Surah-Muhammad
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تفسیر قرآن عزیز
جزء ۔ ۹
۴۷ سُوْرَۃُ مُحَمَّدِ
فہرستِ مضامین
۔ حق و باطل ۔
۔ جنگ کے قوانین ۔
۔ جنّت ۔
۔ منافقین کے خصائل ۔
۴۷ ۔ سُوْرَۃُ مُحَمَّدِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بے حد مہربان اور بہت رحم کرنے والے اللہ کے نام کے ساتھ
اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ۱ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ،كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ۲ ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ،كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ۳
ترجمہ: جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا (اللہ) ان کے اعمال برباد کر دے گا۱ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اس (کتاب) پر ایمان لائے جو محمّد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) پر نازل ہوئی ہے اور وہ ان کے ربّ کی طرف سے حق ہے (اللہ) ان کے گناہوں کو دور کر دے گا اور ان کی حالت کی اصلاح فرمائے گا۲ یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انھوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے ربّ کی طرف سے (نازل ہوا) ہے، اس طرح اللہ لوگوں کےلیے ان کے حالات بیان فرما رہا ہے (تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں)۳
معانی و مصادر:(اَمْثَالٌ) مَثَلَ، يَمْثُلُ ، مَثُوْلٌ (ن)مثل ہونا(اَمْثَالٌ = مَثَلٌکی جمع، حالات، صفات، باتیں)۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ)جن لوگوں اور نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا (اللہ) ان کے اعمال ضائع کردے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا۱۶۷
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۱۶۷)
بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا وہ گمراہی میں بہت دور جا پڑے ۔
آگے فرمایا (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَاَصْلَحَ بَالَهُمْ)اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اس (چیز) پر ایمان لائے جو محمّد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) پر نازل کی گئی ہے اور وہ ان کے ربّ کی طرف سے حق ہے تو (اللہ) ان کے گناہوں کو دور کر دے گا اور ان کی حالت کی اصلاح فرمائے گا(ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا التَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّھِمْ، كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَھُمْ)(کافروں اور ایمان والوں کے اعمال کے نتیجے میں جو فرق رکھا گیا ہے) وہ اس لیے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی (لہٰذا ان کے اعمال ضائع ہی ہونے چاہیںا) اور ایمان والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے ربّ کی طرف سے (نازل ہوا) (الغرض) اسی طرح اللہ لوگوں کےلیے ان کے حالات (اور ان حالات کا انجام) بیان کر رہا ہے (تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں)۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو کچھ محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم پر نازل ہوا بس وہ ہی حق ہے۔ اسی کی پیروی سے نجات مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز کی پیروی نہ تو جائز ہی ہے اور نہ اس سے نجات مِل سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّڪُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ،قَلِیْلًا مَّا تَذَڪَّرُوْنَ۳
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۳)
(اے لوگو) جو شریعت تم پر تمھارے ربّ کی طرف سے نازل ہوئی ہے (بس) اسی کی پیروی کرو، اس کے علاوہ ولیوں (وغیرہ) کی پیروی نہ کرو (مگر) تم نصیحت کم ہی قبول کرتے ہو۔
عمل
اے لوگو، اس حق پر ایمان لایے جو محمّدصلّی اللہ علیہ وسلّم پرنازل ہوا اور اسی کی پیروی کیجےے یعنی قرآن مجید اور احادیثِ نبویؐ پر ایمان لایے اور ان کی پیروی کیجیے۔
ترجمہ: (اے ایمان والو) جب (میدانِ جنگ میں) کافروں سے مقابلہ ہو جائے تو (ان کی) گردنیں اڑادو یہاں تک کہ جب انھیں خوب قتل کر چکو تو پھر (گرفتار شُدگان کو) مضبوطی کے ساتھ رسّیوں سے باندھ دو، پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر (چھوڑدو) یا فدیہ لے کر چھوڑدو (اور اے ایمان والو، لڑائی اس وقت تک جاری رکھو) جب تک (دشمن) لڑائی (کے) ہتھیار نہ ڈال دے، یہ (اللہ کا حکم ہے اور تمھیں اس طرح کرنا ہو گا) ہاں اگر اللہ چاہتا تو خود ان سے انتقام لے لیتا لیکن (اللہ تو یہ چاہتا ہے) کہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے اور (اے ایمان والو) جولوگ اللہ کے راستے میں قتل ہو جائیں گے اللہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہیں کرے گا۴ (بلکہ) ان کو منزلِ مقصود پر پہنچائے گا اور ان کی حالت اچّھی کر دے گا۵ اور ان کو جنّت میں داخل کرے گا جس کا تعارف اللہ نے ان سے (پہلے ہی) کرا دیا ہے ۶ اے ایمان والو، اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو اللہ تمھاری مدد کرے گا اورتمھیں ثابت قدم رکھے گا۷ اور جو لوگ کفر کریں گے تو ان کےلیے ہلاکت (اور بربادی) ہے اللہ ان کے اعمال (اور تدبیروں) کو رائے گاں کر دے گا۸ یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو اللہ نے ان کے اعمال کو رائے گاں کر دیا۹ (اے رسول) کیا انھوں نے زمین میں سیر و سیّاحت نہیں کی تاکہ یہ (اپنی آنکھوں سے) ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے (گزر چکے) ہیں، اللہ نے انھیں نیست و نابود کر دیا (تو کیا) ان کافروں (کو نیست و نابود نہیں کر سکتا، ضرور کر سکتا ہے اور اگر یہ کفر سے باز نہ آئے تو ان) کا بھی ان ہی جیسا حال ہو گا۱۰ یہ اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اللہ (تعالیٰ) ان کا دوست ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کا کوئی دوست نہیں۱۱
معانی و مصادر: (اَثْخَنْتُمْ) اَثْخَنَ،اَثْخَنُ،یُخِنُ، اِثْخَانٌ (باب افعال)کسی کام میں مبالغہ کرنا، قتل میں مبالغہ کرنا۔
(شُدُّوْا) شَدَّ، يَشُدُّ ، شَدٌّ (ن) قوّت دینا ، مضبوط کرتا۔
(وَثَاقٌ) اَوْثَقَ، يُوْثِقُ، اِيْثَاقٌ (باب افعال)رسّی سے مضبوط باندھنا۔(وَثَاقٌ = جکڑ نے کی چیز مثلاً رسّی)۔
(فِدَآءٌ) فِدٰى ، يَفْدِیْ ، فِدًى و فِدَ آءٌ (ض) چھڑانا ۔
فَادٰى، يُفَادِیْ، مُفَادَاۃٌ و فِدَاءٌ(باب مفاعلہ) چھڑانا۔
(اَوْزَارٌ) وَزَرَ، يَزِرُ، وِزْرٌ (ض) اٹھانا(اَوْزَارٌ-= وِزْرٌ کی جمع، بوجھ)۔
(اِنْتَصَرَ) اِنْتَصَرَ، يَنْتَصِرُ، اِنْتِصَارٌ (باب افتعال)مدد سے غالب آنا، ظلم سے روکنا، مدد لینا۔
(تَعْسًا) تَعِسَ، يَتْعَسُ، تَعْسٌ، تَعَسٌ (ف ، س) ہلاک ہونا ، ہلاک کرنا۔
تفسیر: کیوں کہ کافر باطل کی پیروی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام پرنہیں چلتے لہٰذا دہ اسی قابل ہیں قتل کر دیے جائیں (فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ)لہٰذا (اے ایمان والو) جب (میدانِ جنگ میں) کافروں سے تمھارا مقابلہ ہو تو (ان کی) گردنیں اڑادو(حَتّٰۤی اِذَا اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّ الْوَثَاقَ)یہاں تک کہ جب انھیں خوب قتل کر چکو تو پھر (گرفتار شدہ قیدیوں کو) مضبوطی کے ساتھ رسّیوں سے باندھ دو (یعنی کافروں کو پہلے خوب قتل کرو تاکہ تمھاری دھاک بیٹھ جائے اور جب دھاک بیٹھ جائے تو پھر قید کرو۔)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ،
(سُوْرَۃُ الْاَنْفَالِ: ۸، آیت : ۶۷)
(اور اے رسول) کسی نبی کے شایانِ شان نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ ملک میں دشمنوں کو اچّھی طرح قتل نہ کر دے۔
آگے فرمایا (فَاِ مَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا)پھر قید کرنے کے بعد یا تو احسان رکھ کر (چھوڑدو) یا فدیہ لے کر چھوڑدو (اور لڑائی کو اس وقت تک جاری رکھو) جب تک (دشمن) لڑائی (کے) ہتھیار نہ ڈال دے (ذٰلِكَ) یہ (الله تعالیٰ کا حکم ہے اور تمھیں اس طرح کرنا ہوگا)(وَلَوْ يَشَآءُ اللهُ لَا نْتَصَرَ مِنْ هُمْ)ہاں اگر اللہ چاہتا تو (خود) ان سے انتقام لے لیتا (تمھیں لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی)(وَلَكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ، وَالَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِيْلِ اللهِ فَلَنْ يُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ) لیکن (اللہ تو یہ چاہتا ہے) کہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے (یعنی کافروں کے ذریعے تمھیں آزمائے اور یہ دیکھے کہ تم ثابت قدم رہتے ہو یا نہیں۔ پھر تم میں سے) جو لوگ (ثابت قدم رہے اور) اللہ کے راستے میں قتل ہو گئے تو اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔(سَيَهْدِ يْهِمُ، وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ) ( بلکہ) ان کو منزلِ مقصود پر پہنچائے گا اور ان کی حالت اچّھی کر دے گا (وَیُدْ خِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ)اور ان کو جنّت میں داخل کر دے گا جس کا تعارف اللہ نے ان سے (پہلے ہی) کرا دیا ہے۔
کافروں سے جنگ کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔
وَ لَنَبْلُوَنَّڪُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ،وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ۱۵۵ اَلَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ،قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ۱۵۶ اُولٰٓىِٕڪَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ،وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ۱۵۷
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۵۵ تا ۱۵۷)
اور (اے ایمان والو) ہم ضرور کسی قدر خوف اور بھوک سے اور کسی قدر مال، جان اور پھلوں کے نقصان سے تمھاری آزمائش کریں گے اور (اے رسول) آپ صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیں۔ یعنی ان لوگوں کو کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس طرح کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہ ہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر ان کے ربّ کی طرف سے فضل و رحمت (کی بارش ہوتی) ہے اور یہ ہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت یاب ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ،وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ،وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ،وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ۱۴۰ وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْڪٰفِرِیْنَ۱۴۱ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْڪُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ۱۴۲
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۴۰ تا ۱۴۲)
اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہونے والوں کی حالت وہ نہیں رہے گی جو دنیا میں تھی بلکہ وہ جنّت میں شاداں و فرحاں ہوں گے۔ انھیں ہر قسم کا عیش و راحت حاصل ہوگی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا،بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ۱۶۹ فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ،وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ،اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۱۷۰ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ،وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ۱۷۱
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۶۹ تا ۱۷۱)
جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہو جائیں انھیں مُردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ تو اپنے ربّ کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق دیا جا رہا ہے۔ (اور) جو کچھ اللہ انھیں اپنے فضل سے عطا کر رہا ہے اس میں وہ شاداں و فرحاں ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ہیں اور ان سے (ابھی) ملے نہیں ان کے متعلّق بھی وہ خوشیاں منا رہے ہیں کہ انھیں بھی (وہاں پہنچ کر) نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی غم۔ وہ لوگ بھی اللہ کی نعمت اور فضل میں (سرشار ہو کر) خوشیاں منائیں گے اور (یہ بات معلوم کر کے بھی بہت خوش ہوں گے کہ) اللہ مومنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔
(عَرَّفَهَا) جنّت کے تعارف سے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنّت کی نعمتوں اور آسائشوں کا ذِکر قرآن مجید میں بار بار کر کے جنّت سے مومنین کو پوری طرح متعارف کرا دیا ہے۔ اب جنّت کا نام آتے ہی جنّت کی تمام نعمتیں تصوّر میں آجاتی ہیں جن سے مؤمنین کو جنّت حاصل کرنے کے لیے ان اعمال کی ترغیب ہوتی ہے جو جنّت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
آگے فرمایا دیا (يٰۤاَ يُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاۤ اِنْ تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ اَقْدَا مَكُمُ)اے ایمان والو، اگرتم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمھاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مصائب و آلام اور میدانِ جنگ میں ثابت قدم رہنا اس لیے ضروری ہے کہ دین کی مدد کی جائے، دین کی تبلیغ و ترویج، ترقی و استحکام کے لیے بھرپور کوشش کی جائے۔ جہاد فی سبیل اللہ کو کسی حال میں نہ چھوڑا جائے جہاد ہی سے دین سر بلند ہوتا ہے۔
حضرت معاذ بِن جبلؓ کہتے ہیں :۔
كُنْتَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرٍ فَاَ صْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيْبًا مِنْهُ وَنَحْنُ نَسِيْرُ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَخْبِرْ نِیْ بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِی الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ قَالَ لَقَدْ سَئَا لْتَنِیْ عَنْ عَظِيْمٍ وَاِنَّهٗ لَیَسِيْرٌ عَلٰى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ عَلَيْهِ۔- تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تَشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا وَ تُقِيْمُ الصَّلوٰةَ وَتُؤْتِی الزَّكوٰةَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحَجُّ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ اَلَا اَدُلُّكَ عَلٰى اَبْوَابِ الْخَيْرِ اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيْئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّار وَ صَلوٰةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ قَالَ ثُمَّ تَلَا تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِـعِ يَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ حَتّٰى بَلَغَ يَعْمَلُوْنَ ثُمَّ قَالَ اَلَا اُخْبِرُكَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ كُلِّهٖ وَعَمُوْدِهٖ وَذِرْوَةِ سَنَامِہٖ قُلْتُ بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ رَاْسُ الْاَمْرِ الْاِسْلَامُ وَعَمُوْدُُہُ الصَّلٰوةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ثُمَّ قَالَ اَ لَا اُخْبِرُكَ عَمَلَاكِ ذٰلِكَ كُلِّہٖ قُلْتُ بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ فَاَخَذَ بِلِسَانِہٖ قَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هٰذَا قُلْتُ يَا نَبِیَّ اللهِ وَاِنَّا لَمُوا خَذُوْنَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهٖ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ اُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَ هَلْ يَڪُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اَوْ عَلٰى مَنَاخِرِهِمُ اِلَّاحَصَائِدُ اَلْسِنَتِهِمْ ۔
(رواه الترمذى، و صححه، فى ابواب الايمان، باب ما جاء فى حرمة الصلوٰة، جزء ٢ صفحه ۲۳۰، حديث : ۲۶۱۶)
میں نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ایک دن میں نے صبح اس حالت میں کی کہ میں آپؐ کے قریب تھا اور ہم سب لوگ چلے جارہے تھے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، مجھے ایسے عمل کی خبر دیجیے جو مجھے جنّت میں داخل کر دے اور مجھے دوزخ سے دور کر دے۔ آپؐ نے فرمایا تم نے بڑی بات پوچھی اور اللہ تعالیٰ جس پر آسان کرنا چاہے تو اس پر (بہت) آسان ہے۔ اللہ کی عبادت کرو اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز ادا کرو، زكوٰة ادا کرو، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج کرو پھر آپؐ نے فرمایا کیا میں تمھیں خیر کے دروازوں کی خبر نہ دوں: روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور آدمی کا آدھی رات کو قیام کرنا پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی تَتَجانیٰ سے یَعْمَلُوْنَ تک پھر آپؐ نے فرمایا کیا میں تمھیں خبر نہ دوں تمام کاموں کے سر کی اور اس کے ستون کی اور اس کے کوہان کی بلندی کی ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔ آپؐ نے فرمایا تمام کاموں کا سر تو اسلاؔم ہے، ستون اس کا نماز ہے اور اس کے کوہان کی بلندی جہاد ہے پھر آپؐ نے فرمایا کیا میں تمھیں خبر نہ دوں ان سب کی جڑ کی۔ میں نے کہا کیوں نہیں اسے اللہ کے رسولؐ۔ پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا اپنی زبان کو قابو میں رکھو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم ان باتوں پر بھی پکڑے جائیں گے جو زبان سے نکالتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا اے معاذ تمھاری ماں تم کو گم کرے، کیا زبان کی کھیتیوں کے سوا بھی کوئی اور چیز ہے جو لوگوں کو دوزخ میں ان کے مونھوں یا ان کی ناکوں کے بل گرائے گی۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جہاد ہی سے اسلاؔم سربلند ہوتا ہے۔
شہدا کے اجر و ثواب کا ذِکر کرنے کے بعد فرمایا (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَاَضَلَّ اَعَمَالَهُمْ)اور جو لوگ کفر کریں گے تو ان کے لیے ہلاکت (اور بربادی) ہے۔ اللہ ان کے اعمال (اور تدبیروں) کو ضائع کر دے گا، وہ ان سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکیں گے۔ (ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَھُمْ) یہ اس لیے کر انھوں نے اس چیز کو نا پسند کیا جو اللہ نے نازل فرمائی ہے (یعنی انھوں نے دینِ اسلاؔم کو پسند نہیں کیا) تو اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کر دیا۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ہی اعمال قبول ہوتے ہیں جو دینِ اسلاؔم کے مطابق ہوں اور جو اعمال دینِ اسلاؔم کے خلاف ہوں وہ قبول نہیں ہوتے اور عمل کرنے والے کو آخرت میں ان اعمال کا کوئی صلہ نہیں ملتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ،
