہیں :۔
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَعِنْدَهُ اَزْوَاجُهُ فَرُحْنَ ، فَقَالَ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ : لَا تَعْجَلِي حتّٰی اَنْصَرِفَ مَعَكِ ، وَكَانَ بَيْتُهَا فِي دَارِ اُسَامَةَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا ، فَلَقِيَهُ رَجُلَانِ مِنْ الْاَنْصَارِ ، فَنَظَرَا اِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اَجَازَا ، وَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعَالَيَا اِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ، قَالَا : سُبْحَانَ اللهِ ، يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : اِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ، وَاِنِّي خَشِيتُ اَنْ يُلْقِيَ فِي اَنْفُسِكُمَا شَيْئًا۔
(صحیح بخارى، كتاب الصوم، أبواب الاعتكاف، باب زيارة المرأة زوجها في اعتكافه، جزء ۳ صفحه ۶۵، حديث : ۲۰۳۸)
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم مسجد میں تھے اور آپؐ کے پاس آپؐ کی بیویاں تھیں جب وہ جانے لگیں تو آپؐ نے حضرت صفیہؓ سے فرمایا جلدی نہ کرو یہاں تک کہ میں تمھارے ساتھ جاؤں۔ ان کی رہائش اسامہ ابن زید کے گھر میں تھی۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم ان کے ساتھ نکلے۔ راستے میں دو۲ انصاری ملے۔ انھوں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو دیکھا پھر آگے بڑھ گئے۔ آپؐ نے ان دونوں کو پکارا اور بلایا پھر فرمایا یہ میری بیوی صفیہؓ بنت حیی ہیں۔ وہ کہنے لگے سبحان اللہ اے اللہ کے رسولؐ (ہم آپؐ پر بُرا گمان کریں گے) آپؐ نے فرمایا شیطان انسان کے جسم میں خون کے ساتھ گردش کرتا ہے مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تمھارے دِل میں وسوسہ نہ ڈالے۔
آیت زیر تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے عیب جوئی سے بھی منع فرمایا ہے۔ کسی کے عیب تلاش کرنا اچّھی نیّت سے تو ہو نہیں سکتا۔ اس میں بُری نیّت ہی عمومًا شامل ہوتی ہے اور وہ یہ کہ اس شخص کے عیب کو لوگوں پر ظاہر کر کے اس کو رسوا اور ذلیل کرے کسی مسلؔم کو اپنے مسلؔم بھائی کے لیے ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اسلامی اخوّت کے منافی ہے۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
وَلَاتَجَسَّسُوْا۔
(صحیح بخارى، كتاب الادب، باب يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن إن بعض الظن إثم ولا تجسسوا، جزء ۸ صفحه ۲۳، حديث : ۶۰۶۶، و صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم الظن والتجسس، ۲/ ۲۲۳، (حديث : ۶۵۳۶/ ۲۵۶۳: int)
کسی کا عیب نہ تلاش کرو۔
تیسری چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حرام فرمایا وہ ہے غیبت ۔ غیبت کی تشریح خود رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمائی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں :-
قَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ قَالَ ذِكْرُكَ اَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ اَفَرَاَيْتَ اِنْ كَانَ فِي اَخِي مَا اَقُولُ قَالَ اِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَاِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ۔
(صحیح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم الغيبة، جزء ۲ صفحه ۴۳۲، حديث : ۶۵۹۳/ ۲۵۸۹: int)
رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اللہ (تعالیٰ) اور اس کا رسولؐ خوب جانتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذِکر اس طرح کرو کہ (اگر وہ سامنے ہو) تو اس کو ناگوار گزرے۔ کسی شخص نے کہا: یا رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وسلّم) اگر میرے بھائی میں وہ (عیب) موجود ہو جو میں کہ رہا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا : جو تم کہہ رہے ہو اگر وہ (عیب) اس میں موجود ہے تو نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ (عیب) اس میں نہیں ہے تو تم نے بہتان لگایا۔
غیبت کی خدمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ غیبت کرنا ایسا ہے جیسے اپنے کسی مردہ بھائی کا گوشت کھانا مردہ بھائی کا گوشت کھانا کوئی پسند نہیں کرتا تو پھر اپنے بھائی کی غیبت کرنا بھی اسے پسند نہیں کرنا چاہیے۔ جیسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے نفرت ہوتی ہے ایسے ہی اپنے مسلم بھائی کی غیبت سے نفرت ہونی چاہیے۔
عمل
اے ایمان والو، کسی کے متعلّق بدگمانی نہ کیجیے کسی کے عیوب کو تلاش نہ کیجیے اور کیل مسلم بھائی کا ذِکر اس کی غیر موجودگی میں اس طرح نہ کیجیے کہ وہ سنے تو اسے بُرا معلوم ہو۔