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۹)
بے شک دین (حق) تو اللہ کے نزدیک بس اسلاؔم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ،وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۸۵
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۸۵)
اور جو شخص اسلاؔم کے علاوہ کسی اور دین کا متلاشی ہو (اور اس پر کاربند ہو) تو وہ دین اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ (اس کے سارے عمل بے کار کر دیے جائیں گے) اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔
آگے فرمایا (اَفَلَمْ يَسِيْرُوا فِی الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ، دَمَّرَ اللهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَفِرِيْنَ اَمْثَالُهَا) کیا ان لوگوں نے (یعنی کفّارِ مکّہ نے) زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی تاکہ یہ (اپنی آنکھوں سے) ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے (گزر چکے ہیں) اللہ نے انھیں نیست و نابود کر دیا (تو کیا) ان کافروں (کو نیست و نابود نہیں کر سکتا، ضرور کر سکتا ہے اور اگر یہ باز نہیں آئے تو ان) کا بھی ان ہی جیسا حال ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰی عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ۴۵ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا،فَاِنَّهَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ۴۶
(سُوْرَۃُ الْحَجِّ : ۲۲، آیت : ۴۵ تا ۴۶)
الغرض کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے اس لیے ہلاک کر دیا کہ وہ ظالم تھیں (دیکھ لو) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں، (بہت سے) کنویں بے کار پڑے ہیں اور (بہت سے) عالی شان محل (ویران پڑے ہیں)۔ تو (اے رسول) کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر و سیّاحت نہیں کی تاکہ (ان بستیوں کا عبرت ناک انجام دیکھ کر) ان کے دِل ایسے ہو جاتے کہ ان سے (اپنے انجام کو) سمجھ لیتے اور کان ایسے ہو جاتے کہ ان سے (نصیحت کی بات) سن لیتے (اے رسول) بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دِل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ ڪَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ،ڪَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ،فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ۹ ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓ اٰۤی اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۱۰
(سُوْرَۃ ُ الرُّوْمِ: ۳۰، آیت : ۹ تا ۱۰)
کیا انھوں نے زمین میں سیر و سیّاحت نہیں کی تاکہ وہ یہ دیکھتے کہ ان سے پہلے (کافر) لوگوں کا انجام کیسا ہوا، وہ طاقت میں بھی ان سے زیادہ تھے، زمین میں انھوں نے ہَل بھی خوب چلایا تھا (اور زراعت میں بھی بڑی ترقی کی تھی) اور جتنا زمین کو انھوں نے آباد کیا ہے اس سے زیادہ انھوں نے آباد کیا تھا، ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر آئے تھے (لیکن وہ ایمان نہیں لائے اور اپنے کفر کی سزا بھگتی) اللہ تو ایسا نہیں ہے کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ خود ہی اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے تھے۔ پھر جن لوگوں نے بُرے عمل کیے تھے ان کا انجام بُرا ہوا اس لیے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے رہے تھے۔
آگے فرمایا (ذٰلِكَ بِاَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاۤ وَاَنَّ الْكَفِرِيْنَ لَا مُوْلٰی لَھُمْ)یہ اس لیے کہ اللہ ایمان والوں کا دوست ہے (انھیں تباہ و برباد نہیں کرتا) اور کافروں کا کوئی دوست نہیں (جو انھیں تباہی سے بچا سکے اور اگر کوئی دوست ہو بھی تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بچا نہیں سکتا)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ،نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۴۰
(سُوْرَۃُ الْاَنْفَالِ: ۸، آیت : ۴۰)
اور اگر یہ لوگ (توبہ نہ کریں اور اسلام سے) منھ موڑیں تو (اے ایمان والو) خبردار ہو جاؤ کہ (یہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اس لیے کہ) اللہ تمھارا مالک ہے (اور) وہ کتنا اچّھا مالک ہے اور کتنا اچّھا مدد گار۔
عمل
اے ایمان والو، جب کافروں سے آپ کا مقابل ہو تو ان کی گردنیں اڑا دیا کیجیے، پہلے انھیں اچّھی طرح قتل کر کے اپنی دھاک بٹھالیا کیجیے، پھر انھیں گرفتار کر کے قید کرلیا کیجیے، پھر قیدیوں کو خواہ احسان رکھ کر چھوڑ دیا کیجیےیا فدیہ لے کر آزاد کر دیا کیجیے۔ لڑائی کو اسی طرح جاری رکھیے جب تک دشمن ہتھیار نہ ڈال دے۔
اے ایمان والو، لڑائی کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ کی آزمائش کرنا چاہتا ہے لہٰذا آپ خوش دِلی کے ساتھ لڑتے رہیے اور میدانِ جنگ میں ثابت قدم رہےو۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو فروغ دینے کی خاطر لڑیے، اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا اور آپ کے قدم جما دے گا۔
اے لوگو، ایمان لایئے۔ اگر آپ ایمان نہ لائے تو آپ کا بھی وہ ہی حشر ہو گا جو گزشتہ امّتوں کا ہو چکا ہے۔ ذرا زمین میں سفر کر کے عذاب زدہ بستیوں کے کھنڈرات کو دیکھےڑ اور عبرت حاصل کیجیے۔
جنگی قیدیوں کے جملہ مسائل
۱ جب تک دشمن کی فوج کو اچّھی طرح قتل کر کے اپنی دھاک نہ بٹھا لے اس وقت تک دشمن کی فوج کے آدمیوں کو قیدی نہ بنائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ،تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ۔
(سُوْرَۃُ الْاَنْفَالِ: ۸، آیت : ۶۷)
(اور اے رسول) کسی نبی کے یہ شایانِ شان نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ ملک میں دشمنوں کو اچّھی طرح قتل نہ کرے،
۲ جنگی قیدیوں کو مضبوطی کے ساتھ قید کرے۔ پھر جنگ ختم ہونے کے بعد یا تو بطور احسان ان کو چھوڑ دے یا فدیہ لے کر چھوڑ دے یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے جب تک جنگ کا کلیۃً خاتمہ نہ ہو جائے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ،حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ،فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا
(سُوْرَۃُ مُحَمَّدِ : ۴۷، آیت : ۴)
(اے ایمان والو) جب (میدانِ جنگ میں) کافروں سے مقابلہ ہو جائے تو (ان کی) گردنیں اڑادو یہاں تک کہ جب انھیں خوب قتل کر چکو تو پھر (گرفتار شُدگان کو) مضبوطی کے ساتھ رسّیوں سے باندھ دو، پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر (چھوڑدو) یا فدیہ لے کر چھوڑدو (اور اے ایمان والو، لڑائی اس وقت تک جاری رکھو) جب تک (دشمن) لڑائی (کے) ہتھیار نہ ڈال دے،
۳ قیدیوں سے کہہ دیا جائے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمھارے دِلوں میں خیر دیکھے گا تو جو مال تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمھیں عطا فرمائے گا اور تمھارے گناہ معاف فرمادے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤی،اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْڪُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ،وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۷۰
(سُوْرَۃُ الْاَنْفَالِ: ۸، آیت : ۷۰)
اے نبی، جو قیدی تمھارے قبضے میں ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ اگر اللہ تمھارے دِل میں کوئی خیر دیکھے گا تو جو مال تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمھیں عطا فرمائے گا اور تمھیں معاف کر دے گا، اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
۴ قیدیوں کو کھانا کھلایے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا۸
(سُوْرَۃُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِ نْسَانِ: ۷۶، آیت : ۸)
اور جو کھانے کی خواہش رکھتے ہوئے (اپنا) کھانا مسکین کو، یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے ہیں(ان کے لیے جنّت ہے)۔
ترجمہ: اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ (دنیا میں) مزے اڑاتے ہیں اور (حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر) اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں بالآخر ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۱۲ اور (اے رسول) کتنی ہی بستیاں (ایسی گزر چکی ہیں) جو آپ کی بستی سے جس بستی سے آپ کو نکالا قوّت میں کہیں زیادہ تھیں، ہم نے انھیں ہلاک کرڈالا، پھر ان کا کوئی مددگار نہ ہوا۱۳ تو کیا جو شخص اپنے ربّ کی کھلی دلیل پر قائم ہو ان لوگوں جیسا ہو سکتا ہے جن لوگوں کے بُرے عمل ان کےلیے مزیّن کر دیے گئے ہوں اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہوں ۱۴ جنّت جس کا وعدہ متّقیوں سے کیا گیا ہے اس کی صِفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جن میں کبھی بو نہیں آئے گی، دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزا نہیں بدلے گا، شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کےلیے بڑی لذّت (بخش) ہوں گی اور صاف و شفّاف شہد کی نہریں ہیں، مزید برآں ان کےلیے اس میں ہر قسم کے پھل بھی ہوں گے اور ان کے ربّ کی مغفرت بھی ہو گی، (کیا یہ لوگ) ان جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۱۵
معانی و مصادر: (اٰسِنٌ) اَسَنَ، يَاْسِنُ، يَاْسُنُ، اَسْنٌ و اُسُوْنٌ(ن وض) اَسِنَ ، يَاْسَنُ، اَسَنٌ (س) متغیر ہونا ( اٰسِنٌ = متغیر).
(لَذَّةٌ) لَذَّ،یَلَذُّ، لَذَاذٌ و لَذَاذَةٌ (ف) لذیذ ہونا۔
لَذَّ، يَلَذُّ، لَذُّ (ف) لذيذ بنانا ( لَذَّۃٌ= مزا)
(مُصَفًّى) صَفًّى، يُصَفِّىْ، تَصْفِيَةٌ (باب تفعيل)صاف کرنا۔
(اَمْعَآءٌ) اَمْعَاءٌ= مَعْیٌ اور مِعٰی کی جمع۔ انتڑیاں۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اِنَّ اللهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَ نْھٰرُ)اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے (ایسے) باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں(وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَيَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَ نْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ) اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ (دنیا میں) مزے اڑار ہے ہیں اور (حلال وحرام کی تمیز کے بغیر) اس طرح کھا رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں (لیکن بالآخر) ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے (جس میں وہ ہمیشہ عذاب دیے جائیں گے)(وَكَاَ یِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ اَهْلَكْنٰھُمْ، فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ) اور (اے رسول) کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر ڈالا حالاں کہ وہ قوّت میں آپؐ کی بستی سے جس سے آپ کو نکالا، کہیں زیادہ تھیں (ان کی قوّت ان کے کچھ کام نہ آئی اور) نہ ان کو کوئی مددگار ہی ملا (اَفَمَنْ كَانَ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وا تَّبَعُوْاَ هْوَآءَهُمْ) تو کیا جو شخص اپنے ربّ کی کھلی دلیل پر قائم ہو ان جیسا ہو سکتا ہے جن کے بُرے عمل ان کے لیے مزیّن کر دیے گئے ہوں اور (جو) اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہوں (یقینًا ان دونوں کی حالت یکساں نہیں ہو سکتی۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق عمل کر رہا ہو وہ متّقی ہے، اس کا ٹھکانہ جنّت ہے اور جو شخص اپنی خواہش کے مطابق عمل کر رہا ہو وہ فاجر ہے، اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:-
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ،اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ۲۸
(سُوْرَۃُ صٓ : ۳۸، آیت : ۲۸)
کیا ہم ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ویسا ہی سلوک کریں گے جیسا کہ زمین میں فساد مچانے والوں کے ساتھ، اور کیا ہم متّقیوں کو بدکاروں کے مثل کر دیں گے (ہرگز نہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ۱۳ وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ۱۴ یَصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ۱۵
(سُوْرَۃُ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ: ۸۲، آیت : ۱۳تا۱۵)
بےشک نیک لوگ نعمتوں میں (شاداں و فرحاں) ہوں گے۔ اور گناہ گار دوزخ میں (جل رہے) ہوں گے۔ جس میں وہ حساب وکتاب کے دن داخل ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ،سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ،سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۲۱
(سُوْرَۃُ الْجَاثِیَۃِ : ۴۵، آیت : ۲۱)
کیا وہ لوگ جو برے عمل کر رہے ہیں یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے مثل کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ان کی زندگی اور موت بالکل ایک حالت میں ہو گی (نہیں ایسا نہیں ہو گا) جو دعویٰ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ (بہت) بُرا ہے۔
آگے فرمایا (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ)جنّت جس کا وعدہ متّقیوں سے کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے(فِيْهَااَنْهٰرُ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ)اس میں پانی کی نہریں ہیں جن میں کبھی بُو نہیں آئے گی(وَاَ نْھٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ)دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزا نہیں بدلے گا(وَاَنْهٰرُ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّرِبِیْنَ) شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے (بڑی) لذّت (بخش) ہوں گی (وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًی)اور صاف و شفاف شہد کی نہریں ہیں (وَلَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ)(مزید براں) ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے ربّ کی طرف سے (گناہوں کی) مغفرت بھی ہوگی(كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاءَ ھُمْ)کیا (یہ لوگ) ان جیسے (ہو سکتے ہیں) جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا (یقینًا یہ لوگ برابر نہیں ہو سکتے۔ کہاں جنّتی اور کہاں دوزخی)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ،اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۲۰
(سُوْرۃُ الْحَشْرِ : ۵۹، آیت : ۲۰)
دوزخی اور جنّتی برابر نہیں ہو سکتے جنّتی تو کامیاب و کامران ہوں گے۔
عمل
اے لوگو، ایمان لاکر نیک عمل کیجیے۔ صرف حلال چیزیں کھایے۔ اپنی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔ تقویٰ اختیار کیجیے تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو جنّت میں داخل کرے اور دوزخ کے عذاب سے بچائے۔
ترجمہ: اور (اے رسول) ان لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو (بظاہر) بڑے غور سے آپ کی بات سنتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے باہر نکل جاتے ہیں تو ان لوگوں سے جن کو علم (دین) دیا گیا ہے پوچھتے ہیں انھوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہ ہی لوگ ہیں جن کے دِلوں پر اللہ نے مُہر لگا دی ہے اور (اب) وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں ۱۶ اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں (وہ جب آپ کی بات سنتے ہیں تو) اللہ ان کی ہدایت کو اور بڑھا دیتا ہے اور ان کو (مزید) تقویٰ عنایت فرماتا ہے ۱۷ (اے رسول) کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ قیامت اچانک ان پر واقع ہو جائے، تو اس کی نشانیاں تو (پہلے ہی) آ چکی ہیں اور جب وہ آجائے گی تو پھر انھیں نصیحت کہاں (مفید ہو گی) ۱۸ تو (اے رسول، اچّھی طرح) سمجھ لیجیے کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں (لہٰذا اُس سے) اپنے اور مومنین اور مومنات کے (لیے ہر) ایسے کام سے جس کا انجام بُرا ہو محافظت طلب کیا کیجیے، اللہ کو تمھارے چلنے، پھرنے اور رہنے کا بخوبی علم ہے (وہ کسی حالت میں تم سے غافل نہیں ہوتا)۱۹
معانی و مصادر: (بَغْتَةً) بَغَتَ، يَبْغَتُ، بَغْتٌ (ف) ناگہانی طور پر آنا (بَغْتَۃٌ = ناگہانی)
(اَشْرَاطٌ) شَرِطَ ، يَشْرَطُ ، شَرَطٌ (س)کسی بڑے کام میں جا پڑنا (اَشْرَاطٌ= شَرَطٌ کی جمع، علامات)
(اِسْتَغْفِرُ) اِسْتَغْفَرَ، يَسْتَغْفِرُ، اِسْتِغْفَارٌ (باب استفعال) معافی طلب کرنا، بچاؤ کا ذریعہ طلب کرنا۔
(ذَنْبٌ) ذَنَبَ ، يَذْنِبُ، يَذْنُبُ، ذَنْبٌ (ض و ن)پیچھے لگارہنا (ذَنْبٌ : ہر وہ کام جس کا انجام بُرا ہو، الزام، گناہ)
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَمِنْهُمْ مَنْ يَّسْتَمِـعُ اِلَيْكَ)اور (اے رسول) ان لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو بڑے غور سے آپؐ کی بات سنتے ہیں (حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا)لیکن جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو ان (مومنین) سے جن کو علم دیا گیا ہے (تجاہل عارفانہ سے) پوچھتے ہیں انھوں نے ابھی کیا کہا (وہ یہ ظاہر کر کرتے ہیں گویا انھوں نے سمجھا نہیں) (اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ طَبعَ اللهُ عَلٰى قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُوْاۤ اَهْوَآءَهُمْ) (اے رسول، یہ کیا سمجھیں گے) ان کے دِلوں پر تو اللہ نے مہر لگادی ہے (روحانی طور پر ان کی سمجھ بوجھ زائل ہو چکی ہے، وہ سمجھنے کے قابل رہے ہی نہیں تو سمجھیں گے کیسے) وہ تو اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔
کافروں کے مذاق کا ذِکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ۱۰ وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۱۱ ڪَذٰلِكَ نَسْلُڪُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ۱۲ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ۱۳
(سُوْرَۃُ الْحِجْرِ: ۱۵، آیت : ۱۰ تا ۱۳)
اور (اے رسول) آپ سے پہلے بھی ہم گزشتہ امّتوں میں رسول بھیجتے رہے ہیں۔ پھر ہوا یہ ہی کہ جب کبھی بھی ان کے پاس رسول آیا وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اسی طرح ہم ان گناہ گاروں کے دِلوں میں بھی تمسخر (اور ہٹ دھرمی) داخل کر دیں گے۔ تو یہ اس (قرآن) پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگلے لوگوں کا طریقہ بھی یہ ہی رہا ہے (کہ وہ ایمان نہیں لاتے تھے بلکہ مذاق اڑاتے تھے، آپ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ایسا ہوتا آیا ہے، یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ ڪَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا،وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ،وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۲۱۲
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۱۲)
کافروں کےلیے دنیا کی زندگی کو مزیّن کر دیا گیا ہے، وہ (جب) ایمان والوں (کو دنیاوی لحاظ سے خوش حال نہیں دیکھتے تو ان) کا مذاق اڑاتے ہیں (لیکن اے ایمان والو، دنیا کی خوش حالی کوئی حقیقت نہیں رکھتی، اصل خوش حالی تو آخرت کی خوش حالی ہے) قیامت کے دن متّقی لوگ ان سے برتر ہوں گے (وہ اس دن خوش حال ہوں گے، رہی دنیا کی خوش حالی تو دنیا میں تو) اللہ (کافر ہو یا مومن) جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
یٰحَسْرَةً عَلَی الْعِبَادِ،مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا ڪَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۳۰
(سُوْرَۃُ یٰسٓ : ۳۶، آیت : ۳۰)
بندوں پر افسوس ہے کہ جب (کبھی) ان کے پاس رسول آیا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔
آگے فرمایا (وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْ ازَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰهُمْ تَقْوٰھُمْ)(برخلاف کافروں کے) جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں (وہ جب آپ کی بات سنتے ہیں تو) اللہ ان کی ہدایت کو اور بڑھا دیتا ہے اور ان کو (مزید) تقویٰ عنایت فرماتا ہے (فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَۃً فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا فَاَنّٰی لَهُمْ اِذَا جَآءَ تُهُمْ ذِكْرٰ ھُمْ)(اے رسول) کیا یہ اسی بات کے منتظر ہیں کہ قیامت اچانک ان پر واقع ہو جائے تو اس کی نشانیاں تو آہی چکی ہیں (اور وہ بھی عنقریب آنے والی ہے اور) جب وہ آجائے گی تو پھر انھیں نصیحت کہاں (مفید ہو گی)۔
کافر بار بار قیامت کے لیے جلدی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قیامت کی نشانیاں تو آچکی ہیں، کا فروں کو چاہیے کہ ان نشانیوں کو دیکھ کر ایمان لے آئیں، اس میں ان کا فائدہ ہے۔
قیامت کی نشانیوں میں سے سب سے اہم نشانی تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بعثت ہے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :-
بُعِثْتُ اَ نَا وَ السَّاعَةَ كَهَا تَيْنِ يَعْنِیْ اِصْبَعَيْنِ
(صحيح بخاري عن ابي هريرة كتاب الرقاق باب قول النبي صلى الله عليه وسلم بعثت انا والساعة كهاتين جزء۸ صفحه ۳۱ ۱ حديث : ۶۵۰۵)
میں اور قیامت (اتنے قریب) بھیجے گئے ہیں جتنی قریب (یہ) دو۲ انگلیاں ہیں۔
قیامت کی دوسری نشانی چاند کا دو۲ ٹکڑے ہوجانا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ۱
(سُوْرَۃُ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ: ۵۴، آیت : ۱)
قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہو گیا (جو رسول کی رسالت کی ایک کھلی نشانی ہے)۔
اس آیت میں کافروں کو ایک قسم کی تنبیہ ہے۔ انھیں چاہے کہ قیامت کی نشانیوں کو دیکھ کرایمان لے آئیں۔ قیامت کا انتظار نہ کریں اس لیے کہ قیامت کے آنے کے بعد ایمان لانا مفید نہیں ہو گا بلکہ قیامت کی بڑی نشانیوں کے آجانے کے بعد بھی ایمان لانا مفید نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّڪَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ،یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا،قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۱۵۸
(سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ: ۶، آیت : ۵۸ ا)
(اے رسول) یہ لوگ کسی اور بات کے منتظر نہیں ہیں مگر اس بات کے کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کا ربّ آجائے یا آپ کے ربّ کی بعض نشانیاں آجائیں (تو پھر اس وقت یہ ایمان لے آئیں گے لیکن) جو شخص (ان چیزوں کے آنے سے) پہلے ایمان نہ لایا ہو گا یا جس نے بحالتِ ایمان نیکیاں نہ کی ہوں گی تو (اس دن) ان کا ایمان لانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دے گا (اے رسول) آپ کہہ دیجیے (اس دن کا) تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :
ثَلٰثٌ اِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اَيْمَانُهَا لَمْ تَكُنُ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِيْمَانِھَا خَيْرًا : طُلُوْعُ الشَّمسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْاَرْضِ
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الزمن الذی لا يقبل فيه الإيمان جزء اوّل صفحه جزء اول صفحه ۷۷، حديث : ۳۹۸/ ۱۵۸)
تین۳ باتیں جب ظاہر ہو جائیں گی تو اس وقت اس شخص کو جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا نیک کام نہ کیا ہو ایمان لانا مفید نہیں ہوگا۔
۱ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، ۲ دجّال (کا نکلنا) اور ۳دابّۃ الارض (کا ظاہر ہونا)۔
آگے فرمایا (فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ، وَاللهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوٰ کُمْ) تو (اے رسول) اس بات کو (اچّھی طرح) جان لیجےا کہ اللہ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں (لہٰذا اُس سے) اپنے اور مومنین اور مومنات کے (لیے ہر) ایسے کام سے جس کا انجام بُرا ہو محافظت طلب کیا کیجیے (یعنی اللہ تعالیٰ سے ایسے تمام کاموں سے بچانے کی دعا کرتے رہیے جن کاموں کا انجام اچّھا نہ ہو) اللہ کو تمھارے چلنے پھرنے اور تمھاری رہائش کا (بخوبی) علم ہے (وہ کسی وقت بھی تم سے غافل نہیں ہوتا۔ اُس کو تمھارے تمام کاموں کا علم ہوتا ہے اور ان ہی کاموں کی بنیاد پر وہ جزا یا سزا کا فیصلہ صادر فرمائے گا)۔
ذَنْبٌ کے معنی گناہ کے بھی ہوتے ہیں۔ اگر یہ معنٰی لیے جائیں تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اے رسول اپنے اور مومنین اور مومنات کے گناہوں کی مغفرت طلب کیا کیجے ۔ مومنین اور مومنات کے گناہوں کی معافی تو سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم تو گناہ گار تھے ہی نہیں، پھر معافی کی درخواست کے کیا معنٰی؟ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سیرت تمام لوگوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اگر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم (نعوذ باللہ من ذٰلک) گناہ گار ہوتے تو پھر آپؐ کی سیرت دوسروں کے لےو نمونہ کیسے ہوتی۔ گناہ گار کی سیرت نمونہ نہیں ہوا کرتی۔ بات یہ ہے کہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی گناہوں کی معافی مانگنا تواضع اور انکساری کی بہترین علامت ہے۔ تواضع اور انکساری سے عزّت بڑھتی ہے کم نہیں ہوتی۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم فرماتے ہیں :-
مَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰهِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُ
(صحيح مسلم کتاب البر باب استحباب العفو والتواضع جزء۲ صفحه ۴۳۲، حديث: ۶۵۹۲ /۲۵۸۸.: int)
جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے۔
میزبان اپنے مہمان کی خوب خاطر و مدارات کرتا ہے لیکن اس کو رخصت کرتے وقت اس کو مخاطب کر کے کہتا ہے: “میزبانی کے سلسلے میں اگر کوئی کوتاہی ہو گئی ہو تو اسے معاف کر دیاس” حقیقت میں تو کوتاہی نہیں ہوتی لیکن میزبان کے ایسا کہنے سے مہمان کے دِل میں اس کی وقعت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی اس بات سے وہ بہت خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے کی تواضع اور انکساری سے خوش ہوتا ہے اور اس کا مرتبہ بلند کر دیتا ہے۔
عمل
اے لوگو، اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق نہ اڑایے۔ اللہ تعالیٰ کو واحد الٰہ مانیے اور ایمان لے آیے۔
اے ایمان والو، اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کیجے کہ وہ اپنی نافرمانی سے آپ کو بچائے۔ اپنے گناہوں کی اُس سے منفرت طلب کیا کیجیے۔
ترجمہ: اور (اے رسول) ایمان والے کہتے ہیں کہ (جنگ کے متعلّق) کوئی سورت کیوں نہیں نازل ہوتی تو جب (ان کی خواہش کے مطابق) ایسی صاف و واضح سورت جس میں جنگ کا ذِکر ہوتا ہے نازل ہوتی ہے تو جن لوگوں کے دِلوں میں (ِنفاق کی) بیماری ہے آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس شخص کی طرح دیکھ رہے ہوتے ہیں جس طرح وہ شخص جس پر موت کی غشی طاری ہو (دیکھتا ہے) ان لوگوں کےلیے (بڑی) خرابی ہے ۲۰ (اگر یہ لوگ رسول کی) اطاعت کریں، اچّھی بات کہیں اور جب لڑائی کی بات پختہ ہو جائے تو اللہ (سے کیے ہوئے وعدے) کو سچ کر دکھائیں تو ان ہی کےلیے اچّھا ہے ۲۱ (اور اے منافقو) اگر تم لڑائی سے منھ موڑو تو تم سے بعید نہیں کہ تم زمین میں فساد برپا کرو اور رشتوں کو توڑ ڈا لو ۲۲ (اے رسول) یہ ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کر دی ہے اور ان کو (حق بات سننے سے) بہرا اور (راہِ راست دیکھنے سے) اندھا کر دیا ہے ۲۳ تو (آخر) یہ لوگ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے، کیا ان کے دِلوں پر قُفل لگے ہوئے ہیں۲۴ بےشک جو لوگ ہدایت کے ظاہر ہو جانے کے بعد الٹے پاؤں (گمراہی کی طرف) لوٹ گئے، شیطان نے (یہ کام) ان کو اچّھا کر کے دکھایا اور ان کو (بڑی بڑی) امیدیں دلائیں ۲۵ یہ (سب کچھ) اس لیے ہوا کہ جو لوگ اللہ کی نازل کردہ (کتاب) کو ناپسند کرتے ہیں (یعنی یہودی) ان سے انھوں نے کہا تھا کہ بعض کاموں میں ہم تمھارا مشورہ مانیں گے (انھوں نے ان کے مشورے کو مانا لہٰذا نقصان اٹھایا) اور (اے رسول) اللہ ان کے پوشیدہ مشوروں سے خوب واقف ہے ۲۶ (خیر اس وقت جو کچھ یہ کر رہے ہیں کر لیں لیکن) اس وقت ان لوگوں کی کیا حالت ہو گی جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے اور ان کے چہروں پر اور ان کی پیٹھوں پر مارتے جائیں گے ۲۷ یہ سزا اس لیے ہو گی کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اللہ کی خفگی کا باعث تھی اور اللہ کی رضا کو ناپسند کرتے رہے تو اللہ نے (بھی) ان کے اعمال کو ضائع کر دیا۲۸
معانی و مصادر: (اَقْفَالٌ) اَقْفَلَ، يُقْفِلُ، اِقْفَالٌ (باب افعال) تالا لگانا۔
(سَوَّلَ) سَوَّلَ، يُسَوِّلُ، تَسْوِیْلٌ (باب تفعیل) بہکانا، مزیّن کرنا۔
(اَمْلٰی) اَمْلٰى ، يُمْلِی، اِمْلَاءٌ (باب افعال) ڈھیل دینا۔
(مَغْشِىٌّ) غَشِیَ، يَغْشٰی، غَشَاوَةٌ و غَشْىٌ و غَشَايَةٌ (س)(مَغْشِیٌّ: یہ لفظ دراصل اسم مفعول مَغْشُوْیٌ تھا۔تعلیل کے قاعدے سےمَغْشِیٌّ بن گیا۔
تفسیر:(وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْلَا نُزِّلَتُ سُوْرَۃٌ)اور (اے رسول) ایمان والے کہتے ہیں کہ (جنگ کے متعلّق) کوئی سورت کیوں نہیں نازل ہوتی (فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ)پھر جب (ان کی خواہش کے مطابق) ایسی سورت نازل ہوتی ہے جو محکم ہوتی ہے اور جس میں (جنگ کا حکم ہوتا ہے اور) لڑائی کا تذکرہ ہوتا ہے (رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِیْ قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ نَظَرَ الْمُغْشِیِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ) (تو) جن لوگوں کے دِلوں میں (نفاق کی) بیماری ہوتی ہے آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں جس طرح وہ شخص (دیکھتا ہے) جس پر موت کی غشی طاری ہو (فَاَوْلٰی لَھُمْ) ان لوگوں کے لیے (بڑی) خرابی ہے (طَاعَةٌ وَّقَوْلٌ مَعْرُوْفٌ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ) اگر یہ لوگ رسول کی اطاعت (کریں) اچّھی بات کہیں اور جب لڑائی کی بات پختہ ہو جائے تو اللہ (سے کےٌ ہوئے وعدے) کو سچ کر دکھائیں تو ان ہی کے لیے اچّھا ہے۔
منافقین کی عجیب کیفیّت تھی۔ جب جنگ نہیں ہوتی تھی تو بظاہر جنگ کی تمنّا کرتے تھے اور بڑھ چڑھ کر جنگ کرنے کا وعدہ کرتے تھے لیکن جب جنگ ہوتی تھی تو کسی نہ کسی بہانے سے جنگ سے پہلوتہی کرتے تھے۔ جنگ کے تذکرہ ہی سے ان پر وحشت طاری ہوتی تھی۔
جنگِ تبوک کے موقعے پر ان کی کیفیّت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:-
وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَڪُمْ،یُهْلِڪُوْنَ اَنْفُسَهُمْ،وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَڪٰذِبُوْنَ۴۲
(سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ : ۹، آیت : ۴۲)
اور اب یہ لوگ عنقریب اللہ کی قسمیں کھا کر کہیں گے کہ (ہم میں سفر کی استطاعت نہیں تھی) اگر استطاعت ہوتی تو ہم ضرور آپ لوگوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے (ان باتوں سے یہ کسی کا کیا بگاڑیں گے) یہ تو اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں، (یہ کتنی ہی باتیں بنائیں) اللہ کو تو معلوم ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
جنگ احد کے موقعے پر ان کی بزدلی کی کیفیّت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا،قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعْنٰكُمْ،هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَىِٕذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ،یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ،وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَ۱۶۷ اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا،قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۱۶۸
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت : ۱۶۷ تا ۱۶۸)
(منافقین کی تو حالت یہ تھی کہ) جب ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کے راستے میں لڑو یا (کم از کم) دفاع ہی کرو تو انھوں نے کہا اگر ہمیں لڑائی کا علم ہوا تو ہم ضرور تمھارا ساتھ دیں گے، (ان کی قلبی کیفیّت یہ تھی کہ) وہ اس دن ایمان کے مقابلے میں کفر ہی کے قریب تھے، وہ اپنی زبانوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جو ان کے دِل میں نہیں تھی اور اللہ کو خوب معلوم تھا جو کچھ یہ (اپنے دِلوں میں) چُھپا رہے تھے۔ یہ لوگ (جنگ میں شریک نہیں ہوئے بلکہ گھروں میں) بیٹھے رہے اور اپنے ان بھائیوں کے متعلّق (جو جنگ میں شریک ہوئے اور قتل ہو گئے) کہتے ہیں کہ اگر یہ ہمارا کہنا مان لیتے تو قتل نہ ہوتے (اے رسول) آپ (ان سے) کہہ دیجیے کہ اگر تم (واقعی اس دعوے میں) سچّے ہو (کہ موت کو اپنی تدبیر سے ٹال سکتے ہو) تو اب موت کو اپنے پاس نہ آنے دینا۔
آگے فرمایا (فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تَفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَكُمُ) اور (اے منافقو) اگرتم لڑائی سے منھ موڑو تو تم سے بعید نہیں کہ تم زمین پر فساد برپا کرو اور رشتوں کو توڑ ڈالو (یعنی جب تم دیکھو کہ اکثر مومنین جہاد پر چلے گئے ہیں، تمھاری مزاحمت کرنے کے لیے ایمان والوں کی کافی جمعیت موجود نہیں ہے تو تم میدان میں نکل آؤ اور شہر میں فساد مچاؤ۔ نہ رشتے کا لحاظ کرو اور نہ برادری کا) (اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللهُ فَاَصَمَّهُمْ وَاَعْمٰۤی اَبْصَارَ هُمْ)یہ ہی لوگ ہیں جن پر الله نے لعنت کر دی ہے اور ان کو (حق بات سننے سے) برّا اور (راہِ راست دیکھنے سے) اندھا کر دیا ہے۔ (اَفَلَا يَتَدَ بَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبِ اَقْفَانُهَا) (اگر یہ بات نہیں ہے) تو (آخر) یہ لوگ قرآن میں غور تدبّر کیوں نہیں کرتے؟ کیا ان کے دِلوں میں تالے لگے ہوئے ہیں (کہ با وجود غور و تدبّر کے یہ قرآن مجید کو سمجھتے نہیں)۔
منافقین کی اس حالت کو بیان کرتے ہوئے ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِـعَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ۳
(سُوْرَۃُ اِذَا جَآءَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ:۶۳،آیت : ۳)
یہ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان لائے لیکن پھر کفر کیا تو ان کے دِلوں پر مُہر لگا دی گئی (اور اب) یہ کچھ نہیں سمجھتے۔
آگے فرمایا (اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِ هِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ وَاَمْلیٰ لَهُمْ) جو لوگ ہدایت کے ظاہر ہو جانے کے بعد الٹے پاؤں (گرااہی کی طرف) لوٹ گئے (تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) شیطان نے ان کو یہ کام اچّھا کر کے دکھایا اور ان کو (بڑی بڑی) امیدیں دلائیں۔
شیطان انسان کو بہکا کر بُرے کام کی ترغیب دیتا ہے اور صرف ترغیب ہی نہیں دیتا بلکہ بڑی بڑی امیدیں دلاتا ہے وہ کہتا ہے کہ اگرتم نے یہ کام کرلیا تو تمھیں بہت سے فائدے حاصل ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا۱۱۹ یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ،وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۱۲۰
(سُوْرَۃُ النِّسَآءِ: ۴، آیت : ۱۱۹ تا ۱۲۰ )
اور جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنائے گا تو وہ صریح نقصان میں جا پڑے گا۔ شیطان ان سے وعدہ کرتا ہے اور انھیں امید دلاتا ہے اور شیطان جو وعدے بھی کر رہا ہے وہ سب دھوکہ ہیں۔
آگے فرمایا (ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ وَ اللهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمُ) (ان کا یعنی منافقین کا اسلاؔم سے پھر جانا) یہ اس لےن ہوا کہ جو لوگ اللہ کی نازل کردہ ( کتاب) کو نا پسند کرتے ہیں (یعنی اہلِ کتاب) ان سے انھوں نے (خفیہ طور پر) کہ رکھا تھا کہ بعض کاموں میں ہم تمھارا ہی مشورہ مانیں گے ؟ (کسی دوسرے کی بات ہرگز نہیں مانیں گے الغرض منافقین نے ان کا مشورہ مانا اور اسلاؔم سے پھر گئے) اور (اے رسول) اللہ ان کے خفیہ مشوروں سے خوب واقف ہے۔
منافقین کھلّم کھلّا تو مسلمین کی مخالفت نہیں کر سکتے تھے مگر خفیہ طور پر وہ اہلِ کتاب سے ملے ہوئے تھے۔ مسلمین کے خلاف ان سے ساز باز کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی ساز باز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :۔
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَىِٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْڪُمْ اَحَدًا اَبَدًا،وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ،وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۱۱
(سُوْرۃُ الْحَشْرِ : ۵۹، آیت: ۱۱)
(اے رسول) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو منافق ہیں اور جو اپنے اہلِ کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں “اگر تم نکالے گئے تو ہم بھی تمھارے ساتھ ضرور نکلیں گے اور تمھارے بارے میں کبھی بھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو ہم ضرور تمھاری مدد کریں گے”، اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ یقینًا جھوٹے ہیں۔
آگے فرمایا (فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ) (اس وقت تو خیر یہ منافقین یہودیوں سے ساز باز کر کے ان سے کچھ فائدہ اٹھائیں گے لیکن) اس وقت ان کی کیا کیفیّت ہو گی جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے اور ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے جائیں گے (وَذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللهَ وَكَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَا لَھُمْ) (یہ سزا) ان کو اس لیے دی جائے گی کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اللہ کی خفگی کا باعث تھی اور اللہ کی رضا کو ناپسند کرتے رہے تو اللہ نے (بھی) ان کے اعمال کو ضائع کر دیا۔
کافروں اور منافقوں کی جو حالت موت کے وقت ہوگی اس کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے :۔
اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ،وَ مَنْ یَّتَوَڪَّلْ عَلَی اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَڪِیْمٌ۴۹ وَ لَوْ تَرٰۤی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ ڪَفَرُوا،الْمَلٰٓىِٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ،وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۵۰ ذٰلِڪَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۵۱
(سُوْرَۃُ الْاَنْفَالِ: ۸، آیت : ۴۹ تا ۵۱)
اور (اے ایمان والو، وہ وقت یاد کرو) جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دِلوں میں بیماری تھی یہ کہہ رہے تھے کہ ایمان والوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے (حالاں کہ بات یہ نہیں تھی، ایمان والے اللہ پر بھروسہ رکھتے تھے) اور جو شخص بھی اللہ پر بھروسہ رکھے تو (اللہ اس کےلیے کافی ہے کیوں کہ) اللہ غالب، حکمت والا ہے۔ اور (اے رسول) اگر آپ (اس وقت کی کیفیّت کو) دیکھیں جس وقت فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں (تو آپ دیکھیں گے کہ) فرشتے ان کے چہروں پر اور پیٹھوں پر مارتے ہیں اور (یہ کہتے جاتے ہیں) عذابِ سوزاں کا مزا چکھو۔ یہ ان اعمال کی سزا ہے جو تم پہلے بھیج چکے ہو، (تم پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جا رہا) اس لیے کہ اللہ (اپنے) بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
عمل
اے ایمان والو، اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑنے کے لیے بخوشی و رغبت اپنے آپ کو پیش کیا کیجیے اور نیک بات منھ سے نکالا کیجیے۔ اللہ تعالیٰ سے جو عہد آپ کرلیں اسے پورا کیا کیجیے۔ زمین میں فساد نہ مچایے۔ رشتوں کو نہ کاٹیے، صلہ رحمی کیا کیجیے۔ قرآن مجید کا مطالعہ بڑے غور و خوض سے کیا کیجیے۔ شیطان کا کہنا ہر گز نہ مانیے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے نیک کام کرتے رہیے۔
ترجمہ: (اے رسول) کیا جن لوگوں کے دِلوں میں مرض ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا ۲۹ اور (اے رسول) اگر ہم چاہیں تو ان لوگوں (کی صُورت) آپ کو دکھا دیں پھر آپ ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیا کریں (لیکن اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں اس لیے کہ) آپ ان کو ان کے طرزِ گفتگو ہی سے پہچان لیں گے اور (اے لوگو) اللہ تمھارے اعمال سے (بخوبی) واقف ہے ۳۰ اور (اے ایمان والو) ہم ضرور تمھاری آزمائش کریں گے یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کو (ان کے عمل سے) نہ جان لیں اور تمھارے حالات کی جانچ نہ کر لیں ۳۱ جن لوگوں نے ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد کفر کیا، اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا اور رسول کی مخالفت کی وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اللہ ان کے تمام اعمال کو ضائع کر دے گا ۳۲ اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو ۳۳ جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا پھر وہ کفر کی حالت ہی میں مر گئے تو اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا ۳۴
معانی و مصادر: (اَضْغَانٌ) ضَغِنَ، يَضْغَنُ، ضَغَنٌ (س) پڑھا ہونا (اَضْغَانٌ = ضِغْنٌ کی جمع ، کینے)
(اَرَيْنَا)، اَرٰی، يُرِىْ ، اِرَائَةٌ (باب افعال) دکھانا۔
(سِيْمَا) سِيْمَا= علامت۔
(لَحْنٌ) لَحَنَ ، يَلْحَنُ ، لَحْنٌ (ن)سمجھنا ، بات اس طرح کہنا کہ جس سے کیر جائے وہ ہی سمجھے۔ (لَحْنٌ = لہجہ ، طرزِ کلام)
تفسير: الله تعالیٰ فرماتا ہے (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللهُ اَضْغَانَھُمْ)کیا جن لوگوں کے دِلوں میں (نفاق) کی بیماری ہے وہ یہ سمجھتے ہیں اللہ ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا (یقینًا ایسا نہیں ہو گا اللہ ضرور ان کے کینے اور دِلی عداوت کو ظاہر کر کے رہے گا) (وَلَوْ نَشَآءُ لَاَرَيْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُم بِسِیْمٰهُمْ)اور (اے رسول) اگر ہم چاہیں تو آپ کو ان کی صُورت دکھا دیں تو آپ ان کی صُورت سے ان کو پہچان لیا کریں (وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ) (لیکن اس کی چنداں ضرورت نہیں) اس لیے کہ آپ ضرور ان کو ان کے طرزِ کلام سے ہی پہچان لیں گے (وَاللهُ يَعْلَمُ اَعْمَا لَكُمْ)اور (اے لوگو، ) اللہ تم سب کے اعمال سے بخوبی واقف ہے (لہٰذا سزا یا جزا دینا اُس کے لیے کوئی مشکل نہیں) (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْڪُمْ وَالصَّبِرِيْنَ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَ کُمْ) اور (اے ایمان والو) ہم ضرور تمھاری آزمائش کریں گے یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کو (ان کے عمل سے) نہ جان لیں اور تمھارے حالات کی (اچّھی طرح) جانچ نہ کر لیں (اور ایمان والوں اور منافقوں کو ایک دوسرے سے ممتاز نہ کر دیں تاکہ ان کے اعمال دیکھتے ہی ہر شخص جان لے کہ مومن کون ہیں اور منافق کون ہیں)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ،
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت :۱۸۹ )
(اے ایمان والو) جس حالت میں اس وقت تم ہو اس حالت میں اللہ مومنین کو نہیں چھوڑتا جب تک ناپاک اور پاک لوگوں میں امتیاز نہ پیدا کر دے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ۱۶۶ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا،
(سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰنَ: ۳ ، آیت: ۱۶۶ تا ۱۶۷)
(اور اے ایمان والو) جو مصیبت تمھیں اس دن پہنچی جس دن دو۲ جماعتوں کا مقابلہ ہوا تو (وہ مصیبت) اللہ ہی کے حکم سے پہنچی، (اس کا مقصد یہ تھا کہ) اللہ مومنین کو (منافقین سے) ممیّز کر دے۔ اور منافقین کو (مومنین سے) ممیّز کر دے۔
آگے فرمایا (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللهِ وَشَآ قُّوا الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى لَنْ يَّضُرُّوا اللهَ شَيْئًا، وَسَيُحْبِطُ اَعْمَا لَهُمْ) جن لوگوں نے ہدایت کے ظاہر ہو جانے کے بعد کفر کیا، (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا اور رسول کی مخالفت کی وہ اللہ (کو یا اللہ کے دین) کو نقصان نہیں پہنچا سکتے (اللہ اپنے دین کو غالب کر کے رہے گا) اور ان کے اعمال اور ان کی تدابیر کو ضائع کر دے گا (جس کے نتیجے میں وہ سخت نقصان اٹھائیں گے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ ڪَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ۸ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ ڪَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۹
(سُوْرَۃُ الصَّفِّ : ۶۱، آیت : ۸تا۹)
(اے رسول) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے (پھونک مار کر) بجھادیں لیکن اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ وہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکین کو بُرا ہی کیوں نہ لگے۔
آگے فرمایا (يٰۤاَ يُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللهَ وَاطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَا لَكُمْ) اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔
اس آیت سے سے معلوم ہوا کہ جو اعمال اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کی ذیل میں آتے ہیں وہ ہی مقبول ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی اطاعت ہی دین ہے۔ دین صرف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا پھر اُسی نے اس کی تکمیل کی کسی چیز کے کامِل ہو جانے کے بعد اس چیز میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوسکتا لہٰذا جو احکام قرآن مجید اور احادیثِ نبویؐ میں نہیں ہیں وہ دین میں شامل نہیں ہو سکتے۔ ان کا دین میں شامل کرنا شرک فی الدّین ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّڪُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ،قَلِیْلًا مَّا تَذَڪَّرُوْنَ۳
(سُوْرَۃُ الْاَعْرَافِ: ۷، آیت : ۳)
(اے لوگو) جو شریعت تم پر تمھارے ربّ کی طرف سے نازل ہوئی ہے (بس) اسی کی پیروی کرو، اس کے علاوہ ولیوں (وغیرہ) کی پیروی نہ کرو (مگر) تم نصیحت کم ہی قبول کرتے ہو۔
کیوں کہ منزّل من اللہ صرف قرآن مجید اور احادیث نبویؐ ہیں لہٰذا دین صرف قرآن مجید اور احادیث نبویؐ میں ہے۔ ان کے باہر دین نہیں۔
بدعتِ حسنہ اگر چہ بظاہر بڑی اچّھی نیکی معلوم ہوتی ہے لیکن کیوں کہ وہ تکمیلِ دین کے بعد نکالی جاتی ہے لہٰذا وہ دین میں کسی حالت میں شامل نہیں کی جا سکتی۔ وہ منزّل من اللہ نہیں ہوتی لہٰذا اس پر عمل کرنا سورۂ الاعراف کی مندرجہ بالا آیت کی رُو سے قطعاً حرام ہے اور ان کو دین کا جزء سمجھنا کھلّا کا شرک فی الدّین ہے۔
الغرض آیت زیر تفسیر کی رُو سے جس چیز کے متعلّق اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولؐ کا حکم موجود نہ ہو وہ مردود ہے، اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :۔
مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ
(صحیح مسلم كتاب الاقضية باب نقص الاحكام الباطلة ورد المحركات جزء ۲ صفحہ ۶۳ حدیث: ۴۴۹۳ / ۱۷۱۸ )
جس شخص نے ایسا عمل کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو (اس کا) وہ (عمل) مردود (و نامقبول)ہے۔
(نوٹ : بدعت کے سلسلے میں مفصل معلومات کے لیے سورۃ حدید کی ۲۲ آیت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں)۔
آگے فرمایا ( اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللهِ ثُمَّ مَا تُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يَّغْفِرَ اللهُ لَهُمْ) جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں) کو اللہ کے راستے سے روکا پھر وہ کفر ہی کی حالت میں مر گئے تو اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىِٕكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۱۶۱ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا،لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ۱۶۲
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۱۶۱ تا ۱۶۲)
بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر کی حالت میں مر گئے ایسے لوگوں پر اللہ (تعالیٰ) کی بھی لعنت ہے اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی بھی لعنت ہے۔ وہ اس لعنت میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے، نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی اور نہ انھیں مُہلت دی جائے گی۔
عمل
اے ایمان والو، آپ کی آزمائش ضرور ہوگی۔ آزمائش کےلیے ہر وقت تیّار رہیے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کیجیے اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ کے سب اعمال ضائع ہو جائیں گے۔
اے لوگو، کفر سے توبہ کیجیے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے نہ روکیے۔
ترجمہ: تو (اے ایمان والو) تم ہمّت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ اور (اس بات کو یاد رکھو کہ بالآ خر) غالب تم ہی رہو گے اس لیے کہ اللہ تمھارے ساتھ ہے، وہ ہرگز تمھارے اعمال (و تدابیر کے نتیجوں) کو کم نہیں کرے گا (تمھاری جدّوجہد بے کار نہیں جائے گی) ۳۵ (اے لوگو) دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے (اس پر بھروسہ نہ کرو) اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو اللہ تم کو تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال (اپنے لیے) طلب نہیں کرے گا ۳۶ اگر وہ تم سے (اپنے لیے) مال طلب کرے اور بار بار اپنے سوال کو دہرائے تو تم بُخل کرو گے اور اللہ تمھاری کدورتوں کو ظاہر کر کے رہے گا (جو مال کو خرچ کرنے کے سلسلے میں تمھارے دِلوں میں پوشیدہ ہیں) ۳۷ دیکھو تم ہی تو وہ لوگ ہو کہ جب تم کو (اس لیے) بلایا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو تم میں سے بعض بُخل کرتے ہیں اور جو شخص بُخل کرتا ہے تو اس میں اسی کا نقصان ہے (اے لوگو) اللہ (تعالیٰ) تو غنی ہے اور تم سب محتاج ہو اور اگر تم (اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے) منھ پھیرو گے تو اللہ تمھارے بدلے دوسروں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح (بخیل) نہیں ہوں گے ۳۸
معانی و مصادر: (تَھِنُوْا) وَهَنَ ، یَهِنُ ، وَهُنٌ (ض) کمزور ہونا ، کمزور کرنا ، کمزوری کا مظاہرہ کرنا۔
(سَلْم) سَلْمٌ = صلح ۔
(اَعْلَوْنَ) عَلَا ، يَعْلُوْ ، عُلُوٌّ(ن) عَلِىَ ، يَعْلٰى ، عَلَاءٌ (س) بلند ہونا(اَعْلَوْنَ = اَعْلیٰ کی جمع، بلند و بالا ، غالب)
(یَتِرُ) وَتَرَ ، يَتِرُ، وَتْرٌ (ض) کم کرنا۔
(يُحْفِ) اَحْفٰى ، يُحْفِىْ ، اِحْفاءٌ ( باب افعال) اصرار کرنا۔
(يَبْخَلُ) بَخِلَ ، يَبْخَلُ، بَخَلٌ (س) بخیل ہونا۔
بَخُلَ ، يَبْخُلُ ، بُخْلٌ ( ك ) بخیل ہونا۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (فَلَا تَهِنُوْا وَتَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ وَاَنتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَاللهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ) (اے ایمان والو جب کافروں سے تمھارا مقابلہ ہو تو) کمزوری کا مظاہرہ نہ کرو اور نہ (کافروں کو) صلح کی طرف بلاؤ (بلکہ جم کر لڑو) تم ہی غالب رہو گے، اللہ تمھارے ساتھ ہے (فتح دینے والا وہ ہی ہے، اُسی پر بھروسہ کرو) وہ تمھارے اعمال (اور تدبیر کے نتائج) کو ہرگز کم نہیں کرے گا (تمھاری جدّ و جہد بےکار نہیں جائے گی۔ اللہ تعالیٰ تمھاری کوشش کو تمھاری فتح کا سبب بنائے گا) (اِنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهُوٌ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا يُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَلَا يَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ) (اے لوگو) دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے (جس طرح کھیل تماشا عارضی ہوتا ہے اسی طرح دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ عارضی زندگی کی خاطر اپنی دائمی اخروی زندگی کو برباد نہ کرو) اگر تم ایمان لے آؤ اور (اللہ سے) ڈرتے رہو تو اللہ تم کو تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال (اپنے لیے) طلب نہ کرے گا (اللہ تعالیٰ جو مال بھی طلب کرتا ہے وہ تمھارے فائدے کے لیے طلب کرتا ہے)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-
وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ
(سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ: ۲ ، آیت : ۲۷۲)
جو مال تم خرچ کرو گے تو تمھیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔
آگے فرمایا (اِنْ یَّسْـَٔلْكُمُوْهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ يُخْرِجُ اَضْغَانَكُمْ)اگر اللہ تم سے (اپنے لیے) مال طلب کرے اور بار بار تم سے اپنے سوال کو دوہرائے توتم (ضرور) بُخل کرو گے (اس طرح) اللہ تمھاری کدورتوں کو ظاہر کر دے گا (جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال کو خرچ کرنے کے سلسلے میں تمھارے دِلوں میں پوشیدہ ہیں اور اسلام کے سلسلے میں جو بغض و نفاق تمھارے دِلوں میں ہے اس کو بھی ظاہر کر دے گا تاکہ مومنین تم کو پہچان لیں اور تم سے دھوکا نہ کھائیں) (ھٰۤـاَنْتُمْ هٰۤؤُ لَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِي سَبِيْلِ اللهِ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَبْخَلُ وَمَنْ يَبْخَلْ فَاِنَّمَا يَّبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ)دیکهو! تم ہی تو وہ لوگ ہو کہ جب تم کو (اس لیے) بلایا جاتا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو تم میں سے بعض بُخل کرتے ہیں اور جو شخص بُخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے نفس سے نقل کرتا ہے (اس میں اسی کا نقصان ہے) (وَاللهُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرآءُ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَ كُمْ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ)(اے لوگو) اللہ تو غنی ہے اور تم سب محتاج ہو اور اگر تم (اسلام سے) منھ موڑو گے تو اللہ تمھارے بدلے دوسروں کو لے آئے گا اور وہ تمھار نے مثل نہیں ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ کو نہ کسی کے مال کی ضرورت ہے اور نہ کسی کے نیک اعمال کی ضرورت ہے۔ وہ ہر چیز اور ہر ضرورت سے بے نیاز ہے۔ وہ غنی ہے اور سب اُس کے محتاج ہیں۔
عمل
اے ایمان والو، دشمن کے مقابلے میں بزدلی اور کمزوری کا مظاہرہ نہ کیجیے۔ دشمن کو صلح کی دعوت نہ دیجیے صلح کی دعوت دینا کمزوری کی علامت ہے۔
اے ایمان والو، ہمت کے ساتھ دشمن سے لڑتے رہیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے لہٰذا غالب آپ ہی رہیں گے۔
اے ایمان والو، دنیا کی عارضی زندگی کو آخرت کی دائی زندگی پر ترجیح نہ دیجیے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے رہیے۔