<
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا،اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ،اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۝۱۳
<

ترجمہ: اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمھاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو (لیکن) اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزّت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متّقی ہے، بےشک اللہ جاننے والا اور باخبر ہے ۝۱۳

<

معانی و مصادر: (شُعُوْبٌ) شُعُوْبٌ=شَعِيْبٌ کی جمع، بڑے قبیلے۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیا (یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰڪُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا) اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمھاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔
محض نام سے کسی کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے اس لیے کہ ایک نام کے کئی آدمی ہوتے ہیں۔ ایسی صُورت میں اگر قوم اور قبیلے کا نام بتا دیا جائے تو پہچاننا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ بھی ہوتا ہے کہ رشتہ داروں کو پہچان کر ان سے حسن سلوک کرنا سہل ہو جاتا ہے۔ اگر رشتہ داروں کو نہ پہچانے تو ان کے حقوق ادا کرنا ناممکن ہو جائے گا ( اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اَتْقٰىكُمْ) (لیکن یہ قومیں اور قبیلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بزرگی اور عزّت کے معیار یا علامت نہیں ہیں، اللہ کے نزدیک تو تم میں سب سے زیادہ باعزّت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متّقی ہو۔
حضرت ابوہریرہ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں:-
قِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، مَنْ اَكْرَمُ النَّاسِ ، قَالَ : اَتْقَاهُمْ ۔
(صحیح بخارى، كتاب بدء الخلق، قول اللّٰه تعالىٰ يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر، جزء ۴ صفحه ۲۱۶ ، حديث : ۳۴۹۰)
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول، لوگوں میں سب سے زیادہ باعزّت کون ہے؟ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: (جو) ان میں سب سے زیادہ متّقی (ہے)۔
آیت زیرِ تفسیر کا منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند مرتبہ اسے ملتا ہے جو تقویٰ شعار ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اُس کی نافرمانی سے بچتا ہو۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے قوموں، قبیلوں اور نسلوں کی بنیاد پر جو فخر کیا جاتا ہے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ اب کسی مسلم کے لیے یہ زیب نہیں کہ وہ نسل اور قومیّت کی بنیاد پر فخر کرے یا کسی دوسرے کو حقیر سمجھے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
يٰۤاَ يُّهَا النَّاسُ اَلَا اِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَبَاكُمْ وَاحِدٌ اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰى اَعْجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰى عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰى اَسْوَدَ وَلَا اَسْوَدَ عَلٰى اَحْمَرَ اِلَّا بِالتَّقْوٰى
(رواه احمد، حدیث : ۴۵۶۸/ ۲۲۳۹۵/ ۲۳۴۸۹، ورجاله رجال الصحيح، بلوغ الامانى، جزء ۱۲ صفحه ۲۲۶، وسنده صحیح)
اے لوگو، تمھارا ربّ ایک ہے، تمھارا باپ بھی ایک ہے۔ خبردار ہو جاؤ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت ہے، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت ہے اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر فضیلت ہے، فضیلت ہے تو تقویٰ کی وجہ سے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
اِنَّ اللهَ اَوْحٰۤى اِلَیَّ اَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلٰى اَحَدٍ، وَلَا يَبْغِیَ اَحَدٌ عَلٰى اَحَدٍ
(صحیح مسلم، كتاب الجنّة وصفة نعيمها، جزء ۲ صفحه ۵۴۳، (حديث : ۷۲۱۰/ ۲۸۶۵ int. )
اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع کیا کر رو یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخرنہ کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔
(نوٹ :- تقویٰ کی مکمل معلومات کے لیے سورۂ بقرہ کی آیت ۲ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں)۔
آگے فرمایا ( اِنَّ اللهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) بے شک اللہ جاننے والا (اور) باخبر ہے (اللہ ہی جانتا ہے کس کے دِل میں کتنا تقویٰ ہے اور وہ ہی جانتا ہے کہ اس تقویٰ کے باعث کون کتنا با عزّت ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ،فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَڪُمْ،هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی۝۳۲
(سُوْرَۃُ النَّجْمِ : ۵۳، آیت : ۳۲ )
(اللہ) کو (بخوبی) علم ہے جب اُس نے تم کو مٹّی سے بنایا تھا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے لہٰذا تم اپنی پاکیزگی نہ جتایا کرو، متّقیوں کو وہ خوب جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ،بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا۝۴۹
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۴۹)
(اے رسول) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو (بہت) مقدّس سمجھتے ہیں حالاں کہ یہ تو اللہ (کا کام) ہے کہ جس کو چاہے مقدّس بنائے (انھیں اس فخر، گھمنڈ کی ضرور سزا ملے گی) لیکن ان پر کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی ظلم نہیں ہو گا (یعنی جرم کی مناسبت سے سزا ملے گی، کسی پر زیادتی نہیں ہو گی)۔
عمل
اے ایمان والو اپنے قبیلے اور خاندان پر فخرنہ کیجیے اور نہ انھیں عزّت و شرف کا معیار سمجھےس۔ عزّت و شرف تو تقوے سے حاصل ہوتا ہے۔

<
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا،قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ،وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْـًٔا،اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۝۱۴ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ،اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ۝۱۵ قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ،وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ،وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۝۱۶ یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا،قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ،بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ ڪُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۝۱۷ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ،وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۱۸
<

ترجمہ: دیہاتی کہتے ہیں ہم ایمان لائے، (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ تم (ابھی) ایمان نہیں لائے (لہٰذا یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لائے) بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا، (اس لیے کہ) ایمان تو ابھی تمھارے دِلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمھارے اعمال (کے اجر) میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بےشک اللہ (بڑا) بخشنے والا اور (بہت) رحم کرنے والا ہے ۝۱۴ مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے پھر انھوں نے (کسی قسم کا) شک نہیں کیا اور اللہ کے راستے میں اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا، یہ ہی لوگ (اپنے دعوئے ایمان میں) سچّے ہیں ۝۱۵ (اے رسول) ان لوگوں سے پوچھیے کیا تم اللہ کو اپنی دین داری جتاتے ہو (کیا اللہ کو تمھاری دین داری کا علم نہیں) اللہ کو تو ان تمام چیزوں کا علم ہے جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے ۝۱۶ (اے رسول) یہ لوگ آپ پر (اس بات کا) احسان رکھتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کیا، آپ کہہ دیجیے اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اُس نے تم کو ایمان کا راستہ بتایا بشرط یہ کہ تم (اپنے دعوئے ایمان میں) سچّے ہو ۝۱۷ بےشک اللہ آسمانوں کی اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۝۱۸

<

معانی و مصادر: (يَلِتُ) لَاتَ ، يَلِيْتُ ، لَيْتٌ (ض) پھیر دینا۔
وَلَتَ، يَلِتُ ، وَلَتٌ (ض) کم کرتا۔
(يَرْتَابُوْا) اِرْتَابَ ، يَرْتَابُ، اِرْتِیْابُ (باب افتعال) شک کرنا۔
(يَمُنُّوْنَ) مَنَّ ، يَمُنَّ ، مَنٌّ (ن) احسان جتانا۔

<

تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ، قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰڪِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا) دیہاتی کہتے ہیں ہم ایمان لائے (اے رسولؐ) آپؐ (ان سے) کہہ دیجیے کہ تم (ابھی) ایمان نہیں لائے (لہٰذا یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لائے) بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اسلاؔم قبول کیا (وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِیْ قُلُوبِكُمْ) (اس لیے کہ) ایمان تو ابھی تو تمھارے دِلوں میں داخل ہی نہیں ہوا (تم نے محض زبان سے کلمہ پڑھا ہے ! سے کلمہ پڑھا ہے اور اطاعت کا وعدہ کیا ہے) (وَاِنْ تُطِيْعُوا اللهَ وَرَسُوْلَهٗ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْئًا) (تو) اگر تم اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمھارے (اعمال کے اجرہ) میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا مزید برآں (تمھاری خطاؤں کو معاف کرے گا) (اِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيْمٌ) بے شک اللہ (بہت) بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اسلاؔم قبول کرلے اور اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کرتا رہے تو اس کے اعمال مقبول ہوں گے اور وہ اجر و ثواب کا مستحق ہو گا۔ (خواہ وہ ابھی مومن کے درجہ تک نہ پہنچا ہو۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کلمہ پڑھ کر پہلے مسلؔم بنتا ہے اور پھر مومن بنتا ہے۔ مسلؔم میں اور مومن میں فرق ہے۔ مسلؔم تو محض ایمان کا اقرار کرنے سے بن جاتا ہے لیکن مومن اس وقت بنتا ہے جب ایمان اس کے دِل میں جاگزیں ہو جائے)
حضرت سعدؓ فرماتے ہیں :

اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَعْطٰى رَهْطًا وَّسَعْدٌ جَالِسٌ ، فَتَرَكَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا هُوَ اَعْجَبَهُمْ اِلَیَّ ، فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، مَالَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللهِ اِنِّیْ لَاَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ : اَوْ مُسْلِمًا ، فَسَكَتُّ قَلِيْلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِیْ مَاۤ اَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُّ لِمَقَالَتِیْ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللهِ اِنِّیْ لَاَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ : اَوْ مُسْلِمًا ، ثُمَّ غَلَبَنِیْ مَاۤ اَعْلَمُ مِنْهُ ، فَعُدْتُّ لِمَقَالَتِیْ وَعَادَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا سَعْدُ ، اِنِّیْ لَاُعْطِی الرَّجُلَ وَغَيْرُهٗۤ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْهُ خَشْيَةَ اَنْ يَّكُبَّهُ اللهُ فِی النَّارِ۔
(صحیح بخارى، كتاب الإيمان، باب إذا لم يكن الإسلام على الحقيقة، جزء اول صفحه ۱۳، حديث : ۲۷، و صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب تألف قلب من يخاف على إيمانه لضعفه، ۷۴/۱ حديث : ۳۷۹/ ۱۵۰ int. )
اس حال میں کہ میں بیٹھا ہوا تھا نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے چند لوگوں کو کچھ مال دیا لیکن آپؐ نے ایک شخص کو چھوڑ دیا (اسے کچھ نہیں دیا) حالاں کہ وہ مجھے ان سب سے زیادہ پسندیدہ تھا۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسولؐ، آپؐ نے فلان شخص کو چھوڑ دیا اللہ کی قسم میں تو اس کو مومن سمجھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا یا مسلم۔ پھر تھوڑی دیر میں چپ رہا پھر جو حال میں اس کا جانتا تھا اس نے مجھ پر غلبہ کیا۔ میں نے دوبارہ عرض کیا آپؐ نے فلاں شخص کو کیوں چھوڑ دیا اللہ کی قسم میں تو اس کو مومن جانتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا یا مسلم پر تھوڑی دیر میں چپ رہا پھر جو حال میں اس کا جانتا تھا اس نے مجھ پر غلبہ کیا۔ میں نے تیسری بار وہ ہی عرض کیا اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے وہ ہی فرمایا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا : اے سعدؓ میں ایک شخص کو کچھ دیتا ہوں اور دوسرے شخص کو اس سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔ مجھے یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں اللہ اس کو اوندھے منھ دوزخ میں نہ ڈال دے۔
اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مسلم میں اور مومن میں فرق ہے۔

آگے فرمایا (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجَاهَدُوْا بِاَمْوَ الِهِمْ وَاَنفُسِهِمْ فِي سَبِيْلِ اللهِ ، اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ) مومن تو بس وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسولؐ پر ایمان لائے پھر انھوں نے (اللہ اور اُس کی بتائی ہوئی باتوں میں کسی قسم کا ذرا سا بھی) شک نہیں کیا اور اللہ کے راستے میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا، یہ لوگ (اپنے دعویٰ ئے ایمان) میں سچّے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن بننے کے لیے ایسے قوّی ایمان کی ضرورت ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بتائی ہوئی باتوں میں ذرا سا بھی شک نہ کر ہے۔ اللہ کے راستے میں قربانی دے۔ نہ مال کی پرواہ کرے اور نہ جان کی ۔ اتنا قوّی ایمان دِل میں پیدا کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ ایسا عمومًا نہیں ہوتا کہ ادھر کلمہ پڑھا اور ادھر ایمان کمال کو پہنچ گیا۔ دِل میں ایمان کے پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کرتا رہے اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْڪِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ،وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ،وَ السَّآىِٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ،وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَی الزَّكٰوةَ،وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا،وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ،اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا،وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ۝۱۷۷
[/ref](سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۷۷) [/ref]
نیکی یہ نہیں کہ مشرق یا مغرب کی طرف منھ کر لو بلکہ نیکی تو دراصل (ایمان لا کر اعمالِ صالحہ کرنے کا نام ہے لہٰذا حقیقی نیکی) ان لوگوں کی نیکی ہے جو اللہ پر، روزِ آخرت پر، فرشتوں پر، کتاب (اِلہٰی) پر اور نبیّوں پر ایمان لاتے ہیں، مال کی محبّت کے باوجود اسے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں پر اور غلاموں کے آزاد کرانے میں خرچ کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، جب عہد کر لیتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں اور سختی، نقصان اور جنگ میں صابر و ثابت قدم رہتے ہیں، یہ ہی لوگ ہیں جنھوں نے (ایمان اور نیکی کے تقاضوں کو) سچ کر دکھایا اور یہ ہی لوگ (درحقیقت) متّقی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ۝۲ اَلَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ۝۳ اُولٰٓىِٕڪَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا،لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۝۴
(سُوْرَۃُ الْاَنْفَالِ: ۸، آیت : ۲ تا ۴)
مومن تو درحقیقت وہ لوگ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذِکر کیا جائے تو ان کے دِل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جائیں تو ان کے ایمان بڑھ جائیں اور وہ (صرف) اللہ پر بھروسہ کرتے ہوں۔ جو نماز قائم کرتے ہوں اور ہمارے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہوں۔ یہ ہی لوگ سچّے مومن ہیں، ان کےلیے ان کے ربّ کے ہاں (بلند) درجات ہیں، مغفرت ہے اور باعزّت روزی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا،لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ ڪَرِیْمٌ۝۷۴
(سُوْرَۃُ الْاَنْفَالِ: ۸، آیت : ۷۴)
جو لوگ ایمان لائے، (پھر) انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور (جہاد فی سبیلِ اللہ میں) ان کی مدد کرتے رہے تو یہ لوگ سچّے مومن ہیں، ان کےلیے مغفرت ہے اور باعزّت رزق۔
ان آیات سے ثابت ہوا کہ حقیقی معنی میں مومن بننے کے لیے قوّی ایمان، جہاد و قربانی اور دوسرے نیک اعمال کی سخت ضرورت ہے۔
آگے فرمایا (قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللهَ بِدِيْنِكُمْ ، وَاللهُ يَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) (دیہاتیوں نے اپنے ایمان اور دین داری کو جتایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے رسولؐ ان سے) کہ دیجیے کیا تم اللہ کو اپنی دین داری جتاتے ہو کیا اللہ کو تمھاری دین داری کا علم نہیں) اللہ کو تو ان تمام چیزوں کا علم ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں (اور ان ہی پر کیا موقوف ہے) اللہ کو تو ہر چیز کا علم ہے وہ تمھارے دِلوں کے ایمان کو بخوبی جانتا ہے اور وہ اپنے عِلم کی بنا پر خوب جانتا ہے کہ کون مسلم ہے اور کون مومن دیہاتیوں نے اپنے ایمان لانے کا احسان جتایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَىَّ اِسْلامَكُمْ بَلِ اللهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيمَانِ اِن كُنتُمْ صٰدِقِيْنَ) (اے رسولؐ) یہ لوگ آپؐ پر (اس بات کا) احسان رکھتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کیا، آپؐ کہہ دیجیے اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ اگرتم (اپنے ایمان میں) سچّے ہو تو اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان کا راستہ بتایا (تمھیں ہدایت قبول کرنے اور اس پر چلنے کی توفیق وی) (اِنَّ اللهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ، وَالله بَصِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ) بے شک اللہ آسمانوں کی اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا۔ (اُس کو تمھارے ایمان کی حقیقت کا پوری طرح علم ہے۔ اُس کو اپنا ایمان جتانا بے عقلی کی دلیل ہے) اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو، (غرض یہ کہ تمھارے دِلوں کی کیفیت سے بھی وہ واقف ہے اور تمھارے اعمال سے بھی وہ واقف ہے)۔
عمل
اسے ایمان والو، اس طرح کاھ کیجیے کہ ہم نے اسلاؔم قبول کیا، اس طرح نہ کیا کیجیے کہ ہم ایمان لائے۔ ایمان کی حقیقت کو تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے رہیے۔
اے ایمان والو، اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولؐ پر ایمان لایے، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی باتوں میں ذرا سا بھی شک نہ کیجیے، اپنے مال اور اپنی جان سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے رہیے ، اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری نہ جتایے اور نہ اپنے اسلام قبول کرنے کا احسان اللہ تعالیٰ پر رکھےا بلکہ اللہ تعالیٰ کا احسان مانیے کہ اُس نے آپ کو اسلام کا راستہ بتایا اور اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا کی۔

<

Share This Surah, Choose Your Platform